31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 31:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ1 حکمت والی کتاب (یعنی قرآن) کی آیتیں ہیں۔

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو نیک کام کرنے والوں کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ قرآن ان کے حق میں رحمت ہے نیک کام کرنے والے محسنین وہ لوگ ہیں جو شریعت کے تابع ہوکر اچھے عمل کرتے ہیں ۔ مثلا نماز کو اس کے وقتوں پر فرض ہو یا سنت سب کو اچھی طرح ادا کرتے ہیں اور ایسے زکوۃ کو جو اس کے مستحق ہیں ان کو دیتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں اور آخرت کی جزاوسزا کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ سے آخرت کے ثواب کی امید رکھتے ہیں دنیا کے دکھاوے کو کسی نیک عمل میں ریاکاری نہیں کرتے، خالص عقبی کے اجر کی نیت سے جو لوگ کرتے ہیں انہیں کو فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں راہ راست پر ہیں جس کے سبب سے آخرت میں ان ہی کو کامیابی ہے۔
Ayahs 31:3–6

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

جو ہدایت اور رحمت ہے نیکوں کے لیے ۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے پروردگار کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور1 کچھ لوگ ایسے ہیں جو کھیل کی بات (یعنی قصے کہانیاں خلاف شرع) خریدتے ہیں کہ بےسمجھے لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکا ویں اور اللہ کی راہ کو ٹھٹھا بنا لیں، یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے لیے ذلیل کرنے الا عذاب ہے ۔

(ف 1) شان نزول : یہ آیت نظر بن حارث بن کلاہ کے حق میں نازل ہوئی جو تجارت کے سلسلہ میں دوسرے ملکوں میں سفر کیا کرتا تھا اس نے عجمیوں کی کتابیں خریدیں، جس میں قصے کہانیاں تھیں وہ قریش کو سناتا تھا اور کہتا کہ سید کائنات محمد ﷺ تمہیں عاد اور ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں رستم اور اسفند یار اور شاہان فارس کی کہانیاں سناتا ہوں کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہوگئے اور قرآن کی نصیحت کی باتیں سننے سے رہ گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ وہ خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی بہکا کر گمراہی کا راستہ دکھاتے ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں پر دوہرا عذاب ہوگا ذاتی گمراہی کا جدا اور لوگوں کو بہکانے کا جدا، کیونکہ بہ نسبت اکہرے عذاب کے دوہرے عذاب میں جو ذلت کی زیادتی ہے ظاہر ہے۔
Ayah 31:7

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو تکبر کرتا اور منہ پھیر لیتا ہے گویا اس2 نے سناہی نہیں، جیسے اس کے کانوں میں ڈاٹ ہے ، پس اس کو عذاب درد دینے والے کی خبر سنا دو ۔

