45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsمظہر القرآن

Ayah 45:1
Ayahs 45:2–7

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

کتاب1 (یعنی قرآن) کا اتارنا خدائے غالب حکمت والے کی طرف سے ہے ۔

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمانداروں کے لیے (ہماری قدرت کی) نشانیاں ہیں۔

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

اور اسی طرح تمہاری پیدائش میں اور جانوروں کی پیدائش میں جس کو پھیلا رکھا ہے، یقین لانے والوں کے لیے (ہماری قدرت کی) نشانیاں ہیں۔

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور (اسی طرح) رات اور دن کی تبدیلیوں میں اور اس میں کہ اللہ نے آسمان سے روزی کا سبب مینہ اتارا تو اس (بارش) سے زمین کو زندہ (یعنی سرسبز) کیا اس کے مرے (یعنی خشک) ہوئے پیچھے، اور (اسی طرح) ہواؤں کے بدلنے میں عقلمندوں کے لیے (ہماری قدرت کی ) نشانیاں ہیں۔

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ جو ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پس اللہ (کی نصیحت) اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کون سی (دوسری) بات پر ایمان لائیں گے۔

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

ہر جھوٹے گناہگار کی خرابی ہے ۔

(ف 1) مشرکین یہ جو کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے محمد ﷺ اپنی طرف سے روز قرآن کی آیتیں بنالیتے ہیں اور ان کو اللہ کا کلام بتلاتے ہیں اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہیے قرآن سے پہلے جو اللہ کا کلام اور انبیاء پر اترا، اور ان انبیاء کی امتوں نے اس کو نہیں مانا، تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے ایسے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا، اگر یہ حال کے لوگ بھی قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے پر اڑے رہیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔
Ayahs 45:8–13

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

اللہ کی وہ آیتیں سنتا ہے1 جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں پھر وہ تکبر کرتا ہوا (اپنے کفر پر) قائم رہتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں پس اس کو دردناک عذاب کی خوشخبری دو ۔

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی چیز پر اطلاع پاتا ہے تو اس کی ہنسی بناتا ہے، ایسے لوگوں کے لیے (آخرت میں) ذلت کا عذاب ہے۔

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

ان کے پیچھے (یعنی بعد موت) جہنم ہے، اور جو کچھ (مال وغیرہ) انہوں نے (دنیا میں) کمایا تھا ان کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ وہ (بت) کام آئیں گے کہ جن کو اللہ کے سوا حمایتی بنا رکھے تھے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

یہ قرآن ہدایت ہے اور جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے دردناک عذاب میں سے سخت سزا ہے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے سب میں دریا کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور اس لیے کہ اس کے فضل سے روزی تلاش کرو اور اس لیے کہ تم شکر کرو۔

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

اور اس نے آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کو اپنے حکم سے تمہارے لیے کام میں لگائے، بیشک اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

