46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsمظہر القرآن

Ayah 46:1
Ayahs 46:2–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 46:2 in the Quran reader

یہ2 کتاب (یعنی قرآن) کا اتارنا خدائے غالب حکمت والے کی طرف سے ہے۔

مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَمَّاۤ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 46:3 in the Quran reader

ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان چیزوں کو جو ان کے درمیان میں ہیں درست تدبیر ہی کے ساتھ پیدا کیا اور ایک میعاد معین تک کے لیے اور جو لوگ کہ کافر ہوگئے اس چیز سے کہ ڈرایا گیا منہ پھیرتے ہیں۔

(ف 2) یہ قرآن خدا کی بھیجی ہوئی کتاب ہے جو سب پر غالب اور حکمت والا ہے ، اس نے اپنی حکمت مقتضی کے موافق اس کو اتارا اور اس میں وہ احکام نازل کیے جن پر عمل کرنے میں بندوں کے لیے بڑی فلاحیت اور اس سے منہ پھیرنے میں ان کے لیے سخت شقاوت ہے۔
Ayahs 46:4–8

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ؕ اِیْتُوْنِیْ بِكِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ هٰذَاۤ اَوْ اَثٰرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 46:4 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ یہ تو بتاؤ کہ جن چیزوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو مجھ کو دکھاؤ کہ انہوں نے زمین کا کون سا حصہ پیدا کیا ؟ یا آسمانوں1 میں ان کی کچھ شرکت ہے، میرے پاس اس (قرآن) سے پہلے کی کوئی کتاب لاؤ یا کوئی بقیہ علم (پہلوں کا) چلا آتا ہو (جس میں خدا کی شرکت کا ذکر ہو) اگر تم سچے ہو۔

وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآئِهِمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 46:5 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا اس چیز کو پوجے جو اس کی نہ سنیں قیامت تک اور انہیں ان کی پوجا کی خبر تک نہیں۔

وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 46:6 in the Quran reader

اور جب (قیامت کے دن) لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی عبادت کے منکر ہوجائیں گے ۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 46:7 in the Quran reader

اور جب ہماری کھلی کھلی آیتیں ان لوگوں کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو یہ کافر لوگ حق (یعنی قرآن) کو جب ان کے پاس آگیا تو کہتے ہیں : یہ کھلا جادو ہے ۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَلَا تَمْلِكُوْنَ لِیْ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ كَفٰى بِهٖ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 46:8 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (قرٓان) کو انہوں نے (یعنی محمد نے) خود بنا لیاتم فرماؤ کہ اگر میں نے اس کو خود بنا لیا ہے تو تم اللہ کے سامنے میرا کچھ اختیار نہیں رکھتے، وہ خوب جانتا ہے جو تم قرآن کی نسبت باتیں بناتے ہو، وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے ۔

(ف 1) بت پرستوں کو جواب۔ اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب وغرائب قدرت ہیں ان سب کو بےہودہ بےفائدہ فضول پیدا نہیں کیا، بیکار نہیں بنایا، بلکہ حق و انصاف کے لیے بمقتضائے حکمت وعدالت ایک خاص وقت معین تک کے لیے دنیا کی یہ چند روزہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ نہیں بنائی ہے بلکہ چند روزہ زندگی کے بعد اور ہمیشہ کی زندگی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اور اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی نیکی اور بدی کی جزاوسزا اسی ہمیشہ کی زندگی میں پیش آنے والی ہے اور اس سزا سے ان منکروں کو طرح طرح سے ڈرایا جاتا ہے وہ اس نصیحت الٰہی سے منہ موڑے چلے جاتے ہیں اس واسطے ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ کافر ہیں جس سے ان کو ڈرایا جاتا ہے وہ اس کو دھیان نہیں کرتے پھر فرمایا کہ جن بتوں کو پرستش کے دین میں یہ بت پرست لوگوں اللہ اور اللہ کے رسول کی نصیحت کو نہیں سنتے۔ منکرین اسلام کے لیے عقلی دلیل۔ اے محبوب ﷺ ان مشرکوں بت پرستوں سے ذرا یہ تو پوچھو کہ کس استحقاق سے تم بت پرستوں نے ان بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرارکھا ہے اللہ تعالیٰ نے تو زمین وآسمان اور تم کو پیدا کیا تمہارے بتوں نے زمین یا آسمان پر کوئی چیز پیدا کی ہو تو اس کو ثابت کرو اور اگر تم سچے ہوتولاؤ کوئی دلیل دکھاؤ اس قرآن سے پہلے جو اور پیغمبروں پر کتابیں اتریں ہیں انہیں میں دکھاؤ، یا تم پر کوئی کتاب خدا کی اتری ہوئی ہی بتاؤ جس میں کدا کی شرکت کا ذکر ہو، اگر ایسا ہے تو اس کی کوئی دلیل بھی ہے یا فقط خیال ہی خیال، پھر فرمایا کہ اب دنیا میں تو یہ بت پرست لوگ ان بتوں کو اپنا معبود کہتے ہیں قیامت کے دن جن چیزوں کو یہ مشرک لوگ پوجتے ہیں وہ الٹی ان سے بےزاری ظاہر کریں گے پھر ان گمراہوں کی گمراہی بیان فرمائی کہ جو بت ان منکروں سے قیامت کے بےزاری ظاہر کریں گے ان کی حمایت میں یہ لوگ اللہ کے کلام کو جادو بتلاتے ہیں اور اللہ کے رسول پر یہ بہتان باندھتے ہیں کہ انہوں نے یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑ کر بنالیا ہے پھر اپنے رسول سے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ان بہتان باندھنے والوں کی اسی قدر جواب دو کہ یہ قران میں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہوگا تو خدا مجھ سے سمجھ لیوے گا خدا کے مواخذہ کے وقت تم میں سے کوئی میری مدد نہ کرنا، اور اگر تم جھوٹ بہتان باندھتے ہو تو تم سے خدا سمجھے گا کیونکہ خدا کو ہر ایک کا حال معلوم ہے پھر ان منکروں کو توبہ کی رغبت دلاکر فرمایا کہ اب تک جو کچھ تم نے کیا سو کیا اب بھی اگر اپنے کیے سے آئندہ باز آؤ گے تو اللہ ہر طرح کے گناہوں کو بخشنے والا ہے۔
Ayah 46:9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ١ؕ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 46:9 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ1 میں رسولوں میں سے کچھ نیا نہیں ہوں۔ اور1 میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا ہو، میں تو اس ہی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں تو صرف صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں۔

