30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 30:1–2

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

ف 1 والے نزدیک کی زمین (یعنی ملک شام) میں مغلوب ہوگئے۔

(ف 1) شان نزول : روم میں پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی بادشاہت تھی، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے بادشاہ رہے پھر ان میں ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا، نصرانی ہوگیا، اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا، اور بارہ ہزار کے قریب گرجابنائے اور بہت سے قانون جاری کیے اور اسی کے زمانے میں دین عیسائی کی بہت باتوں میں ردوبدل ہوگیا، غرض اس کے زمانہ سے روم کے ملک میں نصرانی بادشاہت شروع ہوئی اسی سلسلہ کا جب ہر قل بادشاہ تھا اس سے اور ملک فارس سے جس کالقب کسری تھا اور لڑائی ہوئی اور کسری کی فوج ہر قل کی فوج پر غالب آئی، یہ وہ زمانہ تھا کہ جس وقت نبی ﷺ مکہ میں تھے اور ابھی تھورے لوگ مسلمان ہوئے تھے کسری کو فتح سن کر مکہ کے مشرک لوگوں نے مسلمانوں سے یہ کہا کہ جس طرح تم اپنے آپ کو آسمانی کتاب کا پیرو اور پابند بتلاتے ہو اسی طرح ملک روم کے لوگ نصرانی ہیں اور جس طرح ہم لوگوں کو تم مشرک بتلاتے ہو پارسی لوگ بھی ویسے ہی ہیں آخر ان کا ہی دین غالب رہا اور وہی رومیوں پر غالب آئے اے مسلمانوں اسی طرح ہم بھی تم پر آخرکوغالب آئیں گے یہ خبر سن کر حضرت صدیق اکبر نے نبی سے ذکر کیا کہ مشرک لوگ یوں کہتے ہیں آپ نے فرمایا کہ نو برس کے بعد پھر رومی لوگ پارسیوں پر غالب آئیں گے اور آپ کے کلام کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اور حضرت ابوبکر صدیق نے کفار مکہ میں جاکر اعلان کردیا، کہ خدا کی قسم، رومی ضرور اہل فارس پر غلبہ پائیں گے، اے اہل مکہ تم اس وقت کے نتیجہ جنگ سے خوش مت ہو، ہمیں ہمارے نبی نے خبردی ہے تو ابی بن خلف کافر آپ کے مقابلہ میں کھڑا ہوگیا اور سوسواونٹ کی شرط ہوئی آخر نو برس کے بعد رومی پارسیوں پر غالب ہوئے اور ابوبکر وہ شرط جیت گئے، اس آیت جو ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس روز مسلمان خدا کی مدد سے اپنی فتح کی خوشی منائیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ اللہ کی طرف فرشتوں کی مددآن کر بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو مشرکین مکہ پر فتح حاصل ہوئی اور بڑے بڑے سرکش خاک میں مل گئے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ جس بات کا وعدہ کرلے وہ کبھی خلاف نہیں ہوتا، لیکن جن لوگوں کا بھروسہ دنیا کے اسباب ظاہری پر ہے، وہ اللہ کے وعدہ پر بھروسہ رکھنا نہیں چاہتے کیونکہ وہ لوگ تو دنیا کی زندگی پر گرویدہ اور آخرت کی جزاوسزا سے بالکل غافل ہیں۔
Ayahs 30:3–8

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

اور وہ اپنے (اس) مغلوب ہوجانے کے بعد عنقریب چند سال میں (اہل فارس پر) غالب ہوں گے ۔

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

حکم اللہ ہی کا ہے پہلے اور پیچھے بھی، اور اس دن مسلمان اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے ۔

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

وہ جسے چاہے مدد دیتا ہے اور وہی ہے غالب مہربان۔

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

اللہ کا وعدہ ہے اللہ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں۔

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

وہ لوگ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں اور آخرت سے بیخبر ہیں۔

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا1 انہوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ کہ ان دونوں کے درمیان ہے ، درست تدبیر ہی سے اور ایک وقت مقررہ تک کے لیے پیدا کیا ہے ، اور بیشک بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں۔