(ف 1) فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کا کلام جو ان کے سامنے پڑھاجاتا ہے اور اللہ کے کلام میں جو قدرت کی نشانیاں ہیں وہ سب سن کر مکڑائیاں کرتے ہیں اور اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو مسخراپن اور جھوٹی باتوں میں اڑاتے ہیں لیکن عقبی میں ان مکڑائیاں کا بہت خمیازہ بھگتنا ہوگا انکو اور انہوں نے دنیا میں جو مال واولاد وعزت و حشمت جمع کیا ہے اور جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں کوئی چیز ان کے کام نہیں آئے گی اور کوئی یہ چیز ان کو دوزخ کے عذاب سے نہ چھڑائے گی ان کو وہاں سخت عذاب ہوگا پھر فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسو کا کام نصیحت کرنا ہے جو کوئی اس نصیحت کو مان کر کچھ نیکی کرے گا اپنا بھلا کرے گا اور جو کوئی اللہ اور اللہ کے رسول کی نصیحت کو نہ سنے گا اور برائی میں اپنی عمر گنوائے گا اور اپنے رب کی آیتوں کا اور رسول اللہ اور قرآن کا انکار کرے گا تو ان کو سخت ذلت رساں عذاب پہنچے گا آگے فرمایا کہ اللہ کی وہ ذات ہے کہ اس نے اے لوگو تمہارے واسطے دریا کو بس میں کیا، اس میں کشتیاں خدا کے حکم وقدرت سے چلیں تاکہ تم شہروں شہروں جاکر خدا کا رزق تلاش کرو اور اس کا فضل ڈھونڈو اور اس کا شکر ادا کرو اس نے تمہارے لیے وہ چیزیں کام میں لگارکھی ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور آفتاب ماہتاب وغیرہ اور جو زمین میں ہیں درخت پتھر جانور دریا وغیرہ، اس بات میں خدا کی قدرت عجیب عجیب نشانیاں اور عبرتیں ان کے لیے ہیں جو خدا کی مخلوقات میں نظر دوڑاتے ہیں اور تفکر کرتے ہیں۔ اے محبوب ﷺ مسلمانوں سے کہہ دو کہ جو کافر ہیں خدا کے عذاب سے نہیں ڈرتے اور اس کی عام عادتوں سے کہ دم میں کیا سے کیا کردیتا ہے خوف نہیں کھاتے اور ان سے درگزر کریں اور ابھی بدلہ نہ لیں ہو ظلم بھی کریں تو یہ جواب نہ دیں تاکہ خدا ہر شخص کو اس کے کام کا بدلہ دے تم جو صبر کرو تو اس کا ثواب تم کو اور وہ جو ظلم کریں تو اس کا عذاب ان کودے، (یہ حکم قبل ہجرت اور وجوب جہاد تھا) جو اچھے کام کرے گا یمان خالص لاکر اعمال صالحہ کرے گا تو اپنے لیے خود ثواب پائے گا اور جو بدکاری کرے گا اور کفر وشرک کرے گا تو اپنا نقصان کرے گا سزاپائے گا تم سب کے سب مرنے کے بعد اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کرجاؤ گے اور اپنا اپنا کیا بھگتو گے۔
Ayahs 45:14–15

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

مسلمانوں سے کہہ1 دو کہ جو لوگ اللہ کے (وعدہ دیئے ہوئے) دنوں کی امید نہیں رکھتے (یعنی کافر) ان سے درگزر کریں تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کی کہانی کا بدلہ دے۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

جو کوئی نیک کام کرے پس اس کا نفع اس کے لیے ہے اور جو کوئی برا کام کرے پس اس کا وبال اسی پر ہے، پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

عجائبات قدرت۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں کا ذکر فرمایا ہے ، مثلا آسمان و زمین کا پیدا کرنا، آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا، زمین میں انسان جن، چرند، پرند، طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا، دنیا کے کاروبار کے لی دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کے لیے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا، آسمان سے مینہ کا برسانا، جس سے ہر طرح کے اناج، ہر طرح کے میوؤں ، ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا، ہر طرح کی ہوا کا چلانا کبھی پروا کبھی پچھوا، غرض ان ہواؤں کی تاثیر سے مینہ کے وقت مینہ برستا ہے اور بڑھنے کے وقت اناج کا درخت بڑھتا ہے اور پھل پکتا ہے اور سوکھنے کے وقت اناج سوکتا ہے پھر فرمایا کہ اللہ کے کلام میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں باوجود ان نشانیوں کے دیکھنے کے جو یہ مشرک لوگ بتوں کو اپنا معبود بنائے جاتے ہیں او اللہ کے معبود ہونے پر ایمان نہیں لاتے تو پھر آخر اللہ کی قدرت کی کون سی نشانی دیکھ کر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔
Ayahs 45:16–20

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

اور2 بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (یعنی توریت) اور دانشمندی اور نبوت دی، اور ہم نے ان کو اچھی نعمتوں میں سے روزی دی اور انہیں ان کے زمانہ والوں پر فضیلت بخشی۔

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دین کے بارے میں (یعنی حلال و حرام میں فرق کرنے والی) روشن دلیلیں دیں، پس انہوں نے اختلاف نہ کیا مگر بعد اس کے کہ علم ان کے پاس آچکا، آپس کے حسد سے، بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جن باتوں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہیں دین کے روشن راستے پر قائم کیا، پس اسی راہ پر چلو اور نادانوں کی خواہشوں کا ساتھ نہ دو ۔

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

بیشک وہ اللہ کے مقابل تمہیں کچھ کام نہ دیں گے، اور بیشک ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست (صرف دنیا میں) ہیں، اور اللہ (دونوں جہاں میں) متقیوں کا دوست ہے۔

