47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 47:1–3

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:1 in the Quran reader

جو لوگ1 کافر ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا تو ان ا کے اعمال اللہ نے برباد کردیئے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ Open ayah 47:2 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر نازل ہوا اور وہی ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو اللہ نے ان کی برائیاں دور کردیں اور ان کی حالتیں درست کردیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ Open ayah 47:3 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے سچے دین کی پیروی کی جو ان کے پروردگار کی طرف سے ہے ، اللہ اسی طرح لوگوں کے لیے ان کی مثالیں بیاں فرماتا ہے ۔

بہکانے والوں کا انجام اور کفر کی وجہ سے اعمال صالحہ کی بربادی۔ (ف 1) شان نزول : بروز بدر بارہ آدمی تھے جو سب کافروں کا خرچ اپنے ذمہ اٹھائے ہوئے تھے اور کافروں کو لڑائی پر برانگیختہ کرتے تھے اور اس خرچ کو بڑا ثواب کا کام سمجھتے تھے عتبہ شیبہ پسران ربیعہ پسران حجاج ابوالبختری بن ہشام ، ابوجہل بن ہشام وغیرہ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا جو لوگ خود اسلام میں داخل نہیں ہوئے اور دوسروں کو انہوں نے اسلام سے روکا تو اللہ نے ان کے نیک اعمال بےکار بےفائدہ باطل کردیے جو کچھ بھی انہوں نے کیے ہوں خواہ بھوکوں کو کھلایا اور اسیروں کو چھڑایا یاغریبوں کی مدد کی ہو سب برباد ہوئی آخرت میں اس کا کچھ ثواب نہیں، آگے ان مشرکوں کے مقابلہ میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اللہ کے کلام، اللہ کے رسول اور عقبی کی سزا وجزا کو مانتے ہیں تو ان کے نیک عمل اللہ کی بارگاہ میں ایسے مقبول ہیں کہ اللہ ان کو نیک عملوں کے طفیل سے ان کے گناہوں کو معاف فرما کر ہمیشہ نیک کاموں میں لگے رہنے کی ان کو توفیق دیتا ہے ، آگے فرمایا کہ کافرلوگوں کے نیک عملوں کارائیگاں جانا اور ایماندار لوگوں کے نیک عملوں کے طفیل سے ان کے گناہوں کا معاف ہونا، اس سبب سے کہ کافر لوگ شیطان کے کہنے پر چلتے ہیں اور ایماندار لوگ اللہ کے حکم پر چلتے ہیں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ یوں مثالیں بیان کرکے لوگوں کو سمجھاتا ہے تاکہ لوگ اپنے بھلے برے کو سمجھیں اور سیدھے راستے کی طرف آئیں۔
Ayahs 47:4–6

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ١ۙۗ فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا١ۛ۫ۚ۬ ذٰؔلِكَ١ۛؕ وَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:4 in the Quran reader

پس جب تمہارا کافروں سے1 (کسی جنگ میں) مقابلہ ہوجائے تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کرچکو ، پس (جو زندہ گرفتار ہوجائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو، پھر چاہے اس کے بعد احسان کر کے چھوڑ دو ، چاہے فدیہ لے کر چھوڑ دو (کافروں کے ساتھ یہی معاملہ رکھو) یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے، یہی حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے خود ہی بدلہ لے لیتا و لیکن وہ تمہارا ایک دوسرے کے ساتھ امتحان کرنا چاہتا ہے اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے پس اللہ ان کے اعمالوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔

سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ Open ayah 47:5 in the Quran reader

جلد انہیں راہ دے گا اور ان کا کام بنا دے گا۔

وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ Open ayah 47:6 in the Quran reader

اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس کی انہیں پہچان کرا دی ہے ۔

