Ayahs 45:1–11آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان وغیرہ، بعث کا یقین رکھنے والی قوم کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں اور رات دن کے بدلنے میں (یعنی) ان کے جانے اور آنے میں اور اس رزق (بارش) میں جسے وہ آسمان سے نازل کرتا ہے، اس لئے کہ (بارش) سبب رزق ہے اس بارش کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو زندہ کردیا اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اور ہواؤں کے بدلنے میں بھی کبھی جنوباً ، تو کبھی شمالاً کبھی ٹھنڈی، تو کبھی گرم، ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو دلیل کو سمجھتے ہیں کہ ایمان لے آئیں، یہ جو نشانیاں مذکورہ ہوئیں اللہ کی نشانیاں ہیں یعنی اس کی وہ حجتیں ہیں جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں جنہیں ہم آپ کو راستی کے ساتھ سنا رہے ہیں (بالحق) نَتْلُوْا سے متعلق ہے پس اللہ کی بات اور قرآن ہے اور اس کی حجتوں کے بعد کس کی بات پر یہ کفار مکہ ایمان لائیں گے اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ (تؤمنون) ہے اور ہر جھوٹے، گنہگار بکثرت گناہ کرنے والے پر افسوس ہے، جو اپنے سامنے پڑھی جانے والی اللہ کی آیتوں قرآن کو سنتا ہے پھر بھی ایمان سے تکبر کرتا ہوا اپنے کفر پر مصر رہے، گویا کہ ان (آیات) کو سنا ہی نہیں ہے تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے اور وہ جب ہماری آیتوں قرآن میں سے کسی آیت کی خبر پالیتا ہے تو اس کا مذاق بنالیتا ہے یہی ہیں وہ دروغ گو جب کے لئے اہانت آمیز عذاب ہے ان کے آگے جہنم ہے اس لئے کہ وہ دنیا میں ہیں، مال و اعمال میں سے انہوں نے جو کچھ بھی کمایا ان کو کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ وہ (کچھ کام آئیں گے) جن بتوں کو اللہ کے سوا کار ساز بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے یہ یعنی قرآن سرتاپا گمراہی سے ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لئے دردناک عذاب کا حصہ ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : تَنْزِیْلُ الکِتاب مبتداء ہے اور من اللہ کائن کے متعلق ہو کر اس کی خبر ہے العزیز الحکیم یہ دونوں اللہ کی صفات ہیں جیسا کہ مفسر علام نے اشارہ کیا ہے، اور یہ بھی درست ہے کہ تنزیل الکتاب، ھٰذا مبتداء محذوف کی خبر ہو اور من اللہ تنزیل کے متعلق ہو
قولہ : لاٰیاتٍ ، آیات اِنّ کا اسم ہونے کی وجہ سے منصوب کی وجہ سے منصوب ہے کسرہ کے ساتھ یہ باتفاق قراء ہے، لیکن آئندہ آنے والی آیاتٌ لقومٍ یوقنوں اور آیاتٌ لقوم یَعْقِلونَ ان میں رفع اور نصب دونوں قراءتیں ہیں، رفع تو اس لئے کہ آیات مبتداء مؤخر ہے اور فِی خلقکم خبر مقدم ہے اور نصب اس لئے کہ آیات معطوف ہے آیات اول پر جو کہ وہ اِنَّ کا اسم ہے اور فی خلقکم معطوف ہے فی السمٰوٰت والارض پر جو کہ اِنّ کی خبر واقع ہے، اس میں عامل واحد کے دو معمولوں پر عطف ہے جو بالاتفاق جائز ہے۔ (صاوی)
قولہ : وَخَلْقِ مَا یَبُتُّ شارح علام نے خَلْق مضاف مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ اس کا عطف خَلْقِکُمْ پر ہے یہ بھی درست ہے کہ مایَبُتُّ خلقکُم کی کم ضمیر مجرور پر ہو مگر یہ ان لوگوں کے نزدیک جائز ہوگا جو ضمیر مجرور پر بغیر اعادۂ جار کے عطف جائز کہتے ہیں۔
قولہ : وفی اختلاف اللیل والنھار، فی کو ظاہر کرکے اشارہ کردیا کہ یہاں فِی مقدر ہے جیسا کہ قراءت شاذہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ (صاوی) قولہ : تلک آیاتٌ مبتداء خبر ہیں اور نَتْلُوھا حال۔
قولہ : لاَیُؤمنون سے اشارہ کردیا کہ فَباَیِّ حدِیْثٍ میں ہمزہ استفہام انکاری ہے۔
قولہ : وَیْلٌ عذاب اور جہنم کی وادی دونوں معنی میں مستعمل ہے۔
قولہ : کَاَنْ لم یَسْمَعْھا کأنْ اصل میں کَأنَّ تھا یہ مخففہ عن المثقلہ ہے، ضمیر شان محذوف ہے، ای کَأنَّہٗ اور جملہ یا تو مستانفہ ہے یا حال ہے۔ (صاوی) قولہ : اِتّخذھا ھُزُوًا۔
سوال : اِتَّخَذَھا کی ضمیر شیئًا کی طرف راجع ہے جو کہ مذکر ہے لہٰذا اس کی طرف ضمیر مؤنث لوٹانا صحیح نہیں ہے۔
جواب : معنی کے اعتبار سے مؤنث کی ضمیر لوٹانا درست ہے اس لئے کہ شیئًا سے مراد آیت ہے۔
دوسرا جواب : آیاتنا کی طرف لوٹانا بھی درست ہے۔