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کی آنکھیں کھولنے والا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہے ہدایت اور بڑی رحمت۔

(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تورات، نبوت اور تورات، کے موافق فیصلے کرنے کے لیے دانش مندی دی اوانکو اچھی پاک نعمتیں غیب سے کھانے کو اتاریں حلال کشائش کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے اموال ودیار کا مالک کرکے اور من سلوی نازل فرما کر ان کو اس زمانہ میں سب جہانوں سے افضل کردیا، سب کا سردار بنادیا ان کو حلال و حرام اور امر ونواہی سکھائے کھلے کھلے صاف دلائل اتارے اور ان کی کتابوں میں محمد ﷺ کا صاف صاف بیان کردیا جب وہ آئے تو ان کو کچھ شک نہیں رہا سب کو یقین تھا کہ سلام ہی سچا مقدس مذہب ہے مگر وہ غرور اور حسد میں گرفتار ہوکراختلاف کرنے لگے، اور دیدہ دانستہ جان بوجھ کر بعد ہر طرح کے علم ویقین واتمام حجت کے عنادا کافر رہے، اے محبوب ﷺ تمہارا رب ان سب مذہبوں میں بروز قیامت فیصلہ کردے گا اور جو اختلاف تھے ان کو اٹھا دے گا جب بنی اسرائیل کا زمانہ گزر گیا تو اے محبوب ﷺ ہم نے تم کو رسول بناکر بھیجا اور مضبوط شریعت ، سچاراستہ سیدھا طریقہ اپنی اطاعت کا تم کو بیان کیا، اب تم اس کا اتباع کرو اس پر خود بھی قائم رہو اوروں کو بھی ہدایت کرو اور روسائے قریش کی جو اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں کہا نہ مانو ان سے بےزار ہو جو خدا کو نہیں جانتے، اور اس کی توحید کو نہیں مانتے، اگر تم ان کا کہا مانو گے تو تمہیں کیا فائدہ ملے گا، ظالم کافر تم سے کیونکر ملیں گے کیونکر تم سے محبت ملاپ اختیار کریں گے وہ تو کافر کافر آپس ہی میں دوست یارمددگار آشنا ہیں، یہ صرف دوستی دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کا کوئی دوست نہیں سچے مسلمان ، پرہیزگاروں شرک وکفر سے بچنے والوں کا تو اللہ دونوں جہان میں ناصر مدگار کفیل کار ہے پھر ان کو کس کی پروا ہے ، یہ قرآن عجیب نور ہے روشنی ہے یا پاکیزہ بیان ہے مضبوط دلیلیں ہیں تمام جہان کے آدمیوں کے لیے گمراہی سے بچانے والا رحمت ہے، عذاب سے نجات ہے ان کے لیے جو اللہ پر اور رسول اللہ پر یقین لاتے ہیں۔
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

کیا جنہوں نے1 برائیوں کا ارتکاب کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان جیسا کردیں گے ؟ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان (یعنی ایمان داروں اور کافروں) کی زندگی اور موت برابر ہوجائے ؟ کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں۔

قیامت کے دوبارہ زندہ پیدا ہونے کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ کی ایک جماعت نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر تمہاری بات حق ہو اور مرنے کے بعد اٹھنا ہو تم بھی ہم ہی افضل رہیں گے جیسا کہ دنیا میں ہم تم سے بہتر رہے، ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی فرمایا کہ ایمانداروں اور کافروں کی موت وحیات برابر ہوجائے ایساہرگز نہیں ہوگا، کیونکہ ایماندار زندگی میں اطاعت پر قائم رہے اور کافر بدیوں میں ڈوبے رہے تو ان دونوں کی زندگی برابر نہ ہوئی ایس ہی موت بھی یکساں نہیں ہے کہ مومن کی موت بشارت، رحمت و کرامت پر ہوتی ہے اور کافر کی رحمت سے مایوسی اور ندامت پر ہے غرض مسلمان کی حالت ہر حال میں ان سے اچھی رہے گی یہ کیا براحکم کرتے ہیں اور خلاف حق و انصاف رائے لگاتے ہیں شرک و توحید برابر کیے دیتے ہیں۔
Ayahs 45:22–29

