32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 32:1–2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

(اس)1 کتاب (یعنی قرآن) کا اتارنا پروردگار عالم کی طرف سے ہے اس میں کچھ شبہ نہیں۔

(ف 1) قرآن کا ذکر۔ اس آیت میں فرمایا یہ کتاب یعنی قرآن کہ جس کے برحق ہونے میں عاقل کو غوروفکر کرنے کے بعد کوئی بھی شبہ باقی نہیں رہتا یہ اس کی طرف سے ہے جو تمام جہان کا پرورش کرنے والا ہے روحانی پرورش سے اسی کا خاصہ ہے اس لیے اس نے دنیا کی شائسگی کے لیے ایک ایسی کتاب نازل کی جو آفتاب کی طرح سے اپنے لیے خود گواہ ہے آگے فرمایا کہ یہ کافر کہتے ہیں محمد ﷺ نے اس کو اپنے دل سے بنالیا ہے اس کے جواب میں فرماتا ہے یہ انکا گمان بالکل غلط ہے بلکہ یہ قرآن حق ہے تیرے پروردگار کی طرف سے اترا ہے اب اس کے نازل ہونے کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ اس لیے نازل کی گئی تاکہ اے محبوب ﷺ تم ان لوگوں کو ڈراؤ جن کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، اس قوم کی خصوصیت نہیں کہ نبی ﷺ خاص عرب ہی کے لیے مبعوث ہوئے تھے بلکہ تمام جہان کے لیے نبی بناکربھیجے گئے تھے۔
Ayahs 32:3–4

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں خہ (محمد نے) اس کو اپنے دل سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ تمہارے پروردگار کی طرف سے وہ ہی حق ہے کہ تم اس قوم کو ڈراؤ کہ جن کے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا، تم سے پہلے اس امید پر کہ وہ راہ پائیں۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کو چھ روز میں پیدا کیا، پھر عرش پر قرار لیا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے) اے گروہ کفار ! سوائے اس کے نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا پھر کیا تم نہیں سمجھتے۔

انسان کی پیدائش کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو اور اس مخلوق کو جوان دونوں کے درمیان میں موجود ہے چھ روز کی مدت میں پیدا کیا یعنی اتوار سے شروع کیا جمعہ کو ختم کیا، اس کے بعد وہ عرش پر جلوہ فرماہوا یعنی تصرفات نافذ کرنے لگا وہ ایساعظیم ہے کہ سوائے اس کے نہ تمہارا کوئی مددگار ہے اور نہ سفارش کرنے والا ہے کیا تم سمجھتے نہیں کہ ایسی ذات کا کوئی شریک نہیں ہوسکتا، اور وہ ایسا ہے کہ آسمان سے لے کر زمین تک جتنے کام ہیں ہر کام کی وہی تدبیر اور انتظام کرتا ہے پھر ہر کام اسی کے حضور میں پہنچ جائے گا ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے موافق ایک ہزار برس کی ہوگی، یعنی قیامت میں سب کام مع مالھا وماعلیھا اسی کے حضور میں پیش ہوں وہ ہی پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا اور زبردست رحمت والا ہے اس نے جو چیز بنائی ، یعنی جس مصلحت کے لیے اس کو بنایا اس کو مناسب اور بہت اچھا بنایا ہے۔
Ayahs 32:5–7

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے، پھر ہر کام اسی کی طرف رجوع کرے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے موافق ہزار برس کی ہے ۔

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہ صفت ہے جاننے والے پوشیدہ اور ظاہر غالب مہربان کی ۔

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

وہ جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی1 اور انسان (یعنی آدم) کی پیدائش مٹی سے شروع کی ۔