جنتیوں کے انعام کا ذکر۔ (ف 2) اوپر کی آیتوں میں جن لوگوں کا ذکر تھا انہی کو فرمایا، کہ ایسے لوگوں کے روبرو جب قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ اپنی مالداری کے غرور میں پیٹھ موڑ کر اس طرح ٹل جاتے ہیں کہ گویا وہ بہرے ہیں ، اس واسطے فرمایا، اے محبوب تم ایسے ہر شخص کو دکھ دینے والے اس عذاب کی خبرسنادو جو قیامت کے دن اس پر کیا جائے گا حاصل یہ ہے کہ جس طرح وہ اللہ کی کتاب سے اور اس کے محبوب سے گستاخی کرکے اللہ کے رسول کو رنج دیتا تھا اسی طرح اللہ اس کو قیامت کے روز رکھ دینے والے عذاب میں ڈالے گا، اب آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان لوگوں کا حال جو اللہ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں ان کو بڑی رغبت و توجہ سے سنتے ہیں اور ان سے بڑے برے فائدے اور نفع حاصل کرتے ہیں ۔ چنانچہ رمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی حکموں پر ایمان لائے اور تمام پیغمبروں کے رسول ہونے کی تصدیق کی اور شریعت کے مطیع ہوکراچھے عمل کیے ان کے واسطے نعمتوں کے باغ ہیں جس میں انواع اقسام کی لذتیں اور طرح طرح کی خوشبوئیں ہیں ان کے اندر ہمیشہ ہمیشہ چین اور مزے لیں گے عمدہ عمدہ لطیف کھانے اور پینے کی چیزیں اور پوشاک و لباس قسم قسم کے پہنیں گے اور بڑے بڑے عالی شان مکان میں رہیں گے اور پاکیزہ بیبیاں ان کی ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی اللہ کا وعدہ سچا ہے کیونکہ وہ وعدہ کے خلاف کبھی نہیں کرتا، اس لیے اس کی ذات بڑی کریم ورحیم ہے اور وہ زبردست عزت والا اور حکمت والا ہے پھر فرمایا کہ خدائے حکیم نے آسمانوں کو بغیرستونوں کے بنایا، جن کو تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو، زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی سورة رعد میں گزرچکی ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین پر بوجھ بھاری پہاڑوں کے ڈالے تاکہ بوجھل ہوجائے اور تم کو لے کر ادھرادھر نہ ہلائے اور پھیلائے ، اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر طرح طرح کے حیونات جن کی تعداد سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، پیدا کیے۔ پھر فرمایا کہ اتاراہم نے آسمان سے پانی ، پھر اگائے ہم نے زمین میں اس کے سبب ہر قسم کے جوڑے خوشنما اور عمدہ، یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انعام اور فضل ہے۔
Ayahs 31:8–11

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کہ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے نعمت کے باغات ہیں۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ان میں ہمشیہ رہیں گے اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے ۔

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو بغیر ستون کے پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین میں پہاڑ (کے لنگر) ڈالے تاکہ تم کو ادھر ادھر نہ ہلائے اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگائے ۔

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ1 (سب) اللہ کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں پس تم مجھے دکھاؤ کہ اس کے سوا اوروں نے کیا کیا چیزیں پیدا کیں، بلکہ یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں۔

(ف 1) اس آیت میں مشرکوں کو قائل کیا ہے کہ اللہ کی قدرت سے تو یہ سب کچھ پیدا ہوا ہے اسی واسطے اللہ کے رسول یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں ہے کیونکہ معبود تو وہ ہے جس میں قدرت ہیے وہ اپنی قدرت کے سبب سے اپنے عبادت کرنے والوں کو فائدہ پہنچاسکتا ہے تم جو اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہو، اور اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے ہیں اور قرآن شریف کی نصیحت کے سننے سے جان بوجھ کر بہرے بنتے ہو تو بتلاؤ تو تمہارے جھوٹے معبودوں نے ان چیزوں میں کیا چیز پیدا کیا ہے اور جب تما پنے جھوٹے معبودوں کی پیدا کی ہوئی کوئی چیز ایسی نہیں بتلاسکتے جس سے تم کو آخرت یا دنیا میں کسی طرح کا فائدہ پہنچے تو معبودوں کو کہاں سے یہ حق حاصل ہوگیا کہ تم ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو پس یہ ظالم نافہم کھلی گمراہی میں ہیں۔
Ayah 31:12

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور2 بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی (اور ہم نے کہا) کہ اللہ کا شکر کر اور جو شخص شکر کرتا ہے تو وہ اپنے نفع کے لیے شکر کرتا ہے اور جو کوئی ناشکری کرتا ہے پس بیشک اللہ بےپرواہ تعریف والا ہے ۔

