40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 40:38–45

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور وہ1 ایمان والا بولا : اے میری قوم ! میری پیرو کرو میں تم کو بھلائی کا رستہ دکھاؤں۔

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے میری قوم ! یہ دنیا کی زندگانی محض چند روزہ برتنے کے لیے ہے اور بیشک ہمیشہ ٹھہرنے کا مقام تو آخرت ہی ہے۔

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو شخص برا کام کرے گا تو اس کو تو اسی کے برابر ہی بدلہ دیا جائے گا، اور وہ جو کوئی نیک کام کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان، پس وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، وہاں ان کو بےحساب رزق دیا جائے گا۔

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے میری قوم ! مجھے کیا ہوا میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھ کو دوزخ کی طرف بلاتے ہو۔

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور خدا کے ساتھ اس چیز کو شریک کروں جس کی حقیقت کا مجھے علم نہیں، اور میں تم کو خدائے غالب بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

یقینی بات ہے تم مجھ کو جس کی طرف بلاتے ہو اس کا بلاوا قبول کرنے کے لائق نہیں، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں اور بیشک ہم کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور بیشک جو لوگ حد سے گزرنے والے ہیں وہی دوزخی ہیں۔

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

پس جلد وہ وقت آتا ہے کہ جو میں تم سے کہتا ہوں اسے یاد کروگے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بیشک اللہ اپنے بندوں کے احوال کو (خوب) دیکھتا ہے۔

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

پھر اللہ نے اس کو (یعنی مومن کو موسیٰ کے ساتھ) ان کے فریبوں کی برائی سے بچا لیا اور فرعون والون کو (مع فرعون کے) سخت عذاب نے آگھیرا۔

