Ayahs 49:1–3یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ادب، نیز آپ کی تعظیم، احترام اور اکرام و تکریم کو متضمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو ان امور کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کے متقاضی ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب۔ نیزیہ کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے اوامر کے مطابق چلیں اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کی اتباع کریں، اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آگے نہ بڑھیں، اس وقت تک کوئی بات نہ کریں جب تک کہ اللہ کا رسول ﷺ بات نہ کرے، وہ کسی کام کا حکم نہ دیں جب تک کہ اللہ کا رسول ﷺ حکم نہ دے۔ پس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا یہی حقیق ادب ہے جو فرض ہے۔ یہی ادب بندے کی سعادت اور فلاع کا عنوان ہے، چناچہ اس کے حصول میں ناکامی سعادت ابدی اور نعیم سرمدی کے حصول میں ناکافی ہے۔
اس آیت کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کے قول پر کسی اور کے قول کو مقدم رکھنے کی ممانعت ہے کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ واضح ہو کر سامنے آجائے تو اس کی اتباع کرنا اور اس کو کسی اور قول اور رائے پر، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مقدم رکھنا واجب ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالییٰ نے تقویٰ کا عمومی حکم دیا ہے۔ اور تقویٰ کا معنی طلق بن حبیب کے قول کے مطابق، یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ثواب کے عطا ہونے کی امید رکھتے ہوئے اس کے نور کی روشنی میں اس کی اطاعت کریں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس کے نور کی روشنی میں اس کی معصیت کو ترک کردیں۔
(ان اللہ سمیع) بیشک اللہ تعالیٰ تمام اوقات اور تمام مخفی مقامات وجہات میں تمام آوازوں کو سنتا ہے (علیم) بیشک اللہ تعالیٰ تمام ظواہر اور بواطن، گزرے ہوئے اور آنے والے امور، تمام واجبات مستحیلات اور ممکنات کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی ممانعت اور تقویٰ کا حکم دینے کے بعد، ان دو اسمائے کریمہ کا ذکر کرنے میں، ان مذکورہ اوامر حسنہ اور آداب مستحسنہ کی تعمیل کی ترغیب اور ان کی عدم تعمیل کی صورت میں ترھیب ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (یایھا الذین امنوالا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروالہ بالقول) یہ رسول اللہ ﷺ سے مخاطب ہونے میں آپ کا ادب ہے یعنی رسول اللہ ﷺ سے مخاطب ہونے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی آواز کو آپ سے بلند کرے نہ اونچی آواز میں آپ سے گفتگو کرے، بلکہ اپنے لہجے کو پست رکھے، آپ سے نہایت ادب و ملائمت، تعظیم و تکریم اور جلال و عظمت کے ساتھ بات کرے۔ رسول اللہ ﷺ ان میں سے کسی فرد جیسے نہیں ہیں، اس لئے آپ سے مخاطب ہونے میں آپ کے امتیاز کا خاص خیال رکھیں۔ جیسا کہ آپ اپنی امت پر اپنے حقوق، آپ پر ایمان اور آپ کے ساتھ محبت کے واجب ہونے میں امتیاز رکھتے ہیں، جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان آداب کا لحاط نہ رکھنے سے ڈر ہے کہ کہیں بندے کا عمل اکارت نہ جائے اور اسے شعور تک نہ ہو، جس طرح آپ کا ادب کرنا حصول ثواب اور قبولیت اعمال کا سبب ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لئے چن لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل تقویٰ کے لئے درست پائے، پھر اس نے ان کے ساتھ ان کے گناہوں کی بخشش کا وعدہ کیا جو ہر قسم کے شر اور ناپسندیدہ امر کے زائل ہونے اور اجر عظیم کے حصول کو متضمن ہے، جس کے وصف کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسی میں ہر محبوب چیز کا حصول ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ امرو نہی اور مصائب و محن کے ذریعے سے دلوں کو آزماتا ہے پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے اوامر کا التزام کرتا ہے، اس کی رضا کی اتباع کرتا ہے، اس کی تعمیل کے لئے جلدی سے آگے بڑھتا ہے، اسے اپنی خواہشات نفس پر مقدم رکھتا ہے تو وہ تقویٰ کے لئے پاک صاف ہے اور اس کا قلب صحیح اور درست ہے اور جو کوئی ایسا نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ وہ تقویٰ کے قابل نہیں۔
