40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsمظہر القرآن

Ayah 40:1
Ayahs 40:2–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

کتاب1 (یعنی قرآن) کا اتارنا اللہ غالب جاننے والے کی طرف سے ہے۔

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

جو بخشنے والا گناہ کا اور (ایمانداروں کی) توبہ قبول کرنے والا ہے (کافروں پر) سخت عذاب کرنے والا (عارفوں پر) بڑے انعام والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف پھرنا ہے۔

قرآن خدا کا کلام ہے۔ (ف 1) مشرکین یہ کہتے تھے کہ یہ قران محمد ﷺ نے خود بنالیا ہے اور اس کے جواب میں جگہ جگہ فرمایا کہ امی نبی پر یہ قرآن اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ امی شخص تو درکنار اہل کتاب بھی بغیرآسمانی مدد کے وہ باتیں نہیں بتلاسکتے اس لیے اب کسی کو اس میں شک کرنے کا موقع باقی نہیں رہا۔ قرآن کلام الٰہی ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں پھر فرمایا ان سیدھی سیدھی باتوں کے سمجھانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ اللہ کے رسول اور قرآن کی مخالفت سے باز نہ آویں گے تو اللہ تعالیٰ ایسے سرکش لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے بہت سی پچھلی سرکش قوموں کی طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا جس کے قصے گھڑی گھڑی ان لوگوں خوسنادیے گئے اگر یہ لوگ ان کے قدم بقدم چلیں گے تو یہی انجام ان کا بھی ہوگا پھر فرمایا جو کوئی قرآن کی نصیحت کو مان کر پچھلی سرکشی سے توبہ کرے گا تو اللہ اس ایماندار کی توبہ قبول کرنے والا ہے اور اس کے پچھلے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور کافروں کا عذاب بہت سخت ہے اور اس کی قدرت بہت بڑی ہے اس کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکتا، پھر فرمایا جو صفتیں بیان کی گئی ہیں جب وہ مخلوقات میں سے کسی میں نہیں پائی جاتیں تولائق عبادت بھی وہی حدوہ لاشریک ہے جس کے روبرو حساب وکتاب اور نیک وبد کی جزا اور سزا کے لیے سب کو حاضر ہوناضرور ہے۔
Ayahs 40:4–6

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

اللہ1 کی آیتوں (یعنی قرآن) میں جھگڑا نہیں کرتے مگر کافر لوگ (اے سننے والے ! ) پس تجھے دھوکا نہ دے ان (کافروں) کا آنا جانا شہروں میں۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور نوح کی قوم کے بعد دوسری جماعتوں نے (پیغمبروں کو) جھٹلایا، اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کے ساتھ یہ ارادہ کیا کہ اسے پکڑ لیں (اور قتل کر ڈالیں) اور (پیغمبروں سے) ناحق جھگڑے کیے، تاکہ اس سے حق کو ٹال دیں، پھر میں نے ان کو پکڑ لیا، پس میری سزا کیسی ہوئی۔

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح کافروں پر تمہارے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ دوزخی ہیں ۔

منکرین اسلام کا انجام۔ (ف 1) شان نزول : مشرک لوگ نبی کریم ﷺ سے آن کر جھگڑا کیا کرتے تھے اور قرآن شریف کے باب میں طرح طرح کے بےادبی کے لفظ منہ سے نکالا کرتے تھے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول اور اللہ کے کلام کی مخالفت کرتے ہیں ابھی تک جو کسی وبال اور عذاب الٰہی میں نہیں پکڑے گئے اور چین سے شہر شہر تجارتیں اور تندرستی اور آرام سے گذرکر رہے ہیں ان لوگوں کے اس حال پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے ان کا کفر تو اللہ کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے وقت آتے ہی حضرت نوح کے زمانہ سے لے کر اب تک جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے مخالف لوگوں کا انجام ہواوہی ان لوگوں کا انجام ہوگا۔
Ayahs 40:7–8

