48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 48:1–7

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

بیشک1 (اے محبوب) ہم نے تمہارے لیے ظاہر فتح فرمائی۔

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف فرمادے اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کردے اور تمہیں سیدھی راہ دکھائے۔

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور اللہ تمہاری زبردست مدد فرمائے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں اطمینان ڈالا تاکہ ان کا یقین پر یقین بڑھے اور آسمان اور زمین کے لشکر سب اللہ ہی کے لیے ہیں، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

اطمینان اس لیے نازل فرمایا کہ اللہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے۔ کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کی برائیاں ان سے اتار دے، اور یہ اللہ کے نزدیک (ان کی) بڑی کامیابی ہے ۔

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے جو اللہ پر برا گمان رکھتے ہیں، ان ہی پر بری مصیبت ہے اور ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لیے دوزخ تیار کی، اور دوزخ بہت بری جگہ ہے ۔

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کا سب لشکر اللہ ہی کا ہے ، اور اللہ غالب حکمت والا ہے ۔

حدیبیہ کی لڑائی۔ (ف 1) شان نزول :” انا فتحنا “ حدیبیہ سے واپس ہوتے ہوئے حضور ﷺ پر نازل ہوئی حضور اس کے نازل ہونے سے بہت خوشی ہوئی اور صحابہ نے حضور کو مبارک بادیں دیں۔ بخاری ومسلم۔ حدیبیہ ایک کنواں ہے مکہ کے نزدیک ، مختصر واقعہ یہ ہے کہ نبی حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ حضور حضور ﷺ اپنے مع اصحاب کے امن کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کوئی حلق کیے، کوئی قصر کیے اور کعبہ میں داخل ہوئے کعبہ کی کنجی لی اور طواف فرمایا عمرہ کیا، اصحاب کو اس خواب کی خبردی سب خوش ہوئے ، پھر حضور ﷺ نے عمرہ کا قصد فرمایا اور ایک ہزار چارسو اصحاب کے ساتھ یکم ذی قعدہ چھ ہجری کو روانہ ہوئے ، ذوالحلیفہ پہنچ کر وہاں مسجد میں دورکعتیں پڑھ کر عمرہ کا احرام باندھا اور حضور کے ساتھ اکثر اصحاب نے بھی، بعض اصحاب نے حجفہ سے احرام باندھا اور راہ میں پانی ختم ہوگیا اصحاب نے عرض کیا کہ پانی لشکر میں بالکل باقی نہیں ہے سوائے حضور حضور ﷺ کے آفتابہ کے اس میں تھوڑا سا ہے حضور حضور ﷺ نے آفتابہ میں دست مبارک ڈالا تو انگشت ہائے مبارک سے چشمے جوش مارنے لگے تمام لشکر نے پیا وضو کیا جب مقام عسفان میں پہنچتے تو خبرآئی کہ کفار قریش بڑے سروسامان کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہیں جب حدیبیہ پر پہنچے تو اس کا پانی ختم ہوگیا ایک قطرہ نہ رہا، گرمی بہت شدید تھی ۔ حضور سید عالم نے کنوئیں میں کلی فرمائی اس کی برکت سے کنواں پانی سے بھرگیا سب نے پیا اونٹوں کو پلایا، یہاں کفار قریش کی طرف سے حال معلوم کرنے کے لیے کئی شخص بھیجے گئے سب نے جاکریہی بیان کیا کہ حضور عمرہ کے لیے تشریف لائے ہیں جنگ کا ارادہ نہیں ہے لیکن انہیں یقین نہیں ایا آخرکار انہوں نے عروہ بن مسعود ثقفی کو جو طائف کے بڑے سردار اور عرب کے نہایت متمول شخص تھے تحقیق حال کے لیے بھیجا۔ انہوں نے آکر دیکھا کہ حضور دست مبارک دھوتے ہیں تو صحابہ تبرک کے لیے غسالہ شریف حاصل کرنے کے لیے ٹوٹے پڑتے ہیں اگر کبھی تھوکتے ہیں تو لوگ اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جس کو وہ حاصل ہوجاتا ہے وہ اپنے چہرہ اور بدن پر برکت کے لیے ملتا ہے۔ کوئی بال جسم اقدس کا گرنے نہیں دیتے، اگر احیانا جدا ہو تو صحابہ اس کو بہت ادب کے ساتھ لیتے اور جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ جب حضور کلام فرماتے ہیں تو سب ساکت ہوجاتے ہیں حضور حضور ﷺ کے ادب وتعظیم سے کوئی شخص نظر اوپر کو نہیں اٹھاسکتا، عروہ نے قریش سے جاکریہ سب حال بیان کیا اور کہا میں بادشاہاں فارس وروم ومصر کے درباروں میں گیا ہوں میں نے کسی بادشاہ کی یہ عظمت نہیں دیکھی جو محمد حضور ﷺ کی ان کے اصحاب میں ہے مجھے اندیشہ ہے کہ تم ان کے مقابل کامیاب نہ ہوسکوگے ، قریش نے کہا ایسی بات مت کہو ہم اس سال انہیں واپس کردیں گے وہ اگلے سال آئیں ، عروہ نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں کو مصیبت پہنچے یہ کہہ کر وہ مع اپنے ہمراہیوں کے طائف واپس چلے گئے اور اس واقعہ کے بعد اللہ نے انہیں مشرف باسلام کیا، یہیں حضور حضور ﷺ نے اپنے اصحاب سے بیعت لی کہ اس کو بیعت رضوان کہتے ہیں بیعت کی خبر سے کفار خوف زدہ ہوئے اور ان کے اہل رائے نے یہی مناسب سمجھا کہ صلح کرلیں۔ چناچہ صلح نامہ لکھا گیا اور آئندہ سال حضور حضور ﷺ کا تشریف لانا قرار پایا اور یہ صلح مسلمانوں کے حق میں بہت نافع ہوئی بلکہ نتائج کے اعتبار سے فتح ثابت ہوئی (تفسیر خازن وروح البیان) ۔
Ayahs 48:8–9