کافروں سے مقابلہ۔ (ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے مسلمانو جب تم ان سے ملو جو کافر ہیں اور لڑائی کاہنگامہ گرم ہو تو مقابلہ کے وقت مخالفوں سے خوب لڑو، کیونکہ حق اور باطل کا مقابلہ تو رہتا ہی ہے جس وقت مسلمانوں اور کافروں میں جنگ ہوجائے ومسلمانوں کو پوری مضبوطی اور بہادری سے کام لینا چاہیے باطل کا زور جب ہی ٹوٹے گا کہ بڑے بڑے شریر مارے جائیں ، اور ان کے جتھے توڑ دیے جائیں اس لیے ہنگامہ کا راز میں کسل، سستی، بزدلی اور توقف وتردد کو راہ نہ دو اور دشمنان حدا کی گردنیں مارنے میں کوتاہی نہ کرو، خدا کی راہ میں لڑو یہاں تک کہ غالب ہوجاؤ، اور جب لڑائی کے بعد کچھ دشمن قید میں آجائیں تو ان کو اچھی طرح حفاظت میں رکھو، اور ان کو مضبوط باندھو، ایسانہ ہو کہ قید سے نکل کر بھاگ جائیں، پھر اسکے بعد تم کو اختیار ہے خواہ تم ان پر احسان کرو اور قیدیوں کو بےلیے مفت چھوڑ دو خواہ ان سے فدیہ لے لو یعنی وہ روپیہ دے کر اپنے کو چھڑالیں خدا کی راہ میں یہاں تک مارو اور مرو کہ جنگ ختم ہوجائے اور کافر اپنے ہتھیار رکھ دیں اس طرح کہ مشرکین اطاعت قبول کریں اور اسلام لائیں اے مسلمانو جس طرح اللہ تعالیٰ نے پچھلے نافرمان لوگوں کی طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا وہ چاہتا تو ویسے ہی ان کافروں کو بھی بغیر تمہارے لڑے بھڑے کے کسی عذاب میں ہلاک کردیتا، لیکن دین کی لڑائی میں اللہ تعالیٰ کو اہل اسلام کی ثابت قدمی کا امتحان لینامنظور ہے کہ کون لڑتا ہے کون جی چراتا ہے کون اسلام کا خیال کرتا ہے کون قرابت کا اور اسلام وکفر میں امتیاز ہوجائے تم کو ثواب ملے وہ ذلیل ہوں اور جو لوگ خدا کی راہ میں شہید ہوئے و خدا ہرگز ان کے اعمال کو ضائع نہ کرے گا بلکہ انجام کار انکی محنت ٹھکانے لگائے گا اور شہید ہونے کے بعد ان کو جنت کے ان عالی مقاموں میں داخل کیا جائے گا جو مقام ان کو رسول کی زبان مبارک اور اپنے وجدان صحیح سے معلوم ہوچکا تھا اس میں داخل کیے جائیں گے اور وہاں پہنچ کر ہر جنتی اپنے ٹھکانے کو خود بخود پہچان لے گا اس کے دل کی کشش ادھر ہی ہوگی جہاں اس کو رہنا ہے۔
Ayahs 47:7–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ Open ayah 47:7 in the Quran reader

اے1 ایمان والو ! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:8 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں تو ان پر تباہی پڑے اور اللہ ان کے اعمال برباد کرے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:9 in the Quran reader

یہ اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کیا پس اللہ نے ان کے اعمال برباد کردیئے۔

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١٘ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا Open ayah 47:10 in the Quran reader

تو کیا ان لوگوں نے زمین میں سفر نہ کیا پس دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے انکا انجام کیسا ہوا کہ اللہ نے ان پر تباہی ڈالی اور کافروں کے لیے بھی اسی قسم کے بہت سے (عذاب) ہیں۔

اللہ تعالیٰ کن کن کی مدد کرتا ہے ؟ (ف 1) اوپر مسلمانوں کا حکم تھا کہ جب کافر لوگوں سے مقابلہ ہو تو خوب دل کھول کر لڑو، ان آیتوں میں فرمایا، اے مسلمانو اگر تم اوپر کے حکم کے موافق عمل کرکے اللہ کے دین کو مدد دو گے تو اللہ تعالیٰ غیب سے ہر طرح تمہاری مدد کرے گا اور لڑائی کے وقت تمہارے دل میں ایسی جرات پیدا کردے گا کہ جس سے تمہارے قدم میدان جنگ میں جم جائیں گے جس طرح بدر کی لڑائی میں آسمان سے فرشتے بھیج کر اس نے تمہاری مدد کی اور میدان جنگ میں تمہارے قدم جمادیے آگے فرمایا جو لوگ کافر ہیں اور اس کے کلام کو جھٹلاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دل میں لشکراسلام کا رعب پیدا کردے گا اور اس لیے میدان جنگ میں ان کے قدم نہیں جمیں گے بلکہ ایسے لوگ ہمیشہ تباہ اور برباد رہیں گے اور ان کے سب اعمال و کوشش رائیگاں جائے گی یہ خفگی ان لوگوں پر اس سبب سے ہے کہ انہوں نے اس کے مقدس مذہب سچی شریعت حق کتاب کو جس کو اللہ نے محمد ﷺ پر اتارا براسمجھا انکار کیا خدا نے یہ سزا دی کہ اعمال باطل کردیے کیا ان کافروں نے ملک شام میں قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں نہیں دیکھیں اگر نہیں دیکھیں تو اب دیکھ لیں اور یہ یاد رکھیں کہ ان کافرقوموں کے قدم بقدم چلنے والوں پر وہی آفتیں آنے والی ہیں جو ان قوموں پر آچکی ہیں۔
Ayahs 47:11–12

