35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsمظہر القرآن

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

سب1 تعریف اللہ کے لیے (جو ) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر دار بازو ہیں وہ بڑھاتا ہے پیدائش میں جو چاہتا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

(ف 1) سب خوبیاں اللہ ہی کو ہی جو آسمان اور زمین کا ابتداہی سے پیدا کرنے والا ہے اور جس نے پیغمبروں تک وحی لے جانے کا قاصد ملائکہ کو کردیا کیسے ملائکہ جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں وہ اپنی مخلوق میں خواہ فرشتے ہیں خواہ ان کے غیر، جو چاہتا ہے زیادہ کردیتا ہے بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

اللہ2 لوگوں کے لیے جو رحمت کھول دے کوئی اس کو بند کرنے والا ہیں اور جو کچھ روک لے تو اس کے روک لینے کے بعد اس کا کوئی جاری کرنے والا نہیں اور وہی غالب حکمت والا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں۔ (ف 2) اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ آدمیوں کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دے تو کوئی اس رحمت کاروکنے والا نہیں اور جو بند کردے اور روک دے تو کوئی پھر اس کو کھولنے والا نہیں، غرض سب کچھ اسی کے قبضہ میں ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے۔ اس کے سامنے کسی کی مجال نہیں جو اس کے انتطام میں دخل دے سکے اور جو کام وہ کرتا ہے حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔
Ayahs 35:3–7

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

اے لوگو !3 اپنے اوپر اللہ کی نعمتیں یاد کرو کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی پیدا کرنے والا ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی دے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں اوندھے جاتے ہو، (یعنی ایمان و توحید سے پھرے جاتے ہو) ۔

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور اگر یہ تم کو جھٹلائیں تو بیشک تم سے پہلے کتنے ہی پیغمبر جھٹلائے گئے ہیں اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پس تم کو دنیا کی زندگی دھوکہ میں نہ ڈالے (کہ آخرت کو بھول جاؤ) اور دھوکا باز شیطان اللہ کے حکم پر تمہیں فریب نہ دے۔

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے پس تم بھی اسے دشمن سمجھو، شطیان تو اپنے گروہ کو اسی لیے بلاتا ہے تاکہ وہ لوگ دوزخیوں میں سے ہوجائیں۔

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

(پس) جو لوگ کافر ہوگئے ان کے لیے عذاب سخت ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔

(ف 3) ان آیتوں میں ارشاد ہے اے لوگوتم پر جو خدا کی نعمت ہے اس کو یاد کرو اور اس کا شکر ادا کروسوائے خدا کے تمہارا کوئی اور پیدا کرنے والا ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو، جب نہیں ہے تو اسی کی تابعداری میں کوشش کرو اور سب جھگڑوں کو چھوڑ دو ، جب اسی نے پیدا کیا اور کھانے پینے کو بھی وہی دیتا ہے تو اس کے برابر تمہارے اوپر کسی کا حق ہے تمہارے رگ اور پٹھوں میں اس کے انعامات سرایت کررہے ہیں اور خود اس کے بنائے ہوئے ہو پھر اس کو چھوڑ کر کہاں جاتے ہو اور اپنے محسن کو کیوں بھولے ہوئے ہو، آگے فرمایا کہ اے محبوب تم کو یہ کافر جھوٹابتادیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے تم سے پہلے جو رسول ہوچکے ہیں ان کو بھی تو لوگ جھوٹا بتاچکے ہیں اور سب کام اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے کیا تمہارا صبر کرنا اور ان کا تم کو جھوٹا بنانا ہمارے سامنے پیش نہ ہوگا، اور کیا ہم اس کی جزوسزا نہ دیں گے پھر فرمایا اے لوگو خدا کا وعدہ سچا ہے اور جو کچھ اس نے حشر ونشر وارجزوسزا کی نسبت بیان فرمایا ہے وہ ضرور ایک روز وقوع ہونے الا ہے جب یہ بات ضرور ایک روز ہونے والی ہے تو اب وقت کو غنیمت جانو اور اس دن کے لیے کچھ ہماری رضامندی کا سامان کرلو، اور غفلت سے باز آجاؤ، پس تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور آخرت سے غافل کرادے، اور شیطان فریب میں کہیں تم کو نہ ڈال دے، دیکھو اے لوگو اگر ایسی بات ہوگئی تو ہمیشہ کے لیے سوائے حسرت اور افسوس کے اور طرح طرح کی مصیبتوں اور ذلت کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا، اور شیطان کے فریب دینے کی بہت سی صورتیں ہیں منجملہ ان کے یہ ہے کہ بندہ خوب سے گناہ کیے جاتا ہے اور کچھ خوف وخطر نہیں کرتا، اور مغفرت کی امید کرے جاتا ہے اور کہتاجاتا ہے کہ خدا غفار ہے اور توبہ کرنے کی نوبت نہیں آنے دیتا اور دل میں یہ خیال پیدا کرتا ہے کہ توبہ کے لیے بہت سی فرصت ہے لیکن یہ لذت کہاں ہاتھ آئے گی البتہ شیطان ہمیشہ سے تمہارا دشمن ہے تم اس کو اپن ادشمن سمجھو اور اس کی مخالفت اور شرع کی موافقت کرودشمن کا کہنا کوئی نہیں مانا کرتا، اور جو مانے گا وہ ضرور ایک دن خوار ذلیل ہوگا، کیونکہ وہ تو اس کو ایسی ہی تعلیم کرے جو اس کے لیے مضر ہو، پھر فرمایا کافروں کے لیے ہمارے ہاں سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور پھر کام بھی اچھے کیے ان کے لیے ہماری بخشش ہے اور بڑا اجر ہے۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

