39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 39:39–41

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

تم فرماؤ1 اے میری قوم اپنی حالت پر عمل کیے جاؤ بیشک میں بھی اپنا کام کرتا ہوں، پس عنقریب جان جاؤ گے۔

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کس پر آتا ہے عذاب جو اس کو رسوا کرے گا اور (بعد مرنے کے) اس پر ہمیشہ رہنے والا عذاب اترے گا

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

بیشک ہم نے تم پر یہ کتاب لوگوں کے لیے ہدایت حق کے ساتھ اتاری، پس جس نے راہ پائی تو اپنے نفع کے لیے اور جو کوئی بہکا تو وہ اپنے ہی نقصان کے لیے بہکا اور تم کچھ ان کے ذمہ دار نہیں

(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں تو اللہ پر اپنا بھروسہ رکھ کر تم کو نصیحت کرے جاؤں گا، تم اگر میری نصیحت کو نہیں مانتے تو جو کچھ تم مکروحیلے میری عداوت میں کررہے ہو وہ کروعنقریب تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا آگے فرمایا اے محبوب ﷺ اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دین کی وہ سچی باتیں تم پر نازل فرمائی ہیں کہ جس نے ان پر عمل کیا وہ بھلائی کو پہنچا اور جو اس راستہ سے بہکا وہ خرابی میں پڑگیا اور اے محبوب ان بہکنے والوں کی گمراہی کا کچھ الزام تمہارے ذمہ نہیں ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم کے نتیجہ کا ظہور ہے جو ضرور ہوکر رہے گا۔
Ayah 39:42

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ لوگوں2 کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض (یعنی معطل) کرتا ہے اور جو نہیں مریں ان کی (روحیں) سوتے وقت قبض کرتا ہے پھر جن پر موت کا حکم کرچکا ہے ان کی (روحیں) روک لیتا ہے اور باقی روحوں کو ایک میعادت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے بیشک اس معاملہ میں ان لوگوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں

نیند اور موت میں فرق۔ (ف 2) نیند اور موت کے وقت ایک ہی چیز ہے جو کھینچتی ہے اگر نیند کی حالت میں وہ کھینچ کر پھر جسم میں نہ آئے تو مردہ ہے اگر پھر جسم میں آگئی تو زندہ ہے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی سونے کے وقت کی دعا کی بڑی ایک حدیث ہے جس کے ایک ٹکرے کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اگر سونے کی حالت میں جان جو جسم سے الگ ہو وے ہے اس کو تو روک رکھے تو اس جان پر اپنا رحم کر اور اگر وہ جان پھر جسم میں آوے تو اس کو نیک کام کرنے کی توفیق عنایت فرما، ان صحیح حدیثوں سے قشیری کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے کہ ایک ہی جان ہے جو نیند میں کھینچ جاتی ہے اور پھر جسم میں وہ نہ آئے تو آدمی مردہ ہوجاتا ہے رہی یہ بات کہ سوتے آدمی اور مردہ میں تو فرق ہے سوتے آدمی کی نبضیں چلتی رہتی ہیں سانس چلتا رہتا ہے کھانا ہضم ہوتا ہے سوتے وقت جان کنی موت اور نیند کے جان کے کھینچے میں فرق ہے اس کا جواب حضرت علی کرم اللہ وجہ نے دیا ہے کہ نیند کے وقت روح کا تعلق جسم سے موت کے وقت کی طرح بالکل الگ نہیں ہوتا، بلکہ جس طرح آفتاب آسمان پر ہے اس کی شعاع زمین پر ہے کہ آفتاب لاکھوں میل سے بذریعہ شعاعوں کے زمین کو گرم رکھتا ہے نیند کی حالت میں جسم اور روح کی جدائی اسی طرح کی ہے اور موت کے وقت جسم اور روح کی جدائی ایسی ہے جس طرح قیامت میں آفتاب کا نور آفتاب کے جسم سے بالکل الگ کردیاجائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے بدن میں روح اور نفس دوچیزیں ہیں سونے کی حالت میں روح بدن میں رہتی ہے اور نفس نکل جاتا ہے ۔ مسند عبد بن حمید میں جو روایت ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک ہی چیز جس کو روح کہتے ہیں انسان کے بدن میں ہے اور مرنے کے وقت ہی جسم سے نکل جاتی ہے اور خواب میں مردوں کی روح سے ملتی ہے اور بات چیت کرتی ہے ، ان فی ذالک لایت القوم یتفکرون۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیند میں جان کا جسم سے الگ ہوجانا، اور جاگنے کے وقت پر اس کا جسم میں آجانا دھیان کرنے والوں کے لیے حشر کی ایک ایسی بڑی نشانی ہے جو بہت سی نشانیوں کے برابر ہے نیند کی حالت میں جان کا جسم سے الگ ہوجانا اور جاگنے کی حالت میں اس کا پھر جسم میں آجانا حشر کا پورانمونہ ہے۔
Ayahs 39:43–44

