46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 46:1
Ayah 46:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (جو) زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

Ayahs 46:3–5

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (چیزیں) ان کے درمیان ہیں برحق اور معین مدت کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ لوگ جنہوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے اس (چیز) سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے انہیں خبردار کیا گیا ہے۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) دیکھا بھی (ان چیزوں کو) جن کو اللہ کے سوا تم پکارتے ہو ؟ (ایک نظر) مجھے بھی تو دکھاؤ کہ انہوں نے کون سی زمین پیدا کی ہے ؟ یا آسمانوں (کی تخلیق) میں ان کا (کیا) ساجھا ہے ؟ اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا علمی روایت (ان عقائد کے ثبوت میں) میرے سامنے پیش کرو اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو۔

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو اللہ کے سوا ان کو پکارے جو روز قیامت تک اس کو جواب نہ دے سکیں اور (جواب دینا تو درکنار) ان کو (تو) ان کے پکارے جانے (تک) کی (بھی) خبر نہیں۔

[1] یعنی روز قیامت سے۔
Ayah 46:6

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب (قیامت کے دن) لوگ حساب کے لئے جمع کئے جائیں گے تو (یہ معبود الٹے) ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔

[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بنی اسرائیل حاشیہ 43 صفحہ 667 اور سورة فاطرحاشیہ 10 صفحہ 1044۔
Ayah 46:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ہماری واضح آیات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں نے انکار کیا ہے اس سچائی کا جب وہ ان تک آپہنچتی ہے، کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے۔

[3] سرداران قریش کے لئے جب قرآن کی تاثیر کا لوہا مانے بغیر چارہ نہ رہا تو انہوں نے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہے تو یہ کلام نہایت پرزور اور پر تاثیر، لیکن یہ زور و تاثیر اس کے کلام الٰہی ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے۔
Ayahs 46:8–9

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا وہ (قرآن کی نسبت) کہتے ہیں کہ اسے اس شخص نے خود گھڑ لیا ہے ؟ (اے پیغمبر، تم ان سے) کہو کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو تم لوگ مجھے اللہ (کی پکڑ) سے ذرا بھی نہ بچا سکو گے۔ وہ خوب جانتا ہے جو باتیں تم (اس قرآن کے بارے میں) بنا رہے ہو۔ وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے کافی ہے اور وہ (بڑا) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان سے) کہو کہ میں کوئی انوکھا پیغمبر تو ہوں نہیں اور میں نہیں جانتا کہ (آئندہ) میرے ساتھ کیا (معاملہ) کیا جائے گا اور نہ (یہ جانتا ہوں کہ) تمہارے ساتھ کیا (معاملہ) کِیا جائے گا میں تو صرف اسی بات کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے اور میں تو صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا (اور) کچھ بھی نہیں ہوں۔

[4] یعنی محمد ﷺ نے۔
Ayahs 46:10–11

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا (تو تمہارا انجام کیا ہوگا ؟ ) اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہ اسی طرح کی ایک (کتاب کے نازل ہونے) کی گواہی (بھی) دے چکا ہے، سو وہ تو ایمان لے آیا اور تم اکڑے ہی رہے۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا ہے وہ ایمان لانے والوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر یہ (قرآن کوئی) اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے۔ اور جب ان لوگوں کو اس کے ذریعے ہدایت (نصیب) نہ ہوئی تو اب (اس کے سوا اور کیا) کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے،

[5] یہاں گواہ سے مراد عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے اپنی بعثت کا خاص مقصد ہی یہ بتایا کہ میں ایک آنے والے کی راہ صاف کرنے آیا ہوں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد محمد ﷺ کی بعثت ہوئی اور آپ آخری پیغمبر ہیں لہذا '' آنے والے '' سے آپ ﷺ کے سوا کسی اور کو مراد لینے کی کوئی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے نبی ﷺ کے نام کی تصریح کے ساتھ بھی آپ کی بشارت دی ہے جیسا کہ سورة صف میں مذکور ہے۔ اور یہ بشارت انجیلوں میں موجود ہے۔ اس پر تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن از سید ابو الاعلیٰ مودودی، جلد پنجم، سورة صف، حاشیہ 10۔
Ayahs 46:12–14

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (تورات) بھی رہنما اور رحمت تھی اور یہ کتاب (تورات کی پیشین گوئیوں کا) مصداق ہے (اور) عربی زبان میں (ہے) تاکہ ظالموں کو خبردار کر دے اور نیکوکاروں کو بشارت دے (دے) ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے، پھر (آخر تک اس عقیدے پر) جمے رہے تو (آخرت میں) نہ تو ان پر کوئی خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی لوگ اہل جنت ہیں کہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ (یہ) ان کے اعمال کا بدلہ (ہے) جو وہ (دنیا میں) کرتے رہے۔

[6] یہ قرآن کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن عربی زبان میں تورات کی پیشین گوئیوں کا مصداق بن کر نازل ہوا ہے۔ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے باب میں شہادت دی ہے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) بھی اس کی پیشین گوئی کرچکے ہیں۔ یہ پیشین گوئیاں اپنے مصداق کی منتظر تھیں۔ قرآن کے نزول سے یہ مصداق سامنے آگیا اور اس طرح قرآن نے تورات کی تصدیق کردی۔
Ayahs 46:15–20