قولہ : ای امامھم اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وراء امام اور خلف دونوں معنی میں مستعمل ہے۔
تفسیر وتشریح
بالاتفاق یہ سورت مکی ہے، صرف ایک قول یہ ہے کہ آیت قل للذین آمنوا یَغْفِرُوا للذین لَا یَرجُوْنَ مدنی ہے، اس سورت کے تین نام ہیں، (1) جاثیۃ (2) شریعۃ (3) الدھر (اتقان) یہ تینوں اشیاء اس سورت میں مذکور ہیں، یہ اسماء اسم الکل باسم الجزء کے قبیل سے ہیں۔
شان نزول : قل للذین اٰمنوا لخ حضرت عمر بن الخطاب کے بارے میں نازل ہوئی ایک مشرک نے ان کو مکہ میں گالی دی، حضرت عمر نے چاہا کہ اس سے انتقام لیں، تو مذکورہ آیت نازل ہوئی پھر اس آیت کا حکم اقتلوا المشرکین سے منسوخ کردیا گیا۔ اس سورت کا مضمون بھی دیگر مکی سورتوں کی طرح عقائد کی اصلاح ہے چناچہ اس سورت میں توحید، رسالت اور آخرت کے عقائد ہی کو مختلف طریقوں سے مدلل کیا گیا ہے۔
ویل۔۔ اثیم بڑی خرابی ہوگی اس شخص کے لئے جو جھوٹا اور نافرمان ہو۔
شان نزول : اس آیت کے شان بزول میں متعدد وایات ہیں بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی اور بعض میں ہے کہ حارث بن کلدہ کے بارے میں نازل ہوئی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، مفہوم قرآن کو سمجھنے کیلئے کسی ایک شخص کی تعیین کی ضرورت نہیں کُلْ کا لفط بتارہا ہے کہ آیت کے پس منظر میں خواہ یہ تینوں اشخاص ہوں، لیکن مراد وہ شخص ہے جو ان جیسی صفات کا حامل ہو۔
Ayahs 45:12–21آیت نمبر 12 تا 21
ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو تابع کردیا کہ اس میں اس کے حکم اجازت سے کشتیاں چلیں اور تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر بجالاؤ شمس و قمر ستارے اور پانی وغیرہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جانور اور درخت اور گھاس اور نہریں وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے اس نے اپنی طرف سے سب کو تمہارے تابع کردیا یعنی مذکورہ چیزوں کو اس نے انسانوں کے نفع کے لئے پیدا فرمایا جمیعًا تاکید ہے، اور مِنْہُ حال ہے یعنی ان چیزوں کو تابع کردیا حال یہ ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے، بلاشبہ اس تابع کرنے میں ان لوگوں کے لئے جو ان میں غور (وفکر) کریں بہت سی نشانیاں ہیں کہ ایمان لے آئیں، آپ ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ ان لوگوں سے درگذر کریں جو اللہ کے دنوں واقعات سے خوف نہیں رکھتے یعنی کفار کی جانب سے تم کو تکلیف پہنچی اس کو معاف کردیں اور یہ ان کو جہاد کا حکم دینے سے قبل کا حکم ہے تاکہ اللہ (مومن) قوم کو ان کے عمل کا اچھا بدلہ دے یعنی کافروں کی ایذارسانی کو معاف کرنے کا بدلہ، جو نیکی کرے گا وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرے گا، اور جو برے عمل کرے گا اس کا وبال اسی پر ہے پھر تم کو تمہارے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تاکہ وہ نیکو کار وبد کار کو بدلہ دے اور یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب تورات، اور حکمت کہ جب کے ذریعہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں اور انہیں میں سے موسیٰ و ہارون کو نبوت دی تھی اور ہم نے ان کو پاکیزہ حلال روزی دی تھی جیسا کہ من وسلویٰ اور ہم نے ان کو ان کے زمانہ کے اہل جہان عقلاء پر فضیلت دی تھی اور ہم نے ان کو دین کے معاملہ میں یعنی حلال اور حرام اور بعثت محمد ﷺ کے بارے میں واضح اور صاف دلیلیں دیں تھیں، پھر انہوں نے علم آنے کے بعد محمد ﷺ کی بعثت کے بارے میں اختلاف کیا بوجہ آپس کی ضدّ اضدّی کے یعنی اس عداوت کے باعث جو ان کے درمیان محمد ﷺ سے حسد کی وجہ سے پیدا ہوئی، جن چیزوں میں یہ اختلاف کررہے ہیں تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن (عملی) فیصلہ کردے گا پھر ہم نے اے محمد ﷺ آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا سو آپ اسی طریقہ پر چلتے رہئے، اور غیر اللہ کی عبادت کے معاملہ میں ان جہلاء کی خواہشوں پر نہ چلئے (یاد رکھئے) کہ یہ لوگ آپ سے اللہ کے عذاب کو پر گز دفع نہیں کرسکتے اور (سمجھ لیں) کہ ظالم کافر لوگ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہوتے ہیں اور پرہیز گاروں مومنین کا کار ساز اللہ ہے اور یہ قرآن لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت و رحمت ہے بعث (بعد الموت) پر ایمان رکھنے والوں کے لئے کیا ان لوگوں کا بدی کفر و معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں یہ خیال ہے کہ ہم ان کو ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے کہ ان کا جینا مرنا یکساں ہوجائے (اَمْ ) ہمزۂ انکار کے معنی میں سے سواء خبر (مقدم) ہے، اور مَحْیَاھُمْ ومَمَاتُھُمْ مبتداء معطوف ہے، اور جملہ کاف سے بدل ہے، اور دونوں ضمیریں کافروں کے لئے ہیں (آیت کے) معنی یہ ہیں کیا یہ کافر یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کو آخرت میں خیر میں مومنین کے مانند کردیں گے یعنی عیش کی خوشگواری میں کہ ان کے عیش کے مساوی ہوگا دنیا میں، اس لئے کہ انہوں نے مومنین سے کہا کہ اگر (بالفرض) ہم کو زندہ کیا گیا تو ہم کو ایسی ہی خیر عطا کی جائے گی جیسی کہ تم عطا کی جائے گی، ہمزہ کو انکاری ماننے کی صورت میں فرمایا برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کررہے ہیں یعنی بات ایسی نہیں وہ تو آخرت میں اپنے دینوی عیش کے برخلاف عذاب میں ہوں گے اور مومن آخرت میں اپنے دنیا میں کئے گئے اپنے اعمال صالحہ مثلاً نماز، زکوٰۃ، روزہ وغیرہ ذٰلک کے بدولت ثواب میں ہوں گے (مَا یَحکمُونَ ) میں ما مصدریہ ہے یعنی ان کا یہ فیصلہ نہایت برا ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السّمٰوٰتِ وَمَافِی الْارْضِ جمِیْعًا مِنْہُ واو عاطفہ ہے اس جملہ کا عطف سابقہ جملے پر ہے۔
قولہ : جمیعًا، ما سے حال ہے اور مِنْہُ سَخَّرھا کی ضمیر سے حال ہے ای سَخَّرھَا کائِنۃً مِنْہُ تعالیٰ علامہ محلی نے جمیعًا کو ماموصولہ کی تاکید قرار دیا ہے جو کہ سخّرَ کا مفعول ہے، غالبًا یہ علامہ (رح) تعالیٰ کا وہم ہے اگر جمیعاً ما موصولہ کی تاکید ہوتی تو جَمِیْعَہٗ کہا جاتا علامہ محلی نے غالباً اسمیں ابن مالک کا اتباع کیا ہے اسکے علاوہ جمیعاً کے ذریعہ تاکید قلیل الاستعمال ہے لہٰذا قرآن کو اس پر محمول کرنا بہتر نہیں ہے
قولہ : مِنْہُ حال ہے ای سَخَّرَھَا کائِنّۃً مِنْہُ تعالیٰ ۔ (اعراب القرآن)
قولہ : لِیجزی قَومًا بِمَا کَانُوا یَکْسِبُوْنَ مذکورہ جملہ عفو و درگذر کرنے کی علت ہے، اور قومًا سے مراد قوم مومن ہے اور مَاکانُوا یَکْسِبُوْنَ سے مراد درگذر کرنے اور معاف کرنے کا عمل ہے، مطلب یہ ہے کہ کفار کی جانب سے ایذاء رسانی کو درگذر کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے دن درگذر کرنے والے مومنوں کو اچھا بدلہ دے مگر یہ حکم جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔
آیت کے دوسرے معنی : قوماً سے مراد کفار ہیں اور ماکسبُوْا سے مراد مشرکین کے وہ کرتوت اور نازیبا حرکتیں ہیں، جو وہ مومنین کے ساتھ ایذاء رسانی کی شکل میں کرتے تھے، اور جزاء سے مراد سزا ہے، مطلب یہ ہے کہ اے مومنو ! تم انتقام اور بدلہ لینے کی کوشش نہ کرو بلکہ ہم خود ان سے انتقام لے لیں گے، اول معنی راجح ہیں۔ (فتح القدیر)
قولہ : قُل لِلذین آمنوا یَغْفِرُوا قُلْ کا مقولہ جو کہ اغفرُوْا ہے جواب امر یعنی یَغْفِرُوْا للذین کے دلالت کرنے کی وجہ سے محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے قُلْ لَھُمْ اِغٌفِروا یَغْفِرُوا اور لِیَجْزِیَ امر مقدر اغفروا کی علت ہے علامہ محلی نے مَا کَانُو ایکسِبُوْنَ کی تفسیر مِنَ الغَفْرِلکفار اذاھم سے کرکے اشارہ کردیا کہ اول معنی واجح ہیں،
قولہ : وَلَقَدْ اٰتِیْنا بنی اِسْرائِیلَ الکتاب بنی اسرائیل کی تین کتابیں ہیں زبور، تورات، انجیل مگر ان میں چونکہ تورات اصل ہے جو دیگر کتابوں سے کفایت کرتی ہے، اس لئے یہاں تورات پر اکتفا کیا ہے۔
قولہ : العُقلاء مناسب ہوتا اگر مفسر (رح) تعالیٰ العُقلاء کے بجائے الثقلین کہتے، اس لئے کہ العقلاء میں ملائکہ بھی داخل ہیں حالانکہ ملائکہ کتب سماویہ کے مکلف نہیں ہیں، بیضاوی کی عبارت وَفَضَّلْنَا ھُمْ عَلَی العٰلمِین حیْثُ اٰتینَا ھُمْ مَا لَمْ تؤتہ احدًا غیر ھم قاضی بیضاوی کے قول حیث اٰتَیْناھم الخ سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالمی زمانھم کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ مراد ان فضائل میں خصوصیت کو بیان کرنا ہے جو واقعۃً دوسروں کو حاصل نہیں تھیں اور جزوی فضیلت سے کلی فضیلت ثابت نہیں ہوتی، مثلاً بنی اسرائیل میں انبیاء کا بکثرت ہونا، اس سے معلوم ہوا کہ اجر وثواب کے اعتبار سے فضیلت مراد نہیں ہے۔ (جمل ملخصًا)