پس کیا1 وہ شخص جس کی نگاہ میں اس کا برا کام آراستہ کیا گیا کہ اس نے بھلا سمجھا تو (کیا وہ مثل مومن صالح کے ہوسکتا ہے ہرگز نہیں) اس لیے جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کرتا ہے تو تمہاری (اس غم میں کہ ایمان نہ لائے اور) ان کی اس حالت کی حسرتوں میں جان نہ جائے، بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ کہ وہ کرتے ہیں۔

(ف 1) شان نزول : ابوجہل وغیرہ مشرکین جو اپنے کفر وشرک جیسے افعال قبیح کو شیطان کے بہکانے کو بھلاسمجھنانے سے اچھا سمجھتے تھے اور برے کام اچھے معلوم ہونے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی فرمایا کہ اس شخص کے مثل کوئی ہوسکتا ہے جس کو خدا نے سیدھاراستہ دکھادیا ہے ہرگز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گمراہ کردے اور جس کو چاہے ہدایت کرے اور اے محبوب ﷺ آپ اس غم میں کہ یہ ایمان نہ لائے تو ان کی حالت کی حسرت میں اپنی جان نہ کھوئیے، بلاشبہ اللہ تمام ان کاموں کا جو وہ کررہے ہیں بخوبی جانتا ہے تو وہ ان کو ان عملوں کی سزا دے گا۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور2 اللہ وہ ہے جس نے (بارش سے پہلے) ہوائیں بھیجیں پھر وہ (ہوائیں) بادلوں کو ابھارتی ہیں، پھر ہم اسے مردہ (یعنی خشک) شہر کی طرف رواں کرتے ہیں، پھر ہم اس کے ذریعہ زمین کو اس کے مرے پیچھے (بنجر ہوجانے کے بعد) زندہ (یعنی سرسبز) کرتے ہیں، اسی طرح حشر میں مردوں کا اٹھنا ہے۔

