28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمظہر القرآن

Ayah 28:1
Ayahs 28:2–4

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ1 آیتیں (جو تم پر اے محبوب وحی کی جاتی ہیں) روشن کتاب (یعنی قرآن) کی ہیں۔

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم تم پر موسیٰ اور فرعون کا کچھ قصہ سچائی کے ساتھ پڑھ کر (یعنی نازل کرے ) سناتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

بیشک فرعون نے زمین (مصر) میں تکبر کیا اور اس نے وہاں کے رہنے والوں کو کئی گروہ کر رکھا تھا، ان میں سے ایک گروہ (یعنی بنی اسرائیل) کو کمزور دیکھتا تھا ان کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور زندہ رکھتا تھا ان کی لڑکیوں کو (اپنی خدمت کے لہیے) بیشک وہ فسادی تھا۔

فرعون کا واقعہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان فرمایا کہ فرعون نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا فرعون نے مصر کے رہنے والوں کے کئی گروہ کرڈالے تھے ان میں سے ایک گروہ بنی اسرائیل کو ہر طرح سے کمزور اور ضعیف کررہا تھا اور ان سے ذلیل کام لیتا تھا بنی اسرائیل اپنے زمانہ کے لوگوں میں عزت دار تھے فرعون نے ان کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں یہیاں تک کہ فرعون ان کے لڑکوں کو ذبح کرادیتا تھ اور لڑکیوں کو چھوڑ دیتا تھا یہاں تک کہ ننانوے ہزار معصوم بچوں کو ذبح کرادیا، اور جو لڑکی پیدا ہوتی تھی اس کو خدمت کے لیے چھوڑ دیتا تھا اور یہ اس لیے کرتا تھا کہ کسی نجومی نے اس کو خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تیرے ملک کو چھین لے گا اور تیری بادشاہت کے زوال کا موجب ہوگا بیشک وہ بڑافسادی تھا کہ اس نے اس قدر معصوم جانیں ناحق تلف کیں اور اس خدا سے خوف نہیں کیا جس نے ان جانوں کو پیدا کیا۔
Ayahs 28:5–7

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے تھے کہ2 ان پر احسان کریں جو (مصر کی سر) زمین میں کمزور کردیئے گئے ہیں۔ اور ان کو ہم (لوگوں کا) پیشوا بنائیں اور ان کے ملک و مال کا ان کو وارث بنائیں۔

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ان کو زمین میں قبضہ دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو ان کمزوروں کے ہاتھ سے وہی دکھا دیں جس کا انہیں خطرہ تھا۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام فرمایا کہ موسیٰ کو دودھ پلا پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو تو اسے دریا (نیل) میں ڈال دے اور نہ تو (غرق ہونے کا) خوف کر اور نہ (مفارقت پر) غم پر، بیشک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں گے اور اس کو ہم پیغمبر بنائیں گے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون تو اپنا مکر کررہا تھ اور تم یہ ارادہ کررہے تھے کہ جو لوگ زمین میں ذلیل اور ناتواں سمجھے گئے ہیں یعنی اسرائیل پر اپنا فضل کریں اور نجات دیں اور ان کو امام بنائیں اور اس ملک کا وارث اور مالک بنائیں اور اس زمین میں ان کو قابض کردیں اور دکھائیں فرعون اور اس کے وزیر ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو اس بنی اسرائیل سے وہ چیز جس کا ڈر تھا کہ یہ ملک کہیں ہمارے قبضہ سے نہ نکل جائے فرعون تو یہ تدبیریں کررہا تھا کہ جابجا جاسوس بٹھارکھے تھے جب کسی عورت کو حمل ہوتا تھا تو وضع حمل تک نگرانی کی جاتی تھی پھر اگر لڑکا پیدا ہوتا ذبح کردیاجاتا تھا اور اگر لڑکی ہوتی تو زندہ چھوڑ دی جاتی تھی لیکن حضرت موسیٰ جب اپنی والدہ کے شکم میں تشریف لائے تو کوئی ظاہری علامت حمل کی ان میں نہ پائی جاتی تھی جیسے عورتوں میں ہوتی ہے اس کا حال کسی شخص کو بھی معلوم نہ ہوا، غرض جب حضرت موسیٰ اپنی والدہ کے شکم میں تشریف لائے تب اللہ نے ان کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ دودھ پلا اس کو اور جہاں تک تجھ سے ہوسکے اس کی پرورش کر۔ پس جب تو اس بات سے ڈرے کہ لوگ مطلع ہوجائیں گے اور ان کے رونے کی آواز سے یا اور کسی وجہ تو تو اس کو دریائے نیل میں جو ان کے مکان کے نیچے سے جاری تھا ڈال دینا، اس کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے چناچہ ان کی والدہ نے ان کو صندوق میں بند کرکے دریا میں چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اے موسیٰ کی ماں تو غرق ہونے کا اندیشہ نہ کرنا اور نہ غم کرنا کیونکہ ہم ان کو تیرے پاس ہی واپس پہنچادیں گے اور ان کو رسولوں میں سے ایک رسول بنائیں گے۔
Ayahs 28:8–9