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠ Open ayah 47:11 in the Quran reader

یہ اس سبب سے1 کہ مسلمانوں کا کارساز اللہ ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جو لوگ کہ کافر ہیں وہ (دنیا میں) فائدہ اٹھاتے ہیں اور کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں اور (آخرت میں) دوزخ ان کا ٹھکانا ہے۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ مسلمانوں کا اللہ کارساز ہے اور کافروں کا کوئی کارساز نہیں ہے بعض مفسروں نے ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ ان دونوں آیتوں کے معنی میں مطابقت نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا کارساز ہے اور سورة انعام کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور کافروں سب کا کارساز ہے، اس شبہ کا جواب مفسروں نے یہ دیا ہے کہ سورة انعام میں حشر اور حساب اور کتاب کے ذکر کا موقع تھا اور قیامت میں حساب اللہ تعالیٰ نیک وبد سب سے لیوے گا اور اسی واسطے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک نیک وبد کے حساب کا مالک ہے اور یہاں مدد کا موقع ہے اور کافروں کا کفر اللہ کو پسند نہیں اس وسطے یہاں فرمایا کہ اللہ فقط مسلمانوں کا مددگار ہے۔ تفسیر قتادہ سے معلوم ہوتا ہے کہ احد کی لڑائی میں جب مسلمانوں کی شکست ہوئی اس وقت مسلمانوں کی تسکین ک لیے یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی تیراندازوں لوگوں نے جو کی اسی سبب سے اس لڑائی میں شکست ہوئی اگر ایمانداری اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری پر آئندہ یہ لوگ پورے قائم رہیں گے تو اللہ ان کا کارساز ہے ان کو اور لڑائیوں میں فتح نصیب کرے گا یہ تیراندازوں کی نافرمانی کا قصہ سورة آل عمران میں گذرچکا ہے اوپرفرمانبردار اور نافرمان لوگوں کی دنیا کی مدد اور خفگی کا ذکر فرماکرآگے دونوں فریقین کا عقبی کا انجام بیان فرمایا کہ فرمانبردار لوگوں کے لیے عقبی میں ان کا انجام دوزخ ہے، عقبی کے منکر لوگوں کی مثال چوپایوں کی اس واسطے فرمائی کہ جس طرح چوپایوں کی زندگی کا مدار فقط دنیا کے کھانے پینے پر ہے وہی حال عقبی کے منکر لوگوں کا بھی ہے۔
Ayah 47:13

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت1 سے شہر جو قوت میں تمہارے اس شہر سے بہت زیادہ تھے کہ جس (کے رہنے والوں) نے تم کو جلاوطن کیا، ہم نے انہیں ہلاک کردیا، پس ان کا کوئی مددگار نہ ہوا۔

ہجرت مدینہ فتح ونصرت کا پیش خیمہ۔ (ف 1) شان نزول۔ جب نبی ﷺ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی اور غار کی طرف تشریف لے چلے تو مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا اللہ تعالیٰ کے شہروں میں تو اللہ کو بہت پیارا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شہروں میں تو مجھے بہت پیارا ہے اگر مشرکین مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ قریش سے زیادہ صاحب قوت ، صاحب شوکت قوموں کو اللہ نے بڑی ذلت اور خواری سے ایک دم میں طرح طرح کے عذابوں سے ایسا ہلاک کیا کہ کوئی ان لوگوں کی کچھ حمایت اور مدد نہ کرسکا، اگر یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں گے وہی ذلت خواری گویا ان کے سر پر بھی سوا رہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق وہی ہوا کہ جن بتوں کی حمایت میں ان بت پرستوں نے اللہ کے رسول کو اللہ کے گھر سے نکالا تھا اور وہ بت فتح مکہ کے وقت توڑے گئے بڑے بڑے بت پرست جنگ بدر میں بےگورکفن نہایت ذلت و خواری سے مارے گئے اور رسول کریم کی فتح ہوئی۔
Ayahs 47:14–15

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

تو کیا1 وہ شخص کہ جو اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اس جیسا ہوگا کہ جس کے برے عمل اسے بھلے دکھائے گئے ہوں اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چلے۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

