39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 39:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب1، (یعنی قرآن ) کا اتارنا اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے ہے

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

اے محبوب) بیشک ہم نے حق کے ساتھ یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے پس تم اللہ کی عبادت کروخالص اس کے بندے ہوکر

(ف 1) ارشادہوتا ہے کہ یہ قرآن مجید محمد ﷺ نے از خود نہیں لیا بلکہ یہ قرآن خدا کا کلام ہے خدا کی اتاری ہوئی کتاب ہے ، اے محبوب ہم نے بواسطہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تمہاری طرف کتاب اتاری جو بالکل یقین وحق ہے باطل نہیں ہے پس اے محبوب ﷺ لوگوں کو پہنچاؤ ، اور اپنے اللہ کی عبادت کرو سچے دل سے اعلی درجہ کے مرتبہ توحید محض کے ساتھ، نہایت اخلاص کے ساتھ خطاب، نبی ﷺ سے ہے مگر مراد سب امت ہے آدمیوں کو چاہیے کہ اللہ کے لیے اپنے دین کو خالص کرلیں شرک کو بو بھی باقی نہ رہے اللہ اسی عبادت کو قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو۔
Ayahs 39:3–4

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

یادرکھو خالص عبادت کرنا اللہ ہی کے لیے ہے، اورف 2، جن لوگوں نے خدا کے سوا اور دوست بنائے ہیں (کہتے ہیں) کہ ہم ان (بتوں ) کو صرف اس واسطے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کے پاس نزدیک کردیں بیشک ان میں فیصلہ کردے گا اللہ اس بات کا جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں ،1، بیشک اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو راہ نہیں دکھاتا جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر اللہ اپنے لیے اولاد بناتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا پاکی ہے اس کے لیے وہی ہے ایک اللہ سب پر غالب

(ف 2) عموما مشرک لوگ یہ ہی کہا کرتے ہیں کہ ان مورتوں اور دیوتاؤں کو اس اعتقاد سے پوجتے ہیں کہ دنیا میں اللہ کی طرف سے اگر ہم پر کوئی مصیبت آئے گی تو وہ موریں جن کو پوجتے ہیں اللہ کی درگاہ میں ان کی سفارش کرکے وہ مصیبت ٹال دیویں گی۔ یہاں اس سورة میں تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے اس غلط خیال کا مختصر یہ جواب دیا کہ جس اختلاف میں یہ مشرک پڑے ہیں ان کا فیصلہ قیامت کے دن ہوجائے گا مگر ان مشرکوں کے قیامت کے قائل نہ ہونے کے سبب سے سورة احقاف میں اللہ تعالیٰ نے ان کے غلط خیال کا جواب دنیا کی حالت کو جتلایا، جس جواب کا یہ حاصل ہے کہ پچھلی امتوں کے ہلاک ہوجانے کا ذکرفرماکر پھر یہ فرمایا کہ اگر یہ بت پرست لوگ اپنے اعتقاد میں سچے ہیں کہ جن کی مورتوں کو یہ پوجتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مصیبت کے وقت ان مورتوں کی اصلی صورتیں ان کی سفارشی بنیں گی تو پچھلے زمانہ کے بت پرستوں پر جو طرح طرح کے اللہ کے عذاب نازل ہوئے اس وقت ان سفارشیوں نے سفارش کرکے اللہ کے عذاب کی مصیبت کو کیوں نہیں ٹالا۔ (ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے جھوتے منکرلوگوں کو زبردستی راہ راست پر لانا نہیں چاہتا، کیونکہ دنیا کو اس نے نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کیا ہے زبردستی میں وہ امتحان کی حالت باقی نہیں رہتی، جھوٹ تو ان مشرکوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اولاد تجویز کرتے ہیں اللہ سب سے اعلی ، سب سے برتر ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ لڑکا نہ لڑکی۔ اگر اللہ اپنے لیے لڑکا لڑکی بنانے کا ارادہ کرتا تو اعلی درجہ کا نئی طرح کا تمام مخلوقات سے نرالا برگزیدہ کرکے نہ بناتا، بلکہ جنت کی مخلوقات میں سے کوئی عمدہ مخلوق کو اپنی اولاد قرار دیتا، اللہ ایک ہے جس کانہ کوئی شریک نہ اولاد، ہر چیز اس کے سامنے دبی ہوئی ہے اس پر کسی کا دباؤ نہیں نہ کسی چیز کی اسے حاجت، پھر اولاد بنانا آخرکس غرض سے ہوگا۔
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اس2، نے آسمانوں اوزمین کو درست تدبیر سے پیدا کیا اور وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگایا ہر ایک میعاد معین تک چلتا ہے یاد رکھو وہی غالب بخشنے والا ہے