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا ان (مشرک) لوگوں نے اللہ کے سوا سفارشی بنا رکھے ہیں، تم فرماؤ : کیا اگرچہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل رکھتے ہوں (تب بھی تم ان کو سفارشی بناؤ گے)

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

تم فرماؤ شفاعت تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے، اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، پھر تمہیں اسی کی طرف لوٹنا ہے

(ف 1) مشرکین بتوں کی نسبت دعوی رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں ان کے سفارشی ہیں ان ہی کی سفارش سے کام بنتے ہیں، اسی لیے ان کی عبادت کی جاتی ہے سواول تو شفیع ہونے سے معبود لازم نہیں آتا، دوسرے شفیع بھی وہ بن سکتا ہے جسے اللہ کی طرف سے شفاعت کی اجازت ہو، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے شفاعت کا اذن دیتا ہے بتوں کو اس نے شفیع نہیں بنایا، اور عبادت نے خدا کے سوا کسی کی بھی جائز نہیں ، پس آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا کے لیے ہے وہ ہر چیز کا مالک ہے تم سب قیامت میں اس کے پاس لوٹ کرجاؤ گے جزاوسزا پاؤ گے۔
Ayahs 39:45–46

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب1 اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل متنفر ہوتے ہیں، اور جب اللہ کے سوا اوروں یعنی فرضی (معبودوں) کا ذکر کیا جاتا ہے تو ناگہاں یہ خوش ہوتے

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

تم کہو : اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی (قیامت کے دن) اپنے بندوں کے درمیان اس چیز میں فیصلہ فرمائے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے

شرک کابیان۔ (ف 1) نبی ﷺ کے پاس کچھ مشرک لوگ آئے اور کہنے لگے کہ جس دین کی آپ ہم لوگوں کو رغبت دلاتے ہیں اور وہ دین تو اچھا ہے لیکن ہم نے بڑے بڑے گناہ کیے ہیں اگر اس کی پکڑ نہ ہو تو ہم کو اس دین کے قبول کرنے میں کچھ عذر نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اللہ تعالیٰ کی غفور رحیم کی صفت کے آگے کسی گناہ کی اگرچہ حقیقت نہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا، اس لیے ہر مشرک کو عذاب کے آجانے کے بےبسی سے پہلے شرک کو چھوڑنا اور اس سے آئندہ کے لیے توبہ کرنی چاہیے اور شرک کے علاوہ گناہوں کی معافی بغیر توبہ کے بھی اللہ کی ذات سے رکھنی چاہیے ہاں جو مشرک شرک کی حالت میں بغیر توجہ کے مرجائے گا تو قیامت کے دن یہ افسوس کرے گا کہ میں نے ، اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں کیوں کوتاہی کی اور دین کی باتوں کو مسخراپن کیوں سمجھتا رہا، یہ افسوس کرے گا کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو بھی دنیا میں راہ راست پر آجانے اور نیک کام کرنے کی توفیق دیتا تو کیا اچھا ہوتا، نیک کام کرنے کے لیے افسوس کے طور پر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی تمنا کرے گا تو بےوقت کا افسوس کسی کے کچھ وہاں کام نہ آئے گا۔
Ayahs 39:47–52

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور1 اگر ظالموں کے لیے جو کچھ زمین میں ہے سب ہو، اور اس کے مانند اس کے ہمراہ (اور بھی) ہو تو یہ سب روز قیامت کے بڑے عذاب سے چھوٹ جانے کے لیے دے دیں (تب بھی قبول نہ ہوگا) اور خدا کی طرف سے ان کو وہ بات ظاہر ہوگی جس کا ان کو کوئی گمان بھی نہ تھا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی کرتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا۔