(ف 1) ان آیتوں میں انسان کی پیدائش کا حیرت انگیز حال بیان فرمایا ہے کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے مراد انسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو سب آدمیوں کے باپ ہیں ان کو اول اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی نسل کو مٹی سے پھر اس کی ماں کے پیٹ میں اس کو ٹھیک کیا سر کی جگہ سر، اور کان کی جگہ کان، آنکھ کی جگہ آنکھ، ناک کی جگہ ناک، غرض ہر ایک عضو کو اس اندھیرے میں اس موقع ومحل پر قائم کیا اور ہر ایک عضو کو اس اندازہ سے بنایا کہ علم تشریح کے واقف ہونے کے بعد عالم وعاقل کو اس باتکاضرور اقرار کرلینا ہوگا کہ یہ کیسے بڑے مدبر حکیم کا فعل اور بڑے باکمال کی کاریگری ہے اور اس کو ٹھیک کرکے اپنے پاس سے روح پھونک دی ، یعنی چلنے پھرنے لگا، پھر تمہارے نفع کے واسطے اے اولاد آدم، شنوائی اور بینائی اور دل عطا کیے مگر اس پر بھی تم بہت ہی کم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہو، ان باتوں کو اپنے گھر کی باتیں خیال کرتے ہو آگے ارشاد فرمایا کہ یہ مشرک لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مرکرزمین میں رل مل جائیں گے تو کیا ہم نئی پیدائش سے پھر جلائے جائیں گے یہ بات عقل سے بعید ہے یہ لوگ اتنا نہیں سجھتے کہ یہ بات ان کی کمزور طاقت کی نسبت تو بعید ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ بات ہرگز بعید نہیں کیونکہ جب اس صاحب قدرت نے پانی سے ان کا پتلا بناکر اس میں روح پھونک دی تو اسوقت اس کے لیے کیا مشکل ہے پھر فرمایا کہ یہ مشرک اپنے پروردگار کے روبرو کھڑے ہونے سے جب منکر ہوں تو ان سے کہہ دیاجائے کہ ملک الموت تمہاری جان توقبض کرے گا جو کہ تمہارے اوپر تعینات کیا گیا ہے پھر فرمایا کہ تم دوبارہ جلائے جاؤ گے اور اپنے پروردگار کے روبرو اپنے عملوں کی جزاوسزا کے لیے حاضر کیے جاؤ گے۔
Ayahs 32:8–12

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اس کی نسل ایک بےقدر پانی کے خلاصہ سے (یعنی نطفہ ) سے رکھی۔

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اس کے اعضا درست کیے اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کیے (مگر پھر بھی) تم تھوڑا شکر کرتے ہو۔

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور یہ (کافر) کہتے ہیں : کیا جب ہم زمین (یعنی مٹی) میں مل جائیں گے کیا پھر نئے سرے سے پیدا ہوں گے ، بلکہ وہ لوگ اپنے پروردگار کے حضور حاضری سے منکر ہیں۔

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

تم فرماؤ : تمہاری روح موت کا فرشتہ (یعنی عزرائیل) قبض کرتا ہے جو تم پر مقرر کیا گیا ہے ، پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اگر تم دیکھو1 تو تعجب کرو جبکہ یہ مجرم لوگ اپنے پروردگار کے سامنے (شرم و خوف سے) سر جھکائے ہوئے (کہہ رہے) ہوں گے کہ اے پروردگار ہمارے (اب) ہم نے دیکھا اور سنا ہم کو (دنیا میں) پھر بھیج تاکہ ہم اچھے عمل کریں بیشک ہم کو (اب) یقین آگیا۔

(ف 2) ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیر ہو کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو جھکا کر کے زبان سے کہیں گے اے رب ہمارے ہم نے دیکھا اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا، اور رسولوں کے بیان کی صداقت سن لی، پھر کہیں گے ، اب ہم کو دنیا میں پھر بھیج دیاجائے تاکہ ہم اچھے عمل کریں کیونکہ اب ہم کو پورا یقین ہوگیا کہ تیرا وعدہ سچا اور برحق ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیے اگر ان کو پھر بھی دنیا میں بھیج دیاجائے تو پہلے کی طرح پھر دنیا میں خدا کی آیتوں اور رسولوں کو جھٹلائیں گے جیسا کہ سورة انعام میں گزرچکا ہے۔
Ayah 32:13

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور2 اگر ہم چاہیں تو ہر شخص کو اس کی ہدایت عطا فرماتے و لیکن میری طرف سے بات قرار پاچکی ۔ کہ ضرور میں دوزخ کو بھردوں گا ان جنوں اور آدمیوں سب سے (جنہوں نے کفر اختیار کیا) ۔