توحید کابیان۔ (ف 2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طریقہ سے پیدا کیا بیکار بےفائدہ فضول نہیں بنایا ان میں لاکھوں حکم ہیں، اللہ کبھی رات کو دن میں داخل کردیتا ہے ، اور کبھی دن کو رات میں، یعنی کبھی دن کبھی رات، اور پھر کبھی دن بڑا رات چھوٹی، کبھی رات بڑی دن چھوٹا۔ یہ گردش زمانہ اس کی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے ، جب رات میں دن داخل ہوتا ہے اور رات بڑھ جاتی ہے جب دن میں رات داخل ہوتی ہے تو دن بڑھ جاتا ہے ، اور اس نے تو روشنی شمس وقمر کو مسخر وفرمانبردار بنایا ہے کہ تمام بنی آدم کو نفع پہنچا رہے ہیں یہ ساری گردشیں رات دن آفتاب ومہتاب کی ایک وقت معین تک کے لیے مقرر ہیں جو ہر وقت ہر آن اپنی میعاد تک چل رہے ہیں اسی زبردست قدرت سے یہ انتظام قائم ہے لوگوں کی گستاخیاں اور شرارتیں تو ایسی ہیں کہ سب انتظام درہم برہم کردیاجائے لیکن وہ بڑا بخشنے والا اور درگزر کرنے والا ہے اپنی شان عفو ومغفرت سے ایک دم ایسا نہیں کرتا۔
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اس1، نے تم کو ایک شخص (یعنی آدم) سے پیدا کیا پھر اسی ایک شخص سے اسکی بی بی (حوا) کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آٹھ جوڑے چارپایوں میں سے پیدا کیے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک طرح کے بعد دوسری طرح تین اندھیروں میں بناتا ہے یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار خاص اسی کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پس تم کہاں پھرے جاتے ہو

(ف 1) اے انسانو، خدا کی قدرت میں غور کرو کہ تم سب دنیا بھر کے انسانوں کو ایک اکیلی جان یعنی حضرت آدم سے پیدا کرڈالا، پھر حضرت آدم کا جوڑا یعنی بی بی حوا کو آدم ہی سے پیدا کیا اور تمہارے واسطے قدرت غیبی سے جانوروں کے آٹھ جوڑے اتارے، بکری، گائے، اونٹ، بھیڑ ، نر اور مادہ آٹھ ہوئے جس کا ذکر سورة انعام میں گزرچکا ہے آگے فرمایا کہ وہ خدا تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں کس کس طرح کے پلٹے دے کر پیدا کرتا ہے پہلے نطفہ کا قطرہ چھوٹا سا ہوتا ہے پھر وہی قطرہ جماہواخون ہوجاتا ہے پھر لوتھڑا بنتا ہے پھر ہڈیاں بنائیں اور ان کا گوشت منڈھا، پھر روح پھونکی اور تم تین اندھیری کو ٹھریوں میں رہتے ہو وہاں بھی تمہاری خبرگیری کرتا ہے۔ ایک پیٹ، دوسرارحم، تیسراجھلی جس کے اندر بچہ ہوتا ہے ، وہ جھلی بچہ کے ساتھ نکلتی ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی شریک نہیں تھا، پھر جو کوئی اپنے خالق اور آسمانوں اور زمین کے بادشاہ کی تعظیم اور عبادت میں بلا سبب دوسروں کو شریک کرتا ہے اور وہ راہ راست سے پھرا ہوا ہے اے غافلو، تم اپنے مالک پروردگار ایسی بڑی شان والے خدا کو چھوڑ کر کدھر بےفائدہ بھٹکتے پھر رہے ہو۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر تم1، ناشکری کرو تو بیشک اللہ تم سے بےنیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کی ناشکری پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکرگزاری کرو تو اسے تمہارے لیے پسند فرماتا ہے اور،2، یادرکھو) کوئی جان کسی دوسرے (کے گناہوں) کا بوجھ آخرت میں نہ اٹھائے گی ، پھر تم کو اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پس وہ تم کو بتادے گا جو تم کرتے تھے بیشک وہ دلوں کی باتوں کو جانتا ہے

