49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsانوار البیان

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

مومنو ! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اسکے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا سنتا جانتا ہے

(49:1) لا تقدموا۔ فعل نہی۔ جمع مذکر حاضر، تقدیم (تفعیل) مصدر بمعنی آگے بڑھنا۔ آگے بھیجنا تم آگے مت بڑھو، تم پہل مت کرو۔ بین : بیچ۔ درمیان، اسم ظرف مکان۔ جب بین کی اضافت ایدی۔ یا یدی کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے ۔ بین مضاف یدی اللہ مضاف مضاف الیہ مل کر بین کا مضاف الیہ۔ اللہ کے دونوں ہاتھوں کے سامنے۔ اللہ کے سامنے۔ ورسولہ ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ ۔ تم اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پہل مت کیا کرو۔ فائدہ : صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں کہ :۔ یہاں ایک چیز غور طلب ہے۔ وہ یہ کہ لا تقدموا متعدی ہے لیکن اس کا مفعول مذکور نہیں ہے اس کی حکمت یہ ہے کہ اگر کسی چیز کو ذکر کردیا جاتا تو صرف اس کے بارے میں خلاف ورزی ممنوع ہوتی۔ مفعول کو ذکر نہ کر کے بتادیا کہ کوئی عمل ہو کوئی قول ہو۔ زندگی کے کسی شعبہ سے اس کا تعلق ہو اس میں اللہ اور اس کے رسول کے ارشاد سے انحراف ممنوع ہے۔ نیز اگر مفعول ذکر کردیا جاتا تو سامع کی توجہ ادھر ہی مبذول ہوجاتی، اس کو ذکر نہ کر کے بتادیا کہ تمہاری تمام تر توجہ لا تقدموا کے فرمان پر مرکوز ہونی چاہیے۔ واتقوا اللہ ۔ وائو عاطفہ اتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، اتقاء (افتعال) مصدر بمعنی ڈرنا۔ پرہیز کرنا۔ اللہ مفعول۔ تم اللہ سے ڈرو۔ تم اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

(49:2) لا ترفعوا ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، رفع (باب فتح) مصدر۔ تم بلند نہ کرو تم اونچی مت کرو، اصواتکم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تمہاری آواز۔ اپنی آواز۔ فوق ۔ اسم ظرف۔ اوپر۔ بلند۔ لا تجھروا ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، جھر (باب فتح) مصدر۔ الجھر کے معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں۔ چناچہ حاسہ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ رایتہ جھرا میں نے اسے کھلم کھلا دیکھا۔ قرآن مجید میں ہے لن نؤمن لک حتی تری اللہ جھرۃ (2:55) جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں۔ تم پر ایمان نہیں لائیں گے اور حاسہ سمع کے سبب ظاہر ہونے یا نمایاں ہونے کے فرمایا وان تجھروا بالقول فانہ یعلم السر واخفی (20:7) تم پکار کر بات کہو وہ تو چھپے ہوئے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے۔ کجھر میں ک تشبیہ کا ہے جھر زور سے بات کرنا۔ دیکھنے یا سننے میں کسی چیز کا کھلم کھلا ظاہر ہونا ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض : اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو (اسی طرح) ان کے رو برو زور سے نہ بولا کرو۔ ان تحبط اعمالکم : ان مصدریہ ہے اور یہ جملہ ممانعت کی علت ہے۔ تحبط مضارع واحد مؤنث غائب حبط (باب سمع 9 مصدر۔ جس کے معنی مٹنے اور اکارت ہوجانے کے ہیں۔ مبادا تمہارے اعمال برباد ہوجائیں۔ وانتم لا تشعرون۔ یہ جملہ حالیہ ہے فاعل تحبط سے۔ اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ پیغمبر خدا کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں خدا نے ان کے دل تقوے کے لئے آزما لیے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے

(49:3) یغضون مضارع جمع مذکر غائب غض (باب نصر) مصدر۔ وہ نیچی رکھتے ہیں وہ پست رکھتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے : قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ۔ (24:30) مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں۔ اولئک ۔ اسم اشارہ جمع مذکر ۔ ای الذین یغضون اصواتہم عند رسول اللہ۔ یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں۔ امتحن اللہ قلوبہم للتقوی ۔ امتحن ۔ ماضی واحد مذکر غائب امتحان (افتعال) مصدر۔ محن مادہ۔ اس نے جانچ لیا۔ اس نے آزما لیا۔ آزمانے کے معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے فامتحنوھن (60:10) تو تم ان کی آزمائش کرلو۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اللہ نے ان کے دل تقویٰ کے لئے آزما لئے ہیں : ترجمہ فتح محمد جالندھری۔ (1) اخفش لکھتے ہیں :۔ امتحان (باب افتعال) سے ہے اس کے لغوی معنی ہیں چمڑے کو کھلا کرنا۔ اس مفہوم کے پیش نظر آیت کا ترجمہ ہوگا کہ :۔ ہم نے ان کے دلوں کو تقویٰ اور پرہیزگاری کے لئے کشادہ اور وسیع کردیا ہے۔ (2) علامہ زمخشری لکھتے ہیں :۔ جب کوئی شخص کسی چیز کا خوگر اور عادی ہوجائے اور اسے اس کی خوب مشق کرالی جائے تو عرب کہتے ہیں امتحن فلان لا مرکذا (فلاں اس کا عادی یا خوگر ہوگیا ) یعنی اب وہ اس امر کو بآسانی سنبھال سکتا ہے اور اس میں کسی ضعف یا کمزوری کو محسوس نہیں کرتا۔ (3) عربی میں ہے :۔ امتحن الفضۃ ۔ اس نے چاندی کو تپا کر صاف کیا۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اللہ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لئے خالص کرلیا ہے۔ لہم مغفرۃ واجر عظیم ۔ لام تخصیص کے لئے ہے۔ مغفرۃ واجر عظیم کی تنوین اظہار عظمت کے لئے ہے۔ یعنی بڑی مغفرت اور بہت بڑا اجر۔
Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں

(49:4) ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرہم لا یعقلون : ان حرف مشبہ بالفعل الذین اسم موصول ینادونک من وراء الحجرات صلہ۔ موصول الذین اسم ان ۔ اکثرہم لا یعقلون خبر ان۔ ینادون مضارع جمع مذکر غائب مناداۃ (مفاعلۃ) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ تم کو پکارتے ہیں۔ من ابتدائیہ وراء اصل میں مصدر ہے جس کو بطور ظرف استعمال کیا جاتا ہے۔ آڑ، حد فاصل ۔ کسی چیز کا آگے ہونا۔ پیچھے ہونا۔ چاروں طرف ہونا۔ علاوہ اور سوا ہونا۔ یہاں آیت ہذا میں بمعنی باہر ہے اور مضاف ہے۔ الحجرات مضاف الیہ۔ الحجرات بروزن فعلۃ حجرۃ کی جمع ہے جیسے ظلمات جمع ہے ظلمۃ کی اور غرفت جمع ہے غرفۃ کی۔ حجرہ۔ گھر، خلوت خانہ جس کی چار دیواری ہو ۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر ناسمجھ ہیں ۔ فائدہ : صاحب تفسیر ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ اسلام سے پہلے خطہ عرب جہالت وناشائستگی کا گہوارہ تھا۔ مکہ جیسے مرکزی شہر میں گنتی کے چند آدمیوں کے سوا ساری آبادی نوشت وخواند سے قاصر تھی۔ تہذیب و معاشرت کے آداب سے یہ لوگ بالکل کورے تھے۔ صحراء نشین بدئووں کی حالت اور بھی نا گفتہ بہ تھی۔ اس آیت کریمہ میں بھی وہ آداب سکھائے جا رہے ہیں جن کا بارگاہ رسالت میں ملحوظ رکھنا از حد ضروری ہے۔ ایک دفعہ بنی تمیم کا وف جو ستر اسی نفوس پر مستمل تھا مدینہ طیبہ آیا۔ اس وفد میں زبر قان بن بدر، عطارد بن حاجب اور قیس بن عاصم ان کے سردار بھی تھے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ سرور عالم اپنے حجرہ مبارکہ میں قیلولہ فرما رہے تھے۔ ان لوگوں نے حضور ﷺ کی آمد تک انتظار کو اپنی شان کے خلاف سمجھا اور باہر کھڑے ہو کر آوازیں دینے لگے یا محمد اخرج علینا۔ حضور ﷺ کا نام نامی لے کر کہنے لگے کہ ہمارے پاس باہر آئیے۔ حضور ﷺ تشریف لے آئے تو ان لوگوں نے شیخی بگھارتے ہوئے کہا۔ یا محمد ان مدحنا زین وان شتمنا شین ونحن اکرم العرب۔ یعنی ہم جس کی مدح کرتے ہیں اسے مزین کردیتے ہیں اور جس کی مذمت کرتے ہیں اس کو معیوب بنا دیتے ہیں۔ ہم تمام عربوں سے اشرف ہیں۔ سچے نبی نے فرمایا :۔ کذبتم بل مدح اللہ تعالیٰ زین وشتمہ شین واکرم منکم یوسف بن یعقوب ابن اسحاق بن ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام ) اے بنی تمیم تم نے غلط بیانی سے کام لیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدح باعث زینت ہے۔ اور اس کی ہی مذمت باعث تحقیر ہے اور تم سے اشرف اور معزز حضرت یوسف ہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم مفاخرت کے لئے آئے ہیں۔ چناچہ پہلے ان کا خطیب عطارد بن حاجب کھرا ہوا اور اپنے قبیلے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے۔ اور اپنی فصاحت و بلاغت کا مظاہر ہ کیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت ثابت بن قیس کو اس کا جواب دینے کا حکم دیا ۔ مکتب نبوت کا یہ تلمیذ ارشد جب لب کشا ہوا تو ان کے چھکے چھوٹ گئے اور وہ سہم کر رہ گئے۔ اس کے بعد ان کا شاعر زیرقان بن بدر کھڑا ہوا۔ اور اپنی قوم کی مدح میں ایک قصیدہ پڑ ھ ڈالا۔ حضور ﷺ نے حضرت حسان ؓ کو اشارہ فرمایا۔ حضرت حسان نے فی البدیہہ ان کے مفاخر کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اور اسلام کی صداقت اور حضور کی عظمت کو اس انداز میں بیان فرمایا کہ ان کافروں کا غرور خاک میں مل گیا اور اقرع کو تسلیم کرنا پڑا کہ نہ ہمارا خطیب حضور کے خطیب کا ہم پلہ ہے اور نہ ہمارا شاعر دربار دسالت کے شاعر سے کوئی مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر خصوصی کرم فرمایا اور ان کے دلوں کو اسلام کے لئے کشادہ کردیا۔ اور وہ سارے کے سارے مشرف بہ اسلام ہوگئے ۔ رحمت عالم ﷺ نے انعام و اکرام سے انہیں مالا مال کردیا۔ اقرع بن حابس اور عینیہ بن حصین اس وفد کے سردار تھے۔
Ayah 49:5

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

(49:5) ولو انھم صبروا حتی تخرج الیہم لکان خیرا لہم : جواب شرط۔ واو عاطفہ ہے لو حرف شرط۔ حتی حرف جر ہے الیٰ کی طرح انتہاء غایت کے لئے آتا ہے ۔ بمعنی تک۔ ، جب تک۔ یہاں تک۔ یہ جب مضارع پر داخل ہوتا ہے تو ان مقدرہ کی وجہ سے مضارع منصوب ہوجاتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں ہے۔ (مضارع تخرج منصوب ہے) اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسیٰ (20:91) جب تک حضرت موسیٰ ہمارے پاس واپس نہیں آئیں گے ہم تو اس (کی پوجا) پر قائم رہیں گے۔ لکان میں لام جواب شرط کے لئے ہے۔ کان فعل ناقص الصبر اسم کان محذوف خیرا۔ خبر کان کی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب وفد کے ارکان کی طرف راجع ہے جنہوں نے حضور ﷺ کو باہر سے پکارا تھا۔ واللّٰہ غفور رحیم۔ اور اللہ بڑا غفور اور رحیم ہے اسی لئے اس نے (تم کو سزا نہیں دی بلکہ) صرف نصیحت کردی اور رسول اللہ ﷺ کی تعظیم نہ کرنے والوں اور بےادبی کرنے والوں کو تنبیہ کردی کیونکہ یہ بےادب لوگ بےعقل اور جاہل ہیں۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

