42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 42:1–3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

(اے محبوب1) اسی طرح تمہاری طرف وحی بھیجتا ہے اور ان (انبیا) کی طرف جو تم سے پہلے تھے، اللہ غالب حکمت والا۔

(ف 1) اے محبوب ﷺ جیسا تمہاری طرف یہ قرآن اتارا، اور حضرت جبرائیل کی معرفت وحی بھیجی یوں ہی ان کی طرف بھی بھیجی جو تم سے پہلے انبیاء تھے پھر فرمایا کہ اس فہمائش کے بعد بھی اگر یہ لوگ اپنی بےٹھکانوں کی باتوں سے باز نہ آئیں گے اور کلام الٰہی کے جھٹلاتے جائیں گے تو اللہ ایسے لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے پچھلی بہت سی قومون کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اور کوئی اس کے عذاب کو ٹال نہ سکا، فرمایا جبکہ آسمان زمین کا مالک وہی وحدہ لاشریک ہے اور سب پر اسی کا حکم جاری ہے تو پھر کس استحقاق سے یہ مشرک لوگ غیروں کو اس کی تعظیم میں شریک کرتے ہیں ۔
Ayahs 42:4–5

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہی سب سے بڑا اور عظمت والا ہے۔

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب2 ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ جاویں اور3 فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اور زمین والوں کے واسطے بخشش مانگتے ہیں ، آگاہ ہو بیشک اللہ ہی بخشنے والا مہربان ہے ۔

(ف 2) آسمان باجود اپنی عظمت و رفعت خدا کی ہیبت و عظمت وقدت کے آگے ایسے حقیر ہیں کہ قریب ہوتا ہے کہ اوپر سے نیچے تک پاش پاش ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں بعض نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے کہ جب مشرکین اللہ تعالیٰ کے لیے شریک ٹھہراتے ہیں تو خداوندقدوس کی جناب میں یہ ایسی گستاخی ہے جسے کچھ بعید نہیں کہ آسمان کی اوپر والی سطح تک پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے۔ فرشتوں کی صفات۔ (ف 3) فرشتے آسمانوں میں اپنے رب کے لیے عاجزی کرتے ہیں تسبیح کرتے ہیں نماز پڑھتے ہیں تعریف کرتے ہیں اور زمین میں جو مخلصین مومنین ہیں ان کے لیے اللہ سے مغفرت مانگتے ہیں بیشک اللہ توبہ والوں کو بخشنے والا، اور جو توبہ پر مرے اس پر ضرور رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور1 جنہوں نے اللہ کے سوا اور دوست بنا رکھے ہیں وہ اللہ کی نگاہ میں ہیں، اور تم ان کے ذمہ دار نہیں۔

منکروں کا جواب۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے سواغیروں کو پوجرتے ہیں اور اپنا پروردگار مالک سمجھتے ہیں تو ایسے لوگوں کے سب کام اللہ کی نظر میں ہیں وقت مقررہ پر وہ ان کے عملوں کی ان کو سزا دے گا، اور ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کے علم میں دوزخی قرار پاچکے ہیں اس لیے اے محبوب ﷺ ان کو راہ راست پر لانے کے تم ذمہ دار نہیں نہ تم سے ان کے افعال کامواخذہ ہوگا۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور2 اسی طرح ہم نے تمہاری طرف عربی قرآن بذریعہ وحی بھیجا تاکہ تم مکہ والوں کو اور اس کے اردگرد (یعنی تمام روئے زمین) والوں کو ڈراؤ3 اور اکٹھے ہونے کے دن (یعنی قیامت) سے ڈراؤ جس میں کچھ شک نہیں (اس روز) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ دوزخ میں۔

(ف 2) اے محبوب ﷺ جیسے ہم نے پچھلے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف انہیں کی زبانوں میں بھیجا یونہی ہم نے تم پر قرآن بذریعہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) خاص فصیح عربی زبان میں مطابق محاورہ فصحاء عرب اتارا تاکہ تم اس کے ذریعہ سے مکہ کے لوگوں کو ڈراؤ سمجھاؤ اور ارگرد کے شہر یعنی روئے زمین کے لوگوں کو بھی ڈراؤ۔ (ف 3) اس آیت میں فرمایا کہ روز قیامت سے آگاہ کردو کہ ایک دن آنے والا ہے جب تم اگلے پچھلے خدا کی پیشی میں حساب کے لیے جمع ہو گے یہ ایک یقینی اور طے شدہ بات ہے جس میں کوئی دھوکہ فریب اور شک کی گنجائش نہیں ہے چاہیے کہ اس دن کے لیے آدمی تیار ہوجائے اس وقت کل آدمی دوگروہوں میں تقسیم ہوں گے ایک گروہ جنتی اور ایک دوزخی ، سوچ لو کہ کہ تم کو کس گروہ میں شامل ہونا چاہیے اور اس میں شامل ہونے کے لیے کیا سامان کرنا چاہیے۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور4 اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک دین پر کردیتا و لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے ۔ اور جو ظالم ہیں ان کا (قیامت کے دن) نہ کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار۔

