28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 28:41–46

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دوزخیوں1 کا پیشوا بنایا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ ہوگی۔

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگائی اور قیامت کے دن بھی وہ بدحال لوگوں میں سے ہوں گے ۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اگلی امتوں کے ہلاک کرچکنے کے بعد کتاب (یعنی توریت) عطا فرمائی جس میں لوگوں کے (یعنی بنی اسرائیل کے) دل کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت مانیں۔

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور (اے محبوب) تم (کوہ) طور کی مغربی جانب میں نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کی طرف رسالت کا حکم بھیجا اور اس وقت تم حاضر نہ تھے ۔

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

و لیکن ہم نے (موسی کے بعد) بہت سی امتیں پیدا کیں پس ان پر زمانہ دراز گزرا اور نہ تم مدین کے رہنے والوں میں مقیم تھے کہ ان لوگوں کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے، و لیکن ہم رسول بنانے والے ہوئے۔

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ تم طور کے کنارے تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کو آواز دی و لیکن تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے (جو بذریعہ وحی کے تمہیں یہ غیب کے علم دیئے) کہ تم ایسی قوم کو ڈر سناؤ جس کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا۔ یہ امید کرتے ہوئے کہ ان کو نصیحت ہو۔

(ف 1) فرعون اور حضرت موسیٰ کا قصہ تھا اس کو تمام کرکے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلے قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی راہنمائی کے لیے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث کیا، اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں۔ جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور، کتاب تورات عطا کی، جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی سمجھداروں کے لیے۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا تو خلق کی ہدایت کے لیے اے محبوب ﷺ تم کو بھیجا اور تم پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ رسولوں کے واقعات تم پر ظاہر کیے حالانکہ اے محبوب اس زمانہ میں تم موجود نہیں تھے اپنے رب کی رحمت سے رسول بنائے گئے تاکہ تم ایسے لوگوں کو ڈراؤ جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈرانے والانبی نہیں آیا، کیا عجب ہے کہ نصیحت قبول کرلیں، ان پہلی قوموں کے قصے اس واسطے سنادیے گئے کہ تمہاری قوم کے لوگوں کی بھی وہ نوبت نہ آئے کہ جس طرح وہ پہلے لوگ دنیا کی زندگی کو اچھا سمجھ کر آخرت سے بالکل غافل ہوگئے اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے لگے آخر طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے۔
Ayahs 28:47–50

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور اگر نہ ہوتا یہ کہ1 کوئی مصیبت کبھی پہنچتی سا کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو وہ کہتے کہ اے ہمارے رب، تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور (ان احکام اور رسول پر) ایمان لاتے ۔

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو کہنے لگے کہ ان پیغمبر کو کیوں نہ دیا گیا جیسا کہ موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ کیا اس کے منکر نہ ہو ئیے تھے جو موسیٰ کو پہلے دیا گیا، کہہ دیا تھا کہ دونوں جادوگر ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور کہہ دیا کہ بیشک ہم ان دونوں کے منکر ہیں۔

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

تم فرماؤ : تو اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ہدایت کرنے میں ان دونوں کتابوں (یعنی تورات اور قرآن) سے بہتر ہو میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم (اپنے قول میں) سچے ہو۔

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر وہ یہ تمہارا فرمانا قبول نہ کریں تو جان لو کہ بس وہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی نفسانی خواہش کے پیچھے چلے، بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں فرماتا۔