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

اور جو (فرشتے) عرش (الہی) کو اٹھاتے ہیں۔ اور1 جو اس کے گرد ہیں اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے مغفرت مانگتے ہیں، (کہتے ہیں) اے ہمارے پروردگار ! تیری رحمت اور علم میں ہر چیز کی سمائی (یعنی وسیع) ہے تو ان کو بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے، اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ان کو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے باپ دادا اور ان کی بیبیوں (بیویوں) اور ان کی اولاد میں جو نیک ہوں ان کو بھی داخل کر، بیشک تو غالب حکمت والا ہے۔

ثواب و عذاب کا ذکر۔ (ف 1) اوپر کی آیات میں مجرمین ومنکرین کا حال زبوں بیان ہوا تھا یہاں ان کے مقابل مومنین تابعین کا فضل وشرف بیان کرتا ہے کہ عرش الٰہی کو اٹھانے ولے اور اس کے گرد طواف کرنے والے بیشمار فرشتے جن کی غذا صرف حق تعالیٰ کی تسبیح وتحمید ہے اور جو مقربین بارگاہ ہونے کی وجہ سے اعلی درجہ کا ایمان یقین رکھتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے آگے مسلمانوں کے لیے استغفار کرتے ہیں یا اللہ دنیا میں جو لوگ مسلمان ہیں ان کے گناہ معاف فرما کر انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے کیونکہ تیری رحمت بہت بڑی ہے کہ اپنی رحمت سے تو جس کو چاہے دوزخ کے عذاب سے بچاسکتا ہے ، اور تیرا علم ایساوسیع ہے کہ نیکوں اور بدوں کا دلی ارادہ تک تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے اس لیے جن نیک لوگوں کے باپ دادوں اور بیبیوں اور ان کی اولاد کو کہ ان کے دلون میں تیری وحدانیت ہے تو مگر نیک عملوں کے حساب سے ان کو جنت کا اعلی درجہ نہ مل سکتا ہو تو ان سب کو جنت میں اعلی درجہ پاکر خوش کردے، کیونکہ تو بڑازبردست ہے جو چاہے وہ کرسکتا ہے اور تیری حکمت ایسی بڑی ہے کہ تو نے اپنی حکمت اور تدبیر سے ایک کام کا سبب دوسرے کام کو ٹھہرایا ہے مثلاگناہ گاروں کی بخشش کا سبب تو نے شفاعت کو ٹھہرارکھا ہے اس واسطے کم نیک عمل رشتہ داروں کے حق میں یہ ہماری سفارش ہے کہ ان کو بھی جنت کا اعلی درجہ اس طرح عنایت فرما کہ انکے کچھ گناہ دوزخ کی سزا کے قابل ہوں تو اس سزابالکل بچ کر جنت میں داخل ہوجانا تیری رحمت کے آگے تو کچھ بھی نہیں مگر گناہ گاروں کے حق میں یہ بہت کامیابی کی صورت ہے۔
Ayahs 40:9–13

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور ان کو (قیامت کے دن ہر طرح کے) گناہوں کی سزاؤں سے بچا اور جس کسی کو تو اس دن گناہوں کی سزاؤں سے بچائے تو بیشک1 تو نے اس پر رحم فرمایا اور اس معاملہ میں بچانا یہی بڑی کامیابی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کافر ہوئے (قیامت کے دن) انکو پکارا جائے گا کہ ضرور تم سے اللہ کی بیزاری اس سے بہت زیادہ ہے جسے تم آج اپنی جان سے بیزار ہو جبکہ تم کو (دنیا میں) ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا پس تم کفر کرتے تھے۔

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہم کو دو بار مردہ کیا اور دو بار زندہ کیا، پس ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، پس کیا دوزخ سے نکلنے کی کوئی راہ ہے (کہا جاوے گا ہر گز نہیں) ۔

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ عذاب اس لیے ہے کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اس کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم اس کو یقین کرتے تھے، پس حکم اللہ عالی شان کے لیے ہے۔

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے روزی اتارتا ہے اور نہیں نصیحت قبول کرتا ہے مگر جو (خدا کی طرف) رجوع کرتا ہے۔

