49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsمظہر القرآن

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے مسلمانوں (ف 1) اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

تشریح۔ 1) شان نزول۔ چند شخصوں نے عیدالاضحی کے دن نبی ﷺ سے پہلے قربانی کرلی تو ان کو حکم دیا گیا کہ دوبارہ قربانی کریں اور حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض لوگوں نے رمضان سے ایک روز پہلے ہی روزہ رکھناشروع کردیا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ روزہ رکھنے میں اپنے نبی سے تقدم نہ کرو، اور فرمایا کہ اے ایمان والو، اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو یعنی تمہیں لازم ہے کہ اصلائم سے تقدیم واقع نہ ہو ، نہ قول میں نہ فعل میں، کہ تقدم کرنا رسول اللہ کے ادب واحترام کے خلاف ہے ، بارگاہ رسالت میں نیاز مندی وآداب لازم ہیں۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے مسلمانو ! (ف 1) تم اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے بلند مت کرو اور ان سے پکار کر بات نہ کہو جیسا تم اپس میں ایک دوسرے سے پکارکربات کرتے ہو، ایسانہ ہو کہ کہیں تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

حضور ﷺ کی شان مبارک کا حال اور آداب بارگاہ رسالت ماب۔ 1) شان نزول۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس کے حق میں نازل ہوئی انہیں ثقل سماعت تھا اور آواز ان کی اونچی تھی، بات کرنے میں آواز بلند ہوجایا کرتی تھی جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور کہنے لگے میں اہل نار سے ہوں۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے مسلمانوا رسول اللہ ﷺ کا نہایت ادب کرو، اور جب حضور میں کچھ عرض کرو تو آہستہ پست آواز سے عرض کرو، نام لے کر نہ پکارو یعنی یارسول اللہ یا حبیب اللہ کہو، ان سے بات کرنے کو ایسا نہ سمجھو جیسے اپس میں بات چیت کرتے ہو، بلکہ ان کی توقیر وتعظیم وادب ملحوظ خاطر رکھو، یہی دربار رسالت کا ادب واحترام ہے اگر ایسا نہ کرو گے تو کہیں سب اعمال حسنہ نماز روزہ تمہارے بیکار نہ ہوجائیں اور تم کو کچھ خبر بھی نہ ہو، یعنی رسول اللہ کے ترک ادب سے اعمال صالحہ باطل ہوجاتے ہیں۔
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

بیشک (ف 2) جو لوگ اپنی آواز کو رسول اللہ کے حضور میں پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے جانچ لیا ہے ، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے

(ف 2) شان نزول۔ اوپر کی آیت نازل ہونے پر حضرت ثابت ؓ رونے لگے اور دل کو نہایت قلق وتفگر لاحق ہوا کہ جب تک میرا قصور معاف نہ ہوجائے گا اور مجھ کو حاضری دربار کی اجازت نہ ملے گی کہیں گھر سے باہر نہ نکلوں گا، حضور ﷺ نے حضرت سعد سے انکا حال دریافت فرمایا، انہوں نے عرض کیا، وہ میرے پڑوسی ہیں اور میرے علم میں انہیں کوئی بیماری تو نہیں ہوئی۔ پھر آکر حضرت ثابت ؓ سے اس کا ذکر کیا ثابت نے کہا کہ یہ آیت نازل ہوئی اور تم جانتے ہو کہ میں سب سے زیادہ بلند آواز ہوں اور مجھ کو اپنے آقائے نامدار خیرالابرار سے بات کرنے میں اپنے اعمال ضبط ہونے کا خوف ہے۔ حضرت سعد نے یہ خیال خدمت اقدس میں عرض کیا توحضور ﷺ نے ثابت کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ اے ثابت، تم اس بات سے راضی نہیں ہوتے کہ تم زندہ بھی خیر سے رہو اور مرد بھی خیر سے یعنی تم شہید ہوکرمرو اور بہشت والوں میں شمار کیے جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور میں راضی ہوں آپ کی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کروں گا ان کی بشارت میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے محبوب جو تمہارے دربار میں اپنی آوازیں پست کرتے ہیں آہستہ آہستہ بولتے ہیں ادب کا لحاظ رکھتے ہیں تو خد نے ان کے دلوں کا امتحان لیا کہ آیا ان میں تقوی ہے یا نہیں سو تقوی سے مالا مال پایا، ان کے دلوں کو مصفی ومعطر ومنور کردیا، اور توحید وخالص ان کے دلوں میں بھر دی ، دنیا میں ان کو گناہوں سے مغفرت اور جنت میں ثواب عظیم ملے گا۔
Ayahs 49:4–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

