41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 41:1–2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

یہ1، (کلام) بڑے رحم والے مہربان کی طرف سے اتارا گیا ہے

(ف 1) مشرکین کہتے تھے کہ یہ قران اللہ کا کلام نہیں، محمد ﷺ نے خود بنالیا ہے اس واسطے اللہ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور طرح طرح سے اس باب میں مشرکین کو قائل کیا ہے کہیں فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو کلام الٰہی نہیں جانتے تو اس کے مانند کچھ آیتیں بناکریہ بھی پیش کریں ، یہاں فرمایا کہ ان ہی لوگوں کی زبان میں یہ قرآن ایسا نازل کیا گیا ہے جس میں پہلی کتابوں کے سچے قصے ہر طرح کے احکام، دنیا کی پیدائش کا، اور دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد کا یہ حال یہ سب باتیں تفصیل سے ہیں اور امی رسول پر یہ باتیں اتاری گئی ہیں جس سے ہر سمجھدرا شخص کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آسکتی ہے کہ امی تو درکنار کوئی پڑھالکھا آدمی بھی اس طرح کی غیب کی باتیں ہرگز نہیں بتلاسکتا، پھر فرمایا اس قرآن کی نصیحت پر عمل کرنے والوں کو عقبی کی بہبودی اور نہ عمل کرنے والوں کو عقبی کی خرابی، اگرچہ اس قرآن میں اچھی طرح سے بتلادی گئی ہے مگر ان مشرکین میں سے اکثر لوگ قرآن کی نصیحت کے سننے سے مکڑائی کرتے ہیں اور نبی ﷺ سے کہتے ہیں کہ قرآن کی نصیحت کے سمجھنے سے ہمارے دل غلاف میں ہیں، اسی طرح اس نصیحت کے سننے سے ہمارے کان بہرے ہیں اور ہمارے تمہارے درمیان ایساپردہ ہے جو ایک کو دوسرے سے ملنے نہیں دیتا، گویا ہم تم کو نصیحت کرتے ہوئے آنکھوں سے دیکھتے بھی نہیں، اس لیے تم اپنے دین پر رہو، اور اپنے خدا سے ہماری ہلاکت کی دعا مانگو، اور فکر کو ہم اپنے دین پر قائم ہیں تمہارے خلاف جو ہوسکے گا کریں گے اور اپنے خداؤں سے مددمانگتے ہیں۔
Ayahs 41:3–6

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں واضح کی گئی ہیں حالانکہ قرآن عربی (زبان میں) ہے ایسے لوگوں کے لیے نافع ہے جو دانش مند ہیں

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

ایمانوالوں) کو خوش خبری دیتا اور منکروں کو ڈرسناتا ہے پس ان میں سے اکثر نے منہ پھیرا پس وہ سنتے ہی نہیں

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور وہ (مشرکین نبی ﷺ سے کہتے ہیں کہ جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہمارے دل اس بات سے غلاف میں ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ ہے پس تم اپنا کام کرو بیشک ہم بھی اپنا کام کرتے ہیں

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

تم فرماؤ ، آدمی،1، ہونے میں تو (ظاہرا) تم جیسا ہی آدمی ہوں ، میری2، طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا رب ایک ہی معبود ہے پس اس کی طرف سیدھے متوجہ ہو اور اس سے بخشش طلب کرو اور مشرکوں کے لیے بڑی خرابی ہے