(ف 1) سورة الاعراف میں گزرچکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ، ٹڈیوں کی، مینڈکوں کی، غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا، کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخرہرآفت کے وقت حضرت موسیٰ سے دعا کی التجا کی گئی اور حضرت موسیٰ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا اسی بات کو ایماندار شخص نے ہر ایک آفت کو سمجھایا کہ جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلارہا ہے اس طریقہ میں ہرگز نہیں بھلائی کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور پہنچتی، ہاں جس طریقہ کی حضرت موسیٰ نصیحت کرتے ہیں بھلائی کا طریقہ وہ ہے کہ اسکے طفیل تمہاری سب آفتیں رفع دفع ہوگئیں فرعون نے اپنی قوم کو حضرت موسیٰ کی پیروی سے روکنے کے لیے اپنے آپ کو مصر کا بادشاہ اور حضرت موسیٰ کو تنگ دست اور بےعزت کہا، اس بات کو ایماندار شخص نے قوم کے لوگوں کو یوں سمجھایا کہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے فرعون جیسے بہت سے بادشاہ ہوئے اور مٹ گئے اور حضرت موسیٰ کے طریقہ پر چلنے سے آخرت کی جن راحتوں کا وعدہ ہے ان کو ہمیشگی ہے اب تم ایمان لاؤ، کفر چھوڑو، اس لیے کہ جو دنیا میں برے کام کرے گا کفر اختیار کرے گا تو اس کو براہی بدلہ ملے گا یعنی دوزخ ، اور جو مرد عورت اچھے کام کرے خالصا اللہ بشرطیکہ مسلمان ہوا اخلاص والا ہو تو وہ اچھا بدلہ پائیں گے جنت میں داخل ہوں گے وہاں طرح طرح کے رزق دیے جائیں گے اور بےحساب روزی ملے گی ، اب اے قوم کے لوگوتم ہی ذراغور کرو کہ جس طریقہ کی میں نصیحت کرتا ہوں وہ طریقہ نجات کا ہے کہ اپنی پیدائش کو انکھ سے دیکھ کر پیدا کرنے والے کی ہستی کا انکار کیا جائے فرعون کو خدا مانا جائے جس کے خدا ٹھہرانے کی میرے پاس کچھ سند نہیں، اور اللہ کے معبود ہونے کی سند تم کو معلوم ہے کہ وہ اپنی بادشاہت میں ایسازبردست ہے کہ اس کی آفتوں کو سو اس کے کوئی ٹال نہیں سکتا، قصور معاف کرنے والا وہ ایسا ہے کہ ہر ایک آفت کے ٹل جانے پر تم نے اس کو معبود ٹھہرانے کا اقرار کیا، اور اس نے فقط اس اقرار پر تمہارے پچھلے قصوروں سے درگذرفرماکر ہر ایک آفت کو ٹال دیا غرض اب تک کے بیان سے جو حق بات ثابت ہوئی وہ یہی ہے کہ جس طریقہ کو فرعون نے بھلائی کا طریقہ بتلایا اس طریقہ کی بھلائی کا دنیا اور آخرت میں کچھ پتا نہیں دنیا کی بھلائی کی ناامید کے حال تم کو دنیا کی آفتوں کے وقت معلوم ہوگئے اب تم اس پر غوروفکر کرلو، جو جھوٹا خدا دنیا کی آفتوں کے ٹالنے میں عاجزٹھہرا، اس سے کیا امید ہوسکتی ہے کہ جب ہم سب اللہ کے روبرو سزا وجزا کے لیے حاضر ہوں گے اور نافرمان لوگوں کی سزا دوزخ کی آگ قرار پائے گی تو کیا اس عاجز خدا میں اس عذاب کے ٹال دینے کی طاقت پیدا ہوجائے گی اب تو اے قوم کے لوگو تم میری باتوں کو اوپری دل سے سنتے ہو مگر آگے جو کچھ کہہ رہا ہوں اسے یاد کرو گے آخر اس ایماندار شخص نے اپناانجام اللہ کے سپرد کیا اور کہہ دیا کہ سب بندوں کا احوال اللہ ہی کو معلوم ہے تفسیر مقاتل میں ہے کہ اس ایماندار شخص کی نصیحت سے غصہ ہوکر اس کو مارڈالنا چاہا اور وہ پہاڑ کی طرف چلا گیا، اور وہاں نما زمین مشغول ہوگیا فرعون نے ہزارآدمی اس کی جستجو میں بھیجے اللہ تعالیٰ نے درندے اس کی حفاظت پر مامور کردیے، جو فرعونی اس کی طرف آیا درندوں نے اس کو ہلاک کردیا، اور جو واپس گیا اس نے فرعون سے حال بیان کیا فرعون نے اس کو سولی دے دی تاکہ یہ حال مشہور نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے اس ایماندار شخص کو قوم کے لوگوں کی برائی سے بچایا، اور ایسی ایسی زیادتیوں کی سزا میں فرعون اور اس کی قوم کو ڈبو کر ہلاک کردیا۔
Ayah 40:46

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

وہ1 آگ جس پر صبح اور شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، حکم ہوگا فرعون والون کو (مع فرعون کے) سخت تر عذاب میں داخل کرو۔

عذاب قبر کابیان۔ (ف 1) حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا فرعونیوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے قالب میں ہر روز دومرتبہ صبح وشام آگ پر پیش کی جاتی ہیں اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آگ تمہارا مقام ہے اور قیامت تک ان کے ساتھ یہی معلوم رہے گا، اور قیامت کے دن اللہ فرشتوں کو حکم کرے گا کہ لوآج فرعون اور اس کی قوم کو نہایت سخت عذاب میں نیچے کے طبقے میں داخل کرو، بخاری ومسلم میں حدیث ہے کہ ہر مرنے والے پر اس کا مقام صبح وشام پیش کیا جاتا ہے جنتی پر جنت کا اور دوزخی پر دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن اس ٹھکانے میں جانے کے لیے ہر ایک شخص کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور عذاب قبر جسم اور روح دونوں پر ہوتا ہے صحیح حدیثوں سے منکرنکیر کے سوال و جواب کے وقت روح کامردہ کے جسم میں پھر آنا پایا جاتا ہے اور اس وقت کے عذاب کا ذکر جو کچھ حدیث میں آیا ہے مثلا قبر کا بھینچنا دونوں کانوں کے بیچ میں فرشتوں کا گرز مارنا اس سے بھی روح اور جسم دونوں پر عذاب قبر کا ہونامعلوم ہوتا ہے۔
Ayahs 40:47–50