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

پس جب انسان کو کچھ تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم کی بدولت ملی ہے بلکہ یہ نعمت ایک آزمائش ہے و لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

بیشک یہ بات وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے کہہ چکے ہیں پھر (جب ہمارا عذاب ان پر نازل ہوا تو) ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

پس ان کو سزا اس چیز کی پہنچی جو عمل کیا، اور وہ جو ان میں ظالم ہیں عنقریب انہیں بھی ان کے اعمال کی سزائیں پہنچیں گی اور وہ عاجز کرنے والے نہیں۔

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ اللہ روزی کشادہ کرتا ہے جسکے لیے چاہے، اور وہی (جس کے لیے چاہے) تنگی کرتا ہے، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

اہل دوزخ کی حسرتیں۔ (ف 1) دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپرگزرا ، مثلا کبھی کہیں گے کیا اچھا ہو تاکہ آج ہم لوگ بھی پرہیزگاروں میں ہوتے، کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتاجوہم لوگوں کو پھر دنیا میں جانے کی اجازت مل جاتی ہے اور ہم اب کی دفعہ دنیا میں جاکر نیک کام کرتے اور پھر جنت میں پاتے، ان دوزخیوں کی ان حسرت کی باتوں کے جواب میں اللہ یہ فرمائے گا کہ اب حسرت کا کیا موقع ہے دنیا میں رہنے کا موقع بھی تم کو ملا اور اللہ کے رسول کی معرفت تمہارے پاس قرآن پہنچا اور حق و باطل کی راہیں واضح کردی گئی اور تم کو حق وہدایت اختیار کرنے کی قدرت دی گئی باوجود اس کے تم نے حق کو چھوڑا اور اس کو قبول کرنے سے تکبر کیا گمراہی اختیار کی جو حکم دیا گیا اس کی ضد ومخالفت کی تو اب تمہارا کہنا غلط ہے کہ اگر اللہ ہم کو راہ دکھاتا تو ہم ڈروالوں میں ہوتے اور تمہارے تمام عذر جھوٹے ہیں آگے فرمایا کہ کفر میں گرفتار ہوکرجن لوگوں نے دنیا میں اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یعنی شان الٰہی میں ایسی بات کہی جو اس کے لائق نہیں، اس کے لیے شریک تجویز کیے اولاد بتائی، اس کی صفات کا انکار کیا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کی ندامت کی حالت دیکھنے کے قابل ہوگی، جب ان کانامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دے کر ان کو دوزخی ٹھہرایاجائے گا تو ان کے چہروں پر سیاہی چھاجائے گی اس طرح ان لوگوں کی حالت بھی دیکھنے کے قابل ہے جنہوں نے خدا کا خوف دل میں رکھا اور نیک کاموں میں تابمقدورلگے رہے اور ان کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دے کر ان کے سروں پر موتیوں کے تاج رکھے جاویں گے اور ان کو جنت میں داخل کیا ہونے اور اس دن کو ہر طرح کی برائی سے امن میں رہنے کی خوش خبری دی جائے گی اسی خوشی سے ان کے چہروں پر رونق آجائے گی۔
Ayahs 39:53–55

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

(اے محبوب ! ﷺ) میری طرف سے تم فرماؤ کہ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر (گناہ کرکے) زیادتی کی ہے ناامید نہ ہوں خدا کی رحمت سے بیشک1 اللہ سب گناہوں کو بخش دیتا ہے، بیشک وہی بڑا بخشنے والا، مہربان ہے

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار رہو اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آئے، پھر تمہاری مدد نہ کی جائے گی

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اسی کی پیروی کرو جو اچھی چیز تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف اتاری گئی سا سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں (اس کی) خبر بھی نہ ہو

مصیبت کے وقت خدا کو یاد کرنا چاہیے۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب اکیلے خدا کا ذکر کیا جاتا ہے اور کلمہ توحید ، لا الہ الا اللہ کہا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل جو آخرت وقیامت کے قائل نہیں نفرت کرتے ہیں اور وہ بہت تنگ دل اور پریشان ہوتے ہیں اور ناگواری کا اثر ان کے چہروں پر ظاہر ہوجاتا ہے اور جب خدا کے اور شریکوں کا ذکر ہوتا ہے یعنی لات وعزی منات وغیرہ بتوں کا تو وہ خوش ہوتے ہیں آگے فرمایا تم جو اللہ سے دعا مانگو اسی کی طرف متوجہ ہو اور کہواے اللہ ہم کو خبر دے بہتری کا ارادہ ہمارے ساتھ ہو تو آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جو باتیں بندوں سے پوشیدہ ہیں ان کا بھی واقف عالم ہے اور جو بندے جانتے ہیں انکا بھی یعنی تیرا علم ہر شے پر محیط ہے اب تیرے ہی سے فریاد ہے تو ہی قیامت کے دن اپنے بندوں کے درمیان اختلاف کا عملی فیصلہ فرمائے گا۔
Ayahs 39:56–58

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

(یہ اس لیے کہ قیامت کے دن)2 کوئی شخص یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس ! ان تقصیروں (کوتاہیوں) پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں اور بیشک میں تو (احکام خداوندی پر) ہنسی کرتا تھا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا یہ کہے کہ اگر اللہ (دنیا میں) مجھ کو راہ دکھاتا تو بیشک میں پرہیزگاروں میں سے ہوتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا جب عذاب کو دیکھے تو کہے : اے کاش ! مجھے دوسری بار (دنیا میں) پھرجانا ہوتا کہ میں نیکی کرنے والوں میں ہوں

(ف 2) قیامت کے دن جب ان اختلافات کا فیصلہ سنایاجائے گا اس قوت جو ظالم کفر کرکے اللہ کی شان گھٹاتے ہیں ان کا سخت براحال ہوگا اگر اس روز فرض کیجئے کل روئے زمین کے خزانے بلکہ اس سے دوگنا ان کے پاس ہوں تو چاہیں گے کہ سب دے دلا کر کسی طرح اپنا پیچھا چھڑا لیں، جو بدمعاشیاں دنیا میں کی تھیں سب ایک ایک کرے ان کے سامنے ہوں گی اور ایسے قسم قسم کے ہولناک عذابوں کا مزہ چکھیں گے جو کبھی ان کے خیال و گمان میں نہ گزرے تھے غرض توحید خالص اور دین حق سے جو ہنسی کرتے تھے اس کا وبال پڑ کررہے گا اور جس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہ ان پر الٹ پڑے گا۔
Ayahs 39:59–61

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

ف 1 اللہ فرمائے گا : ہاں کیوں نہیں بیشک تیرے پاس میری آیتیں آئیں پس تو نے ان کو جھٹلایا اور تو نے غرور کیا اور تو کافروں میں سے ہوا

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور (اے مخاطب) جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے تو قیامت کے دن ان کے منہ کالے دیکھے گا کیا غرور کرنے والوں کا جہنم ٹھکانا نہیں ہے

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور اللہ پرہیز گاروں کو (عذاب سے) نجات دے گا (اور انہیں) ان کے مقصد کی جگہ پہنچا دے گا کہ نہ ان کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے (کیونکہ جنت میں غم نہیں)

(ف 1) جب کافر کو مصیبت، شدت بلا پہنچتی ہے تو ہم کو یاد کرتا ہے عاجزی سے پکارتا ہے یہ بات ان لوگوں کے دلوں میں اچھی طرح سے بسی ہوئی ہے کہ تکلیف کے وقت سو اللہ کے ان کے بت کچھ کام نہیں آتے، اس واسطے تکلیف کے وقت خالص اللہ ہی سے یہ لوگ رفع تکلیف کی التجا کرتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی ناشکری ہیے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان کی وہ تکلیف رفع کردیتا ہے تو کبھی اس رفع تکلیف کو اپنی تدبیروں کے اثر سے اور کبھی اپنی عزت اور شرافت سے سمجھنے لگتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو بالکل بھول جاتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں اللہ کے احسانات اس آزمائش کے لیے ہیں کون شخص اس کے احسانات کا شکر ادا کرتا ہے اور کون شخص ناشکری کرتا ہے اور یہ خوب یاد رہے کہ ان سے پہلے بھی ایسے ناشکرے لوگ گذرچکے ہیں جنہوں نے اپنی ناشکری کی سزا بھگت لی ، قارون، وغیرہ اب بھی وہی عادت الٰہی جاری ہے اس عادت الٰہی کے موافق جب ان لوگوں کی سزا کا وقت آجائے گا تو یہ لوگ کہیں بھاگ کر اللہ کو تھکا نہیں سکتے، یہ تو ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ دنیا میں بہت سے نافرمان لوگوں کو اللہ نے خوشحالی دے رکھی ہے اور بہت سے فرمانبردار لوگوں کو تنگ دستی، ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ ان کی عزت و شرافت کے سبب سے اللہ ان کی ہر ایک تکلیف کو راحت سے بدل دیتا ہے آخر کو فرمایا ایسی باتوں کو وہی سمجھتے ہیں جو اللہ کی قدرت کے قائل ہیں یہ قدرت الٰہی کے منکر لوگ ایسی باتوں کو کیا سمجھ سکتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کے لوگوں کی تنگ دستی کا کچھ اندیشہ نہیں ہے تو اندیشہ یہ ہے کہ خوشحالی کی ناشکری میں پہلی امتوں کی طرح کہیں یہ لوگ ہلاک نہ ہوجائیں۔
Ayahs 39:62–63