Ayahs 49:4–5یہ آیت کریمہ، اعراب (یعنی عرب دیہاتیوں) میں سے، چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے جفا سے موصوف کیا ہے۔ وہ اس لائق ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حدود کو نہ جانیں جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں۔ یہ عرب دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وفد بن کر آئے اور انہوں نے آپ کو اپنے گھر میں اپنی ازواج مطہرات کے پاس پایا تو انہوں نے ادب کو ملحوظ نہ رکھا اور آپ کے باہر تشریف لانے تک انتظار نہ کرسکے اور پکارنا شروع کردیا ” اے محمد ! اے محمد ! ﷺ ہمارے پاس آؤ “۔۔۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی عدم عقل کی بنا پر مذمت کی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے ساتھ ادب و احترام کو نہ سمجھ سکے۔ جیسا کہ ادب کا استعمال عقل مندی میں شمار ہوتا ہے، بندے کا بادب ہونا اس کی عقل کا عنوان ہے۔
اللہ بندے کی بھلائی چاہتا ہے۔ بنابریں فرمایا : (ولوانھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیرا لھم واللہ غفور رحیم) ” اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خودنکل کر ان کے پاس آتے، تو یہ ان کے لئے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ‘ یعنی بندوں سے جو گناہ صادر ہوتے ہیں اور ان سے ادب میں جو خلل واقع ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو بخشنے والا ہے، وہ ان پر بہت مہربان ہے کہ وہ ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں فوراً عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔
Ayah 49:6یہ بھی ان آداب میں شامل ہے جن پر عقل مند لوگ عمل پیرا ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو وہ اس کی خبر کی تحقیق کرلیا کریں اور تحقیق کے بغیر اس پر عمل نہ کریں، کیونکہ اس میں بہت بڑے خطرے اور گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ جب فاسق و فاجر شخص کی خبر کو صادق اور عادل شخص کی خبر کے طور پر لیا جائے، اور اس کے موجب اور تقاضے کے مطابق حکم لگایا جائے، تو اس خبر کے سبب سے ناحق جان و مال کا اتلاف ہوگا جو ندامت کا باعث ہوگا۔ فاسق و فاجر کی دی ہوئی خبر سننے کے بعد اس کی تحقیق و تبین واجب ہے۔ اگر دلائل اور قرائن اس کی صداقت پر دلالت کرتے ہوں تو اس پر عمل کیا جائے اور اس کی تصدقی کی جائے اور اگر دلائل و قرائن اس کے کذب پر دلالت کریں تو اس کو جھوٹ سمجھا جائے اور اس پر عمل نہ کیا جائے۔
اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ صادق و عادل کی خبر مقبول، کاذب کی خبر مردود اور فاسق کی خبر میں توقف ہے۔ بنا بریں سلف نے خوارج کی بہت سی روایات کو قبول کیا ہے، جو صداقت میں معروف تھے، اگرچہ وہ فاسق تھے۔
Ayahs 49:7–8تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے اندر موجود ہیں وہ ایسے رسول ہیں، جو صاحب کرم، نیک طینت اور راہ راست دکھانے والے ہیں، جو تمہاری بھلائی چاہتے ہیں اور تمہارے خیر خواہ ہیں جبکہ تم اپنے لئے شر اور ضرر چاہتے ہو، جس پر رسول تمہاری موافقت نہیں کرسکتے۔ اگر رسول ﷺ بہت سے معاملات میں تمہاری اطاعت کرنے لگے تو تم مشقت میں پر جاؤ گے اور ہلاکت میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ مگر رسول اللہ ﷺ تمہیں رشدو ہدایت کی راہ دکھاتے ہیں، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ایمان کو محبوب بناتا ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں مزین کرتا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں حق کی محبت اور اس کی ترجیح و دیعت کی ہے، اس نے حق پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، جو اس کی صحت پر دلالت کرتے ہیں اور قلوب اور فطرت اس کی قبولیت کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انابت کی جو توفیق عطا کرتا ہے۔۔۔ وہ ان کے ذریعے سے تمہارے دلوں میں ایمان کو مزین کرتا ہے۔
