38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 38:1–7

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

ص قسم ہے1، اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (جس سے تم دعوت کرتے ہو حق ہے)

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

بلکہ کافر سرکشی اور مخالفت میں ہیں

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ان سے پہلے ہم نے بہت سی امتوں کو ہلاک کردیا پس وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ وقت رہائی کہ نہ تھا

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور ان کافر نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس ان میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ ایک جھوٹا جادوگر ہے

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا اس نے بہت معبودوں کا ایک خدا کردیا ، بیشک یہ ایک عجیب بات ہے

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور (توحید کا سن کر) ان کفار میں کے سردار آپس میں یہ کہتے ہوئے چلے کہ اس کے پاس سے چلو اور اپنے معبودوں کی پوجا پر صابر رہو بیشک اس دین میں اس کا کچھ (ذاتی) مطلب ہے

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

یہ بات تو ہم نے پچھلے دین میں بھی نہ سنی، یہ تو نری ایک بنائی ہوئی بات ہے

(ف 1) شان نزول : حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھلبلی مچ گئی اس لیے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابوطالب کے پاس گئی اور ابوطالب سے نبی ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ، ابوطالب نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو، نبی ﷺ نے جواب دیا کہ میں قوم کے لوگوں سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب وعجم ان کے فرمانبردار ہوجائے، وہ خوش ہوکربولے کہ بتلائیے کہ وہ کلمہ کیا ہے آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں تو آپ نے فرمایا، زیادہ نہیں صرف ایک کلمہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ سنتے ہی طیش میں آکرکھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کیا اتنے خداؤں کو ہٹا کر اکیلا ایک خدا بنادیا، چلوجی یہ اپنے منصوبے سے کبھی باز نہ آئیں گے یہ تو انہی ہمارے معبودوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں تم بھی مضبوطی سے اپنے معبودوں کی عبادت وحمایت پر جمے رہو، اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayahs 38:8–15

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا ہم سب1، میں سے اسی شخص (یعنی محمد ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا ، بلکہ کافر میری نصیحت کی طرف سے ش کے میں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار زبردست بخشنے والے کی رحمت کے خزانے ہیں ؟

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

یا کیا ان کی حکومت ہے ؟ آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے ، تو ان کو رسیاں لٹکاکر (آسمان پر) چڑھ جانا چاہیے

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہ ایک ذلیل لشکر ہے ان ہی (کافروں کے ) لشکروں میں سے جو وہیں بھگادیا جائے گا

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

ان سے پہلے جھٹلایا تھا نوح کی قوم نے اور عاد اور فرعون نے ، جو (لوگوں کو باندھ کر سزا دینے کے لیے ) میخیں رکھتا تھا

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور ثمود نے اور لوط کی قوم نے ابن والے (جوشعیب کی قوم سے تھے) یہ ہیں وہ گروہ

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان میں کوئی ایسا شخص نہیں جس نے پیغمبروں کو نہ جھٹلایا ہو پس میرا عذاب (ان پر) لازم ہوگیا

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور یہ کفار پس ایک ہی سخت آواز کے منتظر ہیں کہ اس کو کچھ وقفہ ہوگا

خدا پر اعتراض کرنا۔ (ف 1) قرآن شریف کو جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف میں اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود ایسے مالدار شخص پر نازل ہوتا، یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا، کیا سارے جہان میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا، جس پر اپنا کلام نازل کرتا، اس کا جواب اللہ نے یہ دیا بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکالگا ہوا ہے وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جارہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ نہیں چکھا۔ جس وقت خدائی مار پڑے گی تمام شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے ، پھر فرمایا کہ اللہ کی رحمت کے خزانے اور آسمان و زمین کی حکومت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ زبردست اور بڑی بخشش والا ہے۔ جس پر جو انعام چاہے کرے کون روک سکتا ہے یا نکتہ چینی کرسکتا ہے۔ اگر وہ کسی بشر کو منصب نبوت و رسالت پر سرفرا زفرماتا ہے تو تم دخل دینے والے کون ہو کہ صاحب اس پر یہ مہربانی فرمائی ہم پر نہ فرمائی، کیا رحمت کے خزانوں اور زمین وآسمان کی حکومت کے تم مالک ومختار ہو جو اس قسم کے لغو اعتراضات کرتے ہو، اگر ہو تو اپنے تمام اسباب وسائل کا کام میں لے آؤ، اور رسیاں تان کر آسمان پر چڑھ جاؤ، تاکہ وہاں سے محمد ﷺ پر وحی آنا بند کردو، اور علویات پر قابض ہوکر اپنی مرضی ومنشاء کے موافق آسمان و زمین کے انتظام وتدبیر کا کام انجام دے سکو، اگر تنا نہیں کرسکتے تو آسمان و زمین کی حکومت اور خزائن رحمت کی ملکیت کا دعوی عبث ہے پھر خدائی انتظامات میں دخل دینا بجز بےحیائی یا جنون کے اور کیا ہوگا، فرمایا جس طرح ان سے پہلے لوگ قوم نوح (علیہ السلام) سے لے کر فرعون تک بڑی بڑی طاقتور قومیں بھی رسولوں کو جھٹلاکر سزا سے نہ بچ سکیں ایک دن یہی حال ان کا ہونے والا ہے اور پھر دوسرے صور کی آواز سے ان کو دوبارہ زندہ کرکے انکی بداعمالی کی پوری سز ان کو دی جائے گی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر فرعون تک بڑی بڑی طاقت ور قومیں بھی رسولوں کو جھٹلا کر سزا سے نہ بچ سکیں ، ایکدن یہی حال ان کا ہونے والا ہے اور پھر دوسرے صور کی آواز سے ان کو دوبارہ زندہ کرکے ان کی بداعمالی کی پوری سزا ان کو دی جائے گی۔
Ayah 38:16

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور1، کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ (یعنی عذاب) جلد دیدے حساب کے دن سے پہلے

(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے نبی ﷺ سے جب یہ سنا کہ قیامت کے دن دائیں اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیے جائیں گے اور جو لوگ جنت میں جائیں گے ان کو بڑی نعمتیں ملیں گی تو کفار بطور استہزاء حضور ﷺ سے بولے کہ ہمارے نامہ اعمال تو ہم کو یہاں ہی دکھادیے جائیں ہم دیکھ لیں کہ ہم نے کیا کیا ہے اور ان میں کیا رکھا ہے تب یہ آیت اتری کہ اے محبوب ﷺ یہ کفار قرآن کی خبروں کو نہیں مانتے ہنستے ہیں کہتے ہیں کہ پروردگار حساب کے دن سے پیشتر ہمارے نامہ اعمال کو ہم دیدے تو اے محبوب تم ان خرافات کا کچھ جواب نہ دو ، صبر کروان کی باتوں پر دل ملول نہ کرو۔
Ayahs 38:17–23

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

اے محبوب ﷺ2، ) تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو (عبادت کی بڑی) قوت رکھتا تھا بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا تھا

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس کے ساتھ پہاڑؤں کو تابع کیا شام اور صبح تسبیح کرتے تھے

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور (اسی طرح) پرندے جمع کیے ہوئے سب اس کے فرمانبردار تھے

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے اس کی بادشاہی کو بڑا مضبوط کیا اور اسے حکمت اور فیصلہ کرنے وا الاقول عطا کیا

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

اور کیا تمہیں آپس میں جھگڑنے والوں کی بھی خبر آئی ، جبکہ وہ لوگ (داؤد کے) عبادت خانہ کی دیوار

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

کود کرداوڈ کے پاس آئے تو وہ (ان سے اس طرح آنے سے ) گھبرا گیا وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ خوف نہ کیجئے ہم دوفریق ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے پس اس پر انصاف سے ہم میں فیصلہ کردیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے اور ہم کو سیدھی راہ دکھلائیے ،

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

بیشک یہ میرا بھائی ہے اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک دنبی ہے اب یہ کہتا ہے کہ وہ بھی میرے حوالے کردے اور مجھ پر بات میں زورڈالتا ہے

حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 2) حضرت داؤد (علیہ السلام) جب صبح شام ذکر الٰہی کرتے تھے ان کے ساتھ پہاڑ اور جانور بھی ذکرالٰہی کیا کرتے تھے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) پہاڑوں اور جانوروں کے ذکرالٰہی کا مطلب سمجھتے تھے اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو فوج ولشکر کی کثرت عطا فرمائی ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ روئے زمین کے بادشاہوں میں حضرت داؤد کی بادشاہت بڑی مضبوط اور قوی بادشاہت تھی چھتیس ہزار مرد آپ کے محراب کے پہرے میں رہتے تھے پھر فرمایا کہ ہم نے حضرت داؤد کو حکمت یعنی نبوت عطا کی ۔ فصل خطاب یعنی وہ کلام وہ عقل جو مدعی ، مدعی علیہ کے درمیان جلد فیصلہ کردے، کسی مقدمہ میں نہ رکتے، سچا حکم جھٹ سنادیتے آگے فرمایا کہ اے محبوب کیا تمہیں وہ جھگڑے والوں کی بھی خبرآئی جبکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے عبادت خانہ میں جہاں کوئی پہنچ نہ سکتا تھا دوجھگڑنے والے کود کر پہنچے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) باوجود اپنی قوت اور شوکت کے یہ ناگہاں ماجرادیکھ کر گھبرا گئے کہ یہ آدمی ہی یا کوئی اور مخلوق۔ آدمی ہیں تو بےوقت آنے کی ہمت کیسے ہوئی دربانوں نے کیوں نہیں روکا، اگر دروازے سے نہیں تو اتنی اونچیں دیواروں کو پھاندنے کی کیا سبیل کی ہوگی، خدا جانے ایسے غیرمعمول طور پر کس نیت اور کس غرض سے آئے ہیں آنے والوں نے کہا کہ آپ گھبرائیے نہیں اور ہم سے خوف نہ کھائیے ہم دوفریق اپنے ایک جھگڑنے کا فیصلہ کرانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں آپ ہم میں منصفانہ فیصلہ کردیجئے کوئی بےراہی اور ٹالنے کی بات نہ ہو، ہم عدل و انصاف کی سیدھی راہ معلوم کرنے آئے ہیں ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ میرے اس دینی بھائی کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دنبی ہے یہ چاہتا ہے کہ وہ ایک بھی کسی طرح مجھ سے چھین کر سو پوری کرے اور مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جیسے مال میں یہ مجھ سے زیادہ ہے بات کرنے میں بھی مجھ سے تیز ہے جب بولتا ہے تو مجھ کو دبالیتا ہے غرض میرا حق چھیننے کے لیے زبردستی کی باتیں کرتا ہے، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے سن کر یہ فیصلہ کیا کہ جو شخص ننانوے دنبیاں رکھ کر اپنے دینی بھائی کے پاس ایک دنبی بھی نہیں دیکھ سکتا وہ بڑی ناانصافی کرتا ہے اس فیصلہ کے بعد حضرت داؤد نے یہ بھی فرمایا کہ ایک معاملہ میں جہاں چند شخص شریک ہوتے ہیں وہاں اکثر ایسے معاملے پیش آتے ہیں کہ ایک بھائی دوسرے پر ظلم کرنے لگتا ہے کہ قوی حصہ دار چاہتا ہے کہ ضعیف کو کھاجائے مگر جو لوگ مسلمان ہیں اعمال صالحہ خالصتا اللہ ادا کرتے ہیں وہ ایسی باتوں سے بچتے ہیں اور وہ دنیا میں بہت تھوڑے ہیں۔
Ayahs 38:24–25

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

داؤد نے کہا : بیشک یہ تجھ پر زیادتی کرتا ہے کہ تیری دنبی اپنی دنبیوں میں ملانے کو مانگتا ہے اور بیشک اکثر ساجھے والے ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں مگر ہاں جو ایمان لائے اور عمل اچھے کیے (وہ زیادتی نہیں کرتے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں اور اب1، داؤد نے سمجھا کہ ہم نے اس کو آزمایا تھا پس اپنے پروردگار سے معافی مانگی اور سجدہ میں گر اور اخدا کی طرف رجوع ہوا۔

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

پس ہم نے اسے معاف فرمایا اور بیشک داؤد کے لیے ہمارے پاس اعلی مرتبہ اور اچھا ٹھکانہ ہے

