43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsمظہر القرآن

Ayah 43:1
Ayahs 43:2–8

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم ہے1 روشن کتاب (یعنی قرآن پاک) کی۔

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن اتارا تاکہ تم (اس کے معانی و احکام کو ) سمجھو۔

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور بیشک یہ کتاب ہمارے پاس لوح محفوظ میں لکھی ہوئی بلند قدر اور حکمت والی ہے۔

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

تو کیا ہم تم سے اس نصیحت (یعنی قرآن کے احکام) کو ہٹا لیں اس بات پر کہ تم لوگ حد (اطاعت) سے گزرنے والے ہو۔

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے نبی اگلوں میں بھیجے۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے پاس جو نبی آیا اس کے ساتھ ہنسی ہی کرتے تھے۔

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پس ہم نے ان لوگوں کو جو کہ ان سے زیادہ زور آور تھے ہلاک کردیئے اور اگلوں کا حال گزر چکا ہے۔

(ف 1) جس بات پر قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمدرسول اللہ نے اپنی طرف سے نہیں بنایاکیون کہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی شخص بھی وہ باتیں نہیں بتلاسکتا، اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں ہدایت وضلالت کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں، اور امت کی تمام شرعی ضرورت کو بیان فرمادیا تاکہ تم اس کے معانی اور احکام کو سمجھو لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لیے قرآن کو کتاب بلند قدر اور حکمت والی فرمایا، آگے مشرکین کو مخاطب ٹھہراکر فرمایا کہ تم لوگوں کے جھٹلانے کے سبب سے قرآن کی ایتوں کا نازل ہونا بند نہیں ہوسکتا، کیونکہ علم الٰہی میں جو لوگ راہ راست پر آنے کے قابل ٹھہرچکے ہیں وہ انہیں آیتوں کی نصیحت سے راہ پر آجائیں گے رہے ان آیتوں کو مسخراپن میں اڑانے والے پہلے ایسے لوگ حال کے لوگوں سے قوت اور ثروت میں بڑھ کر انبیاء کرام کے زمانہ میں بھی تھے جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے جن کے قصے ان لوگوں کو عبرت کے لیے سنائے جاچکے ہیں اگر یہ لوگ ان کے ڈھنگ پر رہے تو آخریہی انجام ان کا ہوگا۔
Ayahs 43:9–10

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور1 اگر تم ان (مشرکین) سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے کہ ان کو خدائے غالب جاننے والے نے پیدا کیا۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

وہ جس نے تمہارے (آرام کے ) لیے زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا اور زمین میں تمہارے لیے رستے بنا لیے تاکہ تم (سفروں کی) راہ پاؤ۔

توحید کا بیان اور عجائبات قدرت۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا اگر تم ان مشرکین سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائی تو یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ صاحب قدرت اور صاحب علم نے پیدا کیا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی کہ زمین کو اس نے اونچا نیچا نہیں بنایا، تاکہ لوگوں کو چلنے پھرنے میں تکلیف نہ ہو، بلکہ اس کو فرش کی طرح برابر بنایا، اسی طرح زمین کاہلنا بند کرنے کے لیے اس میں پہاڑ جو ٹھونکے تو اس حکمت سے کہ ان پہاڑوں میں گھاٹیاں رکھیں تاکہ لوگوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر کو جانے میں کچھ دشواری اور مشکل نہ پیش آوے۔
Ayahs 43:11–12

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور2 وہ جس نے آسمان سے پانی ایک اندازے سے برسایا، پھر ہم نے اس سے مردہ (یعنی خشک) زمین کو زندہ (یعنی سرسبز) کیا، اسی طرح تم (بھی اپنی قبروں سے زندہ کرکے) نکالے جاؤ گے۔

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے سب جوڑے پیدا کیا اور تمہارے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے کہ جن پر تم سوار ہوتے ہو۔

