37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 37:75–82

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور1 بیشک نوح نے ہم کو (مدد کے لیے) پکارا، پس ہم دعا کو خوب قبول کرنے والے ہیں۔

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑی تکلیف سے نجات دی ۔

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ہم نے اسی کی اولاد (یعنی نسل ) کو باقی رہنے دیا۔

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور ہم نے آنے والی نسلوں میں نوح کی تعریف باقی رکھی۔

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

نوح پور سلام ہو جہان والوں میں۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

بیشک ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک نوح ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھا۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسرے لوگوں (یعنی کافروں) کو غرق کردیا۔

حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو ساڑھے نوسوسال سمجھایارونصیحت کرتے رہے مگر ان کی شرارت اور ایذارسانی برابر بڑھتی رہی آخر حضرت نوح نے مجبورہوکر یہ دعامانگی ، یا اللہ اب میں قوم کے لوگوں کی سرکشی سے عاجز آگیا اس لیے ان سے ایسابدلہ لے کہ ان کا ایک گھر بھی زمین پر باقی نہ رہے ، طوفان کے بعد، سام ، حام اور یافث نوح کے تین بیٹے جو طوفان سے نچے ان کی نسل سے تمام دنیا چلی پھر فرمایا کہ رہتی دنیاتک نوح کا ذکر خیرلوگوں میں باقی چھوڑا، چناچہ آج تک خلقت ان پر سلام بھیجتی ہے اور سارے جہان میں نوح (علیہ السلام) کہہ کریاد کیے جاتے ہیں، پھر فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ایمانداروں لوگوں کو طوفان کی آفت سے بچالیا اور ان کے مخالفوں کو طوفان کے عذاب سے ہلاک کردیا اسی طرح اللہ تعالیٰ کامل الایمان اور خالص دل سے عبادت کرنے والے بندہ کو اس کی نیکیوں کا صلہ دیتا ہے۔
Ayahs 37:83–89

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور بیشک1 نوح کے طریقہ پر چلنے والوں میں سے ابراہیم تھا۔

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جبکہ وہ اپنے رب کے پاس وہ دل جو عیب سے پاک تھا لے کر آیا۔

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کسی چیز کی عبادت کرتے ہو۔

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا پانی رائے سے خدا کو چھوڑ کر (جھوٹ موٹ کے) اور معبدوں کو ڈھونڈتے ہو۔

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

پس اس خدا کے ساتھ جو تمام جہان والوں کا رب ہے ، تمہارا کیا گمان ہے۔

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر ابراہیم نے ستاروں کو ایک نگاہ بھر کر دیکھا۔

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

پھر کہا : بیشک میں بیمار ہونے والا ہوں۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا قصہ مختصر طور پر بیان فرمایا، سورة الانبیاء میں اس قصہ کی زیادہ تفصیل گزرچکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے ابراہیم نے اپنے باپ آزر اور قوم کے لوگوں کے روبرو بت پرستی کی مذمت بیان کی جب ان لوگوں پر اس کا کچھ اثر نہ ہوا تو ابراہیم نے دبی ہوئی آواز میں قسم کھائی کہ کبھی موقع پاکر میں ان بتوں کا پوراعلاج کروں گا سال بھر میں ایک میلہ بستی کے باہرہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جاتے تھے اور میلہ میں جاتے وقت کچھ کھاناپکاکربت خانہ میں رکھ دیتے تھے اور میلہ میں پلٹ کر جب آیا کرتے تھے وہ کھانا کھالیتے تھے اس قصے کے سال جب یہ لوگ جانے لگے تو حضرت ابراہیم بیماری کا عذر کرکے بستی میں رہ گئے۔
Ayahs 37:90–95

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

پس1 وہ لوگ ابراہیم سے پیٹھ موڑ کر چلے گئے ۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

پس ابراہیم ان کے خداؤں کی طرف چھپ کر گیا تو کہا کہ تم (اس چڑھاوے کے کھانے کو) کھاتے کیوں نہیں۔

