34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 34:1–2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب تعریف اللہ ہی کے ہے ہے1 جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے ، اور اسی کی تعریف ہے آخرت میں اور وہی حکمت والا خبردار ہے

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور وہی مہربان بخشنے والا ہے ۔

توحید کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ دنیا اور آخرت میں سب تعریف اللہ ہی کو زیبا ہے کیونکہ انعام کرنے والا دنیا اور آخرت کے لوگوں پر وہی ہے اور وہی سب کا مالک ہے اور سب کے اوپراسی کا حکم جاری ہے سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں اسی لیے اس کی تعریف ہے دنیا اور آخرت میں، اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جاؤ گے پھر فرمایا کہ پانی کی بوندیں جس قدرزمین میں جانے والی ہیں اور جس قدر دانے زمین کے اندر بوئے ہوئے اور چھپے ہوئے ہیں ان سب کی گنتی وہ جانتا ہے اوجو کچھ زمین سے نکلتا ہے اس کی کیفیت اور شمار کو بھی جانتا ہے ، اور اسی طرح جس قدر قطرے اور روزی آسمان سے اتری ہے اور جو نیک عمل اور روحیں آسمان پر چڑھتے ہیں اور ان سب کو بھی خوب جانتا ہے ، اور وہی اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے جوان نافرمانیوں کے سبب سے ان پر جلدی عذاب نہیں بھیجتا اور جو اس کو بندے اس کی طرف رجوع ہوتے ہیں ، اور توبہ کرتے ہیں ان کے خطاؤں سے بڑا درگزر کرنے والا بخشنے والا ہے ، اور ان آیتوں میں مشرکوں کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ جب ا انسان اور آسمان و زمین میں سب انسان کی ضرورت کی چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی اور اس کے اختیار اور علم میں ہیں نہ ان مشرکوں کے بتوں نے ان میں سے کوئی چیز پید ا کی، اور نہ کسی چیز پر ان کا کچھ اختیار چلتا ہے نہ ان بتوں کو کسی ضرورت کی چیز کا کچھ حال معلوم ہے تو پھر ان بتوں کو اللہ کی تعظیم میں شریک ٹھہرانے کا کیا حق ہے اب تو دنیا میں شیطان کے بہکانے سے یہ مشرک لوگ اپنے بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں مگر مرنے کے بعد ان کو معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں غلطی پر تھے دونوں جہان کی تعظیم اور تعریف اللہ ہی کو زیبا ہے شرک سے توبہ کرکے اللہ کی وحدانیت کا جوشخص قائل ہوجائے تو اس کے زمانہ شرک کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 34:3–6

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور1 کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی ، تم فرماؤ : کیوں نہیں، میرے رب کی قسم وہ ضرور تم پر آئے گی (پروردگار) غیب کا جاننے والا ہے اس سے ذرہ بھر غائب نہیں کوئی چیز نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی نہ بڑی مگر یہ کہ وہ صاف بتانے والی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھی ہوئی ہے ۔

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

تاکہ صلہ دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ، یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں ہر انے کی کوشش کی ان کے لیے سخت دردناک عذاب کی سزا ہے ۔

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف اترا ہے (یعنی قرآن) وہی حق ہے اور وہ خدائے غالب سب خوبیوں والے کی راہ بتاتا ہے ۔

قیامت میں دوبارہ اٹھنے کا ذکر۔ (ف 1) قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا آناجگہ جگہ قسم کھاکر تاکید سے فرمایا کہ اس سے ایک تو ان منکروں کا جواب دینامقصود تھا جو قیامت کے منکر تھے اور نبی ﷺ جب قیامت کا ذکر فرماتے تو یہ بڑا تعجب کرتے تھے اور دوسرامقصود یہ تھا کہ قیامت کے دن حسبا کتاب عملوں کا تولنا، جنت اور دوزخ میں داخل ہونا، جن جن باتوں کا ذکر ہے اس باتوں پر مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہوجائے کیونکہ جب تک ان باتو پر ایمان مضبوط نہ ہوگا خلوص سے نیک کام آدمی سے نہ ہوسکے گا جب تک نیک نیت سے نیک کام نہ کیا جائے تو اوپری دل سے کیا کام مقبول نہیں ہے قرآن شریف اور حدیث شریف میں قیامت کا نام یوم آخرجوآیا ہے اس کا سبب علماء نے یہی لکھا ہے کہ پہلادن تو ہر انسان کے لیے وہ ہے جس دن وہ بالکل نیست سے ہست ہوکر دنیا میں پیدا ہو اور دوسرا دن وہ ہوگا کہ قیامت ہوکرپھردوبارہ نیست سے ہست ہوجائے گا، فرمایا آسمان اور زمین اور تمام مخلوقات کو پیدا کرنا یاددلاکرمنکروں کو قائل کیا ہے کہ جس طرح پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ نیست سے ہست کیا ہے اسی طرح قیامت کے دن ہوگا، اور جس طرح پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ کے علما ورحکمت سے کوئی چیز باہر نہ تھی دوسری دفعہ بھی باہر نہیں ہے کتاب مبین سے مقصود لوح محفوظ ہے جس میں ہر ایک چھوٹی بڑی چیز دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے لکھی جاچکی ہے قیامت اس لیے آئے گی کہ نیک وبد کا فیصلہ کیا جائے گا پھر فرمایا کہ جنت میں عزت کی روزی ہوگی جنت میں نعمتیں مسلمانوں کو ملیں گی وہ نہ کسی نے آنکھ سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزرسکتا ہے۔
Ayahs 34:7–8

