29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsمظہر القرآن

Ayah 29:1
Ayahs 29:2–4

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ Open ayah 29:2 in the Quran reader

کیا1 لوگوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ صرف یہ کہہ دینے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی (قسم قسم کے مصائب سے) آزمائش نہ ہوگی۔

وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 29:3 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے (ایسے واقعات سے) ان لوگوں کی آزمائش کی جو ان سے پہلے (مسلمان ) تھے تو اللہ ان کو ضرور معلوم کرے گا کہ کون (ایمان کے دعوے میں) سچے ہیں اور ضرور جھوٹوں کو معلوم کرے گا۔

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّسْبِقُوْنَا١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 29:4 in the Quran reader

کیا یہ سمجھتے ہوئے ہیں وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں کہ ہمارے قابو سے کہیں نکل جائیں گے کیا ہی وہ بری تجویز کرتے ہیں۔

مسلمانوں کی آزمائش کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : نبی ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے بعد کچھ مسلمان مکہ میں ایسے رہ گئے تھے جن کو مشرک لوگ ہجرت سے بھی روکتے تھے اور مکہ میں بھی امن سے نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں ان مسلمانوں کو ہر وقت دیتے تھے جن تکلیفوں سے وہ مسلمان تنگ دل تھے ان کی ہمت بڑھانے کے لیے مدینہ میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ جب مدینہ سے ان کے دوست صحابہ نے ان کو ان آیتوں کے نازل ہونے کا حال لکھ کر مکہ میں بھیجا تو وہ مشرکین سے لڑ کر ہجرت کے لیے مکہ سے نکلنے کو مستعد ہوئے اور کچھ مدینہ میں مہاجرین بن کر پہنچ گئے فرمایا کہ دارآخرت کی طرف کامیابی کے ساتھ جاناآسان بات نہیں اس میں بڑی بڑی جانفشانیاں کرنی پڑتی ہیں اور بڑی سختیوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے اس لیے اس سورت میں الم سے ایک خاص مطلب کی طرف اشارہ کرکے یہ فرمادیا کہ کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ لا الہ اللہ کہہ دینا اور صرف ایمان لاکربیٹھ رہنا کافی ہے ، اور ان کی کوئی آزمائش نہ ہوگی ضرور ہوگی اس لیے کہ ان سے پہلے بھی ایمانداروں نے بڑی بڑی مصیبتیں اٹھائی ہیں آزمائے گئے ہیں گھربار لوٹے گئے ہیں ماریں پڑی ہیں دیس سے نکالے گئے ہیں اس سے اہل اسلام کو مضبوط کیا جاتا ہے کہ اسلام میں تکالیف دیکھ کر نہ گھبرائیں ، ایسی آزمائشوں میں سچے جھوٹے کا امتیاز ہوتا ہے نبی کے عہد میں خصوصا ہجرت سے پہلے ایمانداروں کو بڑی بڑی مصیبتوں کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ (حقانی) ۔
Ayahs 29:5–7

مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:5 in the Quran reader

جس کسی کو اللہ1 سے ملنے کی امید ہو تو بیشک اللہ (سے ملنے ) کا وہ معین وقت ضرور آنے والا ہے ، اور وہی سننے والاجاننے والا ہے ۔

وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:6 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی راہ میں کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لیے کوشش کرتا ہے ، بیشک اللہ سارے جہان سے بےپروا ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَحْسَنَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:7 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو بیشک ہم ان کی برائیاں دور کردیں گے اور ضرور انہیں اس کام پر بدلہ دیں گے جو ان کے سب کاموں میں اچھا تھا۔ (یعنی نیک عمل)

