44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsمظہر القرآن

Ayah 44:1
Ayah 44:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے اس روشن کتاب (یعنی قرآن کی۔

Ayah 44:3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس کتاب کو ایک مبارک رات میں اتارا، بیشک ہم ڈرانے والے ہیں۔

Ayahs 44:4–6

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس1 مبارک رات میں ہر حکمت والا کام

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہمارے پاس کے حکم سے بانٹ دیا جاتا ہے۔ بیشک ہم (پیغمبروں کو) بھیجنے والے ہیں۔

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

(یہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے بیشک وہ سننے و الا، جاننے والا ہے ۔

(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی قسم کھاکرفرماتا ہے کہ یہ قرآن حلال و حرام وغیرہ احکام کا بیان فرمانے والا ہے ، اور یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پہلے شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف اتارا پھر وہاں سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوئے، اس شب کو شب مبارکہ اس لیے فرمایا گیا کہ اس میں قرآن پاک نازل ہوا، اور ہمیشہ اس شب میں خیروبرکت نازل ہوتی ہے دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور اس مبارک رات میں ہر امر جو تقدیر میں ہوچکا ہوتا ہے الگ کرلیاجاتا ہے یعنی ایک سال کے حساب کتاب کا دفتر الگ بن جاتا ہے ، حضرت جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، عزرائیل وغیرہ فرشتوں کو ان کے سب کام جن پر وہ مقرر ہیں ایک سال کے سپرد ہوجاتے ہیں مثلا موت ، رزق، بارش ، پیدائش وغیرہ۔ یہ ہمارا حکم ہے کہ ہر سال جاری رہتا ہے پھر فرمایا لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اور وہاں سے زمین پر یہ قرآن اس لیے نازل کیا گیا کہ انجان کا عذر رفع کردینے کے لیے ہر زمانہ میں آسمانی احکام دے کر رسولوں کا بھیجنا عادت الٰہی میں داخل ہے اس واسطے اس نے اپنی رحمت سے اپنے رسول خاتم الانبیاء کو بھیجا ہے اب آگے فرمایا یہ منکر قران لوگ جو باتیں قرآن کی آیتوں کے باب میں کہتے ہیں وہ سب اللہ سنتا ہے اور قرآن کی نصیحت کے موافق نیک لوگ جو عمل کرتے ہیں ان سب عملوں کو وہ جانتا ہے سزاوجزا کے وقت اس کا نتیجہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔
Ayahs 44:7–16

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

وہ جو1 پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور انکا جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم کو یقین ہو۔

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جلاتا ہے اور وہ مارتا ہے تمہارا پروردگار اور تمہارے اگلے باپ دادا کا پروردگار ہے۔

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

بلکہ کافر لوگ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں۔

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

پس تم اس دن کا انتظار کرو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا۔

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو ان سب لوگوں کو گھیر لے گا یہ ایک دردناک عذاب ہے ۔

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اس دن کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! ہم سے عذاب دور کردے، بیشک ہم مسلمان ہوتے ہیں (اور تیرے ہی نبی کی تصدیق کرتے ہیں)

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

ان کو نصیحت ماننا کہاں سے (نصیب) ہو ؟ حالانکہ یقینا ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا پیغمبر آچکا۔

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر وہ اس سے پھرگئے اور کہنے لگے کہ (کسی دوسرے آدمی کا) سکھایا ہوا ہے دیوانہ ہے ۔

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

بیشک ہم کچھ دنوں کے لیے عذاب کو دور کرنے والے ہیں مگر پھر اپنی اسی حالت کفر پر آجاؤ گے۔

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

(وہ دن یاد کرو) جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ میں پکڑیں گے، بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں۔