(ف 2) مشرکین کو حشر کا انکار تھا جس کے سبب سے عقبی کی بہبودی کی باتیں ان لوگوں کے دل میں نہیں جمتی تھی اور اسی سے اللہ تعالیٰ کے رسول کو رنج ہوتا تھا اس لیے اکثر جگہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کھیتی کی مثال دے کر حشر کا حال ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ جس طرح زمین مردہ پڑی ہوتی ہے اس میں گھاس تک نہی ہوتی، پھر جس ووقت اللہ تعالیٰ نے مینہ کی ہواچلائی اور پانی کے بھرے ہوئے بادل بھیجے اور مینہ برسایا تو اس وقت زمین حرکت کرکے ابھرتی ہے اور اس میں ہر طرح کی چیز پیدا ہوجاتی ہے یہی حال جسموں کا ہے جب اللہ ان کو دوبارہ اٹھانا چاہے گا توعرش کے نیچے سے ایک ایسی بارش بھیجے گا کہ وہ تمام زمین کو پہنچے گی پھر ہم تمام مردوں کو قبروں سے نکال کھڑا کردیں گے خدا کی قدرت کے سامنے خشک زمین میں سے سبزہ پیدا کرنا، اور مردہ کو قبر سے نکال کر کھڑا کردینادونوں برابر ہیں پھر فرمایا جو اپنی عزت ڈھونڈتا ہے اس سے کہہ دو کہ ساری عزت اللہ کے لیے ہے بندوں میں سے اسی کو عزت ملتی ہے جو اس بڑی عزرت والے کی تابعداری کرے۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو کوئی عزت چاہتا ہے تو (وہ یاد رکھے کہ) سب عزت اللہ ہی کے لیے ہے ،1 اسی کی طرف پاکیزہ کلام چڑھتا ہے اور جو نیک کام ہے اس کو بلند کرتا ہے ، اور جو لوگ2 (ہمارے نبی کے خلاف) برے داؤں کرتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان لوگوں کا یہ مکر برباد ہوجائے گا۔

نیک عمل کا ذکر۔ (ف 1) حضرت عبداللہ بن عباس نے جو اس آیت کے معنی بیان کیے ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ نیک سے مراد وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے جیسے نماز روزہ حج زکوۃٰ ، کلمات پاکیزہ سے مقصود نفلی ذکر الٰہی ہے جیسے تلاوت قرآن تسبیح تہلیل وظائف درود شریف دعاوغیرہ۔ جو شخص فرض عبادت کے ادا کرنے کے بعد یہ نفل ذکر الٰہی کرے گا اس کے فرض عمل اس کے نفل ذکرالٰہی کو اس رتبہ کو پہنچادیں گے کہ وہ نفلی ذکر آسمان پر چڑھ جائے گا اور آسمان پر چڑھنے سے یہ مطلب ہے کہ وہ نفلی ذکر اللہ کی جناب میں قبول ہوجائے گا اور وہ نیک عمل کرنے والے کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔ (ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ دارالندوہ میں ہمارے رسول کے ساتھ بڑے بڑے ، مکر اور فریب کرتے ہیں اور کبھی ان کو قید کرنے کا مشورہ کرتے ہیں کبھی ان کے قتل کرنے اور جلاوطن کا مشورہ کرتے ہیں جس کا تفصیلی ذکر سورة انفال میں گذرچکا ہے ان کے واسطے سخت عذاب مقرر ہے اور وہ اپنے داؤں فریب میں کامیاب نہیں ہوں گے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ نبی ﷺ ان کے شر سے محفوظ رہے اور انہوں نے اپنی مکاریوں کی سزائیں پائیں کہ بدر میں قید ہوئے قتل بھی کیے گئے اور مکہ مکرمہ سے نکالے بھی گئے۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور اللہ نے1 تم کو (یعنی آدم کو) مٹی سے بنایا، پھر پانی کی بوند (یعنی نطفہ) سے، پھر تمہارے لیے مرد اور عورت کے جوڑے کیے اور نہ کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے اور نہ وہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے، اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے ، مگر یہ سب ایک کتاب (یعنی لوح محفوظ ) میں لکھا ہوا ہے ، بیشک یہ سب کام اللہ کو آسان ہے ۔