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

اور2 اللہ نے آسمانوں اور زمین کو درست تدبیر کے ساتھ پیدا کیا اور اس لیے کہ ہر جان اپنے کیے کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

بھلا تم نے اس کو دیکھا جس نے اپنی خواہش (نفسانی) کو اپنا خدا ٹھہرا لیا اور باوجود سمجھ بوجھ کے (گمراہ ہورہا ہے تو) اللہ نے (بھی) اس کو گمراہ کیا اور خدا نے اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی اور اسکی آنکھوں پر پردہ ڈالا، پس اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے ؟

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

اور (کافر) کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیاوی حیات کے اور کوئی حیات نہیں ہے، ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور زمانہ (کی گردش) ہی ہے، موت آتی ہے اور انہیں اس کا علم نہیں وہ تو محض گمان دوڑاتے ہیں۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو بس ان کی حجت یہی ہوتی ہے کہ کہتے ہیں ہمارے باپ دادا کو (زندہ کرے) لے آؤ اگر تم سچے ہو۔

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

تم فرماؤ اللہ ہی تم کو زندہ کرتا ہے، پھر وہی تم کو موت دے گا پھر وہی تم کو قیامت کے دن (زندہ کرکے) جمع کرے گا، جس میں کچھ شک نہیں و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ کے ہی لیے ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن اہل باطل نقصان اٹھائیں گے۔

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور تم اس دن ہر فرقے کو زانو کے بل گرے ہوئے دیکھو گے، ہر گروہ اپنے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا اور ہم کہیں گے کہ آج تمہیں اس کے موافق بدلہ دیا جائے گا جو تم (دنیا میں) کرتے تھے۔

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

یہ ہمارا نوشتہ تم پر سچائی سے اظہار حقیقت کرتا ہے، بیشک ہم لکھتے تھے جو تم (دنیا میں) کرتے تھے۔