بیشک (ف 1) اے محبوب) تمہیں جو لوگ حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر لوگ (تمہارے بلند مرتبے کو) نہیں سمجھتے

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس تشریف لاتے تو وہ ان کے لیے بہتر ہوتا (کیونکہ ادب کی بات تھی) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف 1) شان نزول۔ یہ آیت وفد بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی کہ نبی ﷺ کی خدمت میں دوپہر کے وقت پہنچے جب کہ حضور آرام فرما رہے تھے ان لوگوں نے حجروں کے باہر سے حضور اقدس کو پکارنا شروع کیا، حضور تشریف لائے ان لوگوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اجلال شان رسول اللہ کا بیان فرمایا گیا کہ بارگاہ اقدس میں اس طرح پکارنا جہل و بےعقلی ہے اور ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

مسلمانو ! (ف 2) اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے پس اس کو خوب تحقیق کرلو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے سبب سے کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر پہنچا دو ، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو

(ف 2) شان نزول۔ یہ آیت ولید بن عقبہ کے حق میں نازل ہوئی نبی ﷺ نے ان کو بنی مصطلق سے صدقات وصول کرنے بھیجا تھا اور زمانہ جاہلیت میں ان کے اور ان کے درمیان عداوت تھی جب ولید ان کے دیار کے قریب پہنچے اور انہیں خبر ہوئی تو اس خیال سے کہ وہ نبی ﷺ کے بھیجے ہوئے ہیں بہت سے لوگ تعظیما ان کے استقبال کے واسطے آئے، ولید نے گمان کیا کہ یہ پرانی عداوت سے مجھے قتل کرنے آرہے ہیں یہ خیال کرکے ولید واپس ہوگئے اور نبی ﷺ سے عرض کیا کہ حضور ان لوگوں نے صدقہ کو منع کردیا ہے اور میرے قتل کے درپے ہوگئے حضور نے خالد بن ولید کو تحقیق حال کے لیے بھیجا، حضرت خالد نے دیکھا کہ وہ لوگ اذانیں کہتے ہیں نماز پڑھتے ہیں ، اور ان لوگوں نے صدقات پیش کردیے، حضرت خالد یہ صدقات لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور واقعہ عرض کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے مسلمانو جب تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس وقت لغزش نہ کھاؤ، سوچو سمجھو، غوروفکر کرو، اطمینان سے کام لیا کرو کہ آیا سچ ہے یاجھوٹ۔ اس کا خیال رکھا کرو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی قوم سے بےتحقیق لڑائی ہو پڑے، اور غفلت سے ان کو مارنے لگو، پھر تم ان کو مارنے پریشان و پشیمان ہو، بعض مفسرین نے کہایہ آیت عام ہے اس بیان میں نازل ہوئی کہ فاسق کے قول پر اعتماد نہ کیا جائے۔ مسئلہ ، اس آیت سے ثابت ہوا کہ ایک شخص اگر عادل ہو تو اس کی خبر معتبر ہے۔
Ayahs 49:7–8

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور (ف 1) جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول (موجود ) ہیں اگر وہ بہت سے معاملوں میں تمہاری خوشی کریں تو بیشک تم ضرورمشقت میں پڑجاؤ و لیکن اللہ نے تمہارے ایمان کو پیارا کردیا ہے اور اس کو تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور تمہاری نظروں میں کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی کو براکردکھایا، یہی لوگ راہ راست پر ہیں

