48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 48:1

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بلاشبہ ہم نے تم کو ایک کھلی (واضح) فتح عطا فرمائی

[1] 6 ھ میں رسول اللہ ﷺ کو ایک خواب کی بناء پر کعبہ کی زیارت وعمرہ کا خیال پیدا ہوا اور آپ ﷺ تقریباً 1400 احرام پوش صحابہ کرام کے ساتھ مکہ روانہ ہوگئے۔ مکہ سے تین میل شمال میں ایک مقام حدیبیہ ہے۔ ابھی یہ قافلہ وہیں پہنچا تھا کہ اہل مکہ کی طرف سے مزاحمت کی اطلاع ملی۔ آپ ﷺ نے آگے بڑھنے کی بجائے وہیں قیام فرمایا اور ایک قاصد کے ہاتھ اہل مکہ کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم لڑنے کے لئے نہیں بلکہ عمرہ ادا کرنے کے لئے آئے ہیں۔ جواب نہ آیا تو آپ ﷺ نے سیّدنا عثمان ؓ کو اپنا سفیر بنا کر بھیجا۔ ان کی واپسی میں بھی تاخیر ہوئی اور یہ خبر مشہور ہوگئی کہ سفیر رسول ﷺ شہید کر دئیے گئے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تمام صحابہ سے جہاد کی بیعت لی جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔ مشرکین مکہ نے یہ سن کر سیّدنا عثمان ؓ کو واپس بھیج دیا۔ مکہ کے چند سردار بھی آپ کی خدمت میں آئے اور گفتگو کے بعد ایک صلح نامہ مرتب ہوا جس کی اکثر دفعات سے بظاہر مسلمانوں کی سبکی ہوتی تھی۔ اس لئے بعض صحابہ کو بہت جوش بھی آگیا، رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اب یہیں قربانی کر کے سر منڈواؤ اور احرام کھول دو مگر کوئی اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ حکم دیا مگر صحابہ پر رنج و غم اور دلی شکستگی کا ایسا شدید غلبہ تھا کہ انہوں نے اپنی جگہ سے حرکت نہ کی۔ رسول اللہ ﷺ کو اس پر سخت صدمہ ہوا اور اپنے خیمہ میں جا کر ام المومنین ام سلمہ ؓ سے اپنی کبیدہ خاطری کا اظہار فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا بس خاموشی کے ساتھ تشریف لے جاکر خود اپنا اونٹ ذبح فرمائیں اور حجام کو بلا کر اپنا سر منڈوا لیں اس کے بعد لوگ خود بخود آپ کے عمل کی پیروی کریں گے اور سمجھ لینگے کہ جو فیصلہ ہوچکا ہے وہ اب بدلنے والا نہیں ہے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا آپ ﷺ کے فعل کو دیکھ کر لوگوں نے قربانیاں کرلیں، سر منڈوائے، بال ترشوائے اور احرام کھول دئیے۔ اور بالآخر مشرکین ہی کی شرائط پر صلح نامہ مرتب ہوا اور آپ ﷺ مع صحابہ کرام کے احرام اتار کر حدیبیہ سے ہی مدینہ واپس آگئے۔ اس ظاہری شکست کو فتح ہی سے نہیں بلکہ '' فتح مبین '' سے تعبیر کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا کام تھا۔ کوئی بندہ تو ایسی خلاف ظاہر پیش خبری کی جرأت کر نہیں سکتا تھا۔ مؤرخین متفق ہیں کہ فتح مکہ، فتح خیبر، بلکہ آئندہ کی ساری اسلامی فتوحات کا سنگ بنیاد یہی صلح حدیبیہ ہے۔ اس صلح کے بعد کافروں اور مسلمانوں کے باہم اختلاط اور بےتکلف ملنے جلنے کا موقع ہاتھ آیا۔ کفار مسلمانوں سے اسلام کی باتیں سنتے اور مسلمانوں کے طور طریقے دیکھتے تو خود بخود ایک کشش اسلام کی طرف ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ سے فتح مکہ تک یعنی تقریباً دو سال کی مدت میں اتنی کثرت سے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے کہ کبھی اس قدر نہ ہوئے تھے۔ یہ جسموں کو نہیں دلوں کو فتح کرلینا اسی صلح حدیبیہ کی عظیم ترین برکت تھی۔
Ayahs 48:2–3