قیامت کے منکرین کا حشر۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غوروفکر کریں، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے اس کے سوا کوئی پوجنے کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات کا پالنے والا ہے، یہ ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ لوگ اپنے دلوں میں نہیں سوچتے کہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کی مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غورکریں تو اچھی طرح جان لیویں کہ یہ تمام مخلوق بیکار پیدا نہیں کی گئی ہے، بلکہ نیک وبد کی جزاوسزا کے لیے پیدا کی گئی ہے اور ایک مدت معین تک اس کی میعاد مقرر کی گئی ہے اور وہ قیامت کا روز ہے لیکن اکثر لوگ اپنے رب کے روبرو کھڑے ہونے کے منکر ہیں ، یہ نہیں سمجھتے کہ جب یہ لوگ مثلاکھیتی کرتے ہیں تواناج کے فائدہ کی نیت سے ، اور باغ لگاتے ہیں تو میوہ کھانے کے ارادے سے پھر اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی مخلوقات کیا بغیر کسی نتیجہ کے پیدا کی ہے نہیں نہیں بلکہ نتیجہ اس کا وہی جزاوسزا ہے جس کے موافق اللہ کے رسول نصیحت کرتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ جو کچھ احکام ہمارے رسول لائے وہ حق ہیں جنہوں نے ان کو جھٹلایا خدا نے ان کو ہلاک کردیا، اس واسطے فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی، تاکہ ان کو معلوم ہوجاتا کہ کیا حال ہوا ان پہلی امتوں کا جوان سے زور اور قوت میں زیادہ تھیں، اور بہ نسبت ان کے انہوں نے زمین کو بھی کھیتی اور عمارت سے زیادہ آباد کیا تھا، باوجود اس کے جب ان کے پاس ان کے رسول معجزے لے کر پہنچے، اور وہ اپنی دولت اور قوت کے گھمنڈ میں اللہ کے رسول کو جھٹلانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا، پھر خدا کے عذاب سے کوئی ان کو بچانے والا نہ ہو اس عذاب کے نازل کرنے میں اللہ نے کچھ ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے احکام کو جھٹلاتے تھے اس لیے انجام کار ان لوگوں کا جنہوں نے برا کام کیا تھا، براہی ہوا کہ دنیا میں وہ لوگ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور آخرت کا عذاب جدابھگتیں گے، اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ نے پہلی بار مخلوقات کو جس طرح پیدا کیا ایسا ہی دوبارہ پیدا کرے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلی بار پیدا کرنے پر وہ قدرت رکھتا ہے اسی طرح مرنے کے بعد پھر جلانے پر قادر ہے پھر قیامت کے روز تم سب اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اس وقت ہر ایک اپنے عمل کا بدلہ پائے گا اور جس روز قیامت قائم ہوگی، اس دن مجرم لوگ ناامید اور آس ٹوٹے رہ جائیں گے، بعض مفسرین نے یہ معنی بیان کیے ہیں کہ ان کا کلام منقطع ہوجائے گا وہ ساکت رہ جائیں گے کیونکہ ان کے پاس پیش کرنے کے قابل کو کوئی حجت نہ ہوگی۔
Ayahs 30:9–14

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں سفر ہیں کیا تاکہ دیکھتے کہ کیسا برا نجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے وہ ان سے زیادہ زور اور تھے اور انہوں نے زمین کو (بویا) جوتا اور آباد کی ، ان کی آباد سے زیادہ اور ان کے پیغمبر معجزے لائے (مگر انہوں نے نہ مانا) پس اللہ کی شان ایسی نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا و لیکن وہ لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ۔

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ ٹھٹھا کرتے تھے ۔

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

اور اللہ ہی مخلوق کو اول بار پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت قئام ہوگی اس دن مجرم لوگ ملزم ہوکر خاموش رہیں گے (یعنی ناامید ہوجائیں گے) ۔

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں کے غیر معتقد ہوجائیں گے ۔

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس1 دن قیامت قائم ہوگی اس دن مومن اور کافر ایک دوسرے سے جدا جدا ہوجائیں گے ۔

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن نیک وبد ہر قسم کے لوگ الگ کردیے جائیں گے پھر مومن اور کافر کبھی جمع نہ ہوں گے جس طرح دنیا میں نیک وبد سب ایک جگہ مل کر رہتے ہیں اور علیحدہ علیحدہ اپنے ٹھکانے پر پہنچادیے جائیں گے یعنی جو لوگ جنتی ہیں جنت میں اور جو لوگ دوزخی ہیں دوزخ میں چلے جائیں گے اس کے بعد جن گناہ گاروں کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ نبی ﷺ کی شفاعت سے دوزخ سے نکل آئیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب ارحم الراحمین کی باری ہے یہ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے عمر بھی کوئی نیک کام نہ کیا، لپ بھر دوزخ سے نکالے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا اب دوزخ میں وہ لوگ رہ جائیں گے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے کے قابل ہیں پھر جنت اور دوزخ کے مابین موت کو ذبح کرکے جنتیوں کو ہمیشہ جنت میں اور دوزخ میں رہنے کے قابل ہیں پھر جنت اور دوزخ کے مابین موت کو ذبح کرکے جنتیوں کو ہمیشہ جنت میں اور دوزخیوں کو ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا حکم سنادیاجائے گا۔
Ayahs 30:15–17

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

پس وہ اجو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے پس وہ (بہشت کے) باغ میں خوش حال کیے جائیں گے ۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور وہ جو کافر ہوئے اور ہماری آیتیں اور آخرت کا ملنا جھٹلایا پس وہ عذاب میں لادھرے جائیں گے ۔

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

پس1 تم اللہ کو پاکی سے یاد کرو شام (یعنی مغرب وعشا) کے وقت اور صبح (یعنی فجر) کے وقت۔

