37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 37:1–4

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ہے1 ان جماعتوں کی جو باقاعدہ صف باندھے ہیں۔

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ان جماعتوں کی جو جھڑک کر چلائیں۔

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ان جماعتوں کی جو قرآن پڑھیں۔

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

بیشک تمہارا معبود ضرور ایک وہ پروردگار ہے ۔

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین قسم کی قسم یاد فرمائی، چندگروہوں کی یا تو مراد اس سے ملائکہ کے گروہ ہیں جو نمازیوں کی طرح صف بستہ ہوکر اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں یا علماء دین کے گروہ جو تہجد اور تمام نمازوں میں صفیں باندھ کر کر مصروف عبادت رہتے ہیں یا نمازیوں کے گروہ جو راۃ خدا مین صفیں باندھ کر دشمنان حق کے مقابل ہوتے ہیں۔ دوسری قسم جھڑک کر جلانے والوں سے مراد ملائکہ جو بادل پر مقرر ہیں اور اس کو حکم دے کرچلاتے ہیں یا یہ مراد ہے کہ وہ علماء جو وعظ وپند سے لوگوں کو جھڑک کر دین کی راہ پرچلاتے ہیں یا یہ وہ غازی جو گھوڑوں کو ڈانٹ کر جہاد میں چلاتے ہیں۔ تیسری قسم قرآن شریف کی یا تو قرآن شریف پڑھنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو جنگ سے فارغ ہوکر تلاوت قرآن میں مصروف ہتے ہیں یا عام قرآن پڑھنے والے ان چیزون کی قسم کھاکر فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیانی کائنات اور تمام حدود جہالت سب کا مالک وہی ہے تو کوئی دوسرا کس طرح مستحق عبادت ہوسکتا ہے لہذا وہ شریک سے پاک ہے۔
Ayahs 37:5–10

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور پروردگار ہے مشرقوں کا (یعنی مشرق اور مغرب کا1)

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

بیشک ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے ۔

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہر شیطان سرکش سے اس کی حفاظت کی ۔

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

(اب) وہ شیاطین عالم بالا کی باتوں کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور ان پر ہر طرف سے بھگانے کے لیے انگارے پھینکے جاتے ہیں ۔

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

اور ان کے لیے (آخرت میں) ہمیشگی کا عذاب ہے ۔

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

مگر جو کوئی (شیطان فرشتوں کا کوئی کلمہ بھی کبھی) اوچک لے چلا، پس ایک جلانے والا شعلہ اس کے پیچھے لگا۔

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی جتلائی کہ اس نے آسمان میں ستارے پیدا کرکے آسمان کو زینت سے آراستہ کیا ہے پھر فرمایا کہ ہر شیطان سرکش سے ہم نے آسمان کو اوپرجانے سے محفوظ رکھا ہے اب نبی ﷺ کے زمانہ میں وہ شیاطین عالم بالا کی باتوں کی طرف کان نہیں لگاسکتے اور وہ طاقت نہیں رکھتے کہ باتیں سن سکیں اور وہ ہر طرف سے در در پھٹ پھٹ کرکے نکالے جاتے ہیں اور ہرچہار طرف سے فرشتے ان پر آگ کے انگارے پھینکتے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں ہمیشگی کا عذاب ہے مگر ہاں جو کوئی شیطان فرشتوں کا ایک آدھا لفظ سن کر بھاگا تو اس کا ایک دہکتا ہواشعلہ اس کو جلانے کے لیے پیچھا کرتا ہے۔
Ayahs 37:11–23

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

تو تم ان1 (کافروں) سے پوچھا : کیا ان کی پیدائش زیادہ سخت ہے یا ہماری پیدا کی ہوئی مخلوق بیشک ہم نے ان کو چپکتی مٹی سے پیدا کیا۔

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

بلکہ تمہیں ان (کافروں کی تکذیب کرنے) پر تعجب آیا اور وہ ہنستی کرتے ہیں۔

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب انہیں نصیحت دی جائے تو نصیحت قبول نہیں کرتے۔

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب یہ کوئی نشانی (مثل شق القمر وغیرہ) دیکھتے ہیں ہنسی اڑاتے ہیں۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ تو نہیں مگر صریح جادو۔

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

کیا جب ہم مرکر خاک اور ہڈیاں ہوجائیں گے کیا ہم ضرور اٹھائے جائیں گے ۔

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

(اور) کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی ۔

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ ہاں اور تم ذلیل ہو گے ۔

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

پس وہ (قیامت ) تو ایک سخت آواز ہوگی (یعنی دوسرے صور کی ) پس ناگہاں وہ (زندہ ہوکر اپنے افعال) دیکھنے لگیں گے ۔