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

(اے محبوب)1 ہم نے تمہیں (تمہاری امت کے اعمال پر) گواہ بنا کر بھیجا اور (مسلمانوں کو) خوشی اور (کافروں کو) ڈر سنانے والا بھیجا ہے ۔

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ اے لوگو ! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی تعظیم کرو، اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔

بیعت رضوان اور عظمت صحابہ کرام علیہم الرضوان۔ (ف 1) اے محبوب حضور ﷺ ہم نے تم کو سب کی طرف رسول بناکربھیجا تم اپنی امت کے اوپر گواہ ہو، قیامت میں تبلیغ کی اور امت کے حالات کی گواہی دو گے مبشر ہو مسلمانوں کو جنت کی بشارت دیتے ہو نذیر ہو کافروں کو دوزخ سے ڈراتے ہو اے مسلمانو ! ہم نے اس لیے ان رسولوں کو تمہاری طرف بھیجا ہے کہ تم ان کی اطاعت کرو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور رسول کی نہایت مضبوطی وپابندی سے مدد کرو، اور ان کو تقویت دو ، اور انکی توقیر وتعظیم و تکریم بجالاؤ، ادب ملحوظ خاطر رکھو، اور خدا کے لیے تسبیح وتحلیل کہو، صبح وشام رات ودن عبادت کرو، صبح کی تسبیح میں باقی چاروں نمازیں داخل ہیں۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

(اے محبوب)1 جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے تو جس نے عہد (یعنی بیعت کو) توڑا اس نے اپنی ہی خرابی کے لیے عہد توڑا اور جس نے اس عہد کو پورا کیا جو اس نے اللہ سے کیا تھا، پس بہت جلد اللہ اس کو بڑا اجر دے گا۔

شان مصطفیٰ کریم حضور ﷺ ۔ (ف 1) اے محبوب حضور ﷺ آپ سے بیعت کرتے وقت تو وہ گویا اللہ سے بیعت کرتے ہیں آپ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے گویا اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے یعنی دست رحمت وثواب شفقت۔ یعنی گویا خدا ان سے عہد کرتا ہے کہ جنت ورحمت دے گا وہ وعہد ہرگز ٹوٹ نہیں سکتا، پھر فرمایا جو کوئی اس بیعت کے معاہدہ کو توڑے گا اس کا گناہ کود پائے گا سزا بھگتے گا خدا کا کیا کرے گا اور جو شخص وہ عہد جو اس نے اللہ سے باندھا ہے پورا کرے گا اور باوفا ہوگا صادق القول نکلے گا توعنقریب خدا اس کو اجرعظیم دے گا جنت میں ثواب عطا فرمائے گا یہ بیعت رضوان کا حال ہے اس آیت میں اللہ نے اپنے محبوب کی فضیلت بدرجہ غایت ارشاد فرمائی ان کی بیعت کو اپنی بیعت ان کے دست رحمت کو اپنا دست قدرت قرار دیا ۔
Ayahs 48:11–14

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

عنقریب2 تم سے کہیں گے جو دیہاتی لوگ پیچھے رہ گئے تھے کہ ہم کو ہمارے مالوں اور ہمارے گھر والوں نے جانے سے مشغول رکھا، پس حضور ہمارے لیے مغفرت چاہیں۔ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں، تم فرماؤ کہ اللہ کے سامنے کیسے تمہارا کچھ اختیار ہے اگر اللہ تم کو کوئی نقصان یا تمہارے حق میں نفع پہنچانا چاہے، بلکہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے ۔

