47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 47:20–21

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بیہوشی (طاری) ہو رہی ہو تو ان کے لئے خرابی ہے

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

(خوب کام تو) فرمانبرداری اور پسندیدہ بات کہنا (ہے) پھر جب (جہاد کی) بات پختہ ہوگئی تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہنا چاہتے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا

ترجمہ : اور جو لوگ ایمان لائے وہ جہاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کس لئے کوئی ایسی سورت نازل نہیں کی گئی جس میں جہاد (کی اجازت) کا ذکر ہو جب کوئی محکم غیر منسوخ سورت نازل کی جاتی ہے کہ جس میں جہاد (کی اجازت) مذکور ہوتی ہے یعنی جہاد کا مطالبہ مذکور ہوتا ہے تو آپ ان لوگوں کو کہ جن کے دلوں میں مرض یعنی شک ہوتا ہے اور وہ منافق ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہوگئی ہو موت سے خوف کھانے کی وجہ سے اور اس کو ناپسند کرنے کی وجہ سے یعنی وہ جہاد سے ڈرتے ہیں اور اس کو ناپسند کرتے ہیں سو بہتر تھا ان کے لئے آپ کا فرمان بجا لانا اور آپ سے اچھی بات کہنا (اولی لھم) مبتداء ہے اور (طاعۃ وقول معروف) خبر، یعنی ان کے لئے آپ کی اطاعت اور آپ کے ساتھ اچھی بات بہتر ہے اور جب بات پختہ ہوگئی یعنی جہاد فرض کردیا گیا سو اگر اللہ کے ساتھ ایمان اور طاعت میں سچے رہیں تو ان کے لئے بہتر ہے اور جملہ لوصدقوا جواب اذا ہے اگر تم ایمان سے روگردانی کرو تو تم سے بعید نہیں کہ تم ملک میں فساد برپا کرو اور قطع رحمی کرو اور تم امر جاہلیت یعنی بغاوت اور قتل کی طرف لوٹ آئو (عسیتم) میں سین کا کسرہ اور فتحہ دونوں ہیں اور اس میں غیبت سے خطاب کی طرف التفات ہے اور عسیتم بمعنی (لعلکم) ہے، یہی وہ مفسدہ پرداز لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے جن کو حق بات سننے سے بہرا کردیا گیا ہے اور راہ ہدایت دیکھنے سے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا گیا ہے کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ کہ حق کو پہچان سکیں، بلکہ ان کے قلوب پر قلوب کے (مناسب) تالے لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ قرآن کو سمجھتے نہیں ہیں یقینا وہ لوگ جو نفاق کی وجہ سے ان پر ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ پھیر کر پلٹ گئے یقینا شیطان نے ان کے لئے (ان کے عمل کو) مزین کردیا ہے اور شیطان نے ان کو دور کی سمجھائی ہے اول (یعنی ہمزہ) ضمہ اور فتحہ کے ساتھ اور لام کے فتحہ کے ساتھ ہے اور دور کی سمجھانے والا بارادہ خداوندی شیطان ہے لہٰذا وہ (شیطان) ان کو گمراہ کرنے والا ہے اور یہ یعنی ان کو گمراہ کرنا اس وجہ سے ہوا کہ ان (منافقوں) نے ان لوگوں سے جو اللہ کی نازل کردہ (قرآن) کو ناپسند کرتے ہیں یعنی مشرکین سے کہا کہ ہم بعض باتیں تمہاری مانیں گے یعنی نبی ﷺ کی مخالفت میں معاونت کے سلسلہ میں اور لوگوں کو آپ ﷺ کے ساتھ جہاد سے روکنے کے سلسلہ میں (معاونت کریں گے) منافقوں نے یہ بات راز دارانہ طور پر کہی تھی مگر اللہ نے اس کو ظاہر فرما دیا اور اللہ ان کی راز دارانہ گفتگو کرنے کو جانتا ہے (یا) ان کے رازوں کو جانتا ہے (اسرار) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ سر کی جمع ہے اور ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ مصدر ہے تو ان کا یال حال ہوگا ؟ جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہوں گے، حال یہ کہ وہ فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کے سرینوں پر یعنی پشتوں پر لوہے کے ہتھوڑوں سے مارتے ہوں گے اور یہ یعنی مذکورہ صورت میں روح قبض کرنا، اس سبب سے (ہو گا) کہ جو طریقہ خدا کی ناراضگی کا موجب تھا یہ اسی پر چلے اور اس کی رضا نفرت کیا یعنی اس عمل سے جو اس کو راضی کرنے والا ہے اس لئے اللہ نے ان کے اعمال کالعدم کردیئے۔ تحقیق و ترکیب تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : فاولی لھم لام بمعنی باء ای ان کان الاولی بھم طاعۃ اللہ وطاعۃ رسولہ یعنی ضعیف الایمان اور منافقوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی بہتر تھی، یہ مطلب حضرت ابن عباس ؓ سے عطاء، (رح) تعالیٰ نے روایت کیا ہے اور بعض حضرات نے اولی کو ویل سے مشتق مانا ہے اس کے معنی ہلاکت اور بربادی کے ہیں اس صورت میں یہ کلمہ ضعیف الایمان اور منافقوں کے لئے بد دعا اور کلمہ وعید ہوگا اور اولی لھم پر وقف ہوگا، اس کے بعد کلام مستانف ہوگا۔ قولہ : فاولی تھم میں تین ترکیبیں ہوسکتی ہیں (1) اولی مبتداء لھم اس کا متعلق لام بمعنی باء، طاعۃ وقول معروف اس کی خبر مفسر علامہ نے یہی ترکیب اختیار کی ہے (2) اولی لھم مبتداء محذوف کی خبر ہو تقدیر عبارت یہ ہے الھلاک اولی لھم ای اقرب لھم واحق لھم (3) اولی مبتداء اور لھم اس کی خبر تقدیر عبارت یہ ہے فالھلاک لھم، ابوالبقاء نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ (اعراب القرآن) قولہ : فاذا عزم الامر جب امر (جہاد) نے پختہ ارادہ کرلیا، اس میں اسناد مجازی ہے اس لئے کہ عزم، صاحب عزم کا کام ہے نہ کہ امر کا۔ قولہ : فلوصدقوا اللہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ لو صدقوا اللہ مع اپنے جواب کے اذا کا جواب ہے اور بعض حضرات نے اذا کا جواب کرھوا محذوف مانا ہے اور فلو صدقوا اللہ کو شرط اور لکان خیراً لھم کو اس کی جزاء قرار دیا ہے۔ قولہ : فھل عسیتھم ان تولیتم عسیتم افعال رجاء (مقاربہ) میں سے فعل ماضی ہے یعنی ” تم سے بعید نہیں کہ تم “ اس میں مزید توبیخ و تقریع کے لئے غیبت سے خطاب کی طرف التفات ہے، حضرت قتادہ ؓ تعلیٰ عنہ نے تولیتم کے معنی اعراض عن الطاعۃ کے کئے ہیں مفسر علام نے یہی معنی مراد لئے ہیں اور کلبی نے تولیتم کے معنی ان تولیتم امر الامۃ کے لئے ہیں، یعنی اگر تم کو امت کے امور کا والی اور ذمہ دار بنادیا گیا تو تم ملک میں ظلم کے ذریعہ فساد برپا کرو گے۔ قولہ : اقفالھا، اقفال قفل کی جمع ہے بمعنی تالا، اقفال کی اضافت قلوب کی طرف کر کے اشارہ کردیا کہ یہاں قفل سے عرفی تالامراد نہیں ہے بلکہ خاص قسم کا غیبی تالامراد ہے جو قلوب کے مناسب ہو، مثلاً توفیق کا سلب ہونا، غور و فکر کی صلاحیت کا ختم ہوجانا وغیرہ وغیرہ، مفسر علام نے فلایفھمونہ سے اسی غیبی تالے یعنی سلب صلاحیت فہم کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : املی اس میں دو قراتیں ہیں (1) ہمزہ کا ضمہ اور لام کا کسرہ مع یاء کے فتحہ کے ای املی ماضی مجہول ان کو ڈھیل دی گئی اور (2) قرأت میں سکون یاء کے ساتھ مضارع معروف بھی ہے، یعنی ان کو مہلت دوں گا، املی تھم ان کو دور کی سکھائی، لمبی لمبی امیدیں دلائیں، اس وقت اس کا فاعل شیطان ہوگا اور ان کو مہلت دی، ڈھیل دی، اس صورت میں فاعل اللہ ہوگا۔ قولہ : المملی الشیطان بارادتہ تعالیٰ اس عبارت کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : مہلت دینا یہ خدا کا کام ہے لہٰذا شیطان کی طرف اس کی نسبت درست نہیں ہے۔ جواب : ڈھیل اور مہلت دینے والا درحقیت اللہ ہی ہے مگر اسناد مجازی کے طور پر شیطان کی طرف نسبت کردی ہے اس لئے کہ یہ اسی کے وسوسے کے ذریعہ ہوتی ہے۔ قولہ : ذلک مبتداء بانھم قالوا اس کی خبر، باء سیبیہ ہے۔ قولہ : قالوا، قالوا کا فاعل منافقین ہیں اور کرھوا کا فاعل یہود ہیں، گویا کہ یہ کہنا سننا اور گفتگو منافقین اور یہود کے درمیان ہے نہ کہ منافقین اور مشرکین کے درمیان جیسا کہ علامہ محلی نے اختیار کیا ہے، غالباً یہ سبقت قلم ہے۔ (حاشیہ جلالین) تفسیر و تشریح شان نزول : ویقول الذین امنوا (الآیۃ) یہاں سے آخر تک تمام آیات مدنی ہیں اس لئے جہاد کی مشروعیت مدینہ ہی میں ہوئی ہے اور اس لئے بھی کہ نفاق بھی مدینہ ہی میں پیدا ہوا، مکہ میں نفاق کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ مکہ میں اسلام کمزور اور دشمن طاقتور تھا مکی زندگی کا پورا زمانہ اور مدنی زندگی کا ابتدائی زمانہ بڑا پر آشوب اور اضطراب و بےچینی کا زمانہ تھا ہر آن اور ہر وقت خطرہ لاحق رہتا تھا راتوں کو مسلمان ہتھیار بند سوتے تھے، ذرا بھی کوئی شور و غل ہوتا تھا تو مسلمان سمجھتے تھے کہ دشمن چڑھ آیا، مشرکین مکہ کی ریشہ دوانیاں نہ صرف یہ کہ جاری تھیں بلکہ شباب پر تھیں، مسلمان جس اضطرابی دور سے گزر رہے تھے اس سے تنگ آ کر ” تنگ آمد بجنگ آمد “ کے مطابق مسلمانوں نے بھی من بنا لیا تھا کہ اب آر پار کی ہوجانی چاہیے مگر ابھی تک جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا مخلصین مومنین جذبہ جہاد سے سرشار تھے اور اس بات کے خواہمشند تھے کہ جہاد کی اجازت ہوجائے، اور بےچینی کے ساتھ اللہ کے فرمان کا انتظار بھی کر رہے تھے اور آپ ﷺ سے بار بار دریافت کرتے تھے کہ ہمیں ان ظالموں سے لڑنے کا حکم کیوں نہیں دیا جاتا اور اس بارے میں کوئی محکم غیر منسوخ سورت کیوں نازل نہیں کی جاتی ؟ مگر جو منافقین مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے تھے ان کا حال مومنین مخلصین کے حال سے مختلف تھا وہ اپنے جان و مال کو خد اور اس کے دین سے عزیز سمجھتے تھے اسی لئے وہ کوئی خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں تھے ان ہی میں بعض ضعیف الایمان بھی شامل ہوگئے تھے۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ فاذا انزلت سورة محکمۃ یہ ان ہی منافقین کا ذکر ہے جن پر جہاد کا حکم نہایت گراں گذرتا تھا، اس جہاد کے حکم نے منافقوں کو سچے مسلمانوں سے چھانٹ کر بالکل الگ کردیا آیت جہاد نازل ہونے سے پہلے منافقین بھی جہاد میں بہادری دکھانے کے بڑی شد و مد سے دعوے کرتے تھے، مگر جب اسلام کے لئے جان کی بازی لگانے کا وقت آیا تو ان کے نفاق کا حال کھل گیا اور نمائشی ایمان کا لبادہ اتر گیا اب جب جہاد کا حکم نازل ہوگیا ہے تو ان منافقوں کی بدحالی کا یہ عالم ہے گویا کہ ان پر موت کی سی بیہوشی چھا گئی اور جس طرح مرتے وقت مرنے والے کی آنکھیں پتھرا کر ایک جگہ ٹھہر جاتی ہیں، یہ آپ کی طرف اسی طرح مبہوت اور متحیر ہو کر ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے ہیں، ان کے لئے جہاد اور موت سے گھبرانے کے بجائے بہتر تھا کہ وہ سمع وطاعت کا مظاہرہ کرتے اور نبی ﷺ کی بابت گستاخانہ کلمے کہنے کے بجاء اچھی بات کہتے یہ مطلب اس صورت میں ہوگا جب اولی بمعنی اجدر (بہتر) لیا جائے، ابن کثیر نے اسی کو اختیار کیا ہے بعض حضرات نے اولی ویل سے کلمہ تہدید مراد لیا ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ نفاق کی وجہ سے ان کی ہلاکت قریب ہے اولی لھم کے معنی اصمعی رحمتہ اللہ تعالیٰ کے قول کے مطابق یہ ہیں قاربہ مایھل کہ یعنی اس کی ہلاکت کے اسباب قریب آچکے (قرطبی) اور طاعۃ وقول معروف جملہ مستانفہ ہوگا اور اس کی خبر محذوف ہوگی اور وہ خیر لکم ہے۔
Ayah 47:22