(ف 1) اے کافرو ! تم اپنے مالک کا شکر ادا نہیں کرتے ایمان نہیں لاتے، رسول اور قرآن کے ساتھ کفر کرتے ہو، تو خوب سمجھ لو کہ خدا تمہارے ایمان کا محتاج نہیں ہے، وہ تو بےپرواہ ہے بےنیاز ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کا طریقہ پسند نہیں فرماتا، اور سوائے مذہب اسلام کے کسی مذہب کو قبول نہیں کرے گا کہ اس کا برگزیدہ پسندیدہ مذہب وہی ہے ، جو محمد ﷺ قرآن میں لے کر آئے ہیں اور اے آدمیو اگر تم شکربجالاؤ، ایمان قبول کروگے تو وہ قبول فرمائے گا تم سے راضی ہوگا۔ (ف 2) اے لوگو اپنی اپنی فکر عاقبت کرو تمہارے گناہ کا کوئی دوسرا بوجھ نہ اٹھاوے گا ایسانہ ہوگا کہ ایک کا گناہ دوسرے کے سراٹھالیا یا ایک کے کیے کا بدلہ دوسراپکڑاجائے گا یا کیے سے زائد ظلما گناہ بڑھادیے جائیں، دنیا میں چند روزہ رہنا ہے رہ لو پھر آخر کار تم سب کامرجع اسی تمہارے پروردگار کے پاس ہے سب مر کر وقت سے وہیں پہنچو گے ، وہ غافل نہیں تمہارے ہر کام کی ہر بات کی تم کو خبر دے گا کہ یہ کیا تھا دلوں کی تہہ میں جو بات چھپی ہوئی ہو اسے بھی جانتا ہے۔
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اورف 3، جس وقت انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے پس اپنے پروردگار کی جناب میں اسی کی طرف رجوع ہوکر عاجزی سے دعا کرتا ہے۔ پھر جب اللہ اپنی طرف سے اسے کوئی نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وہ جس کے لیے پہلے دعا کرتا تھا اس کو بھول جاتا ہے اور للہ کے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ لوگوں کو خدا کے راستے سے گمراہ کرلے تم فرماؤ کہ اپنے کفر سے تھوڑے دنوں اور فائدہ اٹھا لے بیشک تو دوزخیوں میں سے ہے

(ف 3) کافروں کو جب کوئی مصیبت اور سختی پہنچتی ہے بلا میں پڑتے ہیں تو اس وقت خدا یا دآتا ہے خوب خدا کو پکارتے ہیں کہ یا اللہ یہ مصیبت ٹل جائے اور اللہ سے عاجزی کرتے ہیں اس کی طرف بخضوع وخشوع متوجہ ہوتے ہیں پھر جب خدا اپنی رحمت سے وہ سختی دور کردیتا ہے اور نعمت دیتا ہے تو اب سب خد ا کی یاد بھول جاتا ہے اور مصیبت میں جو خدا کو یاد کرتا تھا وہ سب فراموش کردیتا ہے اور ایساغافل ہوجاتا ہے کہ گویا کبھی ہم سے واسطہ ہی نہ تھا، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا دوسرے جھوٹے اور من گھڑت خداؤں کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے اور ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جو خدائے واحد کے ساتھ کرنا چاہیے تھا، اس طرح خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور اپنے قول وفعل سے دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے ، اے کافرو چند روز دنیا میں اور رہ سہہ لے، کفر میں عیش اڑالے اور اس کے بعد تجھے دوزخ میں رہنا جہاں سے کبھی چھٹکارانصیب نہ ہوگا۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

کیا،1، وہ فرمانبردار جو رات کے اوقات میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عبادت کرتا ہو اور آخرت سے ڈرتا ہوں اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہو کیا وہ نافرمانوں جیسا ہوجائے گا تم فرماؤ، کیا جاننے والے اور انجان برابر ہیں مگر ان باتوں سے وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو بندہ رات کی نیند اور آرام چھوڑ کر اللہ کی عبادت میں لگا کبھی اس کے سامنے دست بستہ کھڑا رہا، کبھی سجدہ میں گرا ایک طرف آخرت کا خوف اس کے دل کو بےقرار کیے ہوئے ہے اور دوسری طرح اللہ کی رحمت کا امیدوار بندہ اور وہ بدبخت انسان جس کا ذکر اوپر ہوا کہ مصیبت کے وقت خدا کو پکارتا ہے اور جہاں مصیبت کی گھڑی ٹلی خدا کو چھوڑ بیٹھا، دونوں برابر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں ایسا ہوں تو یوں کہو کہ ایک عالم اور جاہل ، یا سمجھ دار اور بیوقوف میں کچھ فرق نہ رہا، مگر اس بات کو بھی وہ ہی سوچتے سمجھتے ہیں جن کو اللہ نے عقل دی ہے۔
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

(اے محبوب)1، میری طرف سے تم فرماؤ، اے میرے ایماندار بندو اپنے رب سے ڈرو، جنہوں نے نیک کام کیے ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے صبر کرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بیشمار ملتا ہے