اس نے تمہارے دلوں میں شر سے جو نفرت ودیعت کی ہے، تمہارے دلوں میں شر کی تعمیل کا جو ارادہ معدوم ہے، اس نے شر کے فساد اور اس کی مضرت پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، تمہارے دلوں اور فطرت کے اندر شر کی جو عدم قبولیت ودیعت کی ہے اور دلوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے شر کے لئے جو کراہت پیدا کی ہے۔۔۔ وہ ان کے ذریعے سے تمہارے دلوں کے لئے کفر و فسق یعنی چھوٹے بڑے گناہ کو ناپسندیدہ بناتا ہے۔
(اولئک) یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان مزین کردیا اور اسے ان کا محبو بنادیا اور ان کو کفر، گناہ اور معصیت سے بیزار کردیا (ھم الرشدون) ” وہی راہ ہدایت پر ہیں۔ “ یعنی جن کے علوم و اعمال درست ہوگئے اور وہ دین قویم اور صراط مستقیم پر کاربند ہوگئے۔
ان کے بر عکس اور ان کی ضد وہ لوگ ہیں جن کے لئے کفر، فسق اور عصیان کو پسندیدہ اور ایمان کو ناپسندیدہ بنادیا گیا ہے۔ یہ گناہ ان کا اپنا گناہ ہے کیونکہ جب انہوں نے فسق کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور جب (زاغوازاغ اللہ قلوبھم) (الصف : 61/5) ” وہ کج رو ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ “ چونکہ جب حق پہلی مرتبہ ان کے پاس آیا تو وہ اس پر ایمان نہ لائے اس لئے اللہ تعالیٰ نے انکے دلوں کو پلٹ دیا۔
(فضلا من اللہ ونعمۃ) یعنی یہ بھلائی جو انہیں حاصل ہے، ان پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل و احسان ہے، اس میں ان کی اپنی وقت و اختیار کو کوئی دخل نہیں۔ (واللہ علیھم حکیم) اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر کرتا ہے۔ پس وہ اسے اس نعمت کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور اس شخص کو بھی جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر نہیں کرتا اور یہ نعمت اس کے لائق نہیں ہوتی۔ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس مقام پر رکھتا ہے جہاں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔
Ayahs 49:9–10یہ آیت کریمہ، اہل ایمان کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے اور ایک دوسرے سے لڑائی کرنے سے روکنے کو متضمن ہے، نیز یہ کہ جب اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دیگر اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ ان دو گروہوں کے درمیان پڑ کر، جس کے ذریعے سے ان کے مابین صلح ہوجائے اور ان کے درمیان اصلاح کے ذریعے سے، اس بہت بڑے شر کی تلافی کریں اور وہ ذرائع اختیار کریں جو صلح پر منتج ہوتے ہوں۔
اگر وہ دونوں گروہ باہم صلح کرلیں تو بہت اچھی بات ہے (فان بغت احدلھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفیء الی امر اللہ) ” اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو، حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرلے۔ “ یعنی اس حد کی طرف لوٹ آئیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہے یعنی فعل خیر اور ترک شر اور سب سے بڑا شر آپس میں لڑنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : (فان فاءت فاصلحوا بینھما بالعدل) ” پس جب وہ رجوع کرلے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو ۔ “ صلح اور صلح میں عدل و انصاف کا حکم ہے، کیونکہ کبھی کبھار صلح تو ہوتی ہے مگر عدل و انصاف پر نہیں بلکہ ظلم اور کسی ایک فریق پر زیادتی پر مبنی ہوتی ہے، اس لئے یہ وہ صلح نہیں جس کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا لازم ہے کہ فریقین میں سے کسی کی کسی قرابت یا وطن یا دیگر اغراض و مقاصد کے حوالے سے رعایت نہ رکھی جائے جو عدل و انصاف سے انحراف کے موجب بنتے ہیں۔ (واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین) ” اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “ جو لوگوں کے درمیان اپنے فیصلوں اور ان تمام ذمہ داریوں میں، جن پر ان کو متعین کیا جاتا ہے، انصاف سے کام لیتے ہیں حتیٰ کہ اس میں وہ عدل و انصاف بھی داخل ہے جو انسان اپنے اہل و عیال کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں کرتا ہے۔ ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں نور کے منبروں پر فائز ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں، اپنے اہل و عیال میں اور منصبی ذمہ دارویں میں انصاف کرتے ہیں۔ “