پریشانیاں احکام الٰہی سے روگردانی کے باعث آتی ہیں۔ (ف 2) دنیا کی ضرورت کے موافق ہر سال موسم برسات میں اللہ تعالیٰ مینہ برساتا ہے جب کبھی ضرورت سے کم مینہ برستا ہے توقحط پڑجاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ برستا ہے تو اس سے بھی ہر طرح کی پیداوار کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اسی واسطے فرمایا کہ اندازہ کے موافق اللہ ہمیشہ مینہ برساتا ہے حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مینہ کے معمولی اندازہ میں فرق پڑ کر دنیا میں رزق کی تنگی لوگوں کے گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے چناچہ موطا میں حضرت عبداللہ بن عباس عنہما سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ بدکاری کے وبال سے عام وبا آتی ہے اور کم تولنے کے وبال سے قحط پڑتا ہے پھر اس پانی سے جس مردہ خشک ویران شہر کو چاہاسبزہ زار تروتازہ بنادیا، اے لوگوں یوں ہی تم زندہ ہوگے دیکھو زمین مرنے کے بعد کیسے زندہ ہوجاتی ہے یونہی وہ تم کو چلاوے گا اب آگے انسان چوپایہ ہر ایک چیز کے جوڑوں میں نرومادہ کے پیدا کرنے کا، اور کشتی کے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا جو کوئی ان چوپایوں یا کشی پر سوار ہو تو اس وقت خیال کرو کہ کیسی پروردگار کی نعمت ہے اور اس کی رحمت ونعمت کو یاد کرکے شکر بجالاؤں۔
Ayahs 43:13–15

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر ٹھیک بیٹھو، پھر اپنے پروردگار کی نعمت کو یاد کرو جس وقت تم اس کے اوپر ٹحیک بیٹھ جاؤ اور1 یوں کہو پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے۔

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور بیشک ہم کو اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کے لیے اس کے بندوں میں سے ایک چیز یعنی اولاد مقرر کی، بیشک انسان صریح ناشکرا ہے۔

اللہ کی نعمتیں اور بندے کی ناشکری۔ (ف 1) سواری خوفناک چیز ہے اور کبھی کبھی یہی سواری آدمی کے ہلاک ہوجانے کے سبب پڑجاتی ہے اب شرعی تعلیم کے موافق جو شخص خشکی تری کی سواری کے وقت ان آیتوں کو پڑھے گا تو گویا موت کے سبب کے وقت بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہ شمار کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے چوپایوں اور کشی کو ہمارے قابو میں کردیا، ورنہ ہم میں ہرگز یہ طاقت نہیں تھی کہ ہم ان چیزوں کو اپنے قابومی رکھ سکتے اور مالک بن جاتے ، ہم سب بعد موت اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں اب آگے فرمایا کہ اللہ نے انسان پر یہ احسانات کیے کہ انسان کی اور اس کی ضرورت کی چیزو کو پیدا کیا لیکن انسان ایسا ناشکرا ہے کہ اس نے بجائے ان نعمتوں کی شکرگزاری کے یہ ناشکری کی کہ بغیر کسی سند کے اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرایا۔
Ayahs 43:16–18

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا2 خدا نے اپنی مخلوقات میں سے اپنے لیے لڑکیاں اور تم کو چن کر لڑکے دیئے۔

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس کا وصف رحمن کے لیے بتا چکا ہے (یعنی لڑکی) تو (اس قدر ناراض ہوتا ہے کہ) سارے دن اس کا چہرہ سیاہ رہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہے۔

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا وہ جو زیور میں پلتی ہے اور وہ بحث میں صاف بات نہ کرے۔