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

پس1 فرعون کے گھر والوں نے موسیٰ کو اٹھا لیا کہ وہ ان کا دشمن اور غم کا سبب ہو۔ بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے ۔

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بی بی (حضرت آسیہ) نے فرعون سے کہا کہ یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو، شاید یہ (بڑا ہوکر) ہم کو نفع دے یا ہم اسے (اپنا) بیٹا بنا لیں اور انہیں انجام کی خبر نہ تھی۔

(ف 1) پس فرعون کے آدمیوں نے اس کو اپنا دشمن اور آزار کا باعث بنانے کے لیے حضرت موسیٰ کو مع صندوق کے دریا سے نکال لیا، جب منظورالٰہی ہوتا ہیی تو اپنے ہاتھوں سے آدمی ہلاکت کا سامان کرتا ہے ان کو کیا معلوم تھا کہ اپنی موت اپنے ہاتھوں لیتے ہیں بیشک فرعون اور ہامان اور ان کا لشکر اس بارے میں بہت خطاوار تھے فرعون کی بی بی حضرت آسیہ نے فرعون سے یہ کہا کہ یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو نہ ماروشائد کہ بڑا ہو کر ہم کو کچھ فائدہ دے کیونکہ اس کی پیشانی سے خوش نصیبی معلوم ہوتی ہے یاس کو اپنا بیٹابنالیں کیونکہ یہ بیٹا بنانے کے لائق ہے اور انہیں انجام کی خبر نہ تھی۔
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور صبح کو1 ، موسیٰ کی ماں کا دل بےصبر ہوگیا، بیشک قریب تھا کہ وہ موسیٰ کا حال ظاہر کردیتی اگر ہم اس کی دلبستگی نہ کرتے (یعنی صبر نہ دیتے) کہ اسے ہمارے وعدہ پر یقین رہے۔

(ف 1) ادھر موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل ان کی جدائی سے بےقرار ہوگیا، اور فرعون کے ہاتھوں میں جانے سے موسیٰ کی ماں نے حضرت موسیٰ کی ہمشیرہ سے کہا کہ تو اس کی خبرلا کہ اس کا کیا حال ہو، اللہ کا وعدہ سچا ہے جو ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارے پاس لوٹا کر موسیٰ کو لاؤں گا اس کو پورا کردیا۔
Ayahs 28:11–13

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور اس کی ماں نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس2 کے پیچھے پیچھے چلی جا تو وہ اس کو دور سے دیکھتی رہی اور فرعون کی قوم والوں کو خبر نہ تھی ۔

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے ہی سے موسیٰ پر سب دائیوں کا دودھ حرام کردیا تھا، پس موسیٰ کی بہن نے کہا : کیا میں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمہارے اس بچہ کو پال دیں (پرورش کریں) اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں۔

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

پس ہم نے موسیٰ کو اس کی ماں کی طرف (اپنے وعدہ کے موافق) پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کھائے اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