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور (یاد دلاؤ) جبکہ کفار1 دوزخ میں آپس میں جھگڑیں گے تو کمزور لوگ سرکشوں سے کہیں گے : بیشک ہم (دنیا میں) تمہارے تابع تھے تو کیا تم ہم سے آگ کا کوئی حصہ دفع کرنے والے ہو۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

وہ سرکش کہیں گے کہ ہم سب دوزخ میں ہیں (ہم تمہارے ساتھ کچھ کام نہیں کرسکتے) بیشک اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ فرما چکا ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو آگ میں ہیں جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم اپنے پروردگار کی جناب میں دعا کرو کہ ہم پر عذاب کا ایک دن ہلکا کردے۔

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

داروغہ کہیں گے : کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزات لے کر نہ آئے تھے۔ کہیں گے : ہاں آئے تے۔ داروغہ کہیں گے : پس تم ہی دعا کرو، (ہم کافر کے حق میں دعا نہ کریں گے) اور کافروں کی دعا نہیں مگر تباہی کو۔

(ف 1) اے محبوب آپ اپنی قوم سے جہنم کے اندر کفار کے آپس میں جھگڑنے کا حال ذکر فرمایے کہ جب سب کفار دوزخ میں جمع ہوں گے تو آپس میں جھگڑاکریں گے کمزور لوگ سرکشوں سے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں تمہارے تابعدار تھے ، اور تمہاری بدولت ہی کافر بنے اب اتنا کرو کہ کوئی حصہ عذاب کا ہم سے دفع ہو، وہ جواب دیں گے کہ ہم سب اس میں مبتلا ہیں ہم عذاب کا کوئی حصہ دفعہ نہیں کرسکتے، اللہ فیصلہ کرچکا اپنے بندوں کے حق میں کہ ایمانداروں کو اس نے جنت میں داخل کردیا اور کافروں کو جہنم میں ، جو ہونا تھا ہوچکا، جب دوزخیوں پر عذاب کی سختی ہوگی اور صبر باقی نہ رہے گا اور خدا کو پکارتے پکارتے تھک جائیں گے تو دوزخ کے داروغہ سے کہیں گے کہ تم اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہم سے کچھ عذاب کم کردے۔ جتنا دنیا کا دن ہوتا ہے اتنی ہی دیر مہلت مل جائے داروغہ کو جواب دیں گے کیا تمہارے پاس خدا کے رسول نہیں آئے تھے کیا انہوں نے ظاہر معجزات پیش نہ کیے تھے کہیں گے کیوں نہیں، تب داروغہ ان سے کہیں گے تم خود دعا کروہم کافروں کے حق میں دعا نہ کریں گے اور نہ ہم اس عذاب سے تمہاری رہائی چاہتے ہیں ہم تم سے بےزار ہیں اس قدر تم کو جتائے دیتے ہیں کہ تم دعا کرویانہ کرو دونوں یکساں ہیں کیونکہ کافروں کی دعالائق قبول ہونے کے نہیں بلکہ بالکل بےکار اثر ہے۔
Ayahs 40:51–52

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں ضرور مدد کریں گے اور اس روز بھی گواہ کھڑے ہوں گے

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

جس دن ظالموں کا ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے براگھر ہے

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ ہم اپنے پیغمبروں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا میں مدد کریں گے ان کو غلبہ عطا فرمائیں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے یعنی قیامت کے دن کہ ملائکہ رسولوں کی تبلیغ اور کفار کی تکذیب کی گواہی دیں گے اب ان گواہوں کے بعد کافروں کا کوئی عذر نہ سناجائے گا اور رحمت الٰہی سے محروم کیا جاکر ، دوزخ میں ان کو جھونک دیاجائے گا۔
Ayahs 40:53–56

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو رہنمائی (یعنی تورایت اور امعجزات ) عطا فرمائی اور ہم نے بنی اسرائیل (ف 1) کو اس کتاب (یعنی توریت کا) کا وارث کی

