47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 47:1

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا اور اللہ کے راستے سے (لوگوں کو) روکا، اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے

Ayah 47:2

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے اور ایمان لائے اس چیز پر جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔ اور وہی حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔ اللہ ان کے گناہ ان پر سے اتار دے گا اور ان کی (دینی و دنیوی) حالت (بھی) درست کر دے گا۔

Ayah 47:3

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ (اختلاف حالت) اس لئے ہے کہ جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے (آئے ہوئے) حق کی پیروی کی۔ اس طرح اللہ لوگوں کے (سمجھنے کے) لئے ان کے حالات بیان فرماتا ہے۔

Ayahs 47:4–6

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

تو (مسلمانو، ) جب کافروں سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تو (بےتامل) ان کی گردنیں مارو یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تو (ان کی) مشکیں کس لو، پھر (تمہیں اختیار ہے) احسان رکھ کر (چھوڑ دینا) یا فدیہ لے کر، یہاں تک کہ (دشمن) لڑائی کے ہتھیار رکھ دیں۔ یہ ہے (تمہارے کرنے کے کام) اور اگر اللہ چاہتا تو (خود ہی) ان سے بدلہ لے لیتا، مگر (اس کو تو یہ منظور ہوا کہ) ایک کو دوسرے سے (لڑوا کر تم سب کو) آزمائے۔ اور (جان رکھو کہ) جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

(بلکہ منزل مقصود یعنی جنت کی طرف) ان کی رہنمائی فرمائے گا اور ان کا حال درست کر دے گا

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کا حال اس نے ان کو (پہلے سے) بتا رکھا ہے۔

[1] مراد میدان جنگ میں مڈبھیڑ ہونے سے ہے۔ یہ مراد نہیں کہ حالت امن و صلح میں راستے میں کوئی کافر چلتا ہوا دکھائی دے۔ [2] یعنی قید کرلو۔ [3] لفظی ترجمہ تو یہ تھا کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہ عربی کا محاورہ ہے اردو میں اس طرح نہیں بولتے اس لئے ترجمہ الفاظ سے ہٹ کر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دشمن میں لڑائی کی طاقت نہ رہے اور لڑائی موقوف ہوجائے۔[4] یعنی اللہ چاہتا تو ان کافروں کو کوئی آسمانی عذاب بھیج کر عادوثمود کی طرح ہلاک کر ڈالتا، لیکن جہاد و قتال کے ذریعے اسے بندوں کا امتحان کرنا تھا کہ کتنے مسلمان اللہ کے نام پر جان و مال نثار کرنے کے لئے تیار ہیں اور کفار میں سے کتنے لوگ ان تنبیہی کارروائیوں سے بیدار ہوتے اور اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ نے انہیں دے رکھی ہے۔
Ayahs 47:7–12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور (دشمنوں کے مقابلے میں) تمہارے قدم جما دے گا۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور (رہے) وہ لوگ جنہوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے تو ان کے لئے ہلاکت ہے اور ( اللہ) ان کے اعمال ضائع کر دے گا

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

(اور) یہ اس سبب سے کہ اللہ نے جو چیز نازل کی تھی انہوں نے اس کو ناپسند کیا، لہذا اس نے ان کے اعمال اکارت کر دئیے۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

کیا وہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں ؟ (چلتے پھرتے) تو دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا۔ اللہ نے ان کو تہس نہس کردیا اور ایسا ہی کچھ (ان) کافروں کو (بھی پیش آنا) ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اہل ایمان کا حامی (و مددگار) تو اللہ ہے اور کافروں کا کوئی حامی (و مددگار) نہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے، یقینا اللہ انہیں (بہشت کے ایسے) باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے وہ بس (دنیا کی چند روزہ زندگی کے) مزے اڑا رہے ہیں اور جانوروں کی طرح کھا (پی) رہے ہیں اور (بالآخر) ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔

[5] اللہ کی مدد کرنے کا مطلب اس کے پیغمبر اور دین حق کی مدد کرنا ہے۔
Ayahs 47:13–14

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جو بل بوتے میں تمہاری اس بستی سے بڑھی ہوئی تھیں جس کے رہنے والوں نے تمہیں (وہاں سے) نکال دیا۔ ان کو ہم نے ہلاک کر مارا اور کوئی بھی ان کی مدد کو نہ کھڑا ہوا۔