(ف 2) ان کی بہن نے حضرت موسیٰ کو فرعون کے آدمیوں کے پاس دیکھا اور وہ لوگ بیخبر تھے اور ہم نے سب دودھ پلانے والیوں کا دودھ ان پر حرام پہلے سے کردیا اور اس کی طبیعت میں سب کی طرف سے کر اہٹ ڈال دی کہ کسی کا دودھ نہیں پیتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو اپنا وعدہ پورا کرنا تھا، پس حضرت موسیٰ کی بہن نے جس کا نام مریم تھا کہا، کیا میں تم کو ایسی آیا بتاؤں جو اس کو اپنی سپردگی میں رکھیں، اور اس کو دودھ پلانے کے لیے ضامن ہوجائیں اور وہ اس بچہ کی خیرخواہ ہوئے کہ اس کو آرام سے رکھیں، اور دودھ پلانے کی کوتاہی نہ کریں، انہوں نے کہا وہ کون ہے کہاوہ میری ماں ہے وہ اس بچہ کو دودھ پلانے کی ضامن ہوسکتی ہیں پس فرعون نے ان کی ہمشیرہ کو حکم دیا کہ اپنی ماں کو یہاں بلاؤ، وہ اپنی ماں کو بلالائیں حضرت موسیٰ فرعون کی گود میں تھے وہ بہلاتاجاتا تھا اور وہ روتے جاتے تھے پھر حضرت موسیٰ کو انکی ماں کی گود میں دیدیا وہ اپنی ماں کو بوپہچان گئے اور دودھ پینے لگے اور ان کی اجرت مقرر کردی، ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ کو ان کی والدہ کے پاس اپنے وعدہ کے موافق پہنچا دیاتا کہ ان کی آنکھوں میں ٹھنڈک پڑے، اور اس کی جدائی میں غمگین نہ ہوں اور وہ جان لیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے۔
Ayahs 28:14–17

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب1 موسیٰ اپنی جوانی کی حد کو پہنچا اور (قوت جسمانیہ و عقلیہ سے ) درست ہوگیا تو ہم نے اس کو حکمت اور علم عطا فرمایا اور ہم نیکوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور موسیٰ شہر (مصر) میں ایسے وقت داخل ہوا کہ جس وقت شہر والے دوپہر کے خواب میں بیخبر تھے تو اس جگہ دو مردوں کو لڑتے پایا، ایک تو موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور وہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے، پس وہ جو اس کی قوم میں ٹھا، اس نے موسیٰ سے اس دوسرے پر کہ جو اس کے دشمنوں میں سے تھا مدد مانگی۔ تو موسیٰ نے اس کو گھونسا مارا تو اس کا کام تمام کردیا۔ موسیٰ نے کہا : یہ کام شیطان کی طرف سے ہوا بیشک شیطان گمراہ کرنے والا ظاہر دشمن ہے ۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

عرض کی : اے میرے پروردگار بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس مجھے بخش دے پس اللہ نے اسے بخش دیا بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کی : اے میرے پروردگار جیسا تو نے مجھ پر انعام فرمایا ہے پس اب میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک فرعونی کو مارڈالنے کا ذکر۔ (ف 1) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کانابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھرپرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قوت جسمانیہ وعقلیہ دونوں عنایت کیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے مصر سے نکل کر مدین میں جانے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے دیکھا جس میں ایک اسرائیلی تھا اور دوسرے ایک فرعونی تھا اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے فریاد کی موسیٰ نے فرعونی کے ایک گھونسا مارا جس سے وہ فرعون مرگیا تو موسیٰ نے فرمایا یہ توشیطانی حرکت سرزد ہوگئی اور شیطان کھلادشمن ہے بہکانے والا۔ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کی کہ اے رب میرے بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ چوک بخش دی، بیشک وہ بڑا بخشنے والامہربان ہے موسیٰ اس کے مرنے کے بعد پچھتائے غرض یہ کہ جب موسیٰ نے فرعونی کو مارڈالا تو صبح کے وقت راہ دیکھتے اٹھے کہ فرعونی کے وارث فرعون کے پاس فریادی گئے ہوں گے دیکھنا چاہیے کہ کس کے اوپر خون ثابت ہوا ابھی تک یہ بات پوشیدہ تھی کہ کس نے مارا کہ ناگہاں وہی شخص جس کی مدد حضرت موسیٰ نے کل فرعونی کو مارا تھا دوسرے فرعونی کے ساتھ جھگڑا کررہا تھا جب موسیٰ اس پر سے گزرے تو پھر اس نے فریاد کی موسیٰ نے خفا ہوکر اس سے کہا تو توکلا گمراہ اور بےراہ آدمی ہے ہر روز ہر ایک سے جھگڑا کرتا ہے۔
Ayahs 28:18–24