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور1 کافر (آپس میں) کہتے ہیں کہ کیا ہم تم کو ایسا آدمی بتائیں جو کہ تم کو خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر سڑ گل جاؤ گے اور) بالکل ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے تو تم (اس کے بعد قیامت کو) پھر نئی پیدائش ہوگے۔2

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

کیا اس شخص نے خدا پر (قصدا) جھوٹ باندھ لیا ہے یا اس کو جنون ہے (یہ دونوں باتیں نہیں) بلکہ وہ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ عذاب اور دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جن لوگوں نے قران کی آیتوں کو جھٹلانے کی کوشش کی اور نبی ﷺ کو شاعر اور جادوگر کہہ کر جھٹلایا ان بدبختوں کے واسطے سختی کا دردناک عذاب ہے اب آگے فرمایا کہ لوح محفوظ میں قیامت کا آناجہاں لکھا ہے اور نیک وبد کی جزاوسزا کا حال لکھا ہے وہاں قیامت کے آنے کا یہ فائدہ بھی لکھا ہے کہ علم الٰہی کے موافق جن لوگوں نے قرآن کی نصیحت سے عقبی کی بہبودی کی سمجھ حاصل کرلی ہے وہ اس قرآن کی نصیحت سے روکنے والوں کا کہنا نہیں مانیں گے جس کا نتیجہ ان کے حق میں یہ ہوگا کہ قیامت کے دن وہ قرآن کی ہدایت اور جزوسزا کی صداقت کو آنکھوں سے دیکھ لیویں گے بعض جنتی اپنے دنیا کے بہکانے والوں کو دوزخ میں دیکھ کر اپنی دنیا کی ثابت قدمی اور بہکانے والوں کے بہکانے میں نہ آئے اور اللہ کا شکرادا کریں گے۔ اللہ کی قدرت کی نشانیاں۔ (ف 2) ان آیتوں میں منکرین حشر کی نادانی بیان فرمائی ہے کہ ان نادانوں کے پاس اور کوئی دلیل عقلی تو حشر کے ناممکن ہونے کی نہیں ہے فقط یہی ایک نادانی کا تعجب انکے دل میں بسا ہوا ہے ان کا گوشت پوست ہڈیاں سب کچھ گل کر جب خاک ہوجائے گا تو پھر یہ دوبارہ کیونکر پیدا ہوں گے اور منکرین حشر کی اس نادانی کا جواب اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ قرآن میں یہی دیا ہے کہ آخر ان کا گوشت پوست ہڈیاں گل گھل کر ایسی ہی خاک ہوجائیں گی جس طرح دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے کی خاک تھی جس خاک سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پتلادیا جس پتلے سے سلسلہ بہ سلسلہ کروڑ ہاپتلے پیدا ہوتے چلے آتے ہیں پھر ایسے قادر مطلق کو اسی خاک سے دوبارہ ہر ایک پتلا کو علیحدہ علیحدہ بنادینا کیا مشکل ہے۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

پس1 کیا انہوں نے نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرا دیں، بیشک اس میں ہر رجوع کرنے والے بندے کے یے نشانی ہے۔

(ف 1) اس آیت میں انہی قیامت کے منکرلوگوں کو یوں سمجھایا گیا ہے کہ یہ لوگ کیا آنکھوں سے دیکھتے نہیں کہ ان کے آگے اور پیچھے آسمان اور زمین ہے کہ جہاں کہیں آتے جاتے ہیں آسمان ان کے سروں پر ہے اور زمین ان کے نیچے ہے مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین ان کو گھیرے ہوئے ہیں آگے پیچھے وہی دکھائی دیتے ہیں کیا وہ اندھے ہوگئے ہیں جو اتنا نہیں دیکھ سکتے کہ یہ دونوں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جب ان کو پیدا کرنے کی ہم میں پہلی دفعہ قدرت دیکھتے ہیں تو کیا ہم ان کو دوسری مرتبہ پیدا نہیں کرسکتے، یابہ سبب ان کے کفر اور جھٹلانے کے ان کے اوپر عذاب نہیں نازل کرسکتے، اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر کوئی آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادیں لیکن ہم نے اپنی برباری کے سبب سے ان کو مہلت دے رکھی ہے اور پچھلی امتوں کے قصے جو ان لوگو کو سنائے گئے ہیں ان میں سرکشی سے باز آنے والے اور اللہ کی طرف رجوع ہونے والے کے لیے عبرت پکڑنے کی بڑی نشانی ہے۔
Ayahs 34:10–11

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور بیشک1 ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بزرگی دی (ہم نے حکم دیا) اے پہاڑو دوؤد کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (ان کا مسخر کردیا) اور ہم نے ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا۔

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

اور (یہ حکم دیا) کہ تم کشادہ زرہیں بناؤ اور (کڑوں کے) بنانے میں اندازے کا لحاظ رکھو (اے داؤد کے گھر والو) تم سب نیک کام کرو بیشک میں تمہارے کام دیکھ رہا ہوں۔