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے اور اسی وک اپنے دلوں میں اچھا سمجھے ہوئے تھے اور تم نے بدگمانی کی تھی اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے۔

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے پس (وہ یاد رکھے کہ ) ہم نے منکروں کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے وہ جس کو چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب کرے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

(ف 2) جب نبی حضور ﷺ نے سال حدیبیہ بہ نیت عمرہ مکہ مکرمہ کا ارادہ فرمایا تو آپ نے بنی غفار، بنی اسلم، اشجع رئیس مزینہ وغیرہ قبائل اعراب سے کہلابھیجا کہ ہمارے ساتھ مکہ مکرمہ کو چلو، تو حوالی مدینہ کے گاؤں والے ، اور اہل بادیہ بخوف قریش آپ کے ساتھ جانے سے رکے، باوجودیکہ نبی حضور ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور قربانیاں ساتھ تھیں، اور اس سے صاف ظاہر تھا کہ جنگ کا ارادہ نہیں ہے پھر بھی بہت سے اعراب پر جانا بار ہوا، اور جان چرا کر بیٹھ کر رہے اور آپس میں کہنے لگے کہ تم دیکھ لینا اب یہ اورا کے ساتھ اس سفر سے واپس آنے والے نہیں وہ سب ہلاک ہوجائیں گے ان آیات میں اللہ نے ان کے نفاق کا پردہ فاش کیا ہے آپ کو مدینہ پہنچے سے قبل راستہ میں بتلادیا کہ تمہارے صحیح وسالم واپس جانے پر وہ لوگ اپنی غیر حاضری سے جھوٹے عذر اور حیلے بہانے کرتے ہوئے آئیں گے اور کہیں گے کہ کیا کہیے ہم کو گھر بار کے دھندوں سے فرصت نہ ملی کوئی ہمارے پیچھے مال اور اہل عیال کی خبرلینے والا نہیں تھا، بہرحال ہم سے کوتاہی ضرور ہوئی اے رسول حضور ﷺ اب اللہ سے ہمارا قصور معاف کرادیجئے سو اے محبوب حضور ﷺ یہ لوگ جھوٹے ہیں فقط زبانوں سے باتیں بناتے ہیں دلوں میں ان کا کچھ اثر نہیں ، آپ کے استغفار کی خواہش وپروان ان کو دل سے نہیں ہے یہ عذر بالکل غلط ہے یہ درخواست کرنا بھی محض ظاہرداری کے لیے دل میں نہ اس کو گناہ سمجھتے ہیں نہ آپ پر اعتقاد رکھتے ہیں اے محبوب حضور ﷺ آپ ان کے جواب میں کہہ دیجئے کہ میرا استغفار تم کو فائدہ نہ دے گا تمہارے دلوں میں اخلاص تو ہے ہی نہیں اگر خدا تم کو عذاب دے گا اور ضرر پہنچانا چاہے گا تو کون روکنے والا ہے اور اگر وہ کوئی نفع دینا چاہے نصرت غنیمت عافیت تو اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے بلکہ اصل تو یہ ہے کہ خدا کو تمہارے دلوں کی سب خبر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم کیوں ساتھ نہ آئے، بلکہ اے گروہ منافقین تم نے اپنے دلوں میں یہ خیال فاسد پکایا کہ اور گمان کیا کہ اب رسول اور مسلمان جو مکہ مکرمہ کو جاتے ہیں تو وہاں لڑائی ہوگی اور کافر غالب ہو ویں گے اور مسلمان مارئے جائیں گے اب نہ رسول نہ مسلمان مدینہ کو کوئی لوٹ کر آئے گا اور یہ بات شیطان کی طرف سے تمہارے دلوں میں زینت دیدی گئی اور تم نے برے برے خیالات پکانا شروع کردیے اور تم عجب قوم فاسد الخیال قاسی القلب ہلاک ہونے والی ہو جو خدا اور سول پر ایمان نہ لائے گا تصدیق نہ کرے گا تو ان کا کیا کرے گا ہم نے ایسے لوگوں کے لیے دوزخ تیار کرلی ہے آخرکو فرمایا کہ اے محبوب ان لوگوں سے کہہ دو کہ آسمان و زمین میں سب جگہ اللہ ہی کی حکومت ہے ۔ حدیبیہ کے سفر سے بچ کر تم اس کی حکومت سے باہر نہیں ہوسکتے جب تم گھر میں بیٹھے ہو اس قت بھی تمہارا نفع ونقصان اس کے اختیار میں ہے لیکن وہ غفور ورحیم ہے جلدی سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتا ہاں ایسے لوگوں کی سزا اس نے دوزخ کی دہکتی ہوئی آگ ٹھہرارکھی ہے۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