(ف 2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو انصاف وعدالت سے حق طور پر بنایا، اور دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخرعمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلیوے پھر اس طرح ہر شخص کی عمر آخر ہوتے ہوتے جب دنیا ختم ہوجائے تو تمام دنیا کی نیکی وبدی کی جزا وسزا کا فیصلہ ایک دن کردیاجائے۔ اور اس دن رتی رتی ذرہ حساب ہوگا، اور یہ فیصلہ اس طرح انصاف سے ہوگا کہ اس میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے آگے فرمایا اے محبوب ﷺ ان مشرکوں کی بےٹھکانے کی باتوں کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کو دین ٹھہرایا ہے ان کو تو یہ لوگ جانتے نہیں اس لیے ان کی ہر بات بےسند اور دل کی خواہش پر ہے انہوں نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا خدا بنالیا ہے کہ جس بات کا ان کو دل چاہتا ہے اس کو یہ اپنا دین ٹھہرالیتے ہیں جس بات کی پوجا کو ان کا دل چاہتا ہے اس کی پوجا کرنے لگتے ہیں اسی واسطے ان کے ہر ایک قبیلہ کے بت الگ الگ ہیں پھر فرمایا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم میں گمراہ ٹھہرچکے ہیں وہ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم کے موافق نیک بات کے سننے سے ان کے کانوں پر اور سمجھنے سے دل پر مہر لگی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کے دیکھنے سے ان کی آنکھوں پر پردہ ہوا ہے سو اللہ تعالیٰ کے کوئی ان کو راہ راست پر نہیں لاسکتا اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو گمراہی کی حالت پر چھوڑ رکھا ہے مجبور کرکے کسی کو راہ راست پر لانا، اللہ تعالیٰ کے انتظام کے برخلاف ہے اس لیے کہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کیا ہے کسی کو مجبور کرکے راہ راست پر لانے کے لیے نہیں پیدا کیا، آگے مشرکین کی اک اور نادانی کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کے قائل نہیں کہتے ہیں کہ فقط دنیا ہی دنیا ہے یہیں کی زندگی ہے بس اس کے بعد اور کچھ نہیں یوں ہی زندگی موت ہوتی چلی آتی ہے باپ دادا مرے ، بیٹے پوتے زندہ، یکے بعد دیگرے یونہی چلے جائیں گے زمانہ کی گردش ، رات دن کا گزرنا ، مہینے برس کی روش ہم کو فنا کردے گی فرمایا کہ یہ فقط ان لوگوں کی اٹکل ہے کوئی سند اس بات کی ان کے پاس نہیں ہے یہ نہیں سمجھتے کہ جزاوسزا کے لیے دوبارہ زندہ کیا جانا نہ ہو تو دنیا کا پیدا ہونا بےکارٹھہرتا ہے جو اللہ کی شان سے بہت بعید ہے۔ آگے ایک اور نادانی مشرکین کی بیان فرمائی کہ جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں جو روشن دلائل ہیں اور امرونواہی حلال و حرام کا بیان ہے اور قیامت کا ذکر تو یہ کوئی دلیل اور حجت سوائے اس کے نہیں لاتے کہ اگر تم سچے ہو تو قیامت آنے والی اور ہم مرے بعد پھر اٹھیں گے تو ہمارے باپ دادوں کو ہمارے سامنے زندہ کرکے لاؤ، ہم ان سے مرے پیچھے کا حال پوچھیں اور دریافت کریں گے یہ سچے ہیں یا نہیں فرمایا کہ ان کافروں سے کہہ دو کہ تم مرے پیچھے جینے کا انکار کرتے ہو تو دنیا میں کیے جاؤ گے مرنے کے ساتھ ہی قبر میں پہنچ کریقین کرلوگے فرمایا کہ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ جس نے ایک دفعہ پیدا کیا اسی کو وقت مقررہ پر دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے اگر یہ لوگ سمجھیں تو حشر کا کچھ مشکل نہیں ، پھر فرمایا جب آسمان و زمین کی سب مخلوقات پر اللہ کا حکم جاری ہے تو اس طرح کی عاجز چیزوں میں سے کسی چیز کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا جاسکتا، اس واسطے جو لوگ بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ قیامت کے دن جھوٹے قرار پاکر بڑی خرابی میں پڑجاویں گے پھر فرمایا اے محبوب اب تو یہ لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں مگر قیامت کے ہول سے پریشا ہوکرجب یہ لوگ حساب کے وقت سرجھکا کے گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گے تو وہ حالت ان لوگوں کی دیکھنے کے قابل ہوگی اور ہر گرد اپنے نامہ اعمال دینے کے لیے بلایاجائے گا نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر شخص کو بلایا جائے اور دائیں اور بائیں ہاتھ میں ہر ایک کے عمل کے موافق ہر ایک کانامہ اعمال دیاجائے گا جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیاجائے گا اس کا چہرہ نورانی ہوجائے گا اور جس کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیاجائے گا اس کے چہرہ پر سیاہی چھاجائے گی اور کہا جائے گا کہ آج تم سب کو تمہارے دنیوی کاموں کی سزا وجزا ملے گی ، اگر تم انکار کرو گے تو فائدہ نہ دے گا اس لیے کہ نامہ اعمال مع گواہوں کے موجود ہے دیکھو یہ کتاب ہماری تم پر برابر سچی گواہی دے رہی ہے ایک بات بھی تو دروغ نہیں تم جانتے تھے کہ کون دیکھتا ہے کہ حالانکہ ہم تمہاری ہر بات جو تم کرتے یا کہتے تھے برابر لکھتے جاتے تھے۔
Ayahs 45:30–33

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

پس1 جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو ان کو ان کا پروردگار اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یہی کھلی کامیابی ہے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہوئے ان سے ہم کہیں گے : کیا میری آیتیں تمہارے سامنے نہیں پڑھی جاتی تھیں ؟ پس تم نے (ان کو سن کر) تکبر کیا اور تم گنہگار لوگ تھے۔

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جب (تم سے) کہا جاتا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ؟ ہم تو اس کو ضیعف سا احتمال خیال کرتے ہیں ار ہم کو (قیامت کے آنے کا) یقین تھا۔

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور کفار پر (آخرت میں ) ان کے اعمالوں کی برائیاں ظاہر ہوئیں اور انہیں گھیر لیا اس عذاب نے جس سے وہ مسخرا پن کرتے تھے۔