(ف 2) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مشرکوں کو قائل کیا ہے کہ کیا اللہ نے تمکو تولڑکے دیے اور اپنی ذات کے لیے لڑکیاں چھانٹیں، خود تمہارا یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ سکڑ جاتا ہے اور وہ رنج وغصہ میں گھٹ جاتا ہے دل پریشان ہوجاتا ہے کہ افسوس لڑکا کیوں نہ ہوا تو یہ خوب ٹھہرے کہ اپنے لیے تو فرزندوں اور خدا کے لیے لڑکیاں ہیں کیا یہ خدا کے لیے لڑکیاں بتاتے ہیں جو ناز ونعمت میں پرورش کی جاتی ہیں اور سونے چاندی کے زیوروں سے آراستہ و پیراستہ کی جاتی ہیں اور جب گفتگو کا موقع ہوتا ہے تو ان سے صاف صاف عمدہ طور سے گفتگو بھی نہیں کی جاسکتی، تو ایسی چیز خدا کے لیے ثابت کرنا کیا زیبا ہے۔
Ayahs 43:19–30

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اورف 1 انہوں نے فرشتوں کو جو کہ خدا کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا، کیا ان کے پیدائش کے وقت یہ حاضر تھے، اب ان (کفار) کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور (قیامت میں) ان سے پوچھا جاوے گا۔

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور کافر بولے : اگر اللہ چاہتا تو ہم ان فرشتوں کی پرستش نہ کرتے، ان کو اس کی حقیقت (رضائے الہی) کا کچھ علم نہیں، وہ محض یوں ہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

ہم نے ان کو اس (قرآن) سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جسے وہ تھامے ہوئے ہیں۔

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک ہی دین پر یا اور بیشک ہم ان کے قدم بقدم چل رہے ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے (اے محبو ب) تم سے پہلے جب کسی بستی میں کوئی (پیغمبر) ڈر سنانے والا بھیجا تو وہاں کے دولتمند لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک ہی دین پر پایا اور بیشک ہم ان کے قدم بقدم چل رہے ہیں۔

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

(اس پر) پیغبر نے فرمایا کہ کیا اگر میں تمہارے پاس اس (دین) سے زیادہ ہدایت کرنے والا (دین) لاؤں جس پر تمہارے باپ دادا تھے وہ کہنے لگے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہو ہم اسے نہیں مانتے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

پس ہم نے ان سے بدلہ لیا تو دیکھو (پیغمبروں کے) جھٹلانے والوں کا کیسا (برا) انجام ہوا۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا بیشک میں بیزار ہوں اس چیز سے جس کی تم پرستش کرتے ہو۔

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

سوا اس کے جس نے مجھے پیدا کیا بیشک ضرور وہ مجھے راہ ہدایت دکھائے گا۔

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور اس توحیدی کلمہ کو اپنی نسل میں باقی رہنے والا کلام رکھا تاکہ (ہر زمانہ میں مشرک) لوگ (شرک سے) باز آئیں۔

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بلکہ میں نے ان (کافروں) کو اور ان کے لیے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دیئے یہاں تک کہ ان کے پاس حق (یعنی قرآن) اور صاف بتانے والا رسول (یعنی سید انبیا) تشریف لایا۔

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق آیا تو بولے یہ جادو ہے اور بیشک ہم اس کے منکر ہیں۔

