40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsمظہر القرآن

Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اورف 1، بیشک ہم نے تم سے پہلے بہت سے رسول بھجے بعض ان میں سے وہ ہیں کہ ان کا احوال ہم نے تم کو بیان کردیا اور ان میں سے بعض وہ ہیں کہ ان کا احوال ہم نے تم سے بیان نہیں کیا اور کسی1، رسول کو مقدور نہ تھا کہ اللہ کے بغیر حکم کوئی نشانی لے آئے ، پس جس وقت اللہ کا حکم آئے گا تو انصاف سے فیصلہ کردیاجائے گا، اور اس وقت اہل باطل نقصان میں رہیں گے

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پچھلے نبیوں اور رسولوں کا تذکرہ فرما کر نبی ﷺ کی تسکین فرمائی کہ ہمیشہ سے اللہ کے نبی اور رسول آتے رہے اور منکر لوگ ان سے جھگڑا کرتے آئے ہیں اور وہ وقت مقررہ آنے کے ساتھ ہی اس طرح فیصلہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے جس سے منکروں کو بڑا نقصان پہنچا ہے اور بعض پچھلے نبی اور رسولوں کا حال تو اللہ نے اپنے کلام میں مثال کے طور پر جگہ جگہ ذکر فرمایا ہے اور کتنے ہی نبی اور رسولوں کا ذکر بھی نہیں فرمایا۔ (ف 1) شان نزول : کافر مسخراپن کے طور پر نئے نئے معجزے مانگتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 40:79–80

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ وہ2، ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کیے تاکہ تم ان میں سے کسی پر سوارہو اور کسی کا گوشت کھاؤ

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے لیے ان میں کتنے ہی فائدے ہیں اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے مقصد تک پہنچو جو تمہارے دل میں ہے اور ان پر (خشکی میں ) اور کشتیوں پر (دریا میں) سوار ہوتے ہو

اللہ تعالیٰ کے احسانات۔ (ف 2) اللہ کی وہ ذات ہے جس نے تمہارے فائدہ کے واسطے گائے اور اونٹ بکری وغیرہ جانور پیدا کیے ان میں سے کسی پر سوار ہوتے ہو اور کسی کا گوشت کھاتے ہو، اونٹ پر سوا بھی ہوتے ہیں اور اس کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور اس پر بوجھ لاد کر دور دورشہروں میں سفر کرتے ہیں اور گائے کا گوشت کھاتے ہیں اور دودھ پیتے ہیں اربیلوں سے کھیتی کرتے ہیں اور بکری کا گوشت کھاتے ہیں اور دودھ پیتے ہیں اور پھر ان سب کے بال کاٹے جاتے ہیں ان سے برتنے کی چیزیں بنائی جاتی ہیں ان کی کھال طرح طرح کے کام میں لائی جاتی ہے جیسا کہ سورة الانعام اور سورة النحل میں اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے اسی واسطے اس جگہ اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر یہ حال بیان فرمایا کہ تمہارے اور نفع ہیں خشکی کے سفر میں اونٹوں سے، اور دریا کے سفر میں کشتیوں سے کام لیاجاتا ہے۔
Ayahs 40:81–85

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اورف 3، خدا تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے پس اللہ کی کس کس نشانیوں کا انکار کرو گے ؟

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین میں سفر نہیں کیا ؟ کہ دیکھتے جو (مشرک) لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کا کیا انجام ہوا وہ لوگ ان سے بہت زیادہ تھے اور قوت میں سخت اور نشانوں میں (بھی) جو کہ زمین پر چھوڑ گئے ہیں پس جو وہ کماتے تھے ان کے کچھ کام نہ آیا

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

پس جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے تو وہ لوگ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کو دنیا میں حاصل تھا اور ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کے ساتھ وہ ہنسی کرتے تھے

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پس جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہنے لگے ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ان سب چیزوں سے منکر ہوئے جن کو ہم اس کا شریک مقرر کرتے تھے

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

پس ان کا ایمان ان کو ہرگز نفع نہیں دیتا تھا جبکہ انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا اور اللہ کا دستور ہے جو اس کے بندوں میں گزرچکا ہے اور اس وقت کافر نقصان میں رہے

آثار موت کے وقت ایمان قبول نہیں۔ (ف 3) اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لیے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے، تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخریہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں سو اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کس اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکتے، تو پھر جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں ان بتوں کو اللہ کا شریک کرنے کا کون ساحق حاصل ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ نشانی بھی عبرت کی نظر سے دیکھنے کے قابل ہے کہ پہلے لوگوں کی عمارتوں کی حیثیت سے وہ پچھلے لوگ قوت میں، مال ومتاع میں حال کے لوگوں سے بڑھ کر تھے ، لیکن اللہ اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کے سبب سے جب ان کی تباہی اور بربادی ہونے کا وقت آگیا تو ان کی قوت ، اور ان کی مالداری ان کے کچھ کام نہ آئی، اسی طرح اگر یہ لوگ بھی سمجھانے سے نہ مانیں گے اور اللہ کے رسول کی نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا، پھر فرمایا کہ اب تو یہ لوگ پچھلے لوگوں کی طرح اللہ کے رسول کی نصیحت کو مسخراپن میں اڑادیتے ہیں لیکن معلوم رہے کہ نصیحت کے سمجھنے کا وقت جب ہی تک ہے کہ غیب کی باتوں پر بغیر دیکھے آدمی ایمان لائے جب اللہ کا عذاب آجائے گا یا موت کے وقت عذاب کے فرشتے آدمی کو نظر آنے لگیں گے یا قیامت کے آثار نمودارہوکر آفتاب مغرب سے نکل آئے گا پھر نہ مشرک کا ایمان قبول ہوگا اور نہ گناہ گاروں کی توبہ قبول ہوگی، اوپرگزرچکا ہے کہ عذاب الٰہی کے آنے کے بعد غرق ہوتے وقت فرعون ایمان لای اوراقبول نہ ہوا۔ غرض دنیا نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہے مجبوری کے وقت یہ امتحان کی حالت باقی نہیں رہتی، اس لیے انتظام الٰہی میں کسی کا مجبوری کا ایمان یا مجبوری کی توبہ قبول ہونے کے قابل نہیں ہے اسی واسطے پچھلے کافرلوگوں نے مجبوری کے وقت فرمانبرداری کا اقرار کیا لیکن ان کے اس بےوقت کے اقرار نے ان کو آخرت کی خرابی سے کچھ نہ بچایا۔