قیامت کا انجام۔ (ف 1) اوپر جزا وسزا کا ذکر فرماکران آیتوں میں اس کے نتیجہ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے فرمانبرداری سے دنیا میں عمر گذاری اور رسول اللہ اور قرآن پر ایمان لائے ان کے لیے جنت ہے اور یہی بڑی کامیابی مراد ہے کیونکہ اسی مراد کے لیے وہ لوگ دنیا میں نیک کام کرتے تھے اور منکر قرآن لوگوں سے جھڑکی کے طور پر یہ پوچھا جائے گا کہ جب قرآن کی آیتیں تم کو سنائی جاتی تھیں تو سرکشی سے تم ان کو جھٹلانے کے مجرم ٹھہرتے تھے اور کہتے تھے کہ قیامت کے دن جزاوسزا کا تو ہم کو یقین نہیں آتا، اور جزا وسزا کی باتوں کو مسخرا پن میں اڑاتے تھے آج تمہاری وہی مسخراپن تمہارے سامنے آیا اور اللہ نے تمہارا ٹھکانہ دوزخ قرار دیا۔
Ayah 45:34

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور1 فرمایا جائے گا آج ہم تمہیں (عذاب دوزخ میں) چھوڑ دیں گے جیسا کہ تم نے اپنے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔

ایمان نہ لانے اور یاد خداوندی سے غفلت کا ہولناک انجام۔ (ف 1) صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر طرح کی راحت دے ہے اور وہ لوگ دنیا کے عیش میں آخرت کو بھولے ہوئے ہیں اور ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ اپنے سامنے کھڑا کرکے پوچھے گا کہ اے شخص کیا تجھ کو میں نے ہر طرح کی عزت و راحت سے دنیا میں نہیں رکھا، وہ شخص کہے گا کہ ہاں پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تجھ کو کبھی یہ خیال بھی آیا تھا کہ ایک روز تجھ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوناپڑے گا، وہ کہے گا کہ نہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس طرح تو نے دنیا میں میری بندگی اور فرمانبرداری کو بھلادیا اور اسی طرح آج میں نے تجھ کو اپنی نظر رحمت سے بھلادیا اور یوں نہیں اب ہم تجھ کو دوزخ میں ڈال کر بھول جاتے ہیں کبھی تجھ کو نکالنے کا خیال بھی نہ آئے گا اور دوزخ تیرا ہمیشہ کے لیے ٹھکانہ اب تیری کوئی مدد کرنے والا نہیں کوئی عذاب سے بچانے والا نہیں۔
Ayahs 45:35–37

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

یہ عذاب اس1 سبب سے ہے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنا لیا تھا اور تم کو دنیاوی زندگی نے فریفتہ کر رکھا تھا۔ پس آج نہ وہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے خدا کی رضا مندی طلب کی جائے گی جس سے ان کی توبہ قبول ہو۔

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

پس اللہ ہی کے لیے سب خوبیاں ہیں جو پروردگار آسمانوں کا ہے اور پروردگار زمین کا ہے، (وہ) پروردگار سارے جہان کا ہے۔

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

اور اسی کی آسمانوں میں اور زمین میں بڑائی ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے۔

(ف 1) دوزخیوں پر جب طرح طرح کا عذاب ہوگا تو ان کو قائل کرنے کے لیے یہ کہا جائے گا یہ عذاب اس لیے کہ تم نے اللہ کے کلام کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑایا تھا، اور دنیا کی زندگی پر مغرور ہوکر آج کے دن کو بھول گئے تھے اس لیے اب اس عذاب کسی طرح تم چھوٹ نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ عذرسناجائے گا، آخر کو فرمایا جب آسمان اور زمین اور تمام جہان کا مالک اللہ ہے تو اس کے بندوں کو اس کی تعظیم اور تعریف لازم ہے پھر فرمایا جو کوئی اس حکم کے برخلاف عمل کرے گا، تو اللہ نافرمان لوگوں پر بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس کے بدلہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا اور وہ صاحب حکمت ایسا ہے کہ اس کی حکمت کے آگے بڑے بڑے بادشاہوں کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی، اس کی عظمت کا ہرجگہ نشان موجود ہے وہ سب سے اعظم واعلی ہے وہ عزت والا ہے غلبہ والا ہے اپنے ملک مین تصرف جیسا چاہے فرمانے والا ہے حکیم ہے اپنے حکم میں قضاوقدر میں بڑی حکمت والا ہے۔