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پس موسیٰ نے صبح کی اس شہر میں ڈرتے ہوئے اس انتظار میں کہ کیا ہوتا ہے ، پس ناگہاں وہی شخص کہ جس نے کل موسیٰ سے مدد چاہی پھر فریاد کر رہا ہے، کہا1 اس سے موسیٰ نے بیشک تو کھلا گمراہ ہے ۔

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پس جب موسیٰ نے چاہا کہ گرفت کرے اس پر جو موسیٰ کا اور فریاد کرنے والے کا دشمن ہے وہ اسرائیلی کہنے لگا : اے موسیٰ ! کیا تم مجھ کو ایسا ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ کل تم نے ایک آدمی کو قتل کیا، تم تو یہی چاہتے زمین میں سخت گیر بنو اور تم نہیں چاہتے یہ کہ اصلاح کرنے والوں میں سے ہو۔

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کے پرلے کنارے سے موسیٰ کے پاس دوڑتا ہوا آیا۔ کہنے لگا کہ اے موسیٰ ! بیشک دربار والے تمہارے قتل کا مشورہ کرر رہے ہیں پس تم (یہاں سے) چلے جاؤ۔ بیشک میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

پس (یہ سن کر) موسیٰ شہر سے ڈرتے ہوئے نکلے اس انتظار میں کہ اب کیا ہوتا ہے عرض کی : اے میرے رب ! مجھے ظالموں سے بچا لے۔

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے مدین کی طرف رخ کیا، کہا : امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ بتائے ( چناچہ ایسا ہی ہوا) ۔

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب مدین کے پانی (یعنی کنوئیں) پر پہنچے تو وہاں لوگوں کے ایک گروہ کو دیکھا کہ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے اس طرف دو عورتیں دیکھیں کہ اپنے جانوروں کو روکے ہوئے ہیں۔ موسیٰ نے ان دونوں سے فرمایا تمہارا کیا حال ہے وہ بولیں کہ ہم پانی نہیں پلاتے جب تک یہ سب چرواہے پلا کر نہ ہٹا لیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں۔