مومنو ! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے

(49:6) ان جاء کم فاسق بنیا۔ جملہ شرط ہے فتبینوا جواب شرط ہے ۔ ان حرف شرط ہے فاسق اسم فاعل۔ واحد ذکر۔ فسق (باب نصر و ضرب) مصدر۔ بدکردار۔ دوستی سے نکل جانے والا۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا۔ بدچلن۔ شریعت کی اصطلاح میں حدود شریعت سے نکل جانے والا۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانیوالا۔ فسقت الرطبۃ عن قشرھا۔ کھجور اپنے چھلکے سے باہر نکل آئی۔ اسی سے فاسق بنایا گیا ہے کیونکہ وہ بھی خیر سے باہر نکل آتا ہے۔ نبا۔ خبر۔ ایسی خبر کہ جس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہوں۔ (ن ب ء مادہ) ۔ فتبینوا :جواب شرط کے لئے ہے تبینوا فعل امر جمع مذکر حاضر، تبین (تفعل) مصدر۔ تم تحقیق کرلو۔ تم کھول لو۔ ان مصدریہ ہے ۔ کہ ۔ یہ کہ۔ بمعنی کیلا (مبادا) کہ۔ (ایسا نہ ہو) کہ تصیبوا۔ مضارع منصوب جمع مذکر حاضر۔ اصابۃ (افعال) مصدر صوب مادہ۔ تم پہنچاؤ۔ تم جا پڑو۔ قوما۔ قوم ۔ گروہ۔ برادری۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہیں۔ بجھالۃ : جھل یجھل (باب سمع) کا مصدر، بمعنی نادانی۔ بےعلمی ان تصیبوا : ای کیلا تصیبوا بالقتل والسبی۔ مطلب یہ کہ تم لاعلمی میں کسی گروہ کو جس کے خلاف تم کو کوئی خبر پہنچی ہو اسے قتل کر دو یا کوئی دوسری گزند پہنچاؤ۔ فائدہ : یہ آیت اکثر مفسرین کے مطابق ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں میں نازل ہوئی جس کو بنی المصطلق سے زکوۃ وصول کرنے پر مامور کیا گیا لیکن اس نے اس قبیلہ کو ملے بغیر حضور ﷺ سے اگر کہا کہ قبیلہ کے لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکاری ہیں اور اس کے قتل کرنے کے درپے ہیں جس پر قبیلہ کی سرکوبی کے لئے حضور ﷺ نے ایک دستہ روانہ کرنے کا ارادہ فرمایا کہ اس دوران بنی المصطلق کے سردار حارث بن ضرار (ام المؤمنین حضرت جویریہ ؓ کے والد) حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ انہوں نے تو ولید کو دیکھا تک ہی نہیں اس لئے ان کے انکار اور ولید کے قتل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا فتصبحوا :تعقیب کا ہے تصبحوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ عامل کے آنے سے نون اعرابی گرگیا۔ اصباح (افعال) مصدر۔ افعال ناقصہ میں سے ہے پھر تم ہوجاؤ۔ مافعلتم : ما موصولہ ہے فلتم صلہ۔ جو تم نے کہا۔ ندمین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب ۔ نکرہ۔ نادم ۔ پشیمان۔ کشاف میں ہے :۔ الندم ضرب من الغم وھو ان تغتم علی ما وقع منک تتمنی انہ لم یقع منک۔ ندامت ایک خاص قسم کا غم ہے وہ یہ کہ تو ایسی بات پر غمزدہ ہو جس کا تجھ سے ارتکاب ہوا ہے اور جس کے متعلق تمہارا یہ خیال ہے کہ کاش میں نے یہ کام نہ کیا ہوتا۔
Ayah 49:7

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبر ہیں اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑجاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں

(49:7) واعلموا ان فیکم رسول اللّٰہ۔ اس کا عطف ماقبل پر ہے واؤ عاطفہ۔ اعلموا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ علم (باب سمع) مصدر۔ تم جان لو۔ تم (اچھی طرح) ذہن نشین کرلو۔ تم خوب جان لو۔ ان بمعنی یقینا۔ بےشک۔ رسول منصوب بوجہ عمل ان اور خوب جان لو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ۔ فارجعوا الیہ واطلبوا رأیہ۔ پس ہر مار میں اس کی طرف رجوع کرو۔ اور اس کی رائے طلب کرو۔ اوقدروا حق قدرہ اور اس کی کما حقہ قدر کرو۔ (اس کی قدر اس امر کی مقتضی ہے کہ اس کی ہر تدبیر کو تسلیم کیا جاوے کیونکہ وہ وحی بالہام من اللہ ہے اور تمہارے لئے اس میں خیر ہی خیر ہے) ۔ لم یطیعکم فی کثیر من الامر جملہ شرط۔ لعنتم جواب شرط ۔ لو حرف شرط یطیع مضارع واحد مذکر غائب اطاعۃ (افعال) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اگر وہ اکثر امور میں تمہاری بات مانیں۔ لعنتم لام جواب شرط کا رم دشواری میں پڑجاؤ۔ عنت بمعنی دشواری میں پڑنا۔ (فیروز اللغات) دشواری میں پڑنا مصیبت سے ہلاک ہوجانا۔ گناہ کرنا۔ (المنجد) مشقت، تباہی۔ بربادی مجازا ۔ زنا۔ (قاموس القرآن) معجم الوسیط میں ہے عنت فلان : وقع فی مشقۃ وشدۃ مشقت اور دشواری میں پڑنا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے۔ لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم (9:128) تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول آئے ہیں کہ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے۔ العنت : الخطاء والزنی : قال تعالیٰ : ذلک لمن خشی العنت منکم (4:125) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو۔ فائدہ : آیت نمبر 6 میں حکم ہوا تھا کہ اگر کوئی شریر فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو پیشتر اس کے کہ اس پر کوئی قدم اٹھایا جائے اس کی تحقیق کرلیا کرو مبادا کہ کہ تم لاعلمی میں ایسی کاروائی کر گزرو جس پر بعد میں پشیمانی ہو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جب ولید بن عقبہ کی زبانی بنی المصطلق کے مرتد ہونے کی خبر سنی تو فرط جوش میں بعض نے ان کے خلاف کاروائی کا مشورہ دیا۔ لیکن حضور ﷺ نے ان کا مشورہ نہ مانا۔ اور حضرت خالد بن ولید ؓ کو ایک دستہ دے کر روانہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی فرما دی کہ جلد بازی سے کام نہ لیں بلکہ تحقیق کے بعد ہی کوئی مناسب قدم اٹھائیں۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے موقعہ پر حالات کو ولید بن عقبہ کے بیان کے الٹ پایا اور واپس آکر دربار رسالت میں اطلاع دی۔ چناچہ اس پر ارشاد الٰہی ہوتا ہے کہ جب اللہ کا رسول تمہارے درمیان موجود ہے اور پیچیدہ گتھی کو سلجھا سکتا ہے اور تم سے زیادہ انجام و عواقب کا صحیح اندازہ لگا سکتا ہے تو تمہیں اپنی صلاح یا مشورہ دینے کی بجائے اس کے حکم اور فیصلہ پر امنا صدقنا کہنا چاہیے کیونکہ اگر تم اپنی بات منوانے پر اصرار کرو گے تو ہوسکتا ہے کہ تم ایسی دشواری میں پڑجاؤ کہ جس سے نکلنا دشوار ہوجائے (آیت نمبر 7) بنی مصطلق کے مسئلہ پر چونکہ صحابہ کرام کا مشورہ اور غصہ کسی ذاتی رنج یا مفاد کے لئے نہ تھا بلکہ صرف اللہ کے دین کی حمایت کے لئے تھا اس لئے اس ابہام کو دور کرنے کے لئے کہ بنی مصطلق پر غصہ کرنے والے اور فوجی کاروائی کا مشورہ دینے والے صحابہ کرام کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں ارشاد ہوتا ہے ولکن اللّٰہ ۔۔ الخ یعنی تم نے جو تأمل اور تحقیق خبر سے کام نہیں کیا۔ یہ قابل ملامت نہیں ہے کیونکہ تم کو ایمان کی محبت اور کفر سے نفرت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں ایمان کی محبت اور کفر و فسوق اور عصیان سے بغض پیدا کردیا ہے۔ حبب : ماضی واحد مذکر غائب۔ تحبیب (تفعیل) مصدر۔ بمعنی دوست بنانا محبوب کردینا۔ اس نے محبت ڈال دی۔ اس نے پیارا کردیا۔ حبب الیکم الایمان۔ اس نے ایمان کو تمہارے نزدیک محبوب بنادیا۔ زینہ : زین ماضی واحد مذکر غائب تزیین (تفعیل) مصدر۔ مزین کرنا۔ اس نے آراستہ کردیا۔ اس نے زینت دی۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الایمان ہے۔ کرہ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ تکریہ (تفعیل) مصدر۔ (اس کے دوسرے مفعول پر الی آنا ضروری ہے) کرہ الیکم۔ اس نے تمہارے لئے ناگوار بنادیا۔ اس نے تمہاری نظر میں مکروہ کردیا۔ (کفر کو تمہاری نظر میں ناگوار کردیا) الفسوق والعصیان : دونوں کا عطف الکفر پر ہے۔ الفسوق پر الف لام تعریف کے لئے ہے۔ فسوق بمعنی گناہ اور العصیان نافرمانی ۔ گناہ۔ حکم عدولی۔ اطاعت کی ضد ہے۔ اصل میں عصی یعصی کا مصدر ہے لیک بطور اسم یعنی حاصل مصدر کے زیادہ مستعمل ہے۔ اولئک ہم الراشدون : جملہ معترضہ ہے۔ اولئک اسم اشارہ ، جمع مذکر مشار الیہ۔ وہ صحابہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان کی محبت بھر دی اور کفر و نافرمانی سے ان کو متنفر کردیا۔ راشدون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ رشد و رشد (باب نصر) مصدر۔ راہ یافتہ بھلائی پانے والے۔ علامہ قرطبی (رح) اپنی تفسیر میں رقمطراز ہیں :۔ الرشد : الاستقامۃ علی طریق الحق مع تصلب فیہ۔ من الرشدہ وہی الصخرۃ۔ رشد طریق حق پر استقامت کو کہتے ہیں جس میں پختگی اور سختی ہو یہ رشدہ سے مشتق ہے جس کا معنی چٹان ہے۔
Ayah 49:8

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(49:8) فضلا من اللّٰہ ونعمۃ : فضلا و نعمۃ مفعول لہ ہیں حبب، زین ، کرہ کے۔ یعنی اللہ کی طرف سے تجیب، تزئین، تکریہہ ، اس کے فضل اور نعمت کے لئے تھی۔ یعنی فضل و نعمت کی وجہ سے تھی۔ بیضاوی لکھتے ہیں :۔ فضلا من اللّٰہ ونعمۃ تعلیل لکرہ او حبب وما بینھما اعتراض۔ فضلا من اللّٰہ ونعمتۃ تعلیل ہے کرہ کی یا حبب کی اور دونوں کے مابین جملہ معترضہ ہے۔ واللّٰہ علیہ حکیم : اور اللہ مؤمنین کے احوال کو خوب جانتا ہے اور حکیم مسلمانوں پر فضل و انعام (کا مصلحت شناس ہے) بتوفیق اسباب کرتا ہے۔
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس وہ رجوع لائے تو دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