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

(اے منافقو ! ) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو

فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض (الآیۃ) تولی کے لغت کے اعتبار سے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک اعراض اور دوسرے کسی قوم و جماعت پر اقتدار و حکمت، اس آیت میں بعض حضرات نے پہلے معنی لئے ہیں، اس معنی کے اعتبار سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے احکام شرعیہ الٰہیہ سے روگردانی کی جس میں حکم جہاد بھی شامل ہے تو اس کا اثر یہ ہوگا کہ تم جاہلیت کے قدیم طریقوں پر پڑ جائو گے، جس کا لازمی نتیجہ زمین میں فساد اور قطع رحمی ہے۔ روح المعانی اور قرطبی نے اس جگہ تولی کے دوسرے معنی یعنی حکومت اور امارت کے لئے ہیں تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ تمہارے حالات جس کا ذکر اوپر آچکا ہے ان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر تمہاری مراد پوری ہو یعنی اس حالت میں تمہیں ملک و قوم کی ولایت اور اقتدار حاصل ہوجائے تو نتیجہ اس کے سوا نہیں ہوگا کہ تم زمین برپا کرو گے اور رشتوں اور قرابتوں کو توڑ ڈالو گے۔ (معارف) صلہ رحمی کی سخت تاکید : ارحام، رحم کی جمع ہے بچہ دانی کو کہتے ہیں، چونکہ عام رشتوں، قرابتوں کی بنیاد رحم ہی سے چلتی ہے اس لئے عرف اور محاورہ میں رحم رشتہ داری اور ذوی الارحام رشتہ داروں کو کہتے ہیں، اسلام نے رشتہ داری اور قرابت کے حقوق ادا کرنے کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ ذیل میں چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں۔ حدیث (1) : صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور دیگر دو اصحاب ؓ سے اس مضمون کی حدیث نقل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص صلہ رحمی کرے گا اللہ اس کو اپنے قریب کریں گے اور جو قطع رحمی کرے گا اللہ اس کو قطع کردیں گے۔ حدیث (2): ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ کوئی ایسا گناہ کہ جس کی سزا اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت اس کی میں اس کے علاوہ ہو ظلم اور قطع رحمی کے برابر نہیں۔ (رواہ ابودائود، والترمذی، ابن کثیر) حدیث (3): حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی عمر زیادہ اور رزق میں برکت ہو اس کو چاہیے کہ صلہ رحمی کرے یعنی رشتہ داروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرے، احادیث صحیحہ میں بھی ہے کہ حق قرابت کے معاملہ میں دوسری طرف سے برابری کا خیال نہ کرنا چاہیے اگر دوسرا بھائی قطع تعلق اور ناروا سلوک بھی کرتا ہے تب بھی تمہیں حسن سلوک کا معاملہ کرنا چاہیے، صحیح بخاری میں ہے کہ وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں جو صرف برابر کا بدلہ دے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب دوسری طرف سے قطع تعلق کا معاملہ کیا جائے تو یہ ملانے اور جوڑنے کا کام کرے۔ (ابن کثیر) حضرت عمر ؓ نے ھل عسیتم الخ سے استدلال کر کے ام ولد کی فروخت کی ممانعت فرمائی تھی، حاکم نے مستدرک میں حضرت بریدہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک روز میں حضرت عمر کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، کہ یکایک محلہ میں شور مچنے لگا، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ایک لوڈی فروخت کی جا رہی ہے اور اس کی لڑکی رو رہی ہے، حضرت عمر نے اسی وقت انصار اور مہاجرین کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ دین اسلام میں کیا قطع رحمی کا بھی کوئی جواز ہے ؟ سب نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا پھر یہ کیا ہو رہا ہے، ماں سے بیٹی کو جدا کیا جا رہا ہے، اس سے بڑی قطع رحمی اور کیا ہوسکتی ہے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور پورے ملک میں ام ولد کے فروخت کی ممانعت فرما دی۔
Ayahs 47:23–28

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا اور (ان کی) آنکھوں کو اندھا کردیا ہے

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

جو لوگ راہ ہدایت ظاہر ہونے کے بعد پیٹھ دے کر پھرگئے شیطان نے (یہ کام) ان کو مزین کر دکھایا اور انہیں طول (عمر کا وعدہ) دیا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جو لوگ خدا کی اتاری ہوئی (کتاب) سے بیزار ہیں یہ ان سے کہتے ہیں کہ بعض کاموں میں ہم تمہاری بات بھی مانیں گے اور خدا ان کے پوشیدہ مشوروں سے واقف ہے

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

تو اس وقت (انکا) کیسا (حال) ہوگا جب فرشتے انکی جان نکالیں گے اور انکے مونہوں اور پیٹھو پر مارتے جائیں گے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جس چیز سے خدا ناخوش ہے یہ اس کے پیچھے چلے اور اس کی خوشنودی کو اچھا نہ سمجھے تو اس نے بھی انکے عملوں کو برباد کردیا

اولئک الذین لعنھم اللہ یہ مفسدہ پرداز قطع کرنے والے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی رحمت سے دور کردیا اور ان کی شنوائی وبینائی حق سننے اور حق دیکھنے سیسلب کرلیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کے معانی و مطالب ان کے دل میں نہیں ترتے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ ان کے قلوب پر مہر ثبت کردی گئی ہے۔ الشیطان سول لھم اس میں شیطان کی طرف دو کاموں کی نسبت کی گئی ہے ایک ” تسویل “ جس کے معنی تزیین کے ہیں کہ بری چیز یا برے عمل کو کسی کی نظروں میں اچھا اور مزید کر دے، دوسرا کام ” املاء “ جس کے معنی امہال اور مہلت دینے کے ہیں، مطلب یہ کہ شیطان نے اول تو ان کے برے اعمال کو ان کی نظروں میں مزین اور آراستہ کر کے دکھلایا پھر ان کو ایسی طویل آرزئوں اور امیدوں میں الجھا دیا جو پوری ہونے والی نہیں۔
Ayahs 47:29–30

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ خدا ان کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو وہ لوگ تم کو دکھا بھی دیتے اور تم ان کو ان کے چہروں ہی سے پہچان لیتے اور تم انہیں (ان کے) انداز گفتگو ہی سے پہچان لو گے اور خدا تمہارے اعمال سے واقف ہے