مشرکوں کو جواب۔ (ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں کی باتوں کے جواب میں کہہ دو کہ ظاہر میں کہ میں دیکھا بھی جاتا ہوں میری بات سنی بھی جاتی ہے اور میرے اور تمہارے درمیان بظاہر کوئی جنسی مغایرت بھی نہیں ہے تو تمہارا یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ میری بات نہ تمہارے دل تک پہنچے نہ تمہارے سننے میں آئے اور میرے تمہارے درمیان کوئی پردہ ہو، اگر بجائے میرے کوئی گیر جنس جن یافرشتہ آتا تو تم کہتے کہ کہ نہ وہ ہمارے دیکھنے میں آئیں نہ ہم ان کے کلام کو سمجھ سکیں، ہمارے ان کے درمیان توجنسی مخالف ہی بڑ اپردہ ہے لیکن یہاں تو ایسا نہیں کیونکہ میں بشری صورت میں جلوہ نما ہواتو تمہیں مجھ سے مانوس ہونا چاہیے اور میرے کلام کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی بہت کوشش کرنا چاہیے، کیونکہ میرا مرتبہ بہت بلند ہے اور میرا کلام بہت عالی ہے اس لیے کہ میں وہی کہتا ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے۔ فائدہ : نبی ﷺ کا بالحاظ ظاہر ، انابشر مثلکم، فرمانا حکمت ہدایت و ارشاد کے لیے بطریق تواضع ہے اور جو کلمات تواضع کرنے والے کے علو منصب کی دلیل ہوتے ہیں چھوٹوں کا ان کلمات کو اس کی شان میں کہنا یا اس سے برابری ڈھونڈنا ترک ادب اور گستاخی ہوتا ہے تو کسی امتی کو روا نہیں کہ وہ حضور سے ہم مثل ہونے کا دعوی کرے یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ آپ کی بشریت بھی سب سے اعلی ہے ہماری بشریت کو اس سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ (ف 2) میری طرف خدا نے بذریعہ جبرائیل (علیہ السلام) وحی بھیجی ہے جو تمہارا معبود ہے وہ یکتا ہے اس کے لیے لڑکانہ شریک، اس کی طرف متوجہ ہو کفر سے توبہ کرو، حق پر قائم رہو توحید پرچلو، استغفار کرو ورنہ مشرکین کے لیے بڑی خرابی ہے آگے منع زکوۃ سے خوف دلانے کے لیے فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ زکوۃ کو منع کرنا ایسا برا ہے کہ قرآن کریم میں مشرکین کے اوصاف میں ذکر کیا گیا ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو مال بہت پیارا ہوتا ہے تو مال کا راہ خدا میں خرچ کرڈالنا، اس کے ثبات و استقلال اور صدق واخلاص نیت کی قوی دلیل ہے اور حضرت ابن عباس نے یہاں فرمایا کہ زکوۃ سے مراد توحید کا معتقد ہونا اور لا الہ الاللہ کا کہنا، اس تقدیر پر معنی یہ ہوں گے کہ جو توحید کا اقرار کرکے اپنے نفسوں کو شرک سے باز نہیں رکھتے۔
Ayahs 41:7–8

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

وہ جو زکوۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

بیشک1، جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے ایساثواب ہے جو کبھی موقوف ہونے والا نہیں

باری تعالیٰ کا فضل وکرم۔ (ف 1) جو لوگ ایمان لائے اور خالصا للہ اعمال صالحہ کیے ان کے لیے جنت کا ثواب ملے گا، جو کبھی موقوف نہ ہوگا، یا ناقص نہ ہوگا، یا کہ ان پر احسان جتاکران کو شرمندہ نہ کیا جائے گا یا کہ ان کا ثواب بعد ان کی موت کے بھی ان کو ملتا رہے گا یہ بھی کہا گیا کہ یہ آیت بیماروں اور اپاہجوں اور بوڑھوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو عمل وطاعت کے قابل نہ رہیں، انہیں وہی اجر ملے گا جو تندرستی میں عمل کرتے تھے بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جب بندہ کوئی عمل کرتا ہے اور کسی مرض یا سفر کے باعث وہ عامل اس عمل سے مجبور ہوجاتا ہے تو تندرستی اور اقامت کی حالت میں جو کرتا تھا ویسے ہی اس کے لیے لکھے جاتے ہیں۔
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

تم2، کیا تم اس (اللہ ) کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور تم اس کے لیے ہمسر مقرر کرتے ہو اور وہ سارے جہان کا پروردگار ہے

اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ کس قدرتعجب کا مقام ہے کہ کفار اللہ کی وحدانیت اور صفات کمالیہ کا انکار کرتے جس صاحب قدرت اور صاحب علم نے زمین اور آسمان کو اور یہ سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ جس میں اس کا کوئی شریک نہیں پھر یہ کفار اس کی تعظیم میں بتوں کو جو شریک کرتے ہیں جو ایک ذرہ کا بھی اختیار نہیں رکھتے، یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے پھر فرمایا اس صاحب قدرت نے زمین میں پہاڑوں کی بوجھل میخیں ٹھونک دیں جس سے زمین خوب جم گئی اور یہ پہاڑوں کی میخیں زمین کے اوپر کے رخ سے اس لیے ٹھونکی گئیں کہ ان کا بڑا حصہ باہر نکلا رہے، جس سے دریا اور ندیاں ان میں سے جاری ہوں اور سورج کی شعاع ان پر پڑ کر ان میں طرح طرح کے جواہرات پیدا ہوتے رہیں اور ہر زمین کی پیداوار میں یہ برکت رکھی کہ ایک اناج کے دانے سے ہزاروں دانے ایک میوہ کی گھٹلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوتے ہیں یہی انسان کی خوراکیں ہیں جن کا زمین سے نکلنا ٹھہرایا گیا ہے یہ سب کام چاردن میں ہوا، دودن میں زمین پیدا کی گئی اور دودن میں اس کے متعلقات کا بندوبست ہوا، جو پوچھے یوچھنے کا ارادہ رکھتا ہو اسے بتلادو، پوچھنے والوں کے لیے واضح بیان ہے آگے فرمایا کہ وہ صاحب قدرت پانی کی بھاپ سے آسمان کے پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوا اور اس پانی کی بھاپ اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں یا خوشی سے منظور کرو نہیں تو تمہیں مجبور کیا جائے گا، ان دونوں نے خوشی سے اللہ کا حکم منظور کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پانی کی بھاپ سے سات آسمان دودن میں بنائے اور ہر ایک آسمان میں فرشتے دریاجو کچھ پیدا کرنا تھا اس کے پیدا ہوجانے کا حکم دیا، آسمان دنیا کو روشن ستاروں سے زینت اور شیاطین کو آسمان کی خبروں سے باز رکھنے کے لیے تارے پیدا کیے یہ تدبیر خدائے غالب کی ہے جو کافروں سے بدلہ لینے والا ہے اور ممالک کے تدابیر اور ہر راز کا جاننے والا ہے۔
Ayahs 41:10–14

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اس نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ پیدا کیے اس (زمین) میں برکت رکھی اور اس میں (اس کے رہنے والوں ) کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملا کر چاردن میں ہوا پوچھنے والوں کے لیے بیان واضح ہے

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں سا تھا پس آسمان سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں حاضر ہو تو خواہ خوشی سے ہو یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کی کہ ہم خوشی سے حاضر ہوئے

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پس انہیں دوروز میں پورے سات آسمان بنادیے اور ہر آسمان میں اس کے کام کے احکام بھیجے اور آسمان دنیا کو ہم نے چراغوں سے زینت دی اور ہم نے اس کی محافظت کی یہ خدا غالب علم والے کی تدبیر ہے

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پس اگر منہ پھیریں وہ (مشرکین ) پس تم فرماؤ کہ میں تم کو ایسے مہلک عذاب سے دڑاتا ہوں جیسا عاد اور ثمود پر عذاب آیا تھا

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جبکہ ان کے پاس ان کے آگے1، اور ان کے پیچھے سے پیغمبر آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، (کفار) بولے اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتارتا پس جس چیز کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اسے نہیں مانتے

کافروں کے قدم بقدم چلنے کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اگر یہ کفارلوگ اس سیدھی سیدھی نصیحت کو ٹال دیویں اور شرک وکفر سے باز نہ آویں تو اے محبوب ﷺ ان سے کہہ دیاجائے کہ میں تم کو عاد اور ثمود جیسے عذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ جو تمہارا حال ہے وہی انکا تھا کہ جس طرح آگے پیچھے ایک کے بعد ایک وہ قومیں پیدا ہوئیں اسی طرح آگے پیچھے ان کے پاس پیغمبر بھیجے گئے اور پیغمبروں نے ان قوموں کو خالص اللہ کی عبادت کرنے کی نصیحت بھی کی مگر جس طرح بےٹھکانے کی باتیں اللہ کے رسول سے تم لوگ کرتے ہو کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا، تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے ایسی ہی باتیں ان کافروں نے اللہ کے پیغمبروں سے کیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سخت آندھی کے عذاب سے قوم عاد کو اور سخت چیخ اور زلزلہ سے قوم ثمود کو اللہ نے ہلاک کیا اگر انہیں کافروں کے قدم بقدم تم لوگ بھی چلتے رہے اور کفر وشرک سے باز نہ آئے تو ایک دن یہی انجام تمہارا بھی ہوگا، آخر کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کے عذاب کے وقت اپنے انصاف کے موافق اپنے رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار پرہیزگار لوگوں کو اس عذاب سے بچادیا، اور باقی لوگوں کو ہلا کردیا، رسولوں کو جھٹلانے والے لوگ یہ جو کہتے تھے کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا، فرشتہ ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب سورة الانعام میں جو دیا ہے اسکا حاصل یہ ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا تو انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لیے اگر آسمان پر سے کوئی فرشتہ بھی رسول بناکربھیجا گیا تو ضرور وہ انسان کی صورت میں ہوگا، جس سے ان لوگوں کو یہی بےٹھکانے کی باتیں باقی رہیں گی یہ جو فرمایا تھا بہ نسبت دنی ا کے عذاب کے ایسے لوگوں کا آخرت کا عذاب بڑا رسوائی کا ہوگا آگے فرمایا کہ رسوا کرنے کے لیے ایسے لوگوں کی جماعت بندی سب اہل محشر کے سامنے کی جائے گی اور ان میں سے جو لوگ اپنی بداعمالی کے منکر ہوں گے ان کے کان آنکھ اور ہاتھ پیروں سے ان کی بداعمالی کی گواہی دلواکر ان کو رسوا کیا جائے گا قوم عاد اور قوم ثمود کا قصہ سورة الاعراف اور سورة الشعراء میں تفصیل سے گزرچکا ہے۔
Ayahs 41:15–22