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے مشقت اٹھا (اٹھا) کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اسے جنا اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں (کم سے کم) تیس مہینے (لگ گئے) ۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری پختگی کو پہنچ گیا اور چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے (اللہ سے) دعا کی اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہیں، اور اس (بات) کی (بھی توفیق دے) کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو، اور میری اولاد میں بھی صالحیت پیدا کر دے (کہ) میرے لئے (موجب راحت ہو) میں نے تیری طرف رجوع کرلیا اور میں تیرے فرماں بردار بندوں میں سے ہوں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے اچھے اعمال ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی خطاؤں سے درگزر کرتے ہیں۔ (یہ) جنتیوں میں شامل ہوں گے اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے۔

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا، '' اف، دل پک گیا تم سے، کیا تم مجھے اس (بات) سے ڈراتے ہو کہ میں (مرنے کے بعد قبر سے زندہ کر کے) نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے (کتنی ہی) نسلیں گزر چکی ہیں (اور کسی کو مر کر جیتے دیکھا نہ سنا) ''۔ اور (ماں باپ کا یہ حال ہے کہ) وہ دونوں اللہ کی دہائی دیتے ہیں (اور بیٹے سے کہتے ہیں) '' تیرا ناس ہو، ایمان لے آ، بیشک اللہ کا وعدہ (قیامت) برحق ہے۔ '' تو وہ جواب دیتا ہے۔ '' یہ سب محض اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں ''۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ (انہی کے قماش کے) جنوں اور انسانوں کے جو گروہ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان (کے شمول) میں یہ بھی وعدہ عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ بیشک یہ لوگ (اپنی بدکرداریوں کی وجہ سے) خسارے میں پڑنے والے ہی تھے۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور (ان دونوں گروہوں میں سے) ہر ایک کے (اچھے یا برے) درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہوں گے اور یہ اس لئے کہ ( اللہ) ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ان کو دے اور ان پر کسی طرح کا بھی ظلم نہ ہوگا۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) جب یہ کافر دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا کہ) تم اپنی دنیا کی زندگی میں (اپنے حصے کے) مزے اڑا چکے اور ان سے خاطر خواہ فائدہ (بھی) اٹھا چکے۔ پس آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا بوجہ اس کے کہ تم زمین میں بغیر کسی حق کے گھمنڈ کیا کرتے تھے اور بوجہ اس کے کہ تم نافرمانیاں کیا کرتے تھے۔

[7] کم سے کم تیس مہینے اس طرح پر ہوتے ہیں کہ سورة بقرہ کی آیت 233 صفحہ 70 اور سورة لقمان کی آیت 14 صفحہ 970 میں دودھ چھڑانے کی مدت دو سال فرمائی ہے۔ لہذا حمل کی کم سے کم مدت چھ مہینے ہوئی۔
Ayahs 46:21–22

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) عاد کے بھائی (ہود) کا ذکر کرو جب اس نے احقاف میں اپنی قوم کو (انکاروبدعملی کے نتائج سے) خبردار کیا تھا۔ اور ایسے خبردار کرنے والے اس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے۔ (اور کہا تھا) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، مجھے تمہاری نسبت ایک بڑے (ہولناک) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

وہ بولے، '' کیا تو اس لئے ہمارے پاس آیا ہے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے ؟ (اچھا) تو لے آ ہم پر وہ (عذاب) جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ '' اگر تو (اپنے دعوے میں) سچا ہے۔

[8] احقاف کے لغوی معنی ریت کے تودوں کے ہیں۔ الاحقاف سے مراد وہ ریگستان ہے جو عمان سے یمن تک پھیلا ہوا ہے۔ یہی قوم عاد کا اصل مسکن تھا۔ ظاہر بات ہے کہ جس دور میں قوم عاد اپنے عروج پر تھی اس زمانے میں یہ علاقہ نہایت سرسبز و شاداب رہا ہوگا۔ [9] یہ سلسلہ کلام کے بیچ میں جملہ معترضہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہود (علیہ السلام) کوئی انوکھے خبردار کرنے والے نہیں تھے۔ ان سے پہلے بھی خبردار کرنے والے آ چکے تھے اور ان کے بعد بھی آتے رہے۔
Ayahs 46:23–28

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

(ہود نے) کہا، '' اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور میں تو تمہیں صرف وہ (پیغام) پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ (نری) جہالت (کی باتیں) کر رہے ہو۔ ''

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے عذاب کو بادل کی طرح اپنی وادیوں کی طرف آتا دیکھا تو بولے، '' یہ بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے۔ '' (نہیں) بلکہ یہ وہی (عذاب الٰہی) ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ (یہ بڑے زور کی) آندھی ہے جس میں دردناک عذاب (چلا آ رہا) ہے۔