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

تو موسیٰ نے ان دونوں کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف رخ کیا پس عرض کی : اے میرے پروردگار میں اس نعمت کا جو تو میرے لیے اتارے اس کا محتاج ہوں۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سفر۔ (ف 1) جب فرعونی ظالم پر حضرت موسیٰ نے ہاتھ ڈالنا چاہا تو اسرائیلی نے جانا کہ مجھے مارنا چاہتے ہو کیونکہ مجھ ہی پر خفا ہوئے ہیں اور اپنے بچانے کے واسطے کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ تم چاہتے ہو کہ جس طرح تم نے کل ایک آدمی کو مارڈالا اسی طرح مجھ کو بھی آج مارڈالو گے، اس سے پیشتر پہلے روز کا معاملہ سوائے موسیٰ اور اس اسرائیلی کے کوئی اور نہیں جانتا تھا فرعونی یہ سب سنا تو اس نے دوڑ کر فرعون سے جاکرکہا کہ کل کے روز جو تمہارا آدمی مارا گیا ہے اس کو حضرت موسیٰ نے قتل کیا ہے فرعون بہت غصہ ہوا اور موسیٰ کے مارنے کا ارادہ کیا کئی پیادے مقرر کیے کہ حضرت موسیٰ کو تلاش کرکے لاؤ، پیادوں کے آنے سے پہلے ایک شخص نے حضرت موسیٰ سے آکرکہا کہ اے موسیٰ تم اس شہر سے کہیں ارچلے جاؤ فرعونی لوگ تمہارے مارنے کی صلاح کررہے ہیں اس لیے میں نے تم کو یہ خبر دی اس شخص کا نام خرقیل تھا فرعون کے لوگوں میں سے ایک یہ ہی مسلمان تھا اس وقت موسیٰ اکیلے شہر سے باہر نکلے اور اس سے پیشتر انہوں نے کبھی سفر نہیں کیا تھا ڈرتے ہوئے شہر سے باہر نکلے۔ غرض یہ کہ مدین کی طرف متوجہ ہوکرکہامجھ کو امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھاراستہ بتائے گا جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک کنوئیں پر لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور دو عورتیں اپنے جانوروں کو روکے ہوئے الگ کھڑی ہیں حضرت موسیٰ نے ان عورتوں سے پوچھا کہ کہ تم کیوں نہیں ان کے ساتھ اپنے جانوروں کو پانی پلاتیں، انہوں نے کہا جب یہ لوگ فارغ ہوکر چلے جائیں گے تو ان کا بچا ہوا پانی ہم اپنے جانوروں کو پلائیں گے کیونکہ ہم خود تو پانی ڈول کھینچ نہیں سکتیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں جب کنوئیں پر سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاچکے تو کنوئیں کے منہ پر انہوں نے ایک پتھر رکھ دیا جس کو دس آدمی اٹھاتے تھے یہ حال دیکھ کر حضرت موسیٰ پتھر کے نزدیک آئے اور اس کو اٹھایا اور دونوں عورتوں کے جانوروں کو اچھی پانی پلادیا، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے جو مدین تک سفر کیا تو ان کے پاس کھانے کی کوئی چیزنہ تھی وہ درخت کے سایہ میں جابیٹھے، مدین فرعون کی عملداری سے باہر تھا مصر سے دس دن کے راستہ پر تھا غرض یہ کہ جب وہ دونوں لڑکیاں ہر روز کی بہ نسبت جلدی سے اپنے جانوروں کو پانی پلاکر باپ کے پاس آئیں تو باپ کو تعجب ہوا جب لڑکیوں کی زبانی سب قصہ سنا تو باپ نے ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو حضرت موسیٰ کے بلانے کو بھیجا، وہ آئی اور حضرت موسیٰ سے کہا میرا باپ تم کو بلاتا ہے کہ پانی پلانے کی اجرت دے یہ لڑکی حضرت موسیٰ کے پاس شرماتی ہوئی منہ ڈھانک کر آئی تھی۔
Ayahs 28:25–26

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پس ان دونوں میں سے ایک عورت موسیٰ کے پاس آئی کہ شرمائی ہوئی چلتی تھی ، بولی : میرا باپ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہیں اس کی مزدوری دے جو تم نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے ۔ پس1 جب موسیٰ شعیب کے پاس آئے اور سب قصہ (اپنے مصر سے آنے کا) ان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ خوف نہ کرو تم ظالم قوم سے بچ آئے۔

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی بولی کہ اے میرے باپ ! ان کو نوکر رکھ لو بیشک بہتر نوکر وہ جو طاقتور اور امانت دار ہو

حضرت موسیٰ کا حضرت شعیب سے ملاقات کرنا اور ان کی صحبت میں رہنا۔ (ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شعیب (علیہ السلام) کے پاس آئے اور انہوں نے اپنی تمام داستان بیان کی کہ جس کے سبب سے مصر سے نکلے تھے تو حضرت شعیب نے کہا اب کچھ نہ ڈرو تم ظالم قوم کے ظلم سے بچ گئے لڑکی نے کہا، اے باپ ان کو بکریاں چرانے کے واسطے نوکر رکھ لو۔ اور جب لڑکی نے یہ بات کہی کہ یہ صاحب قوت اور امانت دار ہے۔ تو باپ نے کہا تجھ کو اس شخص کی طاقت اور امانت کا حال کیونکر معلوم ہوا، اس نے جواب دیا میں کہا کنوئیں کے منہ پر سے اس پتھر کو اٹھالیا جس کو دس آدمی اٹھاتے ہیں اور جس وقت میں ان کو بلا کر لائی تو اس کے آگے آگے چلتی تھی اس نے کہا کہ میرے پیچھے پیچھے چلو، جب کوئی راستہ نیا آئے یا کئی راہیں ہوں تو جونسے راستہ پرچلنا ہو اس کی طرف کنکر پھینک دینا میں سمجھ جاؤں گا پس اس بات سے معلوم ہوگیا کہ یہ صاحب قوت اور امانت دار ہیں۔
Ayahs 28:27–28