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

اللہ کے فضل وکرم سے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

(ف 1) اے مسلمانو۔ یہ خوب سمجھ لو کہ تم کو خوئی کوئی امر طے کرلینے کا اختیار نہیں تم میں خدا کے رسول موجود ہیں، تم ان کا کہا مانو، ان کی رائے پر اپنے کام سونپ دو اور اگر وہ تمہاری رائے کے مطابق حکم دیدیں تو مشکل میں پڑجاؤ، اور تم ندامت اٹھاؤ، مگر خدا کی رحمت تو یہ ہے کہ اس نے تم کو توفیق اطاعت رسول دی ، ایمان کو تصدیق خدا اور رسول کو تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا ہے اور کفر یعنی انکا رسول اور فسق یعنی نفاق اور کل گناہ تم کو ناپسند کردیے، جو لوگ ایسے ہیں وہ سچے مخلص راہ پائے ہوئے ہیں یہ ان پر اللہ کا فضل وکرم ہے نعمت ورحمت ہے اللہ مسلمانوں کے ثواب و کرامت کا عالم ہے حکمت والا ہے۔
Ayahs 49:9–10

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور (ف 1) اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑیں پس تم ان دونوں کے درمیان صلح کرادو پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ گروہ خدا کے حکم کی طرف پلٹ ائے ، پس ان دونوں کے درمیان انصاف کے ساتھ اصلاح کردو اور عدل کرو، بیشک عدل کرنے والوں کو اللہ دوست رکھتا ہے

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مسلمان جو ہیں آپس میں (دینی ) بھائی ہیں (جب کبھی لڑیں) پس اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو

اسلامی اخوت کا تقاضا باہمی صلح کی کوشش۔ 1) شان نزول۔ نبی ﷺ دراز گوش پر سوار تشریف لے جاتے تھے انصار کی مجلس پر گزر ہوا وہاں تھوڑا سا توقف کیا اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو ابن ابی نے ناک بند کرلی، حضرت عبداللہ بن رواحہ نے فرمایا کہ حضور کے دراز گوش کا پیشاب ترے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے حضور تشریف لے گئے ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ پڑیں، اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچی تو نبی واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرادی اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے مسلمانو اگر تمہارے آپس میں دو فرقے پیدا ہوجائیں اور آپس میں لڑیں تو اول تو صلح کرادو اور اگر وہ صلح نہ مانیں اور ان میں سے ایک دوسرے پر بغاوت اختیار کرے یعنی حق ایک کا ہو اور دوسراخواہ مخواہ تعدی ودست درازی کرتا ہو، اور صلح کو نہ مانے تو اس باغی ظالم گروہ کو سزادو خوب مارولڑو، یہاں تک قرآن کو مانے اور حکم الٰہی کی طرف رجوع کرے اور صلح کرے اور پرایا حق دیدے، اگر وہ مان جائے ، صلح کرلے، تو انصاف وعدل وراست بازی سے صلح کردو، عدل سے نہ ہٹو، خدا عدل والوں کو قرآن پر عمل کرنے والوں کو بہت محبوب رکھتا ہے یہ سمجھ کر مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں سب قرآن کو مانتے ہیں قرآن ہی کے موافق اصلاح کرادو، اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ڈڑنا اور پرہیزگاری اختیار کرنا مومنین کی باہمی محبت ومودت کا سبب ہے اور جو اللہ سے ڈرتا ہو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر ہوتی ہے۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے مسلمانو ! (ف 1) تم میں سے ) نہ مردوں سے مسخراپن کریں، کیا عجب ہے کہ وہ ان مسخراپن کرنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے ، کیا عجب کہ وہ ان مسخراپن کرنے والیوں سے بہتر ہوں، اور تم آپس میں (ایک دوسرے کو) عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کو برے القابوں سے پکارو، کیا ہی برا نام ہے فاسق کہلانا مسلمان ہوکر، اور جو (ان حرکتوں سے ) توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں

(ف 1) شان نزول۔ اس آیت کا نزول کئی واقعوں میں ہوا۔ (1) ۔ پہلا واقعہ یہ ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس کو کم سنائی دیتا تھا جب وہ نبی کی مجلس میں تشریف لاتے تو صحابہ انہیں آگے بٹھاتے اور ان کے لیے جگہ خالی کردیتے تاکہ وہ حضور کے قریب رہ کر کلام مبارک سن سکیں، ایک روز انہیں حاضری میں دیر ہوگئی اور مجلس شریف خوب بھر گئی اس وقت ثابت آئے اور قاعدہ یہ تھا کہ جو شخص ایسے وقت میں آتا اور مجلس میں جگہ نہ پاتا تو جہاں ہوتا کھڑا رہتا، ثابت آئے تو وہ نبی کے قریب بیٹھنے کے لیے لوگوں کو ہٹاتے ہوئے یہ کہتے چلے کہ، جگہ دو جگہ دو ۔ یہاں تک کہ وہ حضور کے قریب پہنچ گئے اور ان کے اور حضور کے درمیان صرف ایک شخص رہ گیا انہوں نے اس سے بھی کہا کہ جگہ دو ۔ اس نے کہا، تمہیں جگہ مل گئی بیٹھ جاؤ، ثابت نے غصہ میں آکر اس کا جسم دبا کر کہا کہ تم کون ؟ اس نے کہا میں فلاں شخص ہوں۔ ثابت نے اس کی ماں کا نام لے کر کہا، فلانی کا لڑکا، اس پر اس شخص نے شرم سے سرجھکا لیا اور اس زمانہ میں ایسا کلمہ عار دلانے کے لیے کہا جاتا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ اسلامی معاشرہ واخلاقی آداب۔ (2) دوسرا واقعہ ضحاک نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت بنی تمیم کے حق میں نازل ہوئی جو حضرت عمار وخباب و بلال وصہیب وسلم ان اور سالم ؓ وغیرہ غریب صحابہ کی غربت دیکھ کر ان کے ساتھ تمسخر کرتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ مردمردوں سے نہ ہنسیں ، یعنی مالدار غریبوں کی ہنسی نہ بنائیں نہ عالی نسب غیر ذی نسب کی اور نہ تندرست اپاہج کی، نہ بینا اس کی جس کی آنکھ میں عیب ہو، اے مسلمانوں، آپس میں ایک دوسرے مسلمان سے مذاق اور ہنسی نہ کرو، اور مسخرہ بناکرذلیل شرمندہ نہ کرو، کیا خبر ہے جس کو تم مسخرہ بناتے ہو اور ذلیل کرتے ہو وہی عنداللہ ان مسخراپن کرنیوالوں سے افضل و اشرف ہو۔ (ف 2) شان نزول۔ یہ آیت ام المومنین صفیہ بنت حی ؓ کے حق میں نازل ہوئی انہیں معلوم ہوا کہ ام المومنین حضرت حفصہ نے انہیں یہودی کی لڑکی کہا، اس پر انہیں رنج ہوا اور نبی ﷺ سے شکایت کی، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم نبی زادی اور نبی کی بی بی ہو، تم پر وہ کیا فخر کرتی ہیں اور حضرت حفصہ سے فرمایا اے حفصہ ، خدا سے ڈرو، اور فرمایا کہ نہ کوئی عورت دوسری عورتوں سے مسخراپن کرے کیا خبر کہ وہی عورت ان سے اللہ کے پاس افضل واعلی ہو، اور اپنے اپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اگر ایک مومن نے دوسرے مومن پر عیب لگایا تو گویا اپنے ہی آپ کو عیب لگایا، تم سب آپس میں بھائی بھائی ہو، پھر کیوں ایکد وسرے کو عیب لگاتے ہو، آپس میں ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو اور نہ ایسے ناموں اور صفتوں سے یاد کروجس سے دوسرا برامانے یا ایام جاہلیت وکفر کے نام ہوں، جب ایمان کا درمیان آگیا اور نور ایمان سے دل منور ہوگئے تو اب پہلے زمانہ کی رنجش اور زمانہ جاہلیت کی خصلتیں ، اور اس زمانہ کے نام وغیرہ سب بری ہوگئے، اسی کو فرمایا، کہ اے مسلمانوں، کسی مسلمان کو ہنسی بناکر یا اس کو عیب لگاکر اس کا نام بگاڑ کر اپنے آپ کو فاسق نہ کہلاؤ، سب باتوں سے توبہ کرو، پاک سچے مخلص ایک دل مسلمان بن جاؤ، اور اگر جو شخص ان مناہی کی باتوں سے باز نہ آئے تو اپنی جان پر گویا ظلم کرے گا کیونکہ یہ سب مناہی کی باتیں حق العباد کی قسم کے، گناہ میں جن کا فیصلہ قیامت کے دن یہ ہوگا کہ ظالموں کی نیکیاں مظلوموں کو مل جائیں گی اور ظالم خالی ہاتھ دوزخ میں پھینک دیے جائیں گے۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے مسلمانو، (ف 1) بہت گمانوں سے بچو (کیونکہ) بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور (مسلمانوں کے ) عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند کرتے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے پس (یقینا) تم اسے برا سمجھو گے (پس غیبت کرنا بھی تو اس کی مثل ہے) اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

