33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 33:1–3

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے نبی1 اللہ کا خوف رکھنا اور کافروں اور منافقوں کی (خلاف شرع بات) نہ سننا، بیشک اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے ۔

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور اسی کی پیروی کرنا جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہیں وحی بھی جاتی ہے ، اے لوگو ! اللہ تمہارے سب کام کی خبر رکھتا ہے ۔

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور (اے سننے والے) تو اللہ پر بھروسہ رکھ اور اللہ کافی ہے کام بنانے والا۔

(ف 1) شان نزول : ابوسفیان بن حرب اور عکرمہ بن ابی جہل اور ابوالاسود سلمی جنگ احد کے بعد مدینہ طیبہ میں آئے اور منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی سلول کے یہاں مقیم ہوئے نبی ﷺ سے گفتگو کے لیے امان حاصل کرکے انہوں نے یہ کہا کہ آپ لات وعزی منات وغیرہ بوں کو جنہیں مشرکین اپنا معبود سمجھتے ہیں کچھ نہ فرمائیے اور یہ فرمادیجئے کہ ان کی شفاعت ان کے پجاریوں کے لیے ہے اور ہم لوگ آپ کو، آپ کے رب کو کچھ نہ کہیں گے ۔ تو نبی ﷺ کو ان کی گفتگو ناگوار ہوئی اور مسلمانوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا تو نبی نے قتل کی اجازت نہ دی ، اور فرمایا کہ میں انہیں امان دے چکا ہوں اس لیے قتل نہ کرو، مدینہ شریف سے نکال دو ، چناچہ حضرت عمر نے نکال دیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس میں خطاب تو نبی ﷺ کے ساتھ ہے اور مقصود ہے آپ کی امت سے فرمانا کہ جب نبی نے امان دی تو تم اس کے پابند رہو، اور نقض عہد کا ارادہ نہ کرو، اور کفار اور منافقین کی خلاف شرع بات نہ مانو۔
Ayahs 33:4–5

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ1 نے کسی آدمی کے سینہ کے اندر دو دل نہیں بنائے، اور2 تمہاری ان بیبیوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو (یعنی ماں کہہ بیٹھتے ہو) تمہاری ماں نہیں بنایا، اور1 نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہار (سچ مچ) کا بیٹا بنایا، یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھتا ہے ۔

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

(مسلمانو) لے پالکوں کو ان کے اصلی باپوں کے نام سے منسوب کیا کرو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ بہتر ہے پس اگر تم ان کے باپوں کو نہیں جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں اور تمہارے رفیق ہیں اور جو بات تم سے نادانشتہ وہگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں، و لیکن گناہ وہ ہے جو دل کے ارادے سے تم نے کیا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

(ف 1) شان نزول : ایک کافر ابومعمر حمید فہری کی یا داشت اچھی تھی کفار نے کہا اسے کے دودل جبھی تو اس کا حافظہ اتنا قوی ہے وہ خود بھی کہتا تھا کہ دودل ہیں ہر ایک میں محمد ﷺ سے زیادہ عقل مندی اور ہوشیاری ہے جب بدر میں مشرک بھاگے تو ابومعمر اس شان سے بھاگا کہ ایک جوتی ہاتھ میں ایک پاؤں می، ابوسفیا نے اس سے پوچھا کہ جنگ کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا کچھ تو مارے گئے اور کچھ بھاگ گئے، ابوسفیا نے کہا، اے بدبخت تیرا کیا حال ہے جو ایک جوتی تو پہن رکھی ہے اور دوسری ہاتھ میں لے رکھی ہے اس نے کہا اس کی خبر مجھے نہیں میں تو یہی سمجھ رہا ہوں کہ دونوں جوتیاں پاؤں میں ہیں اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ دو دل ہوتے تو جوتی جو ہاتھ میں لیے ہوئے تھا بھول نہ جاتا ایک قول یہ بھی ہے کہ منافقین نبی ﷺ کے لیے دودل بتاتے تھے کہ ان کا ایک دل ہمارے ساتھ اور ایک دل اپنے اصحاب کے ساتھ ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ظہار کابیان۔ (ف 2) زمانہ جاہلیت میں جب کوئی اپنی بیوی سے ظہار کرتا تھا وہ لوگ اس کو ظہارطلاق کہتے اور اس عورت کو اس کی ماں قرار دیتے تھے سو اللہ نے ان کو تمہاری مائیں نہیں بنایاغصہ میں ماں کہہ دینے سے ماں کے مثل حرام نہیں ہوجاتی ۔ ظہارمنکوحہ کو ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو ہمیشہ کے لیے حرام ہو اور یہ تشبیہ ایسے عضو میں ہو جس کو دیکھنا اور چھوناجائز نہیں مثلا کسی نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ مجھ پر میری ماں کی پیٹھ یا پیت کے مثل ہے تو وہ مظاہر ہوگیا۔ مسئلہ : ظہار سے نکاح باطل نہیں ہوتا لیکن کفارہ ادا کرنا لازم ہوتا ہے اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے عورت سے علیحدہ رہنا اور اس سے تمتع نہ کرنا لازم ہے۔ مسئلہ : ظہار کا کفارہ ایک غلام کو آزاد کرنا اور یہ میسر نہ ہو تو متواتر دومہینے کے روزے رکھنا اور یہ بھی نہ ہوسکے تو ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ مسئلہ : کفارہ ادا کرنے کے بعد عورت سے قربت اور تمتع حلال ہوجاتا ہے۔ (ہدایہ) ۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جن کو تم نے خوشی میں بیٹا کہہ دو وہ سچ مچ تمہارا بیٹا نہ بنا حاصل یہ ہے کہ جیسے تمہارے کی بات تمہاری ماں نہیں کر ادیتی اسی طرح تمہاری خوشی ان کو بیٹا نہیں بنادیتی ، جاہلیت میں دستور تھا کہ کوئی کسی کو بیٹا بنالیتا یعنی متبنی کرلیتا تھا جس طرح ہندوگود لے لیتے ہیں پھر وہ اصلی بیٹا سمجھاجاتا ہے اور میراث بھی پاتا ہے نبی ﷺ نے نبوت سے پہلے زید بن حارثہ کو بیٹابنایا تو لوگ زید ابن محمد کہنے لگے اور وہ نبی ﷺ کا بیٹا مشہور ہوا، تب نبی نے فرمایا کہ تو زید بن حارثہ بن شراحیل ہے اب سلام میں متبنی بنانا کوئی چیز نہیں رہا یہ صرف تمہارے مونہوں کی باتیں ہیں اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھی راہ بتاتا ہے اور تم کو سیدھا راستہ بتانے کے لیے حکم فرماتا ہے کہ ان کو ان کے اصلی باپوں کے نام سے پکارو یہ اللہ کے نزدیک بہتر اور انصاف کی بات ہے اگر تم کو ان کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں ار اگر آزاد ہے اور اس کے باپ کا حال معلوم نہیں تو بھائی کہہ کر پکارو اگر آزاد نہیں بلکہ غلام ہے تو اس کے آقا کے نام سے پکارو، اور غلطی اور خطاب سے تمہاری زبان سے نکل جائے اور غیر کی طرف اس کو منسوب کردوتو کوئی مضائقہ نہیں ، ایسی ان سے بھول چوک ہوتی رہتی ہے اس میں کچھ گناہ نہیں ہے ہاں گناہ تو اسی پر ہے جو جان بوجھ کر گناہ کا کام کرے۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