علامات قیامت۔ (ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی پیشی نہیں ہوگی، اسی لیے نصیحت کی باتوں کو ہنسی کھیل میں اڑادیتے ہیں اب آگے فرمایا اگر یہ لوگ اسی حال میں رہیں تو تم کو اس دھوئیں کے عذاب کا انتظار کرنا چاہیے جو آسمان پرچھاجائے گا اور لوگوں کو گھیرلیوے گا وہ سخت دردساں عذاب ہوگا، چناچہ قریش پر قحط سالی آئی اور یہاں تک اس کی شدت ہوئی کہ وہ لوگ مردار کھاگئے۔ اور بھوک سے اس حال کو پہنچے کہ جب اوپر کو نظر اٹھاتے آسمان کی طرف دکھتے تو ان کو دھواں ہی دھواں معلوم ہوتا، یعنی ضعف سے نگاہوں میں خیرگی آئی اور قحط سے زمین خشک ہوگئی خاک اڑنے لگی غبارنے ہوا کو مکدر کردیا۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی کیا گیا ہے کہ دھوئیں سے مراد دھواں ہے جو علامت قیامت میں سے ہے، اور قرب قیامت ظاہر ہوگا مشرق ومغرب اس سے بھرجائیں گے، چالیس روز وشب رہے گا مومن کی حالت تو اس سے ایسی ہوجائے گی کہ جیسے زکام ہوجائے اور کافر مدہوش ہوں گے ان کے نتھنوں اور کانوں اور بدن کے سوراخوں سے دھواں نکلے گا، اس وقت یہ لوگ التجاکریں گے اور رورو کردعائیں کریں گے کہ پروردگار تو عذاب دفع فرما، مشکل آسان کر، ہم تجھ پر اور تیرے رسول ، قرآن پر ایمان لائیں گے مگر یہ ان کا فقط قول ہی ہوگا، انکی قسمت میں ایمان کہاں، ان کو توبہ کہاں نصیب ، وہ نصیحت بعد رفع عذاب بھی نہ مانیں گے حالانکہ ان کے پاس محمد جیسے رسول آئے جو ان کو سمجھاتے معجزے دکھاتے پھر بھی انہوں نے انکو نہ مانا، منہ پھیرا اور کہا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے خود تو محمد ﷺ امی ہیں کون شخص انکویہ باتیں سکھاجاتا ہے اور یہ مجنون ہیں پھر فرمایا یہ لوگ اپنی بات پر قائم نہیں، اللہ تعالیٰ انکو کچھ دنوں عذاب ٹال دیتا ہے تو یہ لوگ جس کفر میں تھے اسی کی طرف لوٹی گے اور یہ ان لوگوں کی درمیانی مصیبتیں ہیں جو ٹل جاتی ہیں ان کے بداعمالوں کی پوری سزا کے طور پر جب ان لوگوں کی سخت گرفت ہوگی وہ کسی طرح نہیں ٹل سکتی۔
Ayahs 44:17–23

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور1 بیشک ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا تھا اور ان کے پاس ہمارا ایک باعزت رسول (یعنی موسیٰ علیہ السلام) آیا تھا۔

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

(اس نے کہا) کہ اللہ کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو میریے حوالے کردو بیشک میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں۔

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور تم اللہ کے مقابل سرکشی مت کرو میں تمہارے پاس ایک روشن سن (اپنی نبوت کی) لایا ہوں ۔

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور بیشک میں اپنے پروردگار کی اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم میرا یقین نہیں کرتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ۔

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

پس موسیٰ نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ یہ لوگ مجرم ہیں (انہیں ہلاک کردے ) ۔