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے لقمان کو حکمت دی یعنی عقل کی راہ سے وہ باتیں کھولیں جو پیغمبروں کے موافق ہوں، حضرت داؤد (علیہ السلام) سے پہلے فتوی دیا کرتے تھے جب حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نبوت اتری تو انہوں نے فتوی دینا چھوڑ دیا، اور کہا کہ جب اللہ نے مجھ کو سبکدوش کیا پھر کیوں نہ میں سبکدوش ہوجاؤں، ان سے پوچھا گیا کہ سب میں برا شخص کون ہے جواب دیا گیا کہ لوگ اسے گناہوں میں پھنسا ہوا دیکھیں اور اس کو ذرا بھی پروانہ ہو، ہم نے اس سے کہا کہ خدا نے جو تم کو حکمت عطا کی ہے اس کا شکر ادا کرو، اور جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی نفع کے واسطے کرتا ہے کیونکہ اس کا ثواب تو وہی پائے گا اور جو اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے تو سمجھ لو کہ اللہ کو کچھ پرواہ نہیں اس کے کام سب اچھے ہوتے ہیں اور یاد کرو جس وقت کی لقمان نے اپنے بیٹے کی نصیحت کرنے میں یہ بات کہی کہ اے پیارے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک مت بنانا کیونکہ شرک تو بڑا ظلم ہے وہ اس نصیحت کے سنتے ہی سمجھ گیا اور ان کے حکم پر عمل کیا۔
Ayahs 31:13–14

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ نصیحت کرتا تھا : اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور1 ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے (اطاعت کے) بارے میں تاکید فرمائی، (کیونکہ) اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری اٹھائی اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹنا ہے یہ کہ میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کیا کر، آخر (سب کو) میری طرف لوٹ کر آنا ہے ۔

حقوق والدین۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرے باپ کے احسان تو ہوش کے زمانہ میں ظاہر ہوتے ہیں کھلاتا پہناتا ہے ماں کے احسان اس کے عالم بیخبر ی میں اس سے بڑھ کر تھے، اس لیے ان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں رکھا، ضعیف پر ضعف اٹھائے کس لیے کہ جوں جوں حمل بڑھتا جاتا ہے ضعف زیادہ ہوتا جاتا ہے اور دو برس تک اس کے پاس رہا جدا نہ ہوا، دودھ پلاتی اور ساتھ سلاتی رہی، اللہ نے خاص طور پر ماں کی محنت مشقت کا اس لیے ذکر کیا کہ بچہ ماں کے احسانوں کو نہ بھولے، ماں کو حق جتلانے کے بعد انسان کو فرمایا کہ اللہ کا اور اپنے ماں باپ کا شکر کر، تجھ کو میرے پاس دوبارہ زندہ ہوکر آنا ہے۔ اس وقت میں تجھ کو پورابدلہ شکر کرنے کا دوں گا فرمایا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ان کاموں میں سے ہے جو اللہ کو بہت پسند ہیں اسی واسطے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کا ذکر فرمایا اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ماں باپ کا بڑاحق ہے پھر فرمایا کہ اگر ماں باپ تجھ سے شرک کرنے پرزورڈالیں تو ان کا کہنا ہرگز نہ ماننا، کیونکہ شرک ایسی بےسند چیزیں جس کا پتہ دنیا میں کسی کو معلوم نہیں، اسی لیے بارے میں ماں باپ کی پیروی مت کرنا، ہاں معاملات دنیا میں تو ان کا ساتھی رہ اور ان کے ساتھ سلوک کرتارہ، دین میں ان لوگوں کی پیروی کرنا جو ایمان والے لوگ ہیں، آخر تم سب کو اللہ کے پاس جزواسزا کے لیے آنا ہے پھر میں تم کو بتلادوں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔
Ayahs 31:15–16

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ دونوں تجھے اس بات کا زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرا جس کا تجھے علم نہیں ہے تو ان کا کہنا نہ مان اور (ہاں) دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دے، اور اس شخص کی پیروی کر جو میری طرف رجوع لایا پھر میری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے ۔ پس میں تم کو بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے تھے ۔

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(لقمان نے کہا)1 اے میرے بیٹے ! اگر برائی رائی کے دانہ برابر ہو پھر وہ کسی پتھر کے درمیان میں یا آسمانوں میں یا وہ زمین کے اندر کہیں ہو اللہ اس کو (قیامت کے دن) لے آئے گا، بیشک اللہ ہر باریکی کا جاننے والا خبردار ہے ۔

حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت۔ (ف 1) لقمان اپنے بیٹے سے کہتے ہیں، اے میرے بیٹے ، اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو اور وہ پتھر میں یا آسمان یا زمین میں کہیں ہو جزا وسزا کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو حاضر کرے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا اور خبررکھنے والا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی ٹھوص پتھر میں گھس کر عمل کرے تو بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو، فرمایا کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ وصیت کی نماز کو اس کے ارکان، اوقات کے ساتھ قائم رکھنا، اور لوگوں کو موافق شرع نصیحت کرنا اور خلاف شرع سے منع کرنا اور اس نصیحت کے کرنے میں کچھ تکلیف لوگوں کی طرف سے پہنچے تو صبر کرنا، کیونکہ صبر بڑی ہمت کی چیز ہے اور تم تکبر نہ کرنا، اور بڑائی نہ مارنا، اور ایسا مت کرنا، کہ خدا کے بندوں کو حقیر سمجھو اور جب وہ تم سے بات کریں تو ان سے غرور نہ کرنا پھر فرمایا زمین میں اترا کر مت چلو، کیونکہ وہ تکبر کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا، اور اپنی چال درمیانی اختیار کرنا نہ بہت تیز، نہ بہت آہستہ، بلکہ نہایت اطمینان کے ساتھ چلنا، اور باتوں میں اپنی آواز نرم لیاکرو، بیشک بری سے بری آواز گدھے کی آواز ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم گدھے کی آواز سنو تو اللہ سے پناہ مانگو اس لیے کہ گدھا شیطان کو دیکھ کر چلاتا ہے اور جب تم مرغ کی آواز سنو تو اپنے حق میں بہتری کی دعا کرو کیونکہ وہ اللہ کے فرشتوں کو دیکھ کر بولتا ہے مطلب یہ ہے کہ مرغ کی آواز سن کر جو کوئی دعا مانگے گا تو فرشتے جو مرغ کو نظرآتے ہیں وہ آ میں کہیں گے اور ان کی آمین کی برکت سے عجب نہیں کہ وہ دعاقبول ہوجائے۔
Ayahs 31:17–20

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

اے میرے بیٹے ! نماز قائم کو رکھ اور اچھی باتوں کی نصیحت لوگوں کو کر اور بری باتوں سے منع کر اور تجھ پر جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کر، بیشک یہ ہمت کے کام ہیں،

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور اپنے رخساروں کو (تکبر ) سے لوگوں کی طرف سے مت پھیر اور زمین میں اترا مت چل، بشیک الل کسی اترانے والے اپنی تعریف کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست کر بیشک سب آوازوں میں بری (یعنی مکروہ) گدھے کی آواز ہے ۔

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

(اے لوگو) کیا1 تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اس نے تمہیں اپنی نعمتیں ظاہر اور پوشیدہ بھر پور دیں، اور بعضے آدمی ایسے ہیں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے، اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔

(ف 1) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں مثلا سورج ، چاند، مینہ، زمین میں کھیتی باغ انسان کی یہ سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں، اس پر بھی بعض ناشکر لوگ ایسے ہیں کہ بغیر علم کے اور بغیر ہدایت اور بغیرروشن کتاب کے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں طرح طرح کی حجتیں نکالتے ہیں۔
Ayah 31:21

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب1 ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں کہ (یہ ہم نہ کریں گے) بلکہ ہم اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، کیا اگرچہ ان کو شیطان دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (جب بھی ان کی ہی پیروی کریں گے) ۔

(ف 1) فرمایا کہ ان مشرکوں سے جب اللہ کی کتاب پر چلنے کو کہاجاتا ہے تو یہ نادان کہتے ہیں کہ یہ ہم نہ کریں گے بلکہ ہم بتوں کی پیروی کریں گے جس کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے اس کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ کیا یہ لوگ باپ دادا کی چال چلیں گے اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو، مطلب یہ ہے کہ ان کے باپ دادا شیطان کے پیروکار اور گمراہ ہوں تو کیا جب بھی یہ ان کا طریقہ اختیار کریں گے یہ عقل سے بہت بعید ہے۔
Ayah 31:22