(49:9) وان طائفتن ۔۔ اقتتلوا۔ جملہ شرط ہے فاصلحوا بینھما جواب شرط۔ ان شرطیہ۔ طائفتن تثنیہ ہے طائفۃ کا۔ گروہ۔ جماعت۔ کچھ لوگ۔ بعض لوگ۔ ایک اور ایک سے زائد سب کو کہتے ہیں۔ طوف (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ اقتتلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اقتتال (افتعال) مصدر۔ انہوں نے قتال کیا۔ وہ آپس میں لڑ پڑے۔ فاصلحوا :جواب شرط اصلحوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصلاح (افعال) مصدر۔ تم صلح کرادو۔ تم ملاپ کرادو۔ فان بغت :عاطفہ۔ ان شرطیہ بغت ماضی واحد مؤنث غائب بغی (باب ضرب) مصدر۔ اس نے سرکشی کی۔ اس نے بغاوت کی۔ وہ سرکشی کرے یا بغاوت کرے۔ وہ زیادتی کرے۔ احدھما۔ ان دونوں میں سے ایک۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک۔ علی الاخری۔ دوسرے پر۔ دوسرے کے خلاف۔ دوسرے کے مقابلہ میں جملہ شرطیہ ہے۔ فقاتلوا التی تبغی : جملہ جواب شرط ہے۔جواب شرط کا ہے۔ قاتلوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ مقاتلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ تم لڑو۔ التی تبغی (اس سے) جو زیادتی کرتا ہے۔ تبغی مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ بغی باب ضرب ، مصدر۔ حتی یہاں تک، انتہائے غایت کے لئے۔ تفیئ۔ مضارع واحد مؤنث غائب فیء (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی اچھی حالت کی طرف رجوع کرنا۔ پھرنا۔ وہ رجوع کرے وہ پھر آئے۔ وہ لوٹ آئے۔ یہاں تک کہ وہ پھر آئے (اللہ کے حکم کی طرف) فان فاءت فاصلحوا بینھما بالعدل :تعقیب کا ہے۔ فاءت ماضی واحد مؤنث غائب جملہ شرط۔جواب شرط کے لئے ۔ اصلحوا جملہ جواب شرط۔ پس اگر وہ لوٹ آئے تو عدل و انصاف کے ساتھ ان دونوں کے درمیان صلح کرادو۔ واقسطوا۔ واؤ عاطفہ ۔ اقسطوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اقساط (افعال) مصدر۔ اور انصاف سے کام لو۔ انصاف کرو۔ اقساط کے اصل معنی ہیں حقدار کا حصہ حقدار کو دینا۔ چونکہ انصاف اسی چیز کا نام ہے اس لئے اس کے معنی انصاف کے لئے جاتے ہیں۔ قسط (مجرد) کا معنی ہے۔ ظلم کرنا۔ ناانصافی کرنا۔ اور اس معنی میں قرآن مجید میں آیا ہے :۔ وانا منا المسلمون ومنا القسطون (72:14) اور یہ کہ ہم میں سے بعض مسلمان ہیں اور بعض ظالم (بےراہ۔ نافرمان) ہیں ۔ لیکن یہاں اس آیت میں اقسطوا باب افعال سے ہے اور باب افعال کے خواص میں سے سلب ماخذ کی خاصیت بھی ہے اس لئے اس باب سے بمعنی ظلم کو دور کرنا۔ یعنی انصاف کرنا مستعمل ہے۔ المقسطین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب، اقساط (افعال) مصدر انصاف کرنے والے۔
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم رحمت کی جائے

(49:10) اخویکم، مضاف مضاف الیہ۔ اخوی دو بھائی۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ تمہارے دو بھائی ۔ تثنیہ کا صیغہ خصوصیت کے ساتھ اس لئے استعمال کیا کہ اختلاف کم سے کم دو آدمیوں میں ہی ہوتا ہے (اس سے زائد کی نفی نہیں ہوتی) واتقوا اللّٰہ ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یعنی اس کے حکم کے خلاف نہ کرو۔ لعلکم۔ شاید کہ تم۔ اس امید پر کہ تم ۔ لعل حرف ترجی ہے بمعنی شاید کہ :۔ امید ہے کہ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حاکمانہ ، شاہانہ طرز کلام کے مطابق یہ لفظ تعلیل و تحقیق کے لئے استعمال کیا ہے (قاموس القرآن) ترحمون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ رحمۃ (باب سمع) مصدر۔ تم پر رحم کیا جائے۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

مومنو ! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام (رکھو) ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں

(49:11) لایسخر : فعل نہی واحد مذکر غائب سخر (باب سمع) مصدر۔ ب اور من کے صلہ کے ساتھ۔ مذاق بنانا۔ ٹھٹھا کرنا۔ (چاہیے کہ یہ تمسخر اڑائے مردوں کی ایک جماعت دوسری جماعت کا۔ عسی۔ ممکن ہے۔ ہوسکتا ہے۔ ان یکن خیرا منھن : ان مصدریہ ۔ یکن مضارع جمع مؤنث غائب ۔ کون باب نصر۔ مصدر۔ وہ ہوں گی۔ وہ ہوں۔ خیرا افعل التفضیل کا صیغہ ہے بہتر۔ بوجہ خبر یکن منصوب ہے۔ یکن میں ضمیر جمع مؤنث غائب ان عورتوں کی طرف راجع ہے جن کا تمسخر اڑایا جا رہا ہو۔ اور منھن میں ان عورتوں کی طرف جو تمسخر اڑا رہی ہوں ۔ لاتلمزوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ لمز (باب ضرب و نصر) مصدر۔ تم عیب مت لگاؤ۔ تم عیب چینی مت کرو۔ انفسکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے اپنے اشخاص کی یعنی آپس کی۔ ایک دوسرے کی (عیب جوئی مت کرو) اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ومنھم من یلمزک فی الصدقت (9:58) اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ تقسیم صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ ولا تنابزوا۔ واؤ عاطفہ۔ لاتنابزوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر تنابز (تفاعل) باہم چڑ مقرر کرنا۔ آپس میں برا نام نکالنا۔ اور ایک دوسرے کو چرانا اور برے نام سے پکارنا۔ اور تم ایک دوسرے کو برے نام سے مت پکارو۔ بالالقاب : مضاف مضاف الیہ۔ القاب کے ساتھ ۔ القاب جمع ہے لقب کی اصلی نام اور لقب میں فرق صرف یہ ہے کہ علم میں معنی کی رعایت نہیں ہوتی لیکن لقب میں معنی کا لحاظ ہوتا ہے۔ لقب کی دو قسمیں ہیں :۔ (1) ایک وہ جو عزت و شرف کے لحاظ سے ہو جیسے بادشاہوں کے لقب ہوتے ہیں۔ (2) دوم یہ کہ بطور چڑانے کے رکھ دیا جائے آیت ہذا میں دوسرے ہی قسم کے لقب مراد ہیں یعنی ایک دوسرے کو چڑانے کیلئے نام نہ ڈالو بئس۔ برا ہے۔ فعل ذم ہے اس کی گردان نہیں آتی۔ بئس اصل میں بئس تھا بروزن فعل (باب سمع) سے۔ عین کلمہ کی اتباع میں اس کی فاء کو کسرہ دیا گیا۔ پھر تخفیف کے لئے عین کلمہ کو ساکن کردیا گیا۔ بئس ہوگیا۔ الاسم الفسوق : موصوف و صفت۔ برا نام ۔ عیب دار نام۔ مثلا یہودی ، کافر، فاسق۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا ہی برا ہے۔ لم یتب۔ مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر غائب توب (باب نصر) مصدر (اور جس نے) توبہ نہ کی۔ ای من لم یتب عما نھی عنہ۔ اور جس نے توبہ نہ کی اس سے جس سے اس کو منع کیا گیا (تو ایسے لوگ ہی ظالم ہیں) ۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

(49:12) اجتنبوا فعل امر، جمع مذکر حاضر۔ اجتناب (افتعال) مصدر۔ تم پرہیز کرو۔ تم بچو۔ تم اجتناب کرو۔ الجنب اصل میں پہلو کو کہتے ہیں اس کی جمع جنوب ہے۔ قرآن مجید میں ہے قیاما قعودا وعلی جنوبھم (3:191) جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں پر لپٹے ہوئے اور اسی سے والصاحب بالجنب (4:36) بمعنی قریبی ساتھی۔ دوست کے ہیں۔ اور دوری کے معنی میں اسی آیۃ (4:36) میں ہے الجار الجنب اجنبی یعنی دور کا ہمسایہ۔ الظن۔ تہمت ۔ شک ۔ اٹکل۔ انسان کے دل میں جو بات آئے اور اس کے صحیح اور غلط ہونے کے دونوں پہلو ہوں اسے ظن کہتے ہیں ۔ آیت ہذا میں تہمت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ قاموس القرآن از قاضی زین العابدین میں ہے :۔ کہ کہیں ظن کا استعمال تہمت کے لئے ہوا ہے۔ چناچہ فرمایا گیا ہے :۔ یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم۔ (اے ایمان والو ! بہت تہمتیں لگانے سے بچو درحقیقت بعض تہمت گناہ ہے) اور حدیث میں آیا ہے : ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث (تہمت لگانے سے بچو کیونکہ تہمتیں لگانا سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے) (نیز ملاحظہ ہو 48:6) کثیرا من الظن۔ بہت گمان کرنے سے بچو۔ یا پرہیز کرو۔ اثم۔ گناہ واحد۔ اثام جمع۔ اثم واثم واثام (باب سمع) مصدر گناہ کرنا۔ ناجائز کرنا۔ اثم وہ فعل یا عمل جو ثواب سے روکنے یا پیچھے رکھنے والا ہو۔ ولا تجسسوا۔ اس جملہ کا عطف سابقہ جملہ اجتنبوا پر ہے لاتجسسوا فعل نہی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ تجسس تفعل مصدر تم جاسوسی نہ کرو۔ تم کھوج مت لگاؤ۔ جس بہ نسبت حس کے خاص ہے کیونکہ حس کے معنی ہیں ہر اس چیز کا پہچاننا جو بذریعہ حس معلوم ہوسکے۔ اور جس کے معنی ہیں ایک خاص حالت کا پتہ چلانا۔ ولا یغتب بعضکم بعضا۔ اس کا عطف بھی جملہ سابقہ اجتنبوا پر ہے لا یغتب فعل نہی واحد مذکر غائب۔ اغتیاب (افتعال) مصدر۔ غیبت کرنا۔ پس پشت برا کہنا۔ بعضکم بعضا تم میں سے کا بعض۔ تم میں سے کوئی کسی کی۔ بعضکم مضاف مضاف الیہ۔ فاعل۔ بعضا مفعول ۔ اور تم میں سے کوئی دوسرے کی چغلی یا غیبت بھی نہ کرے۔ ایحب الف استفہام انکاری ہے۔ یحب مضارع واحد مذکر غائب۔ احباب (افعال) مصدر۔ کیا کوئی پسند کرتا ہے۔ یا پسند کرے گا ؟ بمعنی نہیں کریگا یعنی تم میں سے کوئی پسند نہیں کریگا۔ ان یا کل : ان مصدریہ ہے۔ یا کل مضارع منصوب واحد مذکر غائب۔ لحم اخیہ : اخیہ مضاف مضاف الیہ مل کر (لحم) مضاف کا مضاف الیہ پھر مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل یا کل کا۔ میتا۔ مردہ۔ اخ سے حال ہے (کیا پسند کرے گا تم میں سے کوئی شخص کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ میتا لحم سے بھی حال ہوسکتا ہے۔ فکرھتموہ :ترتیب کا ہے (مابعد کی ترتیب ماقبل پر) کرھتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ (بمعنی مستقبل) کرہ (باب سمع) مصدر ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع الکل، لحم یا میت ہے ۔ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ واتقوا اللّٰہ۔ واؤ عاطفہ ، جملہ کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ جیسے کہ کہا گیا ہو امتثلوا ما قیل لکم واتقوا اللّٰہ۔ جو کچھ تم سے کہا گیا ہے اس کو اختیار کرو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو۔ ان اللّٰہ تواب رحیم : ان حرف مشبہ بالفعل (خبر کی تاکید و تحقیق مزید کے لئے آتا ہے) اللّٰہ اسم ان تواب رحیم خبر۔ یہ جملہ : ۔ جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور جن سے منع کیا گیا ہے اس کی تعلیل ہے۔ یعنی جو اللہ سے ڈرا۔ اوامر پر عمل کیا اور نواہی سے اجتناب کیا۔ اور اپنی کوتاہی یا زیادتی سے توبہ کی تو بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اور بڑا مہربان ہے۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے

(49:13) من ذکر وانثی۔ ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت سے ای من ادم وحواء (علیہما السلام) فالکل سواء فی ذلک فلاوجہ للتفاخر بالنسب یعنی سب کو آدم اور حوا سے پیدا کیا۔ اس میں سے ایک برابر ہیں اور نسب میں کسی کے لئے کوئی وجہ تفاخر نہیں وجعلنکم شعوبا و قبائل : شعوب جمع ہے۔ شعب کی۔ اور شعوب وہ الجمع العظیم ہے جن کا انستاب ایک ہی اصل کی طرف ہو۔ شعب سے قبیلے پھوٹتے ہیں پھر شاخ در شاخ سلسلہ کثرت سے قلت کی طرف چلا جاتا ہے۔ عرب میں قبیلہ کی تدریجی تقسیم کثرت سے قلت کی طرف ترتیب حسب ذیل ہے :۔ (1) پہلے شعب، (2) پھر قبیلہ (3) پھر عمارہ (4) پھر بطن (5) پھر فخد (6) پھر فیصلہ۔ ابو اسامہ نے تصریح کی ہے کہ یہ طبقے انسانی خلقت کی ترتیب پر ہیں ۔ شعب ، سب سے عظیم تر ہے۔ شعب، الراس (جہاں دماغ کے چاروں حصے جڑ تے ہیں سے مشتق ہے پھر قبیلہ اپنے اجتماع کی بنا پر قبیلۃ الراس (کھوپری کا وہ حصہ جو شاخ در شاخ ہوتا ہے) سے پھر عمارۃ ہے جس کے معنی سینہ کے ہیں۔ پھر بطن (پیٹ) ہے پھر فخذ (ران) ہے پھر فیصلہ ہے جس کے معنی پنڈلی کے ہیں۔ پھر عرب کے قبیلوں کی تقسیم یوں کی گئی ہے۔ شعب (خزیمہ) ، قبیلہ (کنانہ) عمارۃ (قریش) ، بطن (قصی) فخذ (ہاشم) فصیلہ (العباس) ۔ لتعارفوا۔ شعوب اور قبائل وغیرہ بنانے کی علت ہے۔ یہ اس لئے کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ اکرمکم : اکرم اسم تفضیل کا صیغہ ہے مضاف۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر مضاف الیہ۔ تم میں سے زیادہ باعزت۔ زیادہ معزز۔ اتقکم : اتقی اسم تفضیل کا صیغہ ہے مضاف، کم مضاف الیہ۔ تم میں سے زیادہ متقی۔ ای ھو الذی اتقکم۔ جو تم میں سے زیادہ متقی ہے۔ علیم : ای بکم وباعمالکم تمہیں اور تمہارے اعمال کو جانتا ہے۔ خبیر بابطن احوالکم۔ تمہارے اندرونی حالات سے باخبر ہے۔
Ayah 49:14

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ) یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اگر تم خدا اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

(49:14) الاعراب : گنوار، بدو۔ اعراب وہ ہیں جو کہ صحراؤں میں سکونت گزیں ہوں۔ اس کے برخلاف لفظ عرب کے مفہوم میں وسعت ہے کیونکہ اس کا استعمال ان تمام انسانوں کے لئے عام ہے جو ریگستان عرب میں رہتے ہوں خواہ وہ صحراؤں میں بستے ہوں یا آبادیوں کے باشندے ہوں۔ اہل لغت کا بیان یہی ہے اور اسی پر سیبویہ نے کہا ہے کہ اعراب صیغہ جمع تو ہے مگر لفظ عرب کی جمع کا صیغہ نہیں ہے۔ لم تؤمنوا : مضارع نفی ھضد بلم۔ تم ایمان نہیں لائے۔ اسلمنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم مسلمان ہوئے۔ اسلام (افعال) مصدر۔ لما۔ حرف جازم ہے۔ لم کی طرح فعل مضارع پر داخل ہوکر جزم دیتا ہے اور مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں کردیتا ہے۔ ولما یدخل الایمان فی قلوبکم۔ اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ نیز ملاحظہ ہو (2:214) اس جملہ کا عطف لم تؤمنوا پر ہے۔ وان تطیعوا اللّٰہ ورسولہ۔ جملہ شرط ہے۔ تطیعوا : مضارع مجزوم بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اطاعۃ (افعال) مصدر۔ اللّٰہ ورسولہ دونوں مفعول ہیں تطیعوا کے۔ رسولہ مضاف ۔ مضاف الیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کی طرف راجع ہے۔ یایلتکم من اعمالکم شیئا۔ جملہ جواب شرط ہے۔ لایلت مضارع منفی مجزوم بوجہ جواب شرط۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ الت (باب ضرب) مصدر بمعنی حق کم کرکے دینا۔ کام کے ثواب یا اجر میں کمی کرنا۔ ا ل ت مادہ۔ شیئا : مفعول فعل لایلتکم کا۔ وہ تم کو کم نہ دیگا۔ وہ تمہارے حق میں کمی نہ کرے گا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وما التنھم من عملہم من شیء (52:21) اور ہم ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ یعنی ثواب میں کمی نہ کریں گے۔
Ayah 49:15