حضرت داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام اور فضل کا ذکر بیان فرمایا جو اس نے حضرت داود (علیہ السلام) پر کیا کہ نبوت اور کتاب وسلطنت ان کو دی اور بہت سالشکر اور سامان دیا اور اس طرح کی آواز عطا فرمائی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو ان کس اتھ اونچے اونچے پہاڑ بھی تسبیح کرتے ، اور پرندوں کو حکم دیا کہ جب وہ تسبیح کرتے تو پرند جھک آتے اور طرح طرح کی آوازوں سے ان کا ساتھ دیتے یہ آپ کا معجزہ تھا پھر فرمایا کہ ہم نے ان کے لیے لوہے کو مثل موم کے نرم کردیا تھا یعنی آپ کے دست مبارک میں لوہا آکرمثل موم یا گوندھے ہوئے آٹے کے نرم ہوجاتا تھا اور آپ اس سے جو چاہتے بغیرآگ کے اور بغیر ٹھونکے پیٹے بنالیتے تھے اس کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب آپ بنی اسرائیل کے بادشاہ ہوئے تو آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کے حالات کی جستجو کے لیے اس طرح نکلتے کہ لوگ آپ کو پہچان نہ سکیں اور جب کوئی ملتا اور آپ کو نہ پہچانتا تو اس سے آپ دریافت کرتے کہ داؤد کیسا شخص ہے سب لوگ تعریف کرتے اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ انسان کی صورت میں بھیجا، حضرت داؤد نے اس سے بھی حسب عادت یہی سوال کیا تو فرشتے نے کہا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ہیں تو بہت ہی اچھے آدمی کاش ان میں ایک خصلت نہ ہوتی، اس پر آپ متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ بندہ خدا کون سی خصلت ہے اس نے کہا وہ اپنا اور اہل و عیال کا خرچ کا خرچ بیت المال سے لیتے ہیں ، آپ نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی کہ ان کے لیے کوئی ایسا سبب کردے جس سے آپ اپنے اہل و عیال کا گزارہ کریں، آپ کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے لوہے کو نرم کیا اور آپ کو صنعت زرہ سازی کا علم دیا آپ روزانہ ایک زرہ بناتے وہ چار ہزار کو بکتی تھی اس میں سے اپنے اور اپنے اہل و عیال پر بھی خرچ کرتے اور فقراء اور مساکین پر بھی صدقہ کرتے پھر فرمایا کہ اس لوہے سے بڑی زرہ بناؤ پہنے والا اس کو زمین میں گھسیٹتا جاوے یعنی بدن سے زیادہ ہو اور کڑیوں کے جوڑنے میں اندر کا لحاظ رکھنا، اور اے داؤد کے گھر والو تم بھی اس کے ساتھ مل کر اچھے کام کرو، جو کچھ تم کرتے ہو میں سب کو دیکھ رہا ہوں اس کی جزا دوں گا۔
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور1 ہم نے ہوا کو سلیمان کے تابع کردیا اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ اور شام کی منزل (بھی) ایک مہینہ کی راہ اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بنا دیا، اور جنوں میں بعضے وہ تھے جو اس کے آگے پروردگار کے حکم سے کام کرتے اور جو ان میں ہمارے حکم سے پھرے ہم اسے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب چکھائیں گے ۔

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے جو انعام داؤد (علیہ السلام) پر کیا تھا اس کے ذکر کے بعد اس انعام کا ذکر فرمایا جو ان کے بیٹے سلمان (علیہ السلام) پر کیا وہ یہ کہ ہوا کو تابع کردیا کہ وہ ان کو صبح سے دوپہر کی سیر میں ایک مہینہ کا راستہ طے کروادیتی تھی اور ایسے ہی دوپہر سے شام تک کی سیر میں ایک مہینہ کی راہ لے پہنچتی تھی، اسی طرح کا ایک روز میں دو مہینہ کا راستہ طے ہوجاتا تھا، شاہ صاحب نے اپنے فوائد میں لکھا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ایک تخت تھا جس پر سب لشکر چلتا تھا، ہوا اس کو لیے چلتی تھی ملک شام سے یمن اور یمن سے شام۔ ایک اور ہم نے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ نکالا تھا جنات اس کو سانچوں میں ڈھال کر برتن بناتے۔ بہت بڑے لشکر کے موافق ان کا کھانا پکتا اور بٹتا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کی طرح سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جنوں کو بھی تابعدار کردیا تھا ہر طرح کا کام کرتے تھے اور جو کوئی ان جنوں میں ہمارے حکم سے سرتابی کرے گا تو اس کو آخرت میں ہم آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور بعضو نے کہا ہے کہ دنیا ہی میں ان کو آگ کا عذاب دیا اور ایک فرشتہ اس لیے مقرر کیا کہ جو جن کسی طرح کی نافرمانی کرے تو وہ فرشتہ ایک آگ کا کوڑا اس جن کے مارتا تھا جس سے وہ جن جل کر بالکل خاک ہوجاتا تھا۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