ہجرت حبشہ۔ (ف 1) شان نزول : صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، کو قبل ہجرت کافرستاتے تھے ان کی تسکین کے لیے یہ آیت اتری کہ اے محبوب ﷺ برگزیدہ بندوں سے کہہ دیجئے کہ اللہ سے ڈرو اور اس کی فرمانبرداری کرو، دنیا کی چند روزہ تکلیف کا خیال نہ کرو، جو آدمی دنیا میں اچھے کام کرجائیں گے ان کو بھلائی ملے گی، یعنی مذہب مقدس توحید اور اسلام اختیار کریں گے ان کو قیامت میں جنت ورحمت ملے گی پھر فرمایا اگر ایک ملک میں لوگ نیک راہ پر چلنے سے مانع ہوں تو اللہ کی زمین کشادہ ہے ، دوسرے ملک میں چلے جاؤ، جہاں آزادی سے اس کے احکام بجالاسکو، بلاشبہ اس طرح تک وطن کرنے میں بہت مصائب برداشت کرنے پڑیں گے اور طرح طرح کے خلاف عادت وطبیعت امور پر صبر کرنا پڑے گا، لیکن یہ یاد رہے کہ بیشمار ثواب بھی ملے گا اور اس کے مقابلہ میں دنیا کی سب سختیاں اور تکلیفیں ہیچ ہیں، چناچہ نبوت کے پانچ برس کے بعد نبی ﷺ کے حکم سے اسی آدمی کے قریب مکہ سے حبشہ کو چلے گئے تھے اسی کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں مدینہ کی ہجرت کے بعد یہ لوگ پھر حبشہ سے مدینہ کو چلے آئے اسی واسطے ان لوگوں کو دوہجرتوں والا کہا جاتا ہے۔
Ayahs 39:11–16

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

ف 2، تم فرماؤ، مجھے حکم ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں خالص اس کا بندہ ہوکر

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور مجھے حکم ہے کہ (اس امت میں) سب سے پہلے میں مسلمان ہوں

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

تم فرماؤ، بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے بھی اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

تم فرماؤ مین اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں خالص اسی کا بندہ ہوکر

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

پس تم اس کے سوا جس کی چاہو پرستش کروتم فرماؤ بیشک نقصان میں وہ لوگ ہیں کہ جو اپنی جان اور اہل عیال کو قیامت کے روز ہار بیٹھے ، یادرکھو یہی صریح نقصان ہے

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے لیے ان کے اوپر آگ کے سائبان ہوں گے اور ایسے ہی ان کے نیچے بھی آگ ہوگی یہ وہ ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اے میرے بندو مجھ سے (یعنی میرے عذاب سے) ڈرو

نیک اور بد کا انجا۔ (ف 2) کافروں نے کہا، اے رسول ﷺ تم بت پرستی چھڑاتے ہو اس کو برا کہتے ہو آخرہم نے تو نہیں نکال لی، پرانے زمانوں سے بڑے بڑے عقلاء اور باپ دادا کرتے چلے آئے کسی نے بھی برا کہا، تم کو چاہیے کہ انہیں کی اتباع پرچلو، اور خلاف راہ آبائی جو باتیں کررہے ہو ان کو ترک کردو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ مجھ کو اللہ کی طرف سے یہ حکم دیاگی ا ہے کہ فقط اسی کی عبادت کروں توحید خالص نہایت اخلاص سے سچے دل سے مانوں اور اپنا دین عبادت اسی کے لیے مخصوص کردوں، اور یہ کہ اس زمانہ میں کہ توحید کا نام باقی نہ رہا ہے ، میں سب پہلے خود مسلمان ہوں بعد میں اوروں کو کروں، پھر فرمایا اے محبوب کہہ دو کہ تم تو مجھ کو اپنے دین کی طرف بلاتے ہو اور خدا کا حکم یوں ہے کہ تو اگر میں تمہارا کہا مانوں اور خدا کی نافرمانی کروں تو عذاب کا مستحق ہوجاؤں اور مجھ کو ڈر ہے کہ بڑے ہولناک دن میں مجھ کو سزا نہ ملے پھر فرمایا کہ اے محبوب ﷺ ، صاف صاف کہہ دو کہ میں تو اس دعوت توحید سے ہرگز نہ منہ موڑوں گا اور اللہ ہی کی سچے خالص دل سے عبادت کرتا ہوں اب تم کو اختیار ہے کہ جو چاہو کروجومذہب چاہورکھو جس کو چاہوپوجو، شرک کروخود ہی سزا پاؤ گے، یہ اجازت شرک نہیں بلکہ غصہ اور خفگی اور تہدید ہے اے محبوب ﷺ کہ دو کہ ٹوٹے اور نقصان والے تو وہ ہیں جو اپنے ہاتھوں اپنانقصان کررہے ہیں اپنے کو آپ مصیبت میں پھنسار رہے ہیں اور اچھی اچھی چیزیں عمدہ عمدہ گھر بار جو ان کے لیے ہیں اس کو چھوڑ کر عذاب لیتے ہیں بروز قیامت وہ ٹوٹے میں پڑیں گے اور ان کافروں کے لیے دوزخ میں آگ کے سائبان ہیں ، اوپر بھی اور نیچے بھی ہر طرف سے آگ محیط ہوگی جیسے گھٹاچھاجاتی ہے یہ عذاب ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور قرآن میں سمجھاتا ہے اے لوگو، سمجھ لو یہ چیز ڈرنے کے قابل ہے یا نہیں، اگر ہے تو اللہ کے غضب سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے۔
Ayahs 39:17–18