(وہ)1 عنقریب کہیں گے جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے جب تم (خیبر کی) غنیمتیں لینے چلو تو ہمیں بھی اپنے پیچھے آنے دو (تاکہ ہم کو غنیمت میں سے حصہ ملے) وہ لوگ اللہ کے وعدے کو بدلنا چاہتے ہیں، تم فرماؤ کہ ہرگز تم ہمارے ساتھ نہ آؤ اللہ نے پہلے سے یوں ہی فرما دیا ہے ۔ پس عنقریب وہ کہیں گے (کہ اللہ نے نہیں فرمایا) بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، بلکہ (بات یہ ہے کہ) وہ (دین کی) بات نہ سمجھتے تھے مگر تھوڑٰ ۔

(ف 1) شان نزول : اس آیت کے نازل ہونے کا سبب یہ ہوا تھا کہ نبی حضور ﷺ چھ ہجری ماہ ذی الحجہ میں حدیبیہ سے پھرے اور ماہ محرم 7 ہجری میں غزوہ خیبر کی طرف ارادہ کیا اور حکم ہوا کہ جو شخص حدیبیہ میں ہمارے ساتھ چلے اور سوائے اس کے کوئی ہمارے ساتھ جانے کا ارادہ نہ کرے، جب نبی حضور ﷺ کا ارادہ مستقیم ہو تو اس وقت پیچھے رہنے والوں نے عرض کیا کہ ہم کو بھی اجازت فرمائیے کہ ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں ، حضور حضور ﷺ نے ان کے قول کو قبول نہ فرمایا اسی وقت اللہ نے ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

پس1 تم ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے فرماؤ عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں، پس اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تم کو بہت اچھا اجر (یعنی جنت) دے گا اور اگر تم پھر جاؤ گے جیسا کہ اس سے پہلے پھرگئے تھے تو اللہ تم کو دردناک عذاب کی سزا دے گا۔

(ف 1) اے محبوب تم ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہہ دو کہ غزوہ خیبر میں تو تم ساتھ نہ جاؤ گے مگر خیر اگر تم دعوی ایمان واخلاص کا کرتے ہو اور تمہارا امتحان لیاجائے گا اور توبہ کروگے تو قبول کی جائے گی امتحان یوں ہوگا کہ تم ایک ایسی قوم سے جہاد کرنے کی طرف بلائے جاؤ گے جو نہایت مرد میدان شجاعت ہوگی، دلیر، خون خوار ہتھیاروں میں ڈوبی ہوئی سخت مزاج، تم ان سے یہاں قتال کرنا یا تو وہ سب ہلاک ہوجائیں یا مسلمان ہوجائیں، اگر اس امتحان میں تم پورے اترے اور تم نے اطاعت کی اور اخلاص اور سچے دل سے جہاد کیا تو خدا جنت میں ثواب حسن دے گا اور اگر جب بھی تم نے منہ پھیراجی سے پہلے غزوہ حدیبیہ میں اور توبہ نہ کی اور اخلاص نہ برتادل میں نفاق ہی رکھا تو خدا تم کو سخت عذاب دے گا چناچہ خدا کا یہ فرمان سچا ہوا اور اس قوم سے بنی حنیفہ یمامہ کے رہنے والے جو مسیلمہ کذاب کی قوم کے لوگ ہیں حضرت ابوبکر نے جنگ فرمائی اور یہ بھی کہا گیا کہ حضرت عمر فارق کے زمانہ میں اہل فارس اور روم سے جنگ ہوئی اور اس کے لیے آپ نے لوگوں کو دعوت دی۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

اندھے2 پر (جہاد سے) رہ جانے میں کوئی گناہ نہیں اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے ۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانے گا تو اس کو اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور جو کوئی پھرجائے گا اس کو دردناک عذاب کی سزا دے گا۔

(ف 2) شان نزول : جب اوپر کی آیت نازل ہوئی تو جو لوگ اپاہج وصاحب عذر تھے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا حال ہوگا ہمارا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 48:18–19

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

بیشک1 اللہ مسلمانوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کرتے تھے۔ پس1 اللہ نے جانا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا تو اللہ نے ان کے دل میں اطمینان اتارا اور ان کو جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں (دیں) جن کو وہ لیتے تھے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔

بیعت کرنے والوں کا ذکر۔ (ف 1) حدیبیہ چونکہ ان بیعت کرنے والوں کو رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی اسی لیے اس بیعت کو بیعت رضوان کہتے ہیں اس بیعت کا سبب اسباب ظاہریہ پیش آیا کہ نبی ﷺ نے حدیبیہ سے حضرت عثمان غنی ؓ کو اشراف قریش کے پاس مکہ مکرمہ بھیجا کہ انہیں خبر دیں کہ نبی ﷺ بیت اللہ کی زیارت کے لیے بقصد عمرہ تشریف لائے ہیں آپ کا ارادہ جنگ کا نہیں ہے ، اور یہ بھی فرمایا دیا تھا کہ جو کمزور مسلمان وہاں ہیں انہیں اطمینان دلادیں کہ مکہ مکرمہ عنقریب فتح ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب فرمائے گا قریش اس بات پر متفق رہے کہ نبی ﷺ اس سال تو تشریف نہ لائیں اور حضرت عثمان غنی ؓ سے کہا کہ اگر آپ کعبہ معظمہ کا طواف کرنا چاہیں تو کریں، حضرت عثمان نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں بغیر رسول کریم ﷺ کے طواف کروں، یہاں مسلمانوں نے کہا کہ عثمان بڑے خوش نصیب ہیں جو کعبہ معظمہ پہنچے اور طواف سے مشرف ہوئے ، حضور ﷺ نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ بغیر ہمارے طواف نہ کریں گے، حضرت عثمان نے مکہ مکرمہ کے ضعیف مسلمانوں کو حسب حکم فتح کی بشارت بھی پہنچائی پھر قریش نے حضرت عثمان کو روک لیا یہاں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت عثمان شہید کردیے گئے اس پر مسلمانوں کو بہت جوش آیا اور نبی ﷺ نے صحابہ سے کفار کے مقابل جہاد میں ثابت رہنے پر بیعت لی اور یہ بیعت ایک بڑے خاردار اور درخت کے نیچے ہوئی جس کو عرب میں ثمرہ کہتے ہیں ، حضور ﷺ نے اپنا بایاں دست مبارک داہنے دست اقدس میں لیا اور فرمایا کہ یہ عثمان کی بیعت ہے اور فرمایا رب عثمان ؓ شہید ہوئے جبھی تو ان کی بیعت لی، مشرکین اس بیعت کا حال سن کر خائف ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان ؓ کو بھیج دیا ۔ حدیث شریف میں سے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا، مسلم شریف میں ہے کہ جس درخت کے نیچے بیعت کی گئی تھی اللہ نے اس کو ناپید کردیاسال آئندہ صحابہ نے ہرچند تلاش کیا کہ کسی کو اس کا پتہ بھی نہ چلا۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا کہ یہ لوگ بیشک باوفا ، خالص، راست کردار ہیں ان کے دلوں میں اطمینان وتسکین اتاری، رنج وفکر ، حمیت جاہلیت دور کی اور فتح قریب میں ان کو عطا فرمائی یعنی فتح خیبر جو حدیبیہ سے واپس ہوکرچھ ماہ بعد حاصل ہوئی بہت غنیمت ملی اور بہت اموال غنیمت ان کو دیے جن کو وہ عنقریب لیں گے خدا اپنی حکمت اور تدبیر میں ایسازبردست ہے جس سے تمام اجہان کا کام چلتا ہے اور کوئی اس کی تدبیر کے برخلاف کچھ کام نہیں کرسکتا۔
Ayahs 48:20–23

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اور اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کو تم لوگ ، پس یہ (خیبر کی غنیمت کو) تمہیں جلد عطا کی اور (کافر) لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے (یعنی ان کے دل میں رعب ڈال دیا) اور2 تاکہ یہ (واقعہ) مسلمانوں کے لیے قدرت کی نشانی ہو اور اللہ تمہیں سیدھا رستہ دکھائے۔

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور (اس کے علاوہ) تم کو دوسری غنیمتوں کا بھی وعدہ دیا ہے جن پر تم نے اب تک قابو نہیں پایا بیشک اللہ کو انکا علم ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر تم سے یہ کافر جنگ کرتے تو بیشک تمہارے مقابلے سے پیٹھ پھیر لیتے پھر نہ یہ اپنا کوئی حمایتی پاتے اور نہ مددگار۔

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

اللہ کا یہی دستور ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے (کہ کافروں کو شکست دینا اور مسلمانوں کی مدد کرتا) اور ہرگز تم اللہ کا دستور بدلتا نہ پاؤ گے۔