اس جنت کی صفت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے ، یہ ہے کہ اس میں ایسی صاف پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جن کا مزہ نہ بدلے اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لیے لذت ہے، اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا ہے ، اور ان کے لیے وہاں ہر قسم کے پھل ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے لیے بخشش ہے ، کیا ایسے چین والے ان جیسے ہوجائیں گے جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں اور ان کو کھولتا پانی پلایا جائے کہ آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے۔

نیک وبد کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ایک شخص نہایت شرح صدر، اور فہم وبصیرت کے ساتھ سچائی کی صاف اور کشادہ سڑک پر بےکھٹکے چلاجارہا ہے اور دوسرا اندھیرے میں پڑا ٹھوکریں کھاتا ہے جس کو سیاہ سفید یا نیک وبد کی کچھ تمیز نہیں حتی کہ اپنی بےتمیزی سے برائی کو بھلائی سمجھتا ہے اور خواہشات کی پیروی میں اندھا ہورہا ہے کیا ان دونوں کا مرتبہ اور انجام برابر ہوسکتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، اس کو فرمایا گیا ہے کہ جس کے پاس خدا کی ظاہری قوی سچی دلیلیں ہوں اور مقدس مذہب ہو یعنی محمد ﷺ اور مسلمان اس جیسے ہوسکتے ہیں جو کافر ہوں بدکاریاں کرتا ہو اور ان کا چھا سمجھتا ہو اور انہوں نے اپنے نفس کو خواہشوں کا اتباع کیا بت پرستی میں مشغول رہے ہوں ہرگز نہیں جن دو گروہ کا آیت میں ذکر تھا ان دونوں کے آخرت کے انجام کا آگے زکر فرمایا کہ جو خدا سے ڈرت ہیں تقوی شعار ہیں کفر وشرک سے بچتے ہیں ان کو جو جنت ملے گی اس کی ایک شان و شوکت یہ ہے کہ اس میں پانی دودھ شراب کی شہد کی نہریں بہتی ہوں گی اور فصل اور بےفصل کے میوے وہاں موجود ہوں گے اور ان نعمتوں کا حساب وکتاب اللہ کی طرف سے بالکل معاف ہوگا، اور دوسرے گروہ کا یہ حال بیان فرمایا کہ وہ لوگ ہمیشہ آگ میں جلیں گے اور پیاس کے وقت ایسا کھولتا ہوا پانی ان کو پلایاجائے گا جس سے ان کی انتڑیاں کٹ کٹ کر کر نگ پڑیں گی۔
Ayahs 47:16–19

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

تو ان (کفار) میں بعضے1 وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگا کر سنتے ہیں، یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو اہل علم سے کہتے کہ ابھی پیغمبر نے کیا بات فرمائی تھی، یہ وہ لوگ ہیں خہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور یہ اپنی نفسانی خواہشوں کے تابع ہوئے۔

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور جنہوں نے راہ پائی، اللہ نے ان کو اور زیادہ ہدایت عطا فرمائی اور ان کی پرہیزگاری انہیں عطا فرمائی۔

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

تو یہ کافر لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ ان پر اچانک آجائے۔ پس تحقیق اس کی علامتیں تو ظاہر ہوچکی ہیں، پس جب قیامت ان کے سامنے آجائے گی تو اس وقت ان کی نصیحت پکڑنا کہاں نصیب ہوگا۔

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس یقین کرو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور (اے محبوب) اپنے لیے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کے لیے گناہوں کی معافی مانگو اور اللہ جانتا ہے (دن کو) تمہارا چلنا پھرنا اور (رات کو) تمہارا آرام لینا۔