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

شعیب نے (موسی سے1) کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک تمہارے نکاح میں دوں اس (مہر) مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کرو، پھر اگر تم دس برس پورے کردو تو وہ تمہاری طرف سے (احسان ) ہے اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ بیشک تم مجھ کو انشاء اللہ نیک لوگوں میں سے پاؤ گے۔

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ (بس تو) یہ عہد میرے اور آپ کے درمیان ہوچکا ، میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کردوں تو پھر مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں اور ہمارے اس کہنے پر اللہ گواہ (کافی) ہے۔

(ف 1) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اگر اس شرط پر راضی ہو کہ آٹھ برس یہاں مدین میں رہ کر میری بکریاں چراؤ تو ان دونوں لڑکیوں میں سے اپنی ایک لڑکی کا نکاح میں تمہارے ساتھ کردوں گا اور اس شرط سے بڑھ کر اور دو برس تم یہاں رہو تو یہ تمہارا احسان ہے دو برس کی زیادتی میں تمہارے اوپر کچھ زبردستی نہ کروں گا اور اللہ نے چاہا تو تم مجھ کو حسن واخلاق اور وعدہ کے پورا کرنے میں نیک خصلت پاؤ گے، حضرت موسیٰ نے جواب دیا یہ شرط مجھ کو منظور ہے آٹھ برس تو ضرور میں یہاں رہوں گا اس کے بعد دو برس کی زیادتی میرے اختیار پر چھوڑ دی جائے، حضرت موسیٰ کے اس جواب کے بعد معاہدہ پورا ہوگیا، اس لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ اب ہم اس معاملہ کے پورا ہوجانے کا اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاہدہ کو سچائی سے پورا کردے۔
Ayahs 28:29–31

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر1 جب موسیٰ نے اپنی میعاد پوری کردی اور اپنی بی بی کو لے کر روانہ ہوئے تو (رستہ میں کوہ ) طور کی طرف ایک آگ دیکھی، اپنی بی بی سے کہا : تم ٹھہرو، بیشک میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے پاس وہاں سے (رستہ کی) کچھ خبر لاؤں یا کوئی آگ کی چنگاری لے کر آؤں تاکہ تم تاپو۔

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

پس جب آگ کے پاس پہنچے تو ان کو اس میدان کے داہنے کنارے سے (جو موسیٰ کی داہنی جانب تھا) اس برکت والے مقام میں درخت سے ندا کی گئی کہ اے موسیٰ ! بیشک میں ہی ہوں اللہ تمام جہان کا پروردگار۔

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنا عصا (زمین پر) ڈال دے، پھر جب موسیٰ نے اسے لہراتا ہوا دیکھا گویا وہ سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چلے اور مڑ کر نہ دیکھا، (ہم نے کہا) اے موسیٰ ! سامنے آ اور ڈر نہیں بیشک تو امن والوں میں سے ہے ۔

(ف 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا، اور حضرت شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بیوی اور بکریاں تھیں جو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا، اور اندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے ، اس حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بیوی سے کہا، تم ٹھہرو، میں جاتا ہوں کہ تاکہ راستہ کی کچھ خبرلاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتاآؤں۔ جب حضرت موسیٰ آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کی جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تعجب ہوا، اتنے میدان کے داہنے کنارے کے درخت سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ میں تمام جہان کا پرورش کرنے والا اللہ رب العالمین ہوں پھر فرمایا ، اے موسیٰ تم اپنے ہاتھ کا عصا یعنی لکڑی زمین پر ڈال دو ، موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی تو وہ سانپ بن کردوڑنے لگا موسیٰ ڈر کر پیٹھ پھیری اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے موسیٰ (علیہ السلام) آگے آؤ اور ڈرو مت تم ہر طرح سے امن میں ہوں۔
Ayahs 28:32–34

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا1 ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال وہ بلا کسی عیب کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا اور خوف زدہ کرنے کو اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ لے ۔ پس یہ دو نشانیاں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف (جاؤ) بیشک وہ فاسق لوگ ہیں۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : اے میرے پروردگار بیشک میں نے ان میں سے ایک آدمی کو مار ڈالا ہے، پس میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں۔