ترجمہ :۔ کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ ان کی نبی سے اور مومنین سے دلی عداوتوں کو ظاہر نہ کرے گا اور اگر ہم چاہتے تو ان سب کو آپ کو دکھا دیتے (یعنی) ان سب کی آپ کو شناخت کرا دیتے، اور لام فلعرفتھم میں مکرر لایا گیا ہے سو آپ ان کے چہروں کی علامتوں ہی سے پہچان لیتے اور یقینا آپ ان کو طرز گفتگو سے پہچان لیں گے، وائو، قسم محذوف کے لئے ہے اور اس کا مابعد جواب قسم ہے، مطلب یہ ہے کہ جب وہ آپ سے گفتگو کرتے ہیں تو اس طرقہ سے تعریض کرتے ہیں کہ جس میں مسملانوں کے بارے میں تحقیر ہوتی ہے تمہارے سب کام اللہ کو معلوم ہیں اور یقینا ہم تم سب کی جانچ کریں گے، یعنی جہاد وغیرہ کے ذریعہت مہارا امتحان لیں گے، تاکہ تم میں سے مجاہدین کو اور جہاد وغیرہ میں ثابت قدم رہنے والوں کو جان لیں یعنی ظاہر کردیں اور جہاد وغیرہ میں تمہاری نافرمانی اور فرمانبرداری کی حالت کو جانچ لیں، تینوں افعال، یاء اور نون کے ساتھ ہیں یقینا جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ یعنی راہ حق سے لوگوں کو روکا اور رسول کی مخالفت کی، اس کے بعد کہ ان کے لئے ہدایت ظاہر ہوچکی، سبیل اللہ کے یہی معنی ہیں، یہ ہرگز اللہ کا کچھ نقصان نہ کریں گے، عنقریب وہ ان کے اعمال کو غارت کر دے گا (یعنی) ان کے صدقہ وغیرہ کو باطل کر دے گا، تو وہ آخرت میں ان کا کوئی ثواب نہ دیکھیں گے (مذکورہ آیت) اصحاب بدریا (بنی) قریظہ اور (بنی) نضیر کے کھانا کھلانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہنا مانو اور اپنے اعمال کو معاصی کے ذریعہ مثلاً باطل نہ کرو جن لوگوں نے کفر کیا اور دورسوں کو اللہ کے راستہ سے کہ وہ ہدایت کا راستہ ہے روکا پھر وہ کفر کی حالت ہی میں مرگئے، یقین مانو اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا (مذکورہ آیت) بدر کے کنوئیں والوں کے بارے میں نازل ہوئی، پس اے مسلمانو ! ہمت مت ہارو، اور صلح کی درخواست نہ کرو (السلم) میں سین کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ، یعنی جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو تو صلح کی درخواست نہ کرو اور تم ہی غالب رہو گے اور (الاعلون) سے وائو کو ج کہ لام فعل ہے حذف کردیا گیا ہے یعنی تم ہی غالب اور قاہر رہو گے، نصرت اور مدد کے ساتھ اللہ تمہارے ساتھ ہے وہ تمہارے اعمال یعنی ان کے ثواب کو کم نہیں کرے گا واقعی دنیا کی زندگانی یعنی اس میں مغشول رہنا تو صرف کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لے آئو گے اور اللہ کے لئے تقویٰ اختیار کرو گے اور یہ آخرت کے امور میں سے ہے تو وہ تم کو تمہارے اعمال کا اجر دے گا، وہ تم سے تمہارا تمام مال نہیں مانگتا، بلکہ اس میں سے زکوۃ کی فرض مقدار مانگتا ہے اگر وہ تم سے تمہارا سارا مال طلب کرے اور سب کا سب مانگ لے (یعن) اس کی طلب میں مبالغہ کرے تو تم اس سے بخیلی کرنے لگو گے اور بخل دین اسلام کے لئے تمہاری ناگواری کو ظاہر کر دے، ہاں تم لوگ ایسے ہو کہ تم کو اللہ کی راہ میں وہ مقدار خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے جو تمہارے اوپر فرض ہے بعض تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنے سے بخل کرتا ہے کہا جاتا ہے بخل علیہ وعنہ اللہ تو تمہارے خرچ کرنے سے مستغنی ہے اور تم اس کے محتاج ہو اور اگر تم اس کی اطاعت سے روگردانی کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کر دے گا یعنی تمہاری جگہ کر دے گا، پھر وہ اطاعت سے روگردانی کرنے میں تم جیسے نہ ہوں گے بلکہ اللہ عزو جل کے اطاعت گزار ہوں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ام حسبت الذین الخ ام منقطعہ ہے ای بل احسب المنافقون الذین اپنے صلہ موجود فی قلوبھم مرض سے مل کر، حسب کا فاعل ان لن یخرج اللہ اضانھم حسب کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے، ان مخففہ عن المثقلہ ہے، ضمیر شان اس کا اسم مجذوف ہے، ای انہ اس کا مابعد جملہ ہو کر ان کی خبر ہے۔ قولہ : اضغان، اصغان، ضغن کی جمع ہے، کینہ، عداوت۔ قولہ : لارینکھم یہاں رویت سے رویت بصری مراد ہے اسی وجہ سے متعدی بدومفعول ہے اگر رویت قلبی مراد ہوتی تو متعدی بسہ مفعول ہوتا کھم، ارینا کے دو مفعول ہیں (اعراب القرآن) بعض حضرات نے رویۃ علمیہ بھی مراد لی ہے، مفسر علام نے ارینا کی تفسیر عرفنا سے کر کے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اور معرفت سے ایسی معرفت مراد ہے کہ جو کالمشاہد (چشم دید) جیسی ہو۔ قولہ : لارینکھم لو کا جواب ہے فلعرفتھم کا جواب لو پر عطف ہے لامت اکید کے لئے مکرر ہے، فاء عاطفہ ہے۔ قولہ : ولتعرفنھم لام قسم محذوف کے جواب پر داخل ہے۔ قولہ : لحن القول لحن کے دو معنی ہیں (1) خطاء فی الاعراب (2) خطاء فی الکام، لحن فی الکلام یہ ہے کہ ظاہر کلام تعظیم پر اور باطن کلام تحقیر پر دلالت کرتا ہو اور متکلم باطن کلام مراد لے رہا ہو یا کلمہ کو اس طرح ادا کرنا کہ اس کے معنی بدل جائیں اور تعظیم کے بجائے تحقیر کے معنی پیدا ہوجائیں، جیسے منافقین آپ ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے راعنا کے بجائے راعینا کہا کرتے تھے، راعنا کے معنی ہیں ہماری رعایت کیجیے اور راعینا کے معنی ہیں ہمارا چرواہا، یا السلام علیکم کے بجائے السام علیکم کہا کرتے تھے (یعنی تیرے اوپر موت ہو، تو ہلاک ہو) قولہ : فی الفعال الثلاث یہ تین ضیع افعال (1) ولیبلونکم (2) یعلم (3) یبلو ہیں، ان تینوں افعال میں واحد غائب اور جمع متکلم دونوں قراءتیں ہیں۔ قولہ : شاقوا ماضی جمع مذکر غائب، انہوں نے مخالفت کی یہ مشاقۃ اور شقاق سے مشتق ہے۔ قولہ : سیحبط اعمالھم، حبط اعمال سے مراد آخرت میں ان کے اجر کو ختم کردینا ہے، اور اعمال سے وہ اعمال مراد ہیں جو عرف عام میں اعمال خیر سمجھے جاتے ہیں، مثلاً صلہ رحمی، غریبوں، مسکینوں، مسافروں کی مدد کرنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا وغیرہ۔ قولہ : انزلت فی المطعمین یہاں مطمعین سے وہ مشرکین مکہ مراد ہیں جنہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر لشکر کفار کے کھانے کا اپنی اپنی طرف سے نظم کیا تھا۔ قولہ : اصحاب القلیب ” قلیب “ میدان بدر میں ایک کنوئیں کا نام ہے جس میں مقتولین مشرکین کو آنحضرت ﷺ نے ڈلوا دیا تھا۔ قولہ : فلاتھنوا تم ہمت نہ ہارو، پست ہمت نہ ہو، فاء جواب شرط پر داخل ہے شرط محذوف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اذا تبین لکم بالدلالۃ القطعیۃ عزالاسلام وذل الکفر فی الدنیا والآخرۃ فلاتھنوا۔ قولہ : وانتم الاعلون وائو حالیہ ہے جملہ حال ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے ای وانتم الغالبون بالسیف والحجۃ آخر الامر اعلون اصل میں اعلوون تھا، پہلا وائو لام فعل ہے اور دوسرا وائو جمع کا ہے، اول وائو متحرک اس کا ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے الف سے بدل گیا، الف التقاء ساکنین کی وجہ سے ساقط ہوگیا، اعلون، اغلبون القاھرون کے عنی میں اور بعض نسخوں میں قاھرون کے بجائے الظاہرون ہے۔ قولہ : واللہ معکم یہ بھی جملہ حالیہ ہے۔ قولہ : یتر وتریتر (ض) کم کرنا۔ قولہ : یفحفکم احفاء سے کسی کام میں مبالغہ کرنا جڑ سے اکھاڑ پھینکنا، اسی سے احفاء الشارب ہے، مونچھوں کو اچھی طرح صاف کرنا، یہاں طلب میں مبالغہ کرنا مراد ہے۔ قولہ : ھا انتم، ھاحرف تنبیہ اور انتم مبتداء ہے اور ھولاء منادی ہے، حرف نداء محذوف ہے جس کو مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے، تدعون خبر، جملہ ندائیہ مبتداء خبر کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ قولہ : یقال بخل علیہ وعنہ اس عبارت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ بخل اگر شح (حرص) کے معنی کو متضمن ہوت و متعدی بعلی ہوتا ہے اور جب امسک کے عنی کو متضمن ہوتا ہے تو متعدی بعن ہوتا ہے۔ تفسیر و تشریع ام حسب الذین فی قلوبھم (الآیۃ) اصغان ضغن کی جمع ہے جس کے معنی حسد، کینہ، بغض، مخفی عداوت کے ہیں، منافقوں کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض وعناد تھا، اسی حوالہ سے کہا جا رہا ہے کہ یہ منافقین کیا سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کے مخفی کینہ، بغض و عداوت کو ظاہر کرنے پر اقدر نہیں ہے ؟ آگے فرمایا کہ ہم تو اس پر بھی قادر ہیں کہ ایک ایک شخص کی اس طرح نشاندہی کردیں کہ ہر منافق کو عباناً پہچان لیا جائے لیکن تمام منافقین کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ یہ اللہ کی صفت ستاری کے خلاف ہے وہ بالعموم پردہ پوشی فرماتا یہ، پردہ دری نہیں، دوسرا یہ کہ اس نے انسان کے ظاہر پر فیصلہ کرنے کا اور باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے، البتہ ان کا لہجہ اور انداز گفتگو ہی ایسا ہوتا ہے جو ان کے باطن کا غماز ہوتا ہے، جس سے پیغمبر تو ان کو یقینا پہچان سکتا ہے، یہ عام مشاہدے میں آنے والی بات ہے کہ انسان کے دل میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اسے لاکھ چھپائے مگر اس کی گفتگو، حرات و سکنات اور بعض مخصوص کیفیات اس کے دل کے راز کو آشکارا کردیتی ہیں۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم تم لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں انکو معلوم کریں اور تمہارے حالات جانچ لیں