مسلمانوں کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جس کو آخرت میں اللہ سے ملنے کی امید اور اپنے اچھے کاموں کے ثواب پانے کا بھروسہ ہے اللہ تعالیٰ اس کی امید کو پورا کرے گا کہ وہ دعا کا سننے والا اور تمام عملوں کا دیکھنے والا ہے، پھر فرمایا جو محنت کرکے اچھے عمل کرے وہ اپنے ہی واسطے کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے نیک عملوں سے بےنیاز ہے کسی کا نیک اور پرہیزگار ہوناخدا کی بادشاہت میں کچھ رونق نہیں بڑھاتا، اس پر بھی ایمان والوں کو عمدہ جزا دے گا اور ان کی برائیون کو ان کے ایمان اور نیک عمل کی برکت سے دور کردے گا اور اچھے ان کے کے عملوں کا بدلہ دے گا اور برائی کی سزابقدر برائی کے دے گا بلکہ معاف کردے گا، نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا شوق دل میں رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسی کو ایسے نیک کاموں کی توفیق دیتا ہے کہ وہ اچھی حالت سے اللہ کے روبروحاضر ہوگا اور یہ حشر کے منکر لوگ اللہ تعالیٰ کے ملنے کا شوق دل میں نہیں رکھتے اس لیے اللہ تعالیٰ بھی خوشی سے ان کو اپنے روبرو بلانا نہیں چاہتا۔
Ayah 29:8

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا١ؕ وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا١ؕ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:8 in the Quran reader

اور1 ہم نے انسان کو تاکید کی کہ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرے اور اگر وہ دونوں تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرا شریک ٹھہرا جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ مان تم سب کو میرے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے ، پس میں تم کو بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے تھے ۔

ماں باپ کی فرمانبرداری کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : جب حضرت سعد نے اسلام قبول کیا تو ان کی ماں نے کہا کہ تو نے کیا یہ نیاکام کیا جو محمد ﷺ کے دین کو اختیار کیا، خدا کی قسم اگر تو اس سے باز نہ آیا تو نہ میں کھاؤں نہ پیوں، یہاں تک کہ مرجاؤں، اور تیری ہمیشہ کے لیے بدنامی ہو اور تجھے ماں کا قاتل کہا جائے گا، پھر ان کی ماں نے فاقہ کیا اور شبانہ روز نہ کھایا اور نہ پیا، نہ سایہ میں بیٹھی، اس سے ضعیف ہوگئی پھر ایک دن اواسی طرح رہیں تب حضرت سعد اس کے پاس آئے اور آپ نے اس سے فرمایا کہ اے ماں اگر تیری سوجانیں ہوں اور ایک ایک کرکے سب ہی نکل جائیں تو بھی اپنا دین اسلام چھوڑنے والا نہیں۔ تو چاہے کھا چاہے مت کھا، جب وہ حضرت سعد کی طرف سے مایوس ہوگئی کہ یہ دین محمد چھوڑنے والا نہیں ہے تو کھانے پینے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی اور فرمایا کہ اگرچہ ماں باپ کا حق بہت بڑا ہے اس کے حکم کے مخالف ماں ہو یا باپ کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں ہے آخر آیت میں فرمایا کہ ایک دن سب کو اللہ کے روبروحاضر ہونا ہے اور فرمانبرداروں کی جزا اور نافرمانوں کی سزا کا پورافیصلہ ہوجائے گا۔
Ayahs 29:9–11

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:9 in the Quran reader

اور1 جو لوگ ایمان لائے اور چھے عمل کیے ، ضرور ہم انہیں نیکوں میں شامل کریں گے ۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِیَ فِی اللّٰهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَئِنْ جَآءَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ١ؕ اَوَ لَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:10 in the Quran reader

اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں (جو زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے پھر جب ان کو اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف دی جاتی ہے تو لوگوں کی ایذاؤں کو اللہ کے عذاب کے برابر سمجھتے ہیں اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی مدد آئے تو (اس وقت) ضرور کہیں گے کہ بیشک ہم تو (دین میں) تمہارے ہی ساتھ تھے ، کیا اللہ دنیا جہان والوں کے دلوں کی باتیں خوب نہیں جانتا۔

وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ Open ayah 29:11 in the Quran reader