(انما المومنون اخوۃ) ” بیشک سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ “ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مومنین کے درمیان قائم کیا ہے، زمین کے مشرق یا مغرب میں کوئی بھی شخص جو اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ مومنوں کا بھائی ہے۔ یہ ایسی اخوت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ مومن اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں، اور وہ چیز اس کے لئے ناپسند کریں جسے وہ اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں۔ بنابریں رسول مصطفیٰ ﷺ نے اسی اخوت ایمان کی بنا پر حکم دیتے ہوئے فرمایا :” باہم حسد نہ کرو، مال کی خریدو فروخت میں ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی نہ دو ، ایک دوسرے سے ناراض نہ ہو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ، مومن، مومن کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے بےیارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ “
صحیحین میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا :” مومن مومن کے لئے عمارت کی مانند ہے جو ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ “ اور رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسری میں ڈال کر دکھایا۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا کہ تمام مومنین ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کریں اور ایک دوسرے سے ایسا سلوک کریں جس سے باہمی الفت، محبت اور باہمی میل جول پیدا ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک دوسرے کے حقوق کی تائید ہے۔
اہل ایمان کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب وہ آپس میں کسی ایس لڑائی میں مبتلا ہوجائیں جو دلوں میں تفرقہ، باہم ناراضی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی موجب ہو تو اہل ایمان اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کریں تاکہ ان کی باہمی دشمنی ختم ہوجائے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمومی تقویٰ کا حکم دیا اور قیام تقویٰ اور مومنوں کے حقوق کی ادائیگی پر رحمت کو مترتب فرمایا۔ چناچہ فرمایا : (لعلکم ترحمون) ” تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ “ اور جب اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل ہوجاتی ہے تو دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حاصل ہوجاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اہل ایمان کے حقوق کی عدم ادائیگی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ان دو آیات کریمہ میں مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ بھی بعض فوائد ہیں :
(1) اہل ایمان کا ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا، اخوت ایمانی کے منافی ہے، اس لئے یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔
(2) ایمان اور اخوت ایمانی، آپس کی لڑائی کے باوجود زائل نہیں ہوتے جیسے دوسرے کبیرہ گناہوں سے ایمان زائل نہیں ہوتا، جو شرک سے کم تر ہوں۔ یہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔
(3) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ مومنوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرانا واجب ہے۔
(4) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ باغیوں کے خلاف لڑنا واجب ہے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئیں۔
(5) نیز یہ آیات کریمہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اگر باغی غیر اللہ کے حکم کی طرف رجوع کریں یعنی وہ اس طرح رجوع کریں جس پر قائم رہنا اور اس کا التزام جائز نہ ہو، تو غیر اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرنا جائز نہیں۔