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور وہ1، جو بتوں کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے ان ہی کے لیے خوش خبری ہے پس تم میرے ان بندوں کو خوشخبری سنادو

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو کان لگا کر بات سنتے ہیں پھر اس کی بہترین باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے اور یہی عقل والے ہیں

(ف 1) اے محبوب ﷺ وہ اچھے بندے جنہوں نے عبادت شیطان وبت پرستی سے کنارہ کیا اور سچے دل سے خدا کی طرف متوجہ ہوئے اور تمام احکام اسلام مانے ان کو خوش خبری ہے مژدہ رحمت دیں گے جب قیامت میں جنت کا حکم ہوگا اور دروازہ پر پہنچیں گے تو مبارک سلامت کا غل ہوگا بشارت رحمت دی جائے گی اے محبوب ﷺ ان اچھے بندوں کو دنیا میں بشارت دیجئے جو بات سن کو غوروفکر کرتے ہیں اور ہر بات میں عمدہ بات جو دیکھتے ہیں اسی کو مانتے ہیں مضبوطی کی طرف توجہ کرتے ہیں شبہوں میں نہیں پڑتے، حق واضح پر اعتقاد رکھتے ہیں اور عمل کرتے ہیں وہ ایسے آدمی ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنے رستہ کی عقل سے کام لے کر توحیدخالص اور انابت الی اللہ کا راستہ اختیار کیا۔
Ayahs 39:19–21

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

پس کیا2، وہ شخص جس پر عذاب کا وعدہ ثابت ہوچکا ہے تو کیا تم (ہدایت دے کر) اس دوزخی کو بچالو گے ؟

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرے ان ک لیے جنت کے بالاخانے ہیں اور ان پر اور بالاخانے بنے ہوئے ہیں ان کے نیچے نہریں بہہ رہیں ہیں یہ اللہ نے وعدہ کیا ہے اور اللہ وعدہ کے خلاف نہیں کرتا

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

(اے مخاطب) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے زمین میں چشمے بنائے پھر اس کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں نکالتا ہے پھر جب وہ کھیتی (پک کر) خشک ہوجاتی ہے تو اس کو زرد ہوئی دیکھتا ہے پھر اسے ریزہ ریزہ کردیتا ہے بیشک اس مضمون میں عقل مندوں کے لیے بڑی نصیحت ہے

(ف 2) اے محبوب وہ شخص جس پر عذاب کا وعدہ ثابت ہوچکا اور اس کی قسمت میں معذب ہونالکھ چکا تو کیا تم ایسے شخص کو جو آگ میں دیدہ دانستہ پھنستا ہے اور یقینا بدبخت ازلی ہے عذاب دوزخ سے بچاسکتے ہو نجات دلاسکتے ہو نہیں اور ہر گز نہیں پس ان کے انکار سے غمگین نہ ہوں۔ مناظر جنت۔ لیکن وہ آدمی جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں موحد ہیں ان کے لیے جنت میں بالاخانہ ، دریچہ، محل، بلند عالیشان اور ان بالاخانوں پر اور بالاخانے مضبوط بنے ہوئے ہو اسے باتیں کرتے ہوئے آراستہ و پیراستہ ہیں انکے نیچے شراب ناب وآب صاف شفاف شیریں وشہد خالص کی نہریں رواں ہوں گی اللہ کا وعدہ مسلمانوں سے ہے جس کو وہ ہرگز خلاف نہ کرے گا اور خدا کبھی زمین میں چلاتا ہے نہریں چشمے ندیاں نالے تالاب وغیرہ، پھر انکے ذریعہ سے مختلف مختلف قسم کی کھیتیاں پھل پھول، اناج میوے گھاس وغیرہ نکالتا ہے پھر وہ قریب خشکی کے آجاتا ہے اس کا رنگ بدل جاتا ہے پہلے وہ ہرا ہر الہلہاتا تھا اب وہ زرد زرد نظرآتا ہے پھر اللہ کی قدرت اس کو سوکھی لکڑی بنادیتی ہے بھس ہوجاتا ہے یونہی دنیا اور اس کے سازوسامان اس کی عیش و عشرت اس کے رہنے والوں کی مثل ہے کہ آخر موت فناان باتوں میں عقل والوں کے لیے عبرت ونصیحت ہے۔
Ayahs 39:22–23

