38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 38:41–43

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اورف 1، ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کو یاد کرو جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو ایذا دی اور تکلیف دینے کے لیے ہاتھ لگایا ہے

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا کہ زمین پر پاؤں مار (جس سے چشمہ نکل آیا ہم نے فرمایا) تمہارے نہانے اور پینے کے لیے یہ ٹھنڈا پانی ہے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اس کے اہل و عیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور اپنی رحمت سے عنایت فرمائے اور عقل مندوں کے لیے نصیحت تھی

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر۔ (ف 1) ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت ہے جس میں نبی ﷺ فرمایا دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے اس عادت الٰہی کے موافق حضرت ایوب کی یہ آزمائش ہوئی کہ ان کی سب اولاد مرگئی سارامال برباد ہوگیا خود ایسے بیمارے ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے بستی کے لوگوں نے بستی سے باہر ایک کونے میں ان کو ڈال دیا، سو ان کی بی بی کے اور کوئی ان کا ساتھ دینے والانہ رہا، تیرہ یا اٹھارہ برس تک یہی حال رہا، حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر اس لیے مشہور ہے کہ وہ اس سخت آزمائش میں گھبرائے نہیں حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ایک دوست کی زبان سے ایک دن جب یہ کلمہ نکلا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) سے کوئی ایسا بڑا گناہ ہوا ہے جو تیرایا اٹھارہ برس کی تکلیف میں بھی معاف نہیں ہوا، تو یہ کلمہ سن کر حضرت ایوب (علیہ السلام) نے وہ دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس کے بعد حضرت ایوب (علیہ السلام) کو خواب میں یہ حکم ہوا کہ زمین میں لات مارو، انہوں نے لات ماری تو زمین میں دوچشمے پیدا ہوگئے انہوں نے ایک چشمہ سے نہائے اور فورا اچھے ہوگئے اس واقعہ کا مفصل بیان سورة انبیاء کے رکوع چھ میں گذرچکا ہے وہاں ملاحظہ کرلیاجائے۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور حکم دیا،1، کہ تم اپنے ہاتھ میں ایک سینکوں کا مٹھا لے کر (اپنی بیوی کو) مارو اور قسم میں جھوٹے نہ بنو، بیشک ہم نے ایوب کا صابر پایا وہ بڑا اچھا بندہ تھا بیشک وہ خدا کی طرف رجوع ہونے والا تھا

(ف 1) حضرت ایوب (علیہ السلام) نے حالت مرض میں کسی بات پر خفا ہوکرقسم کھائی کہ تندرست ہوگئے تو اپنی بی بی کو سولکڑیاں ماریں گے وہ بی بی اس حالت کی رفیق تھی اور چنداں قصور وار بھی نہ تھی ، اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے قسم سچا کرنے کی ایک تدبیر ان کو بتلادی کہ ایک سینکوں کا مٹھالے کر بی بی کو مارو اور قسم میں جھوٹے نہ بنو، جو ان ہی کے لیے مخصوص تھا، آج اگر کوئی اس طرح کی قسم کھابیٹھے تو اس کے پورا کرنے کے لیے اتنی بات کافی نہ ہوگی، حضرت ایوب کا صبر مشہور ہے اور ان کے صبر کی صداقت اس سے ہوتی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت ایوب (علیہ السلام) بہت اچھے بندے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو تکلیف کے وقت صبر کرنے والا اور اللہ کی طرح رجوع ہونے والا پایا ہے۔
Ayahs 38:45–47

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور2، ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے (یعنی ہاتھ پیر کی عبادت اور دلوں کے نور ایمان والے)

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان کو ایک پاک فضیلت کے لیے جو دار آخرت کا یاد کرنا ہے خالص کرلیا ہے

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور بیشک وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے نیک لوگوں میں سے تھے

(ف 2) اے محبوب ﷺ قرآن میں ہمارے مقبول بندوں، سچے رسولوں کا ذکر کرو، حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم کہ یہ لوگ اپنے زمانوں میں بڑے قوت والے اللہ کی عبادت میں اور بڑے عمدہ سمجھ والے امور دین ویقین میں گزرے ہیں ہم نے ان کو خاص ایک ہی بات کے لیے خالص کرلیا تھا، دوسری چیز کی طرف التفات ہی نہ کرتے تھے وہ ذکر آخرت اور ذکر خدا یعنی سوائے یاد خدا اور ذکر آخرت کے دنیا کی طرف توجہ ہی نہ رکھتے تھے حضرت عبداللہ بن عباس کے قول کے موافق یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے اس لیے ان کے ہاتھ پیروں کی عبادت ان کے دلوں کا نور ایمانی سب کچھ اللہ کی مرضی کے موافق تھا۔
Ayah 38:48