(وہ جنات) اس کے لیے وہ2 چیزیں بناتے جو کچھ وہ چاہتا، اونچے اونچے محل اور تصویریں اور حوضوں کے برابر لگن اور (بہت بڑی) دیگیں جو ایک جگہ جمی رہتی تھیں، (ہم نے کہا) اے داؤد کے گھر والو ! شکر کرو اور میرے بندوں میں شکر کرنے والے کم ہیں۔

(ف 2) سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے اونچے اونچے محل اور تصویریں اور مسجدیں بنیں، انہیں میں سے بیت المقدس بھی ہے اور ایسے بڑے بڑے لگن آپ نے تیار کرائے تھے جن میں ایک ہزار آدمی ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ، اور دیگیں ایسی بڑی بڑی بنوائی تھی جن پر بغیر سیڑھی کے چڑھنا ہی ناممکن تھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے داؤد کے گھروالوں، جو نعمتیں اللہ نے تم کو عطا فرمائیں ہیں ان کا شکرادا کرو۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر1 جب ہم نے سلیمان پر موت کا حکم بھیجا تو جنوں کو اس کے مرنے کا پتہ نہ بتایا مگر گھن کے کیڑے نے کہ وہ سلیمان کے عصا کو کھاتا تھا، پس جب سلیمان زمین پر گر گئے تو جنوں کو حقیقت معلوم ہوئی اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو (ہرگز) اس ذلت کی تکلیف میں (ایک سال تک) نہ رہتے (کیونکہ وہ تو سلیمان کو زندہ سمجھ رہے تھے) ۔

(ف 1) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی تھی کہ ان کا وفات کا حال جنات پر ظاہر نہ ہو، تاکہ انسانوں کو معلوم ہوجائے کہ جن غیب نہیں جانتے، پھر آپ محراب میں داخل ہوئے اور حسب عادت نماز کے لیے اپنے عصا پر تکیہ لگا کر کھڑے ہوگئے جنات حساب دسور اپنی خدموتوں میں مشغول رہے، اور یہ سمجھتے رہے کہ حضرت زندہ ہیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا عرصہ دراز تک اسی حالت پر رہنا ان کے لیے کچھ حیرت کا باعث نہیں ہوا، اور آپ کی نماز بہت دراز ہوتی ہے حتی کہ آپ کی وفات کے پورے ایک سال بعد تک جنات آپ کی وفات پر مطلع نہ ہوئے اور اپنی خدمتوں میں مشغول رہے یہاں تک کہ بحکم الٰہی گھن کے کیڑے نے آپ کو عصاکھالیا اور آپ کا جسم مبارک جو لاٹھی کے سہارے قائم تھا گرپڑا۔ اس وقت جنات کو آپ کی وفات کا علم ہو اور اگر جنات غیب جانتے تو سلیمان (علیہ السلام) کی وفات سے مطلع ہوجاتے، اور ایک سال تک عمارت کے کاموں میں تکالیف شاقہ اٹھائے نہ رہتے، مروی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی بنیاد اس مقام پر رکھی تھی جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خیمہ نصب کیا تھا تھا اس عمارت کے پورا ہونے سے قبل داؤد (علیہ السلام) کی وفات کا وقت آگیا تو آپ نے اپنے فرزند ارجمند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اس کی تکمیل کی وصیت فرمائی، جب آپ کی وفات کا وقت قریب پہنچا تو آپ نے دعا کی آپ کی وفات جنوں پر ظاہر نہ ہوتا کہ وہ عمارت کی تکمیل تک مصروف عمل رہیں اور انہیں جو علم غیب کا دعوی ہے وہ باطل ہوجائے۔
Ayahs 34:15–18

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

بیشک1 قوم سبا کے لیے ان کی بستی میں نشانی تھی، دو باغ دائیں اور بائیں تھے (اور ان سے کہا گیا تھا) اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کیا کرو، (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (آخرت میں گناہوں کا) اللہ بخشنے والا ہے ۔

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

پس انہوں نے منہ پھیرلیا ہم نے ان پر زور کا سیلاب بھیجا (جس نے باغ و مال وغیرہ سب کچھ ڈبو دیا) اور انہیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جن کے میوے نہایت بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ اور تھوڑٰی سی بیریاں۔

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

ہم نے انہیں یہ بدلہ دیا ان کی ناشکری (اور ان کے کفر) کی سزا اور ہم سزا ناشکرے ہی کو دیا کرتے ہیں۔

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں اور ان شہروں میں جن میں ہم نے برکت رکھی، بہت سے شہر ایک دوسرے سے ملے ہوئے آباد کردیئے، اور ان کے سفر کا ایک انداز رکھا کہ بےخوف و خطر راتوں کو دنوں کو ان شہروں میں چلو۔