خدا کی قدرت کے انمول اور منفر کرشمے دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح اور ہماری پاکی بیان کیا کرو، اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ آیت جامع ہے واسطے اوقات صلوۃ کے ، تصبحون سے فجر کی نماز اور تظہرون سے ظہر کی نماز اور عشیا سے عصر کی نمازی اور تمسون سے مغرب کی نماز اور عشاء کی نماز ہے یعنی پانچوں وقت تم ہماری تسبیح اور حمد وثنا کیا کرو، اس میں ہی تمہاری بہتری ہے ورنہ تمہارے لیے سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں تم جانتے ہو اللہ کی قدرت کو، اس کی شان یہ ہے کہ بےجان چیز میں سے جاندار نکال کے موجود کردیتا ہے کسی کے خیال میں آتا ہے کہ انڈے بچہ، اور نطفہ سے چلتا پھرتا جاندار جسم پیدا ہوجائے ، یہ تو ایسی چیز ہے جس کو تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو اور اگر آنکھوں سے نہ دیکھتے اور ہم تم سے بیان کرتے تو تم کا ہے کو یقین کرتے، ہم نے تمہارے سامنے اپنی قدرت کانمونہ دکھادیا ہے اب تم کو ہماری قدرت میں شک کرنے اور یقین نہ کرنے کا کیا موقع ہے اور دیکھو اس کی قدرت کی نشانی کہ وہ زندہ چیز سے بےجان چیز کو نکال کر موجود کرتا ہے جس بےجان چیز سے جاندار چیز نکالی تھی پھر اسی جاندار سے بےجان نکال دیتا ہے یعنی حیوان سے نطفہ اور انڈا وغیرہ۔ بتاؤ تو سہی یہ سب کچھ کون بیٹھا کررہا ہے ، فرمایا تمام چیزیں ہمارے قبضہ قدرت میں ہیں اور جو ہم چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے جس طرح ان سب چیزوں کو ہم مردہ اور زندہ کرتے، اور مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکالتے ہیں اسی طرح تم کو بھی قبروں سے نکال کر کھڑا کردیاجائے گا اب تم شک کرتے ہو کہ مگر عنقریب تم کو یقین ہوجائے گا لیکن اس وقت میں وہ یقین کچھ فائدہ نہ دے گا اس اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر ناگہاں تم آدمی بن کر زمین میں چلتے پھرتے ہو تم کو تو یہ ہی تعجب ہے کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گی پھر ہماری زندگی اور از سرنو پیدا ہوجانے کی کیا صورت ہے تو دیکھو کہ ہم نے تم کو مٹی ہی سے بنایا ہے کیا ہم پھر مٹی سے نہیں بناسکتے، یا اس وقت ہم کو کوئی دقت پیش آئے گی ہرگز نہیں پھر فرمایا کہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری قسم میں سے بیویاں پیدا کیں، وہ تمہارا جوڑ اور بیبیاں ہوئیں تاکہ تم کو آرام اور چین ہو، اگر بیبیاں غیرجنس سے ہوتیں تو بجائے محبت کے نفرت اور بجائے آرام کے تکلیف ہوتی اسی واسطے تمہاری عورتیں تمہاری قسم سے بنائیں اور ان میں اور تم میں محبت اور رحمت ڈال دی تاکہ نظام عالم کا قائم رہے اور معاش دنیا کا سامان بہم پہنچاسکیں فکر کرنے والے لوگوں کے لیے بلاشبہ اس میں ہماری قدرت کی نشانیاں ہیں اور جو فکری ہی نہیں کرتے وہ ہمارے نشانیوں سے اندھے ہیں پھر فرمایا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ہے آسمان کو کیسابلند اور فراخ بنایا، ستاروں سے اس کو رونق بخشی، اور دنیا کی چھت اس کو قرار دیا، زمین کو کیساپست کیا، اور اس کے اندر پہاڑ، میدان، دریا، سمندر ، درخت غرض انسان کی ضرورت کی چیزیں پیدا کیں، جس سے خدا کی قدرت ظاہرہوتی ہے اور تمام زبانوں کا اختلاف کہ ہر ملک کی جداجدا بولی ہے اسی طرح تمہارے رنگ صورتیں علیحدہ علیحدہ ہیں ایک کا چہرہ دوسرے کے چہرہ سے نہیں ملتا، پھر بھی اس کی قدرت کی بڑی نشانی سمجھداروں کے لیے ہے۔ اور یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ رات میں تمہارے لیے نیند کو بنادیا جس کے سبب سے تم کو راحت ملتی ہے دن میں ادھر ادھر پھر کروزی کے اسباب ڈھونڈتے ہو اور دور دور کے دریا اور خشکی میں سفر کرتے ہو، ان باتوں میں قرآن شریف کی نصیحت کو جو دل سے سنتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانیاں ہیں ۔ اور اس کی قدرت کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ تم کو بجلی دکھلاتا ہے کہ کبھی تم ہیبت ناک بادل اور بجلی کی کڑک سے ڈرجاتے ہو اور دیکھوجب ہم بارش کے برسانے میں دیر کردیتے ہیں تو زمین خشک ہوکرمردہ ہوجاتی ہے مرجانے کے بعد اس کو زندہ کردیتے ہیں تو بارش برساتے ہیں تمام جڑی بوٹیاں پیدا ہوجاتی ہیں زمین پر سبزہ لہلہانے لگتا ہے درخت ہرے بھرے ہوجاتے ہیں جیسے مردہ میں جان پڑجاتی ہے پس اس میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سمجھ رکھتے ہیں اور اللہ کی قدرت کی ایک نشانی یہ ہے کہ آسمانا ورزمین اس کے حکم سے کھڑے ہیں آسمان کو زمین پر گرنے سے خدا نے روک رکھا ہے۔ بغیر اس کے حکم کے گر نہیں سکتا اور پھر فرمایا کہ اب تو اللہ کی قدرت یہ سب نشانیاں دیکھ کر تم لوگ حشر کے منکر ہو، لیکن جب تمہارے مرجانے کے بعد تمہارے پروردگار تم کو نیک وبد کے حساب کے لیے زندہ کرنا چاہے گا تو ناگہاں تم اسی وقت زندہ ہوکر قبروں سے نکل آؤ گے پھر فرمایا کہ آسمان اور زمین میں جو کوئی ہے سب اس کے ملک میں ہے اور سب اس کے حکم کے فرمانبردار ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب آسمان و زمین میں کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا تو ان منکرین حشر کی کیا طاقت ہے کہ یہ حشر کے حکم کو ٹال دیویں۔
Ayahs 30:18–27