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ (تم اس فتح کے شکریے میں دین حق کی ترقی کے لئے اور زیادہ کوشش کرو اور) اللہ (اس کے صلے میں) تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے اور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور تم کو زبردست مدد سے نوازے۔

[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة محمد ﷺ حاشیہ 11 صفحہ 1229۔ [3] یہاں سیدھا راستہ دکھانے کا مطلب فتح و کامرانی کا راستہ دکھانا ہے۔
Ayahs 48:4–5

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہ ( اللہ) ہی تو تھا جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ وہ اپنے (پہلے) ایمان کے ساتھ (ایک) ایمان (اور) بڑھا لیں۔ اور آسمانوں اور زمین کے (تمام) لشکر اللہ ہی کے ہیں اور وہ (ہر وقت کی مصلحت کا) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

(اور یہ کام اس نے اس لئے کیا ہے) تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی اور وہ ان باغوں میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ اور (نیز یہ کہ) ان کی برائیاں ان سے دور کر دے اور اللہ کے نزدیک یہی بڑی کامیابی ہے۔

[4] سکینت سے مراد ہے سکون و اطمینان۔ [5] یعنی باوجود خلاف طبع ہونے کے رسول کے حکم پر جمے رہے، ضدی کافروں کے ساتھ ضد نہیں کرنے لگے۔ اس کی برکت سے ان کے ایمان کا درجہ بڑھا۔ انہوں نے اوّل بیعت جہاد کر کے ثابت کردیا تھا کہ ہم اللہ کی راہ میں لڑنے مرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ ایمان کا رنگ تھا۔ اس کے بعد جب پیغمبر اسلام نے مسلمانوں کے جذبات کے خلاف اللہ تعالیٰ کے حکم سے صلح منظور کرلی تو ان کے ایمان کا دوسرا رنگ تھا کہ اپنے پرجوش جذبات کو دبا کر اللہ کے رسول کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔
Ayahs 48:6–9

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور (یہ کام اس نے اس لئے بھی کیا ہے کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق (طرح طرح کی) بدگمانیاں رکھتے ہیں۔ اب یہ خود ہی مصیبت کے چکر میں آگئے، اللہ کا غضب ان پر (نازل) ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے ہیں آسمانوں اور زمین کے (تمام) لشکر اور وہ (بڑا) زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

(اے پیغمبر،۔ ) ہم نے تمہیں (دین حق کی) گواہی دینے والا، (نجات و فلاح کی) خوشخبری سنانے والا اور (انکاروبدعملی کے نتائج سے) خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ (اے لوگو، ) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، رسول کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح (وتقدیس) میں لگے رہو۔

[6] مصیبت کے چکر میں مشرکین یوں آگئے کہ چند ہی روز میں قتل و گرفتاری سے ہر طرح مغلوب و مقہور ہو کر رہے اور منافقین کی ساری عمر مسلمانوں کی ترقی و غلبے سے جل جل کر اور کڑھ کڑھ کر کٹی۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ (دراصل) اللہ سے بیعت کر رہے تھے ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ تو جو کوئی اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو اس عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے تو عنقریب اللہ اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

[7] اشارہ ہے اس بیعت کی طرف جس کا ذکر حاشیہ 1 میں گزر چکا ہے۔ [8] لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بیعت کرتے تھے۔ اس کو فرمایا کہ نبی کے ہاتھ پر بیعت کرنا گویا اللہ سے بیعت کرنا ہے کیونکہ حقیقت میں نبی اللہ ہی کی طرف سے بیعت لیتا ہے اور اسی کے احکام کی تعمیل و تاکید بیعت کے ذریعے سے کراتا ہے۔ بقول اقبال ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ۔
Ayahs 48:11–14

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے (اور سفر حدیبیہ میں شریک نہیں ہوئے) اب ضرور وہ تم سے کہیں گے کہ ہمیں اپنے مال (مویشی) اور اہل (و عیال کی ذمہ داریوں) نے مشغول رکھا تھا لہذا آپ ہمارے لئے مغفرت کی دعا کیجئے۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔ (ان سے) کہو کہ اگر اللہ تم کو نقصان یا نفع پہنچانا چاہے تو کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں تمہارے لئے کسی چیز کا بھی اختیار رکھتا ہے ؟ (مال و اولاد کا تو حیلہ ہی حیلہ ہے) بلکہ (بات یہ ہے کہ) جو کچھ بھی تم لوگ کرتے ہو اللہ اس سے (خوب) واقف ہے۔