کفار کے عذاب اور مومن کی شان کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا گر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت کرتے اور ایمان دار نیک کردار کردیتے مگر ان میں صلاحیت نہ تھی ان کو رسولوں اور ہماری کتاب نے بہت کچھ سمجھایا پر انہوں نے نہ مانا لیکن میرا نوشتہ ازلی پورا ہولیا، ہم تو قول کے سچے ہیں اور بات کو پورا کردکھاتے ہیں اور وہ قول یہ ہے کہ ضروردوزخ کو آدمیوں اور جنات سے بھردیں گے اور جب کافر دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو محافظان دوزخ ان سے کہیں گے کہ ذرا اپنے اس دن کے بھول جانے کا مزہ چکھو، ہم بھی تم کو اس عذاب میں چھوڑ کر بھول جائیں گے اپنی بدکرداری، بےایمانی کا ہمیشہ کا عذاب تو چکھو، فرمایا کہ یہ بدنصیب کیا ایمان لائیں گے ہماری آیتوں پرتو وہ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو وہ آیتیں سمجھائی جاتی ہیں تو سجدہ میں گرپڑتے ہیں اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور جو اوصاف اس کو شایاں ہیں ان سے اس کی تعریف کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب انکوآیات الٰہی سناکرسمجھایاجاتا ہے تو وہ خوف الٰہی کے مارے سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں ، سبحان اللہ وبحمدہ کہتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے نہ تو دنیا میں کسی سے پیش آتے ہیں نہ اللہ کے رسولوں اور اس کے حکام سے تکبر کرکے ہٹ دھرمی کرتے ہیں، ان میں کامل صلاحیت ہے اس آیت کو سن کر سجدہ کرنا لازم ہے۔
Ayahs 32:14–16

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

پس اب عذاب کا مزہ چکھو، اس لیے کہ تم اپنے اس دن کی حاضری کو بھول گئے تھے، ہم نے بھی تم کو (اس عذاب میں چھوڑ کر) بھلا دیا اور تم اپنے اعمال کے بدلے اب ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو۔

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

پس ہماری نشانیوں پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو وہ آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے ۔

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

(شب کو1) ان کی کروٹیں خوابگاہوں سے جدا ہوتی ہیں اور اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں خوف سے اور (اس کی رحمت کی) امید سے ، اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں۔

(ف 1) شان نزول۔ یہ آیت تہجد کے بارہ میں اتری، نبی ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ سے چند نیک کاموں کا ذکر کرکے فرمایا کہ تہجد کی نماز ایک ایسی چیز ہے جس کے ثواب کا کچھ بیان نہیں ہوسکتا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ ترمذی کی روایت جو انس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت عشاء کی نماز کے بارے میں نازل ہوئی ان دونوں روایتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کچھ لوگوں پر تھکان اور نیند کے سبب سے عشاء کی نماز بھی شاق ہی ہوتی ہے اس لیے عشاء کی نماز کی شان میں بھی اس آیت کا مطلب پایاجاتا ہے اوپر جن ایماندار لوگوں کا ذکر تھا وہ قرآن کی نصیحت کو کان لگاسنتے ہیں اور احکام الٰہی کے تابع ہیں یہ انہی کا ذکر فرمایا کہ جب اور لوگ آرام سے سورت ہیں تو یہ لوگ اپنے بستروں کو خالی چھوڑ کر عذاب عقبی کے خوف اور راحت عقبی کی امید سے تہجد کی نماز پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت کی دعا مانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

پس1 کوئی نفس نہیں جانتا کہ (ہم نے) ان کے لیے جو آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی ہے (جس سے وہ راحت پائیں گے) ان کے اچھے عملوں کے بدلے میں۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اللہ نے اپنے بعض نیک بندوں کے لیے جنت وہ نعمتیں رکھی ہیں جو کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی ، نہ کسی کے دل میں انکاتصورگزرسکتا ہے، امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عہنما نے یہ فرمایا جن نعمتوں کا اس آیت میں ذکر ہے اس کی تفسیر انسان کے اختیار سے باہر ہے۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

تو کیا جو شخص2 ایمان والا ہے مانند اس شخص کے ہوجائے گا جو بےعلم ہے یہ (دونوں ہرگز) برابر نہیں ہوسکتے۔

(ف 2) شان نزول : ایک روز حضرت علی سے اور ایک شخص مشرک مکہ سے جس کا نام ولید بن عقبہ تھا تکرار ہوگئی۔ ولید نے حضرت علی سے کہا، تم میرے سامنے کے بچے ہو میں تم کو کیا سمجھتا ہوں، حضرت علی نے ولید بن عقبہ کو جواب دیا تو اللہ کا منکر کافر ہے میں تجھ کو کیا سمجھتا ہوں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayahs 32:19–20

