36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 36:80–83

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

وہ ایسا قادر ہے کہ جس1 نے تمہارے لیے ہرے درخت میں سے آگ پیدا کی، پس جبھی تم اس سے (اور آگ) سلگاتے ہو۔

اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 36:81 in the Quran reader

کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پید ا کیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے دوبارہ پید اکرے کیوں نہیں اور وہی بڑا پیدا کرنے والا، علم والا ہے ۔

اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 36:82 in the Quran reader

اس کی تو یہ شان ہے کہ جب وہ کسی چیز کو چاہے تو اس سے فرمائے : ہوجا، پس وہ فورا ہوجاتی ہے ۔

فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 36:83 in the Quran reader

پس پاکی ہے اسے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا قبضہ ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

(ف 1) انسان کی عقل کی رسائی سے باہر اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی ہے کہ کیونکہ انسان کا عقلی تجربہ تو یہی ہے کہ کسی ہرے درخت کی ٹہنیوں پر آگ ڈال دی جائے تو اس کی ٹہنیاں جل جائیں گی یہ اسی کی قدرت ہے کہ بعض درختوں میں اس نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان درختوں کی ہر ٹہنیوں کو توڑ کر ایک ٹہنی کو دوسری سے رگڑاجائے تو ان ٹہنیوں میں سے ـآگ نکلتی ہے جس آگ کو مسافر لوگ کام میں لاتے ہیں عرب میں دودرخت ہیں جو وہاں کے جنگلوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ایک کا نام مزح ہے اور دوسرے کا نام عفار۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ جب ان کی سبز شاخیں کاٹ کر ایک دوسرے پر رگڑی جائیں تو ان سے آگ نکلتی ہے باوجوی کہ وہ اتنی تری ہوتی ہیی کہ ان سے پانی ٹپکتا ہوتا ہے اس میں قدرت کی کیسی عجیب غریب نشانی ہے کہ آگ اور پانی دونوں ایک دوسرے کی ضد کو جمع کردیا پھر فرمایا کہ جس خدا نے ان منکرین حشر کے سرپربغیر ستون کے سات آسمان کھڑے کردیے ان کے رہنے اور بسنے کے لیے پانی پر زمین بچھادی کیا ایک دفعہ پیدا کرکے پھر دوبارہ ان منکرین حشر کا پیدا کرنا کیا اس کی قدرت سے باہر نہیں ، نہیں وہ بڑا خالق ہے اور اس کا علم بہت وسیع ہے اس کی قدرت کے کارخانہ میں ہر ایک چیز کے پیدا ہوجانے کے لیے فقط حکم کی دیر ہے یہ منکرین حشر اس کی شان میں جو بکواس لگاتے ہیں اس سے وہ پاک ہے ہر ایک چیز اس کے حکم کے تابع ہے جنگل میں دریا جہاں کہیں ان منکرین حشر کی خاک ہوگی اس کو جمع کیا جاکران کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور عمر بھر کے سب نیک وبد کا ان کو حساب دیناپڑے گا۔