36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsمظہر القرآن

Ayah 36:1
Ayahs 36:2–4

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

حکمت1 والے قرآن کی قسم۔

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

بیشک (اے محبوب) تم۔

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھی راہ پر بھیجے گئے ہو۔

(ف 1) حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز ک لیے قلب ہے اور قرآن کا قلب یسین ہے اور جس نے یسین پڑھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکھتا ہے بزرگان دین نے فرمایا کہ ہر سختی کے وقت یسین پڑھنا چاہیے اس کی برکت سے وہ سختی دفع ہوجاتی ہے مراد حاصل ہوتی ہے اور موت کے آنے کے وقت پڑھنے سے میت کی روح آسانی سے نکلتی ہے اور ایمان نصیب ہوتا ہے اور یسین کے معنی میں اختلاف ہے ابن عباس فرماتے ہیں اس سے مراد جناب رسول اللہ ہیں کیونکہ آپ کے بہت سے نام ہیں منجملہ ان کے یہ بھی آپ کا نام ہے ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ مکہ کے مشرک نبی کی نبوت کو نہین مانتے تھے کبھی تو جادوگر بتلاتے تھے اور کبھی شاعر اور کاہن کہتے تھے کہ اور کبھی کہتے تھے کہ تم اللہ کے رسول نہیں ، اس لیے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ مشرکوں کو یقین دلانے کے لیے نبی ﷺ کی نبوت کا ذکر کیا اور فرمایا اے محبوب آپ بلاشبہ اللہ کے پیغمبروں میں ہیں اور آپ سیدھے راستہ پر ہیں یعنی اس راستہ پر ہیں کہ جو انبیاء سابقین کا راستہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کی نبوت تمام مخلوقات کے لیے ہے۔
Ayahs 36:5–10

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

یہ1 قرآن غالب مہربان کا اتارا ہوا ہے ۔

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ تم اس قوم کو ڈر سناؤ کہ جس کے باپ دادا (پیغمبروں کے ذریعہ سے) نہ ڈرائے گئے تو وہ بیخبر ہیں۔

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

بیشک اس میں سے اکثر لوگوں پر عذاب کا وعدہ ثابت ہوچکا ہے پس وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

بیشک ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے ہیں پس وہ تھوڑیوں تک ہیں پس یہ اوپر کو منہ اٹھائے رہ گئے۔

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے آگے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار قائم کردی پس ہم نے (ہر طرف سے) ان کو ڈھانک دیا (یعنی ایمان کی راہ بند ہے) پس وہ کچھ نہیں دیکھتے۔

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور ان کے لیے تمہارا ڈرانا یا نہ ڈرانا دونوں برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

قرآن کے جھٹلانے والوں کا انجام۔ (ف 1) اوپر قرآن کی قسم کھاکریہ اسکی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی گئی ہے وہ قرآن ایسے کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والے کو سزا دینے میں بڑازبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑاصاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا ان میں سے اکثر لوگوں پر بات تقدیری ثابت ہوچکی ہے اس لیے اے محبوب ﷺ ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہیے اب آگے ان نافرمان لوگوں کی مثال بیان فرمائی کہ ان لوگوں کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی کی گردن میں طوق ڈال دیاجائے کہ اس میں دونوں ہاتھ بھی جکڑ دیے جاتے ہیں اس لیے جب طوق مع دونوں ہاتھوں کے ٹھوڑی تک ہوا تو ہاتھ ٹھوری کے نیچے پھنس کر گردن اونچی ہوگئی اور آنکھیں آسمان کو لگ گئیں دوسری مثال بیان فرمائی کہ ان کے آگے پیچھے دیوار آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اس لیے یہ لوگ آگے پیچھے کی چیز تو درکنار دیوار کی چیز کو بھی نہیں دیکھ سکتے پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا جب یہ حال ہے تو قرآن کی آیتوں میں ان کے بھلے برے کو جو جتلایا گیا ہے اس کو یہ لوگ کسی طرح ماننے والے نہیں۔ اس لیے ان کو عذاب آخرت سے ڈرانا اور نہ ڈرانا یکساں ہے جو لوگ راہ راست پر یعنی مسلمان ہیں اور انہوں نے نہیں دیکھا لیکن اللہ کے کلام کا یقین ان کے دل میں ایساجم گیا ہے کہ بن دیکھے عذاب کا خوف بھی ان کو نافرمانی سے روکتا ہے اب اس خوف اور ایمان کا نتیجہ بیان فرمایا کہ ایسے لوگوں کے حق میں گناہوں کی معافی کا اور تھوری سی نیکی کے بڑے اجر کا اللہ کا وعدہ ہے اے محبوب تم اللہ کا یہ وعدہ خوش خبری اللہ کی قدرت کی نشانی کے طور پر ایسے لوگوں کو سنادو۔
Ayahs 36:11–12

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

پس تم تو اسی شخص کو ڈر سنا سکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور اللہ سے بےدیکھے ڈرے، پس اسے مغفرت اور عزت کے ثواب (یعنی جنت) کی خوشخبری1 دو

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھ رہے ہیں کہ جو اعمال انہوں نے آگے بھیجے او جو نشانیاں (یعنی طریقے) پیچھے چھوڑ گئے۔ اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں شمار کر رکھا ہے ۔

اللہ کی قدرت کی نشانی۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ کامل بدلہ پانے کا مقام آخرت ہے اور وہ اس طرح سے ہے کہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے پھر فرمایا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور نیک وبد عمل اور ان کی جزا وسزا دینے کے واسطے لوح محفوظ میں لکھتے ہیں اور ہم ان کے ان طریقوں کو بھی اسمیں لکھتے ہیں جن کو وہ اپنے بعد والوں کے واسطے مقررکرگئے ہم نے لوح محفوط میں تمام چیزوں کو اکٹھا کردیا ہے۔
Ayahs 36:13–32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور ان سے ایک داستان اس شہر والوں کی بیان کرو جب ان کی طرف فرستادے (پیغمبر) آئے۔

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب ہم نے ان کی طرف دو حواری بھیجے پس انہوں نے ان کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے قوت دی، اب ان تینوں فرستادوں نے کہا : بیشک ہم تمہاری طرف (ہدایت کے لیے) بھیجے گئے ہیں۔

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا : تم تو ہم جیسے آدمی ہو اور نہ خدا نے کوئی چیز بھیجی ہے تم محض جھوٹ بولتے ہو۔

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

انہوں نے کہا : ہمارا رب جانتا ہے کہ بیشک ضرور ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور ہمارے ذمہ نہیں مگر صاف صاف پیغام پہنچا دینا۔

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

وہ لوگ بولے : بیشک ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور تمہیں سنگسار کریں گے اور بیشک تم کو ہمارے ہاتھوں دکھ کی مار پڑے گی۔

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا : کہ تمہاری نحوست تو تمہارے (کفر کے) ساتھ ہے، کیا اس لیے کہ تم کو نصیحت کی گئی بلکہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو۔

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور ایک شخص (مسلمان) اس شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا : اے میری قوم ! بھیجے ہوؤں کی پیروی کرو۔

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

ایسوں کی پیروی کرو جو تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگتے اور وہ راہ راست پر ہیں۔

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور مجھے کیا (عذر) ہے کہ میں اس (معبود) کی عبادت نہ کروں کہ جس نے مجھے پیدا کیا اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا میں اللہ کے سوا اور (باطل) معبود ٹھہراؤں کہ اگر خدا مجھ کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ ان (باطل معبودوں) کی سفارش میرے کچھ کام آئے اور نہ وہ مجھے بچا سکیں۔

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

(اگر میں ایسا کروں) تو بیشک میں صریح گمراہی میں ہوں۔

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے رب پر ایمان لایا پس میری سنو۔

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

اس سے فرمایا گیا کہ جنت میں داخل ہو، کہنے لگا : کاش میری قوم کو یہ بات معلوم ہوتی۔

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

کہ کس چیز سے میرے رب نے میری مغفرت کی اور مجھ کو عزت والوں میں شامل کیا۔

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر کوئی لشکر (فرشتوں کا اس کی ہدایت کے لیے) آسمان سے نہیں اتار اور نہ ہم کو وہاں کوئی لشکر اتارنا تھا۔