قولہ : وبِعثۃ محمد اس کا عطف الدین پر ہے ای امربعثۃِ محمد۔
قولہ : لِبَغْیٍ حَدَثَ اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے اول یہ کہ بَغْیًا اختلاف کی علت ہے اور دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل کے درمیان اختلاف کا سبب ان کی آپس کی ضد اور ہٹ دھرمی تھی۔ قولہ : ھٰذا بَصَائر للناس۔
سوال : ھٰذا مبتداء ہے جو کہ واحد ہے اور بصائر جمع ہے دونوں میں مطابقت نہیں ہے۔
جواب : ھٰذا سے مراد آیات متعددہ اور براہین مختلفہ ہیں، اس لئے معنی کے اعتبار سے مبتداء خبر میں مطابقت ہے۔
قولہ : فی عبادۃِ غیر اللہ اس کا تعلق لاَتَتَّبِعُوْا سے ہے۔
قولہ : مَعَالِمْ ، معْلَمٌ کی جمع ہے اس نشان کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ راستہ کی طرف رہنمائی حاصل کیجائی ہے یعنی یہ آیتیں احکام کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔
قولہ : الَّذِیْن اجترَحُوا السیئات، حسب کا فاعل ہے اور جملہ اَنْ نجعلھم الخ حسِبَ کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔
قولہ : سَوَاءٌ رفع کے ساتھ مَحْیَا ھُمْ ومَماتُھم مبتداء کی خبر مقدم ہے اور کسائی نے سواء کو کالذین آمنوا میں ضمیر مجرور سے حال واقع ہونے کی وجہ سے نصب کے ساتھ پڑھا ہے، یا اس لئے منصوب ہے کہ حسِبَ کا مفعول ثالث ہے، اور بعض حضرات نے نجعلھم کے مفعول سے الاشتمال واقع ہونے کی وجہ سے منصوب پڑھا ہے۔
قولہ : لیس الامر کذٰلک اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اَمْ حَسِبَ میں ہمزہ استفہام انکار کے لئے ہے مناسب یہ تھا کہ مفسر علام لیس الامر کذٰلک کو ساء ما یَحکُمونَ پر مقدم کرتے، اس لئے کہ یہ جملہ اسی سے مربوط ہے۔
قولہ : مَامصدریۃ، بئس ما یحکمون میں مامصدریہ ہے اور مایحکمون حکمُھُمْ کے معنی میں ہے اور بئسَ کا فاعل ہے جو کہ ظاہر ہے مگر جب فاعل ظاہر ہوتا ہے تو پھر تمیز نہیں ہوتی، شارح (رح) تعالیٰ کا بئسَ حکمًا کہنا، یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حکمًا تمیز ہے اور جب تمیز ہوتی ہے تو فاعل مستتر ہوتا ہے جو ما کے مصدریہ ہونے کے منافی ہے ابن عطیہ نے کہا ہے کہ مامصدریہ ہے ای ساء الحکم حکمھم اس صورت میں الحُکْمُ فاعل ہے اور حکمھم مخصوص بالذم۔ (جمل)
تفسیر و تشریح
اللہ الذی۔۔۔۔ بامرہٖ (الآیۃ) یعنی سمندر کو ایسا بنایا کہ تم کشتیوں کے ذریعہ اس پر سفر کرسکو، سمندروں اور دریاؤں میں کشتیوں کا چلنا یہ تمہارا کمال نہیں یہ اللہ کا حکم اور اس کی مشیئت ہے ورنہ اگر وہ چاہتا تو سمندر کی موجوں کو اتنا سرکش بنا دیتا کہ کوئی کشتی اور جہاز ان کے سامنے ٹھہر ہی نہ سکتا، جیسا کہ کبھی کبھی کبھی وہ اپنی قدرت کے اظہار کیلئے ایسا کردیتا ہے، اگر مستقل طور پر موجوں کی طغیانیوں کا یہی عالم رہتا تو تم کبھی بھی سمندروں میں سفر کرنے کے قابل نہ ہوتے۔
ولتبتغوا من فضلہ قرآن کریم میں فضل تلاش کرنے سے عموماً کسب معاش کی جدوجہد مراد ہوتی ہے، یہاں اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ تمہیں سمندر میں کشتی رانی پر اس لئے قدرت دی گئی تاکہ اس کے ذریعہ تم تجارت کرسکو۔
قل للذین۔۔۔ ایام اللہ، آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ ان لوگوں سے درگذر کریں جو اللہ تعالیٰ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے۔
شان نزول : اس آیت کے شان نزول میں دو روایتیں ہیں ایک یہ کہ مکہ مکرمہ میں کسی مشرک نے حضرت عمر ؓ پر دشنام طرازی کی تھی، حضرت عمر ؓ نے اس کے بدلے میں اس کو کچھ تکلیف پہنچانے کا ارادہ فرمایا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس روایت کے مطابق یہ آیت مکی ہے۔