(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آکر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہرکریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر انکوقائل کرنے کے لیے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بےزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی اسے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بےزار تھ ایہ عذاب اللہ کی اس بےزاری کا نتیجہ ہے اب یہ عذاب کس طرح ٹل نہیں سکتا، فرشتوں کی یہ جھڑکی سن کر یہ دوزخی لوگ اللہ سے عرض کریں گے یا اللہ تو موت دے چکاہم کو دودفعہ اوزندگی دے چکا دودفعہ یعنی پیدا ہونے سے پہلے ہم بالکل بےجان تھے تو نے ہم کو پیدا کیا پھر ہم جان دار ہوئے پھر عمر پوری ہوجانے کے بعد تو نے ہم کو بےجان کیا، اور حساب وکتاب اور سزا وجزا کے لیے دوبارہ زندہ کیا اس لیے حشر کے انکار کے جرم کا، اور باقی سب جرموں کا اب ہم کو اقرار ہے اگر دوبارہ ہم کو دنیا میں بھیج دیاجائے تو ہم حشر کے اقرار پر قائم رہیں گے اور حشر کے سامان ک لیے نیک کام کریں گے اس کا جواب اللہ کی طرف سے یہ ملے گا کہ پہلی دفعہ جو تم لوگوں کو پیدا کیا اور تمہارا دنیا میں یہ حال تھا کہ خالص اللہ کا نام لینے سے تم کو نفرت تھی تم نے اکیلے سچے خدا کی پکار پر کبھی کان نہ دھرا، ہمیشہ اس کایا اس کی وحدانیت کا انکار کرتے رہے اور تمہارا بتوں پر ایمان تھا اب اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ اگر تم دنیا میں بھیجا گیا تو تم وہ کرو گے جو پہلی دفعہ کرکے آئے۔ اس واسطے تم کو دوبارہ دنیا میں بھیجنا لاحاصل ہے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ بلند مرتبہ اور بزرگ کا تمہارے حق میں یہی حکم ہے کہ جو کچھ تم کرکے آئے ہو اس کی سزا ہمیشہ ہمیشہ ک لیے بھگتو۔ اب آگے فرمایا کہ ان منکرین حشر کی آنکھوں کے سامنے اللہ کی قدرت کی نشانیاں بہت ہیں جن سے یہ حشر کا یقین کرسکتے ہیں ، مثلا ایک بارش کی نشانی ایسی ہیے کہ جو حشر کے یقین کے لی کافی ہے کیونکہ پہلے سال کے اناج، ہرے دانے اور ہر ایک میوے کی تازی گھٹلیاں دوسرے سال تک سوکھ کر بالکل مردہ ہوجاتی ہیں جن کو مردے کی طرح یہ لوگ بیج ڈالنے کے وقت زمین میں دفن کردیتے ہیں پھر جو صاحب قدرت آسمان پر مینہ برسا کر ان مردہ دانوں سے ہزاروں ہر اے دانے اور ان سوکھی گھٹلیوں سے ہزاروں تروتازہ میوے سال بہ سال پیدا کردیتا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں کہ ایک مینہ کی تاثیر سے ان کے پتلے تیار ہوجائیں اور جس طرح ماں کے پیٹ سے ان کے پتلوں میں روح پھونک دی جاتی ہے اسی طرح ان پتلوں میں روح پھونک دی جائے گی۔
Ayahs 40:14–20

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

پس2 تم اللہ کے خالص بندے ہوکر اس کے لیے عبادت کرو اور اگرچہ کافر برا مانیں۔

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہی (جنت میں) درجوں کا بلند کرنے والا ہے، عرش کا مالک ہے وہ اپنے بندوں میں سے اپنے حکم سے روح (یعنی وحی) نازل فرماتا ہے جس پر چاہتا ہے تاکہ (وہ صاحب وحی لوگوں کو) ملاقات کے دن (یعنی قیامت کے دن) سے ڈرائے۔

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن کہ (سب لوگ قبروں سے) بالکل ظاہر ہوجائیں گے اللہ پر ان کا کچھ حال چھپا نہ ہوگا، (اللہ فرمائے گا) : آج کس کی بادشاہی ہے۔ پھر خود ہی جواب دے گا : خاص ایک اللہ سب پر غالب کی۔