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا کہ بولتے نہیں۔

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر تو ابراہیم بڑے زور سے ان کے مارنے پر متواجہ ہوا۔

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

پس وہ (بت پرست) اس کی طرف دوڑتے ہوئے آئے۔

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : کیا تم اپنے ہاتھ کو تراشے ہوئے (بتوں) کو پوجتے ہو۔

(ف 1) اور ان لوگوں کے بستی کے باہر چلے جانے کے بعد بت خانہ کو اکیلا پاکر بت خانہ میں گئے اور بتوں کے سامنے کھانا دھرا ہوا دیکھ کر پہلے تو دل لگی کے طور پر بتوں سے یہ کہا کہ تم یہ کھانا کیوں نہیں کھاتے ، جب بتوں نے اس کا جواب نہ دیا تو پھر ان بتوں سے یہ کہا کہ تم بولتے کیوں نہیں اس کے بعد سب سے بڑے بت کو ثابت چھوڑ دیا اور باقی سب چھوٹے بتوں کو توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا، جب یہ لوگ میلہ سے پلٹ کر آئے اور بت خانہ میں عادت کے موافق کھانا لینے گئے تو بتوں کو ٹوٹا ہوا پاکرآپس میں چرچا کرنے لگے کہ یہ کام کس نے کیا ہے حضرت ابراہیم نے جب دبی ہوئی آواز سے وہ قسم کھائی تو جس کا ذکر اوپر کی آیت میں گزرچکا ہیی تو ان میں کے بعض لوگوں نے حضرت ابراہیم کی آواز سن لی تھی ۔ اس واسطے ان لوگوں نے اس کام کا شبہ حضرت ابراہیم پر ڈال دیا اس پر ان لوگوں نے اس کی فریاد نمرود سے کی حضرت ابراہیم جب نمرود کے سامنے بلائے تو انہوں نے یہ کہا کہ تم لوگ بڑے بت کو ساتھ ملاکر ان سے چھوٹے بتوں کی پوجا کرتے تھے اس لیے بڑے بت نے اس بات کو ناپسند کیا اور چھوٹے بتوں کو توڑ دالا، اگر یہ بت کچھ بات کرسکتے تو ان سے پوچھ لیاجائے کہ ان کو کس نے توڑ دالا، حضرت ابراہیم کی اس بات سے جب وہ لوگ قائل ہوئے تو حضرت ابراہیم نے ان کو یوں بھی قائل کیا کہ تم لوگ اپنے ہاتھ کے تراشے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہوجوعقل سے بالکل بعید ہے۔
Ayahs 37:96–101

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ2 اللہ نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے عملوں کو جو کرتے ہو۔

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

وہ لوگ بولے کہ ابراہیم کے لیے ایک عمارت (یعنی آتش خانہ) تعمیر کرو، پھر ان کو بھڑکتی آگ میں ڈال دو ۔

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

تو ان لوگوں نے ابراہیم کے ساتھ برا داؤں (مکرو فریب) کرنا چاہا پس ہم نے ان کو نیچا دکھایا۔

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور ابراہیم نے (جبکہ ان کے باپ نے گھر سے نکال دیا تھا) یہ کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا۔

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

(یہ دعا کی) اے رب مجھ کو نیک فرزند عطا کر۔

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

پھر ہم نے اس کو ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی ۔

(ف 2) جب حضرت ابراہیم کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ دے سکے تو ان بت پرستوں نے یہ تجویز کہ ایک بڑا آتش خانہ بناکرحضرت ابراہیم کو اس میں ڈال دو اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی اور ان کے مخالف کا نجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے گا مگر اللہ نے ان کو ہی نیچا، دکھلایا اور حضرت ابراہیم پر آگ گلزار کردی اب حضرت اسماعیل نے الہام الٰہی کے موافق ملک شام کی طرف ہجرت کی اور ملک شام میں پہنچ کر نیک بیٹے کے عطا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔
Ayahs 37:102–113

