46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 46:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

(یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حم اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، کتاب یعنی قرآن کا نازل کرنا اپنی ملک میں غالب اپنی صنعت میں حکمت والے (خدا) کی طرف سے ہے (الکتاب) مبتداء اور من اللہ اس کی خبر ہے، ہم نے آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی تمام چیزوں کو حکمت کے ساتھ اور ایک مقررہ مدت (تک) کے لئے پیدا کیا ہے یعنی قیامت کے دن ان کے فنا ہونے تک کے لئے تاکہ ہمار قدرت اور ہماری وحدانیت پر دلالت کرے اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں (یعنی) جس عذاب سے خوف دلائے جاتے ہیں اس سے منہ موڑ لیتے ہیں، آپ کہئے، بھلا دیکھو تو جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو بندگی کرتے ہو، یعنی بتوں کی، مجھے بتائو کہ انہوں نے زمین کا کونسا حصہ پیدا کیا ہے ما، تدعون کا مفعول اول ہے ارونی بمعنی اخبرونی (ارایتم) کی تاکید ہے (ماذا خلفوا) مفعول ثانی ہے (من الارض) ماکان بیان ہے، یا آسمانوں کی پیدائش میں ان کو اللہ کے ساتھ مشارکت ہے ما استفہام انکاری کے معنی میں ہے میرے پاس کوئی کتاب جو اس قرآن سے پہلے نازل کی گئی ہو لائو یا کوئی اور منقول مضمون جو تمہاری بت پرستی کے دعویٰ کی صحت میں اسلاف سے منقول چلا آیا ہو کہ یہ بت تم کو اللہ کا مقرب بنادیں گے اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہوا اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا ؟ استفہام بمعنی نفی ہے یعنی کوئی نہیں جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارے یعنی بندگی کرے جو تاقیامت اس کی دعاء قبول نہ کرسکیں اور وہ بہت ہیں، اپنی عبادت کرنے والوں کے کسی سوال کا کبھی بھی جواب نہیں دے سکتے، بلکہ وہ تو ان کی پکار بندگی سے بیخبر محض ہیں، اس لئے کہ وہ تو جماد لایعقل ہیں اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ بات ان کے یعنی اپنی بندگی کرنے والوں کے دشمن ہوں گے اور ان کی یعنی اپنی عبادت کرنے والوں کی عبادت ہی کا انکار کر بیٹھیں گے اور جب انہیں یعنی اہل مکہ کو ہماری واضح آیتیں یعنی قرآن پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان میں کے منکرین حق منکرین قرآن سچی بات کو جبکہ ان کے پاس آچکی کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس (رسول) نے خود گھڑ لیا ہے ؟ ام بمعنی بل ہے اور ہمزہ انکار کا ہے، آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر بالفرض میں نے اس کو گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کے عذاب سے ذرا بھی نہیں بچا سکتے، یعنی جب اللہ مجھے عذاب دینے پر آئے تو تم اس عذاب کو مجھ سے دفع نہیں کرسکتے، قرآن کے بارے میں جو باتیں تم بناتے ہو وہ اسے خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے وہی کافی ہے جس نے توبہ کی وہ اسے بڑا معاف کرنے والا ہے وہ اس پر بڑا رحم کرنے والا ہے اسی وجہ سے وہ تمہاری سزا میں جلدی نہیں کرتا آپ کہئے کہ میں کوئی نرالا رسول تو ہوں نہیں یعنی پہلا (رسول تو ہوں نہیں) مجھ سے پہلے میرے جیسے بہت سے رسول گذر چکے ہیں تو تم میری تکذیب کس بنیاد پر کرتے ہو ؟ اور میں نہیں جانتا کہ (کل) میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ دنیا میں کیا معاملہ کیا جائے گا آیا میں اپنے شہر سے نکالا جائوں گا یا قتل کیا جائوں گا ؟ جیسا کہ مجھ سے پہلے انبیائے کے ساتھ کیا گیا یا تم پر پتھر برسائے جائیں گے یا تم سے پہلے مکذبین کے مانند تم زمین دو ذکر دیئے جائو گے میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو ایک صاف صاف ڈرانے (خبردار) کرنے والے کے سوا کچھ نہیں ہوں آپ کہہ دیجیے کہ تم مجھ کو یہ بتلا دو کہ اگر یہ قرآن منجانب اللہ ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا، تو تمہارا کیا انجام ہوگا ؟ (وکفرتم بہ) جملہ حالیہ ہے، اور اس جیسے کلام پر تو ایک بنی اسرائیل کا گواہ اور وہ عبداللہ بن سلام ہے شہادت بھی دے چکا ہے یعنی اس بات پر کہ یہ (قرآن) منجانب اللہ ہے اور وہ شاہد ایمان لے آیا اور تم گھمنڈ میں پڑے رہے یعنی ایمان کے مقابلہ میں تکبر کرتے رہے اور شرط کا مع اس پر معطوف کے جواب الستم ظالمین ہے، جس پر ان اللہ لایھدی القوم الظلمین دلالت کر رہا ہے۔ تحقیق و ترکیب تسھیل و تفسیری فوائد قولہ : احقاق، حقف کی جمع ہے، حقف ریت کے اس ٹیلے کو کہتے ہیں جو مستطیل اور مرتفع اور قدرے منحفی ہو اور احقاق یمن میں ایک وادی کا نام بھی ہے، قوم عاد کا مرکزی مقام احقاف تھا، یہ حضرموت کے شمال میں اس طرح واقع ہے کہ اس کے مشرق میں عمان اور شمال میں ربع خالی واقع ہے جسے صحرائے اعظم الدنیا بھی کہا جاتا ہے قدیم زمانہ میں حضرت موت اور نجران کے درمیانی حصہ میں عاد ارم یعنی عاد اولیٰ کا مشہور قبیلہ آباد تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی نافرمانی کی پاداش میں آندھی کا عذاب بھیج کرنیست و نابود کردیا تھا، عبدالوہاب نجار نے قصص الانبیاء میں ص 71 پر تصریح کی ہے کہ مجھ سے سید عبداللہ بن احمد بن عمر بن یحییٰ علوی نے جو حضرموت کے باشندے ہیں بیان کیا کہ وہ ایک جماعت کے ساتھ ان ہلاک شدہ قوموں کے قدیم مساکن کی کھوج میں حضرموت کے شمالی میدان میں قیام پذیر رہے کافی تلاش و کوشش کے بعد ٹیلوں کی کھدائی میں سنگ مرمر کے کچھ برتن دستیاب ہوئے جن پر خط مسماری میں کچھ کندہ تھا لیکن افسوس کہ سرمایہ کی کمی کے باعث اس مہم سے دست بردار ہونا پڑا۔ (لغات القرآن) قولہ : الابالحق بالحق سے پہلے خلقاً محذوف مان کر مفسر علام نے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ بالحق متلبساً کے متعلق ہو کر خلقاً مصدر مجذوف کی صفت ہے، تقدیر عبارت یہ ہے الاخلقاً متلبساً بالحق قولہ : واجل مسمی وائوعاطفہ ہے، اجل کا عطف الحق پر ہے ای بحق و باجل مسمی یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو برحق اور تعیین مدت کے ساتھ پیدا کیا ہے یعنی ان کی فنا کا ایک دن متعین ہے اور وہ قیامت کا دن ہے، کلام میں مضاف محذوف ہے ای والابتعیین اجل مسمی قولہ : والذین کفروا موصول صلہ سے مل کر مبتداء اور معرضون اس کی خبر ہے اور عما انذروا، معرضون کے متعلق ہے، ما اسم موصول ہے معرضون جملہ ہو کر صلہ ہے، عائد محذوف ہے جس کی طرف مفسر علامہ نے بہ مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے۔ قولہ : عما انذروا میں ما موصولہ اور مصدریہ دونوں ہوسکتا ہے، موصولہ ہونے کی صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی عن عذاب الذی انذروہ معرضون قولہ : قل ارایتم ماتدعون میں ڈون اللہ بقول شارح (رح) ارء یتم، بمعنی اخبرونی اور تدعون، بمعنی تعبدون ہے ای خبرونی ماتعبدون من دون اللہ من الاصنام ماتدعون، ارء یتم مکا مفعول اول ہے اور ما ذا خلقوا جملہ ہو کر قائم مقام مفعول ثانی کے ہے، یہ بھی احتمال ہے کہ ارونی، ارء یتم کی تاکید ہو اور معنی میں اخبرونی کے ہو، اس صورت میں یہ باب تنازع فعلان سے ہوگا، اس لئے کہ ارء یتم اور ارونی دونوں مفعول ثانی کے طالب ہیں مفعول اول دونوں کے پاس موجود ہے ماتعبدون ارء یتم کا مفعول اول ہے اور ارونی میں یا ارونی کا مفعول اول ہے او ماذا خلقوا متنازع فیہ ہے، دونوں افعال اس کو اپنا مفعول ثانی بنانا چاہتے ہیں، بصریین کے مذہب کے مطابق فعل ثانی کو عمل دیکر فعل اول کا مفعول ثانی محذوف مانا جائے گا۔ قولہ : مشارک فی الخلق، مشارک بمعنی مشارکت ہے اگر مفسر علام (رح) تعالیٰ مشارک کے بجائے مشارکتہ فرماتے تو زیادہ واضح ہوتا موجودہ نسخہ میں مشارکتہ ہے۔ قولہ : ایتونی یہ جملہ بھی منجملہ قل کے مقولہ میں سے ہے اور ایتونی امر تعجیز و تبکیت کے لئے ہے ارونی سے دلیل عقلی کے فقدان کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ایتونی بکتب الخ سے دلیل نقلی کے فقدان کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : من قبل ھذا یہ بکتاب کی صفت ہے جو مطلق ہے منزل ہو یا غیر منزل، ای ایتونی بکتاب کائن من قبل مگر مفسر علامہ نے ابوالبقاء کی اتباع میں من قبل کا متعلق خاص یعنی منزل محذوف مانا ہے مگر مطلق رکھنا زیادہ بہتر ہے۔ ای کائن من قبل ھذا (جمل) قولہ : اثارۃ بقیۃ، بقیۃ کا اضافہ بیان معنی کے لئے ہے اثارۃ غوایۃ وضلالۃ کے وزن پر مصدر ہے اور یہ عرب قول سمنت الناقۃ علی اثارۃ من لحم، ای علی بقیۃ منہ سے مشتق ہے اور بعض حضرات نے اثارۃ کے معنی روایۃ اور علامۃ کے بھی بیان کئے، خلاصہ یہ کہ اہل لغت کے اثارۃ میں تین قول ہیں (1) الاثارۃ بمعنی بقیۃ یہ اثرت الشیء اثارۃ سے مشتق ہے، کانھا بقیۃ تخرج فتستشار (2) الاثارۃ من الاثر، ای الروایۃ والنقل (3) میں الاثر، بمعنی العلامۃ (اعراب القرآن) مراد وہ علوم ہیں جو اسلاف سے سینہ بسینہ منقول چلے آتے ہوں۔ قولہ : من قبل ھذا، کائن محذوف کے متعلق ہو کر بکتاب کی صفت ہے اور بکتاب ایتونی کے متعلق ہے اور اثارۃ کتاب پر معطوف ہے۔ قولہ : ان کنتم صادقین شرط ہے اس کی جزاء فاتونی محذوف ہے اور صادقین کنتم کی خبر ہے۔ قولہ : من لایستجیب الخ من نکرہ موصوفہ بھی ہوسکتا ہے مابعد کا جملہ اس کی صفت ہوگا، تقدیر عبارت ہوگی من اضل من شخص یعبد شیا لایجیبہ : اور موصولہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں مابعد کا جملہ اس کا صلہ ہوگا، تقدیر عبارت یہ ہوگی من اضل من شخص یعبد الشی الذی لایجیبہ ولا ینفعہ فی الدین ولا فی الآخرۃ قولہ : من لا یستجیب لہ جملہ ہو کر یدعوا کا مفعول بہ ہے۔ قولہ : الی یوم القیامۃ یہ لایستجیب کی غایت ہے، جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے بعد استجابۃ ہوگی، بایں طور کہ غایت میغا میں داخل نہ ہو، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہاں بیان غایت سے تابید مراد ہے اور غایت مغیا میں داخل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول وان علیک لعنتی الی یوم الدین قولہ : لانھم جماد لایعقلون، غافلون کی تفسیر لانھم جماد الخ سے کر کے اشارہ کردیا کہ غفلت سے عدم فہم مراد ہے نہ کہ بےتوجہی (وھم عن دعائھم غافلون) میں اول ھم ضمیر اصنام کی طرف اور ثانی ھم عابدین اصنام کی طرف راجع ہے، دونوں ضمیروں کو جمع لانا معنی من کی رعایت کی وجہ ہے اصنام کے لئے ذوی العقول کی جمع اس لئے لائے ہیں کہ مشرکین کا یہ اعتقاد تھا کہ اصنام سمجھتے ہیں۔ قولہ : قال الذین کفروا یہ وضع الاسم الظاہر موضع الضمیر کے قبیل سے ہے، اس لئے کہ قالوا کہنا کافی تھا مگر اہل مکہ کی صفت کفر کو بیان کرنے کے لئے اسم ظاہر کو اسم ضمیر کی جگہ رکھ دیا۔ قولہ : لما جاء ھم، قال کا ظرف ہے اور ھذا سحر مبین مقولہ ہے۔ قولہ : تفیضون، افاضۃ سے جمع مذکر کا صیغہ ہے تم گھستے ہو اس کا استعمال جب پانی، آنسو، وغیرہ کے لئے ہوتا ہے، تو بہنے، جاری ہونے کے معنی ہوتے ہیں، لیکن جب کلام کے متعلق استعمال ہوتا ہے تو باتوں میں غور و خوض کرنے اور کہنے سننے اور نکتہ چینی کرنے کے معنی میں آتا ہے، یہاں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ قولہ : بدعا بدیعاً بدعا مصدر بھی ہوسکتا ہے مگر اس صورت میں مضاف محذوف ہوگا ای ذابدع اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بدعا بدیعا کے معنی میں صیغہ صفت ہو جیسے خف بمعنی خفیف بدع بمعنی بدیع انوکھا، نرالا قولہ : وما ادری مایفعل بی ولابکم پہلا مانافیہ ہے، ثانی ما استفہامیہ مبتداء اور مابعد اس کی خبر، یہ ما، ادری کو عمل سے مانع ہے اس کا مابعد قائم مقام دو مفعولوں کے ہے۔ قولہ : مانا الا نذیر مبین یہ حصر حقیقی نہیں ہے کہ اعتراض ہو کہ آپ بشیر بھی ہیں پھر یہ نذیر میں حصر کیسا ؟ جواب یہ ہے کہ یہ حصر اضافی ہے یعنی میرا ڈرانا اور آگاہ کرنا، اللہ ہی کی طرف سے ہے خود میری طرف سے کچھ نہیں ہے جیسا کہ آپ لوگوں کا خیال ہے۔ قولہ : ارایتم ان کان من عند اللہ و کفر تم بہ جملہ ارایتم الخ قول کا مقولہ ہے ارایتم کے دونوں مفعول محذوف ہیں، تقدیر عبارت یہ ہے اخبرونی ماذا حالکم ان کان من عند اللہ و کفرتم بہ شرط اور اس پر معطوف کا جواب محذوف ہے، جس کی طرف عالمہ محلی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے الستم ظالمین مقدر مان کر اشارہ کردیا ہے، جواب شرط کی مذکورہ تقدیر زمخشری کے قول کے مطابق ہے مگر اس پر ابوحیان نے رد کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر زمخشری کی بیان کردہ تقدیر مان لی جائے تو پھر فاء کا لانا ضروری ہے اس لئے کہ جملہ استفہامیہ جب جواب شرط واقع ہوتا ہے تو اس پر فاء لازم ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ دیگر حضرات نے فقد ظلمتم جواب شرط محذوف مانا ہے۔ (اعراب القرآن) تفسیر و تشریع اس سورت کا نام احقاف ہے، احقاف حقف کی جمع ہے، ریت کے بلند مستطیل خمدار ٹیلے کو کہتے ہیں، یہ نام آیت 21 اذا انذرقومہ بالاحقاف سے ماخوذ ہے یہ قوم عاد کا مرکزی مقام تھا، یہ حضرموت کے شما میں اس طرح واقع ہے کہ اس کے مشرق میں عمان اور شمال میں ربع خالی ہے جسے صحراء اعظم الدنیا بھی کہا جاتا ہے، ربع خالی گو آبادی کے لائق نہیں تاہم اس کے اطراف میں کہیں کہیں آبادی کے قابل کچھ زمین ہے، خصوصاً اس حصہ میں جو حضرموت سے نجران تک پھیلا ہوا ہے، قدیم زمانہ میں اسی حضرموت اور نجران کے درمیانی حصہ میں عاد ارم کا مشہور قبیلہ آباد تھا، جس کو خدا نے ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں آندھی کا عذاب بھیج کر نیست و نابود کردیا تھا۔ (لغات القرآن) نوٹ :۔ حال ہی میں 1992 ء میں کھدائی کے دوران قوم عاد وثمود کے مکانوں کے کھنڈرات اور بنیادیں ظاہر ہوئی ہیں جو کہ تصویر میں صاف نظر آرہی ہیں۔ (قوم عاد وثمود کے خرابات کا نقشہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔ ) حم حروف متشا بہات میں سے واجب الاعتقاد قابل السکوت ہے، اس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے اور واقعی حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام کائنات بےمقصد کھلونا نہیں، بلکہ با مقصد ایک حکیمانہ نظام ہے، نیز کائنات کا موجودہ نظام دائمی اور ابدی نہیں ہے بلکہ اس کی ایک خاص عمر مقرر ہے جس کے خاتمے پر اس کو لازماً درہم برہم ہوجانا ہے اسی کو آخرت کہتے ہیں اور خدا کی عدالت کے لئے بھی ایک طے شدہ وقت ہے جس کے آنے پر وہ ضرور قائم ہونی ہے، لیکن یہ کافر لوگ اس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں، انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب انہیں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔
Ayahs 46:4–5

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

کہو کہ بھلا تم نے ان چیزوں کو دیکھا ہے جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ؟ (ذرا) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کونسی چیز پیدا کی ہے یا آسمانوں میں ان کی شرکت ہے اگر سچے ہو تو اس سے پہلے کی کوئی کتاب میرے پاس لاؤ یا علم (انبیائ) میں سے کچھ (منقول) چلا آتا ہو (تو اسے پیش کرو)

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور انکو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو ؟

قل ارایتم ماتدعون اے نبی ان سے کہہ دو کہ کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی اور کبھی تم نے غور کیا بھی کہ یہ ہستیاں ہیں کیا ؟ جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو یہ تمہارے احساس ذمہ داری کی فقدان کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے بےسوچے سمجھے ایک نہایت ہی غیر معقول عقیدے سے چمٹے ہوئے ہو۔ مذکورہ آیات میں مشرکین کے دعوائے شرک کو باطل کرنے کے لئے ان سے ان کے دعوے پر دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس لئے کہ کوئی دعویٰ بغیر شہادت اور دلیل کے عقلاً یا شرعاً قابل قبول نہیں ہوتا، دلائل کی جتنی قسمیں ہوسکتی ہیں سب کو اس میں جمع کردیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ تمہارے دعوے پر کسی قسم کی دلیل موجود نہیں اس لئے اس بےدلیل دعوے پر قائم رہنا گمراہی ہے اس آیت میں دلائل کی تین قسمیں کی گئی ہیں، ایک عقلی دلیل جس کی نفی کے لئے فرمایا ارونی ماذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموت دلیل کی دوسری قسم نقلی ہے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں دلیل نقلی وہی معتبر ہوسکتی ہے جو خود حق تعالیٰ کی طرف سے آئی ہو جیسے آسمانی کتابیں قرآن، توریت، انجیل وغیرہ، ایتونی بکتاب من قبل ھذا میں اسی دلیل نقلی کے مطالبہ کی طرف اشارہ ہے، اواثارۃ میں دلیل نقلی سے انبیاء سابقین کے وہ اقوال اور روایات مراد ہیں جو بعد کی نسلوں تک سینہ بسینہ کس قابل اعتماد ذریعہ سے پہنچے ہوں یہ دلیل نقلی کی دوسری قسم ہے، ان تینوں ذرائع سے جو کچھ بھی انسان کو پہنچا ہے اس میں کہیں بھی شرک کا شائبہ تک موجود نہیں ہے، تمام کتب آسمانی وہی توحید پیش کرتی ہیں جس کی طرف قرآن دعوت دے رہا ہے، علوم اولین کے جتنے نقوش بھی بچے کھچے موجود ہیں ان میں بھی کہیں اس امر کی شہادت نہیں ملتی کہ کسی نبی یا ولی نے کبھی لوگوں کو خدا کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کی تعلیم دی ہو۔ اثارۃ من علم سے علم الاولین مراد ہے، جو قابل اعتماد سند کے ساتھ بعد والوں تک پہنچے ہوں، ابن قتیبہ نے کہا ہے کہ اثارۃ من علم سے علم الاولین مراد ہے اور فرا اور مبرد نے کہا ہے مایوثر من کتب الاولین مراد ہے۔ (فتح القدیر)
Ayah 46:6

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ انکے دشمن ہوں گے اور انکی پرستش سے انکار کریں گے

واذا حشر الناس کانوا لھم اعداء مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اصنام، عابدین اصنام کے دشمن ہوجائیں گے اور بعض حضرات نے کانوا کی ضمیر کو عابدین کی طرف لوٹایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول واللہ ربنا مکنا مشرکین میں ہے، مگر اول راجح ہے، غرضیکہ روز قیامت عابدین و معبودین ایک دوسرے پر لعنت ملامت کریں گے، یہ لعنت ملامت اور اظہار بیزاری یا تو حقیقتاً ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اصنام حجرہیہ وغیرہ میں حیات پیدا فرما دیں گے اور بعض حضرات نے لسان حال سے لعنت ملامت اور اظہار برأت مراد لا ہے، رہے ملائکہ اور مسیح (علیہ السلام) و عزیز (علیہ السلام) تو لسان مقال سے اظہار بیزاری کریں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تبر انا الیک ماکانوا ایانا یعبدون (فتح القدیر)
Ayahs 46:7–8

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب انکے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ کہہ دو اگر میں نے اس کو اپنی طرف سے بنایا ہو تو تم خدا کے سامنے (میرے بچاؤ) کے لئے کچھ اختیار نہیں رکھتے وہ اس گفتگو کو خوب جانتا ہے جو تم اسکے بارے میں کرتے ہو وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے

واذا تتلیٰ علیھم ایتنا (الآیۃ) اور جب ان کو واضح اور صاف صاف قرآنی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ منکرین حق سنتے ہی بغیر غور و فکر کے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے، مطلب یہ ہے کہ جب قرآن کی آیات کفار کے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو وہ صاف محسوس کرتے تھے کہ اس کلام کی شان انسانی کلام سے بدر جہا بلند ہے، ان کے شاعر، کسی خطیب، کسی ادیب کے کلام کو بھی قرآن کی بےمثال فصاحت و بلاغت اس کی وجد آفرینی، اس کے بلند اور پاکیزہ مضامین اور دلوں کو نرما دینے اور گرما دینے والے انداز بیان سے کوئی مناسبت نہ تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ خود آنحضرت ﷺ کے اپنے کلام کی شان بھی وہ نہ تھی جو خدا کے کلام میں نظر آتی تھی، آپ ﷺ کی زبان اور قرآن کی زبان میں نمایاں اور بین فرق تھا، یہ چیز ان کے سامنے حق کو بالکل بےنقاب کر کے لے آتی تھی، مگر وہ چونکہ اپنے کفر پر اڑے رہنے کا فصلہ کرچکے تھے اس لئے اس صریح علامت کو دیکھ کر سیدھی طرح اس کلام کو کلام الٰہی مان لینے کے بجائے یہ بات بناتے تھے کہ یہ کوئی جادو کا کرشمہ ہے، مگر ان کا یہ خیال اس لئے غلط تھا کہ جادو سے تو وہ خود بھی واقف تھے اگر قرآن کوئی جادوئی کلام تھا تو وہ بھی جادو کے ذریعہ ایسا کلام لا کر پیش کر کے قرآن کے چیلنج فاتوا بسورۃ من مثلہ کو قبول کرسکتے تھے مگر حقیقت کچھ اور تھی جس کو وہ خوب سمجھتے تھے مگر زبان سے اقرار نہیں کرتے تھے۔ وھو الغفور الرحیم مطلب یہ ہے کہ فی الواقع یہ اللہ کا رحم اور درگذر ہی ہے کہ جس کی وجہ سے یہ منکرین زمین میں سانس لے رہے ہیں جنہیں خدا کے کلام کو افتراء قرار دینے میں کوئی باک اور شرم نہیں، ورنہ کوئی بےرحم سخت گیر خدا اس کائنات کا مالک ہوتا تو ایسی جسارتیں کرنے والوں کو ایک سانس کے بعد دوسرا سانس لینا نصیب نہ ہوتا۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے، اے ظالمو ! اب بھی اس ہٹ دھرمی اور اڑیل رویے سے باز آجائو تو خدا کی رحمت کا دروازہ تمہارے لئے کھلا ہوا ہے اور جو کچھ تم نے اب تک کیا ہے وہ معاف ہوسکتا ہے۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے

قل ماکنت بدعا من الرسل یہ دراصل مشرکین مکہ کی واہی اور لچر شبہات کا جواب ہے، اس ارشاد کا پس منظر یہ ہے کہ جب نبی ﷺ نے نبوت کا دعویٰ پیش کیا اور خود کو خدا کا نمائندہ بتایا تو مکہ کے لوگ طرح طرح کی باتیں بنانے لگے، ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو بال بچے رکھتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، کھاتا پیتا ہے، غرضیکہ عام انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتا ہے، آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جس میں یہ عام انسانوں سے مختلف ہو اور ہم یہ سمجھیں کہ خاص طور پر اس شخص کو خدا نے اپنا رسول اور نمائندہ بنا کر بھیجا ہے ؟ اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر خدا نے اس شخص کو اپنا رسول بنایا ہوتا تو اس کی اردلی میں کوئی فرشتہ بھیجتا جو پیش پیش یہ اعلان کرتا چلتا کہ یہ خدا کا رسول ہے اور ہر اس شخص پر عذاب کا کوڑا برسا دیتا جو اس کی شان میں ذرا سی گستاخی کر بیٹھتا، یہ آخر کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا کسی کو اپنا رسول مقرر کرے اور پھر اسے یوں ہی مکہ کی گلیوں میں پھرنے اور ہر طرح کی زیادتیاں سہنے کے لئے بےسہارا چھوڑ دے اور کچھ نہیں تو کم از کم یہی ہوتا کہ خدا اپنے رسول کے لئے ایک شاندار محل اور یک لہلہاتا باغ پیدا کردیتا، ان سب باتوں کے علاوہ مشرکین مکہ آئے دن آپ سے طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے اور غیب کی باتیں پوچھتے تھے، ان کے خیال میں کسی کا رسول خدا ہون ایہ معنی رکھتا تھا کہ وہ فوق البشری طاقتوں کا مالک ہو اس کے شارے پر پہاڑ ٹل جائیں، بہتے دریا رک جائیں اور ایک اشارہ سے ریگزارکشت زار میں تبدیل ہوجائیں، نیز اس کو مکان ومایکون کا علم ہو۔ یہی وہ باتیں ہیں جن کا جاب ان فقروں میں دیا گیا ہے، ان میں کے ہر فقرہ میں معانی کی ایک دنیا پوشیدہ ہے، فرمایا ان سے کہو میں کوئی نرالا رسول تو ہوں نہیں یعنی میرا رسو بنایا جانا دنیا کی تاریخ میں کوئی پہلا واقعہ تو ہے نہیں کہ تمہیں یہ سمجھنے میں پریشانی ہو کہ رسول کیسا ہوتا ہے ؟ اور کیسا نہیں ہوتا، مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے ہیں اور میں ان سے مختلف نہیں ہوں، آخر دنیا میں کب کوئی ایسا رسول آیا ہے کہ جو کھاتا پیتا نہ ہو یا عام انسانوں کی طرح زندگی بسر نہ کرتا ہو ؟ یا کس رسول کے ساتھ کوئی فرشتہ اترا، جو اس کی رسالت کا اعلان کرتا ہو اور اس کے آگے آگے ہاتھ میں کوڑا لئے پھرتا ہو ؟ اور کونسا رسول ایسا گذرا ہے کہ جو اپنے اختیار سے کوئی معجزہ دکھا سکتا ہو یا اپنے علم سے سب کچھ جانتا ہو، پھر یہ نرالے معیار میرے ہی رسالت کو پرکھنے کے لئے کہاں سے لئے چلے آرہے ہو۔ وما ادری مایفعل بی ولابکم اس کے بعد فرمایا کہ ان کے جواب میں کہو، میں نہیں جانتا کہ کل میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا ؟ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے یعنی میں عالم الغیب نہیں ہوں کہ ماضی حال و استقبال سب مجھ پر روشن ہوں اور دنیا کی ہر چیز کا مجھے علم ہ، تمہارا مستقبل تو درکنار مجھے تو اپنا مستقبل بھی معلوم نہیں کہ دنیا میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے، آیا مجھے قتل کیا جائے گا اپنی موت مروں گا، یا مجھے مکہ سے نکالا جائے گا یا مکہ میں رہنے دیا جائے گا، بعض حضرات نے اس آیت کا تعلق دنیاوی امور سے کیا ہے مگر مفسرین کی ایک بڑی تعداد دنیا و آخرت دونوں سے متعلق مانتی ہے یعنی دنیا و آخرت کے امور پر آپ کو جو آگاہی اور واقفیت تھی وہ بذریعہ وحی ہی تھی۔ فوائد عثمانی میں مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی رحمتہ اللہ تعالیٰ اس آیت کے فوائد میں لکھتے ہیں کہ مجھے اس سے کچھ سرار نہیں کہ میرے اکم کا آخری نتیجہ کیا ہوتا ہے، میرے ساتھ اللہ کیا معاملہ کرے گا اور تمہارے ساتھ کیا ؟ نہ میں اس وقت پوری تفصیل اپنے اور تمہایر انجام کے متعلق بتلا سکتا ہوں کہ دنیا و آخرت میں کیا کیا صورتیں پیش آئیں گی، ہاں ایک بات کہتا ہوں کی میرا کام صرف وحی الٰہی کا اتباع اور حکم خداوندی کا امتثال کرنا اور کفر و عصیان کے سخت اور خطرناک نتائج سے خوب کھول کر آگاہ کردینا ہے آگے چل کر دنیا و آخرت میں میرے اور تمہارے ساتھ کیا کچھ پیش آئے گا، اس کی تمام تفصیلات فی الحال میں نہیں جانتا اور نہ اس بحث میں پڑنے سے مجھے کچھ مطلب، بندہ کا کام نتیجہ سے قطع نظر کر کے مالک کے احکام کی تعمیل کرنا ہے اور بس۔ (فوائد عثمانی)
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو اور تم نے اس سے انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب) کی گواہی دے چکا اور ایمان لے آیا اور تم نے سرکشی کی (تو تمہارے ظالم ہونے میں کیا شک ہے ؟ ) بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

قل ارایتم ان کان من عند اللہ و کفرتم بہ (الایۃ) ان کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ رسول کی طرف راجع ہو اور کفرتم بہ اور وشھد شاھد تقدیر قد کے ساتھ حال ہیں۔ اس زمانہ میں عرب کے جاہل مشرکین بنی اسرائیل کے علم و فضل سے مرعوب تھے، جب آپ ﷺ کی نبوت کا چرچا ہوا تو مشرکین نے اس باب میں علماء بنی اسرائیل کا عندیہ لینا چاہا، مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ آپ کی تکذیب کردیں تو کہنے کو ایک بات ہاتھ آجائے کہ دیکھو اہل علم اور اہل کتاب بھی ان کی باتوں کو جھوٹا کہتے ہیں، مگر اس مقصد میں مشرکین ہمیشہ ناکام رہے، اللہ تعالیٰ نے ان ہی بنی اسرائیل کی زبانوں سے حضور کی تصدیق و تائید کرائی نہ صرف اتنی بات سے کہ وہ لوگ بھی قرآن کی طرح تورات کو آسمانی کتاب اور آنحضرت ﷺ کی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر کہتے تھے اس طرح آپ ﷺ کا دعوائے رسالت اور قرآن کی وحی کوئی انوکھی چیز نہیں رہی بلکہ اس طرح کہ بعض علماء یہود نے صریحاً اقرار کیا اور گواہی دی کہ بیشک ہمارے یہاں ایک عظیم الشان رسول اور کتاب کے آنے کی خبر دی گئی ہے اور یہ رسول وہی معلوم ہوتا ہے اور یہ کتاب اسی طرح کی ہے جس کی خبر دی گئی تھی، علماء یہود کی شہادتیں دراصل ان پیشین گوئیوں پر مبنی تھیں جو ہزار ہاتحریف و تبدیل کے باوجود آج بھی تورات وغیرہ میں موجود چلی آرہی ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کا سب سے بڑا گواہ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہزاروں سال پہلے خود گواہی دے چکا ہے، کہ بنی اسرائیل کے اقارب اور بھائیوں (بنی اسماعیل) میں سے اسی کے مثل ایک رسول آنے والا ہے، انا ارسلنا الیکم رسولاً شاھداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولاً (الزمل : رکوع 1) یہی سبب تھا کہ بعض منصف اور حق پرست احبار یہود و مثلاً عبدا للہ بن سلام وغیرہ حضور کا چہرہ انور دیکھتے ہی اسلام لے آئے اور بول اٹھے ان ھذا الوجہ لیس بوجہ کاذب یہ چہرہ جھوٹے کا نہیں ہو ستا، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس چیز پر ہزاروں سال پہلے ایمان رکھیں اور علماء یہود اس کی صداقت کی گواہی دیں ان سب شہادتوں کے باوجود تم اپنی شیخی اور غرور سے اس کو قبول نہ کرو تو سمجھ لو اس سے بڑھ کر ظلم اور گناہ کیا ہوگا۔ (فوائد عثمانی ملخصاً ) یہاں ” شاہد “ سے کون مراد ہے ؟ مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے اس گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام کو لیا ہے جو مدینہ طیبہ کے مشہور یہودی عالم تھے اور ہجرت کے بعد مسلمان ہوئے تھے یہ واقعہ چونکہ مدینہ منورہ میں پیش آیا اس لئے ان مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اس تفسیر کی بنیاد حضرت سعد بن ابی وقاص کا یہ بیان ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل ہوئی تھی (بخاری، مسلم وغیرہ ہما) (واخرج الترمذی و ابن جریر و ابن مردویہ عن عبداللہ بن سلام قال نزل فی آیات من کتاب اللہ، نزلت فی وشھد شاھد من بنی اسرائیل) (فتح القدیر شوکانی ملخصاً ) اور سی بناء پر ابن عباس، مجاہد، قتادہ، ضحاک، ابن سیرین، حسن بصری، ابن زید اور عوف بن مالک اشجعی ؓ جیسے متعدد اکابر مفسرین نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے، مگر دوسری طرف عکرمہ اور شعبی اور مسروق کہتے ہیں کہ یہ آیت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نہیں ہوسکتی یہ پوری سورت مکی ہے اور ابن جریر طبری نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ اوپر کلام کا پورا سلسلہ مشرکین مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے چلا آرہا ہے، اور آگے بھ سارا خطاب ان ہی سے ہے، اس سیاق و سبقا میں یکایک مدینہ میں نازل ہونے والی آیت کا آجانا قابل تصور نہیں ہے بعد کے جن مفسرین نے اس دوسرے قول کو قبول کیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت کو رد نہیں کرتے بلکہ ان کا خیال یہ ہے کہ یہ آیت چونکہ عبداللہ بن سلام کے ایمان لانے پر بھی چسپاں ہوتی ہے، اس صورت میں یہ آیت پیشین گوئی کے طور پر ہوجائے گی۔ اس آیت کے الفاظ میں کسی خاص عالم بنی اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا اور نہ یہ متعین کیا گیا کہ یہ شہادت اس آیت کے نزول سے پہلے لوگوں کے سامنے آچکی ہے یا آئندہ آنے والی ہے بلکہ ایک جملہ شرطیہ کے طور پر فرمایا ہے کہ اگر ماضی میں یا بالفعل یا آئندہ ایسا ہوجائے تو تمہیں اپنی فکر کرنا چاہیے کہ تم عذاب سے کیسے بچو گے، اس لئے آیت کا مفہوم سمجھنا اس پر موقوف نہیں کہ علماء بنی اسرائیل میں سے کس کو ” شاہد “ کا مصداق قرار دیا جائے، بلکہ جتنے حضرات بنی اسرائیل میں سے اسلام میں داخل ہوئے جن میں حضرت عبداللہ بن سلام زیادہ معروف ہیں وہ سب ہی اس میں داخل ہیں اگرچہ حضرت عبداللہ بن سلام کا ایمان لانا اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مدینہ منورہ میں ہوا ہو، اور یہ پوری سورت مکی ہے۔ (ابن کثیر بحوالہ معارف القرآن)
Ayah 46:11

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اسکی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے ؟ اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے

ترجمہ :۔ اور کافروں نے ایمان والوں کے بارے میں کہا اگر یہ ایمان کوئی بہتر چیز ہوتی تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرین نہ پاتے اور چونکہ ان کے کہنے والوں نے اس قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس اب یہ کہہ دیں گے کہ یہ یعنی قرآن قدیمی جھوٹ ہے حالانکہ اس سے یعنی قرآن سے پہلے موسیٰ کی کتاب یعنی تو رات اس پر ایمان لاین والوں کے لئے پیشوا اور رحمت تھی (اماماً اور رحمۃً ) دونوں (کائن من کتاب موسیٰ سے) حال ہیں، یہ قرآن عربی زبان کی کتاب ہے ماقبل کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے مصدقہ کی ضمیر سے حال ہے تاکہ ظالموں یعنی مشرکین مکہ کو ڈرائے اور مومنین کے لئے بشارت ہو بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر طاعت پر جمے رہے تو نہ تو ان کو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے یہ تو اہل جنت ہیں جو ہمیشہ اسی میں رہیں گے (خالدین) حال ہے ان اعمال کے صلے میں جو وہ کیا کرتے تھے جزاء اپنے فعل مقدر سے مصدریت کی بناء پر منصوب ہے ای یجزون جزاء ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ایک قرأت میں احساناً ہے، یعنی ہم نے اس کو حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے، احساناً اپنے فعل مقدر سے مصدریت کی وجہ سے منصوب ہے اور اسی طرح حسناً اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ میں رکھا اور بڑی مشقت کے ساتھ اس کو جنا اس کو پیٹ میں رکھنا اور دودھ چھڑانا تیس مہینہ (میں پورا ہوتا) ہے چھ ماہ اقل مدت حمل ہے اور باقی رضاعت کی اکثر مدت ہے کہا گیا ہے اگر بچے سے چھ ماہ یا نو ماہ حاملہ رہی تو باقی ایام بچے کو دودھ پلائے یہاں تک کہ جب وہ اپنی جوانی کو حتیٰ جملہ مقدرہ کی غایت ہے ای عاش حتی اور اشد اس کی قوت و قعل و رائے کا کمال ہے اور اس کی اقل مدت تینتیس سال ہے اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا اور وہ پختگی کی اکثر مدت ہے تو اس نے کہا : اے میرے پروردگار ! الخ (یہ آیت) حضرت ابوبکر صدیق کی شان میں نازل ہوئی جبکہ وہ آپ ﷺ کی بعثت کے دو سال بعد چالیس سال کی عمر کو پہنچے، آپ ﷺ پر ایمان لائے پھر آپ کے والدین ایمان لائے پھر آپ کے صاحبزادے عبدالرحمٰن اور عبدالرحمٰن کے بیٹے ابو عتیق ایمان لائے تو مجھے توفیق دے مجھے الہام فرما میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لائوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام فرمائی اور وہ توحید ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہوجائے چناچہ نو ایسے مومن غلاموں کو آزاد کیا جن کو راہ خدا میں ایذا دی جا رہی تھی اور مجھے میری اولاد سے راحت پہنچا چناچہ وہ سب کے سب ایمان لائے اور میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، یہی ہیں وہ لوگ اس قول کے کہنے والے ابوبکر ؓ وغیرہ ہیں جن کے نیک اعمال کو ہم قبول کرلیتے ہیں احسن بمعنی حسن ہے اور جن کے بداعمال سے در گزر کردیتے ہیں، حال یہ ہے کہ یہ اہل جنت سے ہوں گے (فی اصحب الجنۃ) حال ہے ای کائن من جملۃ اھل الجنۃ اس سچے وعدہ کے مطابق جو ان سے کیا گیا تھا (اور وہ وعدہ) اللہ تعالیٰ کے قول وعد اللہ المومنین و المومنات جنت میں کیا ہے اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا : اف ! تنگ کردیا تم نے اور ایک قرأت میں افراد کے ساتھ ہے اس سے جنس کا ارادہ کیا گیا ہے اف فاء کے کسرہ اور فتح کے ساتھ، مصدر کے معنی میں ہے، تمہارے لئے بدبو اور خرابی ہے میں تم سے تنگ آگیا ہوں تم مجھ سے یہ کہتے رہتے ہو اور ایک قرأت میں اتعدانی ادغام کے ساتھ ہے، کہ میں قبر سے نکالا جائوں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گذر چکی ہیں اور وہ قبروں سے نہیں نکالی گئیں اور وہ دونوں (یعنی والدین) اللہ سے فریاد کرتے ہیں (یعنی) اس کے (ایمان کی طرف) رجوع کرنے کی دعاء کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر تو نہ لوٹے گا تو تیرا تیاناس ہوگا ھلاکک بمعنی ہلکت ہے، بعث بعد الموت پر ایمان لے آ، بیشک اللہ کا بعث کا وعدہ حق ہے تو وہ جواب دیتا ہے کہ یہ یعنی بعث بع دالموت کی باتیں ت محض افسانے ہیں یعنی جھوٹی باتیں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر ان سے پہلے امم سابقہ پر جنات سے ہوں یا انسانوں سے عذاب کا وعدہ صادق آچکا، بیشک یہ زیاں کاروں میں سے تھے جنس کافر اور مومن میں سے ہر ایک کے لئے اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجات ملیں گے بایں طور کہ مومنین کے درجات جنت عالیہ میں ہوں گے اور کافروں کے جہنم میں درجات سافلہ ہوں گے، یعنی مومنین نے جو فرمانبرداری کے کام کئے اور کافروں نے معصیت کے کام کئے، تاکہ وہ یعنی اللہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور ایک قرأت میں نون کے ساتھ ہے تاکہ ہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدل دیں اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا کہ مومنین کے (نیک اعمال) کم کردیئے جائیں اور کافروں کے (برے اعمال) میں اضافہ کردیا جائے اور جس دن کافر آگ کے سامنے لائیں جائیں گے، اس طریقہ پر کہ ان کے سامنے سے جہنم کے پردے ہٹا دیئے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا تم نے اپنی نیکیاں اپنی لذتوں میں مشغول ہو کر دنیا ہی میں برباد کردیں ایک ہمزہ کے ساتھ اور دو (محقق) ہمزوں کے ساتھ اور ایک ہمزہ اور مد کے ساتھ، اور دونوں کے ساتھ مع ثانی (ہمزہ) کی تسہیل کے اور تم ان سے فائدہ اٹھا چکے پس آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی، ھون بمعنی ھوان ہے، اس باعث کہ تم دنیا میں ناقح تکبر کیا کرتے تھے اور اس باعث بھی کہ تم حکم عدولی کیا کرتے تھے اور اسی کا جہنم کے ذریعہ تم کو عذاب دیا جائے گا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : لو ان خیراً لو حرف شرط ہے کان خیراً جملہ ہو کر شرط اور ماسبقوناً جملہ ہو کر جزاء، شرط و جزاء ملکر قال کا مقولہ قولہ : واذا لم یھتدوابہ اذ کا عامل محذوف ہے، ای ظھر عنادھم اذلم یھتدوا بہ، اذ میں فسیقولون کا عامل بننا دو وجہ سے درست نہیں ہے اول تو اس لئے کہ دونوں کے زمانے مختلف ہیں اذ ماضی کے لئے ہے اور فسیقولون استقبال کے لئے دوسری وجہ یہ ہے کہ فاء اپنے مابعد کو ماقبل میں عمل کرنے سے مانع ہے۔ قولہ : من قبلہ کتاب موسی، من قبلہ کائن کے متعلق ہو کر خبر مقدم ہے اور کتاب مسی مبتداء مئوخر ہے، جملہ حال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ قولہ : اماماً و رحمۃ دونوں خبر مقدم کائن کی ضمیر سے حال ہیں اور ابوعبید نے جعلناہ محذوف کا مفعول ہو نیکی وجہ سے منصوب قرار دیا ہے۔ (فتح القدیر، شوکانی) قولہ : لساناً عربیاً موصوف صفت سے مل کر مصدق کی ضمیر سے حال ہیں اور مصدق کی ضمیر کتاب کی طرف راجع ہے۔ قولہ : لینذر مصدق کے متعلق ہے۔ قولہ : ای علی مشقۃ اس سے مفسر علام نے اشارہ کردیا کہ کرھاً بنزع الخاص منصوب ہے اصل میں علی کرہ تھا اور بعض نے حال کی وجہ سے منصوب کہا ہے ای ذات کرہ اور بعض نے مصدر محذوف کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب کہا ہے، ای حملاً کرھا قولہ : ثلثون شھراً کلام میں حذف ہے ای مدۃ حملہ و فصالہ ثلثون شھراً قولہ : فی اصحاب الجنۃ یہ کائن محذوف کے متعلق ہو کر عنھم کی ضمیر سے حال ہے کما اشار الیہ الشارح اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ عرب کا مقولہ ہے ” اکرمن الامین فی اصحابہ ‘ ای فی جمھلتھ اور بعض حضرات نے فی بمعنی مع لیا، ای مع اصحاب الجنۃ اور دیگر حضرات نے مبتداء محذوف کی خبر قرار دیا ہے ای ھم فی اصحاب الجنۃ قولہ : وعد الصدق، وعداً فعل مقدر کا مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے ای وعدھم اللہ وعد الصدق قولہ : وفی قراء ۃ بالافراد یعنی ہشام کی قرأت میں لوالدیہ کے بجائے لوالدہ ہے، مراد جنس والد ہے جو معنی میں جمع کے ہے۔ قولہ : اف کسرہ تنوین کے اور فتحہ بغیر تنوین کے اف، اف یوقف افا سے مصدر ہے بمعنی نتنا و قبحا کرخی (رح) تعالیٰ نے کہا ہے یہ اف یوف کا مصدر ہے اور تبا و قبحاً کے معنی میں ہے اف میں تین احتمال ہیں۔ (1) مصدر (2) اسم صوت (3) اسم فعل مفسر علام نے ان میں سے دو کی طرف اشارہ کیا ہے، بعنی مصدر سے اول کی طرف اور اتضجر سے ثانی کی طرف، گویا کہ مفسر علام نے اشارہ کردیا کہ دونوں تفسیریں جائز ہیں، اف ہر قسم کے میل کچیل کو کہتے ہیں جیسے ناخن کا تراشہ وغیرہ اور اسی اعتبار سے کس چیز کے متعلق گندگی اور نفرت کے اظہار کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے، فتح القدیر میں قاضی شوکانی سورة اسراء میں تحریر فرماتے ہیں، اصمعی کا بیان ہے کہ اف کان کا میل ہے اور تف ناخن کا کسی چیز سے گھن ظاہر کرنے کے لئے اف کہا جاتا ہے، چناچہ اس معنی میں اس کثرت سے استعمال کیا گیا کہ ہر اذیت رساں چیز کے بارے میں عرب اس کا استعمال کرنے لگے، ثعلث سے ابن عربی نے روایت کیا کہ افف جو کہ اف کی اصل ہے اس کے معنی جی گھٹنا، تنگ دل ہونا ہیں، زجاج نے اس کے معنی بدبو بتائے ہیں۔ (لغات القرآن) قولہ : ہلاکت ویلک کی تفسیر ھلاکک سے کر کے اشارہ کردیا کہ ویلک اپنے ہم معنی فعل مقدر سے منصوب ہے اور وہ ھلک ہے، اس لئے کہ ویل کا فعل نہیں آتا اور معنی میں ھلکت کے ہے جو بظاہر بد دعا ہے مگر بد دعا مراد نہیں ہے بلکہ اظہار نا گواری اور تحریص علی الایمان ہے نہ کہ حقیقتاً ہلاکت، جیسے ماں اپنے بیٹے سے کہہ دیتی ہے، تو مرے ایسا مت کر، یا تیرا ستیاناس ہو ویلک کے معنی فارسی میں، وائے برتو، کے ہیں یعنی تیرے اوپر افسوس قولہ : درجات کلام میں تغلیب ہے ورنہ تو جہنم کے درجات کو درکات کہا جاتا ہے۔ قولہ : یوم یعرض، یوم فعل مقدر، یقال لھم سے منصوب ہے۔ قولہ : اذھبتم اکثر کے نزدیک ایک ہمزہ کے ساتھ ہے یعنی ہمزہ استفہام کے بغیر اور دو ہمزوں کے ساتھ کہ دونوں محققہ ہوں اور ایک ہمزہ اور مد کے ساتھ یہ ہشام کے نزدیک ہے، دو ہمزوں کے ساتھ مگر دوسرے میں تسہیل بغیر مد کے یہ ابن کثیر کے نزدیک ہے۔ قولہ : بغیر حق یہ تستکبرون کی صفت کا شفہ ہے اس لئے تکبر ناحق ہی ہوتا ہے۔ تفسری و تشریح شان نزول : وقال الذین کفروا للذین امنوا ابن منذر نے عون بن ابی شداد سے روایت کیا ہے کہ عمر ؓ بن الخطاب کی زنیرہ نام کی ایک باندی تھی، جو حضرت عمر سے پہلے ایمان لائی تھی، حضرت عمر اس کے ایمان لانے پر اس کو زدو کو ب کرتے تھے، اور کفار کہا کرتے تھے کہ اگر محمد ﷺ کی دعوت میں کوئی خیر ہوتی تو زنیرہ اس کو قبول کرنے میں ہم سے سبقت نہ کرتی، اسی واقعہ کے سلسلہ میں مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ (روح المعانی) ابوالمتوکل نے کہا ہے کہ قریش نے یہ بات اس وقت کہی تھی کہ جب ابو ذر اور قبیلہ غفار ایمان لایا تھا اور ثعلبی نے کہا ہے کہ جب عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ایمان لائے تھے تو یہود نے یہ بات کہی تھی، مگر اس صورت میں لازم آتا ہے کہ آیت مدنی ہو حالانکہ پوری سورت مکی ہے اسی وجہ سے، اس آیت کو مستثنیات میں شمار کیا ہے۔ (روح المعانی) قریش کا عوام الناس کو بہکانے کا ہتھکنڈہ : قریشی سردار عوام الناس کو نبی کریم ﷺ کے خلاف بہکانے اور دین حنیف سے برگشتہ کرنے کے لئے جو ہتھکنڈے اور تدابیر استعمال کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اگر یہ قرآن برحق ہوتا اور محمد ﷺ کی دعوت صحیح ہوتی تو قوم کے سردار اور شیوخ اور معززین آگے بڑھ کر اس کو قبول کرتے، آخر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ چند ناتجربہ کار لڑکے اور چند ادنیٰ درجہ کے غلام تو ایک بات کو مان لیں اور قوم کے بڑے بڑے لوگ جو دانا اور جہاندیدہ ہیں اور جن کی عقل و تدبیر پر قوم آج تک اعتماد کرتی رہی ہے اس کو رد کردیں، اس پر فریب استدلال سے وہ عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ اس نئی دعوت میں ضرور کچھ خرابی ہے اسی لئے تو قوم کے اکابر اس کو نہیں مان رہے ہیں لہٰذا تم لوگ بھی اس سے دور رہو۔ تکبر اور غرور، عقل کو بھی مسخ کردیتا ہے : لو کان خیراً ماسبقونا الیہ متکبر آدمی اپنی عقل اور اپنے عمل کو معیار حسن و قبیح و خیر و شر سمجھنے لگتا ہے جو چیز اس کو پسند نہ ہو خواہ دوسرے لوگ اس کو کتنا ہی پسند کرتے ہوں یہ ان کو بیوقوف سمجھتا ہے، حالانکہ خود بیوقوف ہے کفار کے غرور وتکبر کا اس آیت میں بیان ہے کہ اسلام اور ایمان ان کو چونکہ پسند نہیں تھا تو دوسرے لوگ جو ایمان کے دلدادہ اور فریفتہ تھے ان کو یہ کہتے تھے کہ اگر یہ ایمان کوئی اچھی چیز ہوتی تو سب سے پہلے ہمیں پسند آتی ان غریبوں فقیروں مسکینوں اور غلاموں کی پسند کا کیا اعتبار۔ خلاصہ یہ کہ ان لوگوں نے خود کو حق و باطل کا معیار قرار دے رکھا ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس ہدایت کو وہ قبول نہ کریں وہ ضرور ضلالت اور گمراہی ہونی چاہیے لیکن یہ لوگ اس ہدایت کو نیا جھوٹ کہنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے بلکہ قدیم اور پرانا جھوٹ کہتے تھے، کیونکہ اس سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) یہی پیش کرتے رہے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک وہ سب لوگ بھی دانائی سے محروم تھے جو ہزاروں برس سے ان حقائق کو پیش کرتے اور مانتے چلے آرہے ہیں اور تمام دانائی صرف ان کے حصہ میں آگئی ہے۔
Ayah 46:12

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب تھی (لوگوں کے لئے) رہنما اور رحمت اور یہ کتاب عربی زبان میں ہے اسی کی تصدیق کرنے والی تاکہ ظالموں کو ڈرائے اور نیکو کاروں کو خوش خبری سنائے

ومن قبلہ کتاب موسیٰ اماماً و رحمۃ اس جملہ کا مقصد ایک تو ماکنت بدعاً من الرسل کا ثبوت فراہم کرنا ہے کہ آپ کوئی انوکھے اور نرالے رسول نہیں اور قرآن کوئی انوکھی کتاب نہیں کہ ان پر ایمان لانے میں لوگوں کو اشکال ہو بلکہ آپ سے پہلے موسیٰ علیہ الصلوۃ والسالم رسول ہو کر آچکے ہیں اور ان پر تورات نازل ہوچکی ہے جس کو یہ کفار، یہود، نصاریٰ سب تسلیم کرتے ہیں، دوسرے سابق میں جو شھد شاھد آیا ہے اس کی بھی تقویت ہوگئی، کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات خود قرآن اور رسول کریم ﷺ کی حقانیت کے شاہد ہیں۔
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمناک ہونگے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (یہ) اس کا بدلہ (ہے) جو وہ کیا کرتے تھے

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلاخوف علیھم (آلایۃ) الذین قالوا (تا) استقاموا معطوف، معطوف علیہ سے مل کر ان کا اسم ہے اور فلا خوف علیھم الخ ان کی خبر ہے اسم موصول چونکہ متضمن بمعنی شرط ہے اس لئے فلا خوف الخ متمضن بمعنی جزاء ہے جس کی وجہ سے خبر پر فاء زائدہ داخل ہے ثم حرف عطف ترتیب رتبی کو بیان کرنے کے لئے ہے یعنی اول توحید کا اقرار و اعتضاد ضروری ہے اس لئے کہ توحید کے بغیر کوئی عمل معتبر و مقبول نہیں ہوتا قالوا ربنا اللہ کا مطلب ہے توحید کا اقرار کرنا اور ثم استقاموا کا مطلب ہے اس پر تامرگ قائم رہنا اور توحید کے مقتضیات پر مکمل طور پر عمل کرنا۔ استقامت علی التوحید کا مفہوم : حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قد قالھا الناس ثم کفر اکثرھم فمن مات علیھا فھو ممن استقام بہت سے لوگوں نے اللہ کو اپنا رب کہا مگر ان سے اکثر کافر ہوگئے، ثابت قدم وہ شخص ہے جو مرتے دم تک اسی عقیدہ پر جما رہا (ابن جریر، نسائی) حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے استقامت کی تشریح اس طرح فرمائی ہے لم شرکوا باللہ شیئاً لم یلتفتوا الی الہ غنیرہ اللہ کے ساتھ کس کو شریک نہ کیا اس کے سوا کسی دوسرے معبود کی طرف توجہ نہ کی۔ (ابن جریر) حضرت عمر ؓ نے استقامت کی تشریح اس طرح فرمائی، حضرت عمر ؓ نے ایک روز منبر پر یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا خدا کی قسم استقامت اختیار کرنے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے، لومڑی کی طرح ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دوڑتے نہ پھرے) ابن جریر) حضرت عثمان نے فرمایا ثابت قدم وہ شخص ہے جس نے اپنے عمل کو اللہ کے لئے خالص کرلیا۔ (کشاف) حضرت علی نے استقامت کی تشریح یہ فرمائی ہے، فرماتے ہیں، ثابت قدم وہ ہے جو اللہ کے عائد کردہ فرائض فرمانبرداری کے ساتھ ادا کرتا رہا۔ (کشاف) آیت مذکورہ میں ایمان و استقامت پر یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو نہ آئندہ کسی تکلیف کا خوف ہوگا نہ ماضی کی تکلیف پر رنج و افسوس رہے گا، اس کے بعد کی آیت میں اس بےنظیر راحت کے دائمی اور غیر منقطع ہونے کی بشارت دی گئیے، اس کے بعد کی چار آیتوں میں انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکیدی ہدایت دی گئی ہے۔