41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 41:40–44

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

بیشک وہ جو ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں اور وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں پس کیا وہ شخص جو آگ میں ڈالاجائے وہ اچھا ہے یا وہ شخص جو قیامت کے دن امن وامان کے ساتھ جنت میں آئے گا، جو جی میں آئے کرے بیشک وہ تمہارا کام دیکھ رہا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

بیشک جو لوگ قرآن کے منکر ہوئے جب وہ ان کے پاس آیا اور بیشک یہ بڑی عزت والی کتاب ہے

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس کی طرف باطل کو راہ نہیں دہ اس کے آگے اور نہ اس کے پیچھے سے وہ سب خوبیوں والے حکمت والے کی طرف سے اتارا ہوا ہے

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

اے محبوب تم سے وہی فرمایا جائے گا کہ جو تم سے پہلے رسولوں سے فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب بڑی بخشش والا ہے اور درناک عذاب والا ہے

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن کرتے تو ضرور کفار عرب کہتے کہ اس کی آیتیں (زبان عربی میں) کیوں نہیں کھولی گئیں، کیا کتاب عجمی اور مخاطب عربی تم فرماؤ، یہ قرآن ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی ہے اور یہ قرآن ان کے حق مین اندھا پن ہے گویا یہ لوگ دور جگہ سے پکارے جاتے ہیں

مشرکین کو جواب ، بےمثل قرآن مجید۔ (ف 1) شان نزول : قرآن پاک کو دیکھ کر بڑے بڑے فصحائے عرب کی زبانوں پر تالے پڑگئے تھے لیکن اپنی بڑائی سے باز نہیں آتے تھے آخرکار کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی زبان میں کیوں نازل کیا، ان کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر سواعربی کے کسی اور زبان میں قرآن کو اتارا جاتا تو کفار کہتے کہ عربی میں کیوں نہیں اترا، یہ ایسا کیوں نہیں اترا کہ ہم سمجھتے اس کی آیتیں مفصل عربی میں کیوں نہیں ہوئیں اور اعتراض کرتے کہ وہ رسول توعربی زبان والے ہیں اور قرآن عجمی ہے اے محبوب ﷺ تم کہہ دو کہ یہ قرآن تو ایمان والوں کے لیے ہدایت ہے گمراہی سے نجات ہے ان کے دلوں کی تاریکیاں دور کرنے کے لیے شفا ہے اور جو کافر ہیں ایمان نہیں لاتے ان کے کان بہرے اور آنکھیں اندھی ہیں اس واسطے نہ وہ اس قران کی نصیحت کو سن سکتے ہیں نہ اس کی خوبیوں کو دیکھ سکتے ہیں بلکہ ان کو یا اس سے بھی قرآن کی نصیحت کا سنان ان کے حق میں ایسی دور کی آواز ہے جو ان کو سنائی دیتی ہے نہ یہ اس کا کچھ مطلب سمجھ سکتے ہیں۔
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اورف 1، بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی پس اس میں اختلاف کیا گیا، اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف ایک بات پہلے سے نہ گزرچکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ ہوجاتا اور بیشک یہ لوگ قرآن کی طرف سے ایک دھوکہ ڈالنے والے شک میں ہیں

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں تورات اور یہود کی پھوٹ اور ٹیڑھی باتوں کا ذکر فرمایا ہم نے حضرت موسیٰ کو توریت دی اس میں اختلاف کیا گیا کوئی تصدیق کرتا ہے کوئی تکذیب اگر خدا کی حکمت ازلیہ سے جو ہونے والی باتیں ہو نہ چکی ہوتیں اور یہ مقدور نہ ہوگیا ہوتا تاکہ اس امت سے عذاب موخر رہے گا تو ابھی فیصلہ کردیاجاتا اور بسبب تکذیب عذاب نازل ہوجاتا اور یہود نصاری ومشرکین سب ہلاک ہوجاتے یہ لوگ قرآن کو نہین مانتے کھلے شک میں گرفتار ہیں فرمایا ایسے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیاجائے جو کوئی ان میں سے راہ راست پر آکرنیک کام کرے گا تو اچھے سے اچھا نیکی کا بدلہ اس کو ملے گا جو کوئی بدی کی حالت پر مرجائے گا تو سزا پائے گا کیونکہ بارگاہ الٰہی میں کچھ ظلم نہیں ہے بلکہ ہر ایک فیصلہ انصاف کا ہے۔
Ayahs 41:46–47

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو کوئی نیکی کرے وہ اپنے بھلے کو اور جو کوئی برائی کرے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور تمہارا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت1 کے علم کا حوالہ اللہ ہی کی طرف دیا جاتا ہے، اور کوئی پھل اپنے غلاف سے نہیں نکلتا اور نہ کسی مادہ کو حمل رہے اور نہ وہ جنے مگر خدا کے علم سے اور جس روز اللہ ان (مشرکین) کو آواز دے گا کہ میرے شریک (اب) کہاں ہیں وہ کہیں گے کہ ہم تجھے کہہ چکے کہ ہم میں کوئی گواہ نہیں۔