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

خدا ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور1 وہ ہر چیز کا مختار ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے لیے ہیں، اور جنہوں نے انکار کیا اللہ کی آیتوں کا، وہی نقصان میں ہیں

(ف 1) حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس خزائن ورزق وبارش کی کنجیاں ہیں وہی ان کا مالک ہے جو لوگ قرآن کی نصیحت کے منکر ہیں وہ بہت بڑانقصان اٹھائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے خزانوں کے بہت بڑے حصے سے وہ محروم ہیں۔
Ayahs 39:64–66

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

تم فرماؤ اے جاہلو !2 کیا مجھے اللہ کے سوا دوسرے کی پرستش کرنے کو کہتے ہو

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور بیشک (اے محبوب ﷺ) تمہاری طرف وحی کی گئی اور ان پیغمبروں کی طرف جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں (اے سننے والے) اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرے عمل برباد ہوجائیں گے اور ضرور تو خسارہ میں رہے گا

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ اللہ ہی کی عبادت کر اور اللہ کا) شکر کرنے والوں میں ہو

شرک اور قیامت کابیان۔ (ف 2) شان نزول : مشرکین مکہ نبی ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا تمہارا جھگڑا یہی ہے کہ تم ہمارے بتوں کو نہیں مانتے اگر تم چاہو تو یہ جھگڑا یوں مٹ سکتا ہے کہ برس دن تک تم ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کرو اور ہم برس دن تک تمہارے خدا کی عبادت کرلیاکریں اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ اے نامعقول جاہلو، کافرو، مجھ کو یہ حکم و رائے دیتے ہو کہ میں سوائے خدا کے غیروں کو پوجوں ، عجب نامعقول ہوا، انتہائی نادانی اور حماقت وجہالت ہے کہ آدمی خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرے اور اللہ کے رسول سے معاذ اللہ یہ امیدرکھے کہ وہ اس کے راستہ پر آجائیں گے اے محبوب ﷺ تمہاری طرف اور تم سے پہلے جوپیغمبرگزرے ہیں انسب کو بذریعہ وحی بتلادیا گیا کہ آخرت میں شرک کے تمام اعمال اکارت ہیں اور شرک کا انجام سوانقصان کے کچھ نہیں لہذا انسان کا فرض ہے کہ وہ خالص خدائے قدوس کی عبادت کرے اور جو نعمتیں اللہ نے عطا فرمائیں اس کا شکر اداکرے۔
Ayahs 39:67–70

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور1 (افسوس ہے کہ) ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا اور اس کی شان وہ ہے کہ ساری زمین قیامت کے اس کی ایک مٹھی میں ہوگی، اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے اور وہ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور جب صورپھونکا جائے گا تو تمام آسمانوں اور زمین کے رہنے والے بیہوش ہوجائیں گے مگر جس کو اللہ چاہے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو دفعتاً وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہوجائیں گے

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے روشن ہوجائے گی اور (سب کا) نامہ اعمال (لا کر ہر ایک کے سامنے) رکھے جائیں گے اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت کے ان پر گواہ ہوں گے، اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر شخص کو جو کچھ اس نے دنیا میں کیا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور خدا کو خوب معلوم ہے جو کچھ یہ کرتے تھے

