34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 34:40–42

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اَهٰۤؤُلَآءِ اِیَّاكُمْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 34:40 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان سب (مشرکین) کو (مرے پیچھے) اٹھائے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا : کیا یہ لوگ تم کو پوجتے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 34:41 in the Quran reader

فرشتے عرض کریں گے کہ تجھے پاکی ہے ہمارا تو تو ہی کارساز ہے نہ یہ بلکہ یہ لوگ جنوں کو پوجتے تھے ان میں سے اکثر لوگ جنوں پر اعتقاد لاتے تھے ۔

فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ وَ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 34:42 in the Quran reader

پس (کافروں سے کہا جاوے گا) آج تم میں سے کوئی کسی کے نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار نہ رکھے گا اور (اس وقت) ہم ظالموں (یعنی کافروں) سے کہیں گے کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم (دنیا میں) جھٹلایا کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو۔

خدا کے رسول کو جھٹلانے کا انجام۔ (ف 1) مکہ کے مشرک لوگوں میں ایک گروہ فرشتوں کی مورتوں کی پوجا اس اعتقاد سے کیا کرتا تھا کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اپنی پوجا کرنے والوں کی سفارش کرکے انہیں عذاب سے بچالیویں گے اس کے جواب میں فرمایا کہ جس دن ان فرشتہ پرستوں کو سب مخلوقات کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو ان کے قائل کرنے کے لیے فرشتوں سے اللہ تعالیٰ یہ دریافت کرے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری مورتوں کی دنیا میں عبادت کیا کرتے تھے ؟ اللہ کے فرشتے یہ بات سن کر عرض کریں گے خدایا تو تو پاک ہے تیرا دوسراشریک کیا ہوسکتا ہے، ہمارا تو ہی کارساز ہے اور ہم تیرے بندے ہیں تو خوب جانتا ہے وہ توشیطانوں کی پوجا کرتے تھے ہماری مرضی کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے فرشتوں کے اس سچے جواب کے بعد اللہ تعالیٰ ان کافروں سے فرمائے گا کہ آج کے دن کا نفع نقصان عذاب ثواب سب اس کے ہاتھ ہے اس کے سوا کوئی کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچاسکتا، اس ارشاد کے بعد ظالموں یعنی کافروں سے کہے گا کہ جس دوزخ کے عذاب کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو۔
Ayahs 34:43–45

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُكُمْ١ۚ وَ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكٌ مُّفْتَرًى١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 34:43 in the Quran reader

اور1 جب ان لوگوں کے سامنے ہماری روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (نبی کی نسبت) کہتے ہیں : یہ تو محض ایک ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں (کی عبادت) سے روکے جن کو تمہارے باپ دادا پوجتے تھے اور کہتے ہیں : یہ قرآن محض ایک باندھا ہوا جھوٹ ہے ۔ اور کافروں نے کلام حق (یعنی قرآن) کو کہا جبکہ وہ ان کے پاس آیا کہ یہ محض ایک صریح جادو ہے

وَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ كُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَهَا وَ مَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَّذِیْرٍؕ Open ayah 34:44 in the Quran reader

اور ہم نے مشرکین عرب کو نہ تو کچھ کتابیں دیں کہ جن کو وہ پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) بھیجا۔

وَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِیْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 34:45 in the Quran reader

اور جو (کافر) ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا اور یہ (مشرکین عرب) اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا، پس انہوں نے میرے پیغمبروں کو جھٹلایا تو دیکھو میرا عذاب (ان پر) کیسا ہوا۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف سے پہلے نہ کوئی کتاب ان عرب پر اتاری اور نہ نبی ﷺ سے پہلے کوئی رسول انکی طرف بھیجا گیا عرب کے لوگ پہلے چاہتے تھے کہ اور کہتے تھے کہ اگر کوئی ڈرانے والاہمارے پاس آتایا کوئی کتاب ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اور قوموں کی نسبت زیادہ ہدایت پر ہوتے ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو بھیجا، اور قرآن بھیجا تو بغیر کسی سند کے اللہ کے رسول کو جھوٹا کہنا اور آسمانی کتاب کو جادو بتلانا ان لوگوں کی نادانی ہے پھر فرمایا ان سے پہلے ایسی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا ہے کہ دولت اور قوت کے حساب سے یہ لوگ پہلی قوموں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جب اللہ نے ان کو ہلاک کرڈالا اور ان کی دولت وقوت نے ان کو کچھ نفع نہ دیا تو یہ لوگ جو کہ ان سے ہر بات میں کم ہیں رسول اللہ ﷺ کے جھٹلانے کے بعد عذاب الٰہی سے کیونکر بچ سکتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ پہلی قوموں کے قدم بقدم چلیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا جو ان کا ہوا ہے اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے آخرقریش میں کے بڑے بڑے لوگ جنہوں نے قرآن اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا ان کا انجام بدر کی لڑائی میں یہ ہوا کہ بڑی ذلت سے یہ لوگ مارے گئے۔
Ayah 34:46