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

وہ سزا تو ایک آواز سخت تھی، پس وہ سب اسی دم (اس سے) بجھ کر (یعنی مر کر) رہ گئے۔

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

اور (کہا گیا) کہ ہائے افسوس (ایسے) بندوں کے حال پر جب ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا ہی کرتے ہیں۔

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتیں ہلاک کردیں کہ اب وہ ان کی طرف (دنیا میں) لوٹ کر آنے والے ہیں اور جتنے بھی نہیں۔

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

سب کے سب (قیامت کے دن) ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ۔ ( ٖف 1) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ مختصر بیان یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دوحواریوں صادق وصدوق کو انطاکیہ بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو جو بت پرست تھے دین حق کی دعوت دیں جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے اس شخص کا نام حبیب نجار تھا اس نے ان کا حال دریافت کیا ان دونوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں تمہین دین حق کی دعوت دینے آئے ہیں کہ بت پرستی چھوڑ دو اور خدا پرستی اختیار کرو، حبیب نجار نے نشانی دریافت کی تو انہوں نے کہا نشانی یہ ہے کہ ہم بیماروں کو اچھا کرتے ہیں اور اندھوں کو بینا کرتے ہیں اور برص والے کامرض دور کرتے ہیں ، حبیب نجارکا ایک بیٹا دو سال سے بیمار تھا انہوں نے اس پر ہاتھ پھیرا وہ تندرست ہوگیا، حبیب نجار ایمان لائے اور اس واقعہ کی خبر مشہور ہوگئی اور ایک خلق کثیر نے ان کے ہاتھوں اپنے امراض سے شفاپائی یہ خبرپہنچنے پر بادشاہ نے انہیں بلاکر کہا، کیا ہمارے معبودوں کے سوا اور کوئی معبود بھی ہے ان دونوں نے کہاوہی جس نے تجھے اور تیرے معبودوں کو پیدا کیا ہیی پھر لوگ ان کے درپے ہوئے اور انہیں مارا اور یہ دونوں قید کرلیے گئے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے شمعون کو بھیجا وہ اجنبی بن کر شہر میں داخل ہوئے اور بادشاہ کے مصاحبیبن ومقربین سے ذکر کیا کہ دوآدمی جو قید کیے گئے ہیں وہ کیا کہتے تھے بادشاہ نے کہا جب انہوں نے نئے دین کا نام لیافورا ہی مجھے غصہ آگیا، شمعون نے کہا، اگر بادشارہ کی رائے ہو تو انہیں بلالیاجائے دیکھیں ان کے پاس کیا ہے چناچہ وہ دونوں بلائے گئے شمعون نے ان سے دریافت کیا تمہیں کس نے بھیجا ہے انہوں نے کہا اس اللہ نے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر جاندار کو روزی دی اور جس کا کوئی شریک نہیں شمعون نے کہا اس کی مختصر صفت بیان کرو انہوں نے کہاوہ جو چاہتا ہے کرتا ہے شمعون نے کہا تمہاری نشانی کیا ہے انہوں نے کہا جو بادشاہ چاہے تو بادشاہ نے ایک اندھے لڑکے کو بلایا انہوں نے دعا کی وہ فورابینا ہوگیا، شمعون نے بادشاہ سے کہا کہ اب مناسب یہ ہے کہ تو اپنے معبودوں سے کہہ کر وہ بھی ایسا ہی کرکے دکھائیں تاکہ تیری اور ان کی عزت ظاہر ہو، بادشاہ نے شمعون سے کہا کہ تم سے کچھ چھپانے کی بات نہیں ہمارا معبود نہ دیکھے نہ سنے اور نہ کچھ بگاڑے ، نہ بناسکے، پھر بادشاہ نے ان دونوں حواریوں سے کہا کہ اگر تمہارے معبود کو مردے کے زندہ کردینے کی قدرت ہو تو ہم اس پر ایمان لے آئیں انہوں نے کہا ہمارا معبودہرشے پر قادر ہے بادشاہ نے ایک دہقان کے لڑکے کو منگایا جس کو مرے ہوئے سات دن ہوچکے تھے اور جسم خراب ہوچکا تھا بدبو پھیل رہی تھی ان کی دعا سے اللہ نے اس کو زندہ کردیا اور وہ اٹھ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں مشرک تھا مجھ کو جہنم کی سات وادیوں میں دھکیل دیا گیا میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ جس دین پر تم ہو بہت نقصان دہ ہے ایمان لے آؤ، اور کہنے لگا کہ آسمان کے دروازے کھلے اور ایک حسین جوان مجھے نظرآیا جو ان تین شخصوں کی سفارش کرتا ہے کہ بادشاہ نے کہا کون تین، اس نے کہا ایک شمعون اور دویہ، بادشاہ کو تعجب ہوا کہ جب شمعون نے دیکھا کہ اس کی بات بادشاہ کے دل پراثر کرگئی تو اس نے بادشاہ کو نصیحت کی اور وہ ایمان لایا او اس کی قوم کے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ ایمان نہ لائے اور عذاب الٰہی میں ہلاک کیے گئے اکثر سلف کا قول ہے کہ اللہ نے حضرت جبرائیل کو اس قوم کے ہلاک کرنے کا حکم دیا حضرت جبرائیل نے اس شہر کے دروازے پر آن کر ایک چنگھاڑ ماری جس سے ان کے کلیجے پھٹ کر فورا مرگئے۔
Ayahs 36:33–36