حاکمیت اور اعلی قیامت کا منظر۔ (ف 1) ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ ایک عالم علماء یہود میں سے نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد ﷺ ہماری کتاب میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر، اور زمین کو ایک انگلی اور درختوں پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور باقی تمام خلقت کو ایک انگلی پر رکھے گا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ مشرکین نے اس کی عظمت و جلال اور بزرگی و برتری کو وہاں تک نہ سمجھا اور ملحوظ نہ رکھا، جہاں تک ایک بندہ کو سمجھنا اور ملحوظ رکھنا چاہیے تھا اس کے بعدا للہ کی عظمت و جلال کا بیان ہیی اس کی عظمت وشان کا یہ حال ہے کہ قیامت کے دن کل زمین اس کے ایک ہاتھ میں اور سارے آسمان کاغذ کی طرح لپٹے ہوئے ایک ہاتھ میں ہوں گے ، پھر اس کی عبادت میں بےجان مورتوں کو شریک کرنا کہاں تک روا ہوگا وہ شرکاء خود اس کی مٹھی میں پڑے ہیں حدیث بخاری ومسلم میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا روز قیامت اللہ تعالیٰ آسمان کو لپیٹ کر اپنے دست قدرت میں لے گا پھر فرمائے گا کہ آج وہ بادشاہت کے دعوے کرنے والے کہاں گئے اس وقت کوئی جواب دینے والاموجود نہ ہوگا، اس لیے پھر وہ خود فرمائے گا کہ سب ملک اللہ کا ہے پہلے صور میں جو بےہوشی طاری ہوگئی اس کا یہ اثر ہوگا کہ ملائکہ اور زمین والوں میں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہوں گے جن پر موت نہ آئی ہوگی اور وہ اس سے مرجائیں گے اور جن پر موت وارد ہوچکی ، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں حیات عنایت کی اور وہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں جیسے کہ انبیاء اور شہداء اور ان پر اس صور سے بےہوشی کی سی کیفیت طاری ہوگی اور جو لوگ قبروں میں مرے پڑے ہیں انہیں اس صورکاشعور بھی نہ ہوگا، ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ صور صعق سے تمام آسمان اور زمین والے مرجائیں گے سوائے جبرائیل ومیکائیل اور اسرافیل وملک الموت کے پھر اللہ دونوں صورتوں کے درمیان جو چالیس برس کی مدت ہے اس میں ان فرشتوں کو بھی موت دے گا دوسراقول یہ ہے کہ مستثنی شہداء ہیں جن ک لیے قران مجید میں بل احیاء آیا ہے ، آگے فرمایا کہ پھر دوسراصور پھونکاجائے گا کہ جس سے لوگ اپنی قبروں سے کھڑے ہونے یا تو مراد ہے کہ وہ حیرت میں آکر پریشانی کی طرح ہر طرف نگاہیں اٹھا اٹھا کردیکھیں گے یا یہ معنی ہیں کہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ انہیں کیا معاملہ پیش آئے گا آگے فرمایا نئی زمین جو پیدا ہوگی اس پر میدان محشر میں سب جمع ہوں گے گرمی اور پسینہ سے گھبرا کر سب انبیاء کے پاس جلد حساب کتاب شروع ہونے کی شفاعت کی درخواست کریں گے اور سوانبی ﷺ کے کسی نبی کی جرات اس شفاعت کی نہ ہوگی آخر کار نبی ﷺ کی شفاعت سے اللہ تعالیٰ اس نئی زمین پر لوگوں کے حساب وکتاب کے لیے تجلی فرمائے گا، حساب کا دفتر کھلے گا سب کے اعمال نامے رکھ دیے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اس کی امت گواہ دربار میں حاضر ہوں گے ، اور ہر شخص کے اعمال کا نہایت انصاف سے ٹھیک ٹھیک فیصلہ سنایاجائے گا کسی پر کسی طرح کی زیادتی نہ ہوگی، نیکی کے بدلہ میں کمی اور نہ بدی کے بدلہ میں زیادتی ہوگی جس کا جتنا اچھا یابراعمل ہے سب خدا کے علم، میں ہے اسی کے موافق بدلہ ملے گا۔
Ayahs 39:71–73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور1 کافر دوزخ کی طرف گروہ گروہ بنا کر ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب دوزخ کے قریب پہنچیں گے تو اس کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور دوزخ کے داروغہ (نگران) ان سے کہیں گے : کیا تمہارے پاس تم میں سے وہ رسول نہ آئے تھے جو تم پر تمہارے پروردگار کی آیتیں پڑھتے تھے اور آج کے دن کے پیش آنے سے تمہیں خوف دلاتے تھے، کافر کہیں گے : ہاں و لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ثابت ہوا