(6) یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہوں کہ باغیوں کے اموال معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بغاوت پر جمے رہنے کی بنا پر، ان کے اموال کی بجائے خاص طور پر ان کے خون کو مباح قرار دیا ہے۔
Ayah 49:11یہ بھی مومنون کے باہمی حقوق میں شمار ہوتا ہے کہ (لا یسخر قوم من قوم) ” کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے۔ “ یعنی کسی قسم کی گفتگو اور قول و فعل کے ذریعے سے تمسخر نہ اڑائے جو مسلمان بھائی کی تحقیر پر دلالت کرتے ہوں۔ بیشک یہ تمسخر حرام ہے اور کسی طرح جائز نہیں، نیز یہ چیز تمسخر اڑانے والے کی خود پسندی پر دلیل ہے۔ ہوسکتا ہے جس کا تمسخر اڑایا جارہا ہے وہ تمسخر اڑانے والے سے بہتر ہو اور غالب طور پر یہی ہوتا ہے کیونکہ تمسخر صرف اسی شخص سے صادر ہوتا ہے جس کا قلب اخلاق بد سے لبریز ہو، جو ہر قسم کے اخلاق مذمومہ سے آراستہ اور اخلاق کریمہ سے بالکل خالی ہو۔ بنا بریں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :” کسی شخص کے لئے اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر جانے۔ “
پھر فرمایا : (ولا تلمزوا انفسکم) یعنی تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی عیب چینی نہ کرے۔ (اللمز) قول کے ذریعے سے عیب چینی کرنا (الھمز) فعل کے ذریعے سے عیب چینی کرنا۔ یہ دونوں امور ممنوع اور حرام ہیں جن پر جہنم کی آگ کی وعید سنائی گئی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ویل لکل ھمزۃ لمزۃ) (الھمزۃ : 104/1) ” ہلاکت ہے ہر طعن آمیز اشارے کرنے والے عیب جو کے لئے۔ “ مسلمان بھائی کو مانند ہوں، نیز جب وہ کسی دوسرے کی عیب چینی کرے تو یہ چیز اس بات کی موجب ہوگی کہ دوسرا اس کی عیب چینی کرے، لہٰذا وہی اس عیب چینی کا سبب بنے گا۔
(ولا تنا بزوا بالالقاب) یعنی تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کسی ایسے لقب سے ملقب نہ کرے جس سے پکارا جانا وہ ناپسند کرتا ہے اور یہی (تنابز) ” ایک دوسرے کو برالقب دینا “ ہے۔ رعے غیر مذموم القاب، تو وہ اس حکم میں داخل نہیں ہیں۔ (بئس الاسم الفسوق بعد الایمان) ” ایمان لانے کے بعد برانام رکھنا گناہ ہے۔ “ یعنی کتنی بری ہے وہ چیز جو تم نے ایمان اور شریعت پر عمل کے بدلے حاصل کی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی سے اعراض کے ذریعے سے فسق و عصیان کے نام کی مقتضی ہے جو کہ تنابزبالا لقاب ہے۔ (ومن لم یتب فاولئک ھم الظلمون) ” اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔ “ اور یہی چیز بندے پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اپنے مسلمان بھائی سے اس کے حق کو حلال کرا کے، اس کے لئے استغفار کرکے، اور اس کی جو مذمت کی گئی ہے اس کے مقابلے میں اس کی مدح و ستائش کرکے اس کا حق ادا کرے (ومن لم یتب فاولئک ھم الظلمون) ” اور جس نے توبہ نہیں کی ‘ تو وہی لوگ ظالم ہیں۔” لوگوں کی دو اقسام ہیں : (1) اپنی جان پر ظلم کرنے والا وہ شخص جو توبہ نہیں کرتا۔ (2) توبہ کرکے فوزوفلاح سے بہرہ مند ہونے والا۔ ان دو اقسام کے سوا اور کوئی قسم نہیں۔
Ayah 49:12اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے بارے میں بدگمانی سے روکا ہے، اس لئے کہ (ان بعض الظن اثم) ” بیشک بعض گمان گناہ ہیں۔ “ اس سے مراد وہ ظن و گمان ہے جو حقیقت اور قرینے سے خالی ہے مثلاً وہ بدگمانی جس کے ساتھ بہت سے اقوال بد اور افعال بد مقرون ہوتے ہیں۔ کیونکہ دل کے اندر بدگمانی کے جڑ پکڑ لینے سے بدگمانی کرنے والا شخص صرف بدگمانی پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے بارے میں باتیں اور ایسے کام کرتا رہتا ہے جس کا کرنا مناسب نہیں، نیز یہ چیز مسلمان کے بارے میں بدگمانی، اس کے ساتھ بغض و عداوت کو متضمن ہے جس کے برعکس معاملے کا حکم دیا گیا ہے۔ (ولا تجسسوا) یعنی مسلمانوں کے پوشیدہ معاملات کی ٹوہ لگاؤ نہ ان کا پیچھا کرو۔ مسلمان کو اس کے اپنے حال پر چھوڑدو اور اس کی ان لغزشوں کو نظر انداز کردو جن کی اگر تفتیش کی جائے تو نامناسب امور ظاہر ہوں۔ (ولا یغتب بعضکم بعضا) ” اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ “ غیبت کا معنی یہ ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :” تو اپنے بھائی کی کسی ایک خامی کا ذکر کرے جس کے ظاہر کرنے کو وہ ناپسند کرتا ہو۔۔۔ خواہ وہ خامی اس کے اندر موجود ہو۔ “