(ف 1) حضرت داؤد (علیہ السلام) کا فیصلہ سن کر وہ دونوں فرشتے جیسے آئے تھے ویسے ہی چل دیے تب داؤد (علیہ السلام) کے خیال میں یہ بات آئی کہ اس مقدمہ کی صورت ان ہی کے حال کے موافق ہے روایت ہے کہ آپ کی ننانوے بیویاں تھیں اس کے بعد آپ نے ایک اور عورت کو پیام دیدیا ، جس کو ایک مسلمان پہلے سے پیام دے چکے تھے لیکن آپ کا پیام پہنچنے کے بعد عورت کے اعزاوقارب دوسرے کی طرف کیا التفات کرنے والے تھے آپ کے لیے راضی ہوگئے ، جب حضرت داوؤد (علیہ السلام) نے مقدمہ کی رواداد کو اپنے اوپر صادق پایا تو سمجھے کہ درحقیقت یہ مقدمہ والے نہ تھے بلکہ خدا کے فرشتے تھے بھیجے ہوئے اور اس بات کا یقین ہوا کہ ہم نے ان کو محنت و تکلیف میں مبتلا کیا اور ان کا امتحان لیا گیا تب وہ اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور سجدہ میں گرکرعاجزی ، خضوع وخشوع توبہ کرنے لگے ہم نے ان کی مغفرت کی ، اور صرف مغفرت ہی نہیں کی بلکہ ہمارے ہاں ان کا بہت بڑا اجر ہے اور ہمارا مقرب بندہ ہے اور اس کے لیے جنت میں اچھی باز گشت ہے۔
Ayahs 38:26–29

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

کہا اے داؤد بیشک ہم نے تجھے زمین میں نائب ،1، کیا پس تو لوگوں میں انصاف سے حکم کر اور نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرنا، پس وہ خدا کے رستہ تم کو بہکادے گی بیشک جو لوگ کہ خدا کے رستہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس لیے کہ وہ حساب کے دن کو بھول گئے

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بےفائدہ نہیں پیدا کیا یہ تو کافروں کا گمان ہے پس کافروں کے لیے (آخرت میں) بڑی خرابی ہے

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

دوزخ سے کیا ہم انہیں جو ایمان لائے اور اچھے عمل کے ان جیسا کردیں گے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر ٹھہرادیں (ہرگز نہیں)

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

یہ قرآن برکت والی کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا اس لیے کہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقل مند نصیحت پکڑیں

(ف 1) اے داؤد (علیہ السلام) ، تم کو زمین میں اپنا نائب بنایا لہذاسی کے حکم کے مطابق چلو، اور معاملات کے فیصلے عدل و انصاف کے ساتھ شریعت الٰہی کے موافق کرتے رہو، کبھی کسی معاملہ میں خواہش نفس کا ادنی شائبہ بھی نہ آنے پائے کیونکہ یہ چیز آدمی کو اللہ کی راہ میں بہکادینے والی ہے اور جب انسان اللہ کی راہ سے بہکاتو پھر ٹھکانا کہاں، لہذا یہاں رہ کر وہاں کے لیے کچھ کام کرنا چاہیے اور وہ کام یہ ہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کی پیروی چھوڑ کر حق وعدل کے اصول پرکاربند ہو، اور خالق و مخلوق دونوں سے اپنا معاملہ ٹھیک رکھے یہ نہ سمجھے کہ بس دنیا کی زندگی ہے کھاپی کر ختم کردیں گے آگے حساب کتاب کچھ نہیں ، یہ خیالات تو ان کے ہیں جنہیں موت کے بعد دوسری زندگی سے انکار ہے سو ایسے منکروں کے لیے آگ تیار ہے پھر فرمایا کہ ہمارے عدل و حکمت کا اقتضاء یہ نہیں کہ ایماندار نیک بندوں کو شریروں اور مفسدوں کے برابر کردیں یاڈرنے والوں کے ساتھ بھی وہ ہی معاملہ کرنے لگیں جو ڈھیٹ اور نڈرلوگوں کے ساتھ ہونا چاہیے اسی لیے ضرور ہوا کہ کوئی وقت حساب وکتاب اور جزاوسا کارکھاجائے لیکن دنیا مین ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نیک اور ایماندار آدمی قسم قسم کے مصائب وآفات میں مبتلا رہتے ہیں اور کتنے ہی بدمعاش بےحیا مزے چین اڑاتے ہیں لامحالہ ماننا پڑے گا کہ موت کے بعد دوسری زندگی حکمت الٰہی کے موافق نیکی کی جزا اور بدی کی سزا کے لیے دوسراجہان مقرر ہے کیونکہ نیک وبد کو ہمیشہ ایک حال میں رکھنا انصاف الٰہی کے بالکل ، خلاف ہے ۔ اب قریش کو تنبیہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ یہ سراپا عقبی کی بہبودی کی نصیحت کا قرآن اے محبوب ﷺ تم پر اس لیے نازل ہوا کہ جو لوگ عقل سلیم رکھتے ہیں وہ اس سے یہ نصیحت حاصل کریں کہ دنیا کے نیک وبد کی جزا وسزا کا فیصلہ ضرور ہونے والا ہے کیونکہ بغیر اس کے دنیا کا پیدا کرنا بالکل بےٹھکانے ٹھہرتا ہے جو اللہ کی شان سے بہت بعید ہے۔
Ayahs 38:30–33