نبی1 مسلمانوں کے تصرف امور میں ان کی جانوں سے زیادہ سزاوار (ھق دار) ہے اور نبی کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں (تعظیم و حرمت میں) اور رشتہ والے اللہ کے حکم میں ایک دوسرے سے زیادہ قرہب ہیں یہ نسبت اور مسلمانوں اور مہاجروں کے مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر کوئی احسان کرو (تو وہ جائز ہے) یہ حکم اللہ کی کتاب (یعنی لوح محفوظ ) میں لکھا ہوا ہے ۔

محبت رسول ﷺ اصل ایمان۔ (ف 1) صحیح بخاری ومسلم میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایمان والا نہیں بنے گا یہاں تک کہ میں اس کی جان اور اس کے مال اور تمام لوگوں سے اس کے نزدیک زیادہ عزیز نہ ہوں جاؤں، ۔ حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اللہ اللہ کی قسم ، آپ مجھ کو ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں یہاں تک کہ میری جان سے بھی۔ آپ نے جواب دیا اے عمر ایمان اسی کو کہتے ہیں ، آگے فرمایا کہ جو بیویاں اللہ کے رسول کے نکاح میں آچکی ہیں تمہاری مائیں ہیں یعنی جس طرح ماں کا ادب تعظیم واجب بلکہ فرض ہے اسی طرح ان کا بھی ہے اور جس طرح سگی ماں سے نکاح حرام ہے اسی طرح امت میں کسی مسلمان کو ان سے نکاح کرنا جائز نہیں ہاں سوانکاح کے اور باتوں میں سگی ماں کا حکم الگ ہے مثلا اس کی ماں اور بیٹے میں پردہ کا حکم نہیں ہے یہاں موجود نکاح کے حرام ہونے کے امت میں کے اجنبی مسلمان سے اللہ کے رسول کی بیویوں کا پردہ کا حکم ہے اور کتاب اللہ کا حکم یہ ہے کہ بعض قرابت دار بعض کی مراث لینے کی بہ نسبت اور مسلمانوں اور ہجرت کرنے والوں کے زیادہ مستحق ہیں پہلے میراث اور مسلمانوں اور ہجرت والوں پر منقسم ہوجاتی تھی یہ حکم منسوخ ہوگیا ہاں اگر اپنے دوستوں کے ساتھ سلوک کرنا چاہو کچھ وصیت کرجاؤ تو جائز ہے پہلے حکم کامنسوخ ہونا کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
Ayahs 33:7–8

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور1 (اے محبوب یاد کرو) جبکہ ہم نے نبیوں سے عہد لیا اور تم سے (خصوصیت کے ساتھ) اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے اور ہم نے ان سے پکا عہد لیا۔

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ (قیامت کے دن) اللہ ان سچوں سے ان کے سچ کی بابت سوال کرتے اور کافروں کے لیے اس نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا، یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہدہ لیا اور خصوصا آپ سے اے محبوب ﷺ اور نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) مریم کے بیٹے سے بڑا مستحکم عہد لیا کہ اس میں کبھی فرق نہ آسکے ۔ نبی کو جب اسرار غیب کا راز داں بنایاجاتا ہے تو اس سے اس قسم کا سخت عہد بھی جاتا ہے اب گفتگو اسمیں ہے کہ وہ کیا عہد تھا اور کب لیا گیا تھا دوسری بات کی بابت حضرت کعب سے یوں منقول ہے کہ یہ عہد اس وقت لیا کہ جب روز میثاق میں لوگوں کو آدم (علیہ السلام) کی پشت سے باہر نکالا تھا اور تمام بنی آدم سے عہدلیا تھا، اول بات کی بابت مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ انبیاء (علیہ السلام) سے جو عہد لیا گیا تھا وہ اس بات کا تھا کہ دین الٰہی کو قائم رکھیں احکام الٰہی لوگوں کو سنائیں، اول توجمیع انبیاء کا ذکر عام طور سے بیان کیا پھر ان میں سے پانچ نبیوں کا نام لیا جو بڑے اولا العزم اور صاحب شریعت تھے اگرچہ دنیا میں نبی ﷺ کا ظہور سب نبیوں کے بعد ہوکر آپ ہی پر سلسلہ نبوت کا تمام کردیا گیا مگر آپ عالم ازلی میں سب سے پہلے نبی ہیں چناچہ آپ نے اس آیت کی شرح میں فرمایا ہے کہ میں سب نبیوں سے پیدا ہونے میں اول ہوں اور پیچھے جانے میں سب سے آخیر ہوں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرا ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ اس عہد لینے کا نتیجہ بیان فرمایا کہ یہ اس لیے لیا گیا ہے کہ قیامت کے دن انبیاء سے سوال کرے گا کہ تم نے اپنے کام کو پورا اور عہد کا سچا، لوگوں کو احکام پہنچائے وہ کہیں گے ہاں اس سے منکروں کو الزام دے گا کہ تم نے ہمارے نبیوں کو تبلیغ کو نہ مانا ۔ مسند امام احمد، صحیح بخاری، ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ کرام اجمین سے روایتیں ہیں جن کا ذکر سورة بقرہ میں گزرچکا ہے کہ سوائے امت محمدیہ کے اور امتیں اپنے نبیوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلائیں گی، اور کہیں گی ، یا اللہ ہم کسی کو نبی نے تیرا حکم نہیں پہنچایا، اس پر امت محمدیہ کے نیک لوگ قرآن کے حوالہ سے ان نبیوں کی تائید کریں گے یوں کہیں گے کہ یا اللہ تو نے نبی آخرالزمان پر قرآن اتارا تھا اس کے موافق ہم گواہی دیتے ہیں کہ ان نبیوں نے تیرے سب احکام اپنی امتوں کو پہنچائے ، اس گواہی پر فیصلہ ہوکروہ نبیوں کے جھٹلانے والی امتیں دردناک عذاب میں جائیں گی۔
Ayahs 33:9–17