منافقوں کابیان۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ بعض منافقین ایسے ہیں کہ تمہاری مجلس وعظ میں یا خطبہ جمعہ میں آتے ہیں اور کفر کی مذمت سنتے ہیں مگر دل سے متوجہ نہیں ہوتے ، جب بعد ختم باہر نکل کرجاتے ہیں تو علم والے لوگوں سے بطور مسخراپن و استہزاء پوچھتے ہیں کہ رسول اللہ کیا کہتے تھے ہم سمجھے نہیں کہ ابھی منبر پر بیٹھ کر کیا کہا تھا ہم کو کچھ خیال نہیں رہا منافقوں کو برا کہا تھا حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ سے بطور مسخراپن کہتے تھے، فرمایا کہ یہ منافق لوگ اللہ کے حکم پر نہیں چلتے بلکہ اپنے دل کی خواہش پرچلتے ہیں اس لیے ان کے دل پر مہر کی طرح زنگ لگ گیا ہے جس سے قرآن کی نصیحت کا ان کے دل پر کچھ اثر نہیں ہوتا، منافقوں کے ذکر کے بعد ایماندار لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ قرآن کی نئی نئی نصیحت سے روز بروز ان کی ہدایت اور پرہیزگاری بڑھتی ہے آگے فرمایا کہ یہ کافر جو ایمان نہیں لاتے، تو اب ان کو کیا انتظار باقی رہا ہے ہر طرح حجت تمام ہوچکی ہے دلائل عقلیہ ونقلیہ سب واضح ہوچکے ہیں فقط ایک قیامت قائم ہونارہ گیا ہے کیا یہ انتظار کہ وہ جب یکایک بیخبر میں آ کر ان کو پکڑ لے گی تو ایمان لائیں گے اگر ایسا ہے تو اس کی بھی نشانیاں برابرظاہر ہورہی ہیں اور آگئی ہیں چاند کو رسول اللہ نے دوٹکڑے کردیا ہے رسول اللہ قرآن لے کر آئے جب قیامت آئے گی تو اس وقت یہ کیا خاک نصیحت پکڑیں گے اور توبہ کریں گے اس وقت کچھ قبول نہ ہوگا، اس کے بعد اللہ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کرامت کے لوگوں کو سمجھایا کہ سوائے خدا کے کوئی معبود کوئی مالک نفع یا نقصان پہنچانے والا یاچھین لینے والایاذلیل کرنے والا نہیں، ہر بات کا وہ مالک ہے آگے فرمایا کہ اے محبوب امت کے مسلمان مرد عورتوں کے حق میں مغفرت کی دعا کیا کرو، یہ اس امت پر اللہ کا اکرام ہے کہ نبی کریم سے فرمایا کہ ان کے لیے مغفرت طلب فرمائیں اور آپ شفیع مقبول الشفاء ہیں آخر کو فرمایا کہ نیک وبد عمل اور چلناپھرنا اٹھنا بیٹھنا، سب کاموں کو جانتا ہے اور ان عملوں کے سبب سے ہر ایک کا جنت اور دوزخ کاٹھکانہ اللہ کو سب معلوم ہے قیامت کے دن اسی کے موافق جزاوسزا کا فیصلہ ہوجائے گا۔
Ayahs 47:20–24

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور مسلمان1 کہتے ہیں کہ : کوئی سورت کیوں نہ نازل کی گئی (جس میں جہاد کا حکم ہوتا) پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی اور اس میں جہاد کا حکم فرمایا گیا تو تم ان لوگوں کو دیکھو گے جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے، کہ تمہاری طرف اس شخص کے مانند دیکھتے ہیں جس پر موت سے بیہوشی چھائی ہو، پس افسوس ہے ان کے حال پر۔

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

ظاہر میں تو فرمانبرداری اور معقول بات کہنا ہے (اور باطن خراب) پھر جب (جہاد کا) حکم ناطق ہوچکا۔ تو اگر یہ لوگ اللہ سے سچے رہتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا۔

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

پس اے ضعیف الایمان لوگو ! اگر تمہیں حکومت ملے تو قریب ہے کہ تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے قطع کردو۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان پر لعنت کی ہے پس ان کو (حق کے سننے سے) بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا (کہ راہ حق نہیں دیکھتے) ۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

پس کیوں نہیں یہ لوگ قرآن میں غور کرتے (جو حق کو پہچانیں) یا (ان کے) دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں۔