(ف 4) پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب نافرمان لوگوں کو فرماں بردار بناکرتمام مخلوقات کو نیک کردیتا مگر نہیں اسکی حکمت ایسی نہیں بلکہ وہ جس کو چاہتا ہے اپنے دین کا اکرام کرتا ہے اپنی رحمت میں اپنے مقبول مذہب میں داخل فرماتا ہے اور یہ نافرمان لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور کہتے ہیں کہ اول تو ہم حشر کے قائل نہیں اور اگر ایسا ہوا تو جن بتوں کو ہم پوجا کرتے ہیں وہ ہم کو اس دن عذاب سے بچالیوں گے ان مشرکوں کی اس بات کے جواب میں یہاں مختصر طور پرانا ہی فرمایا کہ اس دن مشرکوں کانہ کوئی ولی ہوگا کہ قیامت میں ان کو نفع دے نہ کوئی مددگار ، کہ عذاب سے بچائے۔ پھر فرمایا یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ لوگ بتوں کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں حشر کے دن ان کی آنکھوں کے سامنے مرے ہوئے لوگ دوبارہ زندہ ہوجائیں گے تو ان لوگوں کو یہ معلوم ہوجائیگا کہ کوئی چیز اللہ کی قدرت سے باہر نہیں، درحقیقت سب کا مالک اور والی اللہ ہی ہے اور وہ ہر بات پر زندگی موت وغیرہ پر قدرت والا ہے۔
Ayahs 42:9–10

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اللہ کے سوا اور دوست ٹھہرائے ہیں پس اللہ ہی کارساز ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور1 جس بات میں تم (اہل حق کے ساتھ) اختلاف کرتے ہو پس اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے، یہ ہے اللہ میرا پروردگار، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع لاتا ہوں۔

(ف 1) اس آیت میں مشرکین کو یہ تنبیہ فرمائی کہ تم لوگ اختلاف کی باتیں جو کررہے ہو کہ تمہارا طریقہ اچھا ہے اور دین اسلام اچھا نہیں تو اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے وقت مقررہ پر اس فیصلہ کو کردے گا پھر ارشاد فرمایا کہ ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں نے ہر طرح سے اپنا بھروسہ اللہ ہی پر کیا ہے اور سب کو چھوڑ کر اس کی طرف رجوع ہوا۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

(وہ )2 آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ، اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے جوڑے پیدا کیے اور (اسی طرح) چارپاریوں کے جوڑے پیدا کیے، اس تدبیر سے تمہاری نسل پھیلتا ہے ، کوئی چیز اس کی مثل نہیں، اور وہی ہے سننے والا دیکھنے والا۔

(ف 2) اس آیت میں منکرین قدرت الٰہی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں یاددلائیں کہ اس صاحب قدرت نے آسمان و زمین پیدا کیے اورس نے تمہارے لیے تمہیں میں دے عورتیں بنائیں کہ جوڑے پیدا کیے مرد اور عورت اور چوپاؤں کے بھی جوڑے پیدا کیے نر و مادہ ، وہی تو ماؤں کے رحموں میں تم کو مرد عورت جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور پھر انسان اور چوپاؤں کی نسل بڑھائی، اس جیسا صفات کمال علم قدرت تدبیر میں کوئی بھی نہیں وہ ہر بات سننے والاجاننے والا ہے آسمان زمین کے خزانے سب اسی کے ہیں مینہ گھاس وغیرہ سب کا وہ مالک ہے جس کو چاہتا ہے رزق بیشمار دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے وہ اپنے کارخانوں کا ذرہ ذرہ بھر کا علیم ہے جانتا ہے کون وسعت رزق کے لائق ہے اور کون تنگی کے۔
Ayahs 42:12–13