صفات باری تعالی۔ (ف 1) اس آیت میں آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکرفرماکرمنکرین حشر کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ جو صاحب قدرت پانی جیسی پتلی چیز سے اولاد آدم کا پتلابنادینے پر قادر ہے جس قدرت کو رات دن یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں پھر حشر کے دن آدم کے پتلے کی طرح متی سے تمام اولاد آدم کے پتلے بنادینا اور ان میں پیٹ کے بچوں کی طرح روحوں کا پھونک دینا اس کی قدرت سے کیونکر باہرہوسکتا ہے۔ اسی کو فرمایا کہ اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر پانی کی بوند یعنی نطفہ سے پھر تمہارے لیے مرد اور عورت کے جوڑے بنادیے پھر فرمایا کہ کوئی عورت ایسی نہیں کہ اس کو حمل ہو یا وہ جنے اور خدا کو اس کے حمل اور جننے کا علم نہ ہو، یعنی حمل اور وضع حمل مدت سب اس کو معلوم ہے اور کیوں معلوم نہ ہو سب چیزیں اس کے حکم سے اور اس کی قدرت سے عدم سے وجود میں آتی ہیں آگے فرمایا کہ عمر میں زیادتی اور کمی سب لوح محفوط میں ہے خدا کو سب کی عمروں کا حال خوب ظاہر ہے آخرکو فرمایا کہ انسان کی عقل کے آگے یہ باتیں مشکل معلوم ہوتی ہیں لیکن اللہ کے علم اور قدرت کے آگے یہ سب باتیں آسان ہیں۔
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور2 دونوں دریا برابر نہیں، یہ ایک میٹھا پیاس بجھانے والا ہے جن کا پانی خوب میٹھا خوشگوار اور یہ دوسرا کھاری کڑوا ہے ، اور تم ہر ایک (دریا) میں سے (مچھلیاں نکلا کر ان کا) تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور (یعنی موتی مونگا) نکالتے ہو جس کو تم پہنتے ہو اور تو کشتیوں کو دریا میں دیکھتا ہے کہ پانی کو پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں، تاکہ تم اس کے فضل سے روزی تلاش کرو اور اس لیے کہ تم شکر کرو۔

(ف 2) اس آیت میں قدرت کی یہ نشانی فرمائی کہ زمین کے اوپر اللہ تعالیٰ نے دوطرح کے دریا پیدا کیے ہیں ایک دریا توشیریں ہے پیاس کو بجھاتا ہے ۔ اور دوسرا دریانہایت کھاری کڑوا ہے جو حلق کو جلادیتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان دونوں کے بیچ میں آڑ رکھ دی ہے چناچہ اس کا ذکر سورة فرقان میں گزرا پھر فرمایا کہ تم دونوں دریاؤں میں سے تازہ گوشت مچھلیاں کھاتے ہو اور پہننے کا زیور موتی اور مونگا نکالتے ہو آگے فرمایا کیہ سمندر میں جہاز چلتے ہیں اور چھوٹے دریاؤں میں کشتیاں چلتی ہیں جس میں تجارت کا مال ادھر سے ادھر جاکربکتا ہے جس کے سبب سے لوگوں کو بڑا فائدہ ہوتا ہے اور اس لیے کہ تم شکر کرو۔
Ayahs 35:13–17

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

اور1 وہ رات کو دن کے حصہ میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات کے حصہ میں داخل کرتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے کہ ہر ایک ایک میعاد مقرر تک چلتا ہے ، یہ ہے پروردگار تمہارا اسی کی (دونوں جہان میں) بادشاہی ہے اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو (یعنی بت) وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی مالک نہیں۔

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو نہ سنیں، اور بالفرض سن بھی لیں تو تمہارے کہنے کو قبول نہ کریں، اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک سے منکر ہوں گے اور تجھ کو اللہ خبردار کی طرح کوئی نہ خبر دے گا۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

اے لوگو ! تم سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی بےنیاز، سب خوبیوں والا ہے ۔

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو تم کو نابود کردے اور نئی مخلوق لے آئے۔

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ کام اللہ پر کچھ دشوار نہیں۔

(ف 1) یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملاکردن کو بڑا کردیاجاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیاجاتا ہے پھر فرمایا کہ سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے نفع کے لیے کام میں لگارکھا ہے کہ ہر ایک بندھے ہوئے وقتوں پر چلتا ہے پھر فرمایا کہ یہی اللہ پروردگار ہے تمہارا، جس نے یہ سارے کام کیے ہیں اسی کے واسطے دونوں جہانوں میں بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے، اور اگر تم بتوں کو پکارو تو وہ تمہاری پکار کو بھی نہیں سنتے ، اس لیے کہ وہ پتھر ہی جس میں جان نہیں ہے ۔ مفصل سورة یونس اور سورة سبا میں گزرچکا ہے اوپر کی طرح طرح کی قدرت کی نشانیوں کا زکر فرما کر آگے فرمایا، اے لوگو تم اپنی ضرورت کی ہر ایک چیز میں اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تمہاری عبادت کا محتاج نہیں تمہاری ہی عقبی کی بہبودی کے لیے تم کو شرک وکفر سے بچنے کا حکم دیاجاتا ہے۔ اور اوپر جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ان کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں اس لیے تعریف کے قابل بھی وہی لاشریک ہے پھر فرمایا کہ اس فہمائش کے بعد بھی اگر تم لوگ نہ مانوتو اللہ کی قدرت سے یہ بات کچھ مشکل نہیں کہ وہ تم کو ہلاک کرکے تمہاری جگہ کسی فرمانبردار مخلوق کو پیدا کردے۔
Ayahs 35:18–23