قوم کی نافرمانی کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم سبا کے لیے ان کی بستی میں یہ نشانی اللہ کی قدرت کی تھی کہ وہ دو باغ دائیں اور بائیں طرف رکھتے تھے یہ باغ ایسے سرسبز تھے اور ابن قدر کثرت سے ان میں میوے کی پیداوار تھی کہ کوئی عورت ٹوکرا سر کے اوپر رکھ کردرختوں کے نیچے سے گزرتی تو خود بخود ٹوکرا میوے سے بھرجاتا ہے اور ہم نے حکم دیا تھا کہ کہ اپنے پروردگار کی دی ہوئی روزی کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو تمہارے لیے دنیا میں رہنے کو عمدہ شہر ہے اور آخرت میں گناہ بخشنے والا پروردگار ہے جب ان لوگوں نے اللہ کی نصیحت کو نہ مانا اور بت پرستی نہ چھوڑی تو ان پر یہ آفت آئی کہ قوم سبا کے بادشاہوں نے دو پہاڑوں کے کنارے درخت لگائے دیے ہیں اور بہت سزسبز اور میوے دار ہوئے بند کی مضبوطی کے سبب سے ان کی خاطر جمع تھی لیکن ان لوگوں کی نافرمانی کی سزا میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے گھونس نے اس بند میں سوراخ کرکے اس کو توڑ ڈالا، اور اس کثرت پانی سے آیا جس نے سب میوے کے درختوں کو کھیتی اور بستی کے مکانات کو برباد کردیا اور ان میوہ دار باغوں کی جگہ کچھ جھاڑ پیلو اور بیری کے درخت پیدا ہوگئے اور اللہ تعای نے قوم سبا کو پانی کے ریلے سے جو برباد کیا یہ اس قوم کی نافرمانی اور ناشکری کی سزاتھی۔ کیونکہ بغیر جرم کے ظلم کے طور پر کسی قوم کو برباد کردینا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرارکھا ہے۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

پس وہ کہنے لگے کہ اے ہمارے رب ہمارے سفروں میں دوری پیدا کردے اور (علاوہ اس کے اور بھی نافرمانیاں کرکے) انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا، پس ہم نے ان کو (بعد والوں کے لے) افسانے بنا دیئے اور انہیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا، بیشک اس قصہ میں ہر بڑے صبر کرنے والے ہر بڑے شکر کرنے والے کے یے ضرور نشانیاں ہیں۔

قوم سبا کی نافرمانی ۔ (ف 1) ان آیتوں میں قوم سبا کی باقی کی حالت کا ذکر ہے کہ یہ لوگ یمن سے ملک شام کو اکثر جایا کرتے تھے اس راستہ میں گاؤں ایسے پاس پاس تھے کہ مسافر کو کھانا پینا اور سفر کا سامان لادنے کی حاجت نہیں ہوتی تھی کہ جس جگہ کا ارادہ کیا بےتکلف وہاں چل دیا جہاں ٹھہرا پانی اور میوہ تیار پایا، چلنے والا ایک مقام سے صبح چلے تو وہ دوپہر کو ایک آبادی میں پہنچ جائے، اور جب دوپہر کو چلے تو شام کو ایک شہر میں پہنچ جائے، اور ہم نے ان سے کہا نہ راتوں میں کوئی کھٹکا نہ دنوں میں کوئی تکلیف نہ دشمن کا اندیشہ نہ بھوک پیاس کا غم، جب ان لوگوں میں نعمت اور مالداری کے سبب سے حسد پیوا ہوا کہا کہ ہمارے غریبوں کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں رہا کہ قریب قریب کی منزلین ہیں لوگ خوشی خوشی ہواخوری کرتے چلے جاتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد دوسری آبادی آجاتی ہے وہاں آرام کرتے ہیں نہ سفر میں تکان نہ کوفت ، اگر منزلیں دورہوتیں اور سفر کی مدت دراز ہوتی ، راہ میں پانی نہ ملتا، جنگلوں اور بیابانوں میں گزرہوتا تو ہم توشہ ساتھ لیتے، پانی کا انتطام کرتے، سواریاں اور خدام ساتھ رکھتے سفر کا لطف آتا، اور امیر و غریب کا فرق ظاہر ہوتا، یہ خیال کرکے انہوں نے کہا، ہمارے اور شام کے درمیان جنگل اور بیابان کردے، کہ بغیرتوشہ اور سواریوں کے سفر نہ ہوسکے، انہوں نے سختی کے سفر کی اللہ سے دعا کی جو حقیقت میں ایک بددعا تھی، اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بددعا قبول کرلی اور پانی کے ریلہ کے عذاب بھیج کر ملک یمن سے ان کو بالکل اجاڑ دیا، جس سے ان میں کچھ لوگ ملک شام کو کچھ مدینہ اور عمان وغیرہ کو چلے گئے اور وہ ملک یمن کی راحت پھر ان کو خوب میں بھی نظر نہ آتی، اور ان کی یمن کی راحت کی حالت، اور اس راحت کے بعد تکلیف کی حالت، اس وقت کے لوگوں میں ایک افسانہ کی طرح مشہور ہوگئی، بیشک ایسے قصے مصیبت کے وقت صبر، اور راحت کے شکر کرنے والوں کے حق میں عبرت کی نشانیاں ہیں اور یہ عبرت ایمان کی نشانی ہے اس لیے تھورے سے مسلمانوں کے سوا اکثر لوگ مصیبت کے وقت گھبرا کر، اور رحمت کے وقت اتراکر، بےصبری اور ناشکری میں شیطان کے تابع ہوجاتے ہیں اور شیطان نے آسمان سے نکالے جانے کے وقت جو کہا تھا کہ بنی آدم کو ہر طرح سے بہکاؤں گا پس اس نے اپنا گمان سچ کردکھایا۔
Ayahs 34:20–21