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج ہر جان اپنے کیے کا بدلہ پائے گی ، آج کس پر کچھ زیادتی نہ ہوگی، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو قیامت کے دن سے ڈراؤ جس وقت دل حلق کے پاس آجائیں گے غم سے بھرے ہوئے، (اس دن) ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی۔

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

جس کا کہا مانا جائے۔ اللہ جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے۔

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے، اور وہ مشرک خدا کے سوا جن (بتوں) کو پوجتے ہیں وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کرسکتے، بیشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

توحیدکابیان۔ (ف 2) ان آیتوں میں صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی عباد کیے جاؤ، اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی خوشی کا کچھ خیال نہ کرو، اب آگے اللہ تعالیٰ نے خالص عبادت کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا جن کے سبب سے خالص عبادت الٰہی کی ہدایت لوگوں کو ہوتی ہے اور خالص عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک رتبہ کے موافق قیامت کے دن بلند ہوگا قتادہ کے قول کے موافق یہاں روح کے معنی وحی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو نبوت کے قابل پاتا ہے اس کو نبی مقرر کرکے بذریعہ وحی کے اپنے نبی پر اس لیے احکام بھیجتا ہے کہ وہ اللہ کے نبی لوگوں کو قیامت کے دن کے عذاب سے ڈرا دیویں ۔ صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس دوسری نئی زمین پر لوگ حشر کے میدان میں کھڑے کیے جائیں گے اس زمین پر نہ کسی مکان اور پہاڑ کی کچھ علامت ہوگی نہ اور کچھ آڑ ہوگی بلکہ صاف میدان چٹیل ہوگا، اسی واسطے آگے کی آیت کے ٹکڑے میں اللہ نے فرمایا ہے کہ حشر کے دن جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو ان کی کوئی چیز اللہ سے چھپی نہ رہے گی جب نفخہ موت ہولے گا اور سب مرجائیں گے تب اکیلا خدا ہی خدا رہ جائے گا اس وقت کہے گا کہ آج بادشاہت اور مملکت کس کی ہے اور کون ملکیت کا مدعی ہے جب کچھ جواب نہ ہوگا تو خود ہی ارشاد فرمائے گا کہ صرف اللہ کی ہے جو واحد ہے کوئی اس کا شریک نہیں قہار ہے سب پر موت کا حکم دیا سب پر غالب ہے اس دن ہر جان اچھی بری اپنے اعمال کا بدلہ پائے گی کسی پر ظلم نہ ہوگا، ۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا شفاعت اہل کلمہ گناہ گاروں کے لیے ہوگی اسی واسطے مشرکوں سے کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے فرامیا کہ ان کا قیامت کے دن نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی مددگار اللہ ہر بات جانتا ہے نگاہوں کی خیانت اور چوری نامحرم کو دیکھنے اور ممنوعات پر نظر ڈالنا یا دل میں کچھ نیت کی ، یا کسی بات کا ارادہ یا خیال آیا اللہ سب بھیدوں کو جانتا ہے آگے فرمایا کہ قیامت کے دن نیک وبد کا وہی انصاف سے فیصلہ کرے گا مشرک لوگ خدا کے سوا جن بتوں کو پوجتے ہیں نہ وہ علم رکھتے ہیں نہ قدرت، یہ بت تو بالکل بت ہی ہیں نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان نہ ان میں نیک وبد کے سمجھنے کی عقل، اس لیے یہاں دنیا میں یہ مشرک لوگ اپنے بتوں کو مان لیویں قیامت کے دن تو ان مشرکوں کو پورافیصلہ اللہ ہی کے پاس اختیار میں ہوگا۔
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

تو کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا تاکہ دیکھتے جو (کافر) لوگ1 ان سے پہلے ہو کر گزرے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ؟ کہ وہ لوگ ان سے قوت میں اور ان نشانیوں میں بہت زیادہ تھے جو زمین پر (اپنی یادگار) چھوڑ گئے۔ پس اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑا، اور اللہ (کے عذاب) سے ان کا کوئی بچانے والا نہ ہوا۔