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن) کوئی1 بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کے (گناہوں کا) اور اگر کوئی بوجھل (یعنی گنہگار) اپنا بوجھ بٹانے کو کسی کو بلائے تو اس کے بوجھ میں سے کوئی کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ وہ شخص اس کا قرابت دار ہی ہو، (اے محبوب) تمہارا ڈر سنانا انہیں کو کام دیتا ہے جو بےدیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور جو کوئی (گناہوں سے) پاک ہوا تو اپنے ہی بھلے کو پاک ہوا اور سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور اندھا (یعنی جاہل) اور آنکھوں والا (یعنی عالم) برابر نہیں۔

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ اندھیریاں (یعنی کفر) اور اجالا (یعنی ایمان) ۔

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ (یعنی درخت) اور تیز دھوپ (یعنی دوزخ) ۔

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور زندے (یعنی مسلمان) اور مردے (یعنی کفار) برابر نہیں، بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے سناتا ہے اور تم ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں (یعنی کافر جن کے قلوب مردہ ہی) ۔

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

نہیں سنا سکتے تم تو یہی ڈر سنانے والے ہو۔

مسلمان اور کافر کی مثال۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن کسی دوسرے شخص کے گناہ کا ذمہ دار نہیں اور اگر کوئی شخص اپنے گناہوں میں لدا ہوا کسی دوسرے شخص کو اس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے پکارے گا تو وہ شخص اگرچہ اس کا بہت قریب کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو جیسے باپ یابـیٹا ، جب بھی اسکے گناہوں کا بوجھ اپنے سرنہ لے گا، ان دونوں صورتوں میں بوجھ کہ نہ اٹھانا اللہ کے حکم کی وجہ سے ہے اب قیامت کا نفسانفسی اور قرابت داروں کے غیر ہوجانے کا حال ذکر فرماکر کہ بغیر دیکھے قیامت کی باتوں کا اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کا جن کو خوف ہے ان کو ہی اللہ کے رسول کی نصیحت کچھ کارگر ہوتی ہے دنیا کی محبت میں جو لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہونے کو اور قیامت کے حساب وکتاب کو بالکل بھول گئے ہیں ان کے دل پر اس نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا، پھر فرمایا کہ اندھا اور آنکھوں والا یعنی جاہل اور عالم برابر نہیں ہوسکتے، اور نہ اندھیرے اور روشنی یعنی کفر اور ایمان برابر ہیں اور نہ چھاؤں اور دھوپ یعنی جنت اور دوزخ برابر ہوسکتی ہے اور زندے اور مردے یعنی مومنین اور کفار بھی برابر نہیں ہوسکے، اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت کرنا چاہتا ہے تو اس کو سناتا ہے وہ ایمان لے آتا ہے اور تم ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں یعنی کفار جن کے قلوب مردہ ہیں ان کو نہیں سناسکتے کہ وہ تمہاری بات سن کر تم کو جواب دیں، یہاں پر اس آیت میں قبروالوں سے مراد کفار ہیں نہ کہ مردے، اور سننے سے مراد وہ سننا ہے جس پر راہ یابی کا نفع ہو، مردوں کا سننا احادیث کثیرہ سے ثابت ہے اور شاہ صاحب نے بھی اپنے فوائد میں لکھا ہے کہ قبروالوں یعنی مردوں سے سلام علیک کرو، وہ سنتے ہیں اور بہت جگہ مردے سے خطاب کیا ہے یہ مثالیں بیان فرمایا کہ کہ جس طرح یہ چیزیں ایک سی نہیں ہیں اسی طرح اللہ اور رسول کے فرمانبردار اور نافرمان ایک سے نہیں ہے دنیا میں دونوں فرقے الگ الگ ہیں اور آخرت میں بھی الگ الگ، دوزخ جنت میں ہوں گے تمہارا کام فقط یہ ہے کہ ہر ایک کو عذاب دے ڈراؤ۔
Ayahs 35:24–26