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور بیشک شیطان نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا گمان سچ کر دکھایا ، پس اس کی پیروی کی مگر ایک گروہ کہ مسلمان تھا (وہ اس کی چالاکیوں میں نہیں آیاف 1)

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور شطیان کا ان پر کچھ غلبہ نہ تھا مگر اس لیے کہ ہم دکھا دیں کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس سے شک میں ہے اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے ۔

شیطانی وسوسہ کا انجام۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا ہے کہ شیطان کا وسوسہ انسان کے پیچھے لگانا اس لیے ہے کہ اللہ کے علم ازلی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ خواہش نفسانی اور اس خواہش نفسانی کا ابھارنے والاشیطان دنیا میں انسان کے ساتھ پیدا ہوگا، تو کچھ انسان شیطان کے بہکادے میں آن کر اپنی عمر برے کاموں میں گزاردیویں گے اور کچھ انسان اللہ کے رسول کی نصیحت مان کر شیطان کے بہکاوے میں نہ آئیں گے بلکہ شیطان کے وسوسہ سے ان کو اور یہ فائدہ ہوگا، کہ جب شیطان ان کے دل میں کسی برے کام کا وسوسہ ڈالے گا اور وہ خوف عقبی سے اس وسوسہ کو ٹال دیں گے اور اس وسوسہ کے موافق براکام کرنے کی جرات نہ کریں گے تو اس برے خیال کو چھوڑ نے کے عوض میں ایک نیکی ان کے نامہ اعمال میں لکھی جاوے گی پھر فرمایا کہ اس قدر انتطام الٰہی کے بعد کسی طرح کاشیطانی غلبہ انسان پر باقی نہیں رہتا، جو کوئی اس انتظام سے غافل رہے گا وہ عقبی کا منکر اور قابل سزا قرار پائے گا جو کوئی شیطان کے پھندے سے بچنے کے انتظام الٰہی کو کام میں لائے گا اس کے لیے ایک نیکی ہے سات سو تک یا اس سے بھی زیادہ بدلہ ہے اور ایسے لوگوں کو نگہبانی اللہ کے ہاتھ ہے اور اس کی نگہبانی ہر چیز کے لیے کافی ہے۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

(اے محبوب1) تم فرماؤ کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) گمان کرتے ہو ان کو پکارو وہ ذرہ بھر کے مالک نہیں (نہ) آسمانوں میں نہ زمین ہی میں اور نہ ان کی ان دونوں میں کوئی شرکت ہے اور نہ اللہ کا ان میں سے کوئی مددگار ہے ۔

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ مشرکین مکہ نے جب اللہ کے رسول سے بہت مخالفت شروع کی تو اس مخالفت کے اثر سے مکہ میں سخت قحط پڑا اس قحط کے زمانہ میں مشرکین مکہ نے اپنے بتوں سے مینہ برسنے کی بہت کچھ التجا کی لین ایک بوند پانی کی نہیں پڑی ، آخرا للہ کے رسول سے ابوسفیا نے مینہ برسنے کی دعا کی التجا کی، اور آپ کی دعا سے مینہ برسایا اسی طرح کی بتوں کی بےاختیاری جتلانے کے لیے داود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) اور قوم سبا کے قصے سنائے فرمایا، اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ کی قدرت کے مقابلہ میں ان جھوٹے معبودوں کا کوئی اختیار اس لیے نہیں چل سکتا کہ آسمان اور زمین میں نہ ایک ذرہ کے یہ مالک ہیں نہ آسمان کے پیدا کرنے میں ان کا کچھ ساجھا ہے نہ کسی چیز کے پیدا کرنے میں اللہ نے ان سے کچھ مدد چاہی ہے۔
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور اللہ کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر جس کے لیے وہ اجازت دیدے (اس وقت تمام اہل محشر پریشان ہوں گے) یہاں تک کہ جب اجازت دے کر ان کے2 دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا وہ کہتے ہیں جو فرمایا حق فرمایا کہ وہ بلند مرتبہ بڑی شان والا ہے ۔

توحید اور مشرکین کا ذکر۔ (ف 2) نبی ﷺ جب مشرکین مکہ کو بت پرستی سے منع کرتے اور آخرت کے عذاب سے ڈراتے تو کہتے تھے کہ اول تو ہم مرکرجینے کے نہیں اور اگر جئے اور حساب کتاب اور عذاب کا موقع پیش آیا تو جن مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں اللہ کی درگاہ میں ضرور ہماری سفارش کرکے ہم کو عذاب سے نجادلوائیں گے فرمایا کہ جن مورتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں نہ خدا کی خدائی میں ان کو کچھ اختیار ہے کہ اپنے اختیار سے بچاسکتے ہیں۔ حضور کی شفاعت۔ صحیح بخاری، مسلم، ترمذی، اور ابن ماجہ، میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی جو روایتیں ہیں کہ شفاعت دوطرح کی ہوگی، ایک محشر کے میدان میں گرمی اور پسینے سے تمام اہل محشر گھبرا کر جب اس بات کی شفاعت چاہیں گے کہ ان کا حساب وکتاب جلدی سے شروع ہوجائے او اس شفاعت کے لیے اہل محشر حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب انبیاء کے پاس جائیں گے مگر سوائے نبی ﷺ کے اس شفاعت پر کوئی نبی مستعد نہ ہوگا، اسی واسطے یہ شفاعت، خاص نبی ﷺ کی ذات مبارک کے ساتھ مخصوص ہے، دوسری کلمہ گو گناہ گاروں کو دوزخ میں سے نکال کر جنت میں داخل کرانے کی ہوگی۔
Ayahs 34:24–30