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

عقل مندوں کی ہدایت اور نصیحت کے لیے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

پس اے محبوب تم کافروں کا ایذا پر صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو اور اپنے رب کی تعریف کے ساتھ صبح وشام تسبیح کرو

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

بیشک وہ (کفار) جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے ان کے پاس آئی ہو نہیں ہے دیکھنے والا ہے

منکرین کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی، یعنی توریت جو کتاب ہدایت تھی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کی کتاب اور رسول کی تابعداری پر صبر کیا، اور جس کتاب کے وہ وارث کیے گئے اس میں ان کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل کامل عطا فرمائی ، اب آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب آپ کفار کی زبان درازی اور فریب بازی پر صبر کیجئے خدا کا وعدہ حق ویقین ہے ضرور تمہاری اور تمہارے ساتھ کے مسلمانوں کی مدد ہوگی، اور دشمن ہلاک ہوں گے اور خدا سے اپنی امت کے واسطے استغفار اور بخشش چاہیں گے اور ہمیشہ رات دن صبح وشام اپنے پروردگار کی تسبیح وتعریف کریں ظاہر و باطن میں اس کی یاد سے غافل نہ ہوں پھر اللہ کی مدد یقینی ہے ، یہ حضور کو مخاطب بناکرساری امت کو سنایا، آگے فرمایا کہ اے محبوب جو لوگ خدا کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں یعنی رسول و قرآن کو نہیں مانتے جھوٹے خیالات پکاتے ہیں بغیرسند کے طرح طرح کے جھگڑے نکالتے ہیں وہ بڑے متکبر غروری ہیں ان کا یہی تکبر انکی تکذیب و انکار اور کفر کے اختیار کرنے کا باعث ہوا کہ انہوں نے یہ گوارا نہ کیا کوئی ان سے اونچا ہو اسلیے نبی ﷺ سے عداوت کی بایں خیال فاسد کہ اگر آپ کو نبی مان لیں گے تو اپنی بڑائی جاتی رہے گی اور امتی اور چھوٹا بنناپڑے گا اور ہوس رکھتے ہیں بڑے بننے کی ہرگز ہرگز بڑائی میسر نہ آئے گی بلکہ نبی ﷺ کی مخالف و انکار ان کے حق میں ذلت ورسوائی کا سبب ہوگا، اور اللہ تعالیٰ ان کے غرور اور تکبر کی باتیں سنتا ہے اور ان کے اعمال بد کو دیکھ رہا ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں وقت مقررہ پر ان سب باتوں کا فیصلہ ہوجائے گا۔
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

بیشک1، آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا آدمیوں کے پیدا کرنے سے بہت بڑا کام ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

(ف 1) شان نزول : یہ آیت منکرین بعثت کے رد میں نازل ہوئی فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا بناناآدمی کے پیدا کرنے سے بڑھ کر ہے لیکن اکثر لوگ اسے جانتے نہیں، یہ اشارہ ان کفار کی طرف ہے جو قرآن کے منکر اس وجہ سے تھے کہ اسمیں قیامت کا ذکر ہے اور ان کو قیامت کا اعتقاد نہ تھا اور مردہ کا زندہ ہونا ان کو محال نظر آتا تھا ان کو جتایا جاتا ہے کہ جس خالق نے آسمان اور زمین کو پیدا کردیا اسے آدمی کا پیدا کرنا مشکل ہے اور آدمی بھی ہزاروں پیدا کردیے، جس نے ایک بار پیدا کردیے، اسے دوسری بار پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
Ayahs 40:58–63

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور1، اندھا اور آنکھوں والا (یعنی عالم ) برابر نہیں اور نہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور نہ بدکار برابر ہیں تم لوگ بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن اکثر لوگ یقین نہیں رکھتے ہیں

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگا تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بیشک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہوکر دوزخ میں داخل ہوں گے

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پیدا کیا تاکہ اس میں آرام کرسکو اور دن کو دیکھنے کے لیے روشن پیدا کیا بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