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے مسلمانو1 اللہ کی نعمت اپنے اوپر یاد کرو جس وقت تم پر لشکر (خندق کی لڑائی میں) آئے، پس ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہ آئے (یعنی ملائکہ) اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے ۔

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جس وقت کافر تم پر چڑھ آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے اور جبکہ (شدت رعب وہیبت سے) آنکھیں حیرت میں ہوئی تھیں اور دل گلوں تک پہنچے (یعنی خوف و اضطراب انتہا کو پہنچ گیا) اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کنے لگے (امید و یاس کے)

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

اس موقع پر مسلمانوں کی جانچ ہوئی اور خوب سختی سے جھنجوڑے گئے۔

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب کہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں شک کا مرض (یعنی ضعف ایمان) تھا۔ کہنے لگے کہ ہم سے تو اللہ نے اور اس کے رسول نے محض دھوکہ کا وعدہ دیا تھا۔

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب کہ ان (منافقون) میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے مدینہ والو ! تمہارے لیئے یہاں ٹھہرے کا موقع نہیں تم گھروں کو واپس چلو اور ان میں سے کچھ لوگ نبی سے رخصت مانگتے تھے یہ کہہ کر ہمارے گھر بےحفاظت ہیں اور وہ بےحفاظت نہ تھے وہ تو محض (اس لڑائی سے) بھاگنا چاہتے تھے ۔

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر ان پر فوجیں مدینہ کے اطراف سے آتیں پھر ان سے فساد (یعنی کفر) چاہتیں تو ضرور یہ اس کو منظور کرلیتے اور اس میں دیر نہ کرتے مگر تھوڑٰ اور۔

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

بیشک اس سے پہلے وہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کے عہد کی (قیامت میں) پرسش ہوگی۔

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

تم فرماؤ : ہرگز تم کو بھگنا فائدہ نہیں دے گا اگر تم موت یا قتل ہونے (کے خوف) سے بھاگو گے اور (اگر بھاگ کر بچو گے بھی تو) صرف چند روز (اور) دنیا میں رہوگے۔

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ وہ کون ہے جو اللہ کا حکم تم پر سے ٹال دے، اگر وہ تمہارے حق میں برائی چاہے یا تمہارے حق میں مہربانی کرنا چاہے (تو کون اس کو روک سکتا ہے) اور وہ اللہ کے سوا اپنے لیے کوئی نہ دوست پائیں گے اور نہ مددگار۔

غزوہ خندق کابیان۔ (ف 1) یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے، یہ لڑائی پانچ ھجری میں ہوئی ، اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالا تھا، اس وقت نبی ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کھونے کا حکم دیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور حضور بھی خندق سے مٹی نکالنے لگے اور کھودنے لگے ، ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ نے آندھی بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرناچار ہوکرالٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ احزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مسلمانو اللہ کے احسان کو یاد کرو جس وقت تم پر لشکر کافروں کے آئے پھر ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسا لشکر فرشتوں کو پہنچا جس کو تم نہیں دیکھ سکتے تھے اور دشمنوں کے دلوں پر ڈر اور خود ڈال دیا گیا یہ احزاب کا قصہ سورة بقرہ میں بھی گزرچکا ہے کہ ایماندار لوگوں نے ثابت قدرمی سے خندق کھودنے کی جاڑے وربھوک کی اس لڑئی میں جو جوتکلیفیں اٹھائیں ہیں وہ سب اللہ کی نظر میں ہے پھر فرمایا مدینہ کے مشرق کی طرف اونچی بستیاں جو ہیں ادھرے سے قبیلہ غطفان بنی قریش وغیرہ کی فوج، اور مدینہ کی مغرب کی پشت جانب مکہ سے قریش، جب یہ سب دشمن مشرک تمہارے اوپر چڑھ آئے اس وقت کو یاد کرو جب کہ آنکھیں حیرت میں ہوئی تھیں اور کلیجے تمہارے منہ کو آنے لگے تھے اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے کہ اس مرتبہ ہم نہیں بچیں گے اس وقت مسلمانوں کا امتحان لیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھیج دیے جنہوں نے کفار کو بہت ہی سختی سے جھنجوڑا اور ان کے دلوں پر دہشت ڈال دی ۔ اور جبکہ منافق اور وہ لوگ جون کے دلوں میں شک تھا کہنے لگے کہ جو وعدہ ہم سے کیا ہے اللہ نے اور اس کے رسول نے فتح کا کیا وہ محض دھوکہ ہی کا وعدہ کررکھا تھا بعض منافقوں نے یہ بھی کہا کہ اے مدینہ والوں تم مقابلہ میں ٹھہر نہ سکو گے اپنے اپنے گھرکو واپس چلو اور ان میں سے کچھ لوگ نبی سے رخصت مانگنے لگے کہ ہمارے گھر بےحفاظت خالی پڑے ہیں اس کہنے سے ان کی غرض گھروں کو بھاگنے کی تھی ، پھر فرمایا یہ بہانہ کرنے والے لوگ اس حالت میں ہیں کہ اگر مدینہ کے ہر طرف سے دشمن آجائیں اور ان کو گھیر لیں پھر ان سے کفر میں داخل ہونے کا سوال کریں تو ضرور یہ لوگ مشرک بن جائیں گے ، ڈر کے سبب سے ایمان کو چھوڑ دیں گے اور پہلے وہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ لڑائی سے پیٹھ نہ پھیریں گے ، اب بدعہدی کے وبال کا ان کو کچھ خوف نہیں، ان سے کہہ دیاجائے کہ فائدہ نہ دے گا تم کو موت سے بھاگنا کیونکہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اگر اس چند روزہ زندگی میں اللہ تم پر کوئی آفت ڈالے تو وہ کون ہے جو تم کو اللہ کی آفت سے بچاسکے بلکہ اس وقت نہ پاویں گے اللہ کے سوا کوئی مددگار اور اللہ تعالیٰ ان پر نظر رحمت رکھے تو کوئی ان کو کسی طرح آفت میں نہیں ڈال سکتا۔
Ayahs 33:18–22

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

بیشک1 اللہ جانتا ہے تم میں سے ان کو جو اوروں کو جہاد سے روکتے ہیں اور اپنے (وطنی) بھائیوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے پاس چلے آؤ اور وہ جہاد میں نہیں آتے مگر تھوڑے۔

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

تمہاری مدد میں بخیلی کرتے ہیں پھر جب خوف کا وقت آئے تو تم انہیں دیکھو گے کہ تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں پھر رہی ہیں جیسے کسی پر سکرات موت طاری ہو، پھر جب خوف دور ہوجائے تو تیز زبان سے تمہیں طعنے دینے لگیں مال غنیمت کے لالچ میں، یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے، پس اللہ نے ان کے تمام اعمال اکارت (ضائع) کردیئے اور یہ اللہ کو آسان ہے ۔

