49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو (کیونکہ) وہ (سب کچھ) سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

[1] یعنی جس معاملے میں اللہ اور رسول سے حکم ملنے کی توقع ہو اس کا فیصلہ پہلے ہی سے آگے بڑھ کر اپنی رائے سے نہ کر بیٹھو بلکہ حکم الٰہی کا انتظار کرو۔ جس وقت پیغمبر ﷺ کچھ ارشاد فرمائیں خاموشی سے کان لگا کر سنو، ان کے بولنے سے پہلے خود بولنے کی جرأت نہ کرو اور جو حکم ادھر سے ملے بےچوں و چراں اس پر عمل پیرا ہوجاؤ، اور اپنی رائے کو ان کے احکام پر مقدم نہ رکھو اب آپ ﷺ کے بعد اس حکم پر عمل یوں ہوگا کہ پہلے تو ہر مسئلے میں آپ کے قول یا فعل کی صراحت تلاش کی جائے گی اور جب صراحت نہ ملے گی تو نصوص منقول (یعنی قرآن اور سنت رسول ﷺ میں غور و فکر کر کے انہی سے استنباط کیا جائے گا۔ [2] یعنی اللہ اور رسول ﷺ کی سچی فرمانبرداری اسی وقت میسر ہوسکتی ہے جب اللہ کا خوف دل میں ہو۔
Ayahs 49:2–4

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنی آواز کو پیغمبر کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ اس کے ساتھ بہت زور سے بات کرو جس طرح تم (آپس میں) ایک دوسرے سے زور زور سے بولا کرتے ہو، (کہیں ایسا نہ ہو، ) کہ تمہارا کیا کرایا اکارت ہوجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کے رسول کے روبرو (باتیں کرتے ہوئے) اپنی آواز کو پست رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ (کی افزائش) کے لئے پرکھ لیا ہے۔ ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) جو لوگ تمہیں (تمہارے رہنے کے) حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر (تو ایسے ہیں جن) کو (مطلق) عقل نہیں۔

[3] یعنی اہل ایمان کو چاہئے کہ آپ ﷺ سے بات چیت میں آپ ﷺ کا انتہائی احترام ملحوظ رکھیں اور اپنی آواز آپ ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کریں۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی احادیث سننے کے وقت بھی یہی ادب چاہئے۔
Ayah 49:5

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ (اتنا) صبر کرتے کہ تم (خود حجرے سے نکل کر) ان کے پاس آتے تو ان کے حق میں بہترہوتا اور اللہ بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے (اس لئے اب بھی توبہ کرلیں تو معاف کر دئیے جائیں گے) ۔

[4] روایات میں ہے کہ قبیلہ بنی تمیم کا ایک وفد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آیا۔ رسول اکرم ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے بدتہذیبی کے ساتھ نام لے لے کر آپ کو پکارنا شروع کیا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور امت کو ہمیشہ کے لئے ادب کی تعلیم مل گئی۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو (اس کی) تحقیق کرلیا کرو، (ایسا نہ ہو) کہ نادانی سے کسی قوم پر جا چڑھو پھر تمہیں اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔

[5] فاسق سے مراد ہے شریعت کے حدودوقیود سے بےپروا مسلمان۔
Ayahs 49:7–8

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول (موجود) ہے اگر بہت سے معاملات میں وہ تمہارا کہنا مان لیا کرے تو (الٹے) تم ہی مشکل میں پڑجاؤ۔ لیکن اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی ہے اور اس کو تمہارے دلوں میں عمدہ کر دکھایا ہے اور کفر، فسق اور عصیان سے تم کو متنفر کردیا ہے۔ ایسے ہی لوگ نیک چلن ہیں۔

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

اللہ کے فضل و انعام سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

[6] یہ لفظ یوں تو قرآن میں کفر کی جگہ بھی استعمال ہوا ہے لیکن کیونکہ یہاں کفر کے ساتھ آیا ہے اس وجہ سے اس سے اللہ تعالیٰ کی وہ حکم عدولی ہوگی جس کا ارتکاب کوئی شخص ایمان کا مدعی ہوتے ہوئے کرے۔ [7] عصیان سے مراد چھوٹے گناہ ہیں۔
Ayahs 49:9–10