مسلمانوں کی فتح۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جن فتوحات اور غنیمت کے بہت سے مال کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اس وعدہ میں سے فتح خیبر اور وہاں کا غنیمت کا مال ایک فوری انعام ہے اس کے بعد رفتہ رفتہ اور فتوحات ہوئیں فارس قیصر و کسری وغیرہ وغیرہ جن کا ذکر حدیث اور تاریخ کتابوں میں تفصیل سے ہے، جس وقت مسلمانوں کا لشکر خیبر کی چڑھائی پر تھا اس وقت میں اسد اور غطفان قبیلہ کے لوگوں نے یہ ارادہ دیا کیا تھا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال پر حملہ کرکے ان کا مال لوٹ لیاجائے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسارعب پیدا کردیا جس سے ان کے دلوں میں اس ارادہ کے پورا کرنے کی جرات باقی نہیں رہی، اس کو فرمایا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی دست درازی روک دی تاکہ مسلمانوں کو یہ نمونہ ہوجائے کہ دین کی لڑائی پر جو لوگ جاتے ہیں ان کے واہل عیال کا اللہ نگہبان ہے اسی نمونہ کے دیکھ لینے کے بعد وہ دین کی باتوں پر ثابت قدم ہوجائیں، اس لڑائی میں کل سولہ سو مسلمان تھے اور اہل خیبر سترہزار کے قریب مگر تقدیر کا کرشمہ اور نصرت الٰہی کا جلوہ کہ سب مقہور ہوئے یہ خدا اس لیے کرتا ہے کہ مسلمانوں کو عبرت ونصیحت ہو اور خدا تم کو صراط مستقیم دکھائے ۔ مذہب برگزیدہ اسلام پر تم کو ثابت قدم کرے ، اور بھی اللہ نے بہت کچھ غنائم اموال ممالک سلطنتیں تمہارے لیے چھوڑ رکھی ہیں جن پر تم نے اب تک قابو نہیں پایا خدا کا علم ان سب کو محیط و شامل ہے اور وہ ہر بات پر قدرت رکھتا ہے پھر فرمایا کہ اہل خیبر کے حلیفوں کو ہیبت اسلام نے روک دیا اور اگر نہ بھی روکتے اور اے اہل اسلام، وہ تمہارے مقابلہ کو آتے اور لڑائی لڑتے یعنی اسد، غطفان وغیرہ۔ تو کیا ہوتا یہ تو شکست کھاتے، پیٹھیں پھیر کر بھاگتے ، پھر ان کا کوئی مددگار اور حمایتی پیدانہ ہوتا، کیونکہ کافروں کو شکست دینا اور مسلمانوں کی مدد کرنا یہ تو خدا کی نسبت قدیمہ ہمیشہ سے یوں نہیں جاری چلی آتی رہی ہے اور جو قوم پیغمبر سے لڑتی ہے انجام کاروہ دنیا ہی میں سزا پالیتی ہے ، اور خدا کی عادت قدیمہ تو ہرگز بدلنے والی نہیں ۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور1 اللہ وہ ہے کہ اس نے کافروں کے ہاتھ تم سے روک دیئے اور تمہارے ہاتھ ان سے درمیان مکہ کے روک دیئے بعد اس کے کہ اللہ نے تم کو ان پر فتحیاب کردیا تھا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کا دیکھنے والا ہے ۔

(ف 1) شان نزول : حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جس وقت نبی ﷺ حدیبیہ میں تشریف رکھتے تھے، اہل مکہ میں سے اسی (80) ہتھیار بند جوان آدمی صبح کے وقت تنعم کے پہاڑ کی طرف سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے ارادہ سے آئے، مسلمانوں نے انہیں گرفتار کرکے نبی کریم کی خدمت میں حاضر کیا، حضور ﷺ نے معاف فرمایا اور کچھ انتقام نہیں لیا اور چھوڑ دیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اللہ کی وہ شان ہے کہ اس نے کافروں کے ہاتھوں کو روک لیا کہ تم تک نہ پہنچ سکے تم کو قتل نہ کرسکے، اور تمہارے ہاتھوں کو بھی روک دیا کہ تم ان کو مکہ حرم میں قتل نہ کرسکے، یعنی تھوڑی سی سنگباری پر کفایت ہوئی زائد نوبت قتال نہ آئی اور بعد اس کے خدا نے تم کو ان پر فتح وظفر دیدی اور تم غالب ہوگئے مگر پھر بھی لڑائی کو زائد نہ بڑھنے دیا خدا ان کی شرارتیں اور تمہارا عفو و تحمل سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
Ayahs 48:25–26

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

یہ کفار قریش1 وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے (یعنی طواف کرنے سے) روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو ذبح ہونے کی جگہ میں پہنچنے سے روک دیا اور اگر کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کے اسلام کی تمہیں خبر نہ تھی (اور کفار سے لڑائی کرنے میں) کہیں تم انہیں بھی روند ڈالو تو تمہیں ان کی طرف سے انجانی میں گناہ پہنچے (تو ہم ان کے قتال کی اجازت دیتے) ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کرے، اگر وہ (مکہ کے مسلمان اور کافر) آپس میں جدا ہوجاتے تو ہم ان میں سے کافروں کو دردناک سزا دیتے۔

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جہالت کی، پس اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر نازل فرمایا اور اللہ نے مسلمانوں پر پرہیزگاری کا کلمہ (یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) فرمایا اور (وہ) اس کے اہل تھے، اور اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔

(ف 1) مشرکوں نے اہل اسلام کے اس عمرہ کے قافلہ کو روکا اور بڑے جھگڑے کے بعد اگلے سال عمرہ کرنے اور دس برس تک لڑائی کے موقوف رہنے پر صلح ہوئی اس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ یہ مشرکین مکہ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کہتے ہیں اتنا نہیں جانتے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے تو اللہ سے یہ دعا کی تھی کہ غیب سے لوگوں کے دلوں میں کعبہ کی زیارت کا شوق پیدا ہوجائے اور یہ نسل ابراہیمی کہلاکر لوگوں کو اس زیارت سے اور قربانی کے جانوروں کو منی تک کے جانے سے روکتے ہیں۔ فرمایا کہ کچھ چھپے ہوئے مسلمان مرد وعورت مکہ میں نہ ہوتے اور کچھ نئے لوگوگوں کا رحمت الٰہی سے داخل اسلام ہونا اللہ کے علم میں نہ ٹھہرچکا ہوگا تو بدر کی لڑائی کی طرح اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسی مدد دیتا کہ وہ لڑکر مکہ کو تہ وبالا کردیتے، لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اس وقت صلح ہوکرصلح کے زمانہ میں کمزورچھپے ہوئے مسلمان مدینہ میں امن سے آن بیٹھیں اور جو نئے مسلمان ہونے والے ہیں وہ مسلمان ہوجائیں اگرچہ ان مشرکین مکہ نے صلح کے وقت ضد کی باتیں کیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں وہ تحمل پیدا کردیا جس سے انہوں نے مشرکوں کی ضد کی باتوں کو برداشت کیا اور آخرصلح ہوگئی اور اسقوت اللہ نے اپنے رسول اور مسلمانوں کے اوپرسکینہ اتارا، اور ان کے دلوں میں اطمینان بھردیا کلمہ التقوی ، یعنی لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ واتباع شریعت پر مستحکم کردیا اور وہ اس کے مستحق اور اہل بھی تھے کیونکہ اللہ نے انہیں اپنے نبی کی صحبت سے مشرف فرمایا اور اللہ کو ہر شے کا علم ہے مسلمانوں کی بردباری کی باتیں اور مشرکوں کی ضد کی باتیں اللہ کو سب معلوم ہے جزواسزا کے وقت ہر ایک کا فیصلہ ہوجائے گا۔
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک اللہ1 نے اپنے رسول کا سچا خواب سچ کر دکھایا کہ بیشک تم لوگ مسجد حرام (یعنی مکہ) میں انشاء اللہ امن وامان کے ساتھ ضرور داخل ہوگے۔ اپنے سروں کو منڈواتے اور (بعض بال) کترواتے بےخوف، پس اللہ نے جانا جو تم کو معلوم نہیں، پس اس نے اس (حرم میں داخل ہونے) سے پہلے ایک قریب (مقام یعنی خیبر کی) فتح عنایت کی۔

آنحضرت ﷺ کا خواب۔ (ف 1) شان نزول : نبی ﷺ نے حدیبیہ کا قصد فرمانے سے قبل مدینہ طیبہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مع اصحاب کے ساتھ مکہ معظمہ میں باامن داخل ہوئے اور اصحاب نے سر کے بال منڈوائے بعض نے بال کتروائے یہ خواب آپ نے اپنے اصحاب سے بیان فرمایا تو انہیں خوشی ہوئی اور انہوں نے خیال کیا کہ اسی سال وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے جب مسلمان حدیبیہ سے بعد صلح کے واپس ہوئے اور اس سال مکہ مکرمہ میں داخلہ نہ ہواومنافقین نے تمسخر کیا طعن کیے اور کہا کہ وہ خواب کیا ہوا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس خواب کے مضمون کی تصدیق فرمائی کہ ضرور ایسا ہوگاچنانچہ اگلے سال ایسا ہی ہوا اور مسلمان اگلے سال بڑے شان و شکوہ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے ۔
Ayahs 48:28–29