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرے بھائی ہ اورن کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے ۔ تو اسے میری مدد کے لیے رسول بنا کہ وہ میری تصدیق کرے بیشک مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گے۔

فرعونی لوگوں پر عذاب الٰہی کا آنا۔ (ف 1) جب موسیٰ (علیہ السلام) پہلی جگہ آکھڑے ہوگئے تو پھر فرمایا اپنا ہاتھ اپنی بغل کے اندر ڈالو اور پھر نکالو وہ بلا کسی مرض کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا، پھر فرمایا، اگر لکڑی کے سانپ بن جانے سے کچھ ڈرلگے تو سینہ پر ہاتھ رکھ لینے سے یہ ڈر جاتا رہے گا، پھر فرمایا یہ دونوں معجزے ہیں اور یہ تمہارے سندیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون کی اور اس کے سرداروں کی طرف دونوں معجزے خدا نے بھیجے ہیں کہ وہ لوگ نافرمان ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ یہ دونوں معجزے لے کر فرعون کے پاس جاؤ، تو موسیٰ نے کہا کہ میں نے تو ایک فرعونی کو قتل کیا تھا، میں اندیشہ کرتا ہوں کہ جب وہ لوگ مجھ کو دیکھیں گے تو جان سے مارڈالیں گے اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے پس انکو میرے ہمراہ بھیج دے، کہ وہ میری تقریر کی تائید اور میری تصدیق کرے، کیونکہ مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ لوگ یعنی فرعون اور اس کے درباری مجھ کو جھٹلائیں گے اور میرے کلام کو رد کردیں گے۔ اور میں بوجہ زبان کی لکنت کے صاف صاف فوراجواب نہ دے سکوں گا، اس کے جواب میں فرمایا، اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم ہارون (علیہ السلام) کو تمہاری قوت بازو بنائے دیتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ ان معجزوں کے سبب سے تم کو اور تمہارے ساتھیوں پر کوئی غالب نہ آسکے گا۔
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : ہم تمہارے بازو کو تمہارے بھائی سے قوت دیں گے ،1 اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو وہ تم دونوں کا کچھ نقصان نہ کرسکیں گے ہماری نشانیوں کے سبب تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب آؤ گے۔

(ف 1) اللہ کا وعدہ سچا ہے فرعون کے ساتھ اگرچہ بہت کچھ لشکر کا جمگھٹا تھا، اور اس لشکر کے مقابلہ میں ادھر موسیٰ اور ہارون دوہی شخص تھے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے موافق ہمیشہ فرعون اور اس کے ساتھیوں پر ایسے غالب رہے کہ فرعون اور اس کے ساتھی عاجز آگئے اور باوجود اس قدر لاؤ لشکر کے دوآدمیوں کے مقابلہ نہ کرسکے، پہلے برسر میدان جادوگروں نے مقابلہ کیا اور وہ عاجز ہوکر مسلمان ہوگئے پھر قحط پڑا تو خدا کی پناہ۔ کہ جنگل میں تمام کھیت اور شہر میں تمام باغ خشک ہوگئے پھر آٹھ روز تک مینہ برسا کہ بنی اسرائیل کے محلہ میں تو ایک قطرہ پانی کا نہیں پڑا اور ہر فرعونی کے محلے میں قدآدم پانی کھڑا رہا، پھر ٹڈیوں کا بادل ایسا ہی آیا کہ جس سے بنی اسرائیل کو کچھ صدمہ نہ پہنچا، اور فرعونیوں کی زراعت ، ان کے باغ ، مکان کی چھتیں ، بدن کے کپڑے گھر کا سب سامان کھابرابر کردیا، پھر جوؤں کا وبال ایسا ہی آیا جس ہر ایک فرعونی زیست سے بےزارہوگیا پھر مینڈکوں کا عذاب ایسا ہی آیا کہ کھانے پینے میں مینڈک تھے پھر خون کا عذاب آیا کہ تمام پینے کا پانی یہاں تک کہ دریائے نیل سب خون ہی خون ہوگیا، ان عذابوں کی تفصیل سورة اعراف میں گذرچ کی ہے۔
Ayahs 28:36–37