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

اور1 ان کے لیے مردہ (یعنی خشک) زمین ایک نشانی ہے جس کو ہم نے (بارش سے) زندہ (یعنی سرسبز) کیا اور پھر اس سے اناج نکالا پس اس میں سے (وہ) کھاتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور ہم نے اس (زمین) میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور ہم نے اس میں چشمے جاری کے۔

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ لوگ اس کے پھلوں میں سے کھائیں اور اسے ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا (یہ سب خدا کا دیا ہوا ہے) تو کیا (یہ لوگ اس نعمت کا) شکر نہیں کریں گے ۔

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ذات ہے وہ کہ جس نے سب جوڑے پید اکیے ان چیزوں سے جنہیں زمین گاتی ہے اور خود ان سے اور ان چیزوں سے کہ جن کی انہیں خبر نہیں۔

اللہ کی قدرت کی نشانیاں۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہر سال حشر کا حال سمجھنے کے لیے وہ مردہ یعنی خشک زمین کو جس میں گھاس تک نہیں اگتی منکرین حشر کے حق میں ایک نشانی ہے۔ کہ جس وقت ہم نے اس پر مینہ برسایا تو مردہ زمین یعنی خشک زمین کا پانی سے ہر ابھرا کردینا یعنی بعد مرنے کے زمین کو زندہ کردیا، جس سے ہم نے اناج پیدا کیا جس کو وہ سب لوگ کھاتے ہیں یہ نشانیاں دوبارہ پیدا کرنے کی دلالت کرتی ہیں اور ہم نے اس زمین میں طرح طرح کے باغ کھجوروں اور انگوروں کے پیدا کیے اور جاری کیے زمین میں چشمے اور ندیاں تاکہ لوگ باغ کے میوے اور پھلوں میں سے کھائیں، پھر فرمایا یہ چیزیں ان کی بنائی ہوئی نہیں نہ ان کے معبودوں کی بلکہ صرف اس کی قدرت سے پیدا ہوئی ہیں پھر فرمایا ی لوگ اس نعمت کا شکر کیوں نہیں کرتے وہ اللہ تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے جس نے زمین کو اگنے والی چیزوں کی طرح پیدا کیا اور بہت سی ایسی عجیب اور غریب چیزیں پیدا کی ہیں جس کو تم جانتے تک بھی نہیں ہو۔
Ayah 36:37

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور1 ان کے لیے ایک نشانی رات ہے کہ ہم اس (رات) پر سے دن کو اتار لیتے ہیں، پس ناگہاں وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔

رات اور دن قدرت کی نشانیاں۔ (ف 1) یہ ایک قدرت کی نشانی کا ذکر فرمایا کہ ایک نشانی ہمارے قدرت کی ان کے واسطے رات ہے فرمایا کہ ہم اس رات پر سے دن اتار لیتے ہیں وہ لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں راہ کا اندھیرا اور دن کا اجالادونوں خدا کی قدرت کی نشانی ہیں رات آتی ہے تو دن چلاجاتا ہے اور جب دن آتا ہے تورات چلی جاتی ہے رات کو انسان آرام پاتا ہے اور دن کو ہر طرح کا کام دھندہ کرتا ہے ۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا نے نیند کو موت اور سوکراٹھنے کو دوبارہ جینا فرمایا ہے نیند میں آدمی کے ہوش و حواس جاتے رہتے ہیں اس لیے نبی نے فرمایا کہ رات کو سونا اور دن کو پھر جاگ اٹھنا حشر کا ایک نمونہ ہے اس لیے اللہ نے رات کا دن کا ذکر فرمایا۔
Ayah 36:38

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور2 سورج اپنی مقررہ راہ پر چلتا رہتا ہے یہ اندازہ خدائے غالب جاننے والے کا (بنایا ہوا) ہے۔

(ف 2) ایک اور قدرت کی نشانی کا ذکر فرمایا کہ آفتاب کے دورہ کا یہ ہے کہ قیامت تک مشرک سے نکلنے اور مغرب میں غروب ہونے کا دورہ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے پیچھے لگادیا ہے وہی اسکا دور ہے قیامت کے دن اس کی حرکت جاتی رہے گی نبی ﷺ نے ایک روز حضرت ابوذر ؓ سے پوچھا کہ یہ سورج جو غروب ہوتا ہے تو تم کو معلوم ہے کہ یہ کہا جاتا ہے انہوں نے کہا کچھ معلوم نہیں آپ نے فرمایا یہ عرش معلی کے بیچ میں اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں سجدہ کرتا ہے اور معمول کے موافق مشرق سے نکلنے کی اس کا اجازت ملتی ہے جب قیامت آنے کو ہوگی تو مغرب کی طرف سے نکلنے کا اس کو حکم ہوجائے گا پھر کسی کا ایمان قبول نہ ہوگا، اور سورج مغرب سے نکلتے ہی دابۃ الارض نکل آوے گا اور مسلمان اور کافر کو الگ الگ کردیوے گا آخر فرمایا سورج کی چال کا یہ اندازہ ایسے زبردست صاحب علم کاٹھہرایا ہوا ہے اور کہ اس مین کبھی فرق نہیں پڑسکتا۔
Ayahs 36:39–40

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور1 چاند کے لیے بھی ہم نے منزلیں مقرر کیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے ) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے ۔

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے اور آسمان میں ہر ایک ایک (سورج اور چاند اور ستارے) سیر کرتے ہیں۔

چاند اور سورج قدرت کی عظیم نشانیاں۔ (ف 1) منجملہ دلائل کے ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے چاند کے واسطے اٹھائیس منزلیں مقرر کیں ہیں کہ وہ ہر مال کی اٹھائیس رات دن میں ان میں سے گذرتا ہے اگر تیس کا مہینہ ہوتا ہے تو دودن غائب رہتا ہے اور جو انتیس روز کا مہینہ ہوتا ہے تو ایک روز غائب رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پچھلی تاریخون میں بہ سبب باریکی اور زردی اور کجی مثل پتلی سوکھی خمدار ٹہنی کھجور کے ہوجاتا ہے پھر فرمایا کہ سورج کو نہیں لائق کی چاند کو پکڑلیوے، مطلب یہ ہے کہ چاند کی چال سے سورج کی چال کم ہے اس لیے سورج چاند کو پکڑ نہیں کرسکتا، اور رات بھی دن سے آگے بڑھنے والی نہیں ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ دن تو آئے نہیں اور دوسری رات شروع ہوجائے ان کے لیے یہی ایک حد اللہ تعالیٰ نے ٹھہرادی ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کرسکتے، اور رات اور دن اور سورج اور چاند ستارے سب کے سب الگ اپنے اپنے دورہ میں سیر کررہے ہیں۔