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

تم1 فرماؤ کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے تم خود فرماؤ کہ اللہ دیتا ہے اور بیشک ہم یا تم (دونوں میں سے) یا تو ضرور ہدایت پر ہیں یا صریح گمراہی میں۔

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

تم فرماؤ : ہم نے تمہارے گمان میں اگر کوئی جرم کیا تو اس کی تم سے پوچھ نہیں ہوگی نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پوچھ ہوگی۔

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ ہمارا پروردگار ہم سب کو (قیامت کے دن ) جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان سچا فیصلہ کردے گا اور وہی خوب فیصلہ کرنے والا جاننے والا ہے ۔

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ مجھے تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے ، ہرگز نہیں بلکہ وہی اللہ زبردست حکمت والا ہے ۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے محبوب) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئیے (پیغمبر بنا کر) بھیجا ہے (مسلمانوں کو) خوشخبری اور (کافروں کو ) ڈر سنانے کو، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور یہ لوگ (سن کر) کہتے ہیں کہ یہ (قیامت کا) وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ)

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ تمہارے لیے ایک ایسے دن کا وعدہ (مقرر ) ہے کہ جس سے تم نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو اور نہ آگے بڑھ سکو۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم ان بت پرستوں سے یہ پوچھو کہ آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیداوار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے اور جب مکہ میں قحط پڑا تو تم نے بتوں سے اس قحط کے رفع کی بہت ہی التجا کی ، آخرکار ہمارے محبوب ﷺ سے دعا کراکر اس قحط کو رفع کیا، اس کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیاجائے کہ مکہ کے قحط کے تجربہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں کون حق پر ہے پھر فرمایا کہ ان سے کہہ دیاجائے جو نصیحت تم کو کی جاتی ہے اگر تم لوگ اس کو نہ مانو گے تو ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ ہمیں تمہیں سب کو اللہ کے روبروکھڑا ہوناپڑے گا۔ اس دن حق ناحق سب کھل جائے گا کیونکہ حق ناحق اللہ کو خوب معلوم ہے اور وہ اپنے علم کے موافق بڑے انصاف سے فیصلہ کرنے والا ہے پھر فرمایا جن بتوں کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ان میں اللہ کی قدرت جیسی کوئی بات یہ لوگ دکھاسکتے ہیں تو دکھلاویں اب آگے اپنے محبوب ﷺ کی تسکین کے لیے فرمایا اے محبوب یہ تماری قوم کے لوگ تمہاری نصیحت کو نہیں مانتے تو اس کا کچھ رنج نہ کرنا چاہیے کیونکہ اور رسولوں کی طرح تم کو اللہ نے کسی خاص قوم کا رسول بناکر نہیں بھیجا بلکہ تمہاری نبوت ایسی عام ہے کہ تمام انسان اس کے احاطہ میں ہیں، گورے ہوں یاکالے، عربی ہوں یا عجمی پہلے ہوں یا پچھلے، سب کے لیے آپ رسول ہیں اور سب وہ آپ کے امتی ہیں غرض یہ کہ رسول کریم تمام خلق کے رسول ہیں اور یہ مرتبہ خاص آپ کا ہے جو قرآن کریم کی آیات اور احادیث کثیرہ سے ثابت ہے سورة فرقان کی ابتدا میں بھی اس کا بیان گزرچکا ہے ۔ خازن) ۔ آگے فرمایا کہ اکثر لوگ اس سے بیخبر ہیں اس لیے سرکشی کی باتیں کرتے ہیں اور ایسی سرکشی کے سبب سے قیامت کی باتوں کو ہنسی خیال کرت ہیں اور کہتے ہیں کہ آخران باتوں کا ظہور کب ہوگا اس کے جواب میں ان لوگوں سے کہہ دیاجائے گا کہ جب ان باتوں کے ظہور کا وقت آگیا تو پھر گھڑی بھر کی بھی دیرنہ ہوگی۔
Ayahs 34:31–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں1 کہ ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لاویں گے اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے پہلے تھیں اور کاش تو دیکھے جبکہ یہ ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے جائیں گے ان میں ایک دوسرے پر بات ڈالے گا، وہ جو ناتواں سمجھے گئے تھے اپنے سرداروں سے کہیں گے : (ہم تمہارے سبب سے برباد ہوگئے) اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مسلمان ہوجاتے۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

(اس پر) یہ سردار لوگ ناتواں لوگوں سے کہیں گے : کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روک دیا بعد اس کے کہ وہ تمہارے پاس آئی (ہرگز نہیں) بلکہ تم خود گنہگار لوگ تھے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور (اس کے جواب میں) یہ ناتواں لوگ ان سرداروں سے کہیں گے (کہ نہیں) بلکہ تمہارا رات دن کا مکر تھا جبکہ تم ہم کو اللہ کا انکار کرنے اور اس کے لیے برابر والے (شریک) ٹھہرانے کا حکم دیتے تھے۔ اور وہ لوگ جب عذاب کو دیکھیں گے تو اس وقت دل ہی دل میں پشیمان ہوں گے اور منکروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈالیں گے، پس جو کچھ وہ (دنیا میں کفر اور معصیت) کرتے تھے انہیں کا بدلہ ان کو ملے گا۔