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

پس ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو راتوں رات دریا کی طرف (لے کر چلے جاؤ) ۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جیسے یہ قریش کافر ہیں یوں ہی ہم نے ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو فتنہ میں ڈالا تھا یعنی ان کو عذاب دیا اور آزمائش میں ڈالا، اور ان کے پاس خدا کے برگزیدہ کرامت والے رسول آئے، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، اور آکر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم سے درخواست کی کہ بنی اسرائیل کو مت ستاؤ، اور ان کو میرے حوالے کردو، اسی درخواست کی تائید میں حضرت موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے امانت دار رسول ہوں، جس طرح مجھ کو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہی میں تم لوگوں کو پہنچادیتا ہوں اپنی طرف سے اس میں کچھ خیانت نہیں کرتا، اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو مان لینے میں تم کو سرکشی مناسب نہیں ہے کیونکہ اس سرکشی کے سبب سے قحط، طوفان کی، ٹڈیوں وغیرہ کی آفتوں کو تو تم لوگ میری نبوت کی سند کے طور پر دیکھ چکے ہو اب آئندہ اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آؤ گے تو تم پر کوئی آفت آجائے گی۔ جو جو آفتیں قوم فرعون پر آئیں ان کا ذکر سورة الاعراف میں گزرچکا ہے فرعون نے موسیٰ کو قتل کر ڈالنے کا ڈراوا جو دیا تھا اس کا جواب حضرت موسیٰ نے یہ دیا کہ تیرے ظلم سے بچنے کے لیے مجھ کو اللہ کی پناہ کا سہارا کافی ہے، آخر حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کی قوم سے یہ بھی کہا کہ اگر تم لوگ میری نبوت کو نہیں مانتے، تو مجھ سے کچھ مزاحمت نہ کرو، میں بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر مصر سے چلاجاتا ہوں، جب فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ کی کسی نصیحت کو نہ مانا تو حضرت موسیٰ نے اللہ کی بارگاہ میں یہ شکایت کی یا اللہ یہ لوگ کسی طرح اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے، اب مہلت کا زمانہ پورا ہوگیا اور عذاب الٰہی کے آجانے کے سوا اور کوئی موقع نہیں رہا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات مصر سے چلے جاؤ، اور اسی حکم میں یہ بھی جتلادیا کہ گھبرانا نہیں ، فرعون اور اس کے ساتھی تمہارا پیچھا کریں گے، یہ پیچھا کرنے کا قصہ سورة الشعراء میں گزرچکا ہے کہ جب فرعون نے حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے مصر سے چلے جانے کی خبر سنی تو بہت بڑا لشکر ساتھ لے کر ان کا پیچھا کیا اور دریائے قلزم کے قریب جب بنی اسرائیل کو فرعون کی فوج نظرآنے لگی تو بنی اسرائیل نے گھبرا کر حضرت موسیٰ سے کہا، اب ہم فرعون کے ہاتھ سے نہیں بچ سکتے، حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ گھبراؤ نہیں ہمارے ساتھ ہمارا اللہ ہے جب دریا پر پہنچ گئے تو حضرت موسیٰ مع بنی اسرائیل کے دریا میں گزر گئے۔
Ayahs 44:24–36

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

بیشک تمہارا پیچھا کیا جاوے گا اور (جب تم دریا سے پار ہوجاؤ تو)1 دریا کو (اسی طرح) سکوں کی حالت میں چھوڑدینا، بیشک وہ تمام لشکر (معہ فرعون کے) ڈبو دیا جاوے گا۔ (چنانچہ وہ غرق ہوگئے اور)

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

بہت سے باغ اور چشمے اور کھتیاں۔

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور عمدہ عمدہ مکانات۔

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور ناز و نعمت کو چھوڑ گئے جس میں وہ آرام اٹھاتے تھے۔

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

(یہ قصہ) اسی طرح ہوا اور ان چیزوں کا ہم نے دوسرے لوگوں (یعنی بنی اسرائیل) کو وارث کردیا۔

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پس ان (کی بربادی) پر نہ آسمان روئے اور نہ زمین روئی اور نہ ان کو (توبہ وغیرہ کی) مہلت دی گئی۔

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ذلت کے عذاب (یعنی ظلم و ستم) سے نجات دی ۔

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

بیشک فرعون بڑا سرکش اور حد سے بڑحنے والوں میں سے تھا

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس زمانہ والوں سے دانستہ چن لیا تھا۔

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو وہ معجزات عنایت کیے تھے جن میں ظاہر آزمائش تھی۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