اور بیشک اللہ ایمان لانے والوں کو ظاہر کردے گا اور یشک منافقوں کو بھی ظاہر کردے گا۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم ایمانداروں کو اور ان کو جنہوں نے اچھے عمل کیے ہیں اپنے بندوں میں شامل کریں گے اس سے مقصود یہ ہے کہ نیک بندوں کے رہنے کی جگہ جنت میں اور ان کو رکھاجائے گا، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ، ایمان لائے ہم اللہ پر لیکن وہ لوگ یہ بات صرف زبان سے کہتے ہیں ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا، اس واسطے ان کا یہ حال ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف دی جاتی ہے تو پھر یہ لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں ، غرض کہ ان لوگوں کو اگر بھلائی حاصل ہو تو اطمینان ہے اور اگر جانچ ہوئی تو پھرگئے پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر کبھی کوئی مدد اور فتح تمہارے رب کی طرف سے آجائے تو کہتے ہیں کہ ہم تو دین میں تمہارے ساتھ ہیں اللہ دنیاجہان والوں کے دلوں کی باتیں خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے اگرچہ وہ منافق ظاہر میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے کا دم بھریں لیکن اللہ خوب جان لے گا ایمان والوں کو اور خوب جان لے گا منافقوں کو کہ کون مطیع ہے اور کون نافرمان ہے۔
Ayahs 29:12–13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 29:12 in the Quran reader

اور کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم (دین میں) ہماری1 راہ کی پیروی کرو اور (قیامت میں) تمہارے گناہ ہم اٹھا لیں گے ۔ حالانکہ یہ لوگ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہ اٹھائیں گے ، بیشک وہ جھوٹے ہیں۔

وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١٘ وَ لَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 29:13 in the Quran reader

اور بیشک ضرور یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (دوسروں کے گناہوں کے) بوجھ اٹھائے ہوں گے اور ضرور قیامت کے دن ان سے پوچھ ہوگی جو کچھ بہتان اٹھاتے تھے ۔

مشرکوں کا ذکر، نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کی نصیحت۔ (ف 1) شان نزول : ہجرت سے پہلے مکہ میں جو تھوڑے سے مسلمان تھے وہ کافر بےکس مسلمانوں کو از حدستاتے تھے اور ان سے یہ کہتے تھے کہ تم یہ تکالیف کس لیے اٹھاتے ہو کس لیے اسلام نہیں چھوڑ دیتے، وہ کہتے کہ ہم اپنے اس گناہ سے ڈرتے ہیں آخرت کا خوف ہے مسلمانوں سے ابوسفیان اور مشرک لوگ کہا کرتے تھے کہ اول تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مرنے کے بعد پھر کیسے جیے گے اور نیکی اور بدی کا حساب کتاب ہوکرجزاوسزا ہوگی اگر ایسا ہوابھی تو تمہاری بدیوں کی سزاہم اپنے ذمہ لے لیں گے ، تم اپنے قدیمی دین پر قائم رہو، اور دنیا کے مزے اٹھاؤ، ۔ ان کے اس قول کا جواب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں جو آخرت کے مواخذہ کا غیروں کا بوجھ اپنے ذمہ لیتے ہیں وہاں ایسی نفسانفسی ہوگی کہ باپ بیٹے اور بیٹا باپ سے دوربھاگے گا کہ ایک کا وبال دوسرے پر نہ پڑجائے اور جتنے لوگوں کو گمراہوں نے بہکایا ہے گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کے دو وبال ایسے لوگوں کی گردن پر اس دن پڑیں گے دارآخرت کی تکلیف، پھر کوئی اپنی تکلیف کی برداشت نہیں کرسکتا، دوسرے کی تکلیف تو کیا برداشت کرسکتا ہے اور یہ لوگ جیسی جیسی جھوٹی باتیں بناتے ہیں ان کی اس افتراء پردازی کی قیامت کے دن باز پرس ہوگی کہ تم کس جرات اور بےباکی سے ایسی باتیں بناتے تھے کیا یہ نہ جانتے تھے کہ ہمارے ہاں آج کے دن ذرہ ذرہ کا حساب پیش ہوگا۔
Ayahs 29:14–18

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًا١ؕ فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 29:14 in the Quran reader

اور1 بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا پھر وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہے ، 0 اور قوم کو توحید و ایمان کی دعوت دیتے رہے) اور ان کی ایذاؤں پر صبر کیا، پھر (جب باز نہ آئے تو ) ان کو طوفان نے آپکڑا اور وہ بڑے ظالم لوگ تھے ۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:15 in the Quran reader

پس ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو (اس طوفان سے) بچا لیا اور اس کشتی کو سارے جہان کے لیے نشانی کیا۔

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:16 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو (پیغٖمبر بنا کر) بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر اور اس سے ڈرو۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:17 in the Quran reader