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے پس ان کے لیے ہمیشہ بسنے کے باغ ہیں ، یہ مہمانی ان کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے ۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جو لوگ بےحکم ہیں پس ان کا ٹھکانا دوزخ ہے وہ لوگ جب اس میں سے باہر نکلنا چاہیں گے تو پھر اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ عذاب دوزخ (کے مزے) چکھو کہ جس کو تم جھٹلاتے تھے ۔

( ٖف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ کافروں کے لیے دنیا میں دکھ ، بیماری تنگی ، قحط سالی یہ طرح طرح کے عذاب ہیں تاکہ وہ اپنے کفر سے باز آویں ۔ اس پر بھی جو لوگ اپنے کفر سے باز نہ آئیں گے اور کفر کی حالت میں مرجائیں گے توعقبی میں ان کو طرح طرح کا عذاب ہے جس عذاب سے نہ ان کو موت ہے نہ کہیں بھاگنے کا موقع ہے، کس لیے کہ ان مجرموں کو اللہ کے کلام سے نصیحت کی باتیں سناتے ہیں تو یہ لوگ مکڑائیاں کرتے ہیں، مرنے کے بعد ان کی مکڑائیوں کا بدلہ ان کو اچھی طرح مل جائے گا۔
Ayahs 32:21–23

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور بیشک ہم ان کو کچھ نزدیک کا (یعنی دنیاوی) عذاب بھی اس بڑے (عذاب (یعنی آخرت) سے پہلے چکھا دیں گے تاکہ یہ لوگ باز آاویں۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے منہ پھیرلیا بیشک ہم (ایسے) مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور1 بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب (یعنی توریت) عطا فرمائی تو تم اس کے ملنے میں شک نہ کرو اور ہم نے موسیٰ کو بنی اسرائیل کے لیے ذریعہ ہدایت بنایا۔

نبی ﷺ کی اطاعت کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں نبی ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ کو بھی کتاب توریت عطا فرمائی تھی پھر آپ اے محبوب ﷺ اس کتاب کے ملنے میں شبہ نہ کیجئے کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں گمراہی بڑھ گئی تھی بنی اسرائیل کے لیے توریت نازل کی گئی ، اسی طرح آپ کے زمانہ میں تمام عالم گمراہ ہوگیا، ان کی ہدایت کے لیے آپ کو نبی بنانا اور آپ کو کتاب دینا ضروری ہوا نبی ﷺ کو اس میں کوئی شبہ نہ تھا قرآن مجید پاچکے تھے بلکہ یہ اور لوگوں کے لیے فرمایا کہ تم اس میں شبہ نہ کرو، بعض مفسرین فرماتے ہیں جیسا کہ مجاہدہ کلبی وسدی کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اے محبوب ﷺ ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی میں حضرت موسیٰ سے ملاقات کریں گے چناچہ شب معراج میں آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ سے ملاقات کی، جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے شب معراج میں چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ سے ملاقات کی، ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کی امت کا ذکر اس لیے فرمایا کہ قریش اچھی طرح سمجھ لیں کہ حضرت موسیٰ کی فرمانبرداری سے جس طرح بنی اسرائیل کو دین ودنیا کی دولت ملی اسی طرح قریش بھی اگر نبی آخرالزمان کی فرمانبرداری اختیار کریں گے تو دین ودنیا کی دولت پائیں گے اللہ تعالیٰ سچا ہے، اور اس کا وعدہ برحق ہے جو لوگ قریش میں سے مطیع اسلام ہوئے اور اللہ کے رسول کے فرمانبردار بن گئے جس طرح کی بادشاہت دنیا میں ان کو ملی ، اس سے تاریخ کی کتابیں بھری ہوئی ہیں اور جو مرتبہ ان کو عقبی میں ملے گا اس کے حال کے دو سچے گواہ ایک قرآن شریف اور دوسرا شریف موجود ہیں کیا للہ کی شہادت اور اللہ کے رسول کی شہادت سے بڑھ کر کوئی گواہی دنیا میں پیدا ہوسکتی ہے اب بھی جس کسی کو دین اور دنیا کی خوبی درکار ہو وہ سچے دل سے اللہ کے محبوب کی فرمانبرداری اختیار کرے پھر اللہ کے وعدہ کا ظہور جیسا جب تھا وہ اب بھی موجود ہے آگے فرمایا اللہ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا کہ جن باتوں میں وہ جھگڑا کرتے ہیں کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر ہے۔
Ayahs 32:24–26