بیشک یہ کفار لوگ کہتے تھے۔

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ یہ (قیامت وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے) صرف ہمارا ایک مرتبہ مرجانا ہے اور ہم مرنے کے بعد زندہ کر کے) نہ اٹھائے جائیں گے۔

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

پس (اے مسلمانو) اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کرکے) لے آؤ۔

نافرمان قوموں کا انجام۔ (ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع بنی اسرائیل دریا کے پار ہوئے تو حضرت موسیٰ نے چاہا کہ دریا کو اپنے عصا سے ماریں کہ پھر ویسا ہی ہوجائے جیسا تھا، تاکہ اس راستہ سے فرعون اور اس کے ساتھی دریا سے پار ہوکربنی اسرائیل کا پیچھا نہ کریں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ دریاکواسی طرح بیچ میں خشک رہنے دو تاکہ فرعون اور اس کا لشکر دریا کی خشک زمین پر پہنچ جاویں تو پانی کا پاٹ ملادیاجائے اور ان سب کو غرق کردیاجائے، اسی قصہ کو مختصر طور پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے ساتھی اپنے باغ اور نہریں ، کھیتیاں، اچھے مکان اور راحت کا ہر طرح کا سامان مصر میں چھوڑ کر یہاں دریائے قلزم کے کنارہ پر آئے اور اللہ کی قدرت سے دریا میں بارہ راستے جو ہوگئے تھے ان کے ذریعہ سے دریا سے پار ہونا چاہا لیکن جب یہ سب بیچ دریا میں پہنچے تو اللہ کے حکم سے دریا کا پاٹ مل گیا اور سب ڈوب گئے پس ان کی بربادی پر آسمان اور زمین نہ روئے کیونکہ وہ ایماندار نہ تھے اور ایماندار جب مرتا ہے تو اس پر آسمان اور زمین چالیس روز تک روتے ہیں جیسا کہ ترمذی کی حدیث میں ہے۔ مجاہد سے کہا گیا کہ کیا مومن کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں فرمایا کیوں نہ روئے اس بندے پر جو زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا اور آسمان کیوں نہ روئے اس بندے پر جس کی تسبیح وتکبیر آسمان میں پہنچتی تھی فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد ملک مصر بنی اسرائیل کے قبضہ میں آگیا ، فرعون اپنے جیتے جی بنی اسرائیل کو یہ سب تکلیفیں دفع کردیں پھر فرمایا کہ فرعون بڑا سرکش متکبر مشرک کافر تھا اور حد سے بڑھ کر سرکشی کرنے لگا، اس لیے اس کو سزا دی گئی۔ اب آگے فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو ان کا استحقاق جان کر اور اہل سمجھ کر اس زمانہ کی سب قوموں سے افضل کیا اور اپنا برگزیدہ بنایا کہ ان کے لیے دریا خشک رستے بنائے، ابرکوسائبان کیا، من وسلوی اتارا اور ان کو اتنی نشانیاں دیں کہ ان میں پورا امتحان کھلا ہوا تھا، اب آگے مشرکین مکہ کا ذکر فرمایا کہ یہ حشر کے منکر ہیں اللہ کے رسول اور مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد جینا سچ ہے تو ہمارے بڑوں میں سے کسی کو زندہ کرکے ہم سے اس کو ملا دو فرمایا یہ ان کی جاہلانہ بات تھی کیونکہ جس کام کے لیے وقت معین ہے اس کا اس وقت سے قبل وجود میں نہ آنا اس کے ناممکن ہونے کی دلیل نہیں ہوتا، اور نہ اس کا انکار صحیح ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی نئے جمے ہوئے پودے یادرخت کو کہے کہ اس میں اب پھل نکالو ورنہ ہم نہیں مانیں گے کہ اس درخت سے پھل نکل سکتا ہے تو اس کو جاہل قرار دیاجائے گا اور اس کا انکار محض بےوقوفی یا احمق پن ہوگا۔