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

پس جو وہ عاد کے لوگ تھے انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہنے لگے کہ طاقت میں ہم سے زیادہ سخت کون ہے ؟ کیا انہوں نے دیکھا کہ وہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ ہے اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

پس ہم نے ان پر اور انکی شامت کے دنوں میں ایک سخت گرج کی آندھی بھیجی تاکہ ہم ان کو اس دنیا کی زندگانی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور بیشک آخرت کے عذاب میں سب سے بڑی رسوائی ہے اور انکی مدد نہ کی جائے گی

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور وہ جو ثمود کے لوگ تھے پس ہم نے ان کو راہ دکھائی تو انہوں نے گمراہی کا بمقابلہ ہدایت کو پسند کیا پس ان کو ذلت کے عذاب کی سخت آواز نے پکڑ لیا بسبب اس بداعمالی کے جو وہ کرتے تھے

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کو نجات سے جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے تھے

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے پس ان کے اگلوں کو روکیں گے

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

(یہاں تک) کہ پچھلے آملیں یہاں تک کہ جب وہاں (دوزخ میں) پہنچیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں (یعنی دوسرے اعضاء) ان پر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور (اس وقت) وہ اپنی کھالوں (یعنی اعضاء) سے کہیں گے کہ تم نے ہم پر کیوں گواہی دی، وہ (اعضاء) جواب دیں گے کہ ہم کو اس اللہ نے گویائی دی جس نے ہر چیز کی گویائی (بولنے کی قوت ) دی اور اس نے تم کو اول بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تمہیں پھرنا ہے

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اورف 1، تم (گناہ کرتے وقت) اس سے کہاں چھپ جاتے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں گے لیکن تم گمان کرتے تھے کہ جو تم کرتے ہو اس میں سے بہت سے کاموں کو اللہ نہیں جانتا

کافروں کی نافرمانی۔ (ف 1) شان نزول : صحیحین ، ترمذی اور مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ لوگ حرم شریف میں جمع تھے اور آپس میں یہ باتیں کررہے تھے کہ کیا خدا ہماری باتوں کو سنتا ہے ایک نے ان میں سے کہا کہ اگر ہم پکار کر بات کریں گے تو خدا سنے گا ورنہ نہیں دوسرے نے جواب دیا کہ خدا سب طرح سنتا ہے اس پر اللہ تعای نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ غیر سے چھپ کر گناہ کرتے ہیں یہ خبر نہیں کہ ہاتھ پاؤں بتلاویں گے ان سے بھی پردہ کریں اور کرنا بھی چاہتے تو اس کی قدرت کہاں تھی، اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا یقین ہی نہ تھا، سمجھتے تھے کہ جو چاہو کرتے رہو، کون دیکھ بھال کرتا ہوگا، اگر پوری طرح یقین ہوتا کہ خدا ہماری تمام حرکات سے باخبر ہے اور اس کے ہاں ہماری پوری مثل محفوظ ہے تو ہرگز ایسی شرارتیں نہ کرتے۔
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اورف 2، یہ تمہارا گمان جو غلط گمان تم نے اپنے پروردگار کے ساتھ کیا اس نے تم کو ہلاک کیا۔ پس تم ٹوٹے پانے والوں (نقصان اٹھانے والوں) میں ہوگئے