ولنبلونکم حتی نعلم المجاھدین (الآیۃ) اللہ تعالیٰ کے علم میں تو پہلے ہی سب کچھ ہے، یہاں علم سے مراد اس کا ظہور ہے تاکہ دوسرے بھی جان لیں اور دیکھ لیں، اسی لئے امام ابن کثیر نے فرمایا کہ حتی نعلم وقوعہ ابن عباس ؓ اس قسم کے الفاظ کا ترجمہ کرتے تھے لنری تاکہ ہم دیکھ لیں۔ (ابن کثیر)
Ayahs 47:32–34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جن لوگوں کو سیدھا راستہ معلوم ہوگیا (اور) پھر بھی انہوں نے کفر کیا اور (لوگوں) کو خدا کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی وہ خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکیں گے اور خدا ان کا سب کیا کرایا اکارت کر دے گا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

مومنو ! خدا کا ارشاد مانو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور اپنے عملوں کو ضائع نہ ہونے دو

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور خدا کے راستے سے روکتے رہے پھر کافر ہی مرگئے خدا ان کو ہرگز نہیں بخشے گا

ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ (الآیۃ) اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن کاموں کو انہوں نے اپنے نزدیک نیک سمجھ کر کیا ہے اللہ ان سب کو ضائع کر دے گا اور آخرت میں ان کا کوئی اجر بھی نہ پاسکیں، ان الذین کفروا سے منافقین مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ اہل کتاب مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ مشرکین مراد ہیں، جنہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر کفار قریش کی امدا اس طرح کی کہ ان میں سے بارہ آدمیوں نے ان کے پورے لشکر کا کھانا اپنے ذمہ لے لیا ان میں سے ایک آدمی پورے لشکر کفار کے کھانے کا انتظام کرتا تھا اور بعض حضرات نے نبو نضیر اور بنی قریظہ بھی مراد لئے ہیں۔ وسیحبط اعمالھم یہاں حبط اعمال سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی اسلام کے خلاف کوششوں اور تدبیروں اور سازشوں کو کامیاب نہ ہونے دے، بلکہ ناکام اور اکارت کر دے، اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے کفر و نفاق کی وجہ سے ان کے نیک اعمال، مثل صدقہ و خیرات وغیرہ سب کے سب اکارت اور ضائع ہوجائیں گے۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم تو غالب ہو اور خدا تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا

فلاتھنوا وتدعوا الی السلم اس آیت میں کفار کو صلح کی دعوت دینے کی ممانعت کی گئی ہے اور قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے وان جنحوا للسلم فاجنع لھا یعنی اگر کفار صلح کی جانب مائل ہوں تو آپ بھی مائل ہوجایئے، اس سے صلح کی اجازت معلوم ہوتی ہے، اس لئے بعض حضرات نے فرمایا کہ اجازت اس شرط کے ساتھ ہے کہ کفار کی جانب سے صلح جوئی کی ابتداء ہو اور اس آیت میں جو ممانعت آئی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے صلح جوئی کی ابتداء کی جائے، اس لئے ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے ابتداء صلح کرلینا بھی جائز ہے جبکہ اس میں مسلمانوں کی مصلحت ہو، محض بزدلی اور عیش کوشی اس کا سبب نہ ہو، اور اسی آیت میں فلاھنوا کہہ کر اسی بات کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ (معارف) یہاں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ یہ ارشاد اس زمانہ میں فرمایا گیا کہ جب مدینہ کی چھوٹی سی بستی میں چند سو مہاجرین و انصار کی ایک مٹھی بھر جمعیت اسلام کی علم برداری کر رہی تھی، اور اس کا مقابلہ محض قریش کے طاقتور قبیلہ ہی سے نہیں بلکہ پورے ملک کے کفار و مشرکین سے تھا، اس حالت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ہمت ہار کر ان دشمنوں سے صلح کی درخواست نہ کرنے لگو، اس ارشاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کو کبھی صلح کی بات چیت کرنی ہی نہیں چاہیے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی صورت میں صلح کی سلسلہ جنبانی کرنا درست نہیں ہے جب اس کے معنی اپنی کمزوری کے اظہار کے ہوں اور اس سے دشمن اور زیادہ دلیر ہوجائیں، مسلمانوں کو پہلے اپنی طاقت کا لوہا منوا لنیا چاہیے، اس کے بعد اگر صلح کی بات چیت کریں تو کوئی حرج نہیں۔
Ayahs 47:36–37