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

وہ (منافقین اپنی بزدلی سے) سمجھ رہے ہیں کہ کافروں کے لشکر ابھی نہیں گئے (حقیقت میں وہ بھاگ چکے) اور اگر وہ لشکر (دوبارہ) آجائیں تو یہ (منافق) آرزو کریں گے کہ کاش ہم کسی طرح باہر گاؤں میں نکل کر تمہاری خبریں (مدینہ کے آنے جانے والوں سے) پوچھتے اور اگر (کسی مجبوری سے) تم میں رہتے جب بھی نہ لڑتے مگر تھوڑے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

بیشک تمہارے لیے رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس شخص کے لیے جو اللہ کے ثواب کی اور قیامت کے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہو۔

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر دیکھے تو بولے کہ یہ وہی ہے جہ جس کا ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا اور اس واقعہ نے انہیں نہ بڑھایا مگر ایمان اور اللہ کی رضا پر راضی ہونا۔

منافقین کا ذکر اور ان کا کردار۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ نے ان منافقین کا حال اپنے محبوب کو ظاہر کردیا اور فرمایا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے اپنی جان اپنامال بچانے کے لیے یہ لوگ تھوڑی سی دیر کے لیے لڑائی میں شریک ہوئے ہیں اس لیے یہ خود بھی لشکر اسلام کا ساتھ دینے میں دریغ کرے ہیں اور دوسروں کو بھی طرح طرح سے بہکار ہے ہیں اور نبی کا ساتھ دینے میں انکویہ سب حال معلوم ہے ، پھر مسلمانوں کو منافقوں کی نشانی بتلادی کہ جو جہاد کے وقت ایسی نامردی کی باتیں کرتے ہیں وہ آپ کے حق میں بخیلی کرتے ہیں پھر جب خوف کا وقت آئے تو تم نہیں دیکھوگے کہ تمہاری طرف یوں نظر کرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح پھر رہی ہیں کہ جس پر سکرات موت طاری ہو، اور پھر استکلیف کے جانے کے بعد لوٹ کا مال تقسیم ہونے کے وقت بہت بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے ہیں اور اپنی بہادری جتلاتے ہیں وہی منافق ہیں کیونکہ جو لوگ خالص مسلمان ہیں اور محض آخرت کے اجر کی غرض سے لڑتے ہیں نہ وہ دشمن کے غلبہ کے وقت گھبراکر اس طرح نامردی کی باتیں کرتے ہیں اور نہ وہ دنیا میں کسی کو اپنی بہادری جتلانا چاہتے ہیں ان کا تو جو معاملہ ہے خالص اللہ کے ساتھ ہے ایسے لوگوں کو اللہ آخرت میں اجر دے گا یہ اوپردل سے جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ ہیں ان کو اللہ کی درگاہ سے اجر کی توقع نہ رکھنا چاہیے، ایسے اوپری دل کے عملوں کا حال جان لینا اور ان کو بلا اجر ٹھہرادینا اس کے نزدیک کچھ مشکل نہیں ، البتہ انسان کے نزدیک یہ بات مشکل اور اس کے اختیار سے خارج ہے پھر فرمایا کہ جو فوجیں مدینہ پر چڑھ کر آئی تھیں اگرچہ وہ پلٹ کرچلی گئیں لیکن ان لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے بلکہ یہ جانتے ہیں کہ وہ پھر آجائیں گی پھر فرمایا کہ اگر وہ فوجیں پھر کر آجائیں تو یہ لوگ آرزو کریں گے کہ ہم اسوق مسلمانوں کے لشکر میں نہ ہوتے بلکہ کہیں اور پرلے گاؤں میں ہوتے اور دور سے ہی اس لڑائی کی خبر سن لیتے ، پھر فرمایا اگر فوجیں پھر کر آجائیں اور لڑائی کا موقع پیش آجائے تو لشکر اسلام کو ایسے لوگوں کے موجود ہونے سے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ ان لوگوں کے دل میں عقبی کے اجر یقین نہیں ہے اس واسطے یہ لوگ برائے نام لشکر اسلام کا کچھ ساتھ دے کر لڑائی میں زیادہ دیر تک ہرگز نہ ٹھہرتے، جو لوگ اس لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے بلکہ مدینہ میں رہ گئے تھے اب آگے نصیحت ان کو فرمائی کہ جن لوگوں کو عقبی کے اجر کی توقع ہے انہیں ہر حال میں اللہ کے رسول کی پیروی بہتر ہے، آگے فرمایا کہ ایماندار لوگ فوجوں کو دیکھ کر گھبراتے نہیں بلکہ ک انہوں نے یہی کہا کہ اللہ اور رسول ﷺ کے وعدہ میں جس آزمائش کا ذکر تھا یہ وہی آزمائش ہے یہ کہہ کر انہوں نے اپنے انجام کو اللہ اور اللہ کے رسول پر سونپ دیا ، اور آخر کار فتح اسلام کے وعدہ پر یقین اور بڑھ گیا اور سمجھ گئے کہ وعدہ کے ایک ٹکڑے کا جب ظہور ہوگیا تو اب دوسرے ٹکڑے کا ظہور بھی ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے۔
Ayahs 33:23–24

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مسلمانو1 میں کچھ وہ مرد ہیں کہ جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہ سے کیا تھا پس ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنی منت کو پورا کردیا (یعنی جہاد پر ثابت قدم رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے) اور ان میں سے بعض وہ ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے قول کو ذرا نہ بدلا۔

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو چاہے عذاب دے یا چاہے ان کو اپنی رحمت سے توبہ کی توفیق دے ، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