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور سب سی کے واسطے تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور تیسرے پہر (یعنی عصر) کے وقت اور جب دوپہر (یعنی ظہر) کا وقت ہو۔

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہی جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے (یعنی پرند کو انڈے سے ، انسان کو نطفہ سے ) اور بےجان کو جاندار سے (یعنی انڈے کو پرند سے ، نطفہ کو انسان سے) نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے ، اور اسی طرح تم (قبروں سے زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے ۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو ( یعنی آدم کو) مٹی سے پیدا کیا، پھر تم دیکھو انسان بن کر دنیا میں پھیلے ہوئے ہو۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور خدا کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ ان سے تم کو آرام ملے اور تمہارے آپس میں محبت اور ہمدردی پید ا کی، بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے ۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے آسمان و زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں (یعنی لب و لہجہ) اور رنگتوں کا الگ الگ ہونا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں جاننے والوں کے لیے ۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے رات و دن میں تمہارا سونا اور تمہارا رزق تلاش کرنا اس کے فضل سے ہے ۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کے لیے ۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس سے زمین مردہ (یعنی خشک) ہوجانے کے بعد زندہ (یعنی تروتازہ ) کرتا ہے بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب تمہیں زمین سے ایک ندا فرمائے گا تو فورا تم (زندہ ہوکر قبروں سے) نکل پڑو گے ۔

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور اسی کے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں سب اس کے زیر حکم ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور1 ہی ہے جو اول بار (مخلوق کو) پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ دوبارہ پیدا کرنا اس کو بہت آسان ہے اور اس کی شان بلند ہے آسمان اور زمین میں، اور وہ غالب حکمت والا ہے ۔

منکرین حشر کے دوبارہ زندہ ہونے کی مثال۔ (ف 1) شان نزول۔ مشرکین مکہ مر کر پھر زندہ ہونے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مرکرمٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کس طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی کہ اگر یہ اپنی عقل سے کام لیں تو سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص جو ایک دفعہ ایک کام کرچکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام آسان ہوجاتا ہے۔ پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کردے گا اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں جو بتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو پہچانیں اللہ تعالیٰ اپنی قدرت حکمت میں ایسا زبردست ہے اور بےمثل ہے کہ آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات میں کوئی اس کا ثانی نہیں۔
Ayah 30:28

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

اللہ2 تمہارے لیے ہی حال میں سے ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ کیا تمہارے غلاموں میں سے جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں تمہارے ساتھ ان چیزوں میں کچھ شریک ہیں، ہم نے تم کو مال دیا ہے تو (کیا) تم سب اس میں برابر استحقاق سمجھے ہو (کیا) تم ان سے اس طرحح ڈرتے ہو، جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو، ہم ایسی مفصل نشانیاں بیان فرماتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔

(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو سمجھانے کو یہ مثال بیان فرمائی ہے کہ جو تمہارے لونڈی غلام ہیں کیا وہ ہماری دی ہوئی روزی میں تمہارے ساجھی ہیں بھلا تم اپنے غلاموں میں سے کسی کو اپنے برابر ہوناپسند کرتے ہو، وہ برابر ہوکرمال میں تصرف کرنے لگے، یا تم ان سے ایساڈرتے ہو جیسا کہ اپنے بھائی بندوں سے ڈرتے ہو، مطلب یہ ہے کہ وہ غلام لونڈی تمہارے مال میں شریک نہیں نہ تم کو ان سے مال کی بانٹ لینے کا ڈر ہے نہ غلام کو یہ اختیار ہے کہ تم سے مال بٹائے، پھر غور کرو جب غلام کو جو تمہارا بنایا ہو انہیں وہ بھی اللہ کا بندہ ہے تم جیسا پھر تم اپنے مال میں جو تم کو اللہ نے دیا ہے تمہارا بنایا ہو انہیں، شریک اور برابر پسند نہیں کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ کوکب پسند ہوگا کہ تم اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں اس کا شریک بناؤ، پھر فرمایا کہ ہم قرآن کی آیتوں کو اس طرح سے کھول کر سمجھدار لوگوں کو سمجھاتے ہیں لیکن ان ظالم مشرکوں نے بغیر سمجھے بوجھے بتوں کے پوجنے میں اپنی خواہش نفس کی پیروی کی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ جس کو اللہ گمراہ کردے، اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے وہ لوگ اللہ کے علم میں گمراہ ٹھہرچکے ہیں نہ دنیا میں راہ راست پر آسکتے ہیں نہ قیامت کے دن ان کا کوئی ایسا مددگار ہے جو ان کو عذاب سے بچاوے۔
Ayahs 30:29–30