دوسری روایت یہ ہے کہ غزوۂ بنو مصطلق کے موقع پر آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ نے مریسیع نامی ایک کنوئیں کے قریب پڑاؤ ڈالا، منافقوں کا سردار عبد اللہ بن ابی بھی مسلمانوں کے ساتھ قافلہ میں شامل تھا، اس نے اپنے غلام کو کنوئیں سے پانی لانے کے لئے بھیجا، اسے واپسی میں تاخیر ہوگئی، عبد اللہ بن ابی نے وجہ معلوم کی تو اس نے کہا کہ حضرت عمر ؓ کا ایک غلام کنوئیں کے کنارے بیٹھا ہو اتھا، اس نے اس وقت تک کسی کو پانی بھرنے کی اجازت نہیں دی، جب تک کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر کے مشکیزے نہیں بھرگئے، اس پر عبد اللہ بن ابی نے کہا کہ ہم پر اور ان لوگوں پر تو وہی مثل صادق آتی ہے سَمِّن کلبَکَ یا کلک اپنے کتے کو فربہ کرو تو وہ تم کو کھاجائے گا، حضرت عمر کو جب یہ اطلاع ملی تو تلوار سونت کر عبد اللہ بن ابی کی طرف چلے، اس پر آیت نازل ہوئی، اس روایت کے اعتبار سے یہ آیت مدنی ہے۔ (قرطبی، روح المعانی، معارف)
ان روایتوں کی اسناد اگر تحقیق سے صحیح ثابت ہوں تو دونوں میں تطبیق اس طرح ہوسکتی ہے کہ دراصل یہ آیت مکہ میں نازل ہوچکی تھی پھر جب غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر اسی سے ملتا جلتا واقعہ پیش آیا تو آنحضرت نے اس آیت کو اس موقع پر بھی تلاوت فرما کر اس واقعہ کو اس پر منطبق فرمایا، اور شان نزول کی روایات میں ایسا بکثرت ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر یہ آیت دوبارہ یاد دہانی کے طور پر نازل ہوئی ہو، اس کو اصول تفسیر میں نزول مکرر کہتے ہیں۔
ولقد اتینا بنی اسرائیل ” کتاب “ سے مراد تورات، ” حکم “ سے مراد حکومت و بادشاہت یا فہم و قضاء کی صلاحیت ہے جو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے ضروری ہے۔
ثم جعلناک علیٰ شریعۃ من الامر، ” شریعۃ “ کے لغوی معنی ہیں راستہ، ملت اور منہاج، شاہراہ، پس شریعت سے یہاں مراد وہ دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے مقرر فرمایا ہے تاکہ لوگ اس پر چل کر اللہ کی رضا کا مقصد حاصل کرلیں، یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ دین اسلام کے کچھ تو دینی عقائد ہیں، مثلاً توحید و آخرت وغیرہ، اور کچھ عملی زندگی سے متعلق احکام ہیں، جہاں تک اصول عقائد کا تعلق ہے وہ تو ہر نبی کی امت میں یکساں رہے ہیں، ان میں کبھی ترمیم نہیں ہوتی، البتہ عملی احکام مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں میں اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے بدلتے رہے ہیں، آیت شریفہ میں انہی دوسری قسم کے احکام کو دین کے ایک خاص طریقہ سے تعبیر کیا ہے۔ (معارف)
Ayahs 45:22–26آیت نمبر 22 تا 26
ترجمہ : آسمانوں اور زمینوں کو اللہ تعالیٰ نے حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا بالحقِّ ، خلَقَ کے متعلق ہے تاکہ اس کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کام کا خواہ از قبیل معاصی ہو یا از قبیل طاعات پورا پورا بدلہ دے تو کافر اور مومن برابر نہ ہوں گے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا، بھلا بتاؤ تو کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشات ہی کو معبود بنا رکھا ہے یعنی جس پتھر کو یکے بعد دیگرے پسند کرتا ہے (معبود بنا لیتا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے علم (ازلی) کے مطابق گمراہ کردیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کی پیدائش سے پہلے ہی جانتا ہے کہ وہ اہل ضلالت میں سے ہے اور اس کے کام اور دل پر مہر لگا دی ہے جس کی وجہ سے اس نے ہدایت کو نہ سنا اور نہ سمجھا اور اس کی آنکھ پر بھی پردہ ڈالدیا ہے جس کی وجہ سے ہدایت کو نہیں دیکھ سکتا یہاں رأیتَ کا مفعول ثانی أیھدی مقدر ہے اب ایسے شخص کو اللہ کے سوا کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد (کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ ) یعنی کوئی ہدایت نہیں دت سکتا، کیا اب بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے، اس میں دو تاؤں میں سے ایک کا ذال میں ادغام ہے، اور منکرین بعث نے کہا ہماری زندگی تو صرف وہی زندگی ہے جو دنیا میں ہے، ہم مرتے ہیں اور جتنے ہیں یعنی ایک مرتا ہے تو دوسرا جیتا ہے، بایں طور کہ پیدا ہوتا ہے اور ہمیں صرف زمانہ ہی مارتا ہے یعنی اس کا مرور اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں اس بات کا کچھ علم نہیں یہ صرف اٹکل سے کام لیتے ہیں، اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے یعنی قرآنی آیتوں کی جو ہماری قدرت علی البعث پر دلالت کرتی ہیں تو ان کے پاس اس