وہ ہے اللہ تمہارا رب ہر چیز کا پیدا کرنے والا اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس (تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر) کہاں اوندھے جاتے ہو

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح وہ لوگ بھی اوندھے چلا کرتے تھے، جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے

(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں، اسی طرح ایماندار نیک کردار اور کافر بدکار برابر نہیں، کیونکہ ایماندار شخص جو نہایت بصیرت کے ساتھ صراط مستقیم کو دیکھتا اور سمجھتا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کرو اور اللہ کو پہچانتا ہے اور کافر اندھے جسے حق کاسیدھاراستہ نہیں سوجھتا، اور قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان کا اندھاپن اس لیے ہے کہ یہ اللہ کی دی ہوئی سمجھ سے کام نہیں لیتے تھے اگر ذرا بھی سمجھ سے کام لیویں تو بت پرستی ، حشر کے انکار اور ایسی اور نافرمانی کی باتوں کی برائی ان کو اچھی طرح سب کھل جائے پھر فرمایا کہ ان میں کے اکثر لوگ حشر کے منکر ہیں تو ہوں، ان کے انکار سے انتظام الٰہی کچھ پلت کر نہیں سکتا، بلکہ انتظام الٰہی کے موافق سزا وجزا کے لیے دوبارہ زندہ کرنے کی قیامت ضرور آنے والی ہے، کسی کے انکار سے اس کا آنا رک نہیں سکتا، اس واسطے اللہ کا حکم سب بندوں کو یہی ہے کہ وہ خالص دل سے اللہ کی عبادت کریں جو کوئی اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو اس کاٹھکانہ دوزخ ہے آیت میں دعا کے معنی عبادت کے ہیں حدیث شریف میں ہے الدعا ھوالعبادۃ ، اس تقدیر پر آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ تم میری عبادت کرو میں تمہیں ثواب دوں گا۔
Ayahs 40:64–65

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

ف 1، اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمانوں کو چھت بنایا اور تمہاری صورت بنائی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور تم پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار پس بڑی برکت والا ہے اللہ جو سارے جہان کا رب ہے

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہی ہمیشہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اس کے بندے ہوکر اس کی عبادت کرو سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہان کا رب ہے

(ف 1) ان آیتوں میں مثال کے طور پر سمجھانے کے لیے رات دن کے پیدا کرنے کا فضل اور احسان جتایا کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پیدا کیا کہ تم اس میں تسکین و آرام پاؤ اور دن پیدا کیا کہ چلو پھر کام دھنداکرو، روشنی میں جو کام چاہوانجام دو ، اللہ آدمیوں پر فضل و احسان والا ہے مگر اکثر آدمی شکر نہیں کرتے ایمان نہیں لاتے خدا ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے سب سے برتر ہے سوائے اس کے کوئی معبود خالق نہیں، غور کرو جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی ضرورت کی ہر چیز کو اس چیز کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر یہ کافر لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت سے کیوں پھرے ہوئے ہیں کیا انکو معلوم نہیں کہ ان کی عادتوں کے لوگ ان سے پہلے گزرچکے ہیں اور ان کا انجام جو کچھ ہوا وہ ان کو کئی دفعہ سنادیا گیا ہے کہ آخر طرح طرح کے عذابوں سے وہ ہلاک ہوگئے اگر یہ لوگ ان کے قدم بقدم رہے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔ اللہ کی قدرت کی نشانیاں۔ (ف 2) اوپر کی آیت کے بعد دوسری فضل اور احسان کا ذکر فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ مثل بچھونے کے بنایاتا کہ تم اس پرچلوپھرو، سوؤبیٹھو، ہر ایک طرح کا آرام حاصل کرو، پہاڑوں کی میخوں سے اس کو ایسا مضبوط جمادیا کہ ہل نہیں سکتی، ورنہ تم کو اس پر رہنا مشکل ہوجاتا اور آسمان کو تمہارے لیے مثل چھت کے بنادیا، اے انسانو تمہاری ماؤں کے شکموں میں صورتیں بنائیں اور ان کو نہایت عمدہ طریقہ سے بناکرسنوارا، یعنی حیوانات کی نسبت انسان کی شکل خوبصورت پیدا کی اور تم کو مزیدار چیزیں کھلائیں، یعنی جانوروں کی خوراک کے اعتبار سے انسان کی خوراک عمدہ پیدا فرمائی یا یہ کہ حلال کھانادیا، یہ تمہارا خدا ہے جس نے تم پر ایسے ایسے احسانات کیے پس اس کا شکر ادا کرو وہ بڑی عظمت و برکت والا خدا ہے سب جہانوں کا پالنے والا ہے، سب حیوان و انسان وغیرہ کا وہی اللہ ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا، اس کے سوائے کوئی معبود نہیں ، پس اے بندو اسی کی بخلوص دل عبادت کرو سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