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا جو شخص اپنے رب کی طرف سے ایک واضح راستے پر ہو، وہ ان لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جن کی بدعملی (ان کی نگاہ میں) خوشنما بنادی گئی ہے اور وہ اپنی (نفسانی) خواہشوں پر چلتے ہیں۔

[6] یعنی مشرکین مکہ کی ایذا رسانیوں نے نبی ﷺ کو ہجرت پر مجبور کردیا۔
Ayah 47:15

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

جس جنت کا وعدہ متقیوں سے کیا گیا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں (ایسے) پانی کی نہریں ہیں جس میں بو (کا نام) نہیں اور (ایسے) دودھ کی نہریں ہیں جس کا ذائقہ (مطلق) نہیں بدلا اور (ایسی) شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے یکسر لذت ہوگی، اور صاف (وشفاف) شہد کی نہریں (بھی) ہیں، اور ان کے لئے وہاں ہر طرح کے میوے (موجود) ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت بھی۔ (کیا ایسے لوگ جن کے حصے میں یہ نعمتیں آنے والی ہیں) ان جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں اور (جب پیاس لگے گی تو) کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں کاٹ کر رکھ دے گا ؟

[7] مغفرت کا ذکر آخر میں جنت کی سب سے بڑی نعمت کی حیثیت سے آیا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت ہی ہے جو ان تمام نعمتوں کی ضامن ہوگی۔
Ayah 47:16

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ان میں سے (بعض لوگ) ایسے (بھی) ہیں جو (تمہاری بات سننے کے لئے) تمہاری طرف (بظاہر) کان (تو) لگاتے ہیں مگر جب تمہارے پاس سے (اٹھ کر) باہر نکلتے ہیں تو جو صاحب علم ہیں ان سے پوچھتے ہیں، (کیوں جی) انہوں نے ابھی (ابھی) کیا کہا تھا ؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے اور یہ اپنی (نفسانی) خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں

[8] یہاں ذکر منافقین کا ہے جو نبی ﷺ کی مجلس میں آ کر بیٹھتے تھے اور بظاہر آپ کے ارشادات سنتے تھے لیکن کیونکہ ان کا دل ان مضامین سے دور تھا جو آپ کی زبان سے ادا ہوتے تھے اس لئے سب کچھ سن کر وہ کچھ نہ سنتے تھے اور باہر نکل کر مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ ابھی ابھی آپ کیا فرما رہے تھے۔
Ayah 47:17

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

(رہے) وہ لوگ جنہوں نے ہدایت (کی راہ) اختیار کی، اللہ انہیں اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انہیں ان (کے حصے) کا تقویٰ عطا فرماتا ہے۔

[9] یعنی جس تقویٰ کی اہلیت وہ اپنے اندر پیدا کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ اسی کی توفیق انہیں عطا فرما دیتا ہے۔
Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر اچانک آ نازل ہو ؟ تو (یہ جان لیں کہ) اس کی علامتیں تو آچکی ہیں۔ پھر جب وہ ان کے سامنے آ کھڑی ہوگی تو (اس وقت) ان کا نصیحت پکڑنا ان کے لئے کیا (خاک مفید) ہوگا ؟

[10] جن میں سے رسول اکرم ﷺ کی بعثت مبارکہ اور چاند کا شق ہونا ہے۔
Ayahs 47:19–20

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، اچھی طرح) جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے رہو اور مومن مردوں اور عورتوں کے لئے بھی۔ اللہ تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی خوب خبر رکھتا ہے۔

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) جو لوگ (صدقِ دل سے) ایمان لائے ہیں وہ کہتے رہتے ہیں کہ کاش (جہاد کے بارے میں) کوئی سورت نازل ہو، پھر جب صاف صاف (مضمون کی) سورت نازل ہوئی اور اس میں جنگ کا بھی ذکر تھا تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے تم ان کو دیکھو گے کہ وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہو (اور اس کی آنکھیں پھٹی رہ جائیں) ۔ افسوس ان کے حال پر !