عہد کے پورا کرنے کا ذکر۔ (ف 1) مسلمانوں کا دل بڑھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت طلحہ، اور حضرت سعد بن زید اور حضرت حمزہ اور حضرت انس ؓ کے حق کا ذکر فرمایا ہے کہ کسی ضرورت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہوسکے تھے انہوں نے نذر کی تھی کہ اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ بدر کی لڑائی کے بعد پھر نبی ﷺ کو کسی لڑائی کا موقع پیش آئے گا تو ہم بڑی جانثاری سے اور خوب دل کھول کر لڑیں گے جنگ بدر کے بعد جب جنگ احد کی لڑائی کا موقع پیش آیا تو اللہ تعالیٰ سے انہوں نے سب مسلمانوں کیط رف عذرخواہی کی اور اپنا عہد پورا کرنے کو تلوار لے کر دشمن کی طرف بڑھے ، اور حضرت انس بن نضر کو سعد بن معاذ راستے میں ملے تو انہوں نے کہا حد پہاڑ کی جانب سے مجھے جنت کی خوشبوآتی ہے اور نہایت جوان مردی کے ساتھ دشمنوں سے لڑے اور کچھ اوپر اسی (80) زخم کھاکر شہید ہوئے، اس قصہ کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے یاد دلایا کہ سب مسلمانوں نے جس طرح اللہ کے رسول سے دین کی لڑائی میں جان بازی کرنے کا عہد کیا تھا حضرت انس بن نضر ؓ کی طرح ان کو اپنے اس عہد پر قائم رہنا چاہیے اور منافقوں کے بہکانے میں ہرگز نہیں آنا چاہیے جو لوگ حضرت انس کی طرح احد کی لڑائی میں ثابت قدم رہے ان کی یہ تعریف فرمائی کہ وہ بھی اپنی جان بازی کے عہد پر قائم رہے اور عہد کے پورا کرنے کے منتطر تھے۔ اس سے اس لرائی میں انہوں نے منافقوں کی طرح اپنے عہد کو نہیں بدلا، اخیر آیت میں عہد کو سچا کرنے والوں کا اور بدعہدی کرنے والوں کا نتیجہ فرماکرعہد کو سچا کرنے والوں کے لیے عقبی میں اجرعظیم ہے۔ اور بدعہدی کرنے والوں کے لیے عذاب۔ بدعہدی کرنے والوں میں بعض لوگ اللہ کے علم میں توبہ کرنے والے بھی تھے اس لیے فرمایا جن کو اللہ چاہے گا آئندہ بدعہد سے توبہ کرنے کی ان کو توفیق دے گا، اور یہ بھی فرمایا کہ وبہ کے بعد توبہ سے پہلے کے گناہوں کو معاف کردیتے ہیں اللہ بڑامہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Ayahs 33:25–27

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور1 اللہ نے کافروں (کے لشکر) کو ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ لوٹا دیا کہ (مسلمانوں پر چڑھائی کر کے) کچھ نفع نہ پایا اور اللہ نے مسلمانوں کو جنگ کی کفایت دی اور اللہ زبردست غالب ہے ۔

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور جن اہل کتاب نے ان (کفار) کی مدد کی تھی ان کو اللہ نے ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ ان میں ایک گروہ کو قتم قتل کرتے ہو اور ایک گروہ (یعنی عورتوں اور بچوں) کو قید کرلیتے ہو۔

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور (آخر کار) تم کو ان کی زمین اور ان کے مکان اور ان کے مالوں کا وارث کیا اور ایسی زمین کا بھی جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھا تھا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

(ف 1) بنی قریظہ نے نبی ﷺ کے مقابل قریش وغطفان وغیرہ احزاب کی مدد کی تھی اس میں عروہ بنی قریظہ کا بیان ہے۔ یہ اخیر ذی قعدہ 4، ہجری یا 5 میں ہوا۔ جب غزوہ خندق میں شب کو مخالفین کے لشکر بھاگ گئے جس کا اوپر کی آیات میں ذکر ہوچکا ہے اس شب کی صبح کو نبی ﷺ اور صحابہ کرام مدینہ طیبہ تشریف لائے اور ہتھیار اتار دیے، اس روز ظہر کے وقت جب نبی ﷺ کا سر مبارک دھویاجارہا تھا جبرائیل امین حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور ﷺ نے ہتھیار رکھ دیے فرشتوں نے چالیس روز سے ہتھیار نہیں رکھے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو بنی قریظہ کی طرف جانے کا حکم فرماتا ہے ۔ نبی ﷺ نے حکم فرمایا کہ ندا کردی جائے کہ جو فرمانبردار ہو وہ عصر کی نماز بنی قریظہ میں جاکرپڑھے، نبی ﷺ یہ فرماکرروانہ ہوگئے اور مسلمان چلنے شروع ہوئے اور یکے بعد دیگرے نبی ﷺ کی خدمت میں پہنچتے رہے لشکر اسلام نے پچیس روز تک بنی قریظہ کو گھیرے میں رکھا، اس سے وہ تنگ آگئے اور اللہ نے ان کے دلون میں رعب ڈالا، نبی نے ان سے فرمایا کہ کیا تم میرے حکم پر قلعوں سے اترو گے، انہوں نے انکار کیا تو فرمایا کیا قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ کے حکم پر اترو گے ، اس پر وہ راضی ہوگئے اور سعد بن معاذ کو ان کے بارے میں حکم دینے پر مامور فرمایا ، حضرت سعد نے حکم دیا کہ مرد قتل کردیے جائیں عورتیں اور بچے قید کیے جائیں پھر بازار مدینہ میں خندق کھودی گئی اور وہاں لاکران سب کی گردنیں ماری گئیں، ان لوگوں میں قبیلہ بنی نضیر کا سردار حی بن اخطب اور بنی قریظہ کا سردار کعب بن اسد جوان تھے جو گردنیں کاٹ کر خندق میں ڈال دیے گئے پھر فرمایا وارث کیا اللہ تعالیٰ نے تم کو ان کی زمین یعنی باغ اور کھیتوں کا اور ان کے مکانات یعنی قلعوں کا اور ان کے مال نقدواسباب ومواشی کا اور وہ زمین جس پر تم نے ابھی قدم نہیں رکھے ہیں اس زمین میں سلف کا اختلاف ہے زمین سے مراد خیبر ہے جو فتح قریظہ کے بعد مسلمانوں کے قبضہ میں آیا یا وہ ہر زمین مراد ہے جو قیامت تک فتح ہوکر مسلمانوں کے قبض میں آنے والی ہے ، وکان اللہ علی کل شئی قدیرا۔ کا مطلب یہ ہے کہ بنی قریظہ پر فتح دینے کے علاوہ اور بہت سی فتوحات بھی اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayahs 33:28–30

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی !1 اپنی بییوں سے فرمادو : اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ مال دوں اور تم کو اچھی طرح سے رخصت کردوں (بغیر کسی ضرر کے) ۔

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر (یعنی بہشت) چاہتی ہو تو بیشک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے ۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے نبی کی بی بیو ! تم میں سے جو کوئی صریح حیا کے خلاف (رسول اللہ کی شان میں) بےادبی کی جرات کرے گی تو اس کو اوروں سے دوگنا عذاب ہوگا اور یہ بات اللہ پر آسان ہے ۔