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

بلکہ ظالموں نے بغیر علم کے اپنی خواہشوں کے پیروی کی، پس اس کو کون راہ دکھائے جسے خدا گمراہ کرے اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

پس1 تم اکیلے اسی کے ہوکر اپنا منہ اللہ کی اطاعت کے لیے سیدھا کرو، اللہ کے اس دین کی پیروی کرو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا اللہ کی بنائی ہوئی چیز نہ بدلنا (یعنی دین الہی پر قائم رہنا) یہی سیدھا دین ہے و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

(ف 1) اوپر کی آیتوں میں مشرکین کو الزام دے کر اور ان سے مایوسی ظاہر فرما کر نبی ﷺ کی طرف خطاب کرکے حکم دیتا ہے کہ اے لوگو تم اپنا منہ اللہ کی عبادت کے لیے سیدھارکھو ان آیتوں میں یہ اللہ کی وحدانیت کی تاکید ہے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ کے اس دین اسلام کی پیروی کروجس پر اس نے پیدا کیا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو بےدین کردیتے ہیں پس خدا کی عبادت کرو، اور خدا سے ڈرو، اور نماز کی پابندی کرو کیونکہ تمام عیب سے بچاتی ہے اور شرک مت کرو۔ اس کے بعد مشرکوں کا حال بیان کیا کہ وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ دالی ، کہ تغیر وتبدل کرکے دین کی بعض باتوں کو مانا اور بعض کو نہ مانا، جن لوگوں نے دین کی باتوں کو چھوڑ کر پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا ہے جیسے یہودونصار، مجوس اور بت پرست، یہ ہر ایک فرقہ اپنے گھڑے ہوئے دین میں خوش وخرم ہے اور اس کو حق سمجھ رہا ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے اور خدا کے ہاں اس کا انجام معلوم ہوجائے گا۔
Ayahs 30:31–32

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

(مومنو) اسی (خدا) کی طرف رجوع کیے رہو اور اس سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں میں سے نہ ہو۔

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا (معبود کے باب ) بارے) میں اختلاف کر کے اور گروہ گروہ ہوگئے، ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش1 ۔

خوشی میں خدا کا شکر ، اور تکلیف میں صبر کرنا مومن کی شان ہے۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرت اسلامی کا یہ ثبوت بیان فرمایا ہے کہ مشرک فطرت کے تقاضے سے ناچار ہونے کے وقت اللہ وحدہ لاشریک کو پکارتے ہیں پھر جب اللہ ان کو اپنی طرف سے کچھ رحمت کا مزہ چکھادیتا ہے اور ان کا مطلب پورا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے اور بتوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوجاتے ہیں اور آسودگی کو بتوں کی مدد کا نتیجہ خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ دنیا میں چند روزہ فائدہ اٹھالیں عنقریب یہ لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کے عملوں کی شامت سے ان کو کیا بات پیش آئی آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بےوقوفی کا ذکر فرمایا، کہ کیا ہم نے ان کے اوپر کوئی سند آسمان سے اتاری ہے جو ان کو شرک کرنے کو کہتی ہے مطلب یہ ہے کہ جب یہ لوگ شرک کو اچھا بتاتے ہیں، اور کوئی سند پیش نہیں کرسکتے تو ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا نجام ٹھیک نہیں پھر فرمایا کہ جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس کے ساتھ خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان کو اپنے عملوں کے سبب سے کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو وہ فورا وہ لوگ ناامید ہوجاتے ہیں حاصل یہ ہے کہ انسان کی یہ جبلی خصلت ہے کہ عیش میں مارے خوشی کے پھولا نہیں سماتا اور اترانے لگتا ہے اور سختی میں اور ناامید ہوجاتا ہے یہ خیال کرلیتا ہے کہ مجھ کو بھلائی اور بہتری کبھی حاصل نہ ہوگی، ہاں جو بندے عیش میں شکر کرتے ہیں اور سختی میں صبر کرتے ہیں وہ ہر حالت میں ثواب حاصل کرت ہیں اب فرمایا کہ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگی کرتا ہے ہر چیز میں اس کا تصرف ہے سب کام حکمت سے کرتا ہے بیشک اس میں قدرت کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں اب آگے قرابت دار، مسکین، محتاج، اور مسافر کے حسن سلوک کا ذکر فرما کر فرمایا کہ یہ کام بہتر ہیں ان کو جو قیامت کے دن اللہ کا دیدار چاہتے ہیں اور یہ اعلی مقصود اور بڑی مراد ہے اور وہی لوگ دنیا اور آخرت میں فلاح پانے والے ہیں جو اس کے حکم کے موافق دنیا میں عمل کرتے ہیں۔
Ayahs 30:33–39