جہاد کا ذکر اور منافقین کی پریشانی۔ (ف 1) شان نزول : مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ کا بہت ہی شوق تھا وہ کہتے تھے کہ ایسی سورت کیوں نہیں اترتی جس میں جہاد کا حکم ہو تاکہ ہم جہاد کریں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ فرمایا جو سچے مسلمان ہیں رسول قرآن پر ایمان لائے خالصا اللہ اعمال صالحہ کرتے ہیں تو وہ اس بات کی آرزو کرتے ہیں کہ ہمارے لیے کوئی حکم نازل کیا جاتا یعنی جہاد کرنا، جو سب سے بڑھ کر سخت دشوار کام ہے تو ہم اس میں اپنی سعادت سمجھ کر اس کو بجالاویں، پھر جب کوئی ایسی سورت نازل ہوجائے کہ جس میں جہاد کا حکم ہو تو وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں شک ونفاق کی مہلک بیماری ہے پریشان ہوجاتے ہیں جہاد کا نام سن کر جان نکلتی ہے ان کا یہ حال نظر آتا ہے کہ بری آنکھوں سے دیدے پھیر پھیر کر نفرت سے اے رسول تم کو گھورنے لگتے ہیں۔ ایسی آنکھیں ہوجاتی ہیں جیسے مرتے وقت مردہ کی پتلیاں چڑھنے لگتی ہیں اور اس وقت جبکہ موت اپنی چادر اڑھادتی ہے اور ڈھانپ لیتی ہے تو آنکھیں بدہیت ڈراؤنی ہوجاتی ہیں ایسی ان کی حالت جہاد کا نام سن کر ہوجاتی ہے جہاد گویا موت ہے اگر یہ موت ہے تو موت ہی بہتر ہے یعنی جینے سے موت بہتر ہے آگے فرمایا کہ یہ لوگ ان کی بدنصیبی بدقسمتی ہے ان کو لائق تو یہ تھا کہ حکم الٰہی کی اطاعت کرکے اللہ ورسول کی فرمانبرداری کرتے اور اس وقت کوش ہوتے اواچھی باتیں کہتے جیسے مسلمان کرتے اور کہتے ہیں ، فاذاعزم الامر ، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ منافق لوگ اگر لڑائی سے پہلے لڑائی کے حکم ماننے کا زبانی اقرار بھی کرلیتے توعین وقت پر اس اقرار سے پھرجاتے ہیں اگر عین وقت پر یہ لوگ اپنے اقرار کو سچا کریں تو ان کے حق میں بہتر ہے آگے فرمایا کہ کیا اے منافقین تم یہ خیالات پکاتے ہو اور تمنارکھتے ہو کہ اگر اس امت کے والی بن جاؤ، اور تمہارے ہاتھ میں حکومت وسلطنت دیدی جائے تو تم جس کو چاہو ماروجوچاہو کرو زمین میں فساد مچاؤ، اور اس فساد کے برپا کرنے میں رشتہ داری کا بھی کچھ پاس ولحاظ نہ کرو گناہ علی الاعلان کرو، جو لوگ ایسا ایسا کرتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ اور اللہ کی رحمت سے وہ بالکل دور ہیں کیونکہ اللہ نے ان کو نصیحت کی بات کے سننے کے لیے کان، بھلا برادیکھنے کے لیے آنکھیں سب کچھ دیا اور اس پر بھی ان لوگوں نے بہرے اندھوں کے سے کام کیے فرمایا کہ نافرمانی کے سبب سے ایسے لوگوں کے دلوں میں زنگ کے قفل لگ رہے ہیں اور اس لیے قران کی نصیحت ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں کرتی۔
Ayahs 47:25–28

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک1 جو لوگ ہدایت ظاہر ہوجانے کے بعد الٹے پھرگئے (یعنی مرتد ہوگئے) یہ شیطان نے انہیں فریب دیا ار ان کو دنیا میں مدتوں رہنے کی امید دلائی۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ انہوں نے ان لوگوں سے جو کہ خدا کی نازل کی ہوئی چیز کو ناپسند کرتے ہیں، یہ کہا کہ بعض کام میں ہم تمہارا کہنا مان لیں گے اور اللہ ان کی پویشدہ بات کہنے کا جانتا ہے۔

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پس ان کا کیا حال ہوگا ؟ جبکہ فرشتے ان کی روح قبض کریں گے، ان کے مونہوں پر اور پیٹھوں پر لوہے کے گرز ماریں گے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ سزا اس لیے کہ انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جس سے اللہ کی ناراضی ہے ار اللہ کی خوشنودی کو انہوں نے برا سمجھا، پس اللہ نے ان کے اعمال اکارت (ضائع) کردیئے۔

(ف 1) شان نزول : یہود نبی ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے تو آپ کی تعریف اور توصیف توریت اور انجیل میں سے لوگوں کو پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھنا وہ تشریف لے آئیں تو بڑا لطف آئے گا دنیا انکے نور سے منور ہوجائے گی لیکن جب وہ تشریف لائے تو سب سے زیادہ مخالف ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 47:29–31

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا جن1 لوگوں کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے ، اس گھمنڈ میں ہیں کہ اللہ ان کے چھپے بیر ظاہر نہ کرے گا۔

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھا دیں پس تم ان کو ان کے قیافہ (شکل و صورت) سے پہچان لو اور ضرور تم ان کو طرز کلام سے پہچان لو گے اور اللہ تمہارے اعمال جانتا ہے۔

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے تاکہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو پہچانیں اور تمہاری حالتوں کو جانچ لیں۔