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور،1، ہم نے داؤد کو ایک بیٹا سلیمان عطا فرمایا، سلیمان بہت اچھا بندہ تھا بیشک وہ خدا کی طرف رجوع کرنے والا تھا

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

(یاد کرو) جب تیسرے پہر کو اس کے سامنے تیز دوڑنے والے گھوڑے پیش کیے گئے

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

پس سلیمان نے کہا، میں نے ان گھوڑوں کی محبت چاہی اپنے رب کی یاد سے یہاں تک کہ آفتاب پردہ میں چھپ گیا

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ پس ان کی پنڈلیوں گردنوں پر ہاتھ پھیرناشروع کیا

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کا تذکرہ۔ (ف 1) اوپر داود (علیہ السلام) کی خلافت کا زکر فرماکران آیتوں میں ارشاد ہے کہ اس خلافت اور نبوت اور بادشاہت کو اللہ نے فقط داؤد پر ختم نہیں کیا بلکہ ان کی اولاد میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی وہی مرتبہ عنایت فرمایا کہ وہ نبی بھی ہوئے بادشاہ بھی ہوئے اور باوجود بادشاہ کے وہ ہمیشہ اللہ کے مرضی کے کامون میں لگے رہے اب آگے ان کے جوش دینی اور مرض الٰہی کے کاموں کی امنگ کی مثال گھوڑوں کے قصہ سے بیان فرمائی۔ شائستہ اور تیز وسبک رفتا گھوڑے جو جہاد کے لیے پرورش کیے گئے تھے ان کے سامنے پیش ہوئے ان کا معائنہ کرتے ہوئے دیر لگ گئی حتی کہ آفتاب غروب ہوگیا، اس شغل میں عصر کے وقت کا وظیفہ بھی نہ پڑھ سکے اس پر کہنے لگے کہ اگر ایک طرف ذکر الٰہی سے بظاہر علیحدگی رہی تو دوسری جانب جہاد کے گھوڑوں کی محبت اور دیکھ بھال بھی اسی کی یاد سے وابستہ ہے جب جہاد کا مقصد اعلائے کلۃ اللہ ہے تو اس کے معدات و مبادی کا تفقد کیسے ذکر اللہ کے تحت میں داخل نہ ہوگا، آخر اللہ تعالیٰ جہاد اور آلات جہاد کے مہیا کرنے کی ترغیب نہیں دیتا تو اس مال نیک سے ہم اس قدر محبت کیوں کرتے، اسی جذبے جہاد کے جوش وافراد میں حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو پھر واپس لاؤ، چناچہ واپس لائے گئے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) غایت محبت واکرام سے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے اس ہاتھ پھیرنے کے چند باعث تھے۔ (1) ایک تو گھوڑوں کی عزت وشرفت کا اظہار کہ وہ دشمن کے مقابلے میں بہتر معین ہیں۔ (2) دوسرے امور سلطنت کی خود نگرانی فرمانا کہ تمام عمال مستعد رہیں۔ (3) سوم یہ کہ آپ گھوڑوں کے احوال اور ان کے امراض وعیوب کے اعلی ماہر تھے ان پر ہاتھ پھیر کر ان کی حالت کا امتحان فرماتے تھے ۔ وللہ الحمد (تفسیر کبیر) ۔ بعض مفسروں نے ان روایات کا کئی طرح سے مطلب بیان کیا منجملہ ان کے ایک یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) نے عصر کے وظیفہ میں دیر ہوجانے کے رنج میں گھوڑوں کو اللہ کی راہ میں ذبح کرڈالا، اور ان کی گردنیں اور پنڈلیاں کاٹ کر گوشت صدقہ کردیا۔
Ayahs 38:34–40