تم تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور نرا جھوٹ گھڑتے ہو، بیشک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں، پس تم اللہ سے روزی طلب کرو اور اس کی عبادت کرو اور اسی کی شکر کرو، تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 29:18 in the Quran reader

اور اگر تم مجھ کو جھٹلاؤ پس (میرا کچھ نقصان نہیں کیونکہ) تم سے پہلے بھی بہت سی امتیں (اپنے پیغمبروں کو) جھٹلا چکی ہیں اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف طور سے پیغام کا پہنچا دینا۔

(ف 1) اوپرمشرکین کی سرکشی کا ذکر تھا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح کے حال سے آگاہ فرمایا کہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے اسی (80) آدمی ایمان لائے جب اس قدرت مدت دراز تک نوح کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہین دیا تو اے محبوب ﷺ اپنی امت کے حال پر کچھ غم نہ کریں۔ چالیس سال کی عمر میں نوح رسول بناکربھیجے گئے اور قوم کے لوگوں میں ساڑھے نوسو برس رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس زندہ رہے وقت انتقال کے عزرائیل نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے سب پیغمبروں سے زیادہ عمر پائی دنیا کی تو خوب سیر کی ہوگی، آپ نے فرمایا کیا سیر کی دنیا کی مثل ایک مکان کے دودرہ ہیں ایک وہ جدھر سے آئے دوسراوہ جدھر کو جاتے ہیں صرف اتنی دیر ہوئی ۔ سورة ہود میں گزرچکا ہے کہ قوم نوح نے نوح کی نصیحت اور عذاب کے وعدہ کو جھوٹا جان کر خود اپنی زبان سے عذاب کے نازل ہونے کی خواہش کی۔ آخر طوفان کے عذاب آنے سوا اسی آدمیوں کے اور باقی سارے قوم کے لوگ ہلاک ہوگئے پھر ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے یعنی بیٹے اور چندایماندار کل اسی تھے جن کو غرق ہونے سے بچالیا۔ اور قرنوں تک اس کشی کو اپنی قدرت کی نشانی دکھانے کے لیے باقی رہنے دیاتا کہ لوگ اس کو دیکھ کر عبرت پکڑیں اور اس عہد کو یاد کریں اور سرکشی نہ کریں۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو خدا کی عبادت کی طرف بلایا اور اس سے ڈرنے کو کہا کہ جب تم یہ کام کرو گے تو دنیا اور آخرت کی بہتری تم کو حاصل ہوگی اور اللہ کے سواجن بتوں کو اے کافرو تم پوجتے ہو وہ تمہارے نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں تم نے ہی ان کے نام گھڑ لیے ہیں اور ان کو معبود ٹھہرالیا ہے اور تم خود بت تراشتے ہو اور ان کو اپنا معبود ٹھہراتے ہو جن لوگوں کے نام کی یہ مورتیں ہیں ان کو تمہارے اس کام کی بالکل خبر نہیں۔ اس لیے قیامت کے دن وہ تم سے بےزارہوجائیں گے اور جن بتوں کو پوجتے ہو وہ تو تم کو رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اس لیے تم اللہ کی ہی خالص عبادت کرو اور اس سے کشائش رزق کی التجا کرو، اور اسی کا شکر ادا کرو اور تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کرجانا ہے اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق جزاوسزا دے گا، اور اگر تم ان باتوں کو جھٹلاؤ گے کہ جن لوگوں نے پہلے رسولوں کو جھٹلایا، ان پر عذاب نازل ہوا ہے ہر رسول اسی بات کا ذمہ دار ہے کہ اللہ کا حکم امت کے لوگوں کو پہنچاوے پھر ابراہیم نے اپنی قوم کے لوگوں کو جو حشر کے منکر تھے یوں سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کیا جس سے تم سننے والے اور دیکھنے والے ہوگئے پھر جس خدا نے پہلی بار تم کو پیدا کیا دوسری بار بھی تمہیں بناسکتا ہے کیونکہ دوسری بار کا پیدا کرنا اس پر آسان ہے۔
Ayahs 29:19–23

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 29:19 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ مخلوق کو کس طرح اول بار پیدا کرتا ہے ، پھر وہی دوسری بار اس کو پیدا کرے گا (آخرت میں)1 بیشک یہ اللہ کو آسان ہے ۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ Open ayah 29:20 in the Quran reader