(ف 1) اے محبوب ﷺ مشرکین مکہ سے کہہ دو کہ میری باتوں سے اس قدر بدکتے کیوں ہوں میں کوئی انوکھی چیز لے کر نہیں آیا مجھ سے پہلے بھی دنیا میں سلسلہ نبوت و رسالت کا جاری رہا ہے وہ ہی میں کہتا ہوں کہ کہ ان سب رسولوں کے بعد مجھ کو اللہ نے رسول بناکربھیجا ہے جس کی خبر پہلے رسول دیتے چلے آئے ہیں اسی حیثیت سے یہ بھی کوئی نئی بات نہیں رہی بلکہ بہت پرانی بشارت کا مصداق آج سامنے آگیا پھر تم کیوں نبوت کا انکار کرتے ہو۔ کافروں کا جواب اور فرائض رسالت۔ (ف 1) شان نزول : نبی ﷺ سے مشرکین مکہ جو اخبار غیبیہ پوچھتے تھے کہ ہم سب کب تک زندہ رہیں گے اور ہر شخص کیا حال ہوگا لڑائیوں کے حالات ، بیماریوں کے حالات، قحط وفراخی کے حالات ، وغیرہ وغیرہ ، تب یہ آیت نازل ہوئی ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کا خدا نے میرے اور تمہارے ساتھ ارادہ کیا ہے وہ ضرور ہوکر رہیں گے مجھے اس سے کچھ سروکار نہیں میری تبلیغ کا آخری نتیجہ کیا ہونا ہے میرے ساتھ اللہ کیا معاملہ کرے گا ہاں ایک بات کہتا ہوں کہ میرا کام وحی الٰہی کا اتباع اور حکم خداوندی کا امتثال کرنا، اور کفر وعصیاں کے سخت خطرناک نتائج سے خوب کھول کر آگاہ کردینا ہے، میں فقط وہی جان جاسکتا ہوں جو وحی آتی ہے میرا خدا مجھ کو بتاتا ہے یعنی علم غیب بالذات اللہ تعالیٰ کو ہے وہ بذریعہ وحی وکشف اپنے رسولوں کو بتادیتا ہے۔
Ayah 46:10

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 46:10 in the Quran reader

تم2 فرماؤ کہ مجھ کو یہ بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل میں سے ایک گواہی دینے والا اس (قرآن کے حق ہونے) پر گواہی دے چکا ، پس وہ اس پر ایمان لایا اور تم نے سرکشی کی ، بیشک تم ظالم ہوئے، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔

(ف 2) اے محبوب ﷺ ان یہود سے کہہ دو کہ اگر یہ قرآن خدا ہی کے پاس سے ہے اور پھر تم نے اس کو نہ مانا کفر اختیار کیا حالانکہ بنی اسرائیل سے ایک گواہی دینے والے یعنی عبداللہ بن سلام ؓ نے اس کی تصدیق کی اور اس کی کتاب آسمانی ہونے کی گواہی دی اور آپ کی نبوت کی شہادت دی اور خوب غوروتامل کے بعد ایمان لائے ہیں اب کیا انکار ہے کہ اپنے جیسے ایک گواہی کی تصدیق وتائید کرچکے ہیں اور گمراہیوں پر گواہیاں گزرتی ہیں اور اس حالت پر بھی تم نے نہ مانا، اور ایمان لانے سے غرور اور تکبر کیا تو پھر تم سے بڑھ کرنا انصاف ونافہم کون ہوگا، جب ان دلائل کے قائم ہوئے بعد تم کفر کرتے ہو تو جب عذاب آئے گا تو کیا تم کرو گے خدا اپنے دین کی ہدایت ظالم قوم کو نہیں کرتا، اس مقدس کا مذہب کر ستہ نااہلوں کو نہیں دکھاتا۔
Ayahs 46:11–12