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور2 جو کوئی اپنا رخ خدا کی طرف جھکا دے اور ہو نیکی کرنے والا، تو بیشک اس نے مضبوط دستاویز تھامی، اور ہر ایک کام کی انتہا خدا ہی کی طرف ہے ۔

اللہ کریم کی صفات۔ (ف 2) ان آیتوں میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم پرچلتے ہیں اور اس کے بعد اس دلی ارادہ کے مطابق نیک کام کریں تو ان لوگوں نے بڑی مضبوط رسی کو پکڑ لیا ہے یعنی نجات کا بڑا قوی ذریعہ ان کے ہاتھ آگیا ہے اللہ ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا پھر فرمایا جو شخص اللہ کے حکم پر نہ چلے تو اے محبوب ان کے کفر پرنج نہ کرنا چاہیے کیونکہ ان سب کو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے اس وقت ہم ان کو ان کے عملوں کو جتلادیں گے اور سزا دیں گے ، بیشک اللہ تعالیٰ کو دلوں کی باتیں خوب معلوم ہیں اس پر کچھ پوشیدہ نہیں ہے پھر فرمایا ہم تھوڑے دنوں دنیا میں ان کو کچھ عیش دے رہے ہیں جب تک وہ زندہ ہیں پھر ہم آخرت میں ان کو ایسے عذاب میں گرفتار کریں گے جس سے وہ ہرگز نہیں چھوٹ سکتے۔ اور اگر مشرکوں سے سوال کرو کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے مطلب یہ ہے کہ وہ مشرک اس بات جانتے ہیں کہ سب کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے کوئی اس کا شریک نہیں سب خوبیاں اللہ ہی کو ہیں جس نے تم سے اپنی توحید کا اقرار کرایا باوجود مشرک ہونے کے خود مشرکوں کے اقرار سے ان پر الزام ثابت ہوگیا، پھر ایسے جاہل ہیں کہ بتوں کو معبود جانتے ہیں پھر فرمایا کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے وہ سب اللہ کی ملک ہے پس وہی عبادت کا مستحق ہے بیشک اللہ ہی بےپروا تعریف والا ہے پس جو شخص نے اسلام کو مرتے دم تک مضبوط پکڑا اس نے گویا نجات کی رسی حاصل کرلی۔
Ayahs 31:23–27

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کوئی کفر کرے تو تم اس کے کفر سے غم نہ کھاؤ اور ان کو تو ہمارے ہی طرف لوٹنا ہے پس ہم ان کو بتلا دیں گے جو وہ کرتے تھے بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے ۔

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو (دنیا میں) چند روزہ عیش دیں گے، پھر ہم انہیں بےبس کر کے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے ۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے تم فرماؤ : سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے ، بیشک اللہ ہی بےنیاز تعریف کیا گیا۔

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور1 اگر یہ ہو کہ جس قدر زمین میں درخت ہیں وہ سب قلمیں بن جائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہوجائے اس کے بعد سات سمندر اور (سیاہی کے ہوں) تو اللہ کی باتیں (یعنی صفتیں) ختم نہ ہوں گی، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا اگر تمام روئے زمین کے درخت قلم بنائے جائیں اور ساتوں سمندر کی سیاہی بناکر اس کی معلومات کو لکھنا چاہیں جب بھی اس کی کلمات یعنی معلومات ختم نہ ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی باتیں تو بےانتہا ہیں وہ سب پر غالب ہے اور سب کو جانتا ہے۔
Ayah 31:28

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

تم1 سب کا پیدا کرنا اور (مرے پیچھے یعنی مرنے کے بعد) اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک جان کا، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔

(ف 1) مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوقات کا پیدا کرنا اور بعد مرنے کے پھر اس کا زندہ کرنا اللہ کی قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہیں ہے بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک جان کا پیدا کرنا اور جلانا ہے کس لیے کہ سب کا موجود کرنا فقط کن کے کہنے سے ہوجاتا ہے وہ قادر مطلق ہے جب ارادہ کرتا ہے کسی شے کا تو فرماتا ہے ہوجا، وہ ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ سننے والا ہے ، اور سب کے عملوں کو دیکھنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حشر کے منکر جو باتیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سننے والا ہے ۔ اور حشر کو جھٹلاکرجس طرح کے کاموں میں مصروف ہیں ان سب کی اللہ کو خبر ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جب ایک کلمہ کن کے ساتھ ہی یہ حشر کے جھٹلانے والے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے اور ان کی گستاخی کی زبانی باتیں اور ہاتھ پاؤں کے بداعمال سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا تو اس وقت ان کو حشر کے جھٹلانے کی حقیقت کھل جائے گی اب آگے اللہ اپنی اس قدرت سے آگاہ فرماتا ہے کہ کہ اللہ بڑھادیتا ہے رات کو دن میں، اسی طرح کچھ حصہ رات کا دن میں داخل کرتا ہے جس سے دن بڑا ہوجاتا ہے اور رات چھوٹی ہوجاتی ہے یہ گرمی کے موسم کا حال ہے پھر دن کم ہوجاتا ہے اور رات لمبی ہوتی ہیے یہ بات جاڑے کے موسم میں ہوجاتی ہے پھر فرمایا کہ کام میں لگارکھا ہے سورج کو چاند کو، کہ ہر ایک ان میں سے ایک خاص وقت یعنی قیامت تک اپنا اپنا دورہ کیے جائے گا ان حدیثوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ دنیا کا کل انتظام ایک وقت مقررتک کا ہے ، ہمیشہ کے لیے نہیں جو لوگ دنیا کی اس ناپائدار زندگی پر عیش میں ہیں وہ بڑے دھوکے میں ہیں ، اللہ تعالیٰ اس سے خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو پھر فرمایا کہ جب وہ ایسا صاحب قدرت ہے تو وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا تم جس چیز کو پوجتے ہو وہ سب بےاصل ہے وہ ایسی ذات برتروبلند ہے کوئی چیز اس سے بلند نہیں ہے اور وہ ایسابڑا ہے کہ سب چیزیں اس کے روبرو عاجزی کرنے والی ہیں۔
Ayahs 31:29–31

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

(اے مخاطب) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن کے حصہ میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات کے حصہ میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کام میں لگائے، ہر ایک ایک اپنے مقرر میعاد تک چلتا ہے اور یہ کہ اللہ تمہارے سب کاموں سے خبردار ہے ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ بسبب اس کے ہے یہ کہ اللہ ہی حق ہے اور جن چیزوں کو اللہ کے سوا یہ لوگ پوجتے ہیں سب بےاصل ہیں، اور یہ بسبب اس کے ہے کہ اللہ ہی بلند مرتبہ بزرگ قدر والا ہے ۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

(اے مخاطب1) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی کے فضل سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو نشانیاں دکھائے، بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے شکر گزار کے لیے نشانیاں ہیں۔

توحید کابیان۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا دریا میں کشتیاں چلتی ہیں تاکہ تم اپنی قدرت کی نشانی دکھائے کہ دریا کہ تمہارا تابعدار بنادیا ہے یہ اس کی مہربانی ہے اگر اللہ تعالیٰ پانی میں یہ طاقت پیدا نہ کرتا کہ کشتی اٹھائے تو کبھی پانی پر کشتیاں نہ چلتیں، پھر فرمایا اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے، شکر کرنے والے کے لیے ، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کے شکرگزار ہیں اور خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور تکلیف پر صبر کرتے ہیں تو یہ صفتیں مومن کی ہیں ، ایسوں کے لیے اللہ کی قدرت کی باتوں میں بڑی نشانیاں ہیں۔
Ayah 31:32

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور2 جب ان کو دریا کی موجیں سائبانوں کی طرح گھیر لیتے ہیں تو وہ خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارتے ہیں، پھر جب ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچا دیتا ہے رہتے ہیں اور ہماری آیتوں کے بس وہی لوگ منکر ہوتے ہیں جو بد عہد اور ناشکر ہیں۔

