48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 48:18–26

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ﷺ جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا اور جو (صدق و خلوص) انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں اور خدا غالب حکمت والا ہے

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے کہ تم ان کو حاصل کرو گے تو اس نے غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لئے (خدا کی) قدرت کا نمونہ ہے اور وہ تم کو سیدھے راستے پر چلائے

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور (غنیمتیں) دیں جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو نہ دوست پاتے اور نہ مددگار

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

(یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان کافروں پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم انکو پامال کردیتے تو تم کو ان کی طرف سے بیخبر ی میں نقصان پہنچ جاتا (تو ابھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان کو ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور انکو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے

ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوا جب انہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی اور وہ ببول کا درخت ہے اور اصحاب حدیبیہ ایک ہزار تین سو یا اس سے کچھ زائد تھے، پھر ان حضرات نے اس پر بیعت کی کہ وہ قریش کا مقابلہ کریں گے، اور یہ کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے اللہ کو ان کے دلوں کے وفا و صدق کا حال معلوم تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو قریبی فتح عطا فرمائی اور وہ فتح حدیبیہ سے واپسی کے بعد خیبر کی فتح تھی اور بہت سی غنیمتیں کہ جن کو وہ خیبر سے حاصل کریں گے اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اللہ تعالیٰ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کو تم فتوحات کے ذریعہ حاصل کرو گے یہ یعنی خیبر کی غنیمت تو تم کو سردست عطا فرما دی اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے اہل و عیال کے بارے میں روک دیئے جب تم (حدیبیہ کے لئے) نکلے اور یہود نے تمہارے اہل و عیال کا قصد کیا کہ اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈالدیا اور تاکہ فوری طور پر عطا کی گئی یہ غنیمت (دوسرے وعدوں کے لئے) مومنین کی نصرت پر مومنین کے لئے نشانی ہو ولتکون کا عطف لتشکروہ مقدر پر ہے اور تاکہ وہ تم کو ایک سیدھے راستہ پر ڈالدے اور وہ (سیدھا راستہ) اس پر توکل کرنے اور معاملہ کو اس کے سپرد کرنے کا ہے اور تمہیں دوسری غنیمتیں بھی دے اخری مغانم مقدر مبتداء کی صفت ہے، جس پر تم نے (ابھی) قبضہ نہیں کیا ہے اور وہ فارس اور روم سے (حاصل ہونے والی غنیمتیں) ہیں اور وہ اللہ کے قابو میں ہیں یعنی اللہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ وہ عنقریب تم کو ملنے والی ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے یعنی وہ اس صفت سے ہمیشہ متصف ہے اور حدیبیہ میں اگر کافر تم سے جنگ کرتے تو یقینا پیٹھ دکھا کر بھاگتے پھر نہ وہ کار ساز پاتے کہ ان کی حفاظت کرے اور نہ مددگار اللہ کے دستور کے مطابق جو پہلے سے چلا آرہا ہے سنۃ مصدر ہے جو سابق جملہ کے مضمون کی تاکید کر رہا ہے اور وہ مضمون کافروں کی ہزیمت اور مومنین کی نصرت ہے، یعنی اللہ نے اپنا یہ دستور بنا لیا ہے اور تو کبھی اللہ کے دستور کو اس سے بدلتا ہوا نہ پائے گا اور وہ وہی ہے کہ جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے عین مکہ حدیبیہ میں روک لیا، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غبہ دیدیا بایں طور کہ ان میں سے اسی نے تمہارے لشکر کو گھیر لیا تاکہ وہ تم پر (حملہ آور ہوں) ٹوٹ پڑیں، مگر وہ گرفتار کر لئے گئے، اور ان کو آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے ان کو معاف کردیا اور ان کو رہا کردیا اور یہی بات صلح کا سبب ہوئی اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے (تعملون) میں یاء اور تاء دونوں ہیں، یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور تم کو شہر حرام سے یعنی وہاں پہنچنے سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی ان کی جگہ پہنچنے سے روکا حال یہ کہ وہ (قربانی کے لئے) وقف تھے یعنی اس جگہ پہنچنے سے روکا جہاں عام طور پر ہدی قربان کی جاتی ہے اور وہ حرم ہے، ان یبلغ الھدی سے بدل الاشتمال ہے اور اگر بہت سے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں کفار کے ساتھ (خلط ملط) مکہ میں موجود نہ ہوتے کہ جن کی صفت ایمان سے تمہارے بیخبر ہوین کی وجہ سے تمہارے ان کو کچل ڈالین کا احتمال نہ ہوتا یہ کہ تم ان کو کفار کے ساتھ قتل کردو گے، اگر تم کو فتح کی اجازت دیدی جاتی ان تطئوھم تعلموھم کی ضمیر ھم سے بدل ہے جس پر ان کی وجہ سیتم کو بھی بیخبر ی میں ضرر (ندامت) پہنچا، غائب کی ضمیریں دونوں صفت کے لئے ہیں (مذکر و مئونث کے لئے) مذکر کو غلبہ دیکر اور لولا کا جواب محذوف ہے اور وہ لاذن لکم فی الفتح ہے لیکن اس وقت فتح کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ اللہ مومنین مذکورین کے مانند جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے اور اگر یہ (مومنین) کفار سے الگ ہوتے تو ہم اس وقت مکہ کے کافروں کو درد ناک سزا دیتے اس طریقہ پر کہ ہم تم کو مکہ فتح کرنے کی اجازت دیدیتے جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت (تعصب) کو جگہ دی اور حمیت بھی جاہلیت کی اذجعل، عذبنا سے متعلق ہے الذین کفروا (جعل کا)اعل ہے حمیت، تکبر کی وجہ سے شدت کو کہتے ہیں، الجاھلیۃ حمیۃ سے بدل ہے اور ٓپ ﷺ اور آپ کے اصحاب کو مسجد حرام پہنچنے سے روکتا ہے سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اور مومنین پر سکنیت نازل فرمائی جس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس بات پر صلح کرلی کہ آئندہ سال آئیں گے اور جو حمیت کفار کو لاحق ہوئی وہ ان (اصحاب) کو لاحق نہیں ہوئی، حتی کہ ان سے قتال کرتے اور اللہ نے مومنین کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے، اور تقویٰ کی اضافت کلمہ کی طرف اس لئے ہے کہ یہ کلمہ ہی تقویٰ کا سبب ہے اور وہ اس کلمہ کے کفار سے زیادہ حقدار اور اہل تھے، یہ عطف تفسیری ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے، یعنی ہمیشہ اس صفت کے ساتھ متصف ہے، اور اللہ تعالیٰ کی معلومات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ (مومنین) اس (کلمہ) کے زیادہ اہل ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اذیبایعونک رضی کی وجہ سے محلامنصوب ہے اس لئے کہ اذزمانہ ماضی کے لئے ظرف ہے، اس کے بعد ہمیشہ جملہ واقع ہوتا ہے، حکایت حال ماضیہ کے طور پر (صورت مبایعت کے استحضار) کے لئے مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے اور تحت یبایعونک کا ظرف ہے۔ قولہ : سمر بروزن رجل ببول کا درخت، بعض حضرات نے کہا ہے کہ جھائو کے درخت کو کہتے ہیں ان لایفروا علی الموت بعض نسخوں میں من الموت ہے، مطلب ظاہر ہے کہ موت سے راہ فرار اختیار نہ کریں گے، مفسر علام نے من کے بجائے علی لا کر اشارہ کردیا کہ ایک رویت میں یہ بھی ہے کہ بیعت موت پر ہوئی تھی، اور دوسری روایت میں یہ ہے کہ بیعت ثابت قدمی و عدم فرار پر ہوئی تھی۔ قولہ : فعلم، علم کا عطف اذیبایعونک پر ہے، اب رہا یہ سوال کہ معطوف ماضی ہے اور عمطوف علیہ مضارع، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اذیبایعونک بھی ماضی کے معنی میں ہے، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔ قولہ : فانزل اس کا عطف رضی پر ہے۔ قولہ : ومغانم کثیرۃ اس کا عطف فتحا قریبا پر ہے۔ قولہ : وعدکم اللہ چونکہ مقام امتنان و احسان ہے، لہٰذا شرفخطاب سے نوازنے کے لئے غیبت سے خطاب کی طرف التفات فرمایا ہے یہ اہل حدیبیہ سے خطاب ہے۔ قولہ : من الفتوحات مفسر علامہ نے من الفتوحات کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ عطف مغایرت کے لئے ہے، مطلب یہ ہے کہ اول مغانم کثیرۃ سے جو کہ معطوف علیہ ہے غنائم خیبر مراد ہیں اور ثانی مغانم کثیرۃ سے جو کہ معطوف ہے، خیبر کے علاوہ کے مغانم مراد ہیں۔ قولہ : غنیمۃ خیبر اگر اس آیت کا نزول فتح خیبر کے بعد ہو جیسا کہ ظاہر یہی ہے تو پوری سورت کا نزول حدیبیہ سے واپسی پر نہ ہوگا اور نزول فتح خیبر سے پہلے ہو تو یہ اخبار غیبیہ سے ہوگا اور مضای سے تعبیر تحقیق وقوع کی وجہ سے ہوگی اور یہ بات سابق میں گذر چکی ہے کہ پوری سورت حدیبیہ سے واپسی کے وقت عسفان کے قریب کراع الغمیم میں نازل ہوئی تھی۔ قولہ : فی عیالکم ای عن عیالکم، فی عیالکم، عنکم سے بدل ہے اس میں مضاف محذوف کی طرف اشار ہے۔ قولہ : اخری صفۃ مغانم مقدرا اخری مغانم محذوف کی صفت ہے، موصوف صفت سے مل کر مبتداء اور لم تقدروا علھا اس کی صفت ہے قداحاط اللہ بھا مبتداء کی خبر (جمل) مذکورہ ترکیب کے علاوہ چارترکیبیں اور ہیں، طوالت کے خوف سے ترک کردیا (جمل کی طرف رجوع کریں) قولہ : اظفر علیھم، اظفر کا صلہ علی مستعمل نہیں ہے مگر چونکہ اظفر، اظھر کے عنی میں ہے اس لئے اس کا صلہ علی لانا درست ہے، مفسر علام نے اپنے قول فان ثمانین الخ سے اظفر بمعنی اظھر کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : معرۃ بمعنی مکروہ، گناہ، ندامت قولہ : جواب لولا محذوف لولا کا جواب محذوف ہے اور وہ لاذن لکم فی الفتح ہے، جیسا کہ مفسر رحمتہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا ہے۔ قولہ : فانزل اللہ سکینتہ اس کا عطف مقدر پر ہے، تقدیر عبارت یہ ہے کہ ای فضاقت صدور المسلمین واشتد الکرب علیھم فانزل اللہ سکینتہ قولہ : لانھا سببھا اس میں حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے کلمۃ التقوی ای سبب التقوی اضافت ادنیٰ مناسبت کی وجہ سے ہے اور بعض حضرات نے تقویٰ سے پہلے اھل محذوف مانا ہے ای کلمۃ اھل التقوی یعنی اللہ نے اہل بدر کے لئے متقی لوگوں کا کلمہ پسند فرمایا۔ قولہ : اھلھا، احق بھا کا عطف تفسیر ہے۔ تفسیر و تشریع لقد ؓ عن المومنین اذیبایعونک تحت الشجرۃ اس بیعت سے مراد بیعت حدیبیہ ہی ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اس بیعت کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ خوشخبری سنائی ہے کہ وہ ان لوگوں سے راضی ہوگیا جنہوں نے اس خطرناک موقع پر جان کی بازی لگا دینے میں ذرہ برابر تامل نہ کیا اور رسول کے ہاتھ پر سرفروشی کی بیعت کر کے اپنے صادق الایمان ہونے کا صریح ثبوت پیش کیا، ان کے اپنے اخلاص کے سوا کوئی خارجی دبائو ایسا نہ تھا جس کی بناء پر وہ اس بیعت کے لئے مجبور ہوتے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے ایمان میں صادق اور مخلص اور رسول کی وفاداری میں حد درجہ کمال پر فائز تھے۔ صحابہ کے لئے سند خوشنودی : اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کو سند خوشنودی عطا فرمائی اور اللہ کی سند خوشنودی عطا ہونے کے بعد اگر کوئی شخص ان سے بدگمان یا ناراض ہو یا ان پر زبان طعن دراز کرے تو اس کا معارضہ ان سے نہیں بلکہ اللہ سے ہے، بعض حضرات (مثلاً شیعہ) کا یہ کہنا کہ جس وقت اللہ نے ان کو سند خوشنودی عطا فرمائی تھی اس وقت تو یہ مخص تھے، مگر بعد میں یہ لوگ خدا اور رسول سے بےوفا ہوگئے، وہ شاید اللہ سے یہ بدگمانی رکھتے ہیں کہ اللہ کو ان حضرات کو سند خوشنودی عطا کرتے وقت ان کے آئندہ حالات کا علم نہ تھا جو کہ امتحن الہ قلوبھم للتقویٰ کے صریح خلاف اور متضاد ہے، یہ بشارتیں اور سند رضا و خوشنودی اس پر شاہد ہیں کہ ان سب حضرات کا خاتمہ ایمان اور اعمال مرضیہ پر ہوگا۔ صحابہ کرام پر زبان طعن وتشنیع بدبختی ہے : جن خیار امت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے غفران و مغفرت کا اعلان فرما دیا، اگر انسے کوئی لغزش یا گناہ ہوا بھی ہے تو یہ آیت اس کی معافی کا اعلان ہے، پھر ان کے ایسے معاملات کو جو مستحسن نہیں ہیں غور و فکر اور بحث و مباحثہ کا میدان بنانا بدبختی اور اس آیت کے مخالف ہے، یہ آیت روا فض کے قول و عقیدے کی واضح تردید ہے، جو ابوبکر ؓ و عمر ؓ اور دوسرے صحابہ پر کفر و نفاق کا الزام لگاتے ہیں۔ (مظہری) شجرہ رضوان : حضرت نافع مولیٰ ابن عمر کی یہ روایت مشہور ہے کہ لوگ اس کے پاس جا جا کر نماز پڑھنے لگے تھے، حضرت عمر ؓ کو جب اس کا علم ہوا تو اس کو کٹوا دیا۔ (بقات ابن سعد : ج 2 ص 001) مگر صحیحین میں ہے کہ حضرت طارق بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے لئے گیا تو راستہ میں گذار ایسے لوگوں پر ہوا جو ایک مقام پر جمے تھے اور نماز پڑھ رہے تھے، میں نے ان سے معلوم کیا یہ کونسی مسجد ہے تو انہوں نے کہا یہ وہ درخت ہے جس کے نیچے رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان لی تھی، میں اس کے بعد سعید بن مسیب کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس واقعہ کی ان کو خبر دی، انہوں نے فرمایا میرے والد صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو اس بیعت رضوان میں شریک ہوئے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ ہم جب اگلے سال مکہ مکرمہ میں حاضر ہوئے تو ہم نے وہ درخت تلاش کیا مگر اس کا پتہ نہ چلا، پھر سعید بن مسیب نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ جو خود اس بیعت میں شریک تھے ان کو تو پتہ نہیں لگا تمہیں وہ معلوم ہوگیا عجیب بات ہے ؟ کیا تم اس سے زیادہ وقف ہو۔ (روح المعانی، معارف) اس سے معلوم ہوا کہ بعد میں لوگوں نے محض اپنے تخمینہ اور اندازہ سے کسی درخت کو معین کرلیا اور اس کے نیچے نماز پڑھنا شروع کردیا، فاروق اعظم کے علم میں یہ بات تھی کہ یہ درخت وہ نہیں ہے، اس کے علاوہ ابتلائے شرک کا خطرہ بھی لاحق تھا، جس کی وجہ سی اس درخت کو کٹوا دیا۔ خیبر درحقیقت ملک شام کے قریب ایک صوبہ کا نام ہے جس میں بہت سی بستیاں، قلعے اور باغات شامل ہیں، واٹا بھم فتحا قریبا اور فعجل لکھ ھذا میں فتح قریب اور نقد مال غنیمت سے فتح خیبر اور وہاں سے حاصل ہونے والا مال غنیمت مراد ہے، بعض روایات کے مطابق حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ کا قیام مدینہ منورہ میں صرف دس دن اور دوسری روایت کے مطابق بیس روز رہا اس کے بعد خیبر کے لئے روانہ ہوئے اور ابن اسحاق کی روایت کے مطابق آپ 6 ھ ذی الحجہ کی آخری تاریخوں میں مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے اور ماہ محرم 7 ھ میں آپ ﷺ خیبر کے لئے روانہ ہوئے، حافظ ابن حجر نے اسی کو راجح قرار دیا ہے
Ayahs 48:27–28

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہو گے اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی تو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرا دی

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے

ترجمہ : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا جو واقعہ کے مطابق ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ کے سال حدیبیہ کی طرف نکلنے سے پہلے خواب میں دکھایا کہ آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب امن وامان کے ساتھ مکہ میں داخل ہو رہے ہیں اور حلق کرا رہے ہیں اور قصر کرا رہے ہیں، آپ ﷺ نے خواب کی اطلاع اپنے اصحاب کو دی تو آپ کے اصحاب بہت خوش ہوئے، چناچہ جب آپ کے اصحاب آپ کے ساتھ نکلے اور کافروں نے ان کو حدیبیہ میں روکا اور واپس ہوئے اور یہ واپسی ان پر گراں گزری اور بعض منافقین نے شک کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، اس کا قول بالحق، صدق کے متعلق ہے یا رئویا سے حال ہے اور رئویا کا مابعد اس (رئویا) کی تفسیر ہے، تم لوگ مسجد حرام میں انشاء اللہ انشاء اللہ تبرکا ہے امن وامان کے ساتھ، ضرور داخل ہو گے تمہیں کسی وقت بھی