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی کنجیاں جس کے لیے چاہتا روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے بیشک وہ ہر ایک چیز کا جاننے والا ہے ۔

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقررر کیا جس کا1 اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ کو دیا کہ دین (اسلام) کو قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو۔ مشرکوں1 پر بہت ہی گراں ہے وہ بات جس کی طرف تم انہیں بلاتے ہو (یعنی بتوں کو چھوڑنا اور توحید اختیار کرنا) اللہ اپنے قرب کے لیے چن لیتا ہے جسے چاہے اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو رجوع لائے۔

نافرمانوں کا حال۔ (ف 1) اے لوگو، تمہارے لیے کوئی نئی بات نازل نہیں ہوئی ہے بلکہ وہی قدیم دین کہ جس پر حضرت ابراہیم موسی، عیسیٰ مامور تھے اے محبوب ﷺ حضرت نوح سے اب تک جتنے انبیاء ہوئے سب کے لیے ہم نے دین کی ایک راہ مقرر کی جس میں وہ سب متفق ہیں وہ راہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت اس پر اور اس کے رسولوں پر اور اس کی کتابوں پر اور رز جزا پر اور باقی تمام ضروریات دین پر ایمان لانا لازم کریں، کہ یہ امور تمام انبیاء کی امت کے لیے یکساں لازم ہے۔ اور دین الٰہی کو اپنے قول عمل سے قائم رکھیں اور اصل دین میں کسی طرح کی تفریق واختلاف وپھوٹ نہ ڈالیں۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا : اے محبوب ﷺ جس بات کی رغبت تم ان مشرکوں کو دلاتے ہو اور توحید کی طرف دعوت دیتے ہو اس کا اختیار کرنا ان پر بڑا ہی شاق گزرا، گویا آپ کوئی نئی اور انوکھی چیز پیش کررہے ہیں جو کسی نے پہلے پیش نہیں کی تھی، بھلا توحید جیسی صاف معقول اور متفق علیہ چیز بھی جب مشکوک معلوم ہونے لگے تو جہالت اور بدبختی کی حد ہوگئی اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنا برگزیدہ مقبول بارگاہ بناتا ہے اور اپنے دین کے لیے اس کو پیدا کرتا ہے اور وہ ہر اس شخص کو جو اس کی طرف صدق دل سے متوجہ ہوتا ہے راہ راست دکھاتا ہے یعنی وہ جو پہلے کافر تھے بعد کو مشرف بااسلام ہوئے۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور2 انہوں نے پھوٹ نہ ڈالی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا تھا آپس کے حسد سے اور اگر تمہارے پروردگار کی ایک بات زر نہ چکی ہوتی ایک مقرر میعاد تک تو کب کا ان میں فیصلہ کردیا جاتا، اور بیشک جو لوگ نبیوں کے بعد کتاب کے وارث ہوئے (یعنی یہود و نصاری) وہ اس سے ایک دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں۔