آنحضرت ﷺ پر مشرکین کا اعتراض۔ (ف 1) ان آیتوں میں قریش کو یوں قائل کیا کہ جب ان لوگوں میں سے کوئی رسول نہ تھا اور کوئی کتاب اللہ کی طرف سے ان پر نہ اتری تھی تو یہود اور نصاری کو اہل کتاب دیکھ کر قریش کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کا اتباع کرتے اوان احکام اور رسول پر ایمان لاتے پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق کتاب یعنی قرآن آیا تو اب ان کو مناسب تھا کہ اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے اور اس کی پیروی کرتے لیکن یہ تو نہ کیا بلکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ عصا اور یدبیضا اور دریائے قلزم کے بیچ میں سے راستہ کا معجزہ جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اسی طرح کا ظاہر آتا ہوا کوئی معجزہ آپ کو بھی خدا کی طرف سے مل جائے تو ہم ضرور آپ کو سچانبی مان لیں گے اور قریش یہ کہتے تھے کہ جس طرح حضرت موسیٰ کو ایک ہی مرتبہ پوری کتاب دیدی گئی اس طرح اس رسول پر کتاب پوری کیوں نہ اتاری گئی اب اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا پہلے موسیٰ پر جو کتاب اور معجزہ عصا، یدبیضاء دیا گیا گیا تو کیا انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا تھا اگر اپنے محبوب پر بھی اسی طرح اتارتے تو کیا ایمان لے آتے، اگر ایک ہی دفعہ کتاب کا اتار دینا ان کے ایمان کے لیے کافی ہوجاتا تو حضرت موسیٰ پر کیوں ایمان نہیں لائے۔ قریش نے کہا، یہ موسیٰ اور نبی ﷺ دونوں جادوگر ہیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور کہا بیشک ہم دونوں کے منکر ہیں۔
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور1 بیشک ہم نے اس کلام (یعنی قرآن) کو ان کے لیے مسلسل بھیجا تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے یہود مدینہ کے سرداروں کے پاس قاصد بھیج کردریافت کیا کہ کیا نبی کی نسبت کتب سابقہ میں کوئی خبر ہیی انہوں نے جواب دیا کہ حضور ﷺ کی نعت وصفت ان کی کتاب توریت میں موجود ہے جب یہ خبر قریش کو پہنچی تو حضرت موسیٰ اور نبی کی نسبت کہنے لگے کہ وہ دونوں جادوگر ہیں ان میں ایک دوسرے کے معین و مددگار ہیں موسیٰ اپنی کتاب میں لکھ گئے کہ ایک ایسا شخص پیدا ہوگا ادھر نبی ﷺ ان کی تصدیق کرتے ہیں ہم تو ان کو سچانہ جانیں گے اور نہ ان کو بلکہ دونوں کے منکر ہیں اس پر اللہ تعای نے یہ آیت نازل فرمائی اور ہمنے اس کلام یعنی قران کو ان لوگوں کی ہدایت کے لیے مسلسل بھیجا تاکہ وہ نصیحت قبول کرلیں، تو اپنی جہل سے اعتراض کردیتے تھے کہ قرآن ایک دفعہ کیوں نہ اتارا گیا یہ نہیں جانتے کہ ہماری حکمت ہے کہ قرآن کی آیات یکے بعد دیگرے ہم اس لیے نازل کرتے ہیں کہ وہ خوب غور کرکے سمجھ لیں، اور ہر روز ایک نئے فائدہ اور نئی حکمت سے فیض اٹھائیں۔
Ayahs 28:52–55

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن کو1 ہم نے قرآن سے پہلے (آسمانی) کتاب دی وہ اس (قرا ان) پر ایمان لاتے ہیں۔

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب یہ قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہی حق ہے ہمارے پروردگار کی طرف سے بیشک اس کے نزول سے پہلے ہی (رسول کو) مانتے تھے۔

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو دوگنا اجر دیا جائے گا اس سبب سے کہ انہوں نے صبر کیا اور یہ لوگ بھلائی سے برائی کو دفع کرتے ہیں اور ہم نے (جو) (مال) ان کو دیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب کوئی بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں (کچھ جواب نہیں دیتے) اور کہتے ہیں : ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ، پس تم پر سلا ! ہم جاہلوں کے غرضی نہیں۔

(ف 1) شان نزول : یہ آیت مومنین اہل کتاب حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے صