Ayahs 46:15–20ووصینا الانسان بوالدیہ احساناً لفظ وصیت خاص تاکیدی حکم کے لئے استعمال ہوتا ہے اور احسان و حسن دونوں حسن سلوک کے معنی میں ہیں جس میں خدمت و اطاعت بھی داخ ہے اور تعظیم و تکریم بھی۔
مذکورہ آیت اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگرچہ اولاد کو ماں اور باپ دونوں ہی کی خدمت کرنی چاہیے لیکن ماں کا حق اپنی اہمیت میں اس بناء پر زیادہ ہے کہ وہ اولاد کے لئے بہ نسبت باپ کے زیادہ تکلیف اٹھائی ہے۔ یہی بات اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جو تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ، بخاری، مسلم، ابودائود ترمذی وغیرہ میں وارد ہوئی ہے۔
مذکورہ چار آیتوں میں اصل مضمون انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرنا ہے، ضمناً دوسری تعلیمات بھی زیر بحث آگئی ہیں۔
والدہ کی خدمت کی زیادہ تاکید کیوں ؟
خدمت اگرچہ دونوں ہی کی کرنی چاہیے مگر چونکہ والدہ بچے کے لئے زیادہ تکلیف اٹھاتی ہے اس لئے اس کی خدمت کی اہمیت اور تاکید زیادہ ہے، ایک صحابی نے حضور ﷺ سے پوچھا : کس کا حق خدمت مجھ پر زیادہ ہے ؟ فرمایا صل امک ثم امک ثم امک ثم اباک ثم ادناک فادناک (مظہری) تیری ماں کا پھر پوچھا اس کے بعد کس کا ؟ فرمایا تیری ماں کا، پھر پوچھا پھر کس کا ؟ فرمایا تیری ماں کا، جب چوتھی مرتبہ پوچھا پھر کس کا ؟ آپ نے فرمایا : تیرے باپ کا آپ ﷺ کا فرمان ٹھیک ٹھیک اس آیت کی ترجمانی ہے، کیونکہ آیت میں بھی ماں کے تہرے حق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے : (1) اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر پیٹ میں رکھا (2) مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا (3) اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس ماہ لگے۔
شان نزول :
بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ آیات حضرت ابوبکر ؓ کی شان میں نازل ہوئی ہیں اخرج ابن عساکر من طریق الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس ال نزل (ووصینا الانسان بوالدیہ (الی یوعدون) فی ابی بکر الصدیق اسی بناء پر تفسیر مظہری میں ووصینا الانسان کے الف لام کو عہد کا قرار دے کر اس سے مراد ابوبکر صدیق لئے ہیں لیکن یہ ظاہر ہے کہ اگرچہ کسی آیت کا سبب نزول کوئی خاص فرد یا خاص واقعہ ہو، مگر حکم سب کے لئے عام ہوتاے، اگر آیت کو تعلیم عام کے لئے قرار دیا جائے تو اس صورت میں بھی صدیق اکبر اس تعلم کے پہلے مصداق قرار پائیں گے، جو ان ہونے اور چالیس سال عمر ہونے کے بعد کی تخصیصات جو ان آیات میں مذکور ہیں بطور تمثیل کے ہوں گے۔ (معارف)
حملہ وفصالہ ثلثون شھراً اس جملہ میں بھی ماں کی مشقت کا بیان ہے کہ بچے کے حمل اور وضع حمل کی مشقت کے بعد بھی ماں کو محنت و مشقت سے فراغت نہیں ملتی کیونکہ اس کے بعد بچے کی غذا بھی قدرت نے ماں کی چھاتیوں میں اتاری ہے، آیت میں ارشاد فرمایا کہ بچہ کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں ہے، حضرت علی ؓ نے اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ حمل کی مدت کم سے کم چھ ماہ ہے، اس لئے کہ قرآن کریم نے اکثر مدت رضاعت دو سال کا مل تمعین فرما دیئے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین اور یہاں حمل اور رضاعت دونوں کی مدت تیس ماہ قرار دی گئے ہے تو رضاعت کے دو سال یعنی 24 مہینے نکلنے کے بعد چھ ماہ ہی باقی رہتے ہیں کہ جس کو حمل کی کم از کم مدت قرار دیا گیا ہے۔ (معارف )
اس آیت اور سورة لقمان کی آیت 14 اور سورة بقرہ کی آیت 223 سے ایک قانونی نکتہ بھی نکلتا ہے جس کی نشاندہی ایک مقدمہ میں حضرت علی ؓ اور عباس ابن ؓ نے کی، اور عثمان ؓ نے اس کی بناء پر اپنا فیصلہ بدل دیا۔
فائدہ : اس آیت میں حمل کی اقل مدت کا بیان ہے اور رضاعت کی اکثر مدت کی طرف اشارہ ہے، حمل کی کم از کم چھ ماہ کی مدت متعین ہے، اس سے کم میں صحیح سالم بچہ پیدا نہیں ہوسکتا، مگر زیادہ سے زیادہ کتنی مدت بچہ حمل میں رہ سکتا ہے اس میں عادتیں مختلف ہیں اسی طرح رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت متعین ہے کہ دو سال تک دودھ پلایا جاسکتا ہے کم سے کم مدت کی کوئی تعیین نہیں۔
اکثر مدت حمل اور مدت رضاعت میں فقہاء کا اختلاف :
اکثر مدت حمل امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو سال ہے، امام مالک رحمتہ اللہ تعالیٰ سے مختف روایات منقول ہیں چار سال، پانچ سال، سات سال، امام شافعی رحمتہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک چار سال ہے، امام احمد رحمتہ اللہ تعالیٰ کی مشہور روایت بھی چار ہی سال کی ہے۔ (مظہری) اور اکثر مدت رضاعت جس کے ساتھ احکام رضاعت متعلق ہوتے ہیں جمہور فقراء کے نزدیک دو سال ہے، امام مالک، شافعی، احمد بن حنبل رحمتہ اللہ تعالیٰ اور ائمہ حنفیہ میں سے امام باویوسف اور مام محمد رحمھا اللہ تعالیٰ سب اس پر متفق ہیں اور صحابہ کرام میں سے حضرت عمر ؓ اور ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے (دار قطنی بحوالہ معارف) نیز حضرت علی اور عبداللہ بن مسعود کا بھی یہی قول ہے (ابن ابی شیبہ، معارف) صرف امام ابوحنیفہ سے یہ منقول ہے کہ ڈھائی سال تک بچہ کو دودھ پلایا جاسکتا ہے، جس کا حاصل جمہوریہ حنفیہ کے نزدیک یہ ہے، اگر بچہ کمزور ہو، ماں کے دودھ کے سوا دو سال تک بھی دوسری غذا نہ لے سکتا ہو تو مزید چھ ماہ دودھ پلانے کی اجازت ہے کیونکہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مدت رضاعت پوری ہونے کے بعد ماں کا دودھ بچے کو پلانا حرام ہے، مگر فتویٰ فقہاء حنفیہ کا بھی جمہور ائمہ کے مسلک پر ہے وہ کہ اگر دو سال کی مدت کے بعد دودھ پلایا گیا ہو اس سے حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی۔ (معارف القرآن)
حضرت عثمان غنی ؓ کے عہد خلافت میں ایک شخص نے قبیلہ جہینہ کی ایک عرت سے نکاح کیا اور شادی کے چھ ہی ماہ بعد اس کے یہاں صحیح سالم بچہ پیدا ہوگیا، اس شخص نے حضرت عثمان ؓ تعالیٰ کی خدمت میں یہ معاملہ پیش کیا، آپ نے اس عورت کو زانیہ قرار دیکر رجم کا حکم فرما دیا، جب حضرت علی ؓ نے یہ قصہ تو فوراً حضرت عثمان ؓ کے پاس پہنچے اور فرمایا یہ آپ نے کیا فیصلہ کر یا ؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا نہیں، پھر حضرت علی ؓ نے قرآن مجید کی مذکورہ تینوں آیتیں ترتیب کے ساتھ پڑھیں، سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : مائیں اپنے بچوں کے پودے پور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے اور سورة احقاف میں فرمایا اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ اب اگر تیس مہینوں میں سے رضاعت کے دو سال نکال دیئے جائیں تو حمل کے چھ ماہ رہ جاتے ہیں، اس سے معلم ہوا کہ حمل کی کم از کم مدت جس میں بچہ زندہ سلامت پیدا ہوسکتا ہے، چھ مہینے ہیں، لہٰذا جس عورت نے نکاح کے بعد چھ ماہ میں بچہ جنا ہے اسے زانیہ نہیں کہا جاسکتا۔ حضرت علی ؓ کا یہ استدلال سن کر حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اس کی طرف میرا ذہن نہیں گیا، پھر آپ نے عورت کو واپس بلوایا اور اپنے فیصلے سے رجوع کرلیا ایک روایت میں ہے کہ ہے کہ حضرت علی ؓ کے فیصلے کی تائید حضرت ابن عباس ؓ نے بھی فرمائی۔ (ابن جریر، احکام القرآن للحصاص، ابن کثیر) ۔ فائدہ :۔
اس مقام پر جانا لینا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ جدید ترین طبی تحقیقات کی رو سے ماں کے پیٹ میں ایک بچہ کے لئے کم از کم 28 ہفتے ہفتے درکار ہوتے ہیں جن میں میں وہ نشو نما پاک زندہ، ولادت کے قابل ہوسکتا ہے، یہ مدت چھ مہینے سے کچھ زائد بنتی ہے، اسلامی قانون میں نصف مہینے کے قریب مزید رعایت دی گئی ہے کیونکہ ایک عورت کو زانیہ قرار دینا اور ایک بچے کو نسب سے محروم کرنا بڑا سخت معاملہ ہے اور اس کی نزاکت اس کا تقاضا کرتی ہے کہ ماں اور بچے کو قانونی نتائج سے بچانے کے لئے زیادہ سے زیادہ گنجائش دی جائے۔
والذین قال لوالدیہ ماسبق میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا ذکر فرمایا جس نے اپنے اور اپنے والدین کے اوپر اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا (یعنی ابوبکر صدیق ؓ اس آیت میں اس شخص کا ذکر فرمایا جس نے اپنے والدین سے جبکہ انہوں نے اس کو ایمان کی دعوت دی ایسا کلمہ کہا جو ان کی طرف سے تنگ دلی پر دلالت کرتا تھا، فرمایا : والذین قال لوالدیہ اف لکما اس شخص سے مراد عبدالرحمٰن بن ابوبکر ہے جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے، اخرج ابن جریر عن عباس فی آلایۃ، قال : ھذا ابن لابی بکر ؓ اسی کے مثل ابو حاتم نے سدی سے روایت کیا ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے، جیسا کہ بخاری کی روایت سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ روایتیں جو اس آیت کا مصداق عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو ٹھہراتی ہیں صحیح نہیں ہیں۔
امام بخاری (رح) تعالیٰ نے یوسف بن ماہک سے روایت کیا ہے کہ مروان، معاویہ ؓ بن سفیان کی جانب سے مدینہ کا حاکم تھا ایک روز اس نے خطبہ دیا اور خطبہ میں اس بات کا ذکر کیا کہ امیر معاویہ ؓ اللہ تعالیٰ عنہ کی خواہش ہے کہ ان کے بعد ان کے بیٹے یزید کی بیعت لی جائے، اس پر عبدالرحمٰن بن ابی بکر کچھ بولے، مروان نے کہا اس کو پکڑ لو، حضرت عبدالرحمٰن اپنی بہن حضرت عائشہ کے گھر میں داخل ہوگئے جس کی وجہ سے مروان ان پر قابو نہ پاسکا، تو مروان نے کہا یہی ہے وہ شخص جس کے بارے میں آیت والذین قال لو الدیہ اف لکما نازل ہوئی حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ما انزل اللہ فینا شیئاً من القرآن الا ان اللہ انزل عذری یعنی سورة نور کی ان آیتوں کے علاوہ جن میں میری برأت نازل کی گئی ہے ہمارے بارے میں کچھ نازل نہیں ہوا۔ (فتح القدیر، شوکانی)
ایک دوسری روایت جس کو عبد بن حمید و النسائی وابن لامنذرو الحاکم نے نقل کیا ہے ابن مردویہ نے محدم بن زیادہ سے اس کی تصحیح کی ہے، فرمایا : جب حضرت امیر معاوضہ ؓ نے اپنے بیٹے) یزید) کے لئے بیعت لی تو مروان نے کہا یہ ابوبکر و عمر کی سنت ہے، عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے کہا ہر قتل اور قیصر کی سنت ہے، تو اس وقت مروان نے کہا یہی ہے وہ شخص جس کے بارے میں آیت والذین قال لو الدیہ اف لکما نازل ہوئی یہ بات جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو پہنچی تو فرمایا مروان نے جھوٹ بلا واللہ ایسا نہیں ہے، اگر میں چاہوں تو اس شخص کا نام بتاسکتی ہوں جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، ہاں البتہ رسول اللہ ﷺ نے مروان کے باپ (حکم) پر لعنت فرمائی اور مروان اس وقت حکم کی پشت میں تھے، لہٰذا مروان ان لوگوں میں سے ہے جس پر اللہ نے لعنت فرمائی۔
ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر اس آیت کے مصداق نہیں ہیں اور ہو بھی کیسے سکتے ہیں کہ عبدالرحمٰن جیسے جلیل القدر صحابی جن کی تلوار آبدار نے قیصر و کسریٰ کو پست کردیا اور جن کے خون زخم سے شام و عراق کی زمینیں آج تک گلگوں و گل بو میں ہیں جنہوں نے اپنی جان اللہ کے لئے فدا کی، یہ سمجھ اور عقل سے بالاتر ہے کہ ایسے پاکیزہ و پاک باطن کے بارے میں اولئک الذین حق علیھم القول فی امم قد خلت من قبلھم من قبلھم من الجن والانس انھم کانوا خاسرین جیسی وعید شدید نازل ہو۔ (خلاصۃ التفاسیر للتائب لکھنوی، فتح القدیر شوکانی ملخصاً )
Ayahs 46:21–23ترجمہ :۔ عاد کے بھائی (علیہ السلام) کا ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم کو جب وہ احقاف میں مقیم تھی ڈرایا (خبر دار کیا) (اذ) سے لیکر ٓخر تک (اخا عاد) سے بدل الاشتمال ہے، احقاف یمن میں ایک وادی ہے اسی میں ایک وادی ہے اسی میں ان کے مکانات تھے اور یقینا اس سے پہلے بھی ڈرانے والے یعنی رسول گذر چکے تھے اور اس کے بعد بھی یعنی ہود سے پہلے بھی اور ان کے بعد بھی اپنی قوموں کی طرف یہ کہ انہوں نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور قدخلت جملہ معترضہ ہے، اگر تم غیر اللہ کی بندگ کرتے رہے تو مجھے تمہارے اوپر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، قوم نے جواب دیا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں کی بندگی سے برگشتہ کردو اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ عذاب ہمارے اوپر آئے گا تو وہ عذاب جس کا تم بتوں کی عبادت کرنے پر ہم سے عدہ کرتے ہولے آئو، تو ہود (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے وہی جانتا ہے کہ تمہارے اوپر کب عذاب آئے گا، مجھے تو جو پیغام دے کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ تمہیں پہنچا رہا ہوں، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ عذاب کے بارے میں جلدی کر کے نادانی کر رہے ہو لیکن جب انہوں نے اس کو یعنی عذاب کو جو بادل کی صورت میں افق آسمان پر پھیل گیا تھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگ یہ ایسا بادل ہے کہ ہم کو سیراب کرے گا یعنی ہم پر برسے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (نہیں) بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے (یعنی ہوا کا طوفن ہے) ریح، ما سے بدل ہے، جس میں درد ناک عذاب ہے یہ (عذاب) ہر اس چیز کو اپنے رب کے حکم سے تہس نہس کر دے گا جس پر وہ گذرے گا یعنی ہر اس شئی کو برباد کردے گا جس کو اس عذاب کے ذریعہ اللہ برباد کرنے کا ارادہ کرے گا چناچہ اس (طوفانی عذاب) نے ان کے مردوں کو ان کی عورتوں کو ان کے چھوٹوں کو ان کے بڑوں کو اور ان کے اموال کو ہلاک کردیا، اس طریقہ سے کہ ان چیزوں کو آسمان اور زمین کے درمیان لے کر اڑ گیا، اور ان کو ریزہ ریزہ کردیا اور ہود (علیہ السلام) اور جو ان پر ایمان لائے تھے صحیح سلامت بچ گئے، چناچہ وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا اسی طرح جس طرح ان کو سزا دی ان کے علاوہ ہر مجرم قوم کو سزا دیتے ہیں اور یقینا ہم نے ان کو وہ قوت اور مال دیا تھا اے اہل مکہ ! جو تم کو تو دیا بھی نہی، ان نافیہ ہے یا زائدہ ہے اور ہم نے ان کو ان سمع بمعنی اسماع ہے، آنکھ اور دل سب کچھ دیئے تھے مگر ان کے نہ وہ کان کچھ کام آئے اور نہ آنکھیں اور نہ دل یعنی کچھ کام نہ آئے من زائدہ ہے (اذ) اغنی کا معمول ہے اور تعلیل کے معنی پر مشتمل ہے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں یعنی اس کی واضح حجتوں کا انکار کرنے لگے اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی عذاب ان پر الٹ پڑا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اخاعاد عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں ایک شخص گذرا ہے جس کا سلسلہ نسب تین واسطوں سے حضرت نوح (علیہ السلام) سے جا ملتا ہے، بعد میں اس کی نسل بھ اسی نام سے موسوم ہوئی جو طوفان نوح (علیہ السلام) کے بعد ملک عرب میں سب سے پہلی با اقتدار قوم تھی، عاد اگر شخص کے معنی میں ہو تو منصرف ہوگا اور اگر قبیلہ کے معنی میں ہو تو غیر منصرف ہوگا (لغات القرآن) اور یہاں، اخ سے مراد نسبت اخوت ہے نہ کہ دینی، بالاحقاف یہ حقف کی جمع ہے ریت کے دراز و بنلد و خمدار ٹیلوں کو کہتے ہیں مزید تحقیق ابتداء سورت میں گذر چکی ہے۔
قولہ : بالاحقاف یہ انذر کا صلہ نہیں ہے جیسا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ عاد سے حال ہے ای حال کو نھم مقیمین بالاحقاف اب رہا انذر کا صلہ ت وہ لاتعبدوا الا اللہ ہے کما یاتی (جمل) بان شارح نے اشارہ کردیا کہ ان مصدریہ یا مخففہ ہے اور باء تصویر یہ ہے یعنی گزرنے کی صورت میں حال اور کیفیت کو بیان کرنے کے لئے ہے یعنی وہ انبیاء و رسل اس حال اور صورت میں گزرے کہ اپنی اپنی قوموں کو ڈرانے والے تھے۔
قولہ : تافکنا (ض، س) سے افکا اس کے معنی جھوٹ بولنے کے ہیں مگر جب اس کا صلہ عن آتا ہے تو اس کے معنی برگشتہ کرنے اور پھیرنے کے ہوتے ہیں یہ برگشتگی اور پھیرنا خواہ اعتقاد کے اعتبار سے ہو یا عمل کے اعتبار سے۔
قولہ : ماھو العذاب اس اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ راوہ کی ضمیر اس ما کی طرف لوٹ رہی ہے جو ماتعدنا میں ہے اور زمخشری نے کہا ہے کہ راوہ کی ضمیر مبہم بھی جائز ہے جس کے ابہام کو عارضاً سے رفع کردیا خواہ تمیز ہوکنے کی وجہ سے یا حال ہونے کی وجہ سے اور فرمایا کہ یہ اعربا افصح ہے، اس لئے کہ اس میں بیان بعد الابہام ہے۔
سوال : مستقبل او دیتھم، عارضاً کی صفت ہیغ حالانکہ موصوف عارضاً نکرہ ہے اور مستقبل اودیتھم اضافت کی وجہ سے معرفہ اسی طرح ممطرنا، عارض کی صفت ہے، حالانکہ ممطرنا اضافت کی وجہ سے معرفہ اور عارض نکرہ ہے۔
جواب : دونوں جگہ صفت میں اضافت لفظیہ ہے جو تعریف کا فائدہ نہیں دیتی لہٰذا صفت بننے میں کوئی قباحت نہیں ہے، شارح علیہ الرحمۃ نے ممطر ایانا محذوف مان کر اسی جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قولہ : فاھلکت کے اضافہ کا مقصد فاصبحوا کے عطف کو درست کرنا ہے۔
قولہ : اوزائدۃ (فیہ مافیہ) اس لئے کہ ما کو زائدہ ماننے کی صورت میں عنی ہوں گے کہ ہم نے ان کو ویسی قدرت دی جیسی تم کو قدرت دی ہے اس میں قوم عاد کی قدرت مشبہ اور قریش کی قدرت مشبہ بہ ہے اور مشبہ بہ مشبہ سے اوقیٰ ہوتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ قریش کو قدرت اور تمکین قوم عاد سے زیادہ دی تھی اس سے قریش کی عظمت سمجھ میں آتی ہے جو کہ خلاف مقصود ہے، لہٰذا شارح علیہ الرحمتہ کا او زائدۃ کہنا زائد معلم ہوتا ہے (جمل) واشربت معنی التعلیل زمخشری نے کہا ہے، اذ ظریفہ ہے جاری مجریٰ تعلیل کے ہے اور اشربت بمعنی غلبت ہے یقال اشرب الابیض حمرۃ، واشرب فی قلبھم ای غلب علی قلوبھم
تفسیر و تشریح
اذکر اخاعاد (آلایۃ) احقاف، حقف کی جمع ہے ریت کے مستطیل، بلند اور خمدار ٹیلوں کو کہتے ہیں، حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد اولیٰ اسی علاقہ میں رہتی تھی، یہ حضرموت (یمن) کے قریب کا علاقہ ہے، آج کل یہاں کوئی آبادی نہیں، اغلب یہ ہے کہ ہزاروں سال پہلے یہ ایک شاداب اور کشت زار علاقہ ہوگا بعد میں آب و ہوا کی تبدیلی نے اسے ریگزار بنادیا ہوگا، آنحضرت ﷺ کی کفار مکہ کی تکذیب کے پیش نظر آپ ﷺ کی تسلی کے لئے گزشتہ انبیاء اور سابقہ قوموں کے واقعات سنائے جا رہے ہیں، اس کے علاہ چونکہ سردار قریش اپنی بڑائی کا زعم رکھتے تھے اور اپنی ثروت و مشیخت پر پھولے نہ سماتے تھے، نیز انہیں اپنی طاقت و قوت پر بڑا گھمنڈ اور غرور تھا وہ اپنے آگے کسی کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتے تھے اس لئے یہاں ان کو قوم عاد اور ان کی طاقت و زور آوری کا قصہ سنایا جا رہا ہے، قوم عاد قدیم زمانہ میں سب سے زیادہ طاقتور اور سرمایہ دار نیز مہذب قوم تھی قوم عاد کا قصہ سنا کر اہل مکہ کو خود فریبی سے نکالنا اور ان کی خوش فہمی کو دور کرنا ہے، اس لئے کہ اونٹ جب تک پہاڑ کے نیچے سے نہیں نکلتا اس وقت تک اس پر اپنی حقیقت آشکار انہیں ہوتی کنوئیں کا مینڈک کنوئیں ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے۔
حضرت ہود علیہ الصلاوۃ والسلام کی قوم جو بت پرستی اور مظاہر پرستی کی خوگر و دل دادہ تھی توحید اور خدا پرستی کے آثار و نشانات تک ان سے معدوم ہوچکے تھے انبیاء سابقین کی تعلیمات کو یکسر بھلا دیا تھا، حضرت ہود (علیہ السلام) کو انبیاء سابقین کی تعلیمات اور توحید کی تبلیغ کے لئے قوم عاد کی طرف مبعوث کیا گیا تھا، حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو مجھے تمہارے حق میں یوم عظیم (روز قیامت) کے عذاب کا اندیشہ ہے، قوم بجائے اس کے کہ اس معقول بات کو سنجیدگی سے لیتی الٹا اس کا مذاق اڑانا شروع کردیا اور کہنے لگے وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو جلدی لے آئو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو، ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم ہم کو بہا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کرنا چاہتے ہو، حضرت ہود (علیہ السلام) نے جواب دیا یہ بات تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ تم پر عذاب کب آئے گا، اس کا فیصلہ کرنا میرا کام نہیں ہے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ تم میرے انذار و تنبیہ کو مذاق سمجھ کر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو، تمہیں اندازہ نہیں کہ خدا کا عذاب کیا ہوتا ہے اور تمہاری نازیبا حرکتوں کی وجہ سے وہ کس قدر قریب آچکا ہے۔
Ayah 46:24فلما راوہ عارضاً جب قوم عاد نے ایک گہرا اور سیاہ بادل اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے یہ برسائو بادل ہے ہم کو سیراب کرے گا، ارشاد ہوا نہیں، بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے، یہ جواب دیا تو حضرت ہود (علیہ السلام) کی طرف سے تھا یا پھر زبان حال کا، بخاری و مسلم وغیرہما نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی کھلکھلاتے ہوئے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، ہاں البتہ آپ مسکرایا کرتے تھے اور آپ بادل یا ریح شدید (آندھی) دیکھتے تو آپ کے چہرہ انور پر اضطراب کے آثار نمودار ہوجاتے (ایک روز) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش ہوگی اور میں دیکھتی ہوں کہ جب آپ بادل دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرہ انور پر ناگواری ظاہر ہوتی ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں کس طرح مامون ہوجائوں کہ اس میں عذاب نہیں ہے، حالانکہ ایک قوم آندھی کی وجہ سے ہلاک ہوچکی ہے، اور ایک قوم نے جب عذاب کو دیکھا تھا تو کہا تھا یہ بادل ہم کو ضرور سیراب کرے گا۔
Ayah 46:25تدمر کل شیء بامرربھا (الآیۃ) یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں درد ناک عذاب ہے اپنے رب کے حکم سے ہر اس شئی کو تبادہ کر دے گا جس پر اس کا گذر ہوگا، آخر کار ان کا یہ حشر ہوا کہ ان کے مکانوں کے خرابات کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا، ہوا کا ایسا طوفان آیا کہ ریت کے تودوں کو ان پر پلٹ دیا چناچہ سات راتوں اور آٹھ دنوں تک وہ لوگ ریت میں دبے رہے، پھر اللہ نے ہوا کو حکم دیا، ہوا نے ان کے اوپر سے ریت کو ہٹایا اور ان کو دریا میں پھینک دیا، اب ان کا یہ حال ہے کہ وہاں ان کے مکانوں کے نشانوں کے علاوہ کوئی چیز نہیں آتی۔ (فتح القدیر ملخصاً )
Ayah 46:26ولقد مکنا ھم فیما (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ اے اہل مکہ تم کو اپنی قوت، قدرت اور ثروت، پر فخر و ناز نہیں ہونا چاہیے، سابق زمانہ میں جو قومیں تم سے کہیں زیادہ زور آور، سرمایہ دار تھیں ہم ان کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں تمہاری ان کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں ہے یعنی مال، دولت، طاقت، اقتدار، غرضیکہ کسی چیز میں بھی تمہارا اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں ہے تمہارا دائرہ اقتدار تو شہر مکہ کے حدود سے باہر کہیں بھی نہیں اور وہ زمین کے ایک بڑے حصے پر چھائے ہوئے تھے۔ وجعلنا لھم سمعاً و ابصاراً وافئدۃ (الآیۃ) اس کے مخاطب بھی اہل مکہ ہی ہیں ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم کیا چیز ہو ؟ تم سے پہلی قومیں جنہیں ہم نے ہلاک و برباد کردیا قوت و شوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں، لیکن جب انہوں نے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں (آنکھ، کان، دل) کو حق کو سننے، دیکھنے اور اسے سمجھنے کے لئے استعمال نہیں کیا تو بالآخر ہم نے انہیں تباہ کردیا اور یہ چیزیں ان کے کچھ کام نہ آسکیں، حقیقت بھی یہی ہے کہ جب انسان آیات الٰہیہ ماننے سے انکار کردیتا ہے تو آنکھیں رکھتے ہوئے بھی نگاہ حق شناس نصیب نہیں ہوتی، کان رکھتے ہوئے بھی وہ ہر کلمہ نصیحت کے لئے بہرا ہوجاتا ہے اور دل و دماغ کی جو نعمتیں خدا نے اسے دی ہیں، ان سے الٹا سوچتا اور ایک سے ایک بڑھ کر غلط نتیجہ اخذ کرتا ہے، یہاں تک کہ خود اس کی ساری قوتیں اپنی ہی تباہی میں صرف ہونے لگتی ہیں۔
Ayahs 46:27–28ترجمہ : اور یقیناً ہم نے تمہارے آس پاس کی (بہت سی) بستیوں کو یعنی بستی والوں کو مثلاً ثمود اور عاد اور قوم لوط کو ہلاک کردیا اور ہم نے آیتوں کو یعنی واضح حجتوں کو طرح طرح سے بیان کردیا تاکہ وہ (کفر و شرک سے) باز آجائیں، تو انہوں نے ان سے عذاب کو دفع کر کے ان کی مدد کیوں نہ کی ؟ جن کو اللہ کے علاوہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اپنا معبود بنا رکھا تھا، اور وہ بت ہیں اتخذوا کا مفعول، ضمیر محذوف ہے جو موصول کی طرف لوٹ رہی ہے اور وہ ھم ہے اقرباناً مفعول ثانی ہے اور الھۃ اس سے بدل ہے بلکہ وہ نزول عذاب کے وقت ان سے غائب ہوگئے اور یہ یعنی بتوں کو تقرب کے لئے معبود بنا لینا ان کا جھوٹ اور افتراء محض ہے اور مامصدر یہ ہے یا موصولہ اور عائد محذوف ہے اور وہ فیہ کی ضمیر ہے اور یاد کرو جب ہم نے جنوں کی جماتع کو آپ کی طرف متوجہ کیا وہ جن نصیبین یمن کے یا نینوا کے رہنے وایل تھے اور ان کی تعداد سات یا نو تھی اور آپ ﷺ بطن نخلہ میں اپنے اصحاب کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے (رواہ الشیخان) تاکہ وہ قرآن سنیں جب وہ نبی کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجائو اور کان لگا کر سنو چناچہ جب آپ ﷺ قرأت سے فارغ ہوگئے تو وہ اپن قوم کے پاس عذاب سے ڈرانے والے بن کر اگر وہ ایمان نہ لائے واپس چلے گئے اور وہ یہود تھے اور انہوں نے کہا اے ہماری وقم ہم نے ایسی کتاب قرآن سنی ہے جو موسیٰ علیہ الصلاۃ السلام کے بعد نازل کی گئی ہے اور اپنے سے پہلی کتابوں کی مثلاً تورات کی تصدیق کرتی ہے حق یعنی اسلام کا کہا مانو اس پر ایمان لائو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا، یعن بعض گناہوں کو اس لئے کہ گناہوں میں حقوق العباد بھی ہیں وہ صاحب حق کی رضا مندی کے بغیر معاف نہیں کئے جاسکتے، اور تمہیں درد ناک عذاب سے پناہ دے گا، اور جو شخص اللہ کے داعی کی بات نہ مانے گا تو وہ اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتا، یعنی اس سے بھاگ کر اللہ کو عاجز نہیں کرسکتا نہ اس کی پکڑ سے بچ کر نکل سکتا اور اس بات کو نہ ماننے والے کے لئے اللہ کے سوا نہ مددگار ہوں گے کہ اس سے اس عذاب کو دفع کرسکیں، یہ لوگ یعنی بات نہ ماننے والے کے لئے اللہ کے سوا نہ مددگار ہوں گے کہ اس سے اس عذاب کو دفع کرسکیں، یہ لوگ یعنی بات نہ ماننے والے کھلی گمراہی میں ہیں کیا یہ منکرین بعث اس بات کو نہیں جانتے ؟ کہ جس اللہ نے آسمان اور زمین پیدا کئے اور ان کے پیدا کرنے میں تھکا نہیں یعنی اس سے عاجز نہیں ہوا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرسکے، کیوں نہیں ؟ بیشک وہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہے، بقدر ان کی خبر ہے اور کلام الیس اللہ بقادر کی قوت میں ہے، بلاشبہ وہ ہر شئی پر قادر ہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا جس دن آگ کے سامنے لائے جائیں گے بائیں طور کہ ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا، تو ان سے کہا جائے گا کیا یہ عذاب حق نہیں ہے ؟ جواب دیں گے ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (حق ہے) (اللہ) فرمائے گا اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزا چکھو، پس (اے پیغمبر ! ) اپنی قوم کی اذیت پر ایسا ہی صبر کرو جیسا کہ آپ سے پہلے اولوا العزم پیغمبروں نے صبر کیا (یعنی) ثابت قدم رہنے والوں اور تکالیف پر صبر کرنے والوں جیسا (صبر کرو) تو آپ بھی اولوالعزم ہوں گے، اور من بیانیہ ہے اس صرت میں کل کے کل اولوا الزم ہوں گے اور کہا گیا ہے کہ من تبعیضیہ ہے تو آدم (علیہ السلام) ان میں شمار نہ ہوں گے، اللہ تعالیٰ کے قول ولم نجدلہ عزماً کی وجہ سے نہ یونس (علیہ السلام) اولا العزم پیغمبروں میں شمار ہوں گے اللہ تعالیٰ کے قول ولاتکن کصاحب الحوت کی وجہ سے اور آپ ان کے لئے (عذاب طلب کرنے میں) جلدی نہ کریں، یعنی اپنی قوم پر نزول عذاب کے بارے میں جلدینہ کریں، کہا گیا ہے کہ گویا آپ ﷺ ان سے تنگ آگئے تھے جس کی وجہ سے آپ نے ان پر نزول عذاب کو پسند فرمایا، لہٰذا آپ کو صبر کا اور عذاب طلب کرنے میں عجلت کو ترک کرنے کا حکم دیا گیا، اس لئے کہ وہ تو ان پر لامحالہ نازل ہونے ہی والا ہے، جس روز یہ لوگ آخرت کے اس عذاب ک دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے تو انہیں یوں معلوم ہوگا وہ دنیا میں ان کے خیال میں دن کی ایک گھڑی ہی رہے تھے، یہ قرآن تمہاری طرف اللہ کی طرف سے تبلیغ ہے، پس عذاب دیکھنے کے وقت فاسق کافر کے علاوہ کوئی ہلاک نہ کیا جائے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ :۔ ولقد اھلکنا ماحولکم من القریٰ یہ کلام مستانف ہے، مشرکین مکہ سے خطاب ہے لام، قسم محذوف کے جواب پر ہے من القریٰ ، ماکا بیان ہے اھلھا کے اضافہ کا مقصد حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے۔
قولہ :۔ الذین اتخذا، الذین اسم موصول اتخذوا جملہ ہو کر اس کا صلہ موصول صلہ سے مل کر، نصر کا فاعل، اتخذوا کا مفعول اول ھم محذوف ہے اور ثانی قرباناً ہے اور الھۃ، قرباناً سے بدل ہے کما صرح بہ المفسر، قرباناً باب تفعیل کا مصدر ہے اور یہ صحیح ہے کہ الھۃ اتخذوا کا مفعول ثانی ہو اور قرباناً حال یا مفعول لہ ہو۔
قولہ :۔ صلوا ای الاصنام اور بعض حضرات نے ضلوا کا فاعل کفار کو قرار دیا ہے یعنی عابدین، معبودین کو ترک کردیں گے اور ان سے اظہار بیزاری کریں گے (اول اولیٰ ہے) ۔ (فتح القدیر)
قولہ :۔ نفراً بمعنی جماعت جو تین سے زیادہ اور دس سے کم ہوں، جمع انفار
قولہ :۔ من الجن یہ نفراً کی صفت اول ہے اور یستمعون القرآن صفت ثانی ہے۔
قولہ :۔ حضروہ ضمیر کا مرجع قرآن اور نبی دونوں ہوسکتے ہیں۔
قولہ :۔ فلما قضی جمہور نے مجہول پڑھا ہے اور حبیب بن عبید نے معروف پڑھا ہے مجہول کی صورت میں حضروہ کی ضمیر قرآن کی طرف اور معروف کی صورت میں آپ ﷺ کی طرف راجع ہوگی۔ (فتح القدیر شو کانی)
قولہ :۔ منذرین حال مقدرہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، ای مقدرین الانذار، نصیبین یمن کا ایک قریہ ہے، نینویٰ نون مک سورة اور یاء ساکنہ کے ساتھ اور نون ثانی میں فتحہ اور ضمیہ دونوں جائز ہیں، آخر میں الف مقصورہ ہے۔
قولہ :۔ ببطن نخل مفسر علام نے اس واقعہ کی نسبت بطن نخل کی جانب کی ہے، اس میں تسامح ہے اس لئے کہ وہ مقام جہاں جنات کے قرآن سننے کا مذکورہ واقعہ پیش آیا تھا وہ بطن نخلہ تھا اسی کو نحلہ بھی کہا جاتا تھا اور یہ مقام مکہ سے طائف کے راستہ میں ایک رات کی مسافت پر واقع ہے اور بطن نخل وہ مقام ہے جہاں آپ ﷺ نے صلوۃ خوف پڑھی تھی اور یہ مقام مدینہ سے دو منزل کی دوری پر واقع ہے۔ (حمل)
قولہ :۔ فی ضلال مبین یہاں جنات کا کلام پورا ہوگیا اولم یروا سے اللہ کا کلام شروع ہوتا ہے۔
قولہ :۔ وزیدت الباء فیہ لان الکلام فی قوۃ الیس اللہ بقادر علامہ محلی کا مقصد اس عبارت کے اضافہ سے ایک اعتراض کا دفع ہے، اعتراض یہ ہے کہ باء کلام نفی کے بعد زائد ہوتی ہے اور جو ان کے تحت ہے وہ مثبت ہے، لہٰذا بقادر میں باء لانا درست نہیں ہے۔
جواب : جواب کا ماحصل یہ ہے کہ نفی آیت کے شروع اولم یروا میں واقع ہے اور جو کچھ اس کے بعد وہ بھی نفی کے تحت ہے گویا کہ کلام الیس اللہ بقادر کی قوت میں ہے لہٰذا باء کا داخل کرنا جائز ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کا جواب اللہ تعالیٰ کے قول بلی انہ علی کل شیء قدیر میں بلی سے دیا گیا ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ کلام قوت میں نفی کے ہے اس لئے کہ بلی کے ذریعہ کلام منفی کا ہی جواب آتا ہے۔
قولہ : یقال لھم علامہ محلی نے یقال لھم محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ یوم کا ناصب یقال فعل محذوف ہے اور یوم یعرض سے الیس ھذا بالحق تک یقال کا مقولہ ہے۔
قولہ : وربنا میں وائو قسمیہ برائے تاکید ہے۔
قولہ : ذو والثبات یہ اولوا العزم کی تفسیر ہے اس کے معنی ہیں عالی ہمت، ثابت قدم، اگر من کو بیانیہ مانا جائے تو تمام انبیاء (علیہ السلام) اولوا العزم میں شامل ہوں گے اور بعض حضرات نے من کو تبعیضیہ لیا ہے، اس صورت میں بعض انبیاء اولوا العزم سے مستثنیٰ ہوں گے، کما اشار الیہ المفسر رحمتہ اللہ تعالیٰ
قولہ : فاصبر جواب شرط ہے، فاء جزائیہ ہے، شرط محذوف ہے ای اذا کان عاقبۃ امر الکفار ما ذکر، فاصبر علی اذاھم قیل کانہ ضجر مناسب ہوتا کہ مفسر علام کانہ کو حذف کردیتے۔ (صاوی)
قولہ : یوم یرون یہ لم یلبثوا کا ظرف ہے لطولہ، لم یلبثوا کی تعلیل مقدم ہے۔
قولہ : ھذا القرآن بلاغ، ھذا القران محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ بلاغ مبتداء محذوف کی خبر اور وبلاغ اسم للتبلیغ (ترویح الارواح)
تفسیر و تشریح
ربط آیات :
ولقد اھلکنا ماحولکم من القری اس کے مخاطب اہل مکہ میں اور حولھا سے مکہ کے آس پاس عاد وثمود و قوم لوط کی وہ بستیاں مراد ہیں جو حجاز کے قریب ہی تھیں اور یمن و شام و فلسطین کی طرف آتے جاتے مکہ والوں کا ان سے گذر ہوتا تھا، اس سے پہلی آیات میں قوم عاد کی ہلاکت و بربادی کا قصہ بڑی تفصیل کے ساتھ مذکور تھا، آئندہ آیات میں دوسری ایسی قوموں کا ذکر ہے جن کے کفر و مخالفت انبیاء کی وجہ سے عذاب آئے اور ہلاک ہوئے ان کی اجڑی بستیوں کے نشانات و خرابات بھی اہل مکہ کے سفر کے دوران راستے میں پڑتے تھے ان سے عبرت حاصل کرنے کے لئے ان اکا اجمالی حال ان آیات میں مذکو رہے۔
Ayahs 46:29–35واذاصرفنا الیک نفراً من الجن (الایۃ) ان آیات میں اہل مکہ کو عار دلانے کے لئے جنات کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جناب جو تکبر و غرور میں تم سے بڑھے ہوئے ہیں مگر قرآن سن کر ان کے دل میں موم ہوگئے اور وہ ایمان لے آئے، تمہیں اللہ تعالیٰ نے جنات سے زیادہ عقل و شعور دیا ہے مگر اس کے باوجود تم ایمان نہیں لاتے۔
جنات کے قرآن سننے کا واقعہ :
صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں پیش آیا جہاں آپ ﷺ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، ادھر ایک نیا واقعہ یہ رونما ہوا کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد جنات کو آسمانی خبریں سننے سے روک دیا گیا اس کے بعد اگر کوئی جن آسمانی خبریں سننے کے لئے آسمانوں کا رخ کرتا تو اس پر شہاب الثاقب پھینک کر روک دیا جاتا، جنات میں اس کا تذکرہ ہا کہ اس کا سبب معلوم کرنا چاہیے کہ کونسا نیا واقعہ دنیا میں رونما ہوا ہے جس کی وجہ سے جنوں کے آسمانوں پر جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جنات کے مختلف گروہ خطوں میں اس کی تحقیقات کے لئے پھیل گئے، ان میں کا ایک گروہ حجاز کی طرف بھی پہنچا اس روز آنحضرت ﷺ اپنے چند صحابہ کے ساتھ مقام بطن نخلہ میں تشریف فرما تھے اور سوق عکاظ کی طرف جانے کا قصدت تھا (عرب کے لوگ تجارتی اور معاشرتی امور کے لئے مختلف مقامات پر مختف ایام میں بازار لگاتے تھے جن میں ہر خطے کے لوگ جمع ہوتے تھے، دانیں لگتی تھیں، اجتماعات اور جلسے ہوتے تھے۔ شعر و سخن کے لئے مشاعرے ہوتے تھے، جس طرح موجودہ زمانہ میں نمائشیں ہوتی ہیں ان ہی میں سے ایک بازار عکاط میں لگتا تھا) رسول اللہ ﷺ غالباً دعوت و تبلیغ کے لئے تشریف لے جا رہے تھے، جب آپ بطن نخلہ پہنچے تو آپ اپنے صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے جنات کی ایک جماعت یہاں پہنچی قرآن سن کر کہنے لگے بس وہ نیا واقعہ یہی ہے جس کی وجہ سے آسمانوں پر جانے پر پابندی لگی ہے۔ (رواہ احمد، ولبخاری و مسلم، بحوالہ معارف) ایک روایت میں ہے کہ جنات کی یہ جماعت نصیبین کی تھی اور اس کی تعداد سات یا نو تھی واپس جا کر جب اپنی قوم کو یہ خبر سنائی اور ایمان کی ترغیب دی تو ان میں سے تین سو جنات ایمان لانے کے لئے حاضر خدمت ہوئے۔ (رواہ ابو نعیم والواقدی عن کعب الاحبار، روحانی المعانی)
جنوں کی پہلی حاضری کا واقعہ جس کا اس آیت میں ذکر ہے بطن نخلہ میں پیش آیا تھا اور واقدی کا بیان ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ طائف سے مایوس ہو کر مکہ معظمہ کی طرف واپس ہوئے تھے راستہ میں آپ نے بطن نخلہ کے مقام پر قیام فرمایا، آپ نماز میں قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کا ایک گروہ ادھر سے گذرا اور آپ کی قرأت سننے کے لئے ٹھہر گیا۔
بظن نخلہ کے جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا یا تو الزیمہ تھا، یا السیل الکبیر کیونکہ یہ دونوں مقام بطن نخلہ میں واقع ہیں۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جنات جب یہاں آئے تو باہم کہنے لگے خاموش ہو کر قرآن سنو جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو یہ جنات اسلام کی حقانیت پر ایمان لا کر اپنی قوم کے پاس واپس گئے ان کو پورے واقعہ کی تفصیلی خبر سنائی کہ ہم تو مسلمان ہوگئے ہیں، تم کو بھی چاہیے کہ مسلمان ہوجائو، مگر رسول اللہ ﷺ کو ان جنات کے آنے جانے اور قرآن سن کر ایمان لانے کی خبر نہیں ہوئی، یہاں تک کہ سورة جن کا نزول ہوا جس میں آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی۔ (رواہ ابن المنذر عن عبدالملک، معارف)
دیگر احادیث میں بھی جنات کے آنے کی روایت دوسری طرح آئی ہیں مگر چونکہ یہ متعدد واقعات مختف اوقات میں پیش آئے ہیں اس لئے ان میں کوئی تعارض نہیں، خفا جی نے کہا ہے کہ جنات کی آدم کی روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے ہے کہ جنات کے وفود آپ کی خدمت میں چھ مرتبہ آئے ہیں۔
جنات میں سے کوئی رسول نہیں :
اس امر میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات میں سے کوئی رسول بھیجا نہیں ؟ ظاہر آیات قرآنیہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جنات میں سے کوئی جن رسول نہیں ہوا، آپ ﷺ کی بعثت جن اور انس دونوں کے لئے ہے۔