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اورف 1، بیشک ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ہم نے اس کے تخت پر ایک بےجان بدن ڈال دیا تو وہ (خدا کی طرف) رجوع ہوا

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

عرض کی : اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھ و ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو، بیشک تو ہی دینے والا ہے

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

پس ہم نے ہوا کو اس کے تابع کردیا اور اس کے حکم سے نرم نرم چلتی جہاں وہ پہنچتا چاہتا

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور جنات بس میں کردیے ہر عمارت بنانے والوں کو اور غوطے خوروں کو

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور دوسرے جناتوں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے (تابع کردیا پھر ہم نے کہا)

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

یہ ہمارا عطیہ ہے پس کسی کو دویانہ دو تم پر کچھ حساب نہیں

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بیشک سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہمارے ہاں ضرور قرب اور اچھاٹھکانہ ہے

(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سلیمان (علیہ السلام) قسم کے وقت انشاء اللہ کہنابھول گئے تو اللہ نے گرفت کے طور پر انکی آزمائش کی وہ آزمائش یہ تھی کہ بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت سلیمان نے فرمایا تگھا کہ میں آج رات اپنی نوے بیویوں پر دورہ کروں گا ہر ایک حاملہ ہوگی اور ہر ایک سے راہ خدا میں جہاد کرنے والاسوار پیدا ہوگا، مگر یہ فرماتے وقت زبان سے انشاء اللہ نہ فرمایا، غالبا یاد نہ رہا، تو کوئی بھی عورت حاملہ نہ ہوئی سوائے ایک کے اور اس کے بھی ادھورابچہ پیدا ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ فرمایا ہوتا تو ان سب عورتوں کے لڑکے ہی پیدا ہوتے اور راہ خدا میں جہاد کرتے، ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دایہ نے وہ ہی ادھورابچہ ان کے تخت پر لاکرڈالا کہ لویہ تمہاری قسم کا نتیجہ ہیی یہ دیکھ کر حضرت سلیمان ندامت کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوئے اور ان شاء اللہ نہ کہنے پر استغفار کیا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت۔ پھر جب اس آزمائش کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی بادشاہت کے عطا ہونے کی دعا کی اے میرے پروردگار تو ایسی عظیم الشان سلطنت عنایت فرماجو میرے سوا کسی کو نہ ملے، کہ جس کی مثال دنیا میں نہ پائی جائے تو اللہ تعالیٰ نے ہو اور جنات کو ان کا فرمانبردار کردیا اور وہ ہوا ظاہر میں تو نرم تھی آندھی نہ تھی لیکن تاثیر میں ایسی تیز تھی کہ رات دن میں دو مہینہ کا راستہ طے ہوجاتا تھا آگے فرمایا کہ جنات جو تعلیمات تھے وہ کچھ عمارتوں کے بنانے کے کام کرتے تھے اور کچھ غوطے لگاکر سمندر میں سے موتی نکالتے تھے اور کچھ اور کام کرتے تھے جن کاموں کا ذکر سورة سبا وغیرہ میں تفصیل سے گزرچکا ہے جو جنات سرکشی کرتے تھے ان کو زنجیروں میں جکڑ کر قید کردیاجاتا تھا آخر کو فرمایا سلیمان (علیہ السلام) بارگاہ الٰہی میں صاحب مرتبہ تھے۔ اس لیے اتنی بڑی بادشاہت عطا کرکے یہ حکم دیدیا گیا تھا کہ اس بادشاہت کے کاموں میں وہ جس طرح چاہیں تصرف کریں گے کسی بات میں ان سے کسی طرح کی پرسش نہ ہوگی۔