مشرکوں کا مسخراپن۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جہاں مشرکین کی اور مسخرا پن کی باتیں تھیں وہاں مسخراپن کے طور پر یہ لوگ اکثر قیامت کا حال پوچھا کرتے تھے کہ جس قیامت کے دن کی سزا سے ڈرایاجاتا ہے وہ آخر کب آئے گی ، مشرکوں کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ قیامت کے آنے کے وقت اور میوؤں کا درختوں کے غلافوں میں سے نکلنے کا وقت اور مادہ کے حمل کو اور اس کی ساعتوں کو اور وضع کے ووقت کو اور اس کے ناقص وغیرہ اور اچھے اور برے نرومادہ ہونے کو رب جانتا ہے پھر اللہ کے رسول ﷺ سے گھڑی گھڑی مسخراپن سے قیامت کے آنے کا وقت کیوں پوچھتے ہو، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اولیائے کرام اصحاب کشف بسا اوقات ان امور کی خبریں دیتے ہیں اور وہ صحیح واقع ہوتی ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ علم انکاذاتی نہیں اللہ کا عطا فرمایا ہوا ہے تو حقیقت میں یہ اسی کا علم ہوا غیر کا نہیں ۔ خازن) آگے فرمایا کہ اب تو یہ مشرک لوگ مسخراپن سے قیامت کے آنے کا وقت پوچھتے ہیں مگر قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ وہ جو تم نے دنیا میں گھڑ رکھے تھے جنہیں تم پوجا کرتے تھے وہ تمہارے جھوتے معبودکہاں ہیں ان کو بلاؤ کہ تم کو دوزخ کے عذاب سے بچاویں تو ان لوگوں کو سوائے اس کے اور کوئی صورت عذاب سے رہائی کی نظر نہ آئے گی، کہ یہ مشرک لوگ اپنے بتوں سے بری ہونے کا اظہار کریں گے اور شرک سے بےزاری ظاہر کریں گے اور اپنے بتوں کو بالکل بھول جائیں گے مگر اسوقت کی یہ باتین ان لوگوں کے کچھ کام نہ آئیں گی۔
Ayahs 41:48–49

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور جنہیں یہ لوگ پہلے (یعنی دنیا میں) پوجتے تھے وہ ان کی نظر سے گم ہوگئے اور سمجھ گئے کہ انہیں (عذاب الہی سے ) بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

آدمی1 بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے پس ناامید ہر اساں ہوجاتا ہے۔

(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مشرک لوگ حشر کے منکر ہیں ، ان کے ہر کام کا دارمدار دنیا کی زندگی اور دنیا کی خوب پر ہے اس لیے ان میں سے ہر ایک شخص دنیا کی خوبی کے مانگتے سے کبھی نہیں ، اکتاتا اگر ان کا بس چلے تو ساری دنیا کی دولت لے کر اپنے گھر میں ڈال لے لیکن ذرا کوئی افتاد پڑنا شروع ہوئی اور اسباب ظاہری کا سلسلہ اپنے خلاف دیکھاتو پھر مایوس اور ناامید ہوتے بھی دیر نہیں لگتی ، اس وقت اس کی نظر میں صرف پیش آمدہ اسباب پر محدود ہوتی ہے اس قادر مطلق مسبب الاسباب پر اعتماد نہیں رکھتا، جو چاہے تو ایک آن میں سلسلہ اسباب کو الٹ پلٹ کرکے رکھ دے، اس مایوسی کے بعد اگر فرض کیجئے اللہ نے تکلیف ومصیبت دور کرکے اپنی مہربانی سے پھر عیش و راحت کا سامان کردیا تو کہنے لگتا ہے یہ تو میری کوشش کا نتیجہ ہے میں نے فلاں تدبیر کی تھی اب نہ خدا کی مہربانی یادرہی نہ اپنی وہ مایوسی کی کیفیت جو پہلے قلب پر طاری تھی اب عیش و آرام کے نشہ میں ایسا مخمور ہوجاتا ہے کہ آئندہ بھی کسی مصیبت اور تکلیف کے پیش آنے کا خطرہ نہیں رہتا، سمجھتا ہے کہ ہمیشہ اسی حالت میں رہوں گا اور کہتا ہے کہ اگر مسلمانوں کے کہنے کے موافق قیامت قائم ہوئی اور مجھ کو لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہی پڑا تب بھی مجھے یقین ہے کہ وہاں میرا انجام بہتر ہوگا، اگر خدا کے نزدیک برا اور نالائق ہوتا تو یہ دنیا میں مجھ کو یہ عیش و بہار کے مزے کیونکر ملتے، لہذا وہاں بھی توقع ہے کہ یہ ہی معاملہ میرے ساتھ ہوگا، فرمایا کہ یہ گمان ان لوگوں کا بالکل غلط ہے اب تو خوش ہو لو کہ اس کفر و غرور کے باوجود ہاں بھی مزے لوٹو گے، وہاں پہنچ کر پتہ لگ جائے گا کہ منکروں کو کیسی سخت سزا بھگتنا پڑتی ہے اور کس طرح عمر بھر کے کرتوت سامنے آتے ہیں پھر فرمایا کہ جب آدمی پر احسان کرتے ہیں یعنی کافروں کو مال دیتے ہیں تو خدا کو بھول جاتا ہے شکر سے منہ پھیرلیتا ہے اور یاد الٰہی سے تکبر کرتا ہے اور بالکل بےپرواہ ہوکرادھر سے کروٹ بدل لیتا ہے ، پھر جب کوئی تکلیف اور مصیبت پیش آتی ہے اور تو اسی خدا کے سامنے ہاتھ پھیلا کر لمبی چوڑی دعائیں مانگنے لگتا، صحیح مسلم میں کہ نبی ﷺ نے فرمایا، ایماندار شخص کی نشانی یہ ہے کہ وہ تکلیف کے وقت صبر کرتا ہے اور راحت کے وقت اللہ کا شکر بجالاتا ہے۔
Ayahs 41:50–52