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان مصالحت کرا دو ۔ پھر اگر ان میں سے ایک (گروہ) دوسرے پر زیادتی کرے تو جو زیادتی کرتا ہے (تم بھی) اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے۔ پھر اگر وہ رجوع کرے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ مصالحت کرا دو اور انصاف کو ملحوظ رکھو۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مسلمان تو (آپس میں بھائی) بھائی ہیں لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان مصالحت کرا دو اور اللہ (کے غضب) سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

[8] کیونکہ اس لڑائی کا حکم اللہ نے دیا ہے اس لئے واجب ہے اور جہاد کے حکم میں ہے۔ اس حکم کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو طاقت استعمال کر کے زیادتی کا ازالہ کرنے پر قادر ہوں۔ [9] اللہ کے حکم سے مراد یہ ہے کہ کتاب و سنت کی رو سے جو بات حق ہو اسے باغی گروہ قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے۔[10] یہ آیت مسلمانوں کی باہمی جنگ کے بارے میں شرعی قانون کی اصل بنیاد ہے۔ اس قانون کی کوئی تشریح رسول اللہ ﷺ کی سنت میں نہیں ملتی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان جنگ کی کبھی نوبت ہی نہیں آئی۔ اس قانون کی مستند تشریح اس وقت ہوئی جب سیّدنا علی ؓ کے عہد خلافت میں خود مسلمانوں کے درمیان لڑائیاں ہوئیں۔ اس وقت چونکہ بکثرت صحابہ کرام موجود تھے اس لئے ان کے عمل اور ان کے بیان کردہ احکام سے اسلامی قانون کے اس شعبے کا مفصل ضابطہ مرتب ہوا۔ خصوصیت کے ساتھ سیّدنا علی ؓ کا اسوہ اس معاملے میں تمام فقہاء کا اصل مرجع ہے۔ اس ضابطے کا ضروری خلاصہ درج ذیل ہے :۔ (الف) جب لڑنے والے دو گروہ کسی مسلمان حکومت کی رعایا ہوں۔ اس صورت میں ان کے درمیان صلح کرانا یا یہ فیصلہ کرنا کہ ان میں سے زیادتی کرنے والا گروہ کون ہے اور طاقت سے اس کو حق کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کرنا حکومت کا فریضہ ہے۔ (ب) لڑنے والے فریقین دو بہت بڑے طاقتور گروہ ہوں یا دو مسلمان حکومتیں ہوں اور دونوں کی لڑائی دنیا کی خاطر ہو۔ اس صورت میں اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ اس فتنے میں حصہ لینے سے قطعی اجتناب کریں اور فریقین کو اللہ کا خوف دلا کر جنگ سے باز رکھنے کی نصیحت کرتے رہیں۔ (ج) مسلم حکومت کے شہریوں کا گروہ جس نے حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے خروج کیا ہو۔ ایسا خروج کرنے والے گروہ کے لئے فقہاء '' باغی '' کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ باغی گروہ کی متعدد اقسام ہوسکتی ہیں :۔ (1) جس کے پاس خروج کے لئے کوئی شرعی تاویل نہ ہو۔ ایسے گروہ کے خلاف حکومت کی جنگ بالاتفاق جائز ہے اور اس کا ساتھ دینا اہل ایمان پر واجب ہے قطع نظر اس سے کہ حکومت عادل ہو یا نہ ہو۔ (2) جو ایک عادل حکومت کے خلاف جنگ کرے، اس صورت میں خواہ اس کے پاس کوئی شرعی تاویل ہو یا نہ ہو اس گروہ سے جنگ کرنے میں حکومت حق بجانب ہے اور اہل ایمان پر اس کا ساتھ دینا واجب ہے۔ (3) جو ایک ظالم حکومت کے خلاف خروج کرے جس کی امارت جبراً قائم ہوئی ہو اور جس کے امراء فاسق ہوں اور خروج کرنے والا گروہ عدل اور حدود اللہ کی اقامت کے لئے اٹھا ہو اور اس کا ظاہر حال یہ بتارہا ہو کہ وہ صالح گروہ ہے۔ جمہور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ جس امیر کی امارت ایک دفعہ قائم ہوچکی ہو اور مملکت کا امن وامان اور نظم و نسق اس کے انتظام میں چل رہا ہو اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے الاّیہ کہ وہ کفر صریح کا ارتکاب کرے۔ باغیوں سے لڑائی میں جن ضوابط کو ملحوظ رکھا جائے گا وہ نبی ﷺ کے اس ارشاد پر مبنی ہیں :۔ (1) ان کے زخمیوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا۔ (2) ان کے اسیروں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ (3) ان کے بھاگنے والوں کا پیچھا نہیں کیا جائے گا۔ (4) ان کا مال غنیمت کے طور پر تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ اس ضابطے کا دوسرا ماخذ جس پر تمام فقہاء اسلام نے اعتماد کیا ہے، سیّدنا علی ؓ کا قول اور عمل ہے۔ آپ ؓ نے جنگ جمل میں فتح یاب ہونے کے بعد اعلان کیا کہ بھاگنے والوں کا تعاقب نہ کرو، زخمیوں پر حملہ نہ کرو، گرفتار ہوجانے والوں کو قتل نہ کرو، جو ہتھیار ڈال دے اس کو امان دو ، لوگوں کے گھروں میں نہ گھسو اور عورتوں پر دست درازی نہ کرو خواہ وہ تمہیں گالیاں ہی کیوں نہ دے رہی ہو۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد (دوسرے) مردوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے کہ وہ (اللہ کے نزدیک) ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں (دوسری) عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنے دو اور نہ ایک دوسرے پر برے القاب چسپاں کرو۔ بہت ہی برا ہے ایمان (لانے) کے بعد فسق میں نام (پیدا کرنا) ۔ اور جو لوگ (ان باتوں سے) توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔

[11] یعنی کسی کے بارے میں برا لقب تجویز کرنے سے آدمی خود گنہگار ہوتا ہے۔ اس شخص کو تو واقع میں عیب لگایا نہ لگا لیکن اس کا نام بدتہذیب، فاسق، مردم آزار پڑگیا۔ خیال کرو '' مومن '' کے بہترین لقب کے بعد یہ نام کیا اچھے معلوم ہوتے ہیں ؟
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، (لوگوں کے بارے میں) بہت گمان کرنے سے بچتے رہو، (کیونکہ) بعض گمان (داخل) گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ بھلا تم میں سے کوئی (اس بات کو) گوارا کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ؟ تو یہ (یقینا) تم کو گوارا نہیں (تو غیبت کیوں گوارا ہو) ۔ اور اللہ (کے غضب) سے ڈرتے رہو، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

[12] یعنی آدمی اپنے دل کو دوسروں سے متعلق بدگمانیوں کی پرورش گاہ نہ بنا لے۔ اہل ایمان کو اسلام نے اس بارے میں یہ رہنمائی دی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان رکھیں جب تک کسی کے بارے میں ثابت نہ ہوجائے کہ وہ نیک گمان کا سزاوار نہیں ہے۔ یہ نیک گمانی اس ایمانی اخوت کا لازمی تقاضا ہے جس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔ [13] یعنی اوروں کے عیبوں اور کمزوریوں کی تلاش و جستجو میں نہ پڑو تاوقتیکہ کوئی ضرورت یا مصلحت ہی اس کی نہ آپڑے۔ چھپ کر باتیں سننا، لوگوں کے نجی خطوط پڑھنا، ہمسایوں کے گھروں میں جھانکنا یہ سب تجسس میں داخل ہیں۔ [14] غیبت کے معنی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی بیان کرنے کے ہیں۔ پیٹھ پیچھے کے مفہوم ہی میں یہ بات داخل ہے کہ غیبت کرنے والا چاہتا ہے کہ اس کے اس فعل کی خبر اس شخص کو نہ ہو جس کی برائی وہ بیان کر رہا ہے۔ اس خواہش کی بناء پر وہ غیبت صرف ان لوگوں کے سامنے کرتا ہے جو یا تو اس کے ہم راز و ہم خیال ہیں یا کم از کم ان سے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ اس شخص کے ہمدرد ہوں گے جس کی غیبت وہ کر رہا ہے اور اس کے سامنے یہ راز فاش کردیں گے۔ غیبت کی یہی خصوصیت اس کو ایک نہایت مکروہ فعل بناتی ہے، اس لئے کہ اس سے نہ کسی حق کی حمایت کا مقصد حاصل ہوتا ہے نہ کسی اصلاح کی توقع ہوسکتی ہے بلکہ ایک بزدل شخص کسی کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔[15] اس آیت میں غیبت کو مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے اور وجوہ تشبیہ یہ ہیں : اول بیخبر ی کہ جیسے مردے کو اپنی بوٹیوں کے نوچے جانے کی خبر نہیں ہوتی اسی طرح اس شخص کو جسے پیچھے برا کہا جاتا ہے غیبت کی خبر نہیں ہوتی۔ دوسرے یہ کہ جس طرح ایک آدم خور نے لاش کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھا لیں اسی طرح غیبت کرنے والے نے اپنے بھائی کی عزت کا خون پی لیا۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