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کہیں گے : ہائے خرابی ہماری ! یہ جزا کا دن ہے ۔

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا ) کہ (ہاں) یہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم (دنیا میں) جھٹلاتے تھے ۔

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

(اور فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ ) ہانکو ظالموں (یعنی کافروں) کو اور ان کے ہمراہیوں (یعنی شیاطین) کو اور جن کی وہ خدا کے سوا پوجا کرتے تھے (یعنی بت) ۔

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

پس ان سب کو دوزخ کی طرف ہانکو۔

مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ان منکرین حشر سے ذراپوچھو سہی کہ آسمان زمین ستارے فرشتے شیاطین وغیرہ مخلوقات کا پیدا کرنا ان کے خیال میں زیادہ مشکل کام ہے یا خود ان کا پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرچکنے کے بعد، ظاہر ہے کہ جو خدا ایسی عطیم الشان مخلوقات کا بنانے والا ہے اور اسے ان کا دوبارہ بنانا کیا مشکل ہوگا۔ آگے فرمایا ان کی اصل حقیقت ہمیں سب معلوم ہے ایک طرح کی چپکتی ہوئی مٹی سے جس کا پتلاہم نے تیار کیا آج اس کے یہ دعوے ہیں کہ آسمان و زمین کا بنانے والا ا اس کے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں جس طرح پہلے تم کو مٹی سے بنایا ودبارہ بھی مٹی سے نکال کر کھڑا کردیں گے آگے فرمایا ان کافروں کو حشر کا قائم ہوناتفصیل سے سمجھایاجاتا ہے اور یہ لوگ نہیں مانتے ہیں ۔ اس پر اے محبوب ﷺ تم کو ان لوگوں کے حال پر تعجب ہوتا ہے لیکن تعجب کی کچھ بات نہیں ، یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو بغیر سوچے سمجھے مسخرا پن کرکے اور معجزات شق القمر وغیرہ کو جادو بتلا کر ٹال دیتے ہیں اس لیے ان کے دل پر قرآن کی نصیحت کا اور معجزہ کا کچھ اثر نہیں ہوتا آگے فرمایا کہ یہ لوگ اپنی قدیمی جہالت پر اڑے ہوئے کہتے ہیں کہ صاحب جب ہمارا بدن خاک میں مل کرمٹی ہوگیا صرف ہڈیاں باقی رہ گئیں اور اس سے بھی بڑھ کر ہمارے باپ دادا جن کو مرے ہوئے قرن گزرگئے شاید ہڈیاں بھی باقی نہ رہی ہوں ہم کس طرح مان لیں کہ وہ سب پھر از سرنو زندہ کرکے کھڑے کردیے جائیں گے فرمایا کہ ان سے فقط اتنا ہی کہہ دیاجائے کہ ہاں تم اور تمہارے بڑے حشر کے دن ضرور اٹھائیں جائیں گے اور اس وقت ذلیل ورسوا ہوکر اس انکار کی سزابھگتو گے پھر فرمایا کہ اب تو یہ لوگ حشرکا انکار کرتے ہیں مگر دوسرے صور کی آواز سنتے ہی دوبارہ زندہ ہوکر تعجب سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے گا اور آپس میں یہ کہنے لگیں گے کہ ہائے افسوس یہ تو سچ مچ سزاوجزا کا دن تو آنکھوں کے سامنے آگیا جس کی رسول خبر دیتے اور ہم ہنسی اڑایا کرتے تھے پھر اللہ کے فرشتے ان نافرمانوں کو جواب دیویں گے کہ ہاں یہ وہی نیک وبد کے فیصلہ کا دن ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلاتے تھے اس کے بعد حساب وکتاب ہوکربت پرستوں وغیرہ کی جماعتیں بنائی جاکر فرشتوں کو حکم دیاجائے گا کہ ان جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکو۔
Ayahs 37:24–34

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور1 ان کو (پل صراط کے قریب ) ٹھہراؤ ان سے پوچھنا ہے ۔

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا ؟ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ وہ آج گردن جھکائے ہیں ۔

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر سوال جواب (یعنی اختلاف) کرتے ہوئے کہیں گے۔

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

کہ بیشک تم ہمارے داہنی طرف سے بہکانے آتے تھے (یعنی بزور قوت ہمیں گمراہی پر آمادہ کرتے تھے ) ۔