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو کوئی سختی پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اسی کی طرف رجوع لاتے ہوئے، پھر جب اللہ ان کو اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ناگہاں ان میں سے بعضے لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ ہماری دی ہوئی چیز کی ناشکری کریں پس (دنیا میں چند روزہ) فائدہ اٹھا لو، پھر عنقریب تم حقیقت حال جان لو گے ۔

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی سند اتاری ہے کہ وہ سند ان کو شرک کرنے کو بتا رہی ہے ۔

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں پس اس پر خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے ان کے اعمال بد کے بدلہ میں جو پہلے اپنے ہاتھوں کرچکے ہیں تو فورا وہ لوگ ناامید ہوجاتے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگی فرماتا ہے ، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

پس (اے مخاطب) قرابت دار کو اس کا حق دو اور مسکین کو اور مسافر کو یہ (دنیا) ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور1 تم جو چیز (یعنی ہدیہ یا تحفہ) زیادہ لینے کو دو تاکہ اس میں دینے والوں کے مال بڑھیں تو وہ اللہ کے یہاں نہ بڑھے گی (کیونکہ یہ عمل خالصا للہ نہیں ہوا) اور جو کچھ تم خدا کی رضا مندی کے لیے خیرات دو پس یہ لوگ ہیں دوگنا کرنے والے ۔

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ تم جو چیز ہدیہ یاتحفہ دوست احباب یا آشناؤں کو یا اور کسی شخص کو اس نیت سے دو کہ وہ پلٹ کر اس سے زیادہ دے گا تو اس کا ثواب اللہ کے ہاں نہ ملے گا، کیونکہ یہ عمل خالصتا اللہ نہیں ہوا، آگے فرمایا کہ صدقہ دینے سے ظاہر میں اگرچہ مال گھٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اللہ کے نزدیک وہ بڑھتا ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ ایسے مال میں برکت دیتا ہے اور عقبی میں ایک روپیہ خرچ کرنے کا اجر دس سے لے کر سات سو تک ہے اب آگے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اور ان کی ضرورت کی سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی مقررہ کے آنے پر ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور پھر سزا وجزا کے لیے انہیں دوبارہ پیدا کرے گا، باوجود اس کے یہ اللہ کی تعظیم میں بتوں کو جو شریک کرتے ہیں اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے بتوں کا حصہ ٹھہراتے ہیں یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے۔
Ayah 30:40

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ وہ2 ہے کہ جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو روزی دی پھر تم کو مارے گا پھر تم کو جلائے گا، کیا تمہارے بنائے ہوئیے شریکوں میں سے بھی کوئی ایسا ہے ؟ کہ جو ان کاموں میں سے کچھ کرسکے ؟ وہ پاک اور بلند تر ہے اس چیز سے کہ شریک ٹھہراتے ہیں۔