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہی ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کرے، اور اللہ کی شہادت (محمد کی رسالت پر) کافی ہے1 ۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد اللہ کے رسول ہیں اور رسول کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں (اے مخاطب) تو ان کو دیکھے گا رکوع کرتے سجدہ میں گرتے، اللہ کا فضل اور رضا مندی کی خواہش چاہتے (قیامت میں) ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان سے (روشنی) ہوگی۔ یہ ان کی صٖت توریت میں ہے اور یہی صفت ان کی انجیل میں بھی ہے (کہ ان کی ترقی کی حالت) مثل اس کھیتی کے ہے کہ جس نے (زمین سے) اپنی سبز گھاس نکال کر اس کو مضبوط کیا پھر موٹٰ ہوئی، پھر اپنے پاؤں پر سیدھی کھڑٰ ہوگئی (اور یہ ترقی) کسانوں کو بھی معلوم ہوتی ہے (مسلمانوں کو اللہ نے ایسی ترقی اس لیے دی) تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں۔ اللہ نے ان مسلمانوں اور صالحین سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان کے خصائص۔ (ف 1) اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی رسالت کو اپنی گواہی سے ثابت کیا، ان آیتوں میں محمد ﷺ کا نام بھی اللہ نے لوگوں کو بتلایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جن رسول کی رسالت کو اللہ نے اپنی گواہی سے ثابت کیا ہے ان کا نام محمد ﷺ ہے آگے اللہ نے اپنے رسول کے صحابیوں کے اوصاف بیان فرمائے کہ وہ آپس میں تو بڑی نرم دلی سے رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر مہربانی و محبت کرنے والے ایسی کہ جیسی باپ بیٹے میں ہو، اور یہ محبت اس حد تک پہنچ گئی کہ جب ایک مومن دوسرے کو دیکھے تو فرط محبت سے مصافحہ ومعانقہ کرے اور جوش اسلام کے سبب سے منکر شریعت لوگوں کے ساتھ زور آوری سے پیش آتے ہیں جیسا کہ شیر شکار پر۔ اور صحابہ کا تشدد کفار کے ساتھ اس حد پر تھا کہ وہ لحاظ رکھتے تھے کہ ان کا بدن کسی کافر کے بدن سے نہ چھوجائے اور ان کے کپڑے سے کسی کافر کا کپڑانہ لگے ۔ مدارک) اور اللہ کی عبادت میں لگے رہتے اور کثرت سے نمازیں پڑھتے اور ان کی وہ عبادت عقبی کے اجر اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی نیت سے ہوتی ہے دنیا کے دکھاوے کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا، کثرت عبادت سے ان کے چہروں پر نور برستا ہے اور یہ علامت وہ نور ہے جو روز قیامت ان کے چہروں سے تاباں ہوگا، اس سے پہچانے جائیں گے کہ انہوں نے دنیا میں اللہ کے لیے بہت سجدے کیے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان چہروں میں سجدہ کا مقام ماہ شب چہار دہم چودہویں چاند کی طرح چمکتا دمکتا ہوگا، عطاء کا قول ہے کہ شب کی دراز نمازوں سے ان کے چہروں پر نورنمایاں ہوتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ جو رات کی نماز کی کثرت کرتا ہے صبح کو اس کا چہرہ خوبصورت ہوجاتا ہے۔ حضور کی امت کے اوصاف کتب سابقہ میں۔ علاوہ قرآن کے ان لوگوں کے اوصاف تورات اور انجیل میں بھی بیان کیے گئے ہیں سورة اعراف میں گذرچکا ہے کہ جب موسیٰ کو تورات ملی اس میں موسیٰ نے بہت سے اوصاف امت محمدیہ کے لکھے ہوئے پائے متی اور لوقا کی انجیل میں اس کھیتی کی مثال کا اسی طرح ذکر ہے کہ جس طرح اس آیت میں ہے حاصل مطلب اس مثال کا یہ ہے کہ جس طرح کھیتی کے درخت شروع میں کمزور ہوتے ہیں پھر زور پکڑتے ہیں یہی مثال ابتدائے اسلام اور اس کی ترقی کی بیان فرمائی گئی کہ نبی ﷺ تنہا اٹھے پھر اللہ نے آپ کو آپ کے مخلصین اصحاب سے تقویت دی ۔ قتادہ نے کہا کہ نبی ﷺ کے اصحاب کی مثال انجیل میں یہ لکھی ہوئی ہے کہ ایک قوم کھیتی کی طرح پیدا ہوگی وہ نیکیوں کا حکم کریں گے بدیوں سے منع کریں گے کہا گیا ہے کہ کھیتی حضور ہیں اور اس کی شاخیں اصحاب اور مومنین ہیں فرمایا کہ یہ کافر اسلامی کھیتی کی یہ تازگی اور رونق و بہار شان و شوکت دیکھ کر تعجب کرتے ہیں کہ کتنی جلدی بڑھا اور کیسامضبوط ہوگیا اس لیے کافروں کو غیظ میں ڈالے اور اپنی شان دکھلاکران کے دلوں کو جلائے، بعض علماء نے یہ نکالا کہ صحابہ سے جلنے والا کافر ہے ، اللہ نے ان کو جو مسلمان ہوئے رسول قرآن کو سچے دل سے مانا، اور اعمال صالحہ خالصا اللہ کے لیے مغفرت ذنوب کا وعدہ قطعی کیا ہے اور اجرعظیم کا عہد کیا وہ ضرور وعدہ عہد کو پورا کرے گا۔