(ف 2) اوپر کی آیت میں ذکر تھا پردہ کی باتوں کو مشرک لوگ اللہ کے علم سے باہر گمان کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے اس گمان نے ان کو ہلاک اور ٹوٹے میں ڈالا ہے کیونکہ اسی گمان کے سبب سے ان لوگوں کو کثرت گناہوں کی جرات بڑھ گئی ہے گناہ کرتے رہے اور اسی گمان میں رہے کہ ان کے بہت سے گناہ اللہ کے علم سے باہر ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ ان کے اس گمان کو جھوٹا کرکے ان کے سب گناہ ان کو جتلادے گا اور اس کی سزا دوزخ کی آگ قرار پائے گی ۔ اور ان سے کہہ دیاجائے گا کہ اب تم اس آگ کی مصیبت پر صبرو کرو، یاجھوٹے عذر پیش کرکے غل شور مچاؤ کسی طرح اب اس آگ سے تم کو نجات نہیں کیونکہ یہ دوزخ کاٹھکانہ ہمیشہ کے لیے ایسے لوگوں کا گھرقرار پایا ہے سورة الزخرف میں آئے گا کہ جو لوگ یاد الٰہی سے غافل رہتے ہیں شیطان ان پر مسلط ہوجاتا ہے کہ دم بھر کے لیے ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا، اور نیک کاموں سے ہمیشہ ان کو روکتا رہتا ہے اور برے کاموں کو ایسی اچھی صورت میں ان کو دکھلاتا ہے کہ برے کاموں کی برائی ان پر ظاہر نہیں ہونے دیتا، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح سے پچھلے جنات اور آدمیوں میں ان کا شمار بھی دوزخیوں میں ہوگیا، اور جنت میں ایسے لوگوں کے لیے جو ٹھکانے بنائے گئے ان کو ہاتھ سے کھودینے کا انہوں نے نقصان اٹھایا ہوا ہے۔
Ayahs 41:24–26

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اگر وہ صبرکریں تو بھی دوزخ انکاٹھکانہ ہے اور اگر وہ منانا چاہیں تو کوئی ان کا منانا نہ مانے

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (دنیا میں) ان پر کچھ ساتھی تعینات کیے پس انہوں نے انہیں بھلا کر جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور ان کے حق میں عذاب کا وعدہ ثابت ہواداخل ہوئے ان گروہوں میں جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں جنات اور آدمیوں سے بیشک وہ لوگ ٹوٹے والے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اورف 1، کافر بولے اس قرآن کو نہ سنو۔ اور اگر سنانے لگیں تو اس کے درمیان (شوروغل ) مچاؤ شاید تم غالب ہو

منکرین اسلام کی اسلام دشمنی۔ (ف 1) شان نزول : کفار قریش ایک دوسرے کو وصیت کرتے تھے کہ جب محمد ﷺ قرآن شریف پڑھیں تو زور زور سے شور کروخوب چلاؤ، اور اونچی اور نیچی آوازیں نکال کرچیخو بےمعنی کلمات سے شور کرو تالیاں اور سیٹیاں بجاؤ تاکہ کوئی قرآن سننے نہ پائے اور محمد ﷺ پریشان ہوں، اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کو سخت عذاب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے سے روکنا یارکنا خدا کا دشمن بننے کی نشانی ہے اور جن لوگوں کے بہکانے سے دوزخی لوگوں نے برے کام کیے ہیں دوزخ میں جانے کے بعد یہ لوگ کہویں گے یا اللہ ہم تو آفت میں پھنسے ہیں لیکن آدمیوں اور جنوں میں سے جن شیطانوں نے ہم کو گمراہ کیا اور اس آفت میں گرفتار کرایا ہے ذرا انہیں ہمارے سامنے کردے کہ ان کو ہم اپنے پاؤں تلے رونڈ ڈالیں، اور نہایت ذل تو خواری کے ساتھ جہنم کے سب سے نیچے طبقہ میں دھکیل دیں تاکہ انتقام لے کرہمارادل کچھ تو ٹھنڈ ہوا۔
Ayahs 41:27–29