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

(اے محبوب1) بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ خوشخبری لانے والا اور ڈر سنانے والا بھیجا اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی در سنانے والا نہ گزرا ہو۔

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ (کفار) تم کو جھٹلائیں تو جو (کفار) ان سے پہلے ہو گزرے ہیں انہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا، ان کے پاس ان کے پیغبر روشن دلیلیں (یعنی معجزات) اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آئے۔

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے ان کافروں کو (طرح طرح کے عذاب میں) پکڑا تو میرا عذاب کیسا ہوا۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا، اے محبوب ﷺ ہم نے تم کو سچا دین دے کر ان لوگوں کے واسطے جو اس کا مانیں خوش خبری دینے والابھیجا ہے اور جو اس کو نہ مانیں ان کا ڈرانے والا، اور کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی نبی اس امت کا ڈرانے والانہ گزرا ہو اور اگر مشرکین آپ کی تکذیب کریں تو ان سے پہلے لوگوں نے بھی تو اپنے اپنے نبی کی تکذیب کی تھی، باوجودیکہ وہ انبیاء ان کے پاس ظاہر دلیلیں یعنی معجزے اور صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے پھر بھی انہوں نے انکار کیا، تو جیسے ان انبیاء نے صبر کیا آپ بھی صبر کیجئے پھر ان کافروں کو جنہوں نے انبیاء کی تکذیب کی تھی ان کی تکذیب کی وجہ سے ہم نے عذاب میں گرفتار کیا سو میرا انکار اور میرا ان کو ہلاک کردینا کیسا ہوا یعنی سب اپنے موقع پر ہوا۔
Ayahs 35:27–28

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

(اے مخاطب2) کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے مختلف رنگ کے پھول نکالے ، اور (اسی طرح) پہاڑوں میں مختلف رنگ کے راستے ہیں، بعض سفید اور بعض سرخ رنگ کے اور بعض کالے نہایت کالے۔

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

اور آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں کے رنگ اسی طرح مختلف ہیں (جیسے پھلوں اور پہاڑوں میں پس) خدا اسے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں، بیشک اللہ غالب بخشنے والا ہے ۔

کیسے لوگ خدا سے ڈرتے ہیں۔ (ف 2) یہ ایک اور نشانی قدرت کی بیان فرمائی کہ ایک ہی پانی کے اثر سے سب میوے پیدا ہوتے ہیں لیکن جس میوہ کا رنگ اللہ تعالیٰ نے سرخ ٹھہرایا ہے اس کو پانی اپنے اثر سے سبز نہیں کرسکتا، اور سبز سرخ نہیں ہوسکتا، اسی طرح پہاڑوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے رنگ برنگ پیدا کیا ہے اور ان میں رنگ برنگ کی گھاٹیاں رکھی ہیں یہی حال انسان، چارپایوں اور کیڑے پتنگوں کا ہے۔ پھر فرمایا اللہ کی ان قدرتوں کو دیکھ کر وہی لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جو یہ جانتے ہیں اس میں سب قدرتیں ہیں وہ نافرمان لوگوں کی گرفت کرلینے میں بڑازبردست ہے اور فرمانبرداروں کے گناہوں کے معاف کردینے میں بڑاغفور رحیم ہے۔
Ayahs 35:29–31

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

بیشک1 وہ لوگ جو اللہ کی کتاب (یعنی قرآن) پڑھتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں، وہ ایسی تجارت (یعنی ثواب) کے امیدوار ہیں جن میں کبھی گھاٹا ہی نہیں۔

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ اللہ ان کے ثواب انہیں بھر پور دے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ دے بیشک وہ بخشنے والا قدر دان ہے ۔