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے مال طلب کرے اور تمہیں تنگ کرے تو تم بخل کرنے لگو اور وہ (بخل) تمہاری بدنیتی ظاہر کر کے رہے

انما الحیوۃ الدنیا اوپر جہاد کا ذکر تھا اور چونکہ جہاد سے روکنے والی چیز انسان کے لئے دنیا کی محبت ہوسکتی ہے جس میں اپنی جان کی محبت اہل و عیال کی محبت مال و دولت کی محبت سب داخل ہیں، اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ سب چیزیں بہرحال ختم اور فنا ہونے والی ہیں، اس وقت اگر ان کو بچا بھی لیا تو کیا فائدہ ؟ آخر کار یہ سب چیزیں ہاتھ سے نکلنے ہی والی ہیں، اس لئے ان فانی اور ناپائیدار چیزوں کی محبت کو آخرت کی دائمی پائیدار نعمتوں کی محبت پر غالب نہ آنے دو ۔ ولایسئلکم اموالکم اللہ تعالیٰ تمہارے اموال سے بےنیاز ہے اسی لئے اس نے تم سے زکوۃ میں کل مال کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اس کے ایک نہایت ہی قلیل حصے کا یعنی صرف ڈھائی فیصد کا مطالبہ رکھا اور وہ بھی ایک سال کے بعد اپنی ضرورت سے زیادہ ہونے پر، علاوہ ازیں اس کا مقصد بھی تمہارے اپنے بھائی بندوں کی مدد اور خیر خواہی ہے نہ کہ اللہ اس مال سے اپنی حکومت کے اخراجات پورے کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ زائد از ضرورت کل مال کا مطالبہ کرتا اور وہ بھی اصرار کے ساتھ اور زور دیکر تو تم بخل کرنے گتے اور بخل کی وجہ سے جو ناگواری اور کراہت تمہارے دلوں میں ہوتی وہ لا محالہ ظاہر ہوجاتی اس لئے اس نے تمہارے اموال میں سے ایک حقیر و قلیل حصہ تم پر فرض کیا ہے تم اس میں بھی بخل کرنے لگے۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلائے جاتے ہو تو تم میں ایسے شخص بھی ہیں جو بخل کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے اپنے آپ سے بخل کرتا ہے اور خدا بےنیاز ہے اور تم محتاج اور اگر تم منہ پھیرو گے تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے

تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ فمنکم من یبخل تم کو تمہارے اموال کا کچھ حصہ راہ خدا میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض اس میں بھی بخل کرنے لگتے ہیں اس کے بعد فرمایا ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ یعنی جو شخص اس میں بخل کرتا ہے وہ کچھ اللہ کا نقصان نہیں کرتا بلکہ خود اپنا ہی نقصان کرتا ہے کہ آخرت کے اجر وثواب سے محرومی اور ترک فرض کا وبال ہے۔ وان تتولوا یستبدل قوماً غیر کم ثم لایکونوا امثالکم اور اگر تم روگرداں ہوجائو تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو لائے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے، بلکہ تم سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کے اطاعت گزار اور اللہ کی راہ میں خوب خرچ کرنے والے ہوں گے، نبی ﷺ سے جب اس قوم کے بارے میں صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ وہ ایسی کونسی قوم ہے کہ اگر ہم (خدانخواستہ) احکام دین سے روگردانی کرنے لگیں تو وہ ہمارے بدلے میں لائی جائے گی ؟ اور پھر وہ ہمارے طرح احکام سے روگردانی نہ کرے گی ؟ تو آپ نے حضرت سلمان فارسی ؓ (جو کہ آپ کے نزدیک بیٹھے ہوئے تھے) کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اس سے مراد یہ اور اس کی قوم ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا (ستارے) کے ساتھ بھی معلق ہو تو اس کو فارس کے کچھ لوگ حاصل کرلیں گے (ترمذی، ذکرہ الالبانی فی صحیحہ و صحیحہ ابن حبان، مظہری) شیخ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب جو ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ کے مناقب میں لکھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ اس سے مراد ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں کیونکہ ابنائے فارس میں کوئی جماعت علم کے اس مرتبہ پر نہیں پہنچی جس پر ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب پہنچے۔ (حاشیہ تفسیر مظہری، معارف)