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

پس ضرور ہم ان کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور بیشک ہم ان کو ان کے برے کاموں کا ضرور بدلہ دیں گے جو وہ کرتے تھے

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہی آگ اللہ کے دشمنو کا بدلہ ہے اسمیں انہیں ہمیشہ رہنا ہے یہ اسکی سزا ہے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم کو وہ دونوں دکھادے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا جن وانس میں سے تاکہ ہم ان کو اپنے پاؤں تلے ڈالیں تاکہ وہ سب سے نیچے رہیں1

محبوبان بارگاہ الٰہی۔ (ف 1) اللہ نے ان خدا کے دشمن لوگوں کے مقابلہ میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن لوگوں نے دل سے اقرار کیا اور اس پر قائم رہے اس کی ربوبی توالوہیت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا نہ اس یقین واقرار سے مرتے دم تک ہٹے جو زبان سے کہا تھا، اس کے مقتضی پر اعقاد اور عملا جمے رہے اللہ کی ربوبیت کاملہ کا حق پہچانا، جو عمل کیا خالص اس کی خوشنودی اور شکرگزاری کے لیے کیا اور اپنے رب کے عائد کیے ہوئے حقوق وفرائض کو سمجھا اورادا کیا اور اسی کے راستہ پر چلے ، ایسے مستقیم نیک لوگوں کی قبض روح کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور نیک لوگوں کو اللہ کی رضامندی کی اور مغفرت کی خوش خبری سناتے ہیں ۔ مسند امام احمد میں حضرت عائشہ ؓ سے صحیح روایت ہے کہ قبر کے سوال و جواب کے بعد اللہ کے فرشتے نیک لوگوں کو ان کا جنت کاٹھکانہ دکھا کر یہ خوش خبری دیتے ہیں کہ قیامت کے دن اس ٹھکانے میں رہنے اور بسنے کے لیے تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اب تم کو ڈرنے اور گھبرانے کا کوئی موقع نہیں رہا، دنیائے فانی کے سب فکر وغم ختم ہوئے اور کسی آنے والی آفت کا اندیشہ بھی نہیں رہا، اب ابدی طور پر ہر قسم کی جسمانی اور روحانی خوشی اور عیش تمہارے لیے ہے اور جنت کے جو وعدے رسول کی معرفت کیے گئے تھے وہ اب تم سے ایفا کیے جانے والے ہیں یہ وہ دولت ہے جس کے ملنے کا یقین حاصل ہونے پر کوئی فکر اور غم آدمی کے پاس نہیں پھٹک سکتا، اور کہتے ہیں کہ تمہاری زندگی میں بھی تمہارے نیک عمل لکھنے کے لیے اللہ کے فرشتے تمہارے دوست اور اب بھی تمہارے دوست ہیں اور جنت کاٹھکانہ تمہیں دکھاتے ہیں جس میں اللہ غفور الرحیم نے مہمانوں کی خاطر داری کی طرح تمہارے لیے سب کچھ تیار کررکھا ہے۔
Ayahs 41:30–33

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

بیشک وہ ولوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوشی ہو جس کا تم سے وعدہ دیاجاتا تھا

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور تمہارے لیے ہر نعمت موجود ہے جو تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

یہ بطریق مہمانی کے بخشنے والے مہربان کی طرف سے (ہوگا)

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اورف 1، اس سے زیادہ کس کی بات اچھی ہے ؟ جو لوگوں کو خدا کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے بیشک میں مسلمان ہوں

(ف 1) شان نزول۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ آیت موذنوں کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ بھی کیا گی ا ہے کہ جو کوئی کسی طریقہ پر بھی اللہ کی طرف دعوت دے وہ اس میں داخل ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کو نیک راستے پر لگاتا ہے اس کو اپنے ذاتی عملوں کے اجر کے سوا اس قدر اجر اور ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا۔
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اورف 1، نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی برائی کو بھلائی سے ٹال، پس ناگہاں وہ شخص کہ تیرے اور اس کے درمیان دشمنی ہے وہ ایسا ہوجائے گا جیسا گہرادوست ہے