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِذْ لَمْ یَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَیَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِیْمٌ Open ayah 46:11 in the Quran reader

اور1 کافروں نے مسلمانوں کی نسبت یہ کہا : اگر یہ دین (اسلام) کچھ اچھا ہوتا تو یہ لوگ ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے (بلکہ اس سے پہلے ہم مسلمان ہوجاتے) اور جب ان لوگوں کو قرآن کے ذریعہ سے ہدایت نہ ہوئی تو اب (قرآن کی نسبت) یہ کہیں گے کہ یہ قدیمی جھوٹ ہے۔

وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ هٰذَا كِتٰبٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِیًّا لِّیُنْذِرَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۖۗ وَ بُشْرٰى لِلْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 46:12 in the Quran reader

اور اس (قرآن) سے پہلے موسیٰ کی کتاب (یعنی توریت) ہے جو (لوگوں کے لیے) پیشوا اور رحمت تھی اور یہ کتاب (یعنی قرآن پہلی کتابوں کی) تصدیق کرنے والی عربی زبان میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو ڈر سنائے اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنائے۔

(ف 1) شان نزول : یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں نازل ہوئی جو مسلمان سے یہ کہتے کہ اگر اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہم کو دنیا کی عزت دی ہے اسی طرح دین کی عزت سے بھی اللہ تعالیٰ ہم کو کبھی محروم نہ رکھتا، اور یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم مالدار لوگوں سے کبھی آگے قدم نہ بڑھاتے، وہی کافروں کا خیال اللہ نے ان آیتوں میں ذکرفرماکر فرمایا ہے کہ کافر کچھ عزت دار نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت اسی کی ہے جو اللہ کے نزدیک یہ لوگ کافر اور قابل سزا قرار پاچکے ہیں فقط دنیا کی عزت اور مالداری کے سبب سے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صاحب عزت نہیں قرار پاسکتے، آگے فرمایا کہ اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی تھی جس نے بنی اسرائیل میں دین کی راہ ڈالی اور اس راہ چلنے سے ان کو اللہ کی رحمت کے قابل ٹھہرایا۔ اسی طرح نافرمان لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈرانے اور فرمانبردار لوگوں کو اللہ کی رحمت خوش خبری سنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن خاص عربی فصیح زبان میں نازل فرمایا ہے۔
Ayahs 46:13–14

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ Open ayah 46:13 in the Quran reader

بیشک1 وہ جنہوں نے کہا : ہمارا پروردگار اللہ ہے ، پھر (اس پر) قائم رہے پس ان پر کچھ خوف نہیں اور نہ وہ (قیامت میں) غمگین ہوں گے۔

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 46:14 in the Quran reader

یہی لوگ اہل جنت ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے، اس کے بدلے میں جو وہ اعمال (دنیا میں) کرتے تھے۔

جنت و دوزخ والوں کا ذکر۔ (ف 1) اس آیت میں تمام علم اور عمل کا خلاصہ۔ اور اس کا نتیجہ بیان فرماتا ہے جن لوگوں نے اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کو دل سے مانا اور زبان سے اس کا اقرار کیا اور پھر اس اقرار کو سچا کرکے دکھانے کے لیے جن کاموں کے کرنے کا حکم تھا ان کو کرتے اور مناہی کے کاموں سے بچتے رہے، ان کو قیامت کے دن کی آفتوں کا کچھ خوف اور غم نہیں بلکہ بجائے غم کے ان کو یہ خوشی کرنی چاہیے کہ اس دن وہ اپنے نیک کاموں کے بدلہ میں جنت کے مالک بنادیے جائیں گے یہ بھی نہیں کہ پھر وہ نعمتیں لے لی جائیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ان کے مالک کردیے جائیں گے پھر وہاں جانے کے بعد کبھی تکلیفیں نہ دیکھیں گے اب ان کو سراسر عیش ہے وہ تکلیفیں ہزارہاں کوس گئیں جو انہوں نے دنیا میں اٹھائی تھیں اور جو نعمتیں دی جائیں گی جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں اور نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان نعمتوں کا خیال گزرسکتا ہے۔
Ayahs 46:15–16

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے2 انسان کو حکم دیا کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرے، اس کی ماں نے اسے تکلیف سے پیٹ میں رکھا اور تکلیف سے اسے جنا اور اس کا پیٹ میں رہنا اور اس کے دودھ چھڑانے کی اقل (قلیل ترین) مدت تیس مہینے1 ہیں، یہاں تک جب وہ اپنی جوانی پہنچا اور چالیس برس کا ہوا تو کہا اے پروردگار ! میرے مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہے اور میں وہ نیک عمل کروں جس سے تو خوش ہو اور میرے لیے اولاد میں صلاح رکھ، بیشک میں تیری طرف رجوع لایا اور بیشک میں مسلمان ہوں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم ان کے نیک عملوں کو قبول فرمائیں گے ان کی برائیوں سے درگزر فرمائیں گے (وہ لوگ) اہل جنت ہوں گے، اس سچے وعدہ کے موافق جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