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

پس کیا1، وہ شخص جس کا اللہ نے اسلام کے قبول کرنے کے لیے سینہ کھول دیا ووہ اپنے رب کی طرف سے نور (یعنی ہدایت) پر ہے اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے پس خرابی ہے ان کی جن کے دل خدا کی یاد غافل ہیں وہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

اللہ نے سب سے عمدہ کتاب یعنی قران کتاب اتاری ہے جس کی آیتیں اول سے آخر تک ایک ہی ہیں دوہرے بیان والی ، اس سے ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم ہوکریاد الٰہی کی طرف راغب ہوجاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے اس کے ذریعہ سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دکھاتا ہے اور جس کو اللہ گمراہ کرے تو اس کا کوئی راہ دکھانے والا نہیں،

قرآن مقدس کتاب ہے۔ (ف 1) کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے قبول اسلام کے لیے کھول دیا اور نہ اس کو اسلام کے حق ہونے میں کچھ شک وشبہ ہے اور نہ احکام اسلام سے انکار ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو توفیق وبصیرت کا ایک نور قلب میں عطا فرمایا، جس کے اجالے میں نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ اللہ کے راستہ پر چل رہا ہے دوسرابدبخت جس کا دل پتھر کی طرح سخت ہو، نہ کوئی نصیحت اس پراثر کرے کبھی خدا کی یاد کی توفیق نہ ہوں یوں ہی کفر کی اندھیروں میں بھٹکتا پھرے ایسے سخت دل لوگوں کی بڑی خرابی ہے آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کتابوں سے اچھی اور افضل اور اعلی کتاب اتاری یعنی مضامین تاکید کے لیے اور خوب سمجھانے کے لیے مکررسہ کر رسمجھائے گئے ہیں پاس پاس دوطرح کی ذکر ہے عذاب کے پاس رحمت کا وعدہ کے پاس وعید کا، امر کے پاس نہی کا، اخبار کے پاس احکام، اس مقدس کتاب میں ہیبت اور رحمت دونوں ہیں پہلے تو اس کتاب کو سن کر ان لوگوں کے دل جو خدا سے ڈرتے ہیں ہیبت کھاجاتے ہیں رونگٹنے کھڑے ہوجاتے ہیں جسم لرزتے ہیں پھر جب رضوان ورحمت کا ذکرآتا ہے تو ان کے دل میں نرمی اور محبت کا مزہ آجاتا ہے اللہ کے ذکر کیطرف اور رغبت بڑھ جاتی ہے یہ قرآن اللہ کی ہدایت ہے خدا اس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے مقدس مذہب وسچے طریقہ کی راہ دکھاتا ہے اور جس کو خود گمراہ کرے اس کا پھر کوئی ہدایت کرنے والا نہیں۔
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

پس کیا،1، وہ شخص جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرہ کے سوا ( کیا نجات پانے والوں کے برابر ہوجائے گا) اور ظالموں سے کہا جائے گا، جو کچھ تم کرتے تھے اس کا وبال چکھو

(ف 1) صحیح و بخاری ومسلم میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے فرشتے نافرمان لوگوں کو ان کے منہ کے بل گھسیٹیں گے اور ان کو اوندھے منہ آگ میں ڈال دیں گے جس سے پہلے پہل ان کے منہ کو دوزخ کی آگ جھلس دیوے گی اس کو فرمایا کہ جس نے منہ کے بل گھسیٹے جانے اور اوندھے منہ آگ میں ڈالے جانے سے اپنے آپ کو بچا کر جنت میں داخل ہونے کی سروخروئی حاصل کی وہ بہتر ہے یا جو اس عذاب میں گرفتار ہواوہ بہتر ہے پھر فرمایا کہ نافرمان لوگ جب اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے تو ان کو ذلیل کرنے کے لیے اللہ کے فرشتے ان سے کہویں گے کہ تم لوگ دنیا میں جیسے جیسے کام کرتے تھے ان کی سزا میں اب یہ دوزخ کا عذاب چکھو۔
Ayahs 39:25–26

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں1، بھی پیغمبروں کو جھٹلایا، پس ان پر (خدا کا) اس جگہ سے عذاب آیا کہ جہاں سے ان کو خبر نہ تھی،