[11] انبیاء (علیہم السلام) سے جو خطائیں صادر ہوتی ہیں وہ یا تو کبھی اتباع حق میں اس کی متعین حدود میں تجاوز کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں یا پھر کسی کام کا بہت اچھا پہلو چھوڑ کر کم اچھا پہلو اختیار کرنے کی وجہ سے۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں بجائے خود معصیت نہیں ہیں لیکن انبیاء (علیہم السلام) کیونکہ حق و باطل کے امتیاز کے لئے کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت اور ان کی اصلاح فرماتا رہتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ دن میں سو بار استغفار فرماتے تھے۔
Ayah 47:21

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

(ان کی پسندیدہ روش) اطاعت اور قول معروف (کی تھی) ۔ پھر جب (جہاد کا قطعی) حکم ہوگیا اس وقت وہ لوگ اللہ سے (اپنے عہد میں) سچے نکلتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا۔

[12] '' قول معروف '' سے مراد (سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا 285۔ ) 2 ۔ البقرة :285) (ہم نے سنا اور مان لیا) کا کلمہ ہے۔ اللہ اور رسول کے معاملے میں یہی کلمہ دستور اور اہل ایمان کی روایت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ کے مخلص اور وفادار بندوں نے ہمیشہ اسی کلمے سے اللہ اور اس کے رسول کی ہر بات کا خیرمقدم کیا۔ یہی بات ان کے شایان شان بھی تھی لیکن ان منافقین کا یہ حال ہوا کہ جہاد کا ذکر سنتے ہی ان پر موت کی غشی طاری ہونے لگی۔
Ayahs 47:22–24

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

تو (اے منافقو، ) کیا تم سے کچھ بعید ہے کہ اگر (جہاد کرنے سے) تم نے منہ پھیرلیا تو زمین میں فساد برپا کرو اور آپس میں قطع رحمی کرو ؟

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو (حق بات کے سننے سے) بہرا اور (راہ راست کے دیکھنے سے) ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ہے۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ قرآن (کے مطالب) پر غور (وفکر) نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے (لگے) ہیں ؟

[13] مطلب یہ ہے کہ اگر جہاد سے اعراض کرو گے تو تم سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ پھر دور جاہلیت کی طرف پلٹ جاؤ گے اور جس طرح پہلے ظلم و فساد، قطع رحمی اور برادر کشی میں مبتلا رہے تھے پھر اس میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Ayah 47:25

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ، بعد اس کے کہ ان پر ہدایت (کی راہ) ظاہر ہوگئی، الٹے پاؤں پھرگئے ان کو شیطان نے فریب دیا ہے اور ان کی (آرزوؤں کی) رسیاں دراز کردی ہیں۔

[14] ( وَاُمْلِيْ لَهُمْ 183۔ ) 7 ۔ الاعراف :183) کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ ان کو ڈھیل دے رکھی ہے لیکن اردو محاورے کے لحاظ سے ڈھیل کو رسی دراز کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان نے ان کو سمجھا رکھا ہے کہ جہاد نہ کرو تو مدتوں جیو گے۔
Ayahs 47:26–30

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے اللہ کی اتاری ہوئی (کتاب) کو ناپسند کیا کہ بعض امور میں ہم تمہارا کہنا مانیں گے۔ اور اللہ ان کی سرگوشیوں کو (خوب) جانتا ہے۔

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پھر اس وقت ان کی کیسی (گت) بنے گی جب کہ فرشتے ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے ان کی روحیں قبض کریں گے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

(ان کی) یہ (نوبت) اس لئے (ہوگی) کہ انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والی تھی اور اس کی رضا سے بیزار رہے، تو اللہ نے (بھی) ان کے اعمال ضائع کر دئیے۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے اس خیال میں ہیں کہ اللہ ان کے کینوں کو کبھی ظاہر نہیں کرے گا ؟

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو (اے پیغمبر، ) ہم تمہیں ان لوگوں کو دکھا بھی دیتے۔ پھر تم انہیں ان کے حلیے سے پہچان لیتے اور (یوں بھی) تم انہیں (ان کے) طرز کلام سے پہچان ہی لو گے۔ اور اللہ تم سب کے عملوں کو (خوب) جانتا ہے۔

[15] منافقوں نے یہود وغیرہ سے کہا کہ گو ہم ظاہر میں مسلمان ہوگئے ہیں لیکن مسلمانوں کے ساتھ ہو کر تم سے نہ لڑیں گے بلکہ موقع ملا تو تم کو مدد دیں گے اور اس قسم کے کاموں میں تمہاری بات مانیں گے۔
Ayahs 47:31–34

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور (مسلمانو، ) تم (سب) کو ہم ضرور آزما کر رہیں گے تاکہ تم میں جو مجاہد اور ثابت قدم ہیں انہیں جان لیں اور تمہارے حالات کی جانچ کریں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ وہ راہ راست ان پر واضح ہوچکی تھی، وہ اللہ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور وہ ان کی کارروائیوں کو اکارت کر کے رہے گا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور (اللہ اور رسول کی نافرمانی کر کے) اپنے عملوں کو ضائع نہ کر بیٹھو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا،۔ پھر کفر ہی کی حالت میں مرگئے، اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔

[16] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة مائدہ حاشیہ 54 صفحہ 282 اور سورة عنکبوت حاشیہ 2 صفحہ 948۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

پس (اے مسلمانو، ) بودے نہ بنو اور (خود پیام دے کر) دشمنوں کو صلح کی طرف نہ بلاؤ۔ تم ہی (آخرکار) غالب رہو گے۔ اور (یادرکھو، ) اللہ تمہارے ساتھ ہے، وہ تمہارے عملوں (کے اجر) میں ہرگز کمی نہ کرے گا۔

[17] منافقین کیونکہ جنگ کا حوصلہ نہیں رکھتے تھے جیسا کہ آیات 21-20 میں گزر چکا ہے، اس لئے صلح اور سمجھوتے کی باتیں بہت کرتے تھے اور لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ یہی پالیسی اختیار کرنے میں ملک کی خیر ہے ورنہ بھائیوں کا خون بھائیوں کے ہاتھوں بہے گا اور پوری قوم کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ ان کی یہ پالیسی مبنی تو تھی تمام تر ان کی بزدلی اور مفاد پرستی پر لیکن وہ اس کی دعوت صلح پسندی اور امن دوستی کے روپ میں دیتے۔ یہاں ان کی اسی کمزوری پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ اس ضمن میں یہ بات نگاہ میں رہنی چاہئے کہ یہ ارشاد اس زمانے میں فرمایا گیا ہے جب کہ مدینے کی چھوٹی سی بستی میں مٹھی بھر مسلمانوں کی جمعیت کا مقابلہ صرف قریش کے طاقتور قبیلے ہی سے نہیں بلکہ پورے عرب کے کفار سے تھا۔ اس حالت میں فرمایا جا رہا ہے کہ ہمت ہار کر دشمنوں سے صلح کی درخواست نہ کرنے لگو بلکہ سردھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار ہوجاؤ ورنہ دشمن شیر ہو کر دباتے چلے جائیں گے اور مسلمانوں کو مغلوب و رسوا ہونا پڑے گا۔
Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

(لوگو، یہ) دنیا کی زندگی تو بس نرا کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ( اللہ) تم کو تمہارے اجر عنایت کرے گا اور (اپنے لئے) تمہارے مال تم سے نہیں طلب کرے گا۔

[18] یعنی آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حقیقت محض ایک کھیل تماشا ہے۔ اگر تم ایمان وتقویٰ اختیار کرو گے اور اس کھیل تماشے سے ذرا بچ کر چلو گے تو اللہ تم کو اس کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تمہارا مال بھی تم سے طلب نہ کرے گا۔ اسے کیا حاجت ہے، وہ تو خود دینے والا ہے۔ اور اگر طلب بھی کرے تو مالک حقیقی وہی ہے، تمام مال اسی کا ہے مگر اس کے باوجود دین کے معاملے میں جب خرچ کرنے کو کہتا ہے تو سارے مال کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ایک تھوڑا سا حصہ طلب کیا جاتا ہے، وہ بھی اپنے لئے نہیں بلکہ تمہارے فائدے کے لئے۔
Ayahs 47:37–38

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

(بالفرض) اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرلے، پھر انتہا درجے تک تم سے طلب کرتا رہے تو تم ضرور بخل کرنے لگو اور وہ تمہاری ناگواری ظاہر کر دے۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

دیکھو، تم وہ لوگ ہو کہ جنہیں دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اس پر بھی تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو حقیقت میں خود اپنے سے بخل کرتا ہے ورنہ اللہ تو بےنیاز ہے اور تم (اس کے) محتاج ہو۔ اور اگر تم (اس کے حکم سے) منہ موڑو گے تو وہ (تمہاری جگہ) دوسری قوم کو لا بٹھائے گا اور وہ لوگ تم جیسے نہ ہوں گے۔

[19] یعنی اگر اللہ تعالیٰ سختی کے ساتھ کل مال طلب کرنے لگے جو اس نے تم کو دے رکھا ہے تو کتنے اللہ کے بندے ہیں جو کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے اس حکم پر لبیک کہیں گے۔ اکثر تو وہی ہوں گے جو بخل اور تنگ دلی کا ثبوت دیں گے۔ لیکن اللہ تمہیں اتنی بڑی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتا جس سے تمہاری کمزوریاں ظاہر ہوجائیں۔