خوف نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ کو صبح میں جس خیر کا علم ہے تم اس کو نہیں جانتے اس دخول سے پہلے ایک قریبی فتح دیدی، وہ فتح خیبر ہے اور خواب (کی تعبیر) آئندہ سال واقع ہوئی، وہ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین حق کو تمام باقی ادیان پر غالب کر دے اور اللہ کافی گواہ ہے کہ آپ کو مذکورہ چیزیں دے کر بھیجا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا محمد اللہ کے رسول ہیں، محمد متبداء ہے (اور رسول اللہ) اس کی خبر اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں یعنی آپ کے رفقاء مومنین (والذین معہ) مبتداء ہے، اشداء اس کی خبر ہے، کافروں پر سخت کہ ان پر رحم نہیں کرتے اور آپس میں رحم دل ہیں (رحماء بینھم) خبر ثانی ہے یعنی آپس میں مہربانی اور محبت رکھتے ہیں، جیسا کہ باپ کا بیٹے کے ساتھ برتائو ہوتا ہے، تو ان کو رکوع سجے کرتے ہوئے دیکھ گا رکعا، سجدا دونوں حال ہیں، اللہ کے فضل اور رضا مندی کی جستجو میں لگے رہتے ہیں جملہ متعلقہ ہے اور (یبتغون) یطلبون کے معنی میں ہیں ان کا نشان (یعنی) انی کی علامت ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے (سیما ھم) مبتداء ہے (فی وجوھھم) اس کی خبر، وہ ایک نور ہے، اور ایک سفیدی ہے جس کے ذریعہ آخرت میں پہچانے جائیں گے کہ ان لوگوں نے دنیا میں سجدہ کیا، (من اثر السجود) اسی سے متعلق ہے جس کے ذریعہ آخرت میں پہچانے جائیں گے کہ ان لوگوں نے دنیا میں سجدہ کیا، (من اثر السجود) اسی سے متعلق ہے جس سے خبر متعلق ہے اور وہ کائنۃ ہے اور نیز (من اثر السجود) خبر کے متعلق (کائنۃ) کی اس ضمیر سے حال قرار دیا گیا ہے جو خبر کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہی یعنی وصف مذکور تورات میں ان کی صفت ہے (ذلک مثلھم) مبتداء و خبر ہیں اور انجیل میں ان کی مثال اس کھیتی جیسی بیان کی گئی ہے کہ جس نے (انکھوا) کونپل نکالی ہو (مثلھم فی الانجیل) مبتداء ہے اور کزرع اخرج الخ اس کی خبر ہے اور شطاہ طاء کے سکون اور فتحہ کے ساتھ ہے، شطاہ ای فراخہ، یعنی اس نے اپنا چوزہ نکالا، مراد ابتدائی کونپل ہے، پھر اس کو قوی کیا اور اس کی مدد کی (فاذرہ) مد اور بلا مد دونوں طریقہ پر ہے، اس کو مضبوط کیا پھر موٹا کیا، پھر اپنے تنے پر کھڑے ہوگئی یعنی اپنی جڑ پر سوق، ساق کی جمع ہے کاشتکاروں کو خوش کرتی ہے یعنی ان کھیتی کرنے والوں کو اپنے حسن سے صحابہ کرام کو کھیتی سے تشبیہ دی اس لئے کہ ان کی ابتداء قلت اور ضعف سے ہوئی پھر وہ کثیر ہوگئے اور بہتر طریقہ پر طاقتور ہوگئے، تاکہ کافر ان سے جلیں (لیغیظ) محذوف سے متعلق ہے اور اس حذف پر اس کا ماقبل دلالت کرتا ہے یعنی صحابہ کو کھیتی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے آپ کے رفقاء میں سے جو لوگ ایمان لائے اللہ تعالیٰ نے ان سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے (منھم) من بیان جنس کے لئے ہے نہ کہ تبعیض کے لئے اس لئے کہ تمام صحابہ مذکورہ صفت کے ساتھ متصف ہیں اور اجر عظیم سے مراد جنت ہے اور وہ دونوں یعنی (مغفرت اور جنت) ان کے بعد والوں کے لئے بھی آیات میں مذکور ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بالحق یہ مصدر محذوف کی صفت ہے ای صدقا متلبسا بالحق قولہ : لقد صدق اللہ، لقد میں لام جواب قسم کی تمہیں کے طور پر ہے، قسم محذوف ہے اور لتدخلن جواب قسم ہے جس پر لام توطیہ و تمہیں دلالت کر رہا ہے۔ قولہ : للتبرک یعنی انشاء اللہ تبرک وتعلیم کے لئے ہے نہ کہ تعلیق کے لئے قولہ : للتبرک اس جملے کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : انشاء اللہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مخبر خبر کے بارے میں متردد ہے اور یہاں مخبر اللہ تعالیٰ ہیں، اللہ کے لئے تردد و محال ہے۔ جواب : ہاں انشاء اللہ تبرک اور تعلیم کے لئے ہے نہ کہ تعلیق کے لئے لہٰذا کوئی اعتراض نہیں۔ قولہ : امنین اور محلقین اور مقصرین یہ تینوں تدخلن کے وائو محذوف سے حال ہیں، اس صورت میں یہ حال مترادفہ ہوں گے یا محلقین اور مقصرین دونوں آمنین کی ضمیر سے حال ہیں، اس صورت میں حال متداخلہ ہوں گے۔ قولہ : حالان مقدران یہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض : حال اور ذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے حالانکہ دخول کا زمانہ جو کہ حالت احرام کا زمانہ ہے اور ہے اور محلقین ومقصرین یعنی حلق و قصر کا زمانہ اور ہے۔ جواب :۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دونوں حال مقدرہ ہیں یعنی وہ اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے لئے حلق اور قصر مقدر کردیا گیا ہے۔ قولہ : لاتخافون جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے خواہ تدخلن کی ضمیر سے یا آمنین کی ضمیر سے، یا محلقین کی ضمیر سے یا مقصرین کی ضمیر ہے۔ قولہ : لاتخافون ابدا سوال : ابدا کے اضافہ سے کیا فائدہ ہے ؟ جواب :۔ جواب کا ماحصل یہ ہے کہ آمنین کے بعد لاخافون کا اضافہ تکرار معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ جو مامون ہوتا ہے وہی بےخوف بھی ہوتا ہے، اس تکرار کے شبہ کو دفع کرنے کے لئے ابدا کی قید کا اضافہ کیا، اس لئے کہ آمنین کا مطلب تو یہ ہے کہ حالت احرام میں تم مامون ہو اس لئے کہ مشرکین مکہ، محرم سے تعارض نہیں کرتے تھے اسی طرح حرم میں داخل ہونے والے سے بھی تعارض نہیں کرتے تھے، مگر احرام سے فارغ ہونے کے بعد کی اور اسی طرح حرم سے نکلے کے بعد کی کوئی گارنٹی نہیں تھی کہ اب بھی یہ لوگ مامون رہیں گے تو لاتخافون ابدا کہہ کر اشارہ کردیا کہ حالت احرام اور غیر حالت احرام نیز حرم اور خارج حرم ہر صورت میں ہمیشہ مامون و بےخوف رہیں گے۔ قولہ : من دون ذلک ای الدخول قولہ : متعاطفون، متوادون، دونوں اسم فاعل جمع مذکر غائب، تعاطف اور توادد (تفاعل) سے ماخوذ ہیں آپس میں مہربانی کرنا، محبت کرنا۔ قولہ : فی وجوھھم یہ کائنۃ محذوف کے متعلق ہو کر سیماھم مبتداء کی خبر ہے۔ قولہ : من اثر السجود بھی کائنۃ محذوف کے متعلق ہے اور من اثر السجود میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کائنۃ کی ضمیر سے حال ہو کر محلا منصوب ہو۔ قولہ : ذلک مبتداء اول ہے اور مثلھم مبتداء ثانی ہے اوریالتوراۃ مبتداء ثانی کی خبر ہے، مبتداء اور خبر مل کر جملہ ہو کر مبتداء اول کی خبر ہے۔ قولہ : مثلھم فی الانجیل مبتداء ہے، کزرع اخرج شطاء اس کی خبر ہے۔ قولہ : شطاء شطء فراخ النبات کو کہتے ہیں یعنی تخمک سے ابتداء نکلنے والی نوک، جس کو انکھوا یا سوئی کہتے ہیں، انکھوا کہنے کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ سوئی تخم کے اس حصہ سے نکلتی ہے جو تخم کی آنکھ کہلاتی ہے جو کہ اکثر تخموں میں بہت نمایاں ہوتی ہے مثلاً کھجور کی گٹھلی یا ناریل کی آنکھ، عربی میں اس کو فراخ کہتے ہیں، فراخ اور فراخ دراصل پرندے کے چوزے کو کہتے ہیں جس طرح چوزہ پرند سے نکلنے کی وجہ سے چوزہ کہلاتا ہے اسی طرح انکھو اتخم سے نکلنے کی وجہ سے بمنزلہ فراخ کے ہوتا ہے۔ تفسیر و تشریع شان نزول : جب صلح حدیبیہ مکمل ہوگئی اور یہ بات طے ہوگئی کہ اس وقت بغیر دخول مکہ اور بغیر ادائے عمرہ کے واپس مدینہ جانا ہے، اور صحابہ کرام کا یہ عزم عمرہ رسول اللہ ﷺ کے خواب کی بناء پر ہوا تھا، جو ایک طرح کی وحی تھی، اب بظاہر اس کا خلاف ہوتا ہوا دیکھ کر بعض صحابہ کرام کے دلوں میں یہ شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے کہ (معاذ اللہ) آپ کا خواب سچا نہ ہوا، دوسری طرف کفار و مشرکین نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ تمہارے رسول کا خواب صحیح نہ ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی لقد صدق اللہ رسولہ الرئویا بالحق (معارف) لقد صدق اللہ رسولہ الرئویا بالحق واقعہ حدیبیہ سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں مسلمانوں کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہو کر طواف وعمرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، نبی کا خواب بھی وحی ہی ہوتا ہے تاہم اس خواب میں یہ تعیین نہیں تھی کہ یہ اسی سال ہوگا، لیکن نبی ﷺ اور صحابہ اسے بشارت عظیمہ سمجھتے ہوئے عمرہ کے لئے فوراً ًیار ہوگئے اور اس کے لئے عام منادی کرا دی اور نکل پڑے بالاخر حدیبیہ میں جو کہ حدود حرم سے متصل اور نہایت قریب ہے بلکہ اس کا بعض حصہ حدود حرم میں داخل ہے، صلح ہوئی، واقعہ کی تفصیل سورت کے شروع میں گذر چکی ہے، اس خواب کی تعبیر اللہ کے علم میں آئندہ سال مقدر تھی چناچہ آئندہ سال 7 ھ میں مسلمانوں نے نہایت امن کے ساتھ عمرہ کیا، اس عمر ہکو عمرۃ القضاء کہتے ہیں۔ اس عمرہ میں آپ ﷺ نے قصر کرایا اور حجتہ الوداع میں حلق کرایا، مسلمان چونکہ صلح حدیبیہ سے ناخوش اور کبیدہ خاطر تھے، وجہ اس کی یہ تھی کہ اس صلح کی مصلحتوں سے مسلمان ناواقف اور بیخبر تھے، آنحضرت ﷺ کی دور میں نگاہیں جو کچھ پس پردہ دیکھ رہی تھیں وہ عام صحابہ سے بلکہ ان میں سے اچھے اچھے مدبر اور ذی فہم صحابہ کی نظروں سے بھی اس صلح کے فوائد پوشیدہ اور مخفی تھے جس کی وجہ سے وہ تذبذب اور تردد کا شکار ہوگئے۔ نکتہ : خواب کی تعبیر میں اشتباہ پیغمبر سے محال نہیں ہے، ورنہ تو آپ اول سال عمرہ کے لئے نہ نکلتے، اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کے الہامات اور خواب بدرجہ اولی محتمل ہیں۔ (خلاصۃ التفاسیر) صحیح بخاری میں ہے کہ اگلے سال عمرۃ القضاء میں حضرت معاویہ ؓ نے آنحضرت ﷺ کے موئے مبارک قینچی سے تراشے تھے۔ مسئلہ : قصر سے حلق افضل ہے، مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حدیبیہ میں فرمایا، اے اللہ حلق کرانے والوں پر رحم فرما، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اور قصر کرنے والوں پر، فرمایا یا اللہ ! حلق کرنے والوں پر رحم فرما پھر صحابہ نے عرض کیا اور قصر کرنے والوں پر تو آپ نے فرمایا : قصر کرنے والوں پر بھی رحم کر۔ مسئلہ : اخبار میں انشاء اللہ کہنا ممنوع نہیں ہے مگر معاہدات اور اقرار میں دیانتہ بہتر اور قضاء بوجہ احتمال تعلیق مناسب نہیں۔
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد ﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل (اے دیکھنے والے) تو انکو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سربسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے

محمد رسول اللہ قرآن پاک میں عموماً آنحضرت ﷺ کا نام لینے کے بجائے آپ کا ذکر اوصاف و القاب کے ساتھ کیا گیا ہے، خصوصاً نداء کے موقع پر یا ایھا النبی، یا ایھا الرسول، یا ایھا الزمل وغیرہ سے خطاب کیا گیا ہے، بخلاف دیگر انبیاء کے کہ ان کے نام کے ساتھ ندا کی گئی ہے، مثلاً یا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام، یا موسیٰ (علیہ الصلوۃ والسلام) یا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسالم پورے قرآن میں آپ کا اسم گرامی محمد کی صراحت کے ساتھ چار جگہ ذکر کیا گیا ہے، جہاں آپ کا نام لینے میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہے، اس مقام پر مصلحت یہ تھی کہ حدیبیہ کے صلحنامہ میں آپ ﷺ کے نام کے ساتھ حضرت علی ؓ نے رسول اللہ لکھ دیا تو مشرکین نے اس کو مٹا کر محمد بن عبداللہ لکھوانے پر اصرا ر کیا، رسول اللہ ﷺ نے بحکم ربانی اس کو قبول کرلیا، حق تعالیٰ نے اس مقام پر خصوصیت سے آپ کے نام کے ساتھ رسول اللہ کا لفظ قرآن میں لا کر اس کو دائمی بنادیا جو قیامت تک اسی طرح پڑھا جائے گا۔ (معارف) صحابہ کرام ؓ کے فضائل : والذین معہ آنحضرت ﷺ کی رسالت اور آپ کے دین کے سب دینوں پر غالب کرنے کا ذکر فرما کر صحابہ کرام کے اوصاف و فضائل اور خاص علامات کا ذکر تفصیل سیف رمایا ہے، یہاں آپ ﷺ کے اصحاب کے فضائل کا بیان ہے اگرچہ اس سے پہلے اصلتہ اور براہ راست خطاب شرکاء سفر حدیبیہ اور بیعت رضوان کو تھا، لیکن الفاظ کے عموم میں سب ہی صحابہ کرام شامل ہیں، اس لئے کہ صحبت اور معیت سب کو حاصل ہے۔ محمد رسول اللہ والذین معہ (الآیۃ) میں چار امور مذکور ہیں (1) آپ ﷺ کی رسالت (2) اصحاب کے فضاء و اخلاق (3) صحابہ کے وہ اوصاف جو کتب سماوی قدیم میں مذکور ہیں (4) عام مسلمانوں سے اجر عظیم کا وعدہ۔ یہ آیت، اہل سنت او الجماعت کے اس دعوعے پر قطعی حجت ہے کہ تمام صحابہ نہایت مخلص تھے اور ازوادل تا آخر ایمان و اخلاص پر قائم رہے اور ان حضرات کے خلاف کو جو صحابہ کے اعداء اور مخلاف ہیں برہان قوی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا محمد رسول اللہ والذین معہ اور جو آپ کے ساتھ ہیں کفار پر سخت اور آپس میں نرم ہیں تو انہیں رکوع اور سجدے میں دیکھتا ہے اس طریقہ پر کہ محض فضل و رضائے الٰہی مطلوب ہے، ان کے چہروں سے آثار سجود اور برکات نماز ظاہر ہیں، یہ مثال ان کی تورات میں ہے اور انجیل میں ان کی مثال ایک کھیت کی سی ہے جو سوئی اگائے پھر اسے مضبوط کرے پھر تناور اور قوی ہو پھر اپنے تنے پر استاذہ اور قائم ہوجائے، کسان کو یہ اگنا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ آیت باعتبار اپنے عموم خطاب کے تمام ائمہ ہدیٰ اور خلفاء حضرت مصطفیٰ کو شامل ہے، محمد مبتداء ہے، رسول اللہ جملہ کر خبر (مدارک) والذین اپنے صلہ سے مل کر مبتداء اور اوصاف ذیل اس کی خبر ہیں، پھر یہ عام ہے تمام امت کو جو اوصاف مذکورہ سے متصف ہو مگر اس کے چار طبقے ہیں (1) تمام امتی قیامت تک، مذکورہ اوصاف سے متصف ہونے کے بعد مگر تبعاً وضمناً (2) اصحاب رسول عموماً یہ بھی اوصاف مذکورہ کے ساتھ متصف ہونے کے بعد اصالۃ و قصداً داخل ہیں، اس لئے کہ معیت حقیقی ان ہی کے لئے ہے (3) اصحاب بیعت رضوان، شان نزول کا مصداق ہونے کی وجہ سے قطعاً یقینا ان اوصاف سے متصف اور ان انعامات کے موعود ہیں۔ قولہ : بعض ارباب تاریخ اور اہل خلاف کا ایسا دعویٰ جو اصحاب بیعت کو اوصاف مذکورہ سے عاری کرے وہ یقینا مردود ہے۔ تفاسیر مشہور کی رو سے معہ سے حضرت ابوبکر صدیق مراد ہیں جن کی معیت نص صریح سے ثابت ہے، فرمایا اذا قال لصاحبہ جب پیغمبر علی الصلوۃ والسلام نے اپنے صحاب سے کہا : آپ ﷺ نے ابوبکر کے بارے میں فرمایا ولکن اخی و صاحبی (بخاری) پھر معیت سے مراد عام ہے خواہ آپ کی حیات مبارک ہمیں آپ کے ساتھ رہنا یا آپ ﷺ کی اتباع سے کبھی جدا نہ ہونا، اس بناء پر قیامت تک جتنے مومن ہوں گے وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ ایک درجہ کی معیت رکھتے ہیں اشداء یہ حضرت عمر ؓ سے کنایہ ہے جن کی شدت امر دین میں مسلم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا شیطان عمر کے سایہ سے بھاگتا ہے (بخاری) اور شدت سے مرا جہاد و قتال میں سختی ہے، علی الکفار میں کفار عبارۃ اور نفس و شیطان دلالتۃ اور ہر نافرمان، فاس عاصی، قیاسا شامل ہے، علت مشترکہ کی وج ہ سے اس میں شامل ہے رحماء بڑے رحم دل اس میں حضرت عثمان غنی ؓ کی طرف اشارہ ہے جن کا حلم اور رحم ضرب المثل ہے، رحماء بڑے رحم دل اس میں حضرت عثمان غنی ؓ کی طرف اشارہ ہے جن کا حلم اور رحم ضرب المثل ہے، بینھم سے اگر مسلمان مراد ہوں تو عموم ترحم ظاہر ہے اور اگر اس میں تمام مخلوق کو شامل کرلیا جائے اور ماسوائے امور دین کے دوسری باتوں میں واجب الرحم ہوں تو بھی ہوسکتا ہے، فرمایا ارحموا من الارض یرحمکم من فی السماء کعا سجدا یہ کنایہ ہے حضرت علی ؓ سے جن کی نماز نے ان کی ہستی، ہستی لازوال میں نیست وفنا کردی تھی پھر ہر نمازی اس میں داخل ہے۔ نکتہ :” شطا ‘ سے مراد اوبکرب صدیق ؓ ہیں اور ” آزر “ سے حضرت عمر ؓ مراد ہیں اور ” استغلاظ “ سے حضرت عثمان ؓ تعالیٰ مراد ہیں اور ” استواء “ سے حضرت علی ؓ کی طرف اشارہ ہے۔ (خلاصۃ التفاسیر ملخصاً ) اس پوری آیت کا ایک ایک جز صحابہ کرام ؓ عنھم کی عظمت و فضیلت، اخروی مغفرت اور اجر عظیم کو واضح کر رہا ہے، اس کے بعد بھی صحابہ کرام کے انیان میں شک کرنے والا مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے تو اسے کیوں کر دعوائے مسلمانی میں سچا سمجھا جاسکتا ہے۔