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

(اور وہ جانتا ہے کہ تم مال و اولاد کی وجہ سے پیچھے نہیں رہے) بلکہ (مارے ڈر کے پیچھے رہے اور) تم نے سمجھا کہ پیغمبر اور مسلمان اپنے بال بچوں میں کبھی واپس آنے کے نہیں اور یہ (بات) تمہارے دلوں میں کھب گئی تھی اور تم (طرح طرح کی) بدگمانیاں کرنے لگے تھے اور (ایسے خیالات سے) تم لوگ آپ برباد ہوئے۔

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جو کوئی اللہ اور رسول پر ایمان نہ لائے تو (وہ جان لے کہ) ہم نے (ایسے) منکروں کے لئے (جہنم کی) دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور (یاد رکھو، ) آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے بخش دے، اور اللہ (بڑا) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے کرنے والا ہے۔

[9] مدینہ سے روانہ ہوتے وقت رسول اکرم ﷺ نے اپنی روانگی کا اعلان کردیا تھا اور مسلمانوں کو ساتھ چلنے کے لئے ابھارا تھا۔ اس پر بدوی عرب جن کے دلوں میں ایمان راسخ نہ ہوا تھا جان چھڑا کر بیٹھ رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ بھلا ہم ایسی قوم کی طرف جائیں گے جو محمد ﷺ کے گھر (مدینہ) آکر ان کے کتنے ساتھیوں کو قتل کرگئی۔ اب ہم اس کے گھر جا کر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالیں ؟ تم دیکھ لینا اب یہ اور ان کے ساتھی اس سفر سے واپس آنے والے نہیں۔ سب وہیں کھیت رہیں گے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کا پردہ چاک کیا ہے اور رسول کریم ﷺ کو مدینہ پہنچنے سے پہلے راستے میں بتلا دیا کہ وہ لوگ اپنی غیر حاضری کے جھوٹے عذر کرتے ہوئے آئیں گے اور کہیں گے کہ ہم سے کوتاہی ضرور ہوئی اب اللہ تعالیٰ سے ہمارا قصور معاف کرا دیجئے۔
Ayahs 48:15–18

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

(مسلمانو، ) اب جو تم غنیمتوں کے لینے کے لئے جانے لگو گے تو (یہ) پیچھے رہ جانے والے لوگ (تم سے) کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ (اے پیغمبر، ان سے) کہہ دو تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلنے پاؤ گے، اللہ نے پہلے ہی ایسا فرما دیا ہے۔ (یہ لوگ) کہیں گے (کہ اللہ نے تو کیا فرمایا ہوگا) بلکہ (بات یہ ہے کہ) تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ (اصل مطلب کو) بہت ہی کم سمجھتے ہیں (کہ یہ ان کے پیچھے رہ جانے کی سزا ہے۔ ) ۔

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ان پیچھے رہ جانے والے بدوی عربوں سے کہہ دو کہ عنقریب تم بڑے سخت لڑنے والے لوگوں کے (مقابلے کے) لئے بلائے جاؤ گے۔ تمہیں ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ اسلام لے آئیں گے۔ تو اگر تم نے (حکم جہاد کی) اطاعت کی تو اللہ تم کو اچھا اجر دے گا، اور اگر (کہیں) تم نے سرتابی کی جیسے پہلے سرتابی کرچکے ہو تو وہ تم کو عذاب دردناک کی سزا دے گا۔

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

(ہاں) نہ (کسی) اندھے پر گناہ ہے، (اگر وہ جہاد میں شریک نہ ہو) اور نہ (کسی) لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ کسی مریض پر، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا ( اللہ) اسے (ایسے) باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، اور جو سرتابی کرے گا اسے وہ عذاب دردناک کی سزا دے گا۔

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور اللہ کو معلوم تھا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا اس لئے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو لگے ہاتھ ایک فتح بھی دے دی۔

[10] حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد رسول اکرم ﷺ کو خیبر کے مقام پر چڑھائی کا حکم ہوا جہاں غدار یہودی آباد تھے جو بدعہدی کر کے جنگ احزاب میں کفار کو مدینہ پر چڑھا لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو خبر دی کہ جو لوگ حدیبیہ نہیں گئے تھے اب خیبر کے معرکے میں تمہارے ساتھ چلنے کو کہیں گے کہ وہاں خطرہ کم اور مال غنیمت کی امید زیادہ ہے۔ [11] اللہ کے فرمان سے مراد اس کا یہ حکم کہ خیبر بجزاہل حدیبیہ کے اور کوئی نہ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کی غنیمت انہی لوگوں کے لئے مخصوص فرما دی تھی جیسا کہ آگے آیت 15 میں ارشاد ہوا ہے۔ [12] یعنی ہمارے مدینہ آنے سے پہلے۔[13] یعنی تم ہمیں مارے حسد کے ساتھ نہیں لے چلتے کہ کہیں خیبر کی غنیمت میں سے حصہ نہ لیں۔
Ayah 48:19

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور (فتح کے علاوہ) بہت سی غنیمتیں بھی (دیں) جنہیں یہ لوگ لے رہے ہیں۔ اور اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[14] یعنی فتح خیبر جو حدیبیہ سے واپسی کے فوراً بعد مل گئی اور بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ خیبر مدینہ سے سو میل کے فاصلے پر شام کے راستے پر یہودیوں کی ایک مستحکم گڑھی تھی جہاں دولت مند یہودیوں کی ایک بستی آباد تھی۔
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اور (مسلمانو، ) اللہ تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کرچکا ہے جنہیں تم حاصل کرو گے۔ سردست تو یہ (خیبر کی غنیمت) تم کو دلوا دی اور لوگوں کے ہاتھ (تمہارے خلاف) اٹھنے سے روک دئیے تاکہ یہ واقعہ مومنوں کے لئے نشانی بن جائے اور ( اللہ) تمہیں سیدھی راہ کی ہدایت بخشے۔

[15] مراد مشرکین مکہ ہیں۔ معاہدہ حدیبیہ کی رو سے کفار مکہ اور مسلمان یہ پابندی قبول کرچکے تھے کہ دس سال تک ایک دوسرے کے خلاف جنگی اقدام نہیں کریں گے۔ اس سے مسلمانوں کو یہ فائدہ پہنچا کہ ان کو خیبر کے یہودیوں کے خلاف اقدام کے لئے ایک اچھا موقع مل گیا اور یہودی یہ خیال کر کے کہ اب ان کو اہل مکہ کی پشت پناہی نہیں حاصل ہو سکے گی بڑی جلدی حوصلہ ہار بیٹھے۔ اس طرح صلح حدیبیہ نے مسلمانوں کے لئے ایک قریبی فتح کی راہ کھول دی اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ صلح مسلمانوں کی شکست نہیں بلکہ درحقیقت ایک عظیم فتح اور آئندہ کی فتوحات کا دیباچہ ہے۔ [16] یعنی اللہ تعالیٰ نے خیبر کی یہ نقد غنیمت مسلمانوں کو اس لئے عطا فرمائی کہ یہ ان کے صلح حدیبیہ کے فتح مبین ہونے کی بھی ایک دلیل ہو اور مستقبل میں اسلام کے غلبہ و تمکن کی بھی ایک نشانی کا کام دے۔
Ayahs 48:21–22

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور (دیکھو، اس کے علاوہ) ایک (فتح) اور (بھی ہونی) ہے جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے ہو، (لیکن) اللہ نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور (مسلمانو، ) اگر یہ کافر (اس وقت) تم سے لڑتے تو یقینا پیٹھ پھیر جاتے اور نہ کوئی حامی پاتے اور نہ مددگار

[17] اشارہ ہے فتح مکہ کی طرف۔ یعنی اگرچہ مکہ ابھی تمہارے قابو میں نہیں آیا ہے لیکن اس کی فتح میں اب زیادہ دیر نہیں ہے۔ اللہ نے اسے گھیرے میں لے لیا ہے اور صلح حدیبیہ کے نتیجے میں وہ بھی تمہارے قبضے میں آجائے گا۔
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور اللہ کی سنت میں تم کوئی تبدیلی نہ پاؤگے۔

[18] یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے لئے اللہ نے ٹھہرا رکھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کی مدد فرماتا ہے اور تکذیب کرنے والوں کو ذلیل و خوار کرتا ہے۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور (مسلمانو، ) وہ ( اللہ) ہی (تو) تھا جس نے وادی مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے بعد اس کے کہ تم کو ان پر غلبہ دے دیا تھا۔ اور اللہ دیکھ رہا تھا جو کچھ تم کر رہے تھے۔