(ف 2) اہل کتاب نے اپنے انبیاء کے بعد جو دین میں اختلاف ڈالا کہ کسی نے توحید اختیار کی کوئی کافر ہوگیا، اور وہ اس سے پہلے جان چکے تھے کہ اس طرح اختلاف کرنا، اور فرقہ فرقہ ہوجانا گمراہی ہے لیکن باوجود اس کے انہوں نے یہ سب کچھ کیا کہ ان کو پورا پورا علم صفت نبی آخزالزمان کا اور ان کی شان و صورت کا آچکا ہے ، محض عناداوتکبرا وحسدا متفرق ہورہے اور توحید اور نبی آخرالزمان کو نہیں مانتے، اے محبوب اگر خدا کا حکم ازلی سے یونہی ثابت ہوچکا ہوتا کہ اس امت پر عذاب نہ آجائے گا اور ایک وقت معین تک ان کو مہلت ملے گی تو ابھی فیصلہ کردیاجاتا اور یہ سب عذاب الٰہی سے ہلاک کردیے جاتے اور وہ لوگ جن کو ان رسولوں کے بعد کتاب کا وارث کیا گیا یعنی یہود ونصاری کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد توریت وانجیل کے وارث ہوئے اور اس قرآن میں شک ظاہر میں مبتلا ہیں یا یہ کہ اپنی کتابوں میں شک نکالتے ہیں اور اپنی کتاب پر مضبوط ایمان نہیں رکھتے اے محبوب ﷺ جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو اور تم کو دیا ہے تم اس کی پابندی کی لوگوں کو نصیحت کرو، اور ان میں سے کسی کی خواہش کا اتباع نہ کرو، اور ان لوگوں کو اتنی ہی بات کہو کہ میں تو ان سب کتابوں پر ایمان لایا جو اللہ تعالیٰ کے پاس سے اتری ہیں اور مجھ کو قران میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تمام چیزوں میں اور جمیع احوال میں اور ہر فیصلہ میں انصاف کروں، اور اللہ تعالیٰ ہمارا تمہارا سب کا پروردگار ہے ہم سب کو اس کی خوشنودی کے لیے کام کرنا چاہیے اگر تم ایسا نہ کرو گے تو ہمارا تم سے کچھ تعلق نہیں ہم دعوت وتبلیغ کا فرض ادا کرکے سبکدوش ہوچکے، ہم میں سے کوئی دوسرے کے عمل کا ذمہ دار نہیں ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے وہ ہی اس کے آگے آئے گا چاہیے کہ اس کے نتائج برداشت کرنے کے لیے تیار رہے آگے ہم کو تم سے جھگڑنے اور بحث و تکرار کی ضرورت نہیں سب کو خدا کی عدالت میں حاضر ہونا ہے وہاں جاکر ہر ایک کو پورا پتہ لگ جائے گا کہ وہ دنیا سے کچھ کماکرلایا ہے بعض کے نزدیک یہ آیت جہاد سے منسوب ہے یہ آیات مکی ہیں قتال کی آیتیں مدینہ میں نازل ہوئیں۔
Ayahs 42:15–16

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

پس تم اسی (توحید) کی طرف (لوگوں کو) بلاؤ اور ثابت قدم رہو جیسا تمہیں حکم ہوا ہے، اور ان کافروں کی خواہشوں پر نہ چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس ہر کتاب پر جو اللہ نے اتاری ہے، اور مجھے حکم ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں، اللہ ہمارا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے، ہمارے لیے ہمارا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے، کوئی حجت نہیں ہمارے درمیان میں اور تمہارے درمیان میں، اللہ ہم سب کو (روز قیامت) جمع کرے گا اور اسی کی طرف پھرنا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور وہ1 لوگ جو اللہ کے دین کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ (مسلمان) اس کا حکم مان چکے ان کا جھگڑا باطل ہے ان کے پروردگار کے نزدیک، اور ان پر غضب ہے (بسبب ان کے کفر کے) اور ان کے لیے (آخرت میں) سخت عذاب ہے۔

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ اللہ کے دین اور اس کی کتاب اور اس کی باتوں کی سچائی جب علانیہ ظاہرہوچ کی حتی کہ بہت سے سمجھدار لوگ اس کو قبول کرچکے اور بہتیرے قبول نہ کرنے کے باوجود ان کی سچائی کا اقرار کرنے لگے، اس قدرظہور وضوح حق کے بعد جو لوگ خوامخواہ جھگڑے ڈالتے ہیں یا مسلمانوں سے الجھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

وہ خدا ہے کہ جس نے حق کے ساتھ کتاب (یعنی قرآن) اتاری اور انصاف کی ترازو بھی، اور تم کیا2 جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔

نیک وبد کا انجام۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح ترازو سے ہر ایک چیز کی تول معلوم ہوجاتی ہے اسی طرح قرآن سے حق بات معلوم ہوجاتی ہے اس پر بھی قرآن کی آیتوں میں جو لوگ جھگڑا نکالتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں ، جب اللہ کے رسول اپنی نصیحت میں قیامت کا ذکر کرتے تھے تو مشرکین اس میں زیادہ جھگڑتے اور یہ کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی اسی کے جواب میں فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے ، اس لیے یہ لوگ مسخراپن کے طور پر گھڑی گھڑی قیامت کے آنے کا حال پوچھتے ہیں فرمایا کہ کیا تم کیا خبر ہے کہ شائد قیامت کا آنا قریب ہو اور جو لوگ رسول و قرآن پر ایمان لائے وہ تو اسی ہولناک گھڑی کے تصور سے لرزتے ہیں اور کانپتے ہیں اور خوب سمجھتے ہیں کہ یہ چیز ہونے والی ہے کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی، اسی لیے اس کی تیاری میں لگے رہتے ہیں اسی سے سمجھ لو کہ ان جھگڑنے والے منکرین کا حشر کیا ہوتا ہے جب ایک شخص کو قیامت کے آنے کا یقین ہی نہیں وہ تیاری کیا خاک کریگا، ہاں جتنا اس حقیقت کا مذاق اڑائے گا گمراہی میں اور زیادہ دورہوتاچلاجائے گا آگے فرمایا کہ اللہ اپنے سب بندوں پر مہربان ہے باوجود تکذیب و انکار کے کسی کی روزی بند نہیں کرتا، بلکہ بندوں کے باریک سے باریک احوال کی رعایت کرتا اور فراخی وعیش عطا فرماتا ہے مومن کو بھی اور کافر کو بھی حسب اقتضائے حکمت۔ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ تونگری ان کے قوت ایمان کا باعث ہے اگر میں انہیں فقیر محتاج کروں تو ان کے عقیدے فاسد ہوجائیں اور بعض بندے ایسے ہیں کہ تنگی و محتاجی ان کی قوت ایمان کا باعث ہے اگر میں انہیں غنی مالدار کردوں تو ان کے عقیدے خراب ہوجائیں۔
Ayahs 42:18–20

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

قیامت کی طلب میں جلدی وہ لوگ کرتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے، آگاہ ہو بیشک جو لوگ قیامت کے آنے میں جھگڑتے ہیں بیشک وہ دور کی گمراہی میں ہیں۔

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے روزی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہی قوت والا گا لب ہے ۔

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو کوئی1 (اپنے اعمال کی ) کھیتی (کا فائدہ) آخرت میں چاہے تو ہم اس کو (نیکیوں کی توفیق دے کر) اس کی کھیتی بڑھاتے ہیں اور جو کوئی دنیا کی کھیتی چاہے تو ہم اس میں سے اس کو کچھ حصہ دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ہے ۔

(ف 1) جو بندہ خالصا اللہ عمل کرتا ہے اور اپنے کاموں سے آخرت کا منافع لینا چاہتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ جو یہاں بیج بوؤں وہاں کاٹوں تو ہم اس کے کھیت کی پیداوار اور بےحدزائد کرتے ہیں یعنی اس کا ثواب ہزارہا گنادیں گے یا یہ کہ اس کو خوشی اور قوت اچھے کاموں کی زائد کریں گے اور اس کے دل میں اور خلوص بڑھائیں گے یا یہ کہ دنیا میں کبھی دیں گے اور وہاں بھی زائد اور جس کا عمل محض دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو، اور وہ آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو ہم اس کو دنیا کا نفع دیتے ہیں اور ظاہر مصیبت دنیا ٹالتے ہیں وہاں جاکر قیامت میں خالی رہے گا کچھ نہ ملے گا کہ کام کرتے وقت اپنے وہاں کے نفع کا خیال نہ تھا اسنے فقط دنیا کے لیے کیا تھا سو وہ ملے گی۔
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا1 کافروں کے کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے وہ دین نکال دیا ہے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا اور اگر (خدا کی طرف سے) ایک فیصلہ کا وعدہ نہ ہوتا تو بیشک (دنیا ہی میں) ان کا فیصلہ ہوجاتا، اور بیشک (آخرت میں) ان ظالموں (یعنی کافروں) کے لیے درد دینے والا عذاب ہے ۔

(ف 1) یہ کفار جو بت پرستی، وغیرہ بری بری باتیں کرتے ہیں تو کیا ان کے لیے سوا خدا کے اور کوئی معبود مالک ہے جن کو یہ خدا کا شریک بتاتے ہیں اور اپنا حامی کہ ان کو انہوں نے کوئی دین بتایا ہے اور ان کے لیے مقرر کردیا ہے جس کا خدا نے ان کو حکم نہیں دیا، اگر خدا کا حکم ازلی جو حق و باطل میں فاصل ہے اور یقینی ہے انکی تاخیر عذاب کے بارہ میں ثابت نہ ہوچکا ہوتا، اور یہ بات تقدیر میں نہ مقرر ہوچکی ہوتی کہ اس امت پر اگلوں کا سا عذاب نہ آئے گا تو کبھی کا عذاب آچکتا ، اور یہ سب مرکرخاک میں بھی مل چکتے، اور بیشک ظالم کافروں کو آخرت میں سخت عذاب پہنچے گا، اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو ایسے فرمانبردار لوگوں کے لیے جنت کی نعمتیں ہیں وہ دیکھنے کے قابل ہیں مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے عذاب اور جنت کی نعمتوں کی پوری تفسیر انسان کی طاقت سے باہر ہے۔
Ayahs 42:22–23