تم (ان لوگوں سے) فرماؤ کہ تم لوگ زمین میں سفر کر کے دیکھو کہ اللہ نے مخلوق کو کس طور پر اول بار پیدا کیا ہے ، پھر اللہ ہی دوسری اٹھان (آخرت میں) اٹھائے گا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ Open ayah 29:21 in the Quran reader

جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم کرے، اور تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ١٘ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠ Open ayah 29:22 in the Quran reader

اور نہ تم زمین میں ( چھپ کر خدا کو ) عاجز کرسکتے ہو اور نہ آسمان میں اور خدا کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآئِهٖۤ اُولٰٓئِكَ یَئِسُوْا مِنْ رَّحْمَتِیْ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 29:23 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کی آیتوں سے اور اس کے سامنے جانے سے منکر ہوئے وہ لوگ (قیامت میں) میری رحمت سے ناامید ہوگئے اور ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ زمین میں سیر کرو اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر عبرت پکڑو جس طرح اللہ تعالیٰ نے اب پہاڑوں اور درختوں بوٹیوں اور کھیتوں کو پیدا کیا ہے اسی طرح جس چیز کا ودبارہ پیدا کرنا اس کو منظور ہوگا وہ پیدا کردے گا اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اور یہ دوبارہ پیدا کرنا جزاوسزا کے لیے ہوگا تاکہ پہلی دفعہ کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے۔ اس سزا کے وقت تم آسمان اور زمین میں کہیں بھاگ نہ سکو گے اس لیے تم اللہ کو اپنا معبود ٹھہراؤ، اس لیے شرک کے مواخذہ میں پکڑ لیے گئے تو تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں کہ وہ تم کو گرفتار نہ کرسکے، غرض کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی عاجز نہیں کرسکتا۔ اور خدا کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے پھر فرمایا ہے جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کی قدرت کی نشانیوں اور آخرت کے منکر ہیں وہ خدا کی رحمت سے ناامید ہیں اور دنیا اور آخرت میں ان لوگوں کے واسطے سخت عذاب ہے۔
Ayah 29:24

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 29:24 in the Quran reader

تو1 (ابراہیم کے اس کہنے کے بعد) اس کی قوم کو کچھ جواب بن نہ آیا مگر یہ کہ (آپس میں ) کہنے لگے کہ ان کو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو (چنانچہ جلانے کا سامان ہوا) تو اللہ نے ان کو آگ سے بچا لیا، بیشک اس قصہ میں ضرور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا مشورہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ حضرت ابراہیم کی قوم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی باتیں سن کر آپس میں کہا حضرت ابراہیم کو مارڈالو یا آگ میں جلادو چناچہ سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آگ ہی میں جلانا چاہیے ، تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک میدان میں اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا، پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی ، پھر انہوں نے ابراہیم کو اس آگ میں ڈال دیا ان کا حامی مددگار اللہ ذوالجلال تھا اس لیے حضرت ابراہیم پر وہ آگ ٹھنڈی اور راحت والی ہوگئی ابراہیم وہاں سے صحیح وسالم نکلے اور کسی جگہ آپ کو تکلیف نہ پہنچی پس ایماندارلوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عجیب عجیب نشانیاں ہیں کہ اس نے ایسے نازک وقت میں اپنے خلیل کی کیسی مدد کی کہ آگ جیسی چیز میں جلانے کی تاثیر باقی نہرہی اور آگ گلزار ہوکرراحت کا سامان بن گئی اور اللہ کے خلیل سے جن لوگوں نے اپنے بتوں کو توڑنے کا بدلہ لینا چاہا تھا وہ لوگ اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوئے۔
Ayahs 29:25–26

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

ور1 ابراہیم نے فرمایا کہ تم نے جو خدا کو چھوڑ کر یہ بت بنا لیے ہیں بس یہ تمہارے درمیان دوستی (یہیں) دنیا کی زندگی تک ہے ، پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کا منکر ہوجائے گا اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالے اور اگر تم اس بت پرستی سے باز نہ آئے تو تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا۔

