45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 45:1
Ayah 45:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

Ayah 45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ ایمان والوں کے لئے آسمانوں اور زمین میں (اللہ کی قدرت کی بےشمار) نشانیاں ہیں۔

Ayah 45:4

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور (لوگو، اسی طرح خود) تمہاری پیدائش میں اور حیوانات میں (بھی) جن کو اس نے (روئے زمین پر) پھیلا رکھا ہے (اس کی قدرت کی بےشمار) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو (اللہ کی قدرت و حکمت میں) یقین رکھتے ہیں۔

Ayahs 45:5–11

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور (اسی طرح) رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور اس رزق میں جس کو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کیا اور ہواؤں کی گردش میں (اس کی قدرت کی بےشمار) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ تو اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد (اب) کس بات پر (یہ لوگ) ایمان لائیں گے۔

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

تباہی ہے ہر اس جھوٹے بدکار کے لئے

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

کہ (جب) اللہ کی آیتیں اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں اور وہ ان کو سنتا (بھی) ہے، پھر (بھی) مارے غرور کے (کفر پر اس طرح) اڑا رہتا ہے (کہ) گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ (اے پیغمبر، ) ایسے شخص کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتوں میں سے کوئی آیت اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے آگے جہنم ہے اور ان کے کام نہ تو وہ چیزیں آئیں گی جو وہ (دنیا میں) کما گئے اور نہ وہ (معبود) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا (اپنا) کارساز بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ (قرآن سرتاپا) ہدایت ہے، اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا ان کے لئے بلا کا دردناک عذاب ہے۔

[1] یہاں رزق سے مراد مادّہ رزق یعنی بارش ہے۔
Ayah 45:12

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

(لوگو، ) وہ اللہ ہی تو ہے جس نے سمندر کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور (اس کا) شکر کرو۔

[2] فضل یہاں بہت وسیع معنی میں ہے۔ بحری تجارت، بحری شکار، جہاز رانی، سیپی، موتی، مونگے کا کاروبار سب کچھ اس میں آجاتا ہے۔
Ayah 45:13

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی نے سب کو اپنی طرف سے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے۔ بیشک اس میں (اس کی قدرت کی بڑی) نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو (غورو) فکر کرنے والے ہیں۔

[3] تشریح کے ملاحظہ ہو سورة لقمان حاشیہ 11 صفحہ 779۔
Ayahs 45:14–15

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) ایمان والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ ایام الٰہی (کے ظہور) کے متوقع نہیں ہیں ان سے درگزر کریں تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کا پورا پورا بدلہ دے جو وہ کرتی رہی۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اپنے (بھلے کے) لئے اور جو برائی کرتا ہے تو (اس کا وبال) اسی پر، پھر (آخرکار) تم (سب) کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

[4] اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے عدل و انتقام کے وہ تاریخی دن ہیں جن میں اس نے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ قرآن میں جن قوموں کی تاریخ بیان ہوئی ہے اس میں ان ایام کا ذکر گزر چکا ہے۔
Ayahs 45:16–21

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور (دیکھو، اس سے پہلے) ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) اور حکم اور نبوت عطا کی تھی اور پاکیزہ رزق سے نوازا تھا اور دنیا جہان (کے لوگوں) پر ان کو فضیلت بخشی تھی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور دین کے کھلے کھلے احکام ان کو (بتا) دئیے تھے۔ پھر جو اختلاف ان کے درمیان ہوا وہ (ان کی ناواقفیت کی وجہ سے نہیں بلکہ) ان کے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی ضِدَّم ضِدَّا (کی وجہ) سے (ہوا) ۔ (اے پیغمبر، ) قیامت کے دن تمہارا رب ان کے درمیان ان (تمام باتوں) کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر (اس کے بعد اے پیغمبر، اب) ہم نے تمہیں دین کے ایک (خاص) طریقے پر کردیا ہے لہذا تم اسی کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور متقیوں کا دوست تو اللہ ہے۔

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لئے بصیرت (پیدا کرنے والی آیات کا مجموعہ) اور ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو (اس کا) یقین رکھتے ہیں۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے جو بدکرداریوں کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں یہ خیال کر رکھا ہے کہ ہم ان کو انہی لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے کہ ان (سب) کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے ؟ بہت ہی برا حکم ہے جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔

[5] حکم سے مراد دین کی سمجھ، دانائی کی باتیں اور قوت فیصلہ۔
Ayah 45:22

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اللہ نے تو آسمان اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور مقصود یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے (چنانچہ قیامت میں ایسا ہی ہوگا) اور لوگوں پر (کسی طرح کا) ظلم نہیں کیا جائے گا۔

[6] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حاشیہ 25 صفحہ 328۔
Ayahs 45:23–32

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) بھلا تم نے اس شخص (کے حال) پر بھی نظر کی جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور علم کے باوجود اللہ نے اسے گمراہ کردیا ہے اور اس کے کانوں پر اور اس کے دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے ؟ بھلا ایسے شخص کو اللہ کے بعد کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ کیا تم لوگ نصیحت نہیں پکڑتے ؟

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) کہتے ہیں کہ بجز ہماری دنیا کی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں ہے۔ (یہیں) ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہم کو بس زمانہ (کا چکر) ہلاک کرتا ہے۔ ان کو اس بارے میں کوئی علم تو ہے نہیں۔ یہ محض اٹکل کے تکے چلاتے ہیں۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب انہیں ہماری واضح آیتیں سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ اٹھاؤ لاؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر تم (اپنے دعویٰ قیامت میں) سچے ہو۔

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

(اے پیغمبر، تم ان لوگوں سے) کہو کہ اللہ (ہی) تم کو زندگی دیتا ہے، پھر (وہی) تم کو مارتا (بھی) ہے، پھر (وہی) تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس (کے ہونے) میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن اہل باطل خسارے میں پڑجائیں گے

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم (اس دن) ہر گروہ کو (خوف وہیبت سے) گھٹنوں کے بل گرا ہوا دیکھو گے۔ ہر گروہ کو اس کے نامہ (اعمال) کی طرف بلایا جائے گا (اور اس سے کہا جائے گا کہ دنیا میں) جو کچھ تم لوگ کرتے رہے ہو آج اس کا بدلہ دیا جائے گا۔

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا رجسٹر ہے (جس میں تمہارے اعمال لکھے ہوئے ہیں اور) جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے رہا ہے۔ تم جو کچھ بھی کرتے رہتے تھے اسے ہم لکھواتے جاتے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

پھر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے تو ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہی صریح کامیابی ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر (کا راستہ اختیار) کیا تھا (ہم ان سے کہیں گے) کیا تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ مگر تم اکڑے رہے اور تم تھے ہی مجرم لوگ۔

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب (تم سے) کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت (کے آنے) میں کوئی شک نہیں (تو) تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت ہے کیا (بلا) ، ہاں کچھ یوں ہی سا واہمہ ہم کو بھی گزرتا ہے مگر (جس کو) یقین (کہتے ہیں وہ تو) ہم کو (ہے) نہیں۔

[7] یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ انہیں علم کی روشنی نہیں ملی، بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا تھا اس کی قدر کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے انہیں گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص سرے سے ہدایت کا طالب ہی نہیں اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ [8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93۔
Ayah 45:33

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور (اس دن) ان پر ان کاموں کی برائیاں ظاہر ہوجائیں گی جو وہ (دنیا میں) کرتے رہے تھے اور وہ چیز ان کو گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

[9] وہ گھیر لینے والی چیز عذاب آخرت ہے۔
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور (ان سے) کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں (دیدہ و دانستہ) بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم نے اپنی اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا تھا اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں

[10] یعنی آج ہم تم کو مہربانی سے یاد نہ کریں گے اور ہمیشہ کے لئے دوزخ میں پڑا چھوڑ دیں گے۔
Ayahs 45:35–37

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

(تمہارا) یہ (انجام) اس لئے ہوا ہے کہ تم اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ پس آج نہ تو یہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو معذرت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے (جو) آسمانوں کا مالک (ہے) اور زمین کا مالک (ہے اور) دنیا جہان کا مالک (ہے) ۔

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور اسی کے لئے بڑائی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

[11] یعنی نہ ان کو دوزخ سے نکالا جائے گا نہ یہ موقع دیا جائے گا کہ اپنے رب سے معافی مانگ کر اس کو راضی کرسکیں۔