(ف 1) شان نزول : بنی قریظہ کے قصہ کے بعد نبی ﷺ کی بیویوں کا ذکر اس سبب سے آیا کہ بنی قریظہ کا اکثر مال نبی ﷺ نے مہاجرین کودے دیا تھا جس کے سبب سے مہاجرین کو کسی قدرآسودگی ہوگئی تھی مہاجرین کی یہ آسودگی دیکھ کر نبی ﷺ کی بیویوں کو آسودگی کا خیال ہوا اور انہوں نے نبی سے نان نفقہ کی مقدار میں کچھ زیادتی کردینے کی خواہش پیش کردی، نبی ﷺ کو تو سامان دنیا اور اس کا جمع کرنا گوارہ ہی نہ تھا اس لیے آپ کو ایک طرح کا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے اس رنج کے فیصلہ کے طور پر یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اے محبوب ﷺ تم اپنی بی بی سے فرمادو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ دنیوی مال دے کر طلاق دیدوں اور تم کو خوبی کے ساتھ رخصت کردوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو اور آخرت کی بہبودی کو چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے تمہاری نیکی کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر تیارکررکھا ہے ، دونوں امر میں سے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے اللہ کو اور اس کے رسول کی رضامندی کو اختیار کیا اور دنیا کی زندگی پر آخرت کے گھر کو ترجیح دی، بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیا کی خوبی اور آخرت کے ثواب کو جمع کیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ازواج مطہرات کو دنیا یا آخرت کو پسند کرنے کا اختیار دیا گیا تو اللہ کے رسول پہلے پہل میرے پاس تشریف لائے اور یہ آیت سنا کر اختیار دیا اور فرمایا کہ جلدی نہ کرنا، اپنے والدین سے مشورہ کرکے جو رائے ہو اس پر عمل کرنا، انہوں نے عرض کیا، حضور کے معاملہ میں مشورہ کیسا، میں اللہ کو اور اس کے رسول کو اور دارآخرت کو چاہتی ہوں، اور باقی ازواج نے بھی یہی کہا پھر فرمایا کہ اے نبی کی بیویو، تم میں سے جو کوئی صریح حیا کے خلاف جرات کرے گی تو اس کو دوگنا عذاب دیاجاء گا اور یہ بات اللہ پر آسان ہے۔
Ayahs 33:31–32

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور1 جو تم میں فرمانبردار رہے اللہ اور اس کے رسول کی ، اور نیک کام کرے تو ہم اس کو اوروں سے دوہرا ثواب دیں گے اور اس کے لیے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے ۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے نبی کی بی بیو تم (مرتبہ میں) اور عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو پس تم (اجنبی مردوں سے ) بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ جس (منافق) کے دل میں بیماری ہے کہ وہ لالچ کرے اور بات معقول کہو (یعنی دین اسلام کی اور نیکی تعلیم اور پند و نصیحت کی) ۔

پردہ کا حکم ، ازواج مطہرات اور اہل بیت کے فضائل۔ (ف 1) اے نبی کی بیویوں، تم میں سے جو خدا اور اس کے رسول کی دل سے ہمیشہ تابعدار رہے گی اور عمل کو اچھے کرے گی تو ہم اس کو ثواب اوروں سے دوہرا دیں گے ، یعنی اگر اوروں کو ایک نیکی پر دس گنا زیادہ ثواب دیں گے تو تمہیں بیس گنازیادہ دیں گے کیونکہ تمام جہانوں کی عورتوں پر تمہیں شرف وفضیلت ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارا مرتبہ امت کی نیک عورتوں سے دنیا اور عقبی میں بڑھ کر ہے کیونکہ دنیا میں امت کے ہر مرد کو حکم ہے کہ وہ اپنی ماں کے برابر تمہاری عزت کرے، اور عقبی میں نبی ﷺ کے ساتھ جنت کے اعلی درجہ میں تمہارا مقام ہوگا آگے آداب تعلیم ہیں کہ اگر بضرورت غیر مرد سے پس پردہ گفتگو کرنی پڑے توقصد کرو کہ لہجہ میں نزاکت اور نرمی نہ آنے پائے، اور بات میں لوچ نہ ہو، عفت ماب خواتین کے لیے یہی شادیاں ہے اور معقول بات کہو، کا مطلب یہ ہے یہ دین واسلام کی اور نیک تعلیم اور پندونصیحت کی اگر ضرورت پیش آئے تو بےلوچ لہجہ سے بات کہو، اور اسلام سے پہلے جس طرح عورتیں بےپردہ اور اپنا بناؤ سنگھار اجنبی مردوں کو دکھاتی پھرتی تھیں کہ جن سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکیں ، اور پچھلی جاہلیت سے آخرزمانہ مراد ہے جس میں لوگوں کے افعال پہلوں کی مثل ہوجائیں گے پس اپنے گھروں میں بیٹھ کر نماز زکوۃ، اور اسی طرح کے اللہ اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری کے کاموں میں لگی رہو۔
Ayahs 33:33–34

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور دکھاتی نہ پھرو جیسا کہ پہلے جاہلیت (یعنی قبل اسلام) کے زمانہ میں بےپردگی کا دستور تھا اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ کہ تم سے ہر ناپاکی (یعنی گناہوں کی نجاست) دور کردے اور تم کو (ہر طرح ظاہرا و باطنا) پاک رکے کے خوب ستھرے کردے۔

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور یاد کرو جو پڑھی جاتی ہیں تمہارے گھروں میں اللہ کی آیتیں (یعنی قرآن) اور حکمت (یعنی حدیث شریف) بیشک اللہ راز داں پورا خبردار ہے ۔

(ف 1) اس آیت سے اہل بیت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور اہل بیت میں نبی ﷺ کی ازواج مطہرات اور حضرت خاتون جنت فاطمہ الزہراء اور علی مرتضی اور امام حسن اور امام حسین ؓ اجمعین سب داخل ہیں آیات واحادیث کو جمع کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے اور یہی حضرت امام ابومنصور ماتریدی سے منقول ہے ان آیات میں اہل بیت کو یہ نصیحت فرمائی گئی ہے کہ وہ گناہوں سے بچیں اور تقوی وپرہیزگاری کو پاکی سے استعارہ فرمایا گیا کیونکہ گناہوں کامرتکب ان سے ایسا ہی ملوث ہوتا ہے جیسا جسم نجاستوں سے ، اس طرز کلام سے مقصود یہ ہے کہ ارباب عقول کو گناہوں سے نفرت دلائی جائے اور تقوی وپرہیزگاری کی ترغیب دی جائے ، فرمایا تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیتیں اور حکمت آمیز کلام رات دن پڑھتے جاتے ہیں اس کو تم یاد کرو اور لوگوں کو بطورنصیحت کے سناو، تمہارے گھروں میں دارین کی نعمتیں ہم نے اتاررکھی ہیں تم اس کی قدر کرو، بعض کے نزدیک آیات اللہ سے قرآن اور حکمت سے حدیث شریف کے حفظ کرنے پر کمال ترغیب ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کمال مہربان ہے اور سب چیزوں سے پورے طور پر خبردار ہے اور سب حکمتیں اس کو معلوم ہیں جو مناسب جانتا ہے وہ کرتا ہے اور سب کے انجام سے پورا پورا واقف ہے۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