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے ان کو اسی دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا اور بیشک آخرت کا عذاب بہت سخت ہے کاش اگر وہ جانتے

(ف 1) ان کافروں سے پہلے بھی ایسے لوگ گزرچکے ہیں جنہوں نے سخت دلی سے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور ایسے لوگوں کا آخر انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت کے ناگہانی عذاب میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پکڑ لیا، دنیا کے عذاب کا نتیجہ تو فقط اتنا ہی ہوا کہ وہ لوگ ہلاک ہوگئے مگر آخرت کا عذاب سمجھ دار کے لیے بہت سخت ہے کہ وہاں طرح طرح کا عذاب ہے۔
Ayahs 39:27–28

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور بیشک2، ہم نے لوگوں (کی ہدایت) کے لیے اس قرآن میں ہر ایک طرح کی مثال بیان کردی ہے تاکہ وہ لوگ نصیحت پکڑیں

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

ہم نے عربی زبان کا قرآن نازل کیا جس میں ذرا اختلاف نہیں ، اس لیے کہ وہ پرہیزگاری کریں

(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے لوگوں کے ہدایت کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی، اب بھی نہ سمجھنا اپنی غفلت اور حماقت سے ہے ، قرآن کے سمجھانے میں کوئی کمی نہیں کہ قرآن تو بات بات کو مثالوں اور دلیلوں سے سمجھاتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں اور اپنی عاقبت درست کریں، قرآن ایک صاف عربی زبان کی کتاب ہے جو اس میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں سیدھی اور صاف باتیں ہیں جن کو عقل سلیم قبول کرتی ہیی کس طرح کا اختلاف اس کے مضامین یا عبارت مین نہیں جن باتوں کو منوانا چاہتا ہے نہ ان کا ماننا مشکل اور جن چیزوں پر عمل کرانا چاہتا ہے نہ ان پر عمل کرانا محال ، غرض یہ کہ لوگ بہ سہولت اس سے مستفید ہوں اور اعتقادی وعملی غلطیوں سے پرہیزگاری اختیار کریں۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

اللہ ایک ،1، مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک (غلام) مرد میں کئی بدخو آقا شریک ہیں اور ایک (دوسراغلام) خالص ایک ہی مالک کا ہے تو کیا ان دونوں (غلام) کی حالت برابر ہے ؟ (ہرگز نہیں) سب خوبیاں اللہ کے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر جانتے نہیں

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی ایک بندہ تو ایسا ہے کہ اس کے بہت سے مالک شریک ہیں اور وہ سب آپس میں مختلف طبیعت کے ہیں ایک ایک بات خوش دوسرا ناراض کوئی کچھ کہتا ہے کہ کوئی کچھ کوئی کہیں بھیجتا ہے کوئی کہیں، آیا ایسا بندہ سب کو خوش کرسکتا ہے کبھی نہیں سب اس سے ناراض رہیں گے اور ایک بندہ ایسا ہے کہ اس کا مالک ایک ہی ہے وہ ہر وقت اس ایک ہی کی طرف متوجہ ہوکر رہتا ہے خالص دل سے اس کو مالک جانتا ہے آیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ان دونوں کا ایک حال ہوسکتا ہے ہرگز نہیں ، الحمدللہ حق واضح ہوگیا سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں کہ کیسے اعلی مطالب وحقائق کو کیسی صاف اور دل نشین مثالوں اور شواہد سے سمجھادیتا ہے مگر اس پر بھی اکثر بدنصیب ایسے ہیں جو ان واضح مثالوں کے سمجھنے کی توفیق نہیں پاتے۔
Ayah 39:30

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

بیشک تمہیں2، انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے

(ف 2) اس میں کفار کا رد ہے جو نبی ﷺ کی وفات کا انتظار کیا کرتے تھے انہیں فرمایا گیا کہ خود مرنے والے ہوکر دوسرے کی موت کا انتظار کرنا حماقت ہے کفار تو زندگی میں بھی مرے ہوئے ہیں اور انبیاء کی موت ایک آن کے لیے ہوتی ہے پھر انہیں حیات عطا فرمائی جاتی ہے اس پر بہت شرعی دلیلیں قائم ہیں۔
Ayah 39:31

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر3 تحقیق تم قیامت کے روز اپنے پروردگار کے سامنے ایک دوسرے سے جھگڑو گے

(ف 3) انبیاء (علیہ السلام) امت پر حجت قائم کریں گے کہ انہوں نے رسالت کی تبلیغ کی اور دین کی دعوت دینے میں جہد بلیغ صرف فرمائی اور کافر بےفائدہ معذرتیں پیش کریں گے یہ بھی کہا گیا کہ مراد اختصام عام ہے کہ لوگ دنیوی حق میں مخاصمہ کریں گے اور ہر ایک اپنا حق طلب کرے گا۔
Ayahs 39:32–35