غیبت کا بیان اور اس کی مذمت۔ (ف 1) شان نزول۔ نبی ﷺ جب جہاد کے لیے روانہ ہوتے اور سفر فرماتے تو ہر دو مالداروں کے ساتھ ایک غریب مسلمان کو کردیتے کہ وہ غریب ان کی خدمت کرے ، وہ اسے کھلائیں پلائیں، ہر ایک کا کام چلے، اسی طرح حضرت سلمان ؓ دو آدمیوں کے ساتھ کیے گئے ایک روز وہ سوگئے اور کھانا تیار نہ کرسکے، تو ان دونوں نے انہیں کھانا طلب کرنے کے لیے نبی کی خدمت میں بھیجا حضور کے خادم مطبخ حضرت اسامہ تھے ان کے پاس کچھ نہ رہا تھا انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں، حضرت سلمان نے یہی آکر کہہ دیا تو ان دونوں رفیقوں نے کہا کہ اسامہ نے بخل کیا، جب وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے فرمایا میں تمہارے منہ میں گوشت کی رنگت دیکھتا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا ہم نے گوشت کھایا ہی نہیں، فرمایا تم غیبت کی اور جو مسلمان کی غیبت کرے اس نے مسلمان کا گوشت کھایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے مسلمانو بدگمانی سے بچو کیونکہ ہر گمان صحیح نہیں ہوتا، اور کوئی مسلمان کہیں کو گیا یا کہیں سے آیا تو بری جگہ کا خیال نہ کرو نیک گمان پیدا کرو، سمجھ لو کہ تمہاری بدگمانیاں اور برے خیالات جو ایک دوسرے کی نسبت پکارتے ہو اور اس بنا پر لڑتے ہو سخت گناہ ہیں ہاں نیک گمان اچھا ہے، سفیان ثوری علیہ الرحمہ نے فرمایا گمان دو طرح کا ہے، ایک وہ کہ دل میں آئے اور زبان سے بھی کہہ دیاجائے یہ اگر مسلمان پر بدی کے ساتھ ہے گناہ ہے۔ دوسرایہ کہ دل میں آئے اور زبان سے نہ کہا جائے یہ اگرچہ گناہ نہیں مگر اس سے بھی دل خالی کرنا ضروری ہے۔ آگے فرمایا کہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب کھوج لگالگا کر تلاش نہ کرو کہ دیکھیں فلاں کیا برا کام کررہا ہے اگر عیب دیکھ بھی لو تو بھی فاش نہ کرو، جاسوسی نہ کرو، حدیث شریف میں ہے کہ گمان سے بچو، اور مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو، ان کے ساتھ حرص حسد، بغض، بےمروتی نہ کرو، اے اللہ کے بندو بھائی بنے رہو، جیسا تمہیں حکم دیا گیا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس پر ظلم نہ کرے اس کو رسوا نہ کرے اس کی تحقیر نہ کرے آدمی کے لیے یہ برائی بہت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر دیکھے۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ جو بندہ دنیا میں دوسرے کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی پردہ پوشی فرمائے گا آگے فرمایا ، اے مسلمانو آپس میں بیٹھ کر کسی مسلمان کی کوئی غیبت نہ کرو، یعنی پیٹھ پیچھے اس کو برابھلا نہ کہو فلاں میں یہ عیب ہے یہ برائی ہے۔ فلاں ایسا ہے ویسا ہے کسی مسلمان کی آبرو لینا حرام ہے۔ ایسا ہی حرام ہے جیسے اس کا جب وہ مرجائے گوشت کھانا، کیا تم میں کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت ٹکڑے کرکے کھائے اس کو تو تم مکروہ حرام خراب جانتے ہو غیبت کو کیوں نہیں جانتے۔ اللہ سے ڈرو غیبت نہ کرو۔ حدیث شریف میں ہے غیبت یہ ہے کہ مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے ایسی باتکہی جائئے جو اسے ناگوار گزرے۔ اگر وہ بات سچی ہے تو غیبت ہے ورنہ بہتان ہے۔ جس طرح کسی کا گوشت کاٹنے سے اس کو ایذا ہوتی ہے اسی طرح غیبت سے قلبی تکلیف ہوتی ہے انہیں مناسبتوں سے غیبت کو مردہ کے گوشت کے کھانے سے مشابہت دی گئی ہے آگے فرمایا آئندہ جو کوئی ان باتوں سے توبہ کرے گا تو اللہ غفور الرحیم ہے اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے لوگو ! بیشک (ف 1) ہم نے تمہیں ایک مرد (یعنی آدم علیہ السلام) اور ایک عورت (حوا) سے پیدا کیا اور تمہاری (جداجدا) جماعتیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو (ف 2) (نہ کہ نسب پر غرور کرو) بیشک اللہ کے نزدیک تم (میں) سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو سب سے پرہیزگار ہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے

(ف 1) ۔ اے لوگو ! تم آپس میں فخر و غرور کیوں کرتے ہو، ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد عورت یعنی ماں باپ آدم وحوا سے پیدا کیا ہے حقیقت میں تم سب ایک ہی ہو، مگر کنبے کنبے قبیلے قبیلے اس لیے الگ کردیے کہ آپس میں پہچان رہے۔ اور ایک دوسرے کا نسب جانے اور کوئی اپنے باپ دادا کے سوا دوسرے کی طرف اپنی نسبت نہ کرے نہ یہ کہ نسبت پر فخر کرے اور دوسروں کی تحقیر کرے، اس کے بعد اس چیز کا بیان فرمایا جاتا ہے جو انسان کے لیے شرافت وفضیلت کا سبب اور جس سے اس کو بارگاہ الٰہی میں عزت حاصل ہوتی ہے۔ تقوی معیار فضیلت۔ (ف 2) شان نزول۔ نبی ﷺ نے بازار مدینہ میں ایک حبشی غلام ملاحظہ فرمایا جو کہہ رہا تھا کہ جو مجھے خریدے اس سے میری یہ شرط ہے کہ مجھے رسول کریم کی اقتداء میں پانچویں نماز ادا کرنے سے منع نہ کرے اس غلام کو ایک شخص نے خرید لیا پھر وہ غلام بیمار ہوگیا تو نبی اس کی عیادت کے لیے تشریف لائے ، پھر اس کی وفات ہوگئی اور رسول کریم اس کے دفن میں تشریف لائے اس پر لوگوں نے کچھ کہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اللہ کے نزدیک مرتبہ اس کا زائد ہے جس کا تقوی وایمان زائد ہے خدا تمہارے حسب ونسب سے خبردار ہے تمہارے کاموں سے واقف ہے اور جانتا ہے کہ کون اعلی ہے کوئی ادنی ۔
Ayah 49:14

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

دیہاتیوں (ف 3) نے کہا کہ ہم ایمان لائے تم فرماؤ کہ تم حقیقت میں ایمان نہ لائے و لیکن یوں کہو کہ ہم (ظاہر میں) مطیع ہوئے ، اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں کہاں داخل ہوا، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تو اللہ تمہارے اعمال (کے اجر) میں کچھ کمی نہ کرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے

(ف 3) شان نزول۔ یہ آیت بنی اسد بن خزیمہ کی ایک جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو خشک سالی کے زمانہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام کا اظہار کیا درحقیقت میں وہ ایمان نہ رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے مدینہ کے رستہ میں گندگیاں کیں، اور وہاں کے بھاؤ گراں کردیے ، صبح وشام نبی کی خدمت میں آکر اپنے اسلام لانے کا احسان جتاتے اور کہتے ہمیں کچھ دیجئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ بنی اسد کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، اے محبوب ﷺ آپ کہہ دیں کہ اے بنی اسد تم کو ایمان نصیب نہ ہوا ہاں ظاہر میں تابعداری کرلی ہے۔ کہ کوئی تم کو نہ مارے، قیدی نہ بنائے تمہارے دلوں میں ایمان کی لذت وحلاوت و محبت وتصدیق داخل نہیں ہوئی اگر خدا اور سول کی دل سے اطاعت کرو، کفر ونفاق سے توبہ کرو، ظاہر و باطن یکساں رکھو تو خدا تمہارے اعمال صالحہ کا تم کو ثواب دے گا، ناقص نہ کرے گا خدا توبہ والوں کو بخشنے والا ہے اور رحمت والا ہے۔ محض زبانی اقرار جسکے ساتھ قلبی تصدیق نہ ہو معتبر نہیں اس سے آدمی مومن نہیں ہوتا، اطاعت وفرمانبرداری اسلام کے لغوی معنی ہیں اور شرعی معنی ہیں اسلام اور ایمان ایک ہیں کوئی فرق نہیں۔
Ayah 49:15