ماں باپ کی تعظیم دین اور اسلام کا امتیازی پہلو۔ (ف 2) جس طرح ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ سے بھلائی کرنے کا ذکر فرمایا ہے اسی طرح اور کئی آیتوں میں یہی ذکر ہے کہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے کی حالت میں زندہ پایا اور ان کے ساتھ بھلائی کرکے اس کے اجر میں جنت نہ پائی تو وہ شخص بڑا بدنصیب ہے معتبر سند سے نسائی، ابن ماجہ اور مستدرک ، حاکم اور طبرانی میں ہے جس میں نبی نے فرمایا اولاد کے لیے جنت ماں باپ کے قدموں کے نیچے ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح اولاد کو ماں باپ کے قدموں کے نیچے کی پڑی ہوئی چیز آسانی سے مل سکتی ہے اسی طرح ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے اور ان کی دعا سے اولاد کو جنت ہاتھ لگ سکتی ہے ۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے اول وقت کی نماز کے ادا کرنے کے بعد ماں باپ کی خدمت کو ان عملوں میں سے بتلایا ہے جو عمل اللہ کو پسند ہیں ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ شریعت میں ماں باپ کی خدمت کا کس قدر اجر اور اس میں کتنی بڑی فضیلت ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا ہے اور ماں کا حق جتلانے کے لیے فرمایا ہے کہ بچہ کے پیٹ میں ہونے اور پیدا ہونے کے وقت ماں کو بڑی بڑی مشقت اٹھانی پڑتی ہے اور پیدا ہوکر دودھ پینا سب تیس مہینے میں تمام ہوتا ہے اس لیے بڑے ہونے کے بعد اولاد کو جس کا خیال ضروری ہے۔ فضائل صدیق اکبرؓ۔ (ف 1) شان نزول : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ مہاجرین اور انصار میں سے کوئی سوائے ان کے ایسا نہ تھا جس کے ماں باپ بھی مسلمان ہوں اور چھ ماں یہ اپنی ماں کے شکم میں رہے اور دو سال دودھ پیا اور اٹھارہ برس کی عمر سے نبی ﷺ کی خدمت میں رہے۔ اور نبی ﷺ کی عمر شریف اس وقت میں بیس سال کی تھی جب نبی کی عمر چالیس سال ہوئی اور اللہ نے حضور کو اپنی نبوت و رسالت کے ساتھ سرفراز فرمایا تو حضرت صدیق اکبر آپ پر ایمان لائے اس وقت حضرت صدیق کی عمر اڑتیس سال تھی جب حضرت صدیق اکبر کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ پروردگار میرے مجھ کو اس کی توفیق دے کہ میں تیری نعمتوں کا شکرا دا کروں کہ تو نے مجھے مشرف باسلام کیا اور میرے والدین کو بھی مشرف باسلام کیا اور مجھ کو انکی خدمت سے مشرف کیا اور اب آئندہ کو اعمال صالحہ کیا کروں، وہ کام مجھ سے سرزد ہوں جو تیری مرضی کے مطابق ہوں جن کو تو پسند اور مقبول کرے آپ کی یہ دعا بھی قبول ہوئی اور اللہ نے آپ کو حسن عمل کی وہ دولت عطا کی کہ تمام امت کے اعمال آپ کے ایک عمل کے برابر نہیں ہوسکتے ، آپ کی نیکوں میں سے ایک یہ ہے کہ نومومن جو ایمان کی وجہ سے سخت ایذاؤں اور تکلیفوں میں مبتلا تھے ان کو آپ نے آزاد کیا انہیں میں سے حضرت بلال ہیں اور آپ نے یہ دعا کی جیسے تو نے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اسلام دیا یونہی میری اولاد کو نیک بخت صالح بنا، یہ دعا بھی مستجاب ہوئی اللہ نے آپ کو اولاد میں صلاح رکھی، آپ کی تمام اولاد مومن ہے اور ان میں ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کا مرتبہ کس قدر بلندوبالا ہے کہ تمام عوتوں پر اللہ نے انہیں فضیلت دی ہے حضرت ابوبکر کے والدین بھی مسلمان اور آپ کے صاحبزادے اور آپ کی صاحبزادیاں اور آپ کے پوتے یہ سب مومن اور سب شرف صحابیت سے مشرف صحابہ ہیں۔ آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کو یہ فضیلت حاصل ہو کہ اس کے والدین بھی صحابی ہوں خود بھی صحابی ۔ چار پشتیں شرف صحابیت سے مشرف۔ ” اور اے میرے پروردگار ! میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور جن چیزوں میں تیری مرضی نہ ہو ان کو چھوڑتا ہوں اور تیرے سامنے گردن جھکاتا ہوں تیرے حکم سے گردن نہیں پھیر سکتا، فرمایا کہ جو ایسے لوگ ہیں سچے اسلام والے ہم ان کے اعمال صالحہ اچھی باتیں تو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں کو بخش دیتے ہیں درگذر کرتے ہیں وہ لوگ جنت والے ہیں یہ ان سے خدا کا یقینی سچا وعدہ ہے یہ سچا وعدہ جو دنیا میں نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے کیا جاتا ہے قیامت میں ملے گا اور اس دن کہا جائے گا کہ لویہ وہی وعدہ ہے ۔
Ayahs 46:17–18