بیشک1 مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے مردر اور ایمان والی عورتیں اور طاعت کرنے والے مرد اور اطاوعت کرنے والی عورتیں اور سچ بولنے والے مرد اور سچ بولنے والی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے ووالے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت اللہ کو یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے ۔

مومن کی دس نشانیاں۔ (ف 1) شان نزول : حضرت اسماء بنت عمیس ؓ جب اپنے شوہر حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں تو ازواج نبی ﷺ سے مل کر انہوں نے دریافت کیا کہ عورتوں کے باب میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے انہوں نے فرمایا، نہیں ، تو اسماء نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ حضور، عورتیں بڑے ٹوٹے میں ہیں، فرمایا کیوں ، عرض کیا کہ ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مردوں کا ہوتا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مردوں کے ساتھ ذکر کیے گئے اور ان کے ساتھ عورتوں کی تعریف کی گئی اور مراتب میں سے ، پہلا مرتبہ اسلام ہے جو خدا اور رسول کی فرمانبرداری ہے، دوسرا ایمان ہے کہ وہ اعتقاد صحیح اور ظاہر و باطن کے موافق ہونا ہے، تیسرا مرتبہ قنوت یعنی عبادت ہے ، چوتھا مرتبہ کہ وہ صدق نیات وصدق اقوال افعال ہے ، پانچواں مرتبہ صبر کا بیان ہے کہ طاعتوں اور عبادتوں کی پابندی کرنا، اور ممنوعات سے پرہیز کرنا ، رضائے الٰہی کے لیے اختیار کیا جائے۔ اس کے بعد چھٹے مرتبہ خشوع کا بیان ہے جو طاعتوں اور عبادتوں میں قلوب وجوارح کے ساتھ متواضع ہونا ہے، اس کے بعدساتویں مرتبہ صدقہ کا بیان ہے جو اللہ کے عطا کیے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں بطریق فرض ونفل دینا ہے، پھر آٹھویں مرتبہ صوم کا بیان ہے یہ بھی فرض ونفل دونوں کو شامل ہے منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درہم صدقہ کیا وہ متصدقین میں اور جس نے ہر مہینہ ایام بیض کے تین روزے رکھے وہ صائمین میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد نویں مرتبہ عفت کا بیان ہے اور وہ یہ کہ اپنی پارسائی کو محفوظ رکھے اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے۔ سب سے آخر میں دسویں مرتبہ کثرت ذکر کا بیان ہے ، ذکر میں تسبیح حمیدتہلیل تکبیر، قرات قرآن ، علم دین کا پڑھنا، نماز وعظ نصیحت، میلاد شریف پڑھنا سب داخل ہیں ، کہا گیا ہے کہ بندہ ذاکرین میں جب شمار ہوتا ہے جبکہ وہ کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے۔ ان اوصاف کے مرد اور عورتوں کا انجام یہ ہے کہ تیارکررکھی ہے اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور ثواب عظیم رکھا ہے، حاصل مطلب یہ ہے کہ جو باتیں اس آیت میں ذکر کی گئیں ہیں جس مرد یا عورت میں یہ باتیں ہوں گی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے مرد اور ایسی عورتوں کو بڑا اجر عنایت فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہ کر طرح طرح کی راحت پائیں گے ، جنت کی ایسی نعمتیں ہیں جن کی تفسیر انسان کی طاقت سے باہر ہے۔
Ayahs 33:36–37

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور1 نہ کسی مسلمان مرد اور نہ کسی مسلمان عورت کو (اختیار ) پہنچتا ہے کہ جب اللہ ار اس کا رسول کسی کام کا حکم فرمائیں تو اپنے معاملہ کا کچھ اختیار ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے وہ بیشک صریح گمراہی میں بہکا۔

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور (اے محبوب یاد کرو) جب تم اس شخص سے فرماتے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا ہے اور تم نے بھی اس پر انعام کیا ہے کہ اپنی بی بی ( زینب) کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ (بات) پوشیدہ رکھتے تھے جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں (کے طعنوں) کا ڈڑ تھا، اور اللہ زیادہ سزاوار (حق دار) ہے کہ اس کا خوف رکھو، پس جب زید نے زینب سے اپنی حاجت انجام کو پہنچائی (اور طلاق دے دی اور عدت گزر چکی) تو ہم نے تمہارے نکاح میں دیدی تاکہ مسلمانوں پر ان کے لیے پالکوں کی بیبیوں سے نکاح کے کرنے میں کچھ حرج نہ رہے جبکہ ان سے ان کا کام ختم ہوجائے، اور اللہ کا حکم ہوکر رہنے والا تھا۔