منافقین کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق وشک کی بیماری ہے اور مکار و عیار ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ یوں ہی خفیہ رہیں گے اور بات بنی چلی جائے گی خدا ان کی پوشیدہ عداوت جو خدا اور رسول سے رکھتے ہیں ظاہر نہ کرے گا، ان کانفاق ان کا کفر اہل اسلام پر آشکار نہ فرمائے گا کیا ان کو معلوم نہیں کہ آسمان و زمین میں کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں لوگوں کے درپردہ مشورے اور ان کے دلوں کے بھید سب اس کو معلوم ہیں وہ اگر چاہے تو ان منافقوں کے چہروں پر ایسی پھٹکار برسنے لگے اور ان کی بات چیت میں ایسا اندازہ پیدا ہوجائے کہ وہ منافق اپنے چہروں اور اپنی باتوں سے پہچانے جائیں، حدیث ہے کہ حضررت انس نے فرمایا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول کریم سے کوئی منافق مخفی نہ رہا آپ سب کو ان کی صورتوں سے پہچانتے تھے اور وہ اپنے ضمیر کا حال ان سے چھپانہ سکے، چناچہ اس کے بعدجو منافق لب ہلاتا تھا حضور اس کے نفاق کو اسکی بات سے اور اس کے فحوائے کلام سے پہچان لیتے تھے ۔ مسند امام احمد بن حنبل میں ابومسعود عقبہ بن عمرو کی روایت ہے کہ ایک روز نبی ﷺ خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اور وہاں منافق تھے تو آپ نے چھتیس اشخاص کا نام لے کر ان کو منافق فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ اے لوگوتم میں منافق بھی شریک ہیں تم کو خدا سے ڈرنا اور اپنے اعتقاد اور عملوں کو درست کرنا چاہیے اللہ نے حضور کو بہت سے وجوہ علم عطا فرمائے ان میں سے صورت سے پہچاننا بھی ہے پھر مسلمانوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ دین کی لڑائی کا حکم اللہ تعالیٰ نے اس حکمت کے لیے نازل فرمایا کہ کون مجاہد جان فدا کرنے والا ہے اور کون وقت پر گھر میں بیٹھ رہنے والا اس وقت فقط زبان سے ہمت جتلانے والوں کا حال کھل جائے گا۔
Ayahs 47:32–35

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

بیشک1 جو لوگ کافر ہوئے اور انہوں نے اللہ کے رستہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے راہ ہدایت ان پر ظاہر ہوچکی تھی وہ لوگ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اللہ ان کے عملوں (کے ثواب) کو جلد اکارت (ضائع) کردے گا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے مسلمانو ! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، اپنے اعمالوں کو برباد مت کرو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور اللہ کی راہ سے روکا پھر وہ کافر ہی مرگئے پس اللہ ہرگز انہیں نہ بخشے گا۔

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

پس تم (دشمن کے مقابلہ میں) سستی نہ کرو اور تم صلح کی طرف نہ بلاؤ اور تم ہی غالب آؤ گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہارے اعمال ضائع نہ کرے گا۔

اطاعت رسول کریم ﷺ کے انعامات۔ (ف 1) جو لوگ کافر ہیں رسول و قرآن کو نہیں مانتے خود بھی گمراہ ہیں اور لوگوں کو بھی خدا کے سچے رستہ سے اور اس کی اطاعت سے روکتے ہیں اور بعد ظاہر ہوجانے راہ حق کے انہوں نے رسول اللہ کی مخالفت کی باوجود توریت میں خوب معلوم کرچکے تھے کہ نبی آخرالزمان ﷺ ہوں گے اور ان کی علامات خوب جان چکے تھے مخالفت کرتے ہیں تو وہ خدا کو ہرگز ہرگز ان بےہودہ باتوں سے کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتے ، اپنا برا کرتے ہیں خدا کا کیا بگڑتا ہے وہ عنقریب سزا دے گا اور ان کے سب اعمال ظاہرہ حسنہ دنیویہ باطل وبیکار کردے گا آگے مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ اور رسول کے حکم پرچلو، برخلاف حکم اللہ اور رسول کے کوئی ایسا قرآن کو نہیں مانتے ہیں خود بھی گمراہ ہیں اور روں خو بھی خدا کے دین و اطاعت وطریقہ سے روکتے ہیں اور پھر کفر کی حالت میں مرگئے ہیں ان کو خدا ہرگز نہ بخشے گا یعنی جس کا خاتمہ کفر پر ہوگا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا آگے فرمایا، اے مسلمانو جب تم یہ سمجھ چکے کہ تمہارے اعمال باطل نہ ہوں گے اور مر کر تم جنت پاؤ گے تو تم قتال میں ضعیف نہ بنو، سستی نہ کرو، خوب مضبوطی سے قوت سے جانیں دو اور کافروں کو صلح کا پیغام نہ دو کہ اسمیں تمہاری ذلت ہے عاجزی نہ کروحالان کہ تم غالب ہو قوی ہو فتح ونصرت والے ہو اس لیے کہ خدا تمہارے ساتھ ہے وہ تم کو فتح مند منصور کرے گا اور دشمن کو ذلیل و خوار کرے گا اور تم جہاد میں جو کام کرو گے ذرہ ذرہ کا ثواب پاؤ گے تمہارے ایک عمل کو بیکار نہ کرے گا۔
Ayahs 47:36–38