(ف 2) شان نزول : یہ آیت عکرمہ بن ابی جہل کے حق میں نازل ہوئی جس سال مکہ مکرمہ فتح ہوئی تو وہ سمندر کی طرف بھاگ گئے وہاں باد مخالف نے گھیرا اور خطرے میں پڑگئے توعکرمہ نے کہا کہ اگر اللہ ہمیں اس خطرہ سے نجات دے تو میں ضرورنبی ﷺ کی اطاعت کروں گا اللہ تعالیٰ نے کرم کیا ہواٹھہرگئی اور عکرمہ مکہ مکرمہ کی طرف آگئے اور اسلام لائے اور بعض ان میں سے ایسے بھی تھے جنہوں عہدوفا نہیں کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 31:33

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اے لوگو !1 اپنے پروردگار سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو کہ جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے کام آوے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کو کچھ نفع دے گا (روز قیامت ہر انسان نفسی نفسی کہتا ہوگا) بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے ، پس تم کو دنیا کی زندگی دھوکہ نہ دے اور تمہیں دھوکہ باز شیطان اللہ کے علم پر فریب نہ دے۔

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈروجس دن ہر انسان، نفسی نفسی، کہتا ہوگا، یعنی کسی ظالم نے جس قدر ظلم کسی مظلوم پر کیا ہے اس ظلم کے حساب سے کچھ ثواب اس ظالم کی نیکیوں کا مظلوم کو دلایاجائے گا اور اگر اس طرح کے معاوضہ میں نیکیاں اور نیکوں کا ثواب کم پڑجائے گا تو ظلم کے حساب سے مظلوم کے گناہوں کا عذاب ظالم کو بھگتنا پڑے گا، اس ظلم اور زیادتی کے معاوضہ اور بدلہ کو باپ بیٹے اور بیٹا باپ کی شکل سے گھبراوے گا کہ کہیں باپ کی بیٹے پر یا بیٹے کی باپ پر کچھ زیادتی نہ نکل آئے۔ اور اس زیادتی کے بدلہ میں ایک کی نیکیاں دوسرے کے پاس نہ چلی جائیں اور نہ کافروں کی مسلمان اولاد، نہ مسلمان ماں باپ کافر اولاد کو فائدہ پہنچائیں گے اور وہ دن ضرورآنا ہے اور قیامت اور حساب کا وعدہ ضرور پورا ہونا ہے سو تم کو دنیا کی زندگی نہ بہکاوے کہ نعمت ایمان سے محروم رہ جاؤ، اور نہ شیطان کا دھوکا خدا کی یاد سے غافل کرے۔
Ayah 31:34

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader

بیشک2 اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ حاملہ کے پیٹ میں ہے ، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کام کرے گی، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین پر مرے گی، بیشک اللہ سب باتوں کا جاننے والا بتانے والا ہے ۔

علم غیب کا ذکر۔ (ف 2) شان نزول : یہ آیت حارث بن عمر و کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر قیامت کے وقت کا دریافت کیا اور یہ کہا تھا کہ میں نے کھیتی بوئی ہے خبر دیجئے کہ مینہ کب آئے گا اور میری عورت حاملہ ہے، مجھے بتائیے کہ اس کے پیٹ میں کیا ہے لڑکا یالڑ کی ، یہ تو مجھے معلوم ہے کہ کل میں نے کیا کیا، یہ مجھے بتائیے کہ آئندہ کل کو کیا کروں گا، یہ بھی میں جانتا ہوں کہ میں کہاں پیدا ہوا، مجھے یہ بتائیے کہ میں کہاں مروں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے بتائے ان چیزوں کا علم کسی کو نہیں، اور اللہ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے بتائے ، اور اپنے پسندیدہ رسولوں کو بتانے کی خبراس نے سورة جن کی آیت میں دی ہے ، اس کا مفصل بیان سورة الاعراف میں گزرچکا ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