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل1، اور یسع، ذوالکفل کو یاد کرو یہ سب اچھے لوگوں میں سے تھے

(ف 1) یہ قرآن شریف جس میں پہلے انبیاء اور پہلی امتوں کے قصے ہیں ان سے لوگوں کی نصیحت پکڑنی چاہے تاکہ نیکی اور بدی کا انجام لوگوں کی سمجھ میں آئے، اور حضرت اسماعیل اور ذوالکفل کا ذکر پہلے گذرچکا ہے اور الیسع حضرت الیاس کے خلیفہ تھے ان کو بھی اللہ نے نبوت عطا فرمائی۔
Ayahs 38:49–58

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک نصیحت ہے اور،2، بیشک پرہیزگاروں کے لیے (آخرت) اچھاٹھکانہ ہے

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ان کے لیے باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے جن کے سب دروازے کھلے ہوئے ہیں

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور وہ وہاں بہت سے میوے اور شراب منگوائیں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس ہم عمر وہ بیبیاں ہوں گی کہ اپنے شوہر کے سوا اور کی طرف آنکھ نہیں اٹھاتیں

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

(اے مسلمانو) یہ ہے وہ (نعمت) جس کا تم سے روز حساب آنے پر وعدہ دیاجاتا ہے

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

بیشک یہ ہماری (دی ہوئی) روزی ہے جس کو کبھی زوال نہیں

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

ان (ایمان والو) کو توبہ ہے اور بیشک حد سے گزرنے والوں کا برا ٹھکانہ ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

دوزخ ہے جس میں وہ داخل ہوں گے پس بہت بری جگہ ہے

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

ان کو یہ عذاب ہے پس اسے چکھیں کھولتا ہوا پانی اور پیپ

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی قسم کے طرح طرح کے عذاب ہیں

اہل جنت اور اہل دوزخ کا ذکر۔ (ف 2) جو لوگ دنیا میں عذاب الٰہی سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے، اور عقبی کے ثواب کے اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لیے اچھاٹھکانہ ہے پھر اس اچھے ٹھکانے کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ بروز قیامت جنت کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے ، ہر طرح سے آراستہ ہوں گے اور وہ وہاں جاکر تخت عزت پر جلوہ افروز ہوں گے چھپر کھٹوں پر بیٹھیں گے تکیہ مسند لگائے ہوئے عیش و عشرت میں طرح طرح کے میوے اور قسم قسم کے شربت اور شرابیں منگائیں گے اور جو خواہش ہوگی اور وہ فورا ان کے پاس حاضر ہوجائے گی اور وہاں حوریں ہوں گی نیچی نگاہوں والیاں کہ اپنے خاوندوں کے سوا کسی کی طرف نگاہ نہ اٹھائیں اور سب حوریں نوجوان ایک عمر کی ہوگی یا شکل وشمائل خوبو میں اپنے ازواج کی ہم عمر معلوم ہوں گی، جب جنتی لوگ جنت میں طرح طرح کی نعمتوں سے خوش ہوں گے تو ان سے یہ کہا جائے گا کہ یہ وہی نعمتیں ہیں جن کا وعدہ تم سے دنیا میں اللہ کے رسولوں نے کیا تھا، اور یہ جنت کی نعمت عیش ایسی ہوگی کہ کبھی اس کو فنا و انقطاع نہ ہوگا، اہل جنت کے ذکر کے بعد آگے اہل دوزخ کا ذکر فرمایا کہ جن لوگوں نے دنیا میں نافرمانی کی مرنے کے بعد ان کے لیے براٹھکانہ دوزخ ہے ، جس میں یہ لوگ جھونکے جاویں گے اور ان کو کھولتا پانی اور پیپ پلائی جائے کی اور بھی چند دو چند اسی طرح کے عذاب ہوں گے۔
Ayahs 38:59–64

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

ان سے کہا جائے گا) یہ1، ایک اور جماعت تمہارے سات دوزخ میں گھس رہی ہے جو تمہاری تھی وہ کہیں گے ، ان کو کشادہ جگہ آگ میں نہ ملے بیشک ان کو دوزخ میں جانا ہی ہے وہاں بھی تنگ جگہ میں رہیں