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

تو (اتنی نصیحت) پر لوط نے ابراہیم کی تصدیق (رسالت) کی اور ابراہیم نے (فرمایا کہ میں اپنے رب کی بتائی ہوئی جگہ کی) طرف ہجرت کرتا ہوں، بیشک وہی زبردست حکمت والا ہے ۔

(ف 1) پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے وعظ شروع کیا کہ آج دنیا میں جو تم نے اللہ کے سواجوبت بنارکھے ہیں اور ان کی پرستش کرتے ہو اور وہ خدا جس نے تم کو پیدا کیا اس کی عبادت سے بالکل غافل ہو تو بس یہ تمہارے درمیان بتوں کی دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے پھر قیامت کے دن کچھ کام نہ آئے گی بت اپنے پجاریوں سے بےزار ہوں گے اور سردار اپنے ماننے والوں سے ، اور ماننے والے سرداروں پر لعنت کریں گے اور سردار ماننے والوں پر، غرج یہ کہ ایک دوسرے سے بےزار ہوگا اور لعنت کرے گا اور اگر تم اس بت پرستی سے باز نہ آئے تو تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں کہ جس کی مدد سے تم اس عذاب سے نجات پاؤ گے پس اس قوم میں سے ابراہیم کا بھتیجا لوط (علیہ السلام) ایمان لایا، پھر حضرت ابراہیم لوط (علیہ السلام) اور حضرت سارہ سلام اللہ اپنی چچازاد بہن سے فرمانے لگے کہ میں اپنے رب کی طرف وطن چھوڑ کرجاتا ہوں البتہ وہ غالب ہے پس مجھ کو اس کی ذات سے امید ہے کہ میرے دشمنوں سے مجھ کو ذلیل نہ کروائے اور وہ صاحب حکمت ہے ۔ اس پر حضرت لوط اور حضرت سارہ نے اتفاق کیا کہ وہاں سے نجران اطراف کوفہ میں آئے پھر وہاں سے ملک شام میں گئے تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ ابراہیم کی عمر اس وقت پچھترسال تھی اور اسی سال حضرت اسماعیل اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو عطا کیا اور وہ حضرت ہاجرہ کے بیٹے ہیں جو حضرت سارہ کی لونڈی تھی اور جب سن شریف حضرت ابراہیم کا ایک سو بارہ یا بیس برس کا ہوا تو حضرت سارہ سے بھی ایک بیٹا یعنی اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے چناچہ اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے۔
Ayahs 29:27–35

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے (ہجرت کے بعد) ان کو اسحاق (بیٹا) اور (یعقوب (پوتا) عطا کیے اور1 ہم نے اس کی اولاد (یعنی نسل ) میں نبوت اور کتاب (یعنی تورات ، انجیل، زبور، قرآن ) کو (جاری) رکھا اور ہم نے اس کا صلہ اس کو دنیا میں بھی دیا اور بیشک وہ آخرت میں بھی (بڑے درجہ کے) نیک بندوں میں سے ہے ۔

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو (پیغمبر بناکر) بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ بیشک تم بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا۔

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کہ تم شہوت کے ارادے سے مردوں کے پاس آتے ہو اور راہ مارتے ہو (راہ گیروں کو قتل کر کے ان کے مال لوٹ کر) اور اپنی بھری مجلس میں برا کام کرتے ہو، پس اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ کہنے لگے ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوط نے عرض کی کہ اے میرے رب ان فسادی لوگوں پر میری مدد کر (اللہ نے دعا قبول فرمائی) ۔

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جس وقت ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے انہوں نے کہا ہم ضرور اس بستی والوں کو ہلاک کریں گے ، بیشک اس بستی کے لوگ بڑے ظالم ہیں۔

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیم نے فرمایا کہ وہاں تو لوط (بھی رہتا) ہے فرشتوں نے کہا : ہم خوب جانتے ہیں جو کوئی اس میں ہے ۔ ضرور ہم لوط کو اور سا کے گھر والوں کو نجات دیں گے بجز اس کی بی بی کے کہ وہ (عذاب میں) رہ جانے والوں میں سے ہے ۔

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو لوط کو ان کا آنا ناگوار ہوا اور ان کے سبب سے دل تنگ ہوا اور فرشتوں نے کہا : نہ ڈریئے اور غم نہ کیجیے بیشک ہم تم کو اور تمہارے گھر والوں کو نجات دیں گے بجز تمہاری بی بی کے کہ وہ (عذاب میں) رہ جانے والوں میں سے ہے ۔