قُلْ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ١ۚ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰهِ مَثْنٰى وَ فُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوْا١۫ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّكُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ Open ayah 34:46 in the Quran reader

تم فرماؤ1 میں تم کو ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں۔ کہ تم اللہ کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے رہو پھر سوچو کہ تمہارے ان صاحب کو کچھ جنوں (تو) نہیں وہ تو نہیں مگر تم کو ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈر سنانے والے ہیں۔

(ف 1) اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ تم کو صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لیے اور اس کے راستے کی تلاش میں کھڑے ہوتودودو ایک ایک پھر سوچو کہ یہ سچ کہتے ہیں کہ یاجھوٹ، اور پہلے یہ کیسے تھے اور سابق میں ان کی کیا عادات تھیں ان میں جھوٹ بولنے کا، اور خاص کر خدا پر افترا کرنے کا مادہ ہے یا نہیں، کہیں کسی سے انہوں نے تعلیم پائی جو یہ ایسے ایسے کلام بیان کرتے ہیں جس پر کوئی قادر نہیں کچھ یہ عقل مندی کی باتیں کرتے ہیں یا دیوانوں یا مجنونوں کی سی باتیں کرتے ہیں اگر تم تنہا یا دو دو آدمی باہم مل کر فکر کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا صاحب یعنی محمد مجنون آدمی نہیں ہے، اور یہ جو تم نے غل مچارکھا ہے اور مجمع کررکھا ہے اس میں تم کو حق نہیں نظر آئے گا، جب تم ٹھنڈے دل سے سوچو گے تو تم کو صاف حقانیت ظاہرہوجائے گا فرمایا گر اس کی نافرمانی کرو گے تو اس پر آخرت میں جو عذاب مرتب ہونے والا ہے ، یہ اس سخت عذاب کے آنے سے پہلے تم کو ڈرانے والے ہیں صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ کم سے کم دوزخ کا عذاب یہ ہوگا کہ دوزخی کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی جس سے اس کا بھیجا کھول جائے گ اس آیت میں دوزخ کے جس عذاب کو اللہ تعالیٰ نے بڑاسخت فرمایا ہے اسکی تفسیر بیان سے باہر ہے۔
Ayahs 34:47–49

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

تم فرماؤ1: میں نے تم سے اس (تبلیغ ) پر کچھ معاوضہ مانگا ہو تو وہ تمہارا ہی رہا، میرا معاوضہ تو پس اللہ ہی پر ہے اور وہ ہر چیز پر خبردار ہے ۔

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

تم فرماؤ بیشک میرا پروردگار اپنے انبیاء کی طرف حق ڈالتا ہے جاننے والا سب غیبوں کا۔

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

تم فرماؤ : حق آیا اور معبود باطل نہ پہلی بار کچھ پیدا کرتا ہے اور نہ دوبارہ کرسکتا ہے ۔

(ف 1) اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو ارشاد فرماتا ہے کہ مشرکوں سے اس طرح کہیں کہ میں جو تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام اور تبلیغ کرتا ہوں اور خدا کی عبادت کا حکم کرتا ہوں اس کے اوپر میں تم سے کچھ اجرت نہیں طلب کرتا، نہ کچھ انعام چاہتا ہوں تماپنا اجر اپنے پاس رہنے دو ، کیونکہ میں تو اللہ سے اس کا ثواب چاہتا ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے اور میرے قول کی سچائی کو بھی جانتا ہے فرمایا اس قرآن کے ذریعہ سے اب وہ دین حق آگیا جس کے سبب سے نہ آئندہ شرک کی نئی رسم پیدا ہوسکتی ہے نہ مٹی ہوئی رسم پھر رواج پکڑ سکتی ہے۔
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

تم فرماؤ1 اگر میں بہکا اپنے ہی برے کو بہکا اور اگر میں ٹھیک راہ پر ہوں تو اس سبب سے کہ میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے ، بشیک وہ سننے والا نزدیک ہے ۔

(ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا ہے کہ جو مشرکین مکہ نبی ﷺ کی شان میں کہا کرتے تھے کہ آپ گمراہ ہوگئے معاذاللہ۔ مسئلہ : انبیاء سب معصوم ہیں گناہ ان سے نہیں ہوسکتا اور حضور ﷺ امام الانبیاء ہیں اور کہنے لگے کہ ہم سے بھی باپ دادا کا دین چھڑانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو حکم دیا کہ آپ ان سے فرمادیں کہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ میں بہکا دیا تو اس کا وبال میرے نفس پر ہے اور اگر جس طرح میں کہتا ہوں کہ میری جو کچھ نصیحت ہے وہ اللہ کے حکم کے موافق ہے اور تم لوگ اس نصیحت کی مخالفت کرتے ہو تو اس مخالفت کا سخت عذاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے تم کو بھگتنا پڑے گا اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے قول وفعل سنتا اور دیکھتا ہے جس طرح کا قول فعل جس کسی کا ہوگا اسی طرح کا بدلہ اللہ تعالیٰ اس کودے گا اب آگے فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اس طرح کی باتیں کررہے ہیں جس دن ان کے قول وفعل کا وبال ان پر پڑے گا اس دن لوگوں کو پریشانی کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا۔ اعجاز قرآن مجید۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ عرب کے ایک مایہ ناز شاعر اسلام لائے تو مشرکین مکہ نے ان سے کہا کہ تم اپنے دین سے پھرگئے اور اتنے بڑے شاعر اور زبان کے ماہر ہوکرمحمد ﷺ پر ایمان لے آئے انہوں نے کہا ہاں وہ مجھ پر غالب آگئے قرآن کریم کی تین آیتیں میں نے سنیں اور چاہا کہ ان کے قافیہ پر تین شعر کہوں ہرچند کوشش کی محنت اٹھائی اپنی تمام قوت صرف کردی مگر یہ ممکن نہ ہوسکا تب مجھے یقین ہوگیا کہ یہ بشر کا کلام نہیں وہ آیتیں ، قل ان ربی یقذف بالحق سے سمیع قریب تک ہیں۔
Ayahs 34:51–54

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور2 کاش کہ تم دیکھو جبکہ یہ کفار گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے پھر عذاب سے بچ کر نہ نکل سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لیے جائیں گے ۔

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور کہیں گے : ہم اس پر ایمان لائے اور (اب ) ایمان ان کے ہاتھ اس قدر دو جگہ سے کیسے لگ سکتا ہے (یعنی محال ہے) ۔

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

حالانکہ (عذاب دیکھنے سے) پہلے تو اس سے انکار کرچکے تھے اور بےتحقیق باتیں دور ہی دور سے ہانکتے ہیں۔

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور آڑ کردی گئی درمیان ان کے اور درمیان اس چیز کے کہ جسے چاہتے ہیں (یعنی توبہ و ایمان) جیسا کہ ان کے پہلے گروہوں کے ساتھ کیا گیا تھا، بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے ۔

منکرین حشر کا زکر۔ (ف 2) فرمایا اے محبوب ﷺ اگر آپ کافروں کے بدانجام احوال دیکھیں جب وہ موت کے قریب ، یا دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنے کے وقت یا جنگ بدر کے دن گھبرائیں گے تو ایک عجیب ہولناک بات دیکھیں گے یہ لوگ وہاں سے بھاگ کر کہاں جاسکتے ہیں اور اس روز یہ ہمارے عذاب سے بھاگ نہ سکیں گے ، اور پاس ہی کے مقام یعنی قبروں سے پکڑ لیے جائیں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہم محمد ﷺ اور قرآن شریف پر ایمان لے آئے لیکن ایمان ان کے ہاتھ اس قدر دور مقام سے کیسے لگ سکتا ہے یعنی ایمان کی جگہ دنیا تھی اور یہ اس وقت آخرت میں ہیں پہلے سے تو یہ لوگ کفر کررہے تھے اور ان باتوں میں جن کی ان کو خبر نہ تھی اٹکلیں مارتے رہے، اور انہوں نے نبی ﷺ کو کہیں جادوگر کہا، کہیں شاعر بنایا کہیں کاہن ٹھہرایا اور ایسے ہی قرآن کو کبھی جادوگر کبھی شعر کبھی کہانت، جو ان کے جی میں آیا سمجھتے رہے، ان لوگوں کا ایمان اسوقت کا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور رد کردیاجائے گا جیسا کہ ان سے پہلے ان کے ہم خیالوں کو روک دیا گیا کہ جب انہوں نے علامات آخرت دیکھ لیں اور ایمان لانا چاہا تو اس وقت ان کو اس ایمان سے کچھ نفع نہ دیا گیا ایسے ہی ان کے ساتھ ہونا ہے ان سے ان کے ہم خیال بڑے سک اور بےچینی کی حالت میں تھے۔