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

(اس روز) تم ان ظالموں کو دیکھو گے کہ اپنے اعمال کے وبال سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ (وہاں) ان پر (ضرور) پڑ کر رہے گا، اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ بہشتوں کے باغ میں ہوں گے وہ جو کچھ چاہیں ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا یہی بڑا فضل ہے۔

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہ وہ ثواب ہے کہ جس کی اللہ اپنے ان بندوں کو خوشخبردی دیتا ہے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ، تم فرماؤ میں1 اس تبلیغ قرآن پر تم سے کچھ مزدوری طلب نہیں کرتا مگر (تم کو) قرابت والوں کی محبت کرنی چاہیے ار جو کوئی نیکی کرے ہم اس کے لیے اسمیں اور خوبی بڑھائیں گے، بیشک اللہ بخشنے والا قدر فرمانے والا ہے۔

(ف 1) شان نزول : حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ طیبہ رونق افروز ہوئے اور انصار نے دیکھا کہ نبی ﷺ کے ذمہ مصارف ہیں اور مال میں کچھ بھی نہیں ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور حضور کے حقوق و احسانات یاد کرکے حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بہت سامال جمع کیا اور اس کو لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضور کی بدولت ہمیں ہدایت ہوئی ہم نے گمراہی سے نجات پائی ہم یہ مال خدام آستانہ کی خدمت میں نذر کرنے کے لیے لائے قبول فرماکرہماری عزت افزائی کی جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضور نے وہ اموال واپس فرمادیے۔
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ2 لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے ، اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر اپنی (رحمت و حفاظت کی) مہر لگا دے اللہ باطل کو مٹایا کرتا ہے ار دین حق کو اپنی باتوں سے ثابت کرتا ہے بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے۔

گناہوں کا کفارہ۔ (ف 2) مشرکین مکہ کہتے کہ محمد ﷺ قرآن کی آیتیں خود بنالیتے ہیں اور یہ مشہور کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے مشرکین کی اس بات کا جواب تو سورة بقرہ میں گزرچکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ امی شخص تو درکنار کوئی پڑھا ہوا آدمی بھی ایسی غیب کی باتیں نہیں بتلاسکتا، اس لیے ہر ایک سمجھدار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اسی بات کا جواب یہاں دیا ہے کہ جھوٹ اللہ کو بہت ناپسند ہے اسی واسطے قرآن کے مخالف لوگ قرآن کے مقابلہ میں جو چھوٹی باتیں کہتے ہیں ان کو دن بدن اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے اور قران کی باتوں کو پھیلاتا ہے اس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اللہ تو جھوٹی باطل بات کو محوفرمادیتا ہے اور حق اور سچی بات کو اپنے معجزات اپنی دلیلیں اپنے مقدس کلمات و احکام ظاہر کرکے خوب ثابت کردیتا ہے جس میں پھر شک کی گنجائش نہیں رہتی، چناچہ کفر کو بلکل باطل اور سلام کو ہدایت ثابت فرمایا دیا وہ تو سب کے دلوں کا حاکم یہ ان کے اچھے برے ارادوں کا عالم ہے پھر فرمایا کہ اگر اب بھی یہ لوگ اپنی باتوں سے توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرکے ان کے پچھلے گناہوں کو معاف کردیتا ہے پھر فرمایا کہ اس کو اپنے بندوں کے سب کام معلوم ہیں توبہ کی صورت میں اپنے علم کے موافق اسے پچھلے گناہوں کو معاف کردینا کچھ مشکل نہیں ہے اور توبہ کے بعد جو لوگ فرمانبردار بن کر نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں ان کی ہر ایک التجا کو وہ سنتا ہے اور ان کی التجا سے بڑھ کر اپنے فضل سے ان کو دیتا ہے ہاں جو لوگ دین کی باتوں کے منکر ہیں اگر وہ بغیر توبہ کے مرجائیں گے ان کو عقبی میں سخت عذاب بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 42:25–27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی (رحیم) ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (گزشتہ) گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کو جانتا ہے۔