بات کے سوا کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ ہم کو زندہ کیا جائے گا تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کر لاؤ (بینات) حال ہے آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے جبکہ تم (بےجان) نطفے تھے پھر تم کو موت دے گا، پھر تم کو قیامت کے دن زندہ کرے جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ جو مذکور کے قائل ہیں نہیں سمجھتے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : افرأیت، اخبرنی اس میں سبب بول کر مسبب مراد لیا گیا ہے اس لئے کہ رویت، سبب اخبار ہے، لہٰذا رویت سبب اور اخبار اس کا مسبب اور اطلاق از قبیل مجاز ہے، اور استفہام بمعنی امر ہے، اور جامع طلب ہے، اس لئے کہ امر اور استفہام دونوں طلب میں، مشترک ہیں۔ (جمل)
قولہ : اضَلَّہُ اللہُ علیٰ علمٍ ، علیٰ علم، اضلَّہٗ کے فاعل اللہ سے بھی حال ہوسکتا ہے اور ہٗ ضمیر مفعول سے بھی حال ہوسکتا ہے، مفسر علام نے فاعل سے ھال قرار دیکر مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کی وجہ سے اس کے گمراہ ہونے کو جاننے کی وجہ سے اس کو گمراہ کردیا، اور جن حضرات نے علی علم کو اضَلَّہٗ کی ضمیر سے حال قرار دیا ہے، ان کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اس کو اس کی سمجھ بوجھ کے باوجود گمراہ کردیا، ای اضَلَّہٗ وھو عالم بالحق اس میں شدید ترین مذمت ہے۔ (جمل)
قولہ : وما لھم بذٰلک المقول، ذٰلک المقول سے منکرین خدا کا قول وما یُھلِکُنا الاَّ الدَّھر مراد ہے یعنی ان کے پاس اپنے اس قول پر کوئی دلیل نہیں ہے نہ عقلی اور نہ نقلی، بلکہ وہ اٹکل اور اندازے سے باتیں کرتے ہیں۔
تفسیر و تشریح
افرأیت۔۔۔ ھواہُ (الآیۃ) بھلا بتائیے کہ وہ شخص جس نے اپنی خواہشات نفسانی کو اپنا معبود بنا لیا، یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی کافر بھی اپنی نفسانی خواہشات کو اپنا خدایا معبود نہیں کہتا، مگر قرآن کریم کی اس آیت نے یہ بتلایا کہ عبادت درحقیقت اطاعت کا نام ہے جو شخص خدا کی اطاعت کے مقابلہ میں کسی دوسرے کی اطاعت اختیار کرے تو وہی اس کا معبود کہلائے گا، مطلب یہ کہ ایسا شخص اسی کو اچھا سمجھتا ہے جس کو اس کا نفس اچھا سمجھتا ہے اور اسی کو برا سمجھتا ہے جس کو اسکا نفس برا سمجھتا ہے یعنی اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلہ میں اپنی نفسانی خواہشات کو ترجیح دیتا ہے یا اپنی عقل کو اہمیت دیتا ہے، حالانکہ عقل بھی ماحول سے متاثر خواہش سے مغلوب اور مفادات کی اسیر ہوکر، خواہش نفس کی طرح غلط فیصلہ کرسکتی ہے، حضرت ابو امامہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ زیر آسمان دنیا میں جتنے معبودوں کی عبادت کی گئی ہے، ان میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے نزدیک ہوائے نفس ہے، حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دانشمند شخص وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور ما بعد الموت کے لئے عمل کرے اور فاجروہ ہے کہ جو اپنے نفس کو اپنی خواہشات کے پیچھے چھوڑ دے، اور اس کے باوجود اللہ سے آخرت کی بھلائی کی تمنا کرے اور بعض حضرات نے اس سے ایسا شخص مراد لیا ہے جو پتھر کو پوجتا تھا، جب اس سے زیادہ خوبصورت پتھر مل جاتا تو وہ پہلے پتھر کو پھینک کر دوسرے پتھر کو معبود بنا لیتا۔
وقالوا۔۔۔ الدنیا (الآیۃ) یہ دہریہ اور اس کے ہمنوا مشرکین مکہ کا قول ہے جو آخرت کے منکر تھے وہ کہتے تھے کہ بس یہ دنیا کی زندگی ہی پہلی اور آخری زندگی ہے اس کے بعد کوئی زندگی نہیں اور اس میں موت وحیات کا سلسلہ محض زمانہ کی گردش کا نتیجہ ہے، جیسے فلاسفہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد ہر چیز دوبارہ اپنی سابقہ حالت پر لوٹ آتی ہے اور یہ سلسلہ بغیر صانع اور مدبر کے از خود یوں ہی چل رہا ہے، اور چلتا رہے گا، نہ اس کی کوئی ابتداء ہے اور نہ انتہاء، اس کو کر وہ دوریہ کہتے ہیں (ابن کثیر) ظاہر بات ہے کہ یہ نظریہ عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے، حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم مجھے ایذا پہنچاتا ہے زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں خود زمانہ ہوں میرے ہی ہاتھ میں تمام اختیارات ہیں، رات دن بھی میں ہی بدلتا ہوں۔ (بخاری شریف تفسیر سورة جاثیہ)