بت پرستی کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ انہوں نے سنا ہے وہی کہتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے اپنے بڑوں کو کرتے دیکھا ہے وہی کرتے ہیں اس واسطے سو اس کے یہ لوگ اور کچھ جواب ہی نہیں دے سکتے، ہم اپنے بڑوں کے چال چلن پر ہیں اور یہ بات کچھ نئی نہیں جب سے دنیا مین شرک پھیلا ہے اور بت پرستی کی رسم پڑی ہے پچھلے لوگ بھی یہی کہتے آئے ہیں کہ بت پرستی اللہ کے ارادہ کے موافق نہ ہوتی تو ہم اور ہمارے بڑے اس بت پرستی پر کیوں جمے رہتے، اور یہی کہہ کر اللہ کے رسولوں کو جھٹلاتے رہے ہیں اور جس طرح اب مشرکوں کو سمجھایاجاتا ہے اسی طرح ان کو بھی طرح طرح سے سمجھایا گیا تھا کہ بت پرستی اللہ کو ناپسند ہے تو مثلا قوم ثمود سے پہلے قوم نوح اور قوم عاد پر عذاب کیوں آتا ، اور جب وہ سمجھانے سے نہ مانے تو اللہ نے ان کے کفر کان سے بدلہ لے لیا اور طرح طرح کے عذابوں سے ان کو غارت کردیا اگر یہ لوگ سمجھانے سے نہ مایں گے تو آخریہی برانجام ان کا ہوگا اور آگے حضرت ابراہیم کا قصہ ذکر فرماکرحضرت ابراہیم نے اپنے باپ آذر اور قوم سے کہا کہ تم جو یہ بت پرستی کرتے ہو تو میں ان سے بالکل بری ہوں اور بےزار ہوں میں کسی کی عبادت نہیں کرتا سوائے اس اللہ کے جس نے مجھ کو پیدا فرمایا وہ عنقریب مجھ کو اپنے دربار قرب کی راہ دکھائے گا اور مجھ کو اپنے دین و اطاعت پر ثابت قدم رکھے گا اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے کلمہ یعنی لا الہ اللہ کلمہ توحید کو ان کی ماں اولاد میں پشت درپشت باقی وہ قائم رکھا یعنی کوئی نہ کوئی مسلمان ہوتے رہے کہ وہ لوگ یعنی کافر کفر سے پھر کر ایمان لائیں بلکہ میں نے ان کو اور ان سے پہلے جو باپ دادا گزرچکے ہیں ان کو بہت کچھ مہلت مدت دی نعمت وعمر دراز دی حتی کہ زمانہ ہدیات آپہنچا اور حق یعنی قرآن اور رسول یعنی محمد ﷺ جو انہیں کی زبان میں صاف صاف دلائل توحید و رسالت بیان کرتے ہیں تشریف لائے جب ان کے پاس کتاب ورسول آئے یعنی محمد سچی کتاب قرآن لے کر آئے تو انہوں نے کہا یہ تو بالکل جادو ہے ہم اس کر ہرگز نہ مانیں گے ان لوگوں نے اللہ کے رسول کو جادوگر بتلا کر کہہ دیا کہ ہم تو رسول قرآن کے منکر ہیں۔
Ayahs 43:31–35

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور1 کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (یعنی مکہ مکرمہ اور طائف کے رہنے والوں) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت (یعنی نبوت) کو تقسیم کرتے ہیں، ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا اور ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی تاکہ ان میں ایک دوسرے کے محکوم بنائیں (یعنی خدمت لے اور دنیا کا نظام مضبوط رہے) اور تمہارے پروردگار کی رحمت (یعنی جنت) بدرجہا اس (دنیوی مال و متاع سے) بہتر ہے جو یہ جمع کرتے ہیں۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ احتمال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں تو ہم ضرور ان لوگوں کے لیے جو رحمن کا انکار کرتے ہیں ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے اور سیڑھیاں جن پر چڑھا (اترا) کرتے ۔

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی چاندی کے کردیتے۔

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے اور طرح طرح کی آرائش بھی اور یہ جو کچھ ہے دنیا ہی کی زندگی کا اسباب ہے اور آخرت (کاثواب) تمہارے پروردگار کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے ۔