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی دعا قبول فرماتا ہے جو لوگ ایمان لائے اور چھے عمل کیے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (انعام ) دیتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور1 اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو بیشک زمین میں ضرور فساد کرتے و لیکن وہ اندازہ سے رزق اتارتا ہے جتنا چاہتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں (کے حالات) کو جاننے والا دیکھنے والا ہے۔

(ف 1) اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کو انجام خوب معلوم ہے اس سے وہ ہر ایک کی مصلحت کو دیکھ کر رزق کا انتظام فرماتا ہے امیر و غریب سب یکساں ہوجائیں تو کوئی کسی کی نہ سنے اور دنیا کے انتظام میں فتور پڑجائے، اب جس طرح دنیا کا کام چل رہا ہے کہ امیر لوگوں کو غریبوں کے کام کام سے مدد ملتی ہے اور غریبوں کو امیروں کے روپیہ پیسہ سے ، امیروں اور غریبوں کے یکساں ہوجانے میں یہ انتظام قائم نہیں رہ سکتا۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور1 وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے اور وہی ہے کارساز سب تعریف کیا گیا۔

(ف 1) اس آیت میں مینہ کے برسنے کا، آسمان و زمین اور آسمان و زمین کی مخلوقات کے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر منکرین حشر کو یوں قائل کیا کہ جس صاحب قدرت نے پہلی دفعہ یہ سب کچھ پیدا کیا، دوبارہ پیدا کرنا بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے کہ کیونکہ یہ ہر شخص کا عقلی تجربہ ہے کہ جو کام ایک دفعہ کیا جاچکا وہ دوسری دفعہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 42:29–30

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان کے درمیان ہر قسم کے چلنے والے جانور پھیلائے اور وہ انکے اکٹھا کرنے پر جب چاہے قادر ہے۔

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور2 جو کچھ تم کو مصیبت پہنچی ہے تو وہ اس گناہ کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کیا ہے اور بہت کچھ تو وہ معاف فرما دیتا ہے۔

مسلمانوں کی تکالیف ان کے گناہوں کا کفارہ۔ (ف 2) حضرت علی ؓ نے فرمایا، مسلمانوں کے لیے قرآن شریف میں یہ آیت بڑی فضیلت کی آیت ہے کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے اس آیت کی تفسیر سنی ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں جو کچھ درد پہنچتا ہے وہ دنیا میں ہی ان کے گناہوں کا بدلہ ہوجاتا ہے اور بہت سے گناہ اللہ تعالیٰ یوں ہی بغیر بدلہ کے معاف کردیتا ہے ۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری اور ابوہریرہ سے جو روایتیں ہیں کہ ایمان دار شخص کو ایک کانٹا چبھنے کی تکلیف ہو تو وہ بھی گناہ کا کفارہ ہے ۔ مسند امام احمد میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آدمی کے جب گناہ بہت ہوجاتے ہیں تو اللہ ان گناہوں کے کفار کے طور پر اس شخص کو کسی رنج میں مبتلا کردیتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب مسلمان کو کوئی مرض یا کوئی رنج یاغم دنیا میں ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح خزاں کے موسم میں درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا بخار کو برا نہیں کہنا چاہیے اس سے انسان کے گناہ جھڑتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ دنیا میں مسلمان کو جانی ومالی جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ اس کے بعض گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے ، بخاری ومسلم کی حدیث میں وارد ہے کہ انبیاء (علیہ السلام) گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اور معصوم ہوتے ہیں اور اگر ان کو دنیاوی دکھ پہنچتا ہے تورفع درجات کے لیے ہوتا ہے۔
Ayah 42:31

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم زمین1 میں قابو سے نہیں چل سکتے، اور خدا کے سوا نہ کوئی تمہارا دوست ہے اور نہ مددگار۔

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو مصیبتیں تمہارے لیے مقدور ہوچکی ہیں ان سے کہیں بھاگ نہیں سکتے، کہ اس کے عذاب سے بچ کر کہیں بھاگ جاؤ اور خدا کے عذاب سے کوئی تمہارا رشتہ دار، عزیز قریب نفع دینے والا، اور نہ کوئی گناہ گار جو مدد کرے اور بچالے۔
Ayah 42:32

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور2 اس کی نشانیوں میں سے سمندر میں چلنے والے جہاز ہیں جیسے پہاڑ