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پھر1 جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ کام کے قابل ہوگیا تو کہا : اے میرے بیٹے ! میں نے خواب دیکھا میں تجھ کو (امر الہی) سے ذبح کرتا ہوں (یعنی ذبح کا انتظام کررہا ہوں) پس تو دیکھ تیری کیا رائے ہے ۔ اس نے کہا : اے میرے باپ کیجیے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے ، آپ مجھ کو انشاء اللہ صابر پائیں گے ۔

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

پس جب وہ دونوں ہمارے حکم کے تابع ہوئے اور باپ نے بیٹے کو (ذبح کرنے کے لیے) ماتھے کے بل لٹایا۔

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ( چاہتے تھے کہ ذبح کرے اس وقت ) ہم نے ابراہیم کو آوز دی ۔

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

کہ اے ابراہیم ! بیشک تو نے خواب کو سچ کر رکھایا بیشک ہم نیکوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بیشک یہ صریح آزمائش تھی ۔

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک جانور (جنت سے) اس کے عوض میں دے کر اسے بچا لیا۔

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور ہم نے پیچھے آنے والی نسلوں میں اس کا ذکر خیر باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

کہ (ہماری طرف سے) ابراہیم پر سلام ہو۔

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم نیک بندوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے اعلی درجہ کے ایماندار بندوں میں سے ہے ۔

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق کی خوشخبری دی کہ جو نیکوں میں سے نبی ہوگا۔

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

ور ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکتیں نازل کیں اور ان دونوں کی اولاد میں کوئی نیک کام کرنے والا (یعنی مومن) ہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا (یعنی کافر) ہے۔

قربانی اسماعیل علیہ السلام۔ (ف 1) جب حضرت ابراہیم کی دعا کے اثر سے حضرت اسماعیل پیدا ہوکر اچھی طرح پھرنے چلنے کے قابل ہوگئے تو حضرت ابراہیم نے ان سے اپنے اس خواب کا ذکر کیا تاکہ ان کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتے ہیں یا زبردستی کرنی پڑے گی کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہی خواب میں دیکھتے رہے ، تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلاتوقف قبول کیا کہنے لگا کہ اباجان دیر کس بات کی ہے آپ کو جس طرح اللہ تعالیٰ کا حکم ہے موافق عمل کریں، سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبر و تحمل کے ساتھ اللہ کی حکم کی تعمیل کرتا ہوں حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو اوندھا اس لیے لٹایا کہ چھری پھیرتے وقت اسماعیل (علیہ السلام) کا چہرہ دیکھ کر جوش محبت کے سبب سے اللہ کے حکم کی تعمیل میں کچھ خلل نہ پڑے، جب اللہ نے حضرت ابراہیم کو بیٹے کی قربانی پر بالکل تیار پایا تو حضرت اسماعیل کے بدلہ میں ایک دنبہ قربانی کے لیے بھیج دیا، اور غیب سے آواز آئی کہ اے ابراہیم تم نے اپنا خواب سچ کردکھایا پھر فرمایا کہ اگرچہ حضرت ابراہیم کے حق میں یہ بڑی آزمائش تھی لیکن اللہ تعالیٰ نیک لوگوں سے ایسا ہی برتاؤ کرتا ہے جو برتاؤ اس نے حضرت ابراہیم کے ساتھ برتا، کہ ان کے اکلوتے بیٹے کو بھی قربانی سے بچادیا اور ایک اور بیٹے کی خوش خبری ان کو سنادی، اور آزمائش میں پورا اترنے سے انکاذکر خیر دنیا میں پھیلادیا کہ ہر ایماندار آدمی ان پر سلام بھیجتا ہے پھر فرمایا علم الٰہی کے موافق حضرت ابراہیم اور اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں قیامت تک اچھی بری طرح کے لوگ ہوں گے کوئی نیک کام کرنے والامومن ہوگا اور کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا کافر ہوگا، پس بنی اسرائیل میں جو خرابیاں پیش آئیں اور قیامت تک پیش آویں گی یہ ان کی غیب گوئی کا قرآن شریف میں ایک معجزہ ہے۔