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا کی زندگانی1 تو محض ایک کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری کرو تو اللہ تمہیں تمہارے (اعمال کے) ثواب عنایت کرے گا اور کچھ تم سے تمہارے مال طلب نہ کرے گا۔ (بلکہ بقدر زکوۃ) ۔

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر تم سے تمہارے مال طلب کرے، پھر طلب میں مبالغہ فرماوے تو تم بخل کرو گے اور وہ بخل تمہارے دلوں کی بدنیتی ظاہر کردے گا۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

اے لوگو ! تم آگاہ ہوجاؤ کہ تم کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے پس بعضے تم میں سے وہ ہیں جو بخل کرتے ہیں اور جو (صدقہ دینے اور قرض ادا کرنے میں) بخل کرتا ہے وہ اپنی ہی جان پر بخل کرتا ہے، اور اللہ غنی ہے اور تم سب (اس کے فضل و رحمت کے) محتاج ہو، اور اگر تم (اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے) منہ پھیرو تو وہ تمہاری جگہ دوسرے لوگ بدل لے گا، پھر وہ تمہاری مانند نہ ہوں گے۔

زکوۃ کے دنیاوی اور اخروی فوائد۔ (ف 1) دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہوکردین کے کاموں سے جی چرانے والوں کو ان آیتوں میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دنیا کی زندگی ناپائدار اور چند روزہ کا کھیل تماشہ ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ، ہاں دنیا کے اندر اگر تم ایمان لاؤ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو تم کو خدا اس کا اجر دے گا جس میں ہمیشہ کی راحت ہے تھوڑے دنوں کے کھیل تماشے کے پیچھے ہمیشہ کی راحت کو ہاتھ سے دینا کسی سمجھداری کا کام نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے صدقہ خیرات کی تاکید جو کی ہے اور زکوۃ جو فرض کی ہے وہ اسی فائدہ کے لیے کہ دنیا میں غریبوں کا کام چلے اور ایمانداری اور پرہیزگاری سے جو شخص کچھ خرچ کرے عقبی میں ایک کے دس سے لے کر سات سو تک اور زیادہ نیک نیتی کی صورت میں اس سے بھی بڑھ کر اس کو اجر دیاجائے گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے مال کے مانگنے کی کچھ ضرورت نہیں دنیا میں جو کچھ ہے وہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اس لیے جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ اسی کا ہے اللہ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اس کو خوب معلوم ہے کہ انسان کے دل میں مال کی الفت بہت ہے اگر تنگ کرکے سارامال خرچ کرنے کا حکم دیاجائے گا تو تم لوگ بخیلی کرنے لگو گے اور غیروں کو جو کچھ دو گے وہ طرح طرح کی خفگی جتلا کردوگے اس واسطے زکوۃ کی مقدار اس نے برس روز میں چالیسواں حصہ ٹھہرائی ہے اور نفلی صدقہ خیرات کی مقدرار ہر شخص کی ہمت پر منحصر ہے اس کی تعمیل میں جو شخص بخیلی کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا کیونکہ آدمی کے پاس جو کچھ مال ومتاع ہے وہ دنیا کا دنیا میں رہے گا اور آدمی مرجائے گا ایسی ساتھ چھوڑ دینے والی چیز کو ساتھ لے جانے کا طریقہ تو یہی ہے کہ جس طرح مال کے خرچ کرنے کا حکم شریعت میں ہے عقبی کی اجر کی نیت سے اس حکم کے موافق مال خرچ کیا جائے اور اللہ سے اس کے اجر کی توقع رکھی جائے آخرکو فرمایا اگر موجود لوگ اللہ کے حکم کی تعمیل نہ کریں گے تو ان کی جگہ اللہ کسی اور فرمانبردار مخلوقات کو بدل دیوے گا جو تم سے کہیں اچھی تابعداری ہوگی پھر وہ تمہاری طرح جی نہ چرائیں گے۔