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

(تابع) کہیں گے بلکہ تمہیں کھلی جگہ نہ ملے یہ مصیبت تم ہمارے آگے لائے تو کیا ہی برا ٹھکانہ ہے

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ہمارے رب جو اس مصیبت کو ہمارے آگے لایا ہے اس کو دوزخ میں دوگنا عذاب دے

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور دوزخی بولے ، ہمیں کیا ہوا ہم ان مردوں کو نہی دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم ان سے ہنسی کرتے تھے یا آنکھیں ان کی طرف سے پھر گئیں

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بیشک یہ دوزخیوں کا آپس میں جھگڑنا حق ہے

اہل دوزخ کا آپس میں جھگڑا۔ (ف 1) یہ گفتگو دوزخیوں کی آپس میں ہوگی جس وقت فرشتے ان کو یکے بعد دیگرے لالاکردوزخ کے کنارے جمع کریں گے ، پہلا گروہ سرداروں کا ہوگا، بعد انکے مقلدین واتباع کی جماعت آئے گی اس کو دور سے آتے ہوئے دیکھ کر پہلے لوگ کہیں گے کہ لویہ ایک اور جماعت داخل ہوگی تمہارے ساتھ دوزخ میں گرنے ک لیے چلی آرہی ہے خدا کی مار ان پر یہ بھی یہیں آکر مرنے کو تھے خدا کرے ان کو کہیں کشادہ جگہ نہ ملے ، اس پر وہ جواب دیں گے کہ کم بختو، تم پر ہی خدا کی مار ہو خدا تم کو ہی آرام کی جگہ نہ دے، تم ہی تھے جن کے اغواواضلال کی بدولت آج ہم کو یہ مصیبت پیش آئی ، اب بتاؤ کہاں جائیں جو کچھ ہے یہی ٹھہرنے کی جگہ ہے جس طرح ہو یہاں ہی سب مروکھپو۔ آپس میں لعن طعن کرکے پھر اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے پروردگار جو اپنی شقاوت سے یہ بلا اور مصیبت ہمارے سرپرلایا اس کو دوزخ میں دوگنا عذاب دیجئے، شائد سمجھیں گے کہ اس کا دوگنا عذاب دیکھ کر ذرا دل ٹھنڈا ہوجائے گا حالانکہ وہاں تسلی کا سامان کہاں، ایک دوسرے کو کوسنا اور پھٹکارنا یہ بھی ایک مستقل عذاب ہوگا، پھر جب وہاں دیکھیں گے کہ سب جان پہنچان والے لوگ ادنی واعلی دوزخ میں ، جانے کے واسطے جمع ہوئے ہیں مگر جن مسلمانوں کو پہنچانتے اور سب سے زیادہ برا جان کر مذاق اڑایا کرتے تھے وہ اس جگہ نظر نہیں آتے توحیران ہوکر کہیں گے کہ کیا ہم غلطی سے ان کے ساتھ ہنسی کرتے تھے وہ اس قابلہ نہ تھے کہ آج دوزخ کے نزدیک رہیں یا اسی جگہ کہیں ہیں یا آنکھیں ان کی طرف پھر گئیں اس لیے وہ ہمارے دیکھنے میں نہیں آتے، دوزخیوں کے آپس کا یہ جھگڑا اور تکرار اور یک دوسرے کا لعنت کرنا ضروری ہے جس میں شک نہیں ۔
Ayahs 38:65–68

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ1، میں تو (عذاب الٰہی ) سے ڈرسنانے والا ہوں اور بجز اللہ واحد قوت والے کے کوئی معبود نہیں ہے

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا مالک ہے ( اور وہ) زبردست بڑا بخشنے والا ہے