[19] یعنی حدیبیہ میں۔ [20] حدیبیہ میں صلح سے پہلے ایک واقعہ یہ ہوا کہ کفار مکہ میں سے ایک مسلح جماعت خفیہ اس ارادے سے آئی کہ موقع پر نعوذ باللہ آپ ﷺ کا کام تمام کر دے۔ صحابہ کرام نے انہیں دیکھ لیا اور گرفتار کر کے آپ کے پاس لائے مگر آپ نے انہیں رہا کردیا۔ یہاں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ (مکے والے) وہی تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام (میں جانے) سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی (نہ آنے دیا) کہ (جہاں کے تہاں) رکے رہے اور اپنی قربانی کی جگہ نہ پہنچنے پائے اور اگر (شہر مکہ میں) ایسے مسلمان مرد اور عورتیں نہ ہوتیں جن کی تمہیں خبر بھی نہ تھی (اور لڑائی کی صورت میں) تم ان کو پامال کر ڈالتے اور ان کی طرف سے تمہیں بھی نادانستگی میں نقصان پہنچتا (تو سب قصہ طے کردیا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے۔ اگر (مکّے کے رہنے والے مسلمان مکہ سے کہیں کو) ٹل گئے ہوتے تو ان (اہل مکہ) میں سے جو کافر تھے ہم ان کو عذاب دردناک کی سزا دیتے۔

[21] یہ حکمت بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے جنگ نہ ہونے دی۔ اگر لڑائی کا حکم دیا جاتا تو جو مسلمان مرد و عورت مکہ میں مظلوم و بےبس تھے اور مسلمانوں کو ان کا علم نہ تھا وہ نادانستگی میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے جاتے اور کافروں کو یہ کہنے کا موقع ملتا کہ دیکھو مسلمان مسلمانوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اس لئے لڑائی موقوف رکھی گئی تاکہ وہ مسلمان محفوظ رہیں۔ نیز مشرکین مکہ میں سے بہت سے لوگ جن کا اسلام لانا مقدر تھا ان کو بھی اللہ نے لڑائی کے خطرات سے بچایا تاکہ انہیں رحمت میں داخل کرے جیسا کہ فتح مکہ کے موقع پر ہوا۔ [22] یعنی مسلمانوں کے ہاتھوں انہیں قتل کرا دیتے۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

(یہی وجہ ہے کہ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں عصبیت بٹھا لی (اور وہ بھی) جاہلیت کی عصبیت، تو اللہ نے اپنے رسول پر سکینت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا کہ وہی اس کے حق دار اور اس کے اہل بھی تھے۔ اور اللہ تو ہر شے کا علم رکھتا ہے۔

[23] جاہلیت کی عصبیت سے اشارہ قریش کے لیڈروں کی ان حرکتوں پر ہے جو انہوں نے صلح نامہ مرتب ہوتے وقت کیں، مثلاً معاہدے پر بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھی جائے، معاہدے میں محمد رسول اللہ ﷺ کے بجائے صرف محمد بن عبداللہ لکھا جائے، وغیرہ۔ رسول اکرم ﷺ اس قسم کے سارے مطالبات منظور فرماتے چلے گئے۔ [24] اس سکینت الٰہی کا یہ اثر ہوا کہ مسلمان جوش میں آ کر لڑ نہیں بیٹھے ورنہ مشرکین کی اشتعال انگیزی کا تقاضا تو یہی تھا۔ [25] یہاں تقویٰ کی بات رسول کی اطاعت تھی اور یہ اسی کا مقتضا تھا جس سے پرجوش مسلمانوں نے اپنے کو قابو میں رکھا۔
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا تھا (جو) حقیقت پر مبنی (تھا) ۔ انشاء اللہ تم (مسلمان) ضرور مسجد حرام میں امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے (اور وہاں جا کر) اپنا سر منڈواؤ گے اور بال ترشواؤ گے اور تم کو کوئی اندیشہ نہ ہوگا۔ وہ اس بات کو جانتا تھا جو تمہیں معلوم نہ تھی اس لئے (وہ خواب پورا ہونے سے) پہلے اس نے (یہ) قریبی فتح دے دی۔