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

بیشک ہم اس بستی کے باشندوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں اس سبب سے کہ وہ بدکاری کرتے تھے ۔

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے اس بستی کے عقل والوں کے لیے کچھ ظاہر نشان باقی رکھے۔

بدفعلی کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو ہم نے انکو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی کیا، حضرت اسحاق ، ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے اللہ تعال کا یہ ارشاد ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب کے سلسلے کو قائم رکھا یہ ایک اللہ کا بہت بڑا انعام ہے بنی اسرائیل کے کل انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے خاندان میں سے ہوئے ہیں سب سے آخر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہوں نے سب لوگوں میں کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کے نبی ہونے کی بشارت دی۔ جو اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے نبی ﷺ کے سوا کوئی اور نبی نہیں ہوا۔ اسماعیل (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ پھر فرمایا : ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کا بدلہ دنیا میں بھی دیا کہ سب دین و مذہب والے ان کی تعریف کرتے ہیں اور ان کو دوست جانتے ہیں۔ اب آگے حضرت لوط (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسے برے کام کرتے ہو جو تمام جہان میں کسی نے نہیں کیے، تم شہوت کا ارادہ مردوں سے رکھتے ہو اور تم راہ مارتے ہوجوراہ سے گزرتا ہے اس کو قتل کر ڈالتے ہو اور اس کا مال واسباب لوٹ لیتے ہو اور مجلس میں جمع ہوکربرے فعل کرتے ہو اور کوئی کسی کو برا نہیں کہتا، مجاہد نے کہا مجلس میں سب کے روبرو ایک دوسرے سے بدکاری کرتے تھے ۔ اور حضر لوط (علیہ السلام) کے وعظ ونصیحت کا کچھ جواب نہ دیتے تھے ۔ یہی کہتے تھے کہ اگر تم سچے ہو تو خدا کا عذاب ہم پرلے آؤ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے میرے رب اس فسادی قوم کے مقابلہ میں میری مدد فرما، اور ان کو عذاب سے ہلاک کردے۔ اللہ تعالیٰ نے انکی دعا قبول فرمائی اور فرشتے ان کی مدد کو بھیجے۔ وہ پہلے حضرت ابراہیم کے پاس مہمانوں کی شکل میں آئے حضرت ابراہیم نے ان کے آگے کھانا رکھا جب دیکھا کہ وہ نہیں کھاتے تو ان کو اجنبی جان کر ڈرے۔ جب یہ معلوم ہوا کہ یہ فرشتے ہیں اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کے ہلاک کرنے کو بھیجے گئے ہیں تو عذاب ہٹانے میں گفتگو کرنے لگے کہ شاید ان کو کچھ مہلت مل جائے حضرت ابراہیم نے کہا اس بستی میں حضرت لوط (علیہ السلام) بھی ہیں فرشتوں نے کہا، ہم سب کو جانتے ہیں حضرت لوط اور اس کے لوگوں کو ہم نجات دیں گے مگر اس کی بیوی نافرمان لوگوں کے ساتھ ہلاک ہوگی غرض یہ کہ وہ فرشتے حضرت ابراہیم سے رخصت ہوکر حضرت لوط کے پاس خوبصورت لڑکوں کی شکل میں پہنچے تولوط ان کو دیکھ کر دل میں تنگ ہوئے کیونکہ قوم کی بدفعلی سے اندوہناک تھے حضرت لوط نے ان کو پہچانا نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں ۔ اس لیے فرشتوں نے ان سے کہا کہ تم نہ ڈرو، اور غم نہ کھاؤ، ہم تم کو اور تمہارے اہل کو عذاب سے بچائیں گے مگر تمہاری بیوی اور پتھروں کامینہ کا برسایا، اور ان کو قیامت کے روز تک اوروں کے لیے عبرت کانمونہ قرار دیا، اس واسطے فرمایا، ہم نے عقل والوں کے لیے ظاہر نشان باقی رکھے تاکہ عبرت حاصل کریں۔
Ayahs 29:36–37

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور1 مدین کی طرف ہم نے ان کے ہم قوم شعیب کو (پیغمبر بناکر) بھیجا پس انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو اور قیامت کے دن کی امید رکھو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