لوگو، ہم نے تم (سب) کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور (پھر) تم کو کنبوں اور قبیلوں میں (تقسیم) کردیا تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو (ورنہ) حقیقت میں اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بیشک اللہ (سب کچھ) جاننے والا (اور) باخبر ہے۔

[16] یعنی آدم اور حوا سے۔ [17] یعنی انسان کا بڑا اور چھوٹا ہونا یا معزز یا حقیر ہونا ذات پات اور خاندانی نسب سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ جو شخص جس قدر نیک خصلت اور پرہیزگار ہوگا اسی قدر اللہ کے ہاں معزز و مکرم ہے۔ نسب کی حقیقت تو یہ ہے کہ سارے انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ شیخ، سید، مغل، پٹھان، صدیقی، فاروقی، انصاری سب کا سلسلہ آدم و حوا پر منتہی ہوتا ہے۔ ذاتیں اور خاندان اللہ تعالیٰ نے محض تعارف و شناخت کے لئے مقرر کئے ہیں۔ شرف و فضیلت کا اصل معیار نسب نہیں تقویٰ و طہارت ہے۔ اسی بات کو نبی ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔ '' لوگو، تمام انسان بس دو ہی حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ ایک نیک اور پرہیزگار جو اللہ کی نگاہ میں عزت والا ہے، دوسرا فاجر اور شقی جو اللہ کی نگاہ میں ذلیل ہے۔ ورنہ سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا ''۔
Ayahs 49:14–18

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

(یہ) بدوی عرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ (اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں (یوں) کہو کہ ہم مسلمان ہوگئے۔ اور ایمان کا تو ہنوز تمہارے دلوں میں گزر تک نہیں ہوا ہے۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے عملوں (کے اجر) میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ بیشک اللہ (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

مومن تو بس وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر (اس میں کبھی) شک نہ کیا اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ (حقیقت میں) یہی سچے (مسلمان) ہیں۔

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان مدعیان ایمان سے) کہو، کیا تم اللہ کو اپنے دین کی خبر دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کے حال سے باخبر ہے۔

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے۔ تم (ان سے) کہو کہ مجھ پر اپنے اسلام (لانے) کا احسان نہ رکھو، بلکہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی ہدایت دی اگر تم (واقعی دعویٰ اسلام میں) سچے ہو۔

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

یقینا اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب (کی باتوں) کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

[18] یعنی ان کا یہ کہنا کہ ہم ایمان لائے اس کا حوالہ یہاں محض ان کے اقرار ایمان کی حیثیت سے نہیں دیا گیا ہے بلکہ جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا یہ بات وہ بطور احسان کہتے تھے۔ [19] یعنی تمہارا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ تم ایمان لائے ہو۔ البتہ تم یہ دعویٰ کرسکتے ہو کہ تم نے اطاعت کرلی ہے۔ لفظ '' اسلام '' یہاں اپنے لغوی مفہوم یعنی ظاہری اطاعت کے معنی میں ہے۔ اسلام کا حقیقی مفہوم تو اپنے آپ کو کلی طور پر اپنے رب کے حوالے کردینے کا ہے لیکن یہ ظاہری اطاعت کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہاں اسی دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ [20] یعنی اپنے ایمان کی حکایت زیادہ نہ بڑھاؤ۔ اس نے تمہارے دل کے دروازے پر دستک ضرور دی ہے لیکن وہ دل کے اندر داخل نہیں ہوا ہے۔ یہ ایمان اللہ کے ہاں معتبر نہیں۔ اللہ کے ہاں معتبر وہ ایمان ہے جو دل میں داخل ہو کر رگ و پے میں اتر جائے اور انسان کو اپنے رنگ میں اس طرح رنگ لے کہ اس سے الگ ہو کر سوچنا اور کوئی عمل کرنا اس کے لئے آسان نہ رہ جائے۔