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے : بلکہ تم خود ہی ایمان نہ رکھتے تھے ۔

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا تم پر کچھ قابو نہ تھا بلکہ تم سرکش لوگ تھے ۔

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

بس (اب) ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی کہ بیشک (اب) ہم کو عذاب کا مزہ چکھنا ہے ۔

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

پس ہم نے تم کو گمراہ کیا تھا جیسے ہم خود گمراہ تھے ۔

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

پس وہ سب کے سب اس روز عذاب میں شریک ہیں۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

بیشک ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔

قیامت میں کافروں سے پوچھ گچھ۔ (ف 1) جن جماعتوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو دوزخ کی طرف ہانکنے کا حکم ہوگا، ان کے دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے فرشتوں کو یہ بھی حکم ہوگا کہ ان جماعتوں کو ذراپل صراط کے قریب ٹھہراؤ، کچھ ان سے پوچھنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا، چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر ایک شخص کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہوناپڑے گا۔ (1) ایک تو ہر شخص سے پوچھاجائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری۔ (2) دوسری بات یہ کہ اگر کچھ علم پڑھا تو اس علم کے موافق کیا عمل کیا (3) تیسری یہ بات کہ کس کس طریقہ سے دنیا مین مال کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا۔ (4) چوتھی بات یہ کہ خاص جوانی کو کس مشغلہ میں صرف کیا۔ وہ اس روز نہایت عاجزی اور اطاعت سے گردن جھکائے ہوں گے پھر انسے یہ پوچھاجائے گا کہ جس عذاب کو دنیا میں تم لوگ جھٹلاتے تھے آج ایک دوسرے کی مدد کرکے تم اس عذاب کو کیوں نہیں ٹال دیتے اب بہکنے والے بہکانے والون کی طرف متوجہ ہوکر کہیں گے کہ تم ہی ہم کو بڑے زورشور سے ہر وقت بہکارتے رہتے تھے بہکانے والے جواب دیں گے کہ تم خود تو ایمان نہ لائے ہم پر الزام رکھتے ہو ہمارا تم پر کیا زور تھا جو دل میں ایمان نہ گھسنے نہ دیتے تم لوگ خود ہی اعقل و انصاف کی حد سے نکل گئے اگر عقل وفہم اور عاقبت اندیشی سے کام لیتے تو ہماری باتوں پر کبھی دھیان نہ دیتے بہرحال جو ہونا تھا وہ چکا خدا کی حجت ہم پر قائم ہوئی ، اب سوا سکے کچھ غلط کاریوں کا عذاب بھگتیں۔ اب آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو اس طرح قائل ومعقول کرکے جرم کے موافق سزا دے گا۔
Ayahs 37:35–40

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

بیشک1 وہ لوگ ایسے تھے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، تو تکبر کرتے تھے ۔

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبدوں کو ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے چھوڑ دیں۔

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

(اے بدبختو ! ہمارے نبی دیوانے شاعر نہیں ہیں) بلکہ وہ تو حق لائے ہیں اور انہوں نے پہلے پیغمبروں کی تصدیق کی ہے ۔

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بیشک تم درد دینے والے عذاب (کے مزے) کو چکھو گے۔

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تم کو ویسا ہی بدلا دیا جائے گا جو کچھ تم کرتے تھے ۔

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر جو اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں۔

(ف 1) قیامت کے دن جب ان لوگوں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا، جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ہے تو اس وقت ان کو یاد دلایا جائے گا کہ تم پر عذاب اسی سبب سے ہے کہ تم توحید کی باتیں اللہ کے رسول سے سن کر نخوت اور تکبر سے ان حق باتوں کو نہیں سنتے تھے اور رسول کریم کو شاعر اور دیوانہ بتلاتے تھے کیا ایک دیوانے کے کہنے ہم اپنے باپ دادا کے زمانہ کے معبودوں کو چھوڑ دیں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کا جواب دیا کہ ہمارے رسول کو شاعر کیسے کہتے ہیں جو دنیا میں خالص سچائی لے کر آیا ہے اور سارے جہان کے سچوں کی تصدیق کرتے ہیں یا مجنون اور دیوانے ایسے سچے صحیح اور پختہ اصول پیش کیا کرتے ہیں پس انکار توحید اور ان گستاخیون کا مزہ چکھو گے جو بارگاہ رسالت میں کررہے ہو جو کچھ کرتے تھے وہ سب سامنے آجائے گا۔