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور1 وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ سے کہا : اف تم سے دل پک گیا کیا تم مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے (زندہ ہوکر) پھر نکالا جاؤں گا ، اور بیشک مجھ سے پہلے بہت سی امتیں گزر گئیں اور وہ دونوں (یعنی ماں باپ) اللہ سے فریاد کرتے ہیں (اور اس سے کہتے ہیں) کہ اے کمبخت ! مسلمان ہوجا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ پس کہتا ہے کہ یہ تو صرف اگلے لوگوں کے قصے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن پر (عذاب کا) وعدہ ثابت ہوگیا منجملہ ان امتوں کے جو ان سے پہلے جن اور آدمیوں سے گزر چکیں، بیشک وہ نقصان پانے والے تھے۔

(ف 1) پہلی آیت میں نیک بخت سعادت مند پاکباز مسلمان اولاد کا ذکر تھا اس آیت میں ناہنجار ناخلف بدکردار کافر اولاد کا ذکر ہے کہ بعض ایسے ناہنجار بھی ہیں کہ ماں باپ سے حشر کا ذکر سن کر بےزار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم پر افسوس ہے تم نرے بیوقوف ہو کیا تم جو قیامت کا ذکر کرتے ہو ہو تو مجھ سے اس کا وعدہ کرتے ہو کہ میں مرے بعد اٹھوں گا یہ تو نہ ہوگا، یہ کیونکر ہوسکتا ہے حالانکہ مجھ سے پہلے ہزاروں لاکھوں لوگوں گر وہیں گزرچکیں مر کر کوئی بھی نہ جیا تو پھر میں کیوں جیوں گا اور وہ دونوں ماں باپ اس کے حال پر افسوس کرتے ہیں خدا سے دعامانگتے ہیں فریاد کرتے ہیں اور اس کو سمجھاتے ہیں کہ اے کمبخت تجھ پر افسوس ہے تو مسلمان ہوجا رسول و قرآن کو مان خدا کا یقینی وعدہ ہے کہ قیامت ضرور ہوکر رہے گی وہ بیشک حق ہے تو اور ساراجہان مرے بعد سب اٹھیں گے تو وہ کہتا ہے کہ یہ بات جو رسول کہتے ہیں یہ تو اگلے زمانوں والوں کے بنائے قصے ہیں۔ ہمیشہ یونہی لوگ چلے آئے ہیں خیالات میں ان کا کیا اعتبار، تو ایسے لڑکے کافر ہیں جن پر عذاب کا بول ضرور ثابت ہوچکا وہ بھی ان ہی ہزاروں امتوں اور گروہوں میں شمار ہیں جو ان سے پہلے جن وانس میں کافر گذرچکے ہیں وہ سب دوزخ میں جائیں گے یہ بھی جائے گا یہ سب لوگ کافر خود ہی خائب و خاسر ہوئے خدا کا کیا بگاڑا، دنیا میں چند روزہ رہ کر ہمیشہ کا عذاب بھگتا۔
Ayahs 46:19–20

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لیے1 اپنے اپنے عمل کے (الگ الگ) درجے ہیں اور تاکہ اللہ ان کے اعمال کا بدلہ پورا دے اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن کہ کافر لوگ دوزخ پر پیش کیے جائیں گے (ان سے) کہا جاوے گا کہ تم اپنے حصہ کی نعمتیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں ضائع کرچکے اور ان (نعمتوں) سے فائدہ اٹھا چکے، پس آج تم کو ذلت کے عذاب کا بدلہ دیا جائے گا سزا اس کی کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے ، اور سزا اس کی کہ تم حکم عدولی (نافرمانی) کرتے تھے۔

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ نیک وبد ہر فرقے کے لیے جنت دوزخ میں درجے مقرر ہیں ہر شخص کو بروز قیامت خواہ مسلمان ہو خواہ کافر بحسب اعمال درجے اور مرتبے ملیں گے مسلمان کو درجات، جنت ، کافر کو درکا دوزخ کہ ان کے اعمال کو کم نہ کرے اور پورا پورا ہر شخص کو بدلہ ملے کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا کہ نیکی کا بدلہ گھٹا دیاجائے یابدی کی سزا بڑھادی جائے آگے فرمایا کہ اب تو یہ کافر لوگ دوبارہ زندہ ہونے اور اسزا جزا کو کہانیاں بتلاتے ہیں اور رسول و قرآن کو جھٹلاتے ہیں لیکن قیامت کے دن سزا کے طور پر دوزخ میں جھونکے جانے کے لیے جب ان کو دوزخ کے کنارہ پر ٹھہرایاجائے گا تو اس وقت ان کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ دنیا میں دوبارہ آنے اور نیک عمل کرنے کی کتنی بڑی آرزو ظاہر کریں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ تم کو دنیا میں جو عیش و عشرت راحت مال واولاد ملا تھا وہ سب تمہاری دنیوی بھلائیوں کا بدلہ تھا کہ تم وہیں پاچکے اور کھاچکے اور زندگی دنیا میں مزے لے چکے اور فائدہ اٹھاچکے، اس لیے کہ تم کو تو اس دن کا کچھ خیال ہی نہ تھا اس دن کے لیے کوئی کچھ کام کرتے ہی نہ تھے پس دنیا ہی کو مایہ ناز ضرورجانتے تھے اور اس کی دلوں میں تمنا کرتے تھے وہ تمنا وہیں پوری ہوگئی اب آج کے لیے کچھ بھلائی نہ رہی گناہ اور برائیاں باقی رہ گئیں پس آج تم کو سخت عذاب ان کے بدلہ میں دیاجائے گا اور اس کی سزا لے گی جو تم بےفائدہ ناحق بات دنیا میں غوروتکبر سے کیا کرتے تھے اور خدا کا کہا نہ مانتے تھے فسق وکفر معاصی بےدھڑک کرتے تھے۔
Ayahs 46:21–25

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور1 یاد کرو عاد کے ہم قوم (ہود) کو جب اس نے احقاف کی سرزمین پر اپنی قوم کو (عذاب الہی ) سے ڈرایا ۔ اور بیشک اس سے پہلے (پیغمبر) ڈر سنانے والے گزر چکے اور اس کے بعد بھی (پیغبر) آئے کہ اے لوگو ! تم خدا کے سوا کسی کو نہ پوجو بیشک مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : (اے ہود) کیا تم ہمارے پاس اس لے آئے ہو کہ ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر دو پس لے ل آؤ جس عذاب کا تم ہم سے وعدہ دیتے ہو اگر تم سچے ہو۔

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

ہود نے فرمایا : اس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچتا ہوں و لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہو۔

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پس جب ان لوگوں نے عذاب کو بصورت بادل آسمان کے کناروں میں پھیلا ہوا اپنے میدانوں کی طرف آتا دیکھا تو کہنے لگے : یہ بادل ہم پر برسے گا (ہود نے کہا : نہیں نہیں) بلکہ یہ تو وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی کرتے تھے ، یہ ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے ۔

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

وہ ہر چیز کو اپنے پروردگار کے حکم سے تباہ کر ڈالتی ہے ، چناچہ وہ ایسے ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا تھا، ہم مجرموں کو اس طرح سزا دیتے ہیں۔

قوم عاد کا بدانجام۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ اپنی قوم کو قوم عاد کا حال سناؤ اور کافروں کو سمجھاؤ کہ قوم عاد کا کیا حال ہوا، جب حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو احقاف پر کھڑا ہوکر عذاب الٰہی سے ڈرایا احقاف ریتلی جگہ کو کہتے ہیں ہود نے اپنی بت پرستی قوم کو یہی نصیحت کی کہ مجھ سے آگے بہت سے پیغمبر گذرچکے ہیں اور مجھ سے پیچھے اور جو پیغمبر آئیں گے سب کی نصیحت یہی ہے کہ سوائے اللہ کے اور کسی کو نہ پوجنا، اگر تم میری نصیحت کو نہ مانوگے تو مجھ کو خوف ہے کہ تم لوگوں پر کوئی سخت عذاب آجائے گا قوم کے سرکش لوگوں نے جواب دیا کہ ہود اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ، ہم نے اپنے بتوں کی پوجانہ چھوڑیں گے ہود (علیہ السلام) نے کہا فقط اللہ کا پیغام پہچانے والا ہوں عذاب کے آنے کا وقت تو اللہ کو معلوم ہے مگر یہ تم لوگوں کی نادانی ہے کہ اللہ کے عذاب کی جلدی کرتے ہو، اس کے بعد بادل کی صورت میں آندھی آئی جس نے ساری قوم کو پٹخ پٹخ کر ہلاک کردیا، آخرکو فرمایا کہ مجرموں کو اللہ تعالیٰ یونہی سزا دیتا ہے اس قوم کا قصہ سورة الاعراف سورة اور سورة الشعراء میں تفصیل سے گذرچکا ہے۔
Ayahs 46:26–28

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 46:26 in the Quran reader

اور1 بیشک ہم نے عاد کو (قوت و مال) میں وہ قدرت دی تھی جو (اے اہل مکہ) تم کو نہیں دی اور ہم نے ان کو کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے (تاکہ دین کے کام میں لائیں) پس ان کے کان اور آنکھیں اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انہیں گھیر لیا اس عذاب نے جس کی وہ ہنسی کرتے تھے۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 46:27 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں (مثل ثمود و عاد و قوم لوط وغیرہ) ہلاک کردیں اور طرح طرح سے نشانیاں لائے کہ وہ رجوع کریں۔

فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 46:28 in the Quran reader

پس کیوں نہ مدد کی ان کی ان لوگوں نے جن کو اللہ کے سوا قرب حاصل کرنے کو معبود ٹھہرا رکھا تھا، بلکہ وہ سب (نزول عذاب کے وقت) ان کی نظروں سے غائب ہوگئے ۔

سابقہ اقوام کی ہلاکت سامان عبرت۔ (ف 1) ان ایتوں میں یہی بات اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھائی ہے کہ قوم عاد کو اللہ نے جیسا صاحب مقدور کیا تھا وہ بات تم لوگوں کو حاصل نہیں ہے پھر تم کس بھروسہ پر غریب مسلمانوں سے مسخراپن کرتے ہو اور کلام الٰہی کو جھٹلاتے ہو کیا تم کو معلوم نہیں کہ تم سے زیادہ صاحب مقدور قوم کو ان ہی باتوں کے خمیازہ کے طور پر ایک دم میں اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا پھر فرمایا نصیحت کی باتیں سننے کے لیے کان قدرت کی نشانیوں کے دیکھنے کے لیے آنکھیں، اور اچھے کاموں کی طرف خیال دوڑانے کے لی دل یہ سب کچھ ان کو دیا گیا تھا مگر ان چیزوں سے ان لوگوں نے اللہ کی ناراضی کے کام کیے اس کے عذاب میں پکڑے گئے پھر فرمایا کہ کچھ قوم عاد کے قصے پر ہی عبرت منحصر نہیں ہے مکہ کے آس پاس ملک شام کے راستہ میں قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں بھی ان کو نظر آئی ہوں گی اور فرعون کا قصہ بھی انہوں نے سنا ہوگا اور یہ بھی سنا ہوگا کہ ان سب کو مہلتیں دے کر طرح طرح سے سمجھایا گیا کہ برے وقت پر تمہارے یہ بات کچھ کام نہیں آئیں گے ان بتوں کی پوجا سے بارگاہ الٰہی میں قربت کا ڈھونڈنا بالکل گھڑی ہوئی ایک بات ہے جس کا آسمان و زمین میں کہیں پتاوٹھکانہ نہیں لیکن جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو اچانک عذاب میں پکڑے گئے اور ان پتھر کی مورتوں کو خبر تک نہیں ہوئی کہ ان کی پوجا کرنے والوں پر کیا گذری۔
Ayahs 46:29–32

وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 46:29 in the Quran reader

اور ان کا (بتوں کا معبود بنانا) جھوٹ اور افترا ہے اور1 یاد کرو جبکہ ہم نے تمہاری طرف ایک جماعت جنوں میں سے متوجہ کی جو کان لگا قرآن سنتے تھے پس جب وہ پیغمبر کے پاس حاضر ہوئے تو آپس میں کہنے لگے : خاموش رہو ، پس جب قرآن پڑھا جاچکا تو اپنی قوم کی طرف ڈر سنانے کو واپس گئے۔

قَالُوْا یٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ یَهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 46:30 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے قوم ہماری ! بیشک ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اتاری گئی ہے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، سچے دین کی طرف راہ دکھاتی ہے اور سیدھی راہ چلاتی ہے ۔

یٰقَوْمَنَاۤ اَجِیْبُوْا دَاعِیَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 46:31 in the Quran reader

اے قوم ! اللہ کی طرف بلانے والے (محمد) کی بات مانو اور اس پر ایمان لاؤ تاکہ اللہ تمہارے گناہ بخش دے اور تم کو دردناک عذاب سے بچا لے۔

وَ مَنْ لَّا یُجِبْ دَاعِیَ اللّٰهِ فَلَیْسَ بِمُعْجِزٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَیْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءُ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 46:32 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا قبول نہ کرے پس وہ زمین میں (اللہ کو) عاجز کرنے والا نہیں اور اللہ کے سوا اس کا کوئی مددگار نہیں، یہ لوگ ہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں۔

جنوں کا ایمان لانا۔ (ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے محبوب اس وقت کو یاد کیجئے جب ہم نے آپ کی طرف جنوں کی ایک جماعت قرآن سننے کے لیے بھیجی ، جب آپ بطن نخلہ میں مکہ مکرمہ کو آتے ہوئے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر قرات پڑھ رہے تھے یہی قرآن ان جنات نے سنی اور پھر جاکر اپنی قوم سے قرآن کی تعریف کی اس پر بہت بڑا قافلہ جنات کا دین اسلام کی باتیں سیکھنے آیا اور جب وہ جنات اس جگہ پہنچ گئے جہاں آپ قرآن پڑھ رہے تھے تو اللہ نے ان کے دل میں قرآن کے سننے کا ایسا شوق پیدا کردیا وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش رہو یہ کلام اچھی طرح سننے دو ، اور جب وہ جنات قرآن کی نصیحت سن کر رسول اللہ پر ایمان لاکرحضور کے حکم سے اپنی قوم کی طرف ایمان کی دعوت دینے گئے اور انہیں ایمان نہ لانے اور رسول کریم کی مخالف سے ڈرایا اور کہا کہ اے قوم، ہم نے جاکر ایک ایسی سچی مقدس کتاب سنی جو حضرت موسیٰ کے بعد اتری یعنی قرآن محمد ﷺ پر اترا ہے وہ ان کتابوں کی جو اس سے پہلے اتری تھیں تصدیق کرتا ہے اور توحید میں اور نیز اخبارغیب میں اس کے مطابق ہے یعنی توریت میں جس کی پیش گوئی تھی اور جن نبی کا حال بیان تھا کہ وہ ایسے ایسے ہوں گے سو وہ قرآن ومحمد ﷺ وہی ہیں وہ سارے جہان کو مذہب حق کی ہدا کرتے ہیں اور خدا تک پہنچنے کا سیدھا عمدہ صاف رستہ بتاتے ہیں وہ دین سکھاتے ہیں جو خدا کو پسندیدہ ہے اے قوم کے لوگوں اللہ کے رسول کا کہنا مانو اور اللہ کے حکم کی فرمانبرداری کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے پچھلے گناہوں کو معاف کرکے تمہیں دوزخ کے عذاب سے بچاوے اور قوم کے لوگوں میں سے جو کوئی اس نصیحت کو نہ مانے گا تو وہ زمین بھر میں بھاگ کر اللہ کے عذاب کو نہیں ٹال سکتا، اور جو لوگ اپنے پیدا کرنے والے کو اپنا معبود نہیں جانتے وہ کھلم کھلا گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayahs 46:33–35