(ف 1) ان آیتوں میں منکرین قدرت کے قائل کرنے کے لیے فرمایا یہ پہاڑ کے پہاڑ کشتیاں پانی کو پھوڑ کر جو دریا میں پھرتی ہیں اللہ چاہے تو ہوا کو روک دے جس سے وہ چلتی ہیں تو وہ ایک ہی جگہ کھڑی رہ جائیں، پانی کے اوپر قائم رہیں ، ان کشتیوں میں خدا کی قدرت کی عجیب نشانیاں ہیں اور نہایت عبرت ونصیحت ہر صبر والے کے لیے جو طاعت ومصیبت پر کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے اور اگر خدا چاہے تو ان کشتی والوں کی نافرمانی کے سبب اور ان کے برے کاموں کے بدلے دریاؤں میں ان کو ہلاک اور پاش پاش کردے، مگر وہ رحمت کرتا ہے بہت سے گناہ معاف کردیتا ہے جس سے لوگوں کی اکثر بلائیں ایک وقت مقررہ تک ٹل جاتی ہیں خدا یہ باتیں اس لیے بیان کرتا ہے کہ جو رسول و قرآن کی حقیقت میں جھوٹا خرافات جھگڑا نکالتے ہیں وہ خوب جان لیں کہ جب ان کی سزا کا وقت مقرر آجائے گا تو پھر ایسے لوگ بھاگ کرجانے کی کہیں جگہ نہ پائیں گے۔
Ayahs 42:33–36

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر اللہ چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے پس جہاز سمندر کی پیٹھ پر کھڑے رہ جائیں، بیشک اس معاملہ میں نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے شکر گزار (یعنی مومن) کے لیے۔

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا اگر چاہے تو ان جہازوں کو غرق کردے لوگوں کے گناہوں کے سبب سے اور بہت کچھ معاف فرما دے۔

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں وہ جان لیں کہ انہیں بھاگنے کی کہیں جگہ نہیں۔

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

پس3 جو کچھ تم کو دیا گیا ہے محض وہ چند روزہ دنیا کی زندگی کا اسباب ہے، اور جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔

دنیا چند روزہ ہے۔ (ف 3) ان آیتوں میں فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے یہ سب دنیا کی جیتی دم کی زینت اور آراستگی ہیں کچھ باقی نہ رہے گا اور آخرت میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ان سب دنیا کی نعمتوں سے لاکھوں درجے بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جس کو کبھی فنا نہیں جانتے ہو کس کے لیے ہے۔ کامل مسلمان کی خوبیاں۔ ہاں وہ ان کے لیے ہے جو رسول قرآن پر ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر ہر بات میں بھروسہ رکھتے ہیں اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں اور زناوغیرہ سے دور بھاگتے ہیں ، احکام الٰہی کو مانتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور جب کسی بات پر غصہ ہوتے ہیں تو بردباری کرتے ہیں بدلہ نہیں لیتے معاف کردیتے ہیں اور جب کوئی دینی یا دنیوی کرنا چاہتے ہیں اور اس کا ارادہ کرتے ہیں تو پہلے اس کا آپس میں بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں پھر کام کرتے ہیں اور ہم نے جو ان کو روپیہ پیسہ مال وغیرہ دیا ہے اسمیں سے اللہ کی راہ میں خوب صدقہ خیرات کرتے ہیں اور جب انہیں کوئی ستاتا ہے ظلم کرتا ہے ان سے سرکشی بغاوت کرتا ہے تو وہ انصاف اور حقانیت سے بدلہ لیتے ہیں غصہ میں حد سے نہیں گزرتے ، اور جو شخص بدلہ لینے کی جگہ معافی سے کام لیوے گا تو اس کا ثواب اللہ پر ہے اس کو بہت ثواب عطا فرمائے گا خدا ظل کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا، ہاں جو مظلوم ہوا اور اپنا بدلہ لینا چاہے برابر برابر، تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کوئی گناہ نہیں ، کیونکہ وہ تو اپنا حق لیتا ہے اعتراض اور گناہ تو اس پر ہے جو خواہ مخواہ لوگوں کو ستاتا ہے اور ان پر ابتلاء ظلم کرتا ہے اور بےانصاف زمین می ناحق بغاوت کرتا ہے تو ایسوں کو سخت عذاب درد ساں پہنچے گا اور جو ظلم پر صبر کرے گا اور بخشش کرے گا بدلہ نہ لے گا تو یہ بہت بڑا مرتبہ ہے اور نہایت بہتر ہے اور عالی درجے کا امر ہے۔