(ف 1) آیتوں میں فرمایا کہ جب ان مشرکوں کو قیامت کا یہ جواب دیا گیا کہ وہ وقت آجائے گا تو گھڑی بھر کی بھی دیرسویرنہ ہوگی تو ان مشرکوں نے یہ کہا قرآن پاک یا اس سے پہلے کی جن کتابوں میں قیامت کا ذکر ہے ان میں سے ایک کتاب کو بھی ہم نہیں مانتے پھر فرمایا اب تو اپنی سرداری کے گھمنڈ سے یہ سردار لوگ اور ان کے ماننے والے لوگ ان سرداروں کے بہکانے کے سبب سے یہ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں لیکن قیامت کے دن جب اس سرکشی کی سزا کا موقع آئے گا تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کا دشمن ہوجائے گا سردار لوگ اپنے تابع لوگوں کو گمراہ ہونے کا اور تابع لوگ سرداروں کو رات دن کے بہکانے کا الزام لگادیں گے اور کہیں گے کہ اگر تم ہم کو سیدھے ایمان کے راستے سے نہ بھٹکاتے تو ہم مسلمان ہوجاتے اور یہ سردار اپنے ماننے والوں سے کہیں گے کہ کیا ہم نے تم کو ایمان سے روک لیا اور تمہارا جی مسلمان ہونے کو چاہتا تھا ہرگز نہیں بلکہ خود تمہارے دل ہی قصور اور گناہ کرنے کو چاہتے تھے خود تمہیں گناہ گار ہوئے ہو اور دونوں فرقہ عذاب دیکھیں گے تو وہ شرمندگی جو ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کو حاصل ہوگی ایک دوسرے سے چھپاویں گے پھر فرمایا کہ تم ایک بہت بڑا امر دیکھو گے اور کافروں کی گردنوں میں ہم طوق ڈالین گے جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا تھا اس کی جزا ان کو ملے گی۔
Ayahs 34:34–39

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم1 نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی ڈر سنانے والا (رسول) بھیجا تو وہاں کے دولتمند لوگوں نے بھی کہا کہ تم جو لیکر بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور کہا : ہم تم سے مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہم کو عذاب نہ ہوگا۔

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

تم فرماؤ : بیشک میرا رب جس کو چاہتا ہے زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگی فرماتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمہیں ہمارے قریب تک پہنچائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے تو ایسے لوگوں کے لیے ان کے (نیک) اعمال کے سبب دو گنا بدلہ ہے اور وہ (بہشت کے) بالاخانوں میں اطمینان سے بیٹھے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں ہر انے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگ عذاب میں لا دھرے جائیں گے ۔

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

تم فرما دو : بیشک میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے (اور جس کے لیے چاہے) تنگی فرماتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرو ( راہ خدا میں) پس اللہ اس کا بدلہ دیتا ہے اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔

(ف 1) اس آیت میں نبی ﷺ کی تسکین خاطر فرمائی گئی کہ اپ ان کفار کی تکذیب و انکار سے رنجیدہ نہ ہوں کفار کا انبیاء کے ساتھ یہ دستور رہا ہے اور مال دار لوگ اسی طرح اپنے مال اور اولاد کے غرور میں انبیاء کی تکذیب کرتے رہے۔ امت کے غرباومساکین کی دین سے وفاداری۔ شان نزول : دو شخص شریک تجارت تھے ان میں سے ایک مکہ مکرمہ میں رہا اور ایک ملک شام کو گیا وہاں اس نے نبی ﷺ کی خبر سنی تو اپنے ہم شریک کو مکہ مکرمہ میں خط لکھا ور اس سے نبی ﷺ کا مفصل حال دریافت کیا، اس شریک نے جواب میں لکھا کہ محمد ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان تو کیا ہے لیکن سوائے غریب لوگوں کے کسی نے ان کا اتباع نہیں کیا، جب یہ خط اس کے پاس پہنچا تو وہ اپنے تجارتی کام چھوڑ کر مکہ آیا اور آتے ہی اپنے شریک سے کہا کہ مجھے رسول کریم ﷺ کا پتہ بتاؤ، اور معلوم کرکے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ آپ دنیا کو کیا دعوت دیتے ہیں اور ہم سے کیا چاہتے ہیں فرمایا، بت پرستی چھوڑ دو کر ایک اللہ کی عبادت کرنا، اور آپ نے احکام اسلام بتائے یہ باتیں اس کے دل میں اثر کرگئیں اور وہ شخص پچھلی کتابوں کا عالم تھا کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں حضور ﷺ نے فرمایا تم نے یہ کیسے جانا، اس نے کہا، جب کبھی کوئی نبی بھیجا گیا ہے پہلے چھوٹے درجہ کے غریب لوگ ہی اس کے تابع ہوئے یہ سنت الٰہیہ ہمیشہ ہی جاری رہی، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