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور (اے محبوب) وہ کتاب (یعنی قرآن) جو ہم نے تمہاری طرف (بذریعہ) وحی بھیجی ہے وہ ہی حق ہے اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی، بیشک اللہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے ۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جو لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں اور جو کچھ اس میں ہے اس پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں اور نماز ہمیشہ پڑھتے رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کودے رکھا ہے ان میں سے پوشیدہ اور علانیہ ہماری راہ میں یعنی زکوۃ یاصدقہ کے طور پر خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ان کو گھاٹا ہی نہیں کیونکہ اللہ ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا اور بڑھائے گا اللہ اس ثواب کو اپنے فضل سے بیشک وہ بڑا بخشنے والا ہے اور ان کے گناہ اور قدردانی کرنے والا ہے ان کے تھوڑے عملوں کی پھر فرمایا اے محبوب ﷺ کتاب یعنی قرآن جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے وہی حق ہے اسی واسطے یہ تصدیق کرتا ہے ان کتابوں کی جو اس سے آگے ہیں جیسے توریت اور انجیل وغیرہ۔ اور یہ پہلی کتابوں کی صداقت دیتی ہے بلاشک اللہ اپنے بندوں کے حال کو خوب خبررکھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کون مستحق فضیلت ہے تمام رسولوں کو اس نے سارے آدمیوں پر فضیلت دی ہے اور بعض نبیوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے اور نبی آخرالزمان کا مرتبہ سب نبیوں سے زیادہ کیا ہے پھر فرمایا پہلی کتابوں کی صداقت جبکہ اس قرآن میں ہے تو اس قرآن کے ذریعہ سے ان پہلی کتابوں کا ہم نے ان لوگوں کو وارث بنایا جن کو پسند فرمایا ہم نے اپنے بندوں میں سے کہ وہ قائم رکھنے والے ہیں اس کے حکموں کو مراد ان سے یہ امت محمدی ہے۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے اپنی کتاب (یعنی قرآن) کا وارث کیا اپنے ان بندوں میں سے جن کو ہم نے منتخب کرلیا (یعنی آپ کی امت کو) تو کوئی1 ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے اور کوئی ان میں درمیانی چال پر ہے، اور کوئی ان میں سے اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف سبقت لے گیا، یہی اللہ کا بڑا فضل ہے ۔

(ف 1) اس آیت میں تین قسم کے لوگوں کا بیان فرمایا کہ ، بعض تو ان میں سے گناہ گار ہیں اور گناہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور عمل نہیں کرتے، صرف ایمان ہی ایمان ہے، اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو اوسط درجے کے ہیں پورے عامل نہیں اور بعض کامل ہیں اور ایمان میں بھی اور عمل میں بھی ہر ایک نیک کام میں پیش قدمی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ہدایت کرتے ہیں خدا کے حکم سے ، ان لوگوں کو کتاب یعنی قرآن کا عطا فرمانایہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔
Ayahs 35:33–35

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں وہ لوگ داخل ہوں گے، ان کو اس جگہ سونے کے کنگن اور موتی کے زیور پہنائے جائیں گے۔ اور پوشاک ان کی وہاں ریشمی ہوگی۔

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور کہیں گے : سب کو بیاں اللہ ہی کو ہیں جس نے ہم سے غم دور کردیا، بیشک ہمارا پروردگار بخشنے والا قدر دان ہے ۔

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

وہ جس نے اپنے فضل سے ہم کو ہمیشہ رہنے کے گھر (یعنی جنت) میں اتارا جہاں ہم کو نہ کوئی رنج پہنچے اور نہ ہم کو اس میں کوئی تکان لاحق ہو۔