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

پس1 اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور حق کو جھٹلایا جب وہ اس کے پاس آیا، کیا دوزخ میں کافروں کی جگہ نہیں

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور (یعنی رسول کریم ﷺ) سچا دین (یعنی توحید) لے کر تشریف لائے اور ہو (یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ) جنہوں نے ان کی تصدیق کی، یہی لوگ پرہیزگار ہیں

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

ان کے لیے ہے جو کچھ وہ چاہیں اپنے پروردگار کے پاس سے، یہی نیکی کرنے والوں کا صلہ ہے

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان سے اس برے کام کو دور کردے جو انہوں نے کیا ہے، اور انہیں ان کے اچھے کام کا صلہ دے جو وہ کرتے تھے

شرک کابیان۔ (ف 1) اللہ کے شریک اور اولاد قرار دینا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اور جو انبیاء سچی باتیں خدا کی طرف سے لائے ان کو سنتے ہی جھٹلانے لگاسوچنے سمجھنے کی تکلیف بھی گوارانہ کی بلاشبہ جو شخص سچائی کا اتنا دشمن ہو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے اور ان سے ظالموں کاٹھکانہ دوزخ کے سوا اور کہاں ہوگا، پھر فرمایا جو سچا دین اور قرآن شریف رسول کریم لوگوں کی ہدایت کے لیے لائے اور امت میں کے وہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ جنہوں نے اللہ کے رسول اور کلام کو دل سے سچاجان کر اس کی نصیحت کے موافق عمل کیا، اس کاٹھکانہ جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہ اسی وقت موجود ہوجائیں گے آخر کو فرمایا خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ایسا ہی صلہ دے گا جو نعمت وہ چاہیں گے وہ ان کو ملے گا اور اللہ ان کو نیکوں کی جزا دے گا اور بدیوں پر گرفت نہ کرے گا۔
Ayahs 39:36–37

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا1 اللہ اپنے بندہ (محمد ﷺ کی مدد) کے لیے کافی نہیں ہے، اور یہ (کافر) لوگ تمہیں ان (جھوٹے معبودوں) کا خوف دلاتے ہیں جو اللہ کے سوا ہیں، اور جس کو اللہ گمراہ کرے، پس اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جس کو اللہ راہ دکھائے پس اس کے لیے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ غالب بدلہ لینے والا نہیں

(ف 2) شان نزول : جن آیتوں میں مشرکین مکہ کے بتوں کی مذمت ہوئی تھی ان آیتوں کو سن کر یہ مشرک لوگ نبی ﷺ کو اپنے بتوں کی طرف سے ڈراتے تھے کہ یہ بت آپ کو کوئی نقصان پہنچادیویں گے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے محمد ﷺ کی حمایت کے لیے کافی ہے بغیرمرضی اللہ کی کسی کی کیا مجال ہے جو اللہ کے رسول کو کچھ نقصان پہنچاسکے، مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکوں کو اپنے بتوں کی بےبسی معلوم ہوچکی ہے اس پر بھی یہ لوگ اپنے بتوں کو صاحب اختیار گنتے ہیں یہ لوگ گمراہ ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کو کوئی راہ راست پر لانے والا نہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرے اس کو کوئی بہکانے والا نہیں، پھر فرمایا یہ تو اپنے بتوں سے ڈرتے ہی رہیں گے اللہ تعالیٰ کے کارخانہ میں ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کا وقت آجاوے گا تو وہ ایسا زبردست بدلہ لینے والا ہے کہ اس کے بدلہ لینے کے وقت ان کا کوئی بت ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔
Ayah 39:38

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو1 کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو بیشک ضرور کہیں گے : اللہ نے ! تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جنہیں تم خدا کے سوا پوجتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا یہ بت اس کی بھیجی ہوئی تکلیف رفع کرنے والے ہیں ؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا وہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں۔ تم فرماؤ : مجھے اللہ کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں

روح کابیان۔ (ف 1) اگر تم ان کفار سے پوچھو گے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے پس تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ مخلوقات کے پیدا کرنے میں جب ان بتوں کا کچھ دخل نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی تکلیف کو ٹال دینے یا راحت کو تکلیف سے بدل دینے میں نہ ان کو کچھ دخل ہے ، نہ ان کے نقصان پہنچانے سے میں کچھ ڈرتا ہوں مجھ کو تو فقط اللہ ہی کافی ہے جس پر سب کا بھروسہ ہے اور جس کے اختیار میں ساری مخلوقات کا نفع اور نقصان ہے۔