Ayahs 45:27–37آیت نمبر 27 تا 37
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل یعنی کافر (یومئذٍ ) یوم تقوم الساعۃُ سے بدل ہے، یعنی (اس دب) ان کا نقصان ظاہر ہوگا، بایں طور کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے آپ دیکھیں گے کہ ہر فرقہ یعنی مذہب والے گھٹنوں کے بل یا اجتماعی طور پر بیٹھے ہوں گے، ہر گروہ کو اپنے اعمال ناموں کی طرف بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا آج تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یہ ہے ہماری کتاب، حفاظت کرنے والے فرشتوں کا دیوان جو تمہارے حق میں سچ سچ بول رہی ہم تمہارے اعمال لکھواتے اور محفوظ کرتے جاتے تھے پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو ان کو ان کا رب اپنی رحمت جنت میں داخل کرے گا اور یہی کھلی کامیابی ہے لیکن جن لوگوں نے کفر کیا تو ان سے کہا جائے گا کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ پھر بھی تم تکبر کرتے رہے اور تم تھے ہی مجرم کافر لوگ اور جب کبھی اے کافرو ! تم سے کہا جاتا کہ اللہ کا بعث کا وعدہ حق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں (الساعۃ) پر رفع اور نصب کے ساتھ تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا چیز ہے ؟ ہمیں کچھ یوں ہی سا خیال ہوجاتا ہے مبرد نے کہا ہے (ما نظنُّ الاَّ ظَنّا) کی اصل ان نحن الاَّ نظُنُ ظنَّا ہے لیکن ہمیں یقین نہیں کہ قیامت آنے والی ہے آخرت میں ان پر دنیا میں کئے ہوئے اعمال کی برائیاں ظاہر ہوجائیں گی یعنی اس کی سزا اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑا رہے تھے وہی ان پر نازل ہوگیا (ان سے) کہا جائے گا آج ہم تم کو آگ میں چھوڑ کر فراموش کردیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا یعنی اس دن کی ملاقات کے لئے عمل کو ترک کردیا تھا، اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور تمہارا مددگار کوئی نہیں یعنی آگ سے بجانے والا (کوئی نہیں) یہ اس لئے کہ تم نے اللہ کی آیتوں قرآن کی ہنسی اڑائی تھی اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا، حتی کہ تم نے کہا کہ نہ بعث ہے اور نہ حساب، پس آج کے دن نہ تو یہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے عذر معذرت قبول کی جائے گی، یعنی ان سے اس بات کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا کہ وہ اپنے رب کو توبہ اور اطاعت کے ذریعہ راضی کرلیں، اس لئے کہ آج اس سے کچھ فائدہ نہ ہوگا، (یخرجون) معروف اور مجہول دونوں ہیں پس اللہ کی تعریف ہے یعنی اچھی ثنا ہے مکذبین کے بارے میں اپنے وعدہ کے وفا کرنے پر جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہانوں کا رب ہے مذکورہ تمام چیزوں کا خالق ہے اور عالم اللہ کے علاوہ کا نام ہے اور (عالمین) کو اس کے انواع کے مختلف ہونے کی وجہ سے جمع لایا گیا ہے اور ربّ (اللہ) سے بدل ہے آسمانوں اور زمینوں میں اسی کی بڑائی ہے (فی المسوٰت والارض) حال ہے یعنی حال یہ ہے کہ وہ عظمت (وکبریائی) آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ غالب ہے اور حکمت والا ہے (اس کی تشریح) سابق میں گزر چکی ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : یومئذ یخسر المبطلون یوم تقوم الساعۃُ سے بدل برائے تاکید ہے اور یوم تقوم یخسرُ کا ظرف ہے اور یومئذٍ میں تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہے، تقدیر عبارت یہ ہے یوم اذا تقوم الساعۃ۔
قولہ : ای یظھر خسرانُھم یہ اس سوال مقدر کا جواب ہے کہ اہل باطل کا خسران علم ازلی میں متعین اور لازم ہے تو پھر اس دن خاسر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ جواب : مبطلین کا خسران اگرچہ روز ازل ہی سے متعین ہے مگر اس کا ظہور اس دن ہوگا کہ جب اس کو جہنم کی طرف لے جائیں گے۔
قولہ : جاثیۃٍ واحد مؤنث غائب زانو پر بیٹھنے والی، گھنٹوں کے بل گرنے والی، جُثُو یا جُثِیٌّ سے، یہاں جاثیۃٌ جمع کی جگہ استعمال ہوا ہے جیسے جماعۃ قائمۃ۔