(ف 2) عذاب دوزخ کا ذکر۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کا وارث کیا یہ ان کا حال ہے کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے فضل سے جنت میں داخل ہوں گے وہاں ان کو موتی اور سونے کے جڑاؤ کنگن اور ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے اسی واسطے دنیا میں مردوں پر یہ دونوں چیزیں حرام ہیں ۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوموسی سے جو روایت ہے کہ جنت میں کھانے پینے کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے دنیا میں آدمی کو معیشت کا جانی اور مالی نقصان کا خاتمہ بخیر ہونے کا اور عبادات کے قبول ہونے کا طرح طرح کا فکر وغم تھا، جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ سب غم جاتے رہیں گے ۔ اس لیے جنتی لوگ اللہ کالاکھ لاکھ شکر اداکریں گے اور کہیں گے کہ سب خوبیاں اللہ ہی کو ہیں جس نے ہمیں سب غموں سے آزاد کیا بیشک ہمارا پروردگار بڑاغفور رحیم ہے کہ اس نے ہمارے گناہ معاف کردیے، اور وہ بڑا قدردان ہے کہ اس نے ہماری تھوڑی سی عبادت کے بدلہ میں ہم کو جنت جیسا مقام عنایت فرمایا کہ جہاں بےمحنت اور مشقت کے ہم ہمیشہ رہیں گے۔
Ayahs 35:36–37

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور1 جو لوگ کہ کافر ہوئے ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ ان کی قضا آئے کہ مرجائیں اور نہ دوزخ کے عذاب میں ان پر کچھ کمی کی جائے ہم ہر بڑے ناشکرے (یعنی کافر) کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور اہل دوزخ اس میں چلائیں گے کہ اے ہمارے رب ہم کو (یہاں سے نکال تاکہ (اب ) ہم (دنیا میں جاکر) اچھے عمل کریں اس کے خلاف جو پہلے کرتے تھے ہم کہیں گے : کیا ہم نے تم کو اس قدر عمر نہیں دی تھی کہ جس میں سمجھ لیتا جسے سمجھتا ہونا اور تمہارے پاس ڈر سنانے والا (رسول بھی) آیا تھا تو اب مزہ چکھو کہ ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

(ف 1) فرمانبردار لوگوں کے انجام کے ذکر کے بعد یہ نافرمان لوگوں کے انجام کا ذکر فرمایا کہ ان کا انجام ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ میں جانا ہے دنیا کی آگ کا ایک انگارہ اگر انسان کے جسم پر رکھ دیاجائے تو اس کی برداشت اس سے نہیں ہوسکتی، دوزخ کی آگ تو وہ آگ ہے جس میں دنیا کی آگ سے انہتر حصے تیزی میں زیادہ ہے پھر فرمایا کہ دنیا کی تکلیف سے دوطرح چھٹکارا ہوتا ہے، یا تو آدمی تکلیف کی سختی سے مرجاتا ہے۔ یارفتہ رفتہ تکلیف کچھ کم ہوجاتی ہے دوزخ میں یہ دونوں باتیں نہ ہوں گی دوزخ کی تکلیف تو ایسی ہوگی کہ چاروں طرف سے موت نظر آئے گی اور وہاں ان کی موت کا بھی حکم نہ دیاجائے گا جس سے مرکرچھوٹ جائیں اور نہ گھڑی بھر اس عذاب میں کسی قسم کی تخفیف کی جائے گی جیسا کہ ہم ان کو عذاب میں گرفتار کریں گے اور ایسے ہی ہر کافر کا حال ہونا ہے اور وہ اس آگ میں چیخ چیخ کر پکار رہے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو ہم کو اس آگ سے نکال دے تاکہ ہم اچھے کام کریں اور وہ کام نہ کریں گے جو ہم دنیا میں خراب کرتے تھے اس بارگاہ عالی سے حکم ہوگا، کیا ہم نے تم کو اس قدر عمر نہ دی تھی کہ جو چاہتا اس مدت میں نصیحت پکڑسکتا تھا اور تمہارے پاس ڈرسنانے والا بھی ہمارے پاس سے آیا، اس وقت تم کو کچھ نہ سوجھی اس وقت خدا اور رسول کو بھول گئے اب کیا ہوسکتا ہے کہ تمہارے عمل کرنے کا وقت گذر گیا، وہ تو دنیا ہی میں تھا اور اس عالم کو تو ہم نے جزاوسزا کے ہی کے لی بنایا ہے باوجودیکہ ہمارے پیغمبر بھی تمہارے پاس سمجھانے کو آئے سو تم نے ان کا کہنا نہ مانا، سو اب اس عذاب کا مزہ چکھو کافروں کا کوئی ایسا مددگار نہیں ہے جو ان کو عذاب سے بچالے۔