تم (ان مشرکین سے)1، فرماؤ، بیشک میں منع کیا گیا ہوں اس سے کہ میں ان کی پرستش کروں جنہیں تم اللہ کے سواپوجتے ہو جب کہ میرے پاس پروردگار کی طرف سے روشن دلیلیں آئیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا کہ میں رب العالمین کی تابعداری کروں۔

(ف 1) شان نزول ؛ کفار نابکار نے براہ جہالت وگمراہی اپنے دین باطل کی طرف حضور ﷺ پرنور سید عالم کو دعوت دی تھی اور آپ سے بت پرستی کی درخواست کی تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 40:67–69

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی ہے جس نے1، تم کو مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر خون کی پھٹک سے پھر تم کو بچہ بناکر (اس کے پیٹ سے ) نکالتا ہے پھر تمہیں باقی رکھتا ہے کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو پھر باقی رکھتا ہے کہ تم بوڑھے ہو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی اٹھالیا جاتا ہے اور باقی رکھتا ہے کہ تم ایک وعدہ مقررہ تک پہنچو، اور (یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا ہے ) تاکہ تم سمجھو

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے پس جب کسی چیز کو پیدا کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے ہوجاپس وہ فورا ہوجاتی ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا تم نے انہی نہیں دیکھا کہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں وہ (دین حق اور ایمان) کہاں پھرے جاتے ہیں

(ف 1) وہ پروردگار جس نے تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو خاک سے بنایا اور پھر تناسل کا سلسلہ یوں قائم کیا کہ تم کو منی کے قطرہ سے پیدا کرتا ہے پھر اس قطرہ منی کو خون کی پھٹکی بنادیتا ہے پھر سب اعضاء درست کیے جاتے ہیں پھر جان ڈالی جاتی ہے پھر بچہ ماں کے پیٹ سے باہر نکلتا ہے پھر جوان بنتا ہے پھر بوڑھا ہوجاتا ہے اس تمام عمر میں کس قدرت قدرت اللہ کی ظاہر ہوتی ہے اور کس قدر احسان اللہ کے بندوں پر ہوتے ہیں، اگر انصاف کی آنکھیں میسر ہوں تو بار احسان سے سرنہ اٹھاسکے، ہر وقت اللہ کی عبادت میں رہے دنیا کے کاروبار سے نفرت ہوجائے اللہ کی یاد سے رغبت ہوجائے اولیاء اللہ جو دنیا سے بےزار ہوجاتے ہیں یہی سبب ہے کہ وہ ان معاملات کو غور کرکے دیکھتے ہیں اور اللہ کی قدرکوپہنچانتے ہیں ۔ ہم لوگ فرائض سے بھی قاصر ہیں، آگے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بعض ایسے ہیں کہ وہ بڑھاپے سے قبل ہی مرجاتے ہیں اور کوئی ماں کے پیٹ میں مرا، اور کوئی بچپن میں، کوئی لڑکپن میں اور کوئی جوانی میں مرجاتا ہے ہر ایک لیے میعاد مقرر ہے اس معیاد میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی، اور سب کی موت کا ایک وقت مقرر ہے تاکہ تم خالق کی قدرت پر غور کرو اور انواع قدرت کو دیکھ کر اس کو خالق اور معبود مانو، اب ان منکرین حشر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جس صاحب قدرت نے انسان کی پہلی پیدائش میں اپنی یہ قدرت دکھائی اس کی قدرت کے آگے یہ کیا مشکل ہے کہ وہ مٹی سے دوبارہ پتلابناکر اسی پتلے میں روح پھونک دے، پھر فرمایا پہلی دفعہ کا جینا اور مرنا اللہ کے حکم سے ہے وہ تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے دوبارہ جینے کو یہ لوگ مشکل جانتے ہیں اللہ کے حکم کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں کیونکہ جس کام کے ہوجانے کے لیے اس کا حکم ہو وہ فورا ہوجاتا ہے۔
Ayahs 40:70–77