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

ایمان والے (ف 1) تو وہی لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر (اپنے دین وایمان میں) شک نہ کیا اور اپنے مال اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، وہی (ایمان کے دعوے میں) سچے ہیں

سچے مومن کون ؟ (ف 1) شان نزول۔ ان آیتوں میں فرمایا کہ حقیقی مومن وہ ہیں کہ جو صدق دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور بعد اس کے جب زبان سے اقرار کرچکے دل میں شک نہیں کرتے اور جان ومال کو بہت خلوص وعاجزی سے اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں کہ غازیوں کو نفقہ دیتے اور ان کے لیے ہتھیار خریدتے اور آپ اس جنگ میں شریک ہوتے ہیں اور خوب جان توڑ کر ان سے مقابلہ کرتے ہیں اور کسی سختی میں اپنی حالت کو ہیں بدلتے یہی سچے ایماندار ہیں جو اپنے دعوی ایمان میں راست گو وراست پسند ہیں۔
Ayah 49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

تم (ف 1) فرماؤ کیا تم اللہ کو اپنا دین بتاتے ہو اور اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے

ظاہری ایمان لانے والوں کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول۔ جب اوپر کی آیت نازل ہوئی تو اعراب نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے قسمیں کھائیں کہ ہم مومن مخلص ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے محبوب ان لوگوں سے کہہ دو جو دنیاوی غرض سے ایمان لائے ہیں کہ کیا تم خدا کو دھوک کہ دینا چاہتے ہو اپنے مذہب کا حال خلاف واقع اس کو بتانا چاہتے ہو حالانکہ آسمان و زمین میں جتنی چیزیں ہیں ان میں سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے پھر تم لوگ جو اپنی دینداری کا حال اللہ کو جتلاتے ہو تو تمہاری زبانی باتوں کی اور دل کے بھید کی اس کو سب خبر ہے۔
Ayahs 49:17–18

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

(اے محبوب ﷺ (ف 2) وہ تم پر مسلمان ہونے کا احسان جتاتے ہیں ، تم فرماؤ، اپنے اسلام لانے کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو ایمان لانے کی ہدایت دی، اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کے سب عیب جانتا ہے اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

ایمان کی دولت اللہ کا احسان ہے۔ (ف 2) شان نزول۔ اے محبوب یہ لوگ تم پر اپنے اپنے اسلام لانے کو جتلاتے ہیں تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسلام لاؤ کہ جس میں سراسر تمہارا ہی نفع ہے جب تم ایمان کا دعوی کرتے ہو تو پھر احسان کیا جتلاتے ہو اگر تم سچے ہو کہ سچے مسلمان ہوتب تم پر خدا کا اھسان ہے کہ اس نے تم کو ہدایت کی ہے ایمان کی طرف آنے کا راستہ دیا، اور دولت اسلام سے سرفراز فرمایا۔ تم کو ممنون ہونا چاہیے شکر بجالانا چاہیے کہ خدا نے اپنی رحمت سے راہ ہدایت دکھائی نہ کہ الٹا اسلام لانے کا احسان جتلاؤ، مگر بات یہ ہے کہ تم ایمان والے نہیں فقط ظاہری مسلمان ہو، اس لیے احساتن جتلاتے ہو اوپری دل کا کوئی نیک کام بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہے اور دلی ارادہ اور اوپری دل کے لوگوں کے سب کام اللہ کی نظر میں ہیں اللہ آسمان و زمین کے سب غیب جانتا ہے اور اللہ وہ بھی جانتا ہے جو تم عمل کرتے ہو تمہارے نفاق کی اس کو خبر ہے سزادے گا اگر توبہ نہ کرو گے۔