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں

(49:15) ثم لم یرتابوا : ثم تراخی زمانی کے لئے ہے۔ پھر ازاں بعد لم یرتابوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب اریتاب (افتعال) مصدر۔ وہ شک میں نہ پڑے۔ جھدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ انہوں نے جہاد کیا۔ جہاد کا مفعول مقدر ہے۔ مفعولہ مقدر۔ ای العدو او النفس والھوی۔ یعنی دشمن۔ یا نفس اور خواہشات۔ اولئک۔ اسم اشارہ۔ جمع مذکر۔ جو مذکورہ بالا اوصاف سے متصف ہیں۔ الصدقون۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ صادق کی جمع بحالت رفع۔ صدق سے۔ سچ بولنے والے۔ سچے مرد۔ دعوائے ایمان میں سچے۔
Ayah 49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

ان سے کہو کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ؟ اور خدا تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے اور خدا ہر شے کو جانتا ہے

(49:16) قل : ای قل یا محمد ﷺ ۔ اتعلمون اللّٰہ : ہمزہ استفہام کے لئے۔ تعلمون مضارع جمع مذکر حاضر تعلیم (تفعیل) مصدر۔ کیا تم سکھاتے ہو۔ کیا تم خبر دیتے ہو۔ کیا تم آگاہ کرتے ہو۔ بدینکم : دینکم مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور ب حرف جار۔ اپنے دین کے متعلق۔ واللّٰہ یعلم ۔۔ علیم۔ دونوں جملے حالیہ ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayah 49:17

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو بلکہ خدا تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے (مسلمان) ہو

(49:17) یمنون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ من باب نصر مصدر۔ وہ احسان جتلاتے ہیں ۔ وہ احسان رکھتے ہیں۔ ان اسلموا : ان مصدریہ ہے اسلموا ماضی جمع مذکر غائب کہ وہ الام لائے۔ کہ وہ مسلمان ہوئے۔ لاتمنوا۔ فعل نہی جمع مذکر غائب۔ من باب نصر مصدر۔ وہ احسان مت جتلاؤ ۔ تم احسان مت رکھو۔ لاتمنوا علی اسلامکم : ای لاتمنوا علی باسلامکم اپنے اسلام کا مجھ پر احسان مت جتلاؤ۔ بل۔ حرف اضراب ہے۔ یعنی تمہارا مجھ پر کوئی احسان نہیں بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی دولت بخشی، ہدایت بخشی۔ ان ھدکم للایمان : ان مصدریہ ہے ھدی ماضی واحد مذکر غائب ھدایۃ (باب ضرب) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کہ اس نے ایمان کی طرف تمہاری رہنمائی کی۔ ان کنتم صدقین۔ جملہ شرط ہے ۔ جواب شرط محذوف ہے ای فللّٰہ المنۃ علیکم۔ اگر تم سچی بات کرتے ہو تو اللہ کا تم پر احسان ہے (کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت بخشی) ۔ شکر خدا کن کہ موفق شدی بخیر ز انعام و فضل او، معطل نہ گذاشتت منت منہ کہ خدمت سلطاں میکنی منت شناس ازوکہ بخدمت بداشتت ترجمہ : خدا تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے نیکی کی توفیق دی ہے۔ اور اس نے تجھے اپنے انعام و احسان سے محروم نہیں رکھا۔ یہ احسان مت جتلا کہ تو بادشاہ کی خدمت کر رہا ہے۔ بلکہ اس کا احسان سمجھ کہ اس نے تجھے اپنی خدمت کا موقع دیا ہے۔
Ayah 49:18

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بیشک خدا آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھتا ہے

(49:18) بصیر۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل۔ دیکھنے والا۔ جاننے والا۔ فائدہ : آیات 14 تا 18 میں ان بدوی قبائل کا ذکر ہے جو اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر محض اس خیال سے مسلمان ہوگئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی ضرب سے محفوظ رہیں گے۔ اور اسلامی فتوحات کے فوائد سے بھی متمتع ہوں گے یہ لوگ حقیقت میں سچے دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ محض زبانی اقرار ایمان کرکے محض مصلحۃً اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار کر الیا تھا۔ اور ان کی اس باطنی حالت کا راز اس وقت افشا ہوجاتا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر طرح طرح کے مطالبے کرتے تھے۔ اور اپنا حق اس طرح جتاتے تھے کہ گویا انہوں نے اسلام قبول کرکے آپ پر بڑا احسان کیا ہے روایات میں متعدد قبائلی گروہوں کے اس رویہ کا ذکر آیا ہے ۔ مثلاً مزنیہ۔ جہنیہ ۔ اسلم۔ اشیحع۔ غفار وغیر ہ وغیرہ۔ خاص طور پر بنی اسد بن خزیمہ کے متعلق ابن عباس اور سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ ایک دفعہ خشک سالی کے زمانہ میں وہ مدینہ آئے اور مالی مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہم بغیر لڑے بھڑے مسلمان ہوئے ہیں۔ ہم نے اس طرح جنگ نہیں کی جس طرح فلاں فلاں قبیلوں نے جنگ کی ہے۔ اس سے ان کا صاف مطلب یہ تھا کہ اللہ کے رسول سے جنگ نہ کرنا اور اسلام قبول کرلینا ان کے ایک احسان ہے جس کا معاوضہ انہیں رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان سے ملنا چاہیے۔ اطراف مدینہ کے بدوی گروہوں کا یہی وہ طرز عمل ہے جس پر ان آیات میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ اس تبصرہ کے ساتھ سورة توبہ کی آیات 90 تا 110، اور سورة الفتح آیات 11-17 کو ملا کر پڑھا جائے تو بات زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ (تفہیم القرآن)