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تہس نہس کر دے گی۔ چناچہ وہ لوگ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کوئی اور چیز نظر نہیں آتی تھی۔ ہم مجرموں کو اسی طرح کی سزا دیا کرتے ہیں۔

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) ہم نے ان لوگوں کو ان باتوں میں قدرت دی تھی جن میں تم (اہل مکہ) کو قدرت نہیں دی۔ اور ہم نے ان کو کان، آنکھیں اور دل (سب ہی کچھ) دئیے تھے لیکن ازبس کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے رہے اس لئے نہ تو ان کے کان ان کے کچھ کام آئے اور نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل اور (آخرکار) اس (عذاب) نے انہیں گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

(اے اہل مکہ، ) ہم نے تمہارے آس پاس کی (کتنی ہی) بستیاں ہلاک کر ماریں۔ اور ہم نے اپنی (قدرت کی) نشانیاں بھی طرح طرح سے دکھائیں تاکہ وہ (اپنے اصل خالق ومالک کی طرف) رجوع کریں (مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور آخر مبتلائے عذاب ہوئے)

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پھر کیوں نہ ان (ہستیوں) نے ان کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے (اس کے) تقرب کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اپنا معبود بنا رکھا تھا ؟ (مدد کرنا تو درکنار) بلکہ (وقت پر الٹے) ان (کی نظر) سے غائب ہوگئے اور یہ محض ان کا جھوٹ اور گھڑی ہوئی بات تھی۔

[10] یعنی وہ عذاب کا دن کب آئے گا اور کس شکل میں آئے گا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔
Ayahs 46:29–35

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کی ایک جماعت کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ وہ قرآن سنیں پھر جب وہ اس جگہ حاضر ہوئے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے تو) انہوں نے (ایک دوسرے سے) کہا چپ (بیٹھے سنتے) رہو۔ پھر جب (قران کا پڑھنا) تمام ہوا تو وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے کہ ان کو (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کریں

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

(اور ان سے جا کر) کہنے لگے، '' اے ہماری قوم (کے لوگو، ) ہم ایک کتاب سن کر آئے ہیں جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے، ان (پیشین گوئیوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس کے باب میں پہلے سے (موجود) ہیں، (اور) حق اور سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے ہماری قوم (کے لوگو، ) اللہ کی طرف بلانے والے (اس پیغمبر) کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہ معاف کرے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے محفوظ رکھے گا۔

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے کی بات نہ مانے وہ زمین میں (کہیں بھی) اللہ کو عاجز نہیں کرسکتا، اور نہ اللہ کے سوا اس کے (کوئی) حمایتی ہوں گے۔ ایسے ہی لوگ صریح گمراہی میں (پڑے ہوئے) ہیں۔ ''

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

(جو لوگ قیامت کے منکر ہیں) کیا انہوں نے (اس بات پر) نظر نہیں کی کہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کو پیدا کرنے سے (ذرا بھی) نہ تھکا وہ ضرور (اس پر بھی) قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے ؟ (اور) کیوں (قادر) نہ ہو، وہ تو ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے (ان سے پوچھا جائے گا) '' کیا یہ (دوزخ اب بھی) حقیقت نہیں ہے ؟ ''۔ کہیں گے، '' ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حقیقت ہے) ''۔ ارشاد ہوگا، '' (اچھا تو) اپنے کفر (وانکار) کی پاداش میں عذاب (کے مزے) چکھو ''

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس (اے پیغمبر، ) جس طرح (اور) اولوالعزم پیغمبروں نے (کافروں کی ایذاؤں پر) صبر کیا تم بھی صبر کرو اور ان (منکرین) کے لئے (عذاب کی) جلدی نہ کرو۔ جس روز یہ لوگ (قیامت کے دن عذاب کو) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو (ان کو ایسا معلوم ہوگا کہ) گویا (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہ رہے۔ (لوگوں کو اللہ کا حکم) پہنچا دیا گیا پس کیا (اب اس کے بعد) نافرمانوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا ؟

[11] یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نبی ﷺ طائف والوں کے روئیے سے نہایت کبیدہ خاطر ہو کر واپس مکہ تشریف لے جا رہے تھے۔ رات کے وقت آپ بلند آواز سے نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ جنوں کی ایک جماعت کا ادھر سے گزر ہوا اور آپ کی قرآت سننے کے لئے ٹھہر گئی۔ اس واقعے کے ذکر سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کے لئے اور جن کی زبان میں یہ کلام اترا اور جن کی اصلاح کے لئے اللہ کے رسول اپنے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں وہ نہ صرف اس کلام کو سننے کے روادار نہیں ہیں بلکہ اللہ کے رسول کے ساتھ نہایت بدسلوکی کا رویہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ جنات کا یہ حال ہے کہ ان میں جو سلیم الفطرت ہیں اگر وہ سرراہ بھی قرآن کی کچھ آیتیں سن لیتے ہیں تو سن کر تڑپ اٹھتے ہیں اور اپنی قوم کے اندر اس کتاب کے داعی بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ خرابی قرآن اور اس کے پیش کرنے والے کے اندر نہیں بلکہ خود ان لوگوں کے اندر ہے جو اس سے گریز کر رہے ہیں۔