[26] حاشیہ 1 میں گزر چکا ہے کہ نبی ﷺ نے عمرے کا ارادہ اپنے ایک خواب کی بناء پر فرمایا تھا۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ نفس مشاہدہ جو آپ کو خواب میں کرایا گیا تھا وہ سچا اور حقیقت پر مبنی تھا، یعنی یہ کہ آپ ﷺ مسلمانوں کے ساتھ یقینا عمرہ کریں گے۔ لیکن خواب میں یہ مذکور نہ تھا کہ یہ اسی سال واقع ہوگا۔ آخر آپ ﷺ نے اگلے سال یعنی ذیقعدہ 7 ھ میں عمرہ ادا فرمایا۔ [27] سر منڈوانا یا بال ترشوانا ارکان حج وعمرہ میں سے ہے۔ [28] یہ اشارہ التوائے عمرہ کی مصلحتوں کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مصلحتیں تمہارے علم میں نہ تھیں لیکن اللہ کے علم میں تھیں اس وجہ سے اس نے یہ تو پسند نہیں فرمایا کہ تم اسی سال قریش مکہ پر فتح یاب ہو کر عمرہ کرو لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اس سال بھی تم عمرے کے لئے نکلو تاکہ وہ تمہیں '' فتح مبین '' سے سرفراز کرے جو آگے حاصل ہونے والی فتوحات کی راہ بھی کھول دے اور تمہارا عمرہ بھی امن و اطمینان کی حالت میں ہو جیسا کہ اگلے سال ہوا اور مکہ کے مظلوم مسلمان بھی لڑائی کے خطرات سے محفوظ رہے۔[29] یعنی فتح خیبر یا معاہدہ حدیبیہ جسے اس سورت کے شروع میں '' فتح مبین '' سے تعبیر فرمایا ہے۔
Ayah 48:28

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہ ( اللہ) ہی (تو) ہے جس نے اپنے رسول (محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے اور (اس حقیقت پر) اللہ کی گواہی کافی ہے۔

[30] یہاں یہ بات ارشاد فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ معاہدہ حدیبیہ لکھتے وقت کفار نے رسول اللہ ﷺ کے اسم مبارک کے ساتھ رسول اللہ لکھنے پر اعتراض کیا تھا جیسا کہ حاشیہ 23 میں گزر چکا ہے۔ اس پر فرمایا گیا ہے کہ آپ کا رسول ہونا تو ایک حقیقت ہے جس پر اللہ کی گواہی کافی ہے، اس ایک صلح نامے پر اس کے درج نہ ہونے سے کیا ہوتا ہے اور اللہ کی گواہی کا ظہور دنیا میں یوں ہوا کہ اللہ نے آپ کی رسالت پر دلائل قوی قائم کر دئیے، بلحاظ اعجاز قرآنی بھی اور بلحاظ آپ کے دوسرے کمالات اعجازی کے بھی۔
Ayah 48:29

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت (مگر) آپس میں رحم دل ہیں۔ تم ان کو اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں رکوع و سجود میں (سرگرم) پاؤ گے۔ ان کا امتیاز ان کے چہروں پر سجدوں کے اثرات سے ہے۔ یہی اوصاف ان کے تورات میں (بھی) مذکور ہیں اور انجیل میں ان کی تمثیل یوں ہے کہ جیسے ایک کھیتی کہ اس نے (پہلے زمین سے) اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو قوی کیا، پھر وہ موٹی ہوئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور (اپنی سرسبزی سے) کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی۔ (یہ نشوونما صحابہ کو اس لئے دی) تاکہ کافروں کو ان سے جلائے۔ اللہ نے ان لوگوں سے جو (خلوص دل سے) ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل (بھی) کئے ہیں مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔

[31] یعنی نمازوں کی پابندی خصوصاً تہجد کی نماز سے ان کے چہروں پر خاص قسم کا نور، خدا ترسی اور کریم النفسی کے آثار ہویدا ہیں۔ چناچہ بہت سے غیر متعصب نصاریٰ ان کے چہرے اور متقیانہ چال ڈھال دیکھ کر بول اٹھتے تھے کہ واللہ یہ تو مسیح کے حواری معلوم ہوتے ہیں۔ [32] یہ اشارہ ان پیشین گوئیوں کی طرف ہے جو نبی ﷺ اور صحابہ کرام ؓ علیہ وسلم کے بارے میں تورات میں موجود ہیں اگرچہ یہود نے قطع و برید کر کے ان کو بالکل مسخ کردیا ہے تاہم آج بھی تورات میں ایسی چیزیں موجود ہیں جن کا مصداق نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے سوا اور کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ [33] مرق باب 4، متی باب 13، آیات 26 تا 32۔