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پس جب1 موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لائے تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو نہیں مگر بناوٹ کا جادو اور ہم نے ایسا اپنے اگلے باپ دادوں کے وقت میں نہیں سنا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے فرمایا کہ میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا اور جس کے لیے آخرت کا گھر اچھا ہوگا (یعنی جنت ) بیشک ظالم لوگ فلاح نہ پائیں گے ۔

(ف 1) جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس معجزات لے کرگئے تو انہوں نے سرکشی کی راہ سے ان معجزات کو یہ کہا کہ یہ جادو بناوتی ہے اور ہم نے اپنے باپ دادا سے کبھی یہ نہیں سنا کہ فرعون کے سوا اور کوئی خدا ہے ہم نے تو یہ بات ہمیشہ دیکھی کہ لوگ فرعون کو خدا جانتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرا پروردگار ایسے شخص کے عقبی کی بہتری کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا، یہ یاد رہے کہ مشرک لوگ کبھی فلاح نہ پائیں گے میرے اور تمہارے درمیان میں پروردگار جلد فیصلہ کرے گا۔
Ayahs 28:38–40

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ اے درباریو ! میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی خدا نہیں جانتا، پس اے ہامان ! تو میرے لیے گارا (کی اینٹیں بنوا کر ان کو ) آگ میں پکوا کر ایک (بلند) محل تیار کر تاکہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو2 جھانک آؤں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے ۔

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور فرعون اور اس کے لشکر نے ناحق زمین میں تکبر کیا اور انہوں نے گمان کیا کہ ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا نہیں ہے ۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

پس ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو پکڑ کردیا میں پھینک دیا (یعنی غرق کردیا) پس دیکھو کیسا انجام ہوا ظالموں کا۔

فرعون کے غرق ہونے کا ذکر۔ (ف 2) قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون دہریہ اور خدا کا منکر تھا اور گمراہی کے سبب سے اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کا ذکر کیا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ میرے سوا کوئی دوسراخدا تم قرار دو گے تو تم کو قید کردوں گا، اس صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملعون دہریہ اس قدر خدا کا منکر تھا کہ خدا کے نام لینے والے کو قید کے قابل مجرم گنتا تھا، اس لیے اس نے اپنے تمام اراکین کو جمع کرکے دھنڈ اور پٹوایا تھا کہ فرعون سب کا خدا ہے چناچہ اس ڈھنڈورے کا ذکر سورة والنازعات میں آئے گا، رسول اللہ نے فرمایا فرعون نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ سوا اپنے اس کو اور کوئی خدا معلوم نہیں، اور دوسری یہ کہ اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ وہی ان کا خدا ہے دوسری بات اس نے پہلی بات کے چالیس سال کے بعد کہی، اس دوسری بات کے کہتے ہی خدا کے عذاب میں گرفتار ہوگیا، وہ حضرت موسیٰ کو جھوٹاخیال کرتا تھا کہ یہ نہ تو رسول ہیں اور نہ میرے سوا کوئی خدا ہے حضرت موسیٰ کے جھوٹ کو لوگوں پر ظاہر کرنے کے لیے ہامان کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اونچامحل بناؤ کیونکہ میں حضرت موسیٰ کو جھوٹا خیال کرتا ہوں اور اس پر چرھ کر حضرت موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں جو ایک غلط بات ہے فرعون کو کبھی خدا کے وجود کا یقین نہ ہوا، وہ معجزہ کو جادوسمجھتا تھا پھر جب ڈوبنے لگاتب اس کو یقین ہوا کہ خدا ضرور ہے مگر اس وقت کے یقین سے اس کو نفع نہ ہوا، اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ جب فرعون کے حکم کے موافق یہ اونچا محل اس کے وزیر ماہان نے بنایا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اس کو اپنا پر مارکرگرادیا، جس سے بہت سے آدمی فرعون کے لشکر کے ہلاک ہوگئے اب اس محل کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکر کی سرکشی اور فرعون کے غرق ہونے کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ مشرکین کو عبرت ہوجائے کہ اللہ کے رسول کو جھٹلانے والوں کا انجام یہ ہوتا ہے۔