(ف 1) کافروں نے ہم لوگ مالدار ارعزت دار ہیں اس واسطے کسی مالدار شخص کو جیسا کہ مثلا مکہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ہے ایسے لوگوں کو ہم اپناسردار بنانا چاہتے ہیں اس واسطے یہ قرآن جو محمد ﷺ پر اترتا ہے ولید یاعروہ جیسے مالدار شخص پر نازل ہوتا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں کئی طرح دیا ہے۔ (1) ایک تو یہ کہ ان لوگوں کو کس نے مختار بنادیا ہے جو یہ اللہ کی رحمت کے حصے اپنی غرض کے موافق لگا رہے ہیں کیا نبوت کی کنجیاں انکے ہاتھ میں ہیں کہ جس کو چاہیں دیدیں کس قدر جاہلانہ بات کہتے ہیں اللہ نے اپنی حکمت کے موافق جس شخص کو نبوت کے قابل پایا اس کو نبوت عطا کی ان لوگوں کو اللہ کی حکمت میں کیا دخل ہے جو یہ لوگ اپنی رائے لگاتے ہیں۔ (2) دوسرا جواب یہ کہ دنیا میں کسی کو غنی کیا، کسی کو فقیر، کسی کو قوی، کسی کو ضعیف ، مخلوق میں کوئی ہمارے حکم کو بدلنے اور ہماری تقدیر سے باہر نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا، تو ہزاروں اہل تدبیر اور اہل ہنر روٹی سے محتاج ہیں اور ہزاروں بےعقل اور بےہنر مالدار ہیں جب دنیا جیسی ذلیل چیز میں کسی کو مجال اعتراض نہیں، تو نبوت جیسے منصب عالی میں کیا کسی کو دم مارنے کا موقع ہے جسے چاہتے ہیں مخدوم بناتے ہیں جسے چاہتے ہیں فقیر کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں خادم بناتے ہیں جسے چاہتے ہیں نبی بناتے ہیں جسے چاہتے ہیں امی بناتے ہیں امیر کیا کوئی اپنی قابلیت سے ہوجاتا ہے ، ہماری عطا ہے جسے چاہیں جو کریں۔ (3) تیسراجواب یہ کہ یہ لوگ دنیاوی مالدار کو بڑی چیز خیال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اور دنیا کی مالداری ایسی حقیر چیز ہے کہ کافروں کو زیادہ مالدار دیکھ کر مسلمانوں کے دل پریشان ہوجانے کا خیال نہ ہوتا اور بدل جانے کا نتیجہ پیش نظر نہ ہوتا تو ہم ان کے لیے جو رحمن کو نہیں مانتے، یعنی کافروں کو دنیا بےاندازہ دے دیتے ہیں یعنی دنیا کا مال مل جانا کوئی دلیل خدا کے قرب کی نہیں ، ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنادیتے ہیں، اور سیڑھیاں جن کے ذریعے ان پر چڑھتے اور اترتے ہیں وہ بھی خالص چاندی کی ، اور ان کے دروازوں کے کواڑ چوکھٹیں چاندی کے ہوتے ہیں اور تخت چھپڑ کھٹ چاندی کے جن پر وہ سوتے اور تکیہ لگاتے، اور نیز سونے کے اور برتن سونے چاندی کے طرح طرح کی زینت نازونعمت دیتے مگر یہ سب کچھ زندگی دنیا تک کے اسباب ہیں مرے پیچھے کچھ بھی نہیں اور جو مسلمانوں کو آخرت میں جنت ملنے والی ہے اس کو تھوڑی سی جگہ بھی تمام دنیا سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔
Ayahs 43:36–39

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

جو1 شخص اللہ کی یاد ( ّیعنی قرآن) سے غافل ہوجائے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کرتے ہیں پس وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے۔

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور بیشک وہ شیاطین ان کو راہ (حق) سے روکتے ہیں اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم راہ پر ہیں۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب (قیامت کے دن) ایسا شخص (یعنی کافر) ہمارے پاس آوے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا کہ کاش ! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کا فاصلہ ہوتا، پس تو کیا برا ساتھی ہے۔

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور (ان سے کہا جاوے گا) جبکہ تم نے (دنیا میں کفر کر کے) ظلم کیا ہرگز آج تم کو یہ (حسرت و ندامت) فائدہ نہ دے گی کہ تم (اور شیاطین) سب عذاب میں شریک ہو۔