(ف 1) شان نزول : یہ آیت حضرت زینب بنت حجش ؓ اسدیہ اور ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن حجش اور ان کی والدہ امیمہ بنت عبدالمطلب کے حق میں نازل ہوئی ، ایک مرتبہ حضور پرنور نے زید بن حارچہ کی جن کو نبی ﷺ نے آزاد کیا تھا، اور وہ حضور ہی کی خدمت میں رہتے تھے نبی ﷺ نے زینب سے جو آپ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں منگنی کرنی چاہی، انہوں نے انکار کیا اور عرض کرنے لگیں، یارسول اللہ میں آپ کی پھوپھی کی بیٹی ہوں اور قریش کی سردار ہوں میں اپنے لیے زید کو پسند نہیں کرتی ، ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن حجش نے بھی انکار کیا، اس وقت میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئیں کہ جب خدا اور رسول ایک بات کا حکم دے چکے تو پھر ایمان والوں کو اس میں اپنا کچھ اختیار باقی نہیں رہا، اور جو نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہ ہے جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت زینب اور ان کے بھائی نے عرض کیا کہ جو آپ کا حکم ہو ہم اس میں راضی ہیں، پس نبی ﷺ نے زینب کا نکاح زید سے کردیا، اور ان کا مہر دس دینار ساٹھ درہم، ایک جوڑا جس میں تین کپڑے ہوتے ہیں پچاس مد (ایک پیمانہ) کھانا، تیس صاع کھجوریں دیں۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو رسول کریم کی اطاعت ہر امر میں واجب ہے اور نبی کے مقابلے میں کوئی اپنے نفس کا بھی خود مختار نہیں، جب حضرت زید ؓ کا نکاح حضرت زینب سے ہوچکاتو نبی ﷺ کے پاس اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ حضرت زینب آپ کی ازواج مطہرات میں داخل ہوں گی اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے ، آخرکار ایک مدت تک زینب زید کے نکاح میں رہیں ان کی تقدیر میں پیغمبر کی بیوی ہونا لکھاجاچکا تھا اور نبی کو بھی خدا کی طرف سے اس بات کا علم ہوگیا تھا کہ کسی روز حضرت زینب میرے نکاح میں آئیں گی لیکن آپ کسی سے ظاہر نہیں کرتے تھے، حضرت زید نے رسول کریم سے حضرت زینب ؓ کی عدم اطاعت اور اپنے آپ کو بڑاسمجھنے کی شکایت کی اور حضرت زید نے تنگ ہوکر ان کو علیحدہ کرنا چاہا، رسول کریم اگرچہ جانتے تھے کہ یہ امر ہونے والا ہے مگر آپ نے بطور مشورہ کے منع کیا کہ تم اس کو طلاق نہ دو اور خدا کا خوف کرو، بشریت سب کے ساتھ لگی ہوئی ہے خاوند بیوی میں ایسا ہوتا ہی ہے شدنی امر ہوکررہتا ہے۔ جب حضرت زید نے حضرت زینب عنہا کو طلاق دے دی تو آپ کو لوگوں کے طعن کا اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تو ہے حضرت زینب کے ساتھ نکاح کرنے کا اور ایسا کرنے سے لوگ طعنہ دیں گے کہ نبی نے ایسی عورت سے نکاح کرلیا، جوان کی منہ بولے بیٹے کے نکاح میں رہی تھی، مقصود یہ ہے کہ امر مباح میں بےجاطعن کرنے والوں کا کچھ اندیشہ نہ کرنا چاہیے، جب زید نے حضرت زینب کو طلاق دے دی اور عدت گزر گئی تو حضرت زید ؓ نبی ﷺ کا پیام لے کرگئے اور انہوں نے سرجھکا کر کمال شرم وادب سے انہیں یہ پیام پہنچایا، انہوں نے کہا اس معاملہ میں اپنی رائے کو کچھ بھی دخل نہیں دیتی جو میرے رب کو منظورہوا میں اس پر راضی ہوں، یہ کہہ کر وہ بارگاہ الٰہی میں متوجہ ہوئیں اور انہوں نے نماز شروع کردی تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئیں، حضرت زینب ؓ کو اس نکاح سے بہت خوشی ہوئی اور فخر ہوا فرمایا اے محبوب تم کہتے تھے کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور علیحدہ نہ کر، اور خدا سے ڈر، اور اللہ تعالیٰ جس بات کو ظاہر کرنے والا تھا تم اس کو ظاہر نہیں فرماتے تھے کہ زینب سے تمہارا نباہ نہیں ہوسکے گا، اور طلاق ضرور واقع ہوگی ، اس کو زبان پر نہیں لاتے تھے کہ لے پالک کی بیوی سے نکاح کروں گا تو طرح طرح کی بدگوئی سننی پڑے گی لیکن اللہ تعالیٰ کو اس رسم کا مٹانا منظور تھا فرمایا کہ ہم نے جو یہ کہا کہ اول زینب کا زید سے نکاح کردیا، پھر اس سے چھڑا کر آپ کے ساتھ نکاح کردیا، اس لیے ہم نے یہ کیا کہ تاکہ مسلمانوں کو ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرلینے میں کچھ دقت نہ ہو، جبکہ ان کے منہ بولے بیٹے ان سے مطلب حاصل کرچکے ہوں طلاق دیدی ہوعدت پوری ہوگئی ہو، اللہ کا کام ہوکررہتا ہے جیسا اللہ کو منظور تھا وہی ہوا۔
Ayahs 33:38–40

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

نبی1 پر اس بات میں کچھ حرج نہیں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی، اللہ کا دستور چلا آرہا ہے ان (پیغمبروں) میں جو پہلے گزر چکے اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے۔

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

وہ جو اللہ کے پیغام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے ۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں و لیکن اللہ کے رسول ہیں اور آپ سب نبیوں کے مہر ہیں (یعنی نبوت آپ پر ختم ہے) اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے ۔

حقیقی باپ کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو طریقہ اپنے نبی کے واسطے جائز کردیا ہے وہ مثل اس طریق کے ہے جو پہلے نبیوں کا طریقہ تھا کچھ اس سے ملبوث میں فرق نہیں آتا، دیکھو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ایک سوبیبیاں تھیں اور حضرت سلیمان کی تین سوبیویاں تھیں اگر یہ نبی اس پر عمل درآمد کریں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ اللہ کا جوحکم مقرر ہوچکا ہے وہ نہیں ٹلتا، وہ انبیاء سابقین کیسے تھے جو اپنے رب کے پیغام امت کو پہنچایا کرتے تھے اور اس سے ڈرتے تھے اے محبوب تم تو سب سے افضل ہو، پھر تم لوگوں کا خوف کیوں کرو گے، پھر فرمایا کہ نیکوں کی فرمانبرداری اور بدوں کی بدگوئی کے حساب کتاب کے لیے اللہ کا علم کافی ہے ایک دن ان سب باتوں کا حساب وکتاب ہوکرجزاوسزا کا فیصلہ ہوجائے گا پھر فرمایا کہ لوگوں کے زید بن محمد کہنے محمد ﷺ غیر کی اولاد کے باپ نہیں ہوسکتے، حضرت زید کی منکوحہ آپ کے لیے حلال نہ ہوتی، آپ کے فرزند تو حضرت قاسم، اور طیب، اور طاہر، اور ابراہیم رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جو اس عمر کو نہ پہنچے کہ انہیں مرد کہا جائے، انہوں نے بچپن میں وفات پائی، اور سب رسول ناصح، شفیق اور واجب التوقیر و لازم اطات ہونے کے لحاظ سے اپنی امت کے باپ کہلاتے ہیں، بلکہ ان کے حقوق حقیقی باپ کے حقوق سے زیادہ ہوتے ہیں، لیکن اس سے امت حقیقی اولاد نہیں ہوجاتی اور حقیقی اولاد کے تمام احکام وراثت وغیرہ اس کے لیے ثابت نہیں ہوتے۔ ختم نبوت۔ وہ تو اللہ کے محبوب اور خاتم النبین ہیں نبوت آپ پر ختم ہوگئی، آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی تھی کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے تو اگرچہ نبوت پہلے پاچکے ہیں مگر نازل ہونے کے بعد شریعت محمدیہ پر عامل ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں گے نبی ﷺ کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے تو وہ کافر خارج ازاسلام ہے پھر فرمایا اللہ کا علم بہت وسیع ہے اس نے ہر بات اپنے علم کے موافق ٹھہرائی ہے اس میں کسی کو کچھ دخل نہیں دینا چاہیے۔