پھر اللہ تعالیٰ نے غیبت سے نفرت دلانے کے لئے مثال دیتے ہوئے فرمایا : (ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا فکرھتموہ) ” کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے ؟ پس اس سے تم نفرو کرو گے۔ “ اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کو مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے، جو نفوس انسانی کے لئے انتہائی ناپسندیدہ چیز ہے۔ پس جس طرح تم اپنے بھائی، خاص طور پر بےجان اور مردہ بھائی کا گوشت کھانا ناپسند کرتے ہو اسی طرح تمہیں اس کی غیبت کرنا اور زندہ حالت میں اس کا گوشت کھانے کو ناپسند کرنا چاہیے۔
(واتقو اللہ ان اللہ تواب رحیم) ” اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو بیشک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ “ (تواب) وہ ہستی ہے جو اپنے بندے کو توبہ کا حکم دے کر اسے توبہ کی توفیق سے نوازتی ہے، پھر اس کی توبہ قبول کرکے اس کی طر متوجہ ہوتی ہے، وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے کہ اس نے ان کو اس چیز کی طرف بلایا جو ان کے لئے فائدہ مند ہے اور ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں غیبت سے نہایت سختی سے ڈرایا گیا ہے، نیز یہ کہ غیبت کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔
Ayah 49:13اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے نبی آدم کو ایک ہی اصل اور ایک ہی جنس سے پیدا کیا ہے تمام بنی آدم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا۔ تمام نبی آدم، حضرت آدم اور حوا ( علیہ السلام) کی طرف لوٹتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی نسل میں سے بیشمار مردوں اور عورتوں کو پھیلایا، پھر ان کو قبیلوں اور گروہوں میں تقسیم کیا، یعنی چھوٹے بڑے قبیلوں میں تاکہ وہ ایک دوسرے کی پہچان رکھیں کیونکہ اگر ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت کو قائم رکھے تو وہ تعارف حاصل نہیں ہوسکتا جس پر ایک دوسرے کی مدد، باہمی تعاون، باہمی توارث اور عزیز و اقارب کے حقوق کا قیام مرتب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو قوموں اور قبیلوں میں اس لئے تقسیم کیا ہے تاکہ وہ امور حاصل ہوسکیں جو باہمی تعارف اور الحاق نسب پر موقوف ہیں۔ مگر عزت کا معیار تقویٰ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ شعار ہے اور یہ وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا اور گناہوں سے رکنے والا ہے۔ وہ شخص سب سے زیادہ عزت والا نہیں جس کا کنبہ قبیلہ سب سے بڑا اور سب سے زیادہ بلند حسب و نسب رکھتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ علیم وخبیر ہے وہ جانتا ہے کہ ان میں کون ظاہر اور باطن میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور کون اللہ تعالیٰ سے اپنے ظاہر میں ڈرتا ہے نہ باطن میں۔ پس اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ایسی جزا دیگا جس کا وہ مستحق ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسب و نست کی معرفت مطلوب اور مشروع ہے کیونکہ اسی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے قوم اور قبیلے بنائے۔
Ayahs 49:14–18اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے اور اس کے باوجود انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ” ہم ایمان لائے “ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کردیں، چناچہ فرمایا : (قل لم تومنو) یعنی کہہ دیجئے : تم اپنے لئے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعویٰ نہ کرو (ولکن قولواسلمنا) ” لیکن کہو ہم اسلام لائے۔ “ یعنی ہم اسلام میں داخل ہوگئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ (و) ” اور “ اس کا سبب یہ ہے کہ (لم یدخل الایمان فی قلوبکم) تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمہارے ایمان کا سبب ہے، اس لئے ایمان کی بشاشت ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (ولما یدخل الایمان فی قلوبکم) سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونہک ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔
(وان تطیعوا اللہ ورسولہ) اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتناب شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو (لا یلتکم من اعمالکم شیئا) تو وہ تمہارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے۔ (ان اللہ غفور رحیم) یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کرکے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
(انما المومنون) یعنی حقیقی مومن (الذین امنوا باللہ ور سولہ وجھدوا فی سبیل اللہ) وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لئے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لئے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لئے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معامے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا، جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے، جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔
(اولئک ھم الصدقون) ” یہی لوگ سچے ہیں “ یعنی جنہوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحب صدق کسی دلیل وبرہان کا محتاج ہوتا ہے اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دارومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے۔ وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایما کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لئے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بےادبی اور بدظنی ہے۔
(قل اتعلمون اللہ بدینکم واللہ یعلم ما فی السموت وما فی الارض واللہ بکل شی ءٍ علیم) ” کہہ دیجئے : کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ “ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کے جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہوتا تو اچھی جزا ہوگی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہوگی۔ یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لئے ہے درآنحالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہ ﷺ پر احسان اظہار ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جاسکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں، کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لئے فرمایا : (یمنون علیک ان اسلموا قل لا تمنواعلی اسلامکم بل اللہ یمن علیکم ان ھدلکم للایمان ان کتنم صدقین) ” اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا ماتم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایما کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔ “ (ان اللہ یعلم غیبت السموت والارض) اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو جانتا ہے جو کائنات کے اندر چھپے ہوئے اور مخلوق سے مخفی ہیں، جو سمندروں کی موجوں میں، بیابانوں کی سختیوں میں، رات کے اندھیروں میں اور دن کی روشنیوں میں ہیں۔ وہ بارش کے قطروں، ریگزاروں کے ذروں، سینوں کے بھیدوں اور تمام چھپے ہوئے امور کو جانتا ہے۔ فرمایا : (وما تسقط من ورقۃ الا یعلمھا ولا حبۃ فی ظلمت الارض ولا رطب ولا یابس الا فی کتب مبین) (الانعام : 6/59) ” اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر اللہ اسے جانتا ہے، زمین کی تاریکیوں میں پڑا ہوا ایک دانہ بھی اللہ کے علم میں ہے خشک یا تر کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بیان کرنے والی کتاب کے اندر درج نہ ہو۔ “
(واللہ بصیر بما تعملون) ” اور اللہ ان اعمال کو دیکھتا ہے جن کا تم ارتکاب کرتے ہو۔ “ وہ تمہارے اعمال کو شمار کرتا ہے وہ تمہیں پورے پورے لوٹائے گا اور اپنی بےپایاں رحمت اور حکمت بالغہ کے تقاضوں کے مطابق تمہیں ان اعمال کی جزا دے گا۔