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ یَعْیَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰى١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 46:33 in the Quran reader

کیا1 انہوں نے نہیں دیکھا ؟ کہ وہ اللہ کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے میں نہیں تھکا، وہ اس پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کردے، ہاں (ضرور قادر ہے) بلکہ وہ یقینا ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 46:34 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جس دن کافر دوزخ پر پیش کیے جائیں گے کہا جائے گا : کیا یہ عذاب سچا وعدہ نہیں ہے، وہ کہیں گے کہ ہم کو اپنے پروردگار کی قسم ! درست ہے۔ حکم ہوگا پس اپنے کفر کے بدلے اس عذاب کا مزہ چکھو (جس کے تم دنیا میں مرتکب ہوئے تھے )

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠ Open ayah 46:35 in the Quran reader

پس (اے محبوب) تم صبر کرو جیسا کہ عالی ہمت والے پیغبروں نے اپنی قوموں کی ایذا پر صبر کیا تھا اور ان لوگوں (کے عذاب) کے لیے جلدی نہ کرو، وہ جس دن (عذاب آخرت کو) دیکھیں گے جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے ۔ تو (اس کی درازی کے سبب) ان کو ایسا معلوم ہوگا گویا (دنیا میں) ایک دن میں سے ایک گھڑی رہے تھے۔ یہ (قرآن) پیغام ہے، پس ہلاک تو وہی ہوں گے جو لوگ بدکار ہیں۔

قیامت ضرور آئے گی۔ (ف 1) حاصل ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کردیا تو اس کا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اسی اگر انسان سمجھے کہ بغیر کسی مصالح کے جس اللہ نے خلاف عقل اتنا بڑا آسمان بلاستون کے کھڑا کردیا اور اتنی بڑی زمین بنادی اور بغیر مادہ مسالہ کے پہلی دفعہ انسان کا مادہ اور مسالہ بھی پیدا کیا اور انسان کی خاک کا مادہ اور مسالہ موجود ہوتے ہوئے انسان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہے ۔ کیا ان کو عقل اتنے کام کی نہیں کہ اس عقل سے یہ لوگ اتنا سمجھ لیویں کہ جس کی قدرت کے آگے مشکل کام آسان ہے اس کو آسان کام کیا مشکل ہے آگے فرمایا کہ اب تو یہ سزا جزا کے منکر لوگ اپنے دنیا کے عیش و آرام کے نشہ میں دوزخ کے عذاب کو مسخراپن میں اڑاتے ہیں لیکن جب دوزخ کا عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اور ان لوگوں کو قائل کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ سچا عذاب ہے یامسخراپن ہے توقسمیں کھاکھا کر اس عذاب کو سچا بتلائیں گے جس کے جواب میں ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تم نے جو اس عذاب کو جھٹلایا تھا اس کی سزا میں اب اس عذاب کا مزہ چکھو، مشرکین مکہ میں سے سرکش لوگ جب اللہ کے رسول اور مسلمانوں کو زیادہ ستانے لگتے تھے تو اللہ کے رسول کے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ ان سرکشوں کی غیبت سے کوئی تنبیہ ہو تو شائد ان لوگوں کی سرکشی کچھ کم ہوجائے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی فرمائی اور فرمایا : اے محبوب ﷺ ان کافروں کے ستانے پر ایساصبر کیجئے جیسا اولوالعزم رسول صبر کرتے تھے یعنی بڑے عالی قدر رسول حضرت نوح اور ابراہم موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کیجئے کیونکہ عذاب ان پر ضرور نازل ہونے والا ہے اور جس ہمیشہ کے عذاب کا ان سرکشوں سے وعدہ ہے جب وہ عذاب اپنی آنکھوں کے سامنے پائیں گے تو اس کے سامنے اس سرکشی کے جینے کو یہ لوگ گھڑی دوگھری کا جینا سمجھیں گے اے محبوب ﷺ یہ پیغام جس کو پہنچا دینا چاہیے اور جو لوگ اس نصیحت سے راہ راست پر نہ آئیں گے تو دونوں جہان میں اپنی سرکشی اور نافرمانی کا خمیازہ اٹھائیں گے۔