اعمال بد کی سزا دنیا میں بھی ہوا کرتی ہے۔ (ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ارشاد فرمایا ہے کہ ان مشرکوں سے دریافت کیا جائے کہ ان کا پیدا ہونا، ان کا جینا، ان کا مرنا، ان کارزق، کون سی چیز ان کے بتوں کے اختیار میں ہے اور جب آنکھوں دیکھتے ہیں کہ ان بتوں کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے تو عبادت کے وقت ان بتوں کو یہ لوگ جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ذران کو نادم ہونا چاہیے کہ ایسے بےاختیار اور عاجز کو جو خود دوسرے کے اختیار اور قابو میں ہو، معبود ہونے کا کون ساحق حاصل ہے اللہ پاک ہے اور بلند تر ہے اس سے جس سے وہ شریک کرتے ہیں۔ صفات خداوندی۔ پھر فرمایا کہ زمین میں قحط وبا اور دریا میں جہازوں ، کشتیوں کے ڈؤبنے اور دودھ گھی کے پیدا کرنے میں کمی آجانا، ہر چیز کا گراں ہوجاناباہم لک کے لوگوں میں جنگ وجدل ہونا، ہزارہا مخلوق خدا کا خانہ ویران ہونا، بیماری کی کثرت ، ہیضہ کا زور، حیاوشرم اٹھ رک اس کی جگہ بےحیائی ہونا، یہ بلائیں لوگوں کی بدکاریوں اور گناہوں کے سبب سے آتی ہیں پھر فرمایا کہ اگر تم اپنی اس فلسفہ اور صنعت اور ہر قسم کی دستکاری وشرہ زوری و دولت مندی پر گھمنڈ کرکے یہ کہتے ہو کہ ہم خود ان مصائب کو اپنی تدبیر سے دفع کردیں گے تو ملک خدا میں ذرا پھرو تو دیکھو کہ تم سے پہلوں کا کیا انجام ہوا ہے وہ بھی یہی دعوی کیا کرتے تھے اور جو ہلاک ہوچکے ہیں وہ شرک میں مبتلا تھے پس تم دین اسلام پر مضبوطی سے قائم رہو، فرمایا کہ قیامت جو ایک دن آنے والی ہے اللہ کی طرف سے ٹلنا نہیں ہے اس دن سب لوگ حساب کے بعد جداجدا ہوجائیں گے جنتی جنت میں دوزخی دوزخ کی طرف جائیں گے۔ جس نے کفر کیا اور اس کا وبال اس پر پڑے گا اور جس نے نیک کام کیا سو وہ اپنے لیے جنت میں ٹھکانابناتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے صلہ دے، ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک کام کیے بیشک اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا، اس لیے ان کو جدامکان دوزخ عنایت ہوا، اور ورنہ ایمانداروں کے ہمراہ وہ بھی جنت میں پہنچتے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ ہوا کے سبب سے جو بادل آتے ہیں اور بادلوں کے سبب سے جو بارش ہوتی ہے اور ہواؤں کے وجہ سے انسان زندہ رہ کر دنیا میں اس کی رحمت اور نعمت کے مزے لیتا ہے اور انہیں سے پھل پھول کھیتی باڑی تیار ہوتی ہے اور اس کے حکم سے ہواؤں کے ذریعہ سے دریا میں کشتیاں چلتی ہیں تاکہ تم دریائی سفروں کی وجہ سے روزی تلاش کرو۔ اور تم کو مناسب ہے کہ بمقابلہ ان نعمتوں کے ہمارا شکر کروفقط ایک ہوا میں تمہارے لیے اتنے نفع رکھے ہیں ایسی بہت چیزیں جن میں تمہارا نفع ہے پھر فرمایا جس طرح نظام عالم جسمانی کے لیے ہوائیں چلاتے ہیں اسی طرح نظام عالم روحانی کے لیے اپنے فضل سے انبیاء بھیجتے چلے آتے ہیں جو اپنی قوموں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے پھر جس نے نہ مانا ہم نے ان لوگوں سے ان کی نافرمانی کی وجہ سے بدلہ لیا اور ہم پر مسلمانوں کی مدد کرنی ضرور تھی لہذا ہم نے ان کی مدد کی۔