قرآن میں حسن اخلاق کی تعلیم۔ (ف 1) ان آیات میں حسن اخلاق کی تعلیم فرمائی ہے یعنی خوب سمجھ لو نیکی بدی کے اور بدی نیکی کے برابر نہیں ہوسکتیں، دونوں کی تاثیر جدا گانہ ہے بلکہ ایک نیکی دوسری نیکی سے اور ایک بدی دوسری بدی سے اثر میں بڑھ کر ہوتی ہے لہذا ایک مومن کا مسلک یہ ہونا چاہیے کہ برائی کا جواب برائی سے نہ دے بلکہ جہاں تک گنجائش ہو برائی کے مقابلہ میں بھلائی سے پیش آئے اگر کوئی اسے سخت بات کہے یا برا معاملہ کرے تو اس کے مقابل وہ طرز اختیار کرنا چاہیے جو اس سے بہتر ہومثلا غصہ کے جواب میں برد باری ، گالی کے جواب میں تہذیب وشائستگی اور سختی کے جواب میں نرمی اور مہربانی سے پیش آئے اس طرزعمل کے نتیجے میں دیکھ لو گے کہ سخت سے سخت دشمن بھی ڈھیلا پڑجائے گا اور گودل سے دوست نہ بنے تاہم ایک وقت آئے گا کہ جب وہ ظاہر میں ایک گہرے دوست کی طرح تم سے برتاؤ کرنے لگے گا بلکہ ممکن ہے کہ کچھ دنوں بعد سچے دل سے دوست بن جائے اور دشمنی وعداوت کے خیالات یکسر قلب سے نکل جائیں ، ہاں کسی شخص کی طبیعت کی افتاوہی سانپ بچھوں کی طرح ہو کوئی نرم خوئی اور خوش اخلاقی اس پراثر نہ کرے وہ دوسری بات ہے مگر ایسے افراد کم ہوتے ہیں بہرحال ایسے لوگوں کو بہت زیادہ صبر و استقلال اور حسن خلق کی ضرورت ہے پھر فرمایا کبھی ایسے موقع پر شیطانی وسوسے سے بےاختیار غصہ، آجائے تو اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے ، کہ اللہ انسان کے دل کی ہر حالت کو خوب جانتا ہے وہ پناہ الٰہی کی التجاسن کر فورادل کے اس جوش کو رفع فرمائے گا صحیح بخاری ومسلم میں سلیمان بن صرد سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو غصہ میں بھرا ہوادیکھا یہ فرمایا کہ یہ شخص اگر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ کہے تو ابھی اس کا غصہ جاتا رہے۔
Ayahs 41:35–37

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

یہ خصلت بس ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جنہوں نے صبر کیا اور یہ فضیلت پس بڑے نصیب والے کو ملتی ہے

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تجھے شیطان کی طرف سے وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگ بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اورف 1، اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند ہیں نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اس خدا کو سجدہ جس نے انہیں پیدا کیا گر تم اسی کی عبادت کرتے ہو

توحید کا بیان اور اللہ کریم کی قدرت کی کامل نشانیاں۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں کہ شاید یہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ کی وحدانیت کے قائل ہوں اور شرک سے باز آویں، اس خالق صاحب قدرت نے انسان کے آرام کے لیے رات کو پیدا کیا کہ رات کو انسان آرام پاکر دوسرے دن بھی پھر کام دھندے کے قابل ہوجائے اور وہ قادر مطلق رات کے اندھیرے کو پھاڑ کر اس میں سے صبح کے اجالے کو نکالتا ہے تاکہ دن کے اجالے میں ہر ایک آدمی اپنا کام دھندہ کرے، سورج کے طلوع اور غروب سے دن رات اور مختلف موسم اسی نے پیدا کیے سورج اور چاند کی منزلیں اور چال اس حساب سے رکھیں، جس سے مہینہ اور سال کا حساب معلوم ہوتا ہے لیکن کفار لوگ ان قدرت کی نشانیوں کو پیدا کرنے والے کی شکرگزاری نہیں کرتے، اور اس کی تعظیم چھوڑ کر سورج کی پوجا کرتا ہے کوئی چاند کی یہ کافر اتنا نہیں سمجھتے کہ مثلا سورج چاند کے پیچھے اللہ نے گہن کا عیب جو لگادیا ہے ان میں اس عیب کے دور کردینے کی قدرت ہے نہیں، پھر یہ اپنے پوجا کرنیوالوں کی مدد کرنے کی قدرت کہاں سے لاویں گے اب آگے فرمایا عبادت اللہ ہی کو زیبا ہے جس نے رات دن سورج چاند سب چیزوں کو پیدا کیا پھر فرمایا اگر اس فہمائش کے بع دیہ کافر لوگ صرف اللہ کو سجدہ کرنے سے مکڑاویں اور تکبر کریں تو اللہ کو ان کی عبادت کی کچھ پروا نہیں، آسمان پر اللہ کے فرشتے رات دن اس کی عبادت کو موجود ہیں جو کسی وقت عبادت سے نہیں اکتاتے۔
Ayahs 41:38–39

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پس اگر کافر لوگ تکبر کریں تو وہ جو فرشتے تمہارے رب کے پاس ہیں ، رات اور دن اس کی پانی بیان کرتے ہیں اور وہ نہیں اوکتاتے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اورف 1، (اس کی قدرت کی ) نشانیوں میں سے یہ ہے کہ (اے مخاطب) تو زمین کو دیکھتا ہے کہ خشک پڑی ہوئی ہے پھر جب ہم نے اس پر پانی اتارا تو تروتازہ ہوئی اور بلند ہوئی بیشک ،2، جس نے زمین کو زندہ کیا البتہ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے مینہ برسنے سے پہلے زمین کیسی سوکھی پڑی ہوتی ہے ہر طرف خاک اڑتی ہوئی نظر آتی ہے لیکن جہاں مینہ پڑا پھر اس کی تروتازگی رونق اور ابھار قابل دید ہوتا ہے آخریہ انقلاب کس کے دست قدرت کے تصرف کے نتیجہ کا ہے جس خدا نے اس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیا کیا وہ مرے ہوئے انسانوں کے بدن میں دوبارہ جان نہیں ڈال سکتا، بیشک وہ سب کچھ کرسکتا اس کی قدرت کے سامنے کوئی مانع مزاحم نہیں۔ قرآن کو جھٹلانے والوں کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا انہی لوگوں کے بارے جو قرآن کی آیتوں کے سنانے کے وقت سیٹیاں اور تالیاں بجاتے ہیں اور سنتے نہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بہرے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف پڑے ہوئے ہیں ایسی ٹیڑھی باتیں کرکے جو شخص قیامت کے دن دوزخ کی آگ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پائے گا ان کے نزدیک وہ بہتر ہے یا جو قرآن کی نصیحت کے موافق عمل کرکے اپنے آپ کو اس دن کی آفتوں سے بچائے گا وہ بہتر ہے اتنی بات کو خوب سمجھ کر جو ان کا جی چاہے وہ کریں اللہ ان کے سب کاموں کو دیکھتا ہے وقت مقررہ آنے پر ان میں سے سرکشی اپنی سزا کو پہنچ جاویں گے آگے فرمایا کہ جو لوگ قرآن کی نصیحت کے سمجھنے میں ٹیرھی باتیں کرتے ہیں اور قرآن کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے کلام الٰہی ہونے کے منکر ہیں تو وہ جہنم میں جائیں گے اور یہ قرآن عزت و کرامت و شرافت والا ہے کہیں سے اس میں باطل لغو بات کو دخل نہیں وہ ہر طرح سے محفوظ ہے یا یہ کہ کوئی باطل بات اس میں نہیں نہ آگے سے نہ پیچھے سے یعنی کوئی کتاب توریت انجیل زبور اس کی مخالف نہیں اور نہ اس کے بعد کوئی کتاب ایسی آناممکن کہ اس سے مخالفت کھائے یا یہ کہ اس کی غیبی خبروں کی اور اولین وآخرین کے حالات کی نہ کوئی اگلی آسمانی کتاب تکذیب کرتی ہے نہ بعد کو کوئی کتاب ہے بلکہ سب کتب سماویہ کے مطابق ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی تسلی فرمائی کہ یہ لوگ قرآن کو جادو اور تم کو جادوگر جو کہتے ہیں اور قرآن کی نصیحت پرچلنے کے جواب میں ٹیڑھی بات کرتے ہیں اس کا کچھ خیال نہیں کرنا چاہیے، کس لیے کہ ہی بات کچھ نئی نہیں ہے پہلے رسولوں سے بھی منکر لوگ ایسی ہی باتیں کرتے آئے ہیں آخر میں فرمایا کہ جو لوگ راہ راست پر آجائیں گے ان کے لیے خدا کے ہاں معافی ہے اور جو لوگ اپنی کجروی اور ضد پر قائم رہیں گے جو آخر کار دردناک عذاب کے مستوجب ہوں گے۔