38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 38:71–81

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

(وہ وقت یاد کرو) جب کہ1، تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا، بیشک میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

پس جب میں اس کو پورے طور سے بنالوں اور اس میں (اپنی طرف سے ) روح پھونکوں پس تم اس کے آگے سجدے میں گرنا

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

تو سب فرشتوں نے اکٹھے ہوکرسجدہ کیا

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس نے (نہ کیا، کیونکہ اس نے ) تکبر کیا اور وہ کافروں میں ہی تھا

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا کہ اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا اس سے کہ سجدہ کرے تو اس چیز کو جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے کیا تجھے غرور آیا یا (حقیقت میں) تو مغروروں میں تھا

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

بولا : میں اس سے بہتر ہوں (کیونکہ تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

ارشاد ہوا تو جنت سے نکل جا بیشک تو (اس حرکت سے) راندھا (رد کردیا) گیا ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور بےتجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت رہے گی

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

کہنے لگا اے میرے رب پس مجھے (مہلت دے اس دن تک کہ مردے اٹھائیں جاوئیں

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

ارشاد ہوا : بیشک تو مہلت والوں میں ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 38:81 in the Quran reader

اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے (یعنی نفخہ اولی تک)

(ف 1) جس طرح اللہ نے یہ قصہ اس جگہ بیان فرمایا ہے اسی طرح یہ قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ میں اور اعراف میں بیان ہوچکا ہے مفصل تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ مختصر یہ کہ اے محبوب ﷺ یاد کروجب کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے آدمی بنانے والا ہوں جب میں اس کے قالب خاکی کو بنا کر تیار کرلوں اور وہ خاکہ پورابن جائے اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو اس وقت تم سب کے سب بےچون وچرا اس کے سامنے سجدہ کرنا، جب اللہ نے آدم کو بنایا اس میں اپنی روح ڈال دی تو سارے فرشتوں نے حکم کو مانا اور سجدہ کیا مگر ابلیس نے حکم نہ مانا اور سجدہ نہ کیا بلکہ تکبر کیا جب اللہ نے اس سے سجدہ نہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ یا اللہ تو نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور مجھ کو آگ سے اس لیے میں آدم سے بہتر ہوں اس نافرمانی اور حکم الٰہی کے مقابلہ میں عقلی قیاس دوڑانے کے جرم میں اللہ تعالیٰ نے اس کو مردود ٹھہراکر آسمان پر سے نکال دیا۔
Ayahs 38:82–85

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 38:82 in the Quran reader

بولا : تو مجھ کو قسم ہے،1، تیری عزت کی ، ضرور میں گمراہ کروں گا ان سب کو

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 38:83 in the Quran reader

مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں

قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ Open ayah 38:84 in the Quran reader

ارشاد ہوا پس ٹھیک بات ہے اور میں ٹھیک ہی کہتا ہوں

لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 38:85 in the Quran reader

بیشک میں ضرور تجھ سے اور جو ان میں تیری پیروی کریں گے ان سب سے دوزخ بھردوں گا

شیطان کا اللہ تعالیٰ سے تکبر کرنا۔ (ف 1) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ، شیطان نے قسم کھا کر اللہ سے کہا کہ انسان کے جسم میں جب تک جان رہے گی تب تک بہکانے میں کوتاہی نہ کروں گا، مگر تھوڑے سے لوگ جو تیری راہ میں اخلاص والے ہوں گے یعنی انبیاء واولیائ، اللہ نے قسم کھا کر جواب میں فرمایا کہ جب تک انسان کے جسم مین جان رہے گی اور گناہ کرکے توبہ کرتا رہے گا میں بھی ہمیشہ اس کے گناہ معاف کرتارہوں گا اس حدیث کو اسی آیت کی تفسیر سمجھنا چاہیے کیو کہ یہاں فقط شیطان کا قول ہے اور حدیث میں شیطان کا قول بھی ہے کہ اور اللہ تعالیٰ نے اس ملعون کے قول کی قسم کھاک رجوجواب دیا ہے وہ بھی موجود ہے حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا میں اللہ نے جس طرح ہر مرض کو پیدا کرکے اس کی دواپیدا کی اسی طرح آزمائش کے طور پر شیطان کو پیدا کرکے اس کی دواپیدا کردی، اسی طرح آزمائش کے طور پر شیطان کو پیدا کرکے اس کا علاج بھی پیدا کردیا ہے جس کی تاثیر کو قسم کھا کر اپنے بندوں کو سمجھایا ہے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ گناہ کرنے والادل سے اور دوسرے گناہ کرنے سے پہلے توبہ کرلیتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے اور اگر بغیر توبہ گناہ پر گناہ کرتا چلاجاتا ہے تو داغ پر داغ پڑجاتا ہے یہاں تک کہ تمام دل کو زنگ لگ جاتا ہے یہ فرماکر آپ نے یہ آیت پڑھی ، کلابل ران علی قلوبھم ماکانوایکسبون۔ بعض لوگ توبہ کرتے ہیں مگر اوپری دل سے اس طرح کہ توبہ کرتے وقت بھی ان کے دل میں آئندہ گناہ کی جانب سے پوری نفرت نہیں ہوتی وار اس طرح کی توبہ کرنا نہ کرنا یکساں ہے کہ قبول نہیں ہوتی۔
Ayahs 38:86–88

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ Open ayah 38:86 in the Quran reader

تم فرماؤ،1، میں تم سے اس قرآن (کی تبلیغ) پر نہ کچھ معاوضہ چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

یہ قرآن تو بس سارے جہان والوں کے لیے نصیحت ہے

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور ضرور ایک وقت کے بعد تم کو اس کی سچائی کا حال معلوم ہوجائے گا (یعنی مرنے کے بعد)

(ف 1) اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ میں اس قرآن کی نصیحت پر تم لوگوں سے کچھ مزدوری نہیں مانگتا، جس کی وجہ سے تم قرآن کی نصیحت کے سننے سے بھاگتے ہو اور ایک مدت سے میں تم لوگوں میں رہتا ہوں تم کو میری عادت معلوم ہے کہ میں اپنے دل سے بناکر کوئی بات نہی کہتا، اور قرآن کے مضمون کو بھی رات دن سنتے ہو کہ اسمیں کوئی بات بناوٹ کی نہیں بلکہ یہ قرآن تو سارے جہان والوں کے لیے آدمی وجن سب کے لیے نصیحت ہے اس پر بھی تم لوگ مجھ کو جھوٹا شاعر اور قرآن کا شعر جو کہتے ہیں یہ تمہاری زبردستی ہے اگر تم لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو کچھ دنوں کے بعد اس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑے گا۔