قولہ : نستنسخُ جمع متکلم مضارع (استفعال) ہم محفوظ رکھتے ہیں (ف) سے نسخًا زائل کرنا، بدل دینا، منسوخ کرنا، لکھنا نقل کرنا۔ (لغات القرآن) ۔ قولہ : بالفرع والنصب یعنی السَّاعَۃُ پر رفع اور نصب دونوں جائز ہیں رفع مبتداء ہونے کی وجہ سے لا رَیبَ فیھا جملہ ہو کر مبتداء کی خبر، اور نصب اِنَّ کے اسم پر عطف ہونے کی وجہ سے۔ قولہ : قال المطرد اصلہ ان نحن الاَّ نظُنُّ ظنًّا۔
سوال : ظنًّا مصدر تاکید کے لئے واقع ہوا ہے، اور جو مصدر تاکید کے لئے واقع ہو، تو وہ استثناء مفرغ واقع نہیں ہوسکتا حالانکہ یہاں ظنًّا مصدر استثناء مفرغ واقع ہے اسلئے کہ اس سے ایک ہی شئ کا اثبات اور اسی کی نفی لازم آتی ہے جو جائز نہیں ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے ما ضَربْتُ الاَّ ضربتُ اور یہ استثناء الکل عن الکل ہونے کی وجہ سے بالاتفاق ناجائز ہے۔
جواب : مفسر علام نے نحن کا اضافہ کردیا جس کی وجہ سے مستثنیٰ مستثنیٰ منہ سے مغایر ہوگیا، اس لئے کہ نفی کا مورد (مصداق) محذوف ہے اور وہ نحن ہے اور اثبات کا مصداق (مورد) نظُنُّ ظنًّا ہے کلمہ الاَّ اگرچہ لفظاً مؤخر ہے، مگر تقدیراً مقدم ہے، آیت سے جو حصر مفہوم ہو رہا ہے اپنے لئے ظن کا اثبات اور ظن کے ماعدا کی نفی ہے اور منجملہ ماعدا میں یقین بھی ہے اور یقین ہی کی نفی مقصود ہے مگر مطلقاً ماعدا الظن کی نفی یقین کی نفی کے ماعدا کی نفی ہے اور منجملہ ماعدا میں یقین بھی ہے اور یقین ہی کی نفی مقصود ہے مگر مطلقاً ماعدا الظن کی نفی یقین کی نفی میں مبالغہ کرنے کے لئے ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مشرکین نے اپنے قول وما نحن بمستیقنین سے ما نظن الاَّ ظنَّا کی تاکید کی ہے۔ (حاشیہ جلالین جمل ملخصاً )
قولہ : جزانُھا حذف مضاف سے اشارہ کردیا کہ ظہور سیئات سے مراد ظہور جزاء سیئات ہے، نسیان کی تفسیر ترک سے کرکے اشارہ کردیا کہ نسیان سے لازم معنی مراد ہیں اس لئے کہ انسان سے نسیان کا گناہ مرفوع ہے اور خدا کے لئے محال ہے اور ترک، نسیان کے لئے لازم ہے۔
قولہ : ذٰلکم بانَّکُم ای العذابُ العظیمُ بسبب انکم اتخذتم آیات اللہ ھُزُوًا، ذٰلک کا مرجع عذاب عظیم ہے اور بأنکُم میں باء سببیہ ہے۔
قولہ : لا یستعتَبُون، استعتابٌ سے جمع مذکر غائب (استفعال) ان سے اللہ کو رضا مند کرنے کی خواہش نہیں کی جائے گی، بعض حضرات نے اس کا ترجمہ کیا ہے ان کے عذر قبول نہیں کئے جائیں گے، علامہ محلی (رح) تعالیٰ نے پہلے معنی مراد لئے ہیں۔
قولہ ؛ فی السمٰوٰت والارض، الکبریاءُ سے حال ہے۔
تفسیر و تشریح
وتری کُلَّ امَّۃٍ جاثیۃٌ، جاثیۃٌ جثوٌّ سے مشتق ہے جس کے معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے ہیں اور حضرت سفیان ؓ نے فرمایا جُثُوٌّ اس طرح بیٹھنے کو کہتے ہیں کہ جس میں صرف گھٹنے اور پاؤں کے نیچے زمین پر ٹک جائیں اور اس طرح کی نشست خوف و دہشت کی وجہ سے ہوگی، اور کُلُّ اُمَّۃٍ کے لفظ سے ظاہر یہ ہے کہ یہ صورت خوف تمام اہل محشر انبیاء واولیاء مومن و کافر، نیک و بد سب کو پیش آئے گی، اور بعض دوسری آیات و روایات میں جو محشر کے خوف وفزع سے انبیاء و صلحاء کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے یہ اس کے منافی نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ یہ دہشت اور خوف تھوڑی دیر کیلئے انبیاء و صلحا پر بھی طاری ہو اور قلیل مدت ہونے کی وجہ سے اس کو نہ ہونے کے حکم میں رکھا گیا ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کل امۃ سے عام اہل محشر مراد نہ ہوں بلکہ اکثر مراد ہوں جیسا کہ لفظ کل بعض اوقات اکثر کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، اور بعض حضرات نے جاثیہ کے معنی ایسی نشست کیلئے ہیں جیسی نماز میں ہوتی ہے تو پھر وہ اشکال خود ہی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ یہ نشست خوف کی نہیں ادب کی نشست ہے۔
ھذا کتابنا ینطق علیکم بالحق (الآیۃ) اس کتاب سے مراد وہ رجسٹر ہیں جن میں انسان کے تمام اعمال درج ہوں گے، یہ اعمال نامے انسانی زندگی کے ایسے مکمل ریکارڈ ہوں گے کہ جن میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہوگی، انسان ان کو دیکھ کر پکاراٹھے گا مال ھٰذا الکتاب لایغادرُ صغیرۃً ولا کبیرۃ الا احصاھا (الکھف) یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ جس نے چھوٹی بڑی کسی چیز کو بھی نہیں چھوڑا سب کچھ ہی تو اس میں درج ہے۔
تم بحمد للہ