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے (دن کے) پشیوا بنائے جو ہمارے حکم سے (لوگوں کو) ہدایت کیا کرتے تھے جبکہ انہوں نے (کافروں کی ایذاؤں پر ) پر صبر کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لائے۔

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا1 انہیں اس پر ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتیں ہلاک کردیں کہ آج ان کے رہنے کے مقاما پر یہ ولگ چل پھر رہے ہیں ، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں پس کیا یہ لوگ سنتے نہیں ( جو عبرت حاصل کریں)

(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ یہ مشرک اللہ کے رسول کو جھٹلانے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ رسول کو جھٹلانے کے جرم میں ان سے پہلے کتنی قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہم نے ہلاک کردی ہیں ان لوگوں کو یہ بات ظاہر نہیں ہوتی یہ جب ملک شام اور یمن کو سفر کرتے ہیں ان کے گھروں کی اجڑی ہوئی بستیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کو چاہے کہ ان کی حالت دیکھ کر ڈرجائیں پھر کس لیے نہیں سنتے پھر کیا اس سے ان کو ہدایت نہی ہوتی غور نہیں کرتے انکے بنانے والے کون تھے کہاں گئے ان کے دل میں کیا کیا امیدیں ہوں گی اسی طرح ایک دن تمہارے لیے ہے آگے فرمایا کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی زمین کو ہم پانی سے کس طرح شاداب کرتے ہیں اور نباتات پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے چارپائے بھوسہ اور وہ خود غلہ کھاتے ہیں کہ وہ دیکھ کر اللہ کے کمال قدرت پر استدلال کریں اور سمجھیں کہ جو قادر برحق خشک زمین سے کھیتی نکالنے پر قادر ہے۔
Ayahs 32:27–28

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ خود بھی (کھاتے ہیں) پس کیا وہ (اتنا بھی) نہیں دیکھتے۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور1 کافر کہتے ہیں : اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ (جس سے تم ہم کو ڈراتے ہو) کب ہوگا۔

(ف 1) شان نزول : صحابہ کرام نبی ﷺ سے سن کر مشرک لوگوں سے کبھی کبھی بات چیت کے وقت کہا کرتے تھے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہوگا اور شرک سے مکہ بالکل پاک ہوجائے گا اور مسلمانوں کو مشرکوں کے شرک کا کھٹکا بالکل نہ رہے گا، اور اللہ کے رسول کے کلام کی تصدیق پوری ظاہرہوجائے گی پھر دنیا کے ختم ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہوں گے اور اس دوبارہ زندگی میں مسلمان عزت سے رہیں گے اور مشرک ذلت و خواری سے مشرک لوگ مسلمانوں کو جواب دیا کرتے تھے کہ آخر بتلاؤ تو سہی کہ یہ کب اور کون سے دن ہوگا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی بعض مفسروں نے اس سے فتح بدر مراد لی ہے بعضوں نے فتح مکہ حضرت عبداللہ بن عباس کے مشہور شاگرد مجاہد نے کہا کہ اس فتح کے دن اہل اسلام کی عزت ہوگی ان کی شفاعت قبول ہوگی ان کو جنت کی نعمتیں ملیں گی اور مشرک اس دن طرح طرح سے خوار ہوں گے دنیا میں پھر آنے اور اسلام پر قائم رہنے کا وعدہ کریں گے مگر اس دن نہ ان کی کوئی ندامت کام آئے گی نہ ان کے اسلام لانے کا وعدہ قبول ہوگا، اور اگر فیصلہ کے دن سے روز بدر یا روز فتح مکہ مراد ہو تو معنی یہ ہوگا کہ جبکہ عذاب آجائے اور وہ لوگ قتل ہونے لگیں، تو حالت قتل میں ان کا ایمان لانا قبول نہ کیا جائے گا اور نہ عذاب موقوف کرکے انہیں مہلت دی جائے گی (ابن جریر، جمل وغیرہ) ۔
Ayahs 32:29–30

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی ۔

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

پس ان سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو بیشک وہ بھی منتظر ہیں۔

(ف 1) اے محبوب ﷺ آپ ان منکرین حشر سے کنارہ کرلیں کچھ بحث نہ کریں اور ان کی عقلی حجتوں کا کچھ خیال نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اس دن کا انتظار کریں اور ان لوگوں کو بھی اس کا انتطار کرنا چاہے، وقت مقررہ پر وہ دن سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا فرمایا کہ جس طرح ہر ایک آدمی کی عمر کی مدت مقرر ہے۔