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر ہم اس تکلیف کے بعد جو کہ اس پر پہنچی تھی اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھا دیں تو کہے گا : یہ تو میری (کوشش کا نتیجہ) ہے اور میرے گمان میں قیامت قائم نہیں ہوگی، اور اگر (بالفرض) مجھے میرے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی گیا تو بیشک میرے لیے اس کے پاس بھلائی ہے ، پس ہم کافروں کو ضرور بتلا دیں گے جو وہ کام کرتے تھے اور ضرور ہم ان کو سخت عذاب چکھائیں گے ۔

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو (ہمارے احکام سے) منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے (یعنی یاد الہی سے تکبر کرتا ہے) اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

تم فرماؤ :1 بھلا بتاؤ اگر یہ قرآن اللہ کے پاس سے ہے پھر تم اس کے منکر ہوئے تو ایسے شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہے کہ جو اس (حق کی) مخالفت میں ثواب سے دور ہے۔

منکرین کا ذکر۔ (ف 1) اے محبوب ان کافروں سے کہہ دو کہ تم جو یوں بےدھڑک قرآن کا انکار کرتے ہو اتنا خیال نہیں کرتے اور یہ نہیں بتلاتے کہ اگر یہ قرآن خدا کے پاس سے ہو اور پھر تم لوگ اس کے جھٹلانے کے درپے رہے تو پھر تم سے بڑھ کر گمراہ اور حق کا دشمن کون ہوسکتا ہے پھر فرمایا عنقریب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی وہ نشانیاں اور ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاوے گا، جس سے یہ لوگ اچھی طرح جان لیویں گے کہ جو باتیں ان لوگوں کو سمجھائی جاتی تھیں وہ بالکل آنکھوں کے سامنے آگئیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان آیات سے مراد پچھلی امتوں کی اجڑی ہوئی بستیاں ہیں جن سے انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا حال معلوم ہوتا ہے بعض مفسرین نے فرمایا کہ ان نشانیوں سے مشرق ومغرب کی وہ فتوحات مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب اور ان کے نیاز مندوں کو عنقریب عطا فرمانے والا ہے چناچہ معرکہ بدر میں کفار مکہ نے خود اپنی جانوں کے اندر، اور فتح مکہ میں مرکز عرب کے اندر اور فتح مکہ میں مرز عرب کے اندر اور خلفائے راشدین کے عہد میں تمام جہان کے اندر یہ نمونے اپنی آنکھوں دے دیکھ لے آگے فرمایا ، اے محبوب کیا ان کے لیے یہ دلیل ومعجزہ نبوت کافی نہیں کہ ہزاروں ، امم ماضیہ (گزشتہ امتوں ) کی خبریں ان کو غیب سے بتاویں اور ان کو سینکڑوں واقعات جن کو انہوں نے دیکھاسنا بھی نہ تھا سنادیے کیا یہ اس کی کافی دلیل نہیں کہ خدا ہر چیز گواہ ہے۔
Ayahs 41:53–54

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم عنقریب ان کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دنیا بھر میں اور خود ان کی ذات میں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ بیشک وہ حق ہے ۔ کیا تمہارے پروردگار کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

آگاہ ہو بیشک1 کافر اپنے پروردگار کی ملاقات کی طرف سے شک میں ہیں، آگاہ ہو کہ خدا ہر چیز کو اپنے علم میں احاطہ کیے ہوئے ہے۔

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ مشرکین قیامت کے آنے کے بارے میں اور بعد موت اپنے رب کے پاس جانے میں اور حساب کتاب کے ہونے میں شک رکھتے ہیں خدا کے علاوہ کا یقین نہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے حالانکہ اس کے قبضہ اور احاطہ سے نکل کر نہیں جاسکتے، اگر مرنے کے بعد ان کے بدن کے ذرات مٹی میں مل جائیں یا پانی میں بہہ جائیں یا ہوا میں منتشر ہوجائیں تب بھی ایک ایک ذرہ پر اللہ کا علم اور قدرت محیط ہے ان کو جمع کرکے از سرنوزندہ کردینا کچھ مشکل نہیں۔