ہر انسان کے ساتھ دوپوشیدہ ہستیاں۔ (ف 1) صحیح مسلم اور ترمذی میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات ہے فرشتہ ہر وقت نیک کام کی صلاح دیتارہتا ہے اور شیطان بد کام کی صلاح دیتا رہتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کہ جس وقت آدمی اللہ تعالیٰ کی کچھ یاد اور ذکرالٰہی کرتا ہے تو آدمی کے ساتھ جو شیطان رہتا ہے وہ آدمی کی ہم نشینی سے الگ ہوجاتا ہے اور جب آدمی یادالٰہی سے غافل ہوجاتا ہے تو وہ شیطان پر آن کر آدمی کو ہم نشینی کو مستعد ہوجاتا ہے اور طرح طرح کے وسوسے آدمی کے دل میں ڈالنے شروع کردیتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جو لوگ کبھی یاد الٰہی اور کبھی دنیا کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں ان کو فرشتے اور شیطان دونوں کی ہم نشینی کا موقع حاصل رہتا ہے۔ اور جو لوگ ہمیشہ یادالٰہی سے غافل اور بیخبر رہتے ہیں ، شیطان کسی وقت ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے، اور ہمیشہ کے لیے خدا کی طرف سے شیاطین ان کا ہم نشین قرار دیاجاتا ہے کس لیے کہ فرشتے کی ہم نشینی کا کوئی موقع ہی ایسے لوگوں کے لیے باقی نہیں رہتا، وہ شیاطین سیدھے اچھے راستہ سے روکتے ہیں حق کی طرف متوجہ نہیں ہونے، دیتے وہ دل میں وسوسے ڈالتے ہیں یہ جانتے ہیں کہ اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم نے راہ پالی ہے ہم بڑے سچے مذہب پر ہیں شیطان کا پیچھا نہ چھوڑیں گے اور یہ شیطانوں کو مانے جائیں گے یہاں تک کہ جب کفار شیطانوں کے ساتھ ساتھ زنجیروں میں بندھے ہوئے قیامت کے دن ہمارے دربار آئیں گے تو اس وقت کافر افسوس و حسرت کریں گے کہ کاش ہم اس کے ساتھ نہ ہوتے، ہم میں اور اس میں فرق ہوتا جتنا مشرق ومغرب کا فاصلہ ، پس خیال کرنا چاہیے کہ وہ شیطان انسان کا کس قدر بدتر ساتھی اور ہم راز ہے اس وقت اللہ کہے گا کہ اب جو حسرت وندامت کرتے ہو تو تم کو یہ بات اور ندامت کچھ فائدہ نہیں دے گی کہ دنیا میں تم اس کے ساتھ رہے اور اس کو اچھا سمجھے اور کافر ہوئے آج براجانتے ہو الگ ہونا چاہتے ہو یہ نہ ہوگا، آج تم اور یہ شیاطین سب عذاب میں شریک ہوں گے۔
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

تو کیا تم1 بہروں کو سنا سکتے ہو یا اندھوں کو راہ دکھا سکتے اور ان لوگوں کو جو صریح گمراہی میں ہیں۔

(ف 1) اے محبوب تم جو اتنی کوشش ان کے ایمان لانے میں کرتے ہو تو کیا ان کو خواہ مخواہ مسلمان کرلو گے کیا تم بہروں کو اپنی باتیں سناسکتے ہو جو بہرابن جائے بات سننا بھی نہ چاہے اس کو کیونکر حق سناسکتے ہو، کیا جو اندھے ہیں ان کو راستہ دکھادو گے اور جو کھلی ہوئی صاف گمراہی میں پڑا ہوا ہے اور نہیں نکلنا چاہتا تو ایسوں کو تم کیوں کر راہ پر لاؤ گے یعنی تم ان کے کفر کا رنج نہ کرو۔