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

تم فرماؤ یہ ایک بڑی خبر ہے

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

(مگر افسوس) تم اس سے غفلت میں ہو

(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو ، میں اس عذاب سے ڈرانے آیا ہوں تم مانو یہ نہ مانو میرا کام کہہ دینا ہے تم کو خوب سمجھاتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ سوائے اللہ وحدہ لاشریک کے کوئی قابل عبادت نہیں نہ اس کا کوئی ساجھی نہ اولاد، وہ یکتا ہے قہار ہے سب مخلوق پر غلبہ والا ہے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی کوئی چیز نہیں جو اس کے زیر تصرف نہ ہو جب تک چاہے ان کو قائم رکھے جب چاہے توڑ پھو ڑکربرابر کردے، اس عزیز و غالب کا ہاتھ کون پکڑ سکتا ہے ، اس کے زبردست قبضہ سے کون نکل کر بھاگ سکتا ہے اور ساتھ ہی اس کی لامحدود رحمت و بخشش کو کس کی مجال ہے محدود کردے اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ تم اس خبر قیامت کو کھیل سمجھ رہے ہو یہ بڑی ڈرائی ہولناک خبر ہے افسوس تم جس سے بےپروائی کرتے ہو یا یہ کہ قرآن شریف کوئی ادنی درجہ کا قصہ نہیں اس کے مضامین کو تودیکھو کیا کیا کہہ رہے ہیں عجیب و غریب کتاب ہے عظمت و کرامت والی ہے کہ اس میں سب اگلے پچھلے قصے مذکور ہیں اور سب سچے یقینی مگر بھی اس کو تم جھٹلاتے ہو۔
Ayahs 38:69–70

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھے ،1، عالم بالا (یعنی فرشتوں کی) کیا خبر تھی جب وہ جھگڑے تھے

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

مجھ تو یہی وحی ہوتی ہے کہ میں تم کو صاف ڈرسنادوں

(ف 1) اے محبوب ﷺ کہہ دو کہ مجھ کو کیا علم تھا کہ عالم بالا کے ملائکہ کس بات میں گفتگو کرتے تھے میری طرف خدا سے وحی بھیجی گئی اس کے ذریعہ سے مجھ کو اخبار غیب معلوم ہوئے وہ وحی یہ کہ میں تم کو قرآن کے قصص عبرت خیز سنا کر ڈراؤں کہ میں خدا کا نذیر مبین تمہارے لیے آیا ہون جو تم کو تمہاری صاف فصیح بامحاورہ زبان میں ڈراتا ہوں ، یعنی اگر رسول نہ ہو تو مجھ کو وہ خبر جو عرب والوں نے کبھی نہ سنی تھی کیونکرمعلوم ہوتی یہ ایک سچی یقینی دلیل نبوت ہے بغیر تعلیم ظاہر اسرار غیبی ظاہر کردیے۔ عظمت حبیب خدا۔ ترمذی، مسندامام احمد ، مسند عبد بن حمید اور دارمی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس اور معاذ بن جبل ؓ کی معتبر روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے بہترین حال میں اپنے رب عزوجل کے دیدار سے مشرف ہوا، اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ اے محمد ﷺ عالم بالا کے ملائکہ کس بحث میں ہیں میں نے عرض کیا یارب تو ہی دانا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنادست رحمت وکرم میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا میں نے اس فیض کا اثر اپنے قلب مبارک میں پایا تو آسمان و زمین کی تمام چیزیں میرے علم میں آگئیں پھر میں نے بتلادیا کہ کفارات یہ ہیں۔ (1) ۔ نمازوں کے بعد مسجد میں ٹھہرنا۔ (2) اور پیادہ جماعتوں کے لیے جانا ۔ (3) اور جس وقت سردی وغیرہ کے باعث پانی کا استعمال ناگوار ہو اس وقت اچھی طرح وضو کرنا۔ جس نے یہ کیا اس کی زندگی بھی بہتر ہے موت بھی بہتر اور گناہوں سے ایسا پاک وصاف نکلے گا جیسا اپنی ولادت کے دن تھا۔ اور فرمایا اے محمد ﷺ نماز کے بعد یہ دعا کیا کرو، اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنۃ فاقبضنی الیک غیر مفتون۔ بعض روایتوں میں یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے ہر چیز روشن ہوگئی اور میں نے پہچان لی اور ایک روایت میں ہے کہ جو کچھ مشرق ومغرب میں ہے سب میں نے جان لیا، امام علامہ علاؤ الدین علی بن محمد ابن ابراہیم بغدادی معروف بہ خازن اپنی تفسیر میں اس کے معنی یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کا سینہ مبارک کھول دیا اور قلب شریف کو منور کردیا اور جو کچھ نہ جانتے تھے اس سب کی معرفت آپ کو عطا کردی تاآنکہ آپ نے نعمت ومعرفت کی سردی اپنے قلب مبارک میں پائی اور جب قلب شریف منور ہوگیا اور سینہ پاک کھل گیا تو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے باعلام الٰہی جان لیا۔