پس ان لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا پھر وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے زانو کے بل گرے ہوئے مردہ پڑے رہ گئے ۔

نافرمان لوگوں کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم مدین کے باشندوں کو حکم دیا کہ تم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اور آخرت کے دن جزا کی توقع رکھو، اور لین دین میں لوگوں کے ساتھ دغابای نہ کرو یہ لوگ تولنے میں دغابازی کرتے تھے اور راستہ بھی لوٹتے تھے اور اللہ رسول کو جھٹلاتے تھے اس لیے ان کو زلزلہ اور سخت آواز نے پکڑا۔ جس سے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے مردہ پڑے ہوئے رہ گئے پوراقصہ سورة اعراف میں اور سورة ہود میں اور سورة شعراء میں بیان ہوچکا ہے۔
Ayahs 29:38–40

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور2 ہم نے عاد اور ثمود کو بھی (ان کے کفر کی وجہ سے) ہلاک کیا اور تم کو ان کے بعض مکان (اب تک) نظر آرہے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال (بد) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے پس انہیں راہ (حق) سے روک دیا اور وہ لوگ سمجھ بوجھ رکھتے تھے ۔

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور ہم نے قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی (ان کے کفر کے سبب) ہلاک کیا اور بیشک ان (تینوں) کے پاس موسیٰ ظاہر نشانیاں لے کر آئے، پس ان لوگوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہمارے (عذاب) سے نکل جانے والے نہ تھے ۔

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کے وبال میں پکڑا تو ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا اور ان میں سے کسی کو ہولناک آواز نے آپکڑا، اور ان میں سے کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کسی کو ہم نے (پانی میں) ڈبو دیا، اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے و لیکن وہ خود ہی (شرارتیں کرکے) اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ۔

)2) ان آیتوں میں فرمایا کہ عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت ہے اور ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ہے ۔ عرب کے لوگ ان کے مکانوں کو خوب جانتے پہچانتے تھے اور رات دن عرب کے لوگوں کا ان پر گزرہوتا تھا قارون بڑے خزانوں والا تھ اور فرعون شہر مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا وزیر ہامان تھا اللہ تعالیٰ نے بسبب کفر کے ہر ایک کو اس کے گناہ کے مناسب عذاب میں پکڑا، قوم عاد نے دعوی کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ، ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر ان کو مارتی تھی اور ان کو اڑا کر آسمان سے سر کے بل پٹخ دیتی تھی کہ جس کے صدمہ سے دھڑ سے سر جدا ہو کر دھڑ کھجور کے تنے کی طرح زمین پر گرپڑتا۔ اور ثمود کہ ان کی درخواست کے موافق ایک اونٹنی پتھر سے پیدا ہوئی پھر بھی وہ یقین نہ لائے کفر پر اڑے رہے ۔ حضرت صالح کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے ان کو ڈراتے کہ ہم تم کو بستی سے نکال دیں گے سنگسار کریں گے اللہ تعالیٰ نے ایک چنگھاڑ سے ہلاک کردیا، اور قارون کو کہ وہ اپنے آپ کو سب سے بہتر جانتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسادیا قیامت تک وہ دھنستا ہی چلاجائے گا اور فرعون اور اس کے وزیر ہامان کو مع اس کے لشکر کے ایک تھوڑی سی دیر میں دریا میں ڈبودیا کوئی خبردینے والا بھی باقی نہ رہا پھر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ نے تو ہر ایک کے واسطے ان کے پاس رسولوں کو بھیج دیا تھا، اور کتابیں بھی نازل فرمائیں غرض یہ کہ کوئی دقیقہ ان کے سمجھانے کا باقی نہ رکھا، مگر وہ کم بخت اپنے کفر اور جھٹلانے پر اڑے رہے اور گناہوں اور نافرمانیوں سے اپنی شرارت کے سبب سے باز نہ آئے غرض یہ کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم سے قارون تک جو لوگ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے ظلم کے طور پر بےقصور ان کو ہلاک نہ کیا، کیونکہ ظلم کو اس نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرایا ہے اس لیے ان لوگوں کو سرکشی ہلاک کے درجہ کو پہنچ گئی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