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

(ان سے) کہا جاوے گا : دوزخ کے دروازے میں داخل ہوجاؤ اس میں ہمیشہ رہنے کو، پس دوزخ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے تھے ان کے گروہ کے گروہ جنت کی طرف روانہ کیے جائیں گے، یہاں تک کہ جب جنت کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور بہشت کے داروغہ (نگران فرشتے) ان سے کہیں گے : تم پر سلام، تم خوشحال ہوئے پس اس جنت میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ

اہل دوزخ کی ذلت اور اہل جنت کی عظمت۔ (ف 1) تمام کافروں کو نہایت ذلت و خواری کے ساتھ دوزخ کی طرف ہانکاجائے گا اور چونکہ کفر کے اقسام و مراتب بہت ہیں ہر قسم اور ہر درجہ کے کافروں کا گروہ الگالگ کردیایاجائے گا اور جس وقت دوزخی دوزخ کے قریب پہنچیں گے دروازے کھول کر اس میں دھکیل دیے جائیں گے، اس کے بعد دروازہ بند کردیے جائیں گے اور جو فرشتے دوزخ کے محافظ ہیں وہ کفار سے بطورملامت کے یہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے احکام لے کر رسول نہیں آئے اور اس دن کی آفت سے انہوں نے تم کو نہیں ڈرایا دوزخی جواب دیں گے کہ ہاں رسول آئے اور انہوں نے اس دن کی آفت سے ہم کو ڈرایا لیکن ہم لوگوں نے ان کا کہنا نہیں مانا اور شیطان کا کہنا مانا اور اللہ تعالیٰ یہ پہلے دن سے ہی بتلادیا تھا کہ شیطان کا جوکہنامانے گا وہ جہنم میں جھونکاجائے گا، اسی ارشاد کے موافق آج ہم اس آفت میں پکڑے گئے اور اللہ کے فرشتے دوزخیوں کی یہ بات سن کر کہویں گے کہ دنیا کے عیش و آرام کے غرور میں جب تم لوگوں نے اللہ کے رسولوں کا کہنا نہیں مانا تو جاؤ اب ہمیشہ دوزخ میں پڑے جلتے رہو، اور اہل جنت جب جنت کے دروازوں پر جاویں گے تو اللہ کے فرشتے ، ان سے سلام کہیں گے اور کہویں گے کہ تم لوگ دنیا میں نیک راہ پر تھے اسلیے اب جاؤ اور جنت میں ہمیشہ رہو۔
Ayahs 39:74–75

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور1 وہ کہیں گے : سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور ہم کو اس زمین کا وارث کیا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں رہیں، پس نیک عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا ثواب ہے

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور تم فرشتوں کو دیکھوگے عرش کے آس پاس حلقہ کیے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی کہتے ہیں، اور لوگوں میں سچا فیصلہ کردیا جائے گا اور کہا جاوے گا : سب خوبیاں اللہ کے لیے جو سارے جہان کا پروردگار ہے۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب اہل جنت فرشتوں سے جنت میں ہمیشہ رہنے کی خوش خبری سنیں گے اور جنت کی نعمتیں دیکھیں گے تو اس وقت اس طرح اللہ کا شکریہ ادا کریں گے جیسا کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا جو دنیا میں رسولوں کی معرفت کیا تھا اور اس وعدہ کے موافق ہم کو جنت میں وہ نعمتیں عنایت کیں جو ہم نے آنکھوں سے نہ دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کبھی ہمارے دل میں ان کا خیال گزرا، اور ہم کو جنت کی زمین کا مالک بنایا، جہاں چاہیں ہم رہیں بیٹھیں، اب آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنتی لوگ جنت کی نعمتیں دیکھ کر ادھر اللہ کی حمدوثنا بیان کررہے ہوں گے اور نیک وبد کا فیصلہ انصاف سے ہوجائے گا اس فیصلہ کو دیکھ کر اللہ کے فرتے ادھرعرش معلی کے پاس حلقے باندھے ہوئے ، صفیں آراستہ کیے ہوئے کھڑے ہوں گے اور اللہ کی حمدوثنا بیان کریں گے۔