نافرمانوں کا ذکر۔ (ف 1) کیا ان کفار نے خدا کے ملک خدا کی زمین میں گشت نہیں کیا کہ کارخانہ ہائے قدرت دیکھ کر عبرت پکڑتے اور دیکھتے کہ اگلے کافروں کا کیا انجام ہواجوان سے کہیں زائد قوی تھے ان سے ہزاروں درجے ان کی یادگاریں زمین میں اب تک موجود ہیں، قلعہ مکانات وغیرہ انہوں نے کفر کیا خدا نے ان کو پکڑ لیا سزا دی اور خدا کے عذاب سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ملا کہ عذاب الٰہی سے بچاسکتا ہے، غافل کا کام ہے کہ دوسرے کے حال سے عبرت حاصل کرے، اس عہد کے کفار یہ حالات دیکھ کر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے کیوں نہیں سوچتے کہ پچھلی قومیں ان سے زیادہ قوی و توانا، اور صاحب ثروت واقتدار ہونے کے باوجود اس عبرت ناک طریقہ پر تباہ کردی گئیں۔
Ayahs 40:22–28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ سزا اس سبب سے ہے1 کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے، پس وہ کافر ہوئے تو اللہ نے ان کو پکڑا، بیشک اللہ بڑی قوت والا، سخت سزا دینے والا ہے۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور روشن سند کے ساتھ بھیجا۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان قارون کی طرف پس ان لوگوں نے کہا جادوگر ہے بڑا جھوٹا۔

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پس جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے سچا پیغام لے کر آیا تو کہہ دیا جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دو اور وہ کافروں کا داؤں (مکر و فریب) نہیں مگر تباہی۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون نے (اہل دربار سے) کہا مجھ کو چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے پروردگار کو (مدد کیلئے) پکارے۔ بیشک مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ کہیں تمہارا دین بدل دے یا زمین میں فساد پیدا کرے۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (یہ سن کر) کہا کہ میں اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں ہر تکبر کرنے والے کے شر سے جو قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتا ہے۔

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور کہا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان نے کہ جو اپنا ایمان پوشیدہ رکھتا تھا کہ کیا تم ایک مردو (محض) اس بات پر قتل کرتے ہو ؟ کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور بیشک وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے روشن نشانیاں لایا ہے، اور اگر بالفرض وہ جھوٹا ہے، پس اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر ہے، اور اگر وہ سچا ہے تو تمہیں کچھ (حصہ) اس (عذاب) کا پہنچ جائے گا جس کا وہ تم سے وعدہ دیتا ہے، بیشک اللہ راہ نہیں دکھاتا اس شخص کو کہ جو حد سے گزرنے والا جھوٹا ہو۔

(ف 1) ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ان پچھلے لوگوں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہونا فقط اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے تھا اور ان پچھلے لوگوں میں سب سے آخر فرعون کی قوم جو ہلاک ہوئی تھی اس کا قصہ بھی مثال کے طور پر ذکر فرمایا دیا، یہ اوپر گذرچکا ہے کہ پچھلے زمانہ کی تاریخی بات کو دیاد دلا کر مشابہت کے طور موجود زمانہ کی بات کے انجام کو ذہن نشین کرنا، اس مطلب کے ثابت کرنے کے لیے ایک بڑاعمدہ طریقہ ہے اسی مطلب کے لیے قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے لوگوں کے قصے ذکر فرمائے گئے اگرچہ قارون بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن تورات کے زکوۃ کے حکم پر موسیٰ کی نبوت کا منکر ہوکرانکو جادوگر کہنے لگا کہ فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ کو فرعون، اور اس کے وزیر ہامان اور قارون کے پاس نومعجزے اور قوی ظاہر دلیل دے کر بھیجا، انہوں نے کہا، کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جادوگر ہیں۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت لے کر آئے اور ہمارا حکم ان کو پہنچایا تو انہوں نے کہا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ جو لوگ ایمان لائے ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالو، اور لڑکیوں کو باندیوں بنالو، جب فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ سے عاجز آیا تو اس نے اپنی قوم کے سرداروں سے یہ مشورہ لیا کہ حضرت موسیٰ کو قتل کرڈالے، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے ارادہ کو فرعون نے ظاہر کیا تو غرور سے یہ بھی کہا کہ جس اللہ کی مدد کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دعوی ہے وہ اپنے اللہ کی مدد کے لیے اور قتل سے بچادینے کے لیے بلائے اور قوم کے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ حضرت موسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کے زندہ چھوڑنے دینے میں مجھ کو یہ خوف ہے کہ وہ تمہارے قدیمی دین کو بدلنے اور نئے دین کے پھیلانے میں ایک فساد برپاکردے گا، فرعون کے اس ارادہ کا حال سن کر حضرت موسیٰ نے منکر حشر لوگوں کی ایذا سے اس لیے اللہ کی پناہ مانگی کہ جن لوگوں کے دل میں ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا خوف ہے وہ اس طرح قتل ناحق کے درپے نہیں ہوتے اور اس قتل کے مشورہ کے وقت اس پوشیدہ مسلمان قطبی کو جوش آیا اور اس نے قوم کو نصیحت کی اے قوم کے لوگو، کیا تم ایسے شخص کے قتل ناحق کے درپے ہو کہ جو اللہ کو معبود اور اپنے آپ کو اللہ کا رسول بتلاتا ہے اور اپنے رسول ہونے کی نشانیاں ، بھی اس نے تم لوگوں کو دکھادیں، یہ ایک ہی نشانی کیا کم ہے کہ تم لوگ اس کو جادوگر کہتے ہو اور تمہارے بڑے بڑے جادوگر اس کے مقابلہ سے عاجز اور خلاف عادت باتوں کو تائید غیبی بتلاتے ہیں اس پر بھی میں کہتا ہوں کہ اگر وہ اپنے دعوی میں سچے نہیں ہیں تو خدا پر جھوٹ باندھنا کچھ چھوٹی بات نہیں ہے ایک دن ضرور ان پر اس کا وبال پڑے گا، مگر یہ تو کہو کہ اگر وہ سچے ہوئے تو سچے شخص نے جس عذاب سے تم کو ڈرایا ہے اس کا کیا انجام ہوگا، کیونکہ اسے حد سے بڑھ جانے والے لوگ بارگاہ الٰہی میں گمراہ ٹھہرچکے ہیں جو سچوں کو جھوٹا ٹھہرا کر ضد سے انہیں قتل کرڈالیں یہ میں نے مانا کہ آج ملک مصر کی حکومت تمہارے ہاتھ میں ہے جس کو تم چاہو قتل کرسکتے ہو، لیکن قتل ناحق کے سبب سے کوئی آسمان آفت ہم پر آگئی تو میرے سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے وقت پر ہماری مدد کون کھڑا ہوگا۔
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم (کے لوگو ! ) آج تمہاری سلطنت ہے کہ اس سرزمین میں غالب ہو، پس اللہ کے عذاب سے ہمیں کون بچائے گا اگر (ان کے قتل کرنے سے) وہ ہم پر آجائے۔ فرعون1 نے کہا کہ میں تو تم کو وہی بات سمجھاتا ہوں۔ جو مجھے سوجھی ہے (کہ ان کا قتل مناسب ہے) اور میں تم کو وہی بتاتا ہوں جو بھلائی کی راہ ہے۔

موسیٰ (علیہ السلام) کا توحیدی اعلان۔ (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو توحید کے اختیار کرنے کا طریقہ لوگوں کو بتلاتے تھے اس کو فرعون نے اوپر کی آیتوں میں فسادی طریقہ بتلایا اور جس دہریہ طریقہ پر آپ تھا کہ اپنے آپ کو خدا کہلوایا تھا اور لوگوں کو بت پرستی سکھاتا ہے ، اس طریقہ کو اس نے کہا یہ بھلائی کی راہ ہے یہ باتیں فرعون کی کچھ اس سبب سے نہیں تھی کہ فرعون یا اس کی قوم کو خدا کی خدائی یا حضرت موسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا کسی طرح یقین نہ آیا ہو بلکہ نخوت اور تکبر کے سبب سے وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کی فساد کی باتیں بتلاتے تھے۔
Ayahs 40:30–35

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور وہ1 بولا جو ایمان لایا تھا : " اے میری قوم ! مجھ کو تمہاری نسبت اگلی جماعتوں کے دن کا سا خوف ہے۔

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسا دستور گزرا قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والوں (یعنی قوم لوط وغیرہ) کا اور اللہ بندوں پر کسی طرح کا ظالم کرنا نہیں چاہتا۔

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! مجھ کو تمہاری نسبت اس دن کا اندیشہ ہے جس دن پکار مچے گی (یعنی قیامت) ۔

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن پیٹھ دے کر بھاگو گے (اور اس وقت) تم کو اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور بیشک اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف (علیہ السلام) روشن نشانیاں لے کر آئے، پس تم اس چیز سے ہمیشہ شک ہی میں رہے، جو وہ تمہارے پاس لائے تھے یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا، تم نے کہا : ہر گز اللہ اس کے بعد کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا اسی طرح سے اللہ گمراہ کرتا ہے اس کو جو حد سے گزرنے والا ہے، شک لانے والا ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی آیتوں میں بغیر کسی دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں کہ ان کے پاس آئی ہو (ان کا یہ جھگڑنا) اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک سخت نفرت کی بات ہے، اور اللہ اسی طرح مہر کردیتا ہے ہر تکبر کرنے والے سرکش کے پورے دل پر۔

(ف 1) اس مسلمان نے کہا جو قوم فرعون میں سے تھا کہ اے لوگو مجھ کو یہ خوف ہے کہ کہیں تم پر ایسا عذاب نہ آجائے جیسا کہ اگلی جماعتوں پر آیا ، جیسے قوم نوح کا حال ہوا تھا اور قوم عاد اور ثمود کا اور ان لوگوں کا جو ان کے بعد گزرے، دیکھو ان لوگوں کے سامنے پیغمبر ان برحق نے دعوی نبوت کیا، انہوں نے جھٹلایا اس کا نتیجہ یہ پایا کہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوئے کسی پر کسی قسم کا عذاب آیا کسی پر کسی قسم کا، پس اس لیے تم سے کہتا ہوں کہ ذراسوچ سمجھ کر کام کرو، اگر ان کا قول سچ ہوا، یعنی یہ اگر پیغمبر برحق ہوئے تو یاد رکھنا کہ سخت بلاؤں میں مبتلا ہوجاؤ گے اپنے کیے کی سزا پاؤ گے دنیا میں برباد ہوگی، اور دین بھی برباد ہوجائے گا اصل بات یہ ہے کہ جیسا کرو گے ویسابھرو گے اللہ تعالیٰ تو کسی پر ظلم کرتا ہی نہیں ظلم کرتا تو کیساظم کا قصد بھی نہیں کرتا، ہاں وہ عادل ہے ظالموں کو ظلم کی سزا ضرور دیتا ہے اگر تم ظلم کرو گے تو اپنے ہاتھ سے اپنے پہاڑوں پر کلہاڑی مارو گے ، اسی مسلمان نے یہ بھی کہا کہ اے لوگو میں قیامت کے دن سے خوف کھاتا ہوں کہ اس روز طرح طرح کی پکاریں مچی ہوں گی ، ہر شخص اپنے سرگروہ کے ساتھ اور ہر جماعت اپنے امام کے ساتھ بلائی جائے گی جنتی دوزخیوں کو اور دوزخیوں جنتیوں کو پکاریں گے نیک بختوں اور بدبختوں کو پکارا جائے گا کہ فلاں، سعید ہوا، اور اب کبھی شقی نہ ہوگا اور فلاں شقی ہوگیا اب کبھی سعید نہ ہوگا اور جس وقت موت ذبح کی جائے گی اس وقت ندا کی جائے گی کہ اہل جنت کو اب ہمیشگی ہے موت نہیں ، اور اہل دوزخ کو اب ہمیشگی ہے موت نہیں آگے فرمایا کہ تم سب کو نشیب و فراز پوری طرح سمجھا چکا، اس پر بھی تم نہ مانو تو سمجھ لو کہ تمہاری عناد اخروی کی شامت سے اللہ تعالیٰ نے ارادہ ہی کرلیا، کہ تم کو تمہارے پسند کردہ غلطی اور گمراہی میں پڑا رہنے دے، پھر ایسے گمراہ کے سمجھنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے اس ایماندار شخص نے اپنی نصیحت میں یہ بھی کہا کہ تم پہلے بھی ایسا ہی کرچکے ہو جب تمہاری ہی قوم میں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پیغمبری ملی، اور وہ معجزات لے کر تمہارے پاس آئے تو انہیں بھی تم نے نہ مانا ان کی نبوت میں بھی تمہیں شک ہی رہا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا، ان کے انتقال کے بعد بھی تم نے کفر کیا، اور کہا کہ نہ یوسف (علیہ السلام) رسول تھے، نہ اب بعد میں کوئی رسول آئے گا اس سے بڑھ کر گمراہی اور سرکشی کیا ہوگی، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے مردہ گھوڑے کو زندہ کردکھایا چھوٹے سے بچے نے ان کی پاکدامنی پر گواہی دی، ایسے ایسے معجزوں کو بھی جھوٹا سمجھا، اب اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے یدبیضا اور عصا وغیرہ معجزات باہر دیکھتے ہو اور جھٹلاتے ہو یہ سخت گمراہی ہے جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں، اور یوں بغیر سمجھے بوجھے بغیر حجت کے حجتی بنا سراسر حماقت ہے اور جو رسول و قرآن کو جھٹلاتے ہیں قیامت کے دن ان پر خدا کا بہت ہی بڑ اغصہ ہوگا، اور یہ اللہ کے نزدیک اور اللہ کے ماننے والوں کے نزدیک، بہت بڑی ہلاکت کی بات ہے اور سخت نازیبا ہے اللہ تعالیٰ ہر متکبر ظالم کے دل پر مہر بھی کردیتا ہے جس کی وجہ سے حق بات ماننے کی دل میں صلاحیت نہیں ہوتی، اس میں کافروں کو تنبیہ ہے کہ قوم فرعون پر کچھ موقف نہیں تمہارے دلوں پر بھی مہر ہوگئی ہے جیسا ان کا انجام خراب ہوا تمہارا بھی ویسا ہی ہوگا۔
Ayahs 40:36–37

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون1 نے کہا : اے ہامان ! میرے لیے ایک اونچا محل بنا شاید میں ان رستوں تک پہنچ جاؤ۔

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

(یعنی) آسمانوں کے رستوں میں تاکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کی نگاہ میں اس کے برے کام بھلے کر دکھائے گئے اور وہ ثواب کی راہ سے روکا گیا تھا اور فرعون کا داؤں (مکر و فریب) ہلاک ہونے ہی کو تھا۔

فرعون کی نافرمانی۔ (ف 1) فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک اونچا محل تیار کرو تاکہ میں اس پر چڑھ کر آسمان کے رستوں میں پہنچوں وہاں چڑھ کر ذرادیکھوں تو سہی کہ حضرت موسیٰ کا خدا کیسا ہے ؟ اور میں تو حضرت موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں مجھے تو یہ یقین نہیں کہ میرے سوا کوئی اور معبود بھی ہے فرعون نے اپنے آپ کو خدا کہلوایا اور بت پرستی پھیلائی اور شریعت موسوی کی باتوں کو خرابی کی باتیں بتلاتا، اور اپنے ان سب برے کاموں کو اچھا جانتا تھا، حضرت موسیٰ کے زندہ رہنے کے داؤ کے لیے فرعون نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لڑکے قتل کرائے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آنے کے داؤ کے لیے حضرت موسیٰ اور جادوگروں کا مقابلہ کرایا، آسمان پر چڑھنے کے لیے اونچا محل بنانے کا حکم دیا کسی داؤ میں اس کو کچھ کامیابی نہیں ہوئی ، اسی واسطے فرمایا فرعون کا جوداؤ تھا وہ مرنے اور تباہی کا تھا۔