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

جن لوگوں نے اس کتاب (یعنی قرآن کو) جو جھٹلایا اورف 1، جو کچھ ہم نے رسولوں کے ساتھ بھیجا پس وہ عنقریب جان جائیں گے

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں گھسیٹے جائیں گے

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

کھولتے پانی میں، پھر آگ کہاں میں دہکائے جائیں گے

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا جن کو تم اللہ کے سوا شریک مقرر کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

کہاں گئے کہیں گے وہ تو ہماری نظر سے گم ہوگئے بلکہ ہم اس سے پہلے ہرگز کچھ نہیں پوجتے تھے اللہ کافروں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ عذاب اس سبب سے ہے کہ تم دنیا میں باطل پر خوش ہوتے تھے اور اس سبب سے کہ تم اتراتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے کو پس کیا ہی بری جگہ ہے غرور کرنے والوں کی

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

پس تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پس اگر ہم تمہیں (تمہاری وفات سے پہلے) کچھ وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیاجاتا تھا دکھادیں یا تم کو پہلے ہی وفات دیں پس انہیں ہماری طرف پھرنا ہے

مشرکوں کی ہٹ دھرمی۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنے رسول ﷺ سے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ باوجود اس طرح تفصیل سے سمجھانے کے بھی یہ مشرک لوگ کس طرح کی ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں پھر فرمایا کہ کہ ابھی ان مشرکوں کو اس ہٹ دھرمی کے جھگڑوں کا انجام کچھ نہیں معلوم ہوتا، جس وقت اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کے جرم میں ان لوگوں کو مجرموں کی طرح طوق اور زنجیر میں جکڑ کر دوزخ میں ڈالاجائے گا اس وقت ان کو اس ہٹ دھرمی کی سب حقیقت کھل جائے گی پھر فرمایا کہ جن بتوں کی مذمت سے چڑ کر یہ لوگ آج اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں کل قیامت کے دن جب یہ مشرک اللہ کے روبرو کھڑے ہوں گے تو ان بتوں کو معبود بنانے سے صاف منکر ہوجائیں گے اور ان کا وہ انکار کچھ کام نہ آئے گا اور دوزخ میں ان کو جتلایاجائے گا کہ دنیا میں ہٹ دھرمی اور ناحق طور پر جو تم اتراتے تھے اور اللہ کی آیتوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے آج یہ اسی کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑے گا پھر اپنے محبوب کو ارشاد فرمایا کہ ان مشرکوں کے بیجا جھگڑے پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ ان مشرکوں پر ان کے بےجا جھگڑوں کا وبال اللہ کے وعدہ کے موافق دنیا میں پڑنے والا ہے فقط وقت مقررہ آنے کی دیر ہے وقت مقررہ آتے ہیں یہ مشرک زیر ہوجائیں گے اور اللہ کے رسول کا بول بالا ہوگا، اور اگر دنیا کے وبال سے بعض لوگ ان میں سے بچ گئے اور کفر کی حالت میں مر گئے تو وہ عاقبت کے عذاب میں پکڑے جائیں گے اللہ کا وعدہ سچا ہے بہت سے مشرک تو نبی ﷺ کے روبرہی زیر ہوگئے، پھر صحابہ کے زمانہ میں بہت سے ملک فتح ہوئے اور جو لوگ حالت کفر پر رہے، ان کا دین ودنیا کا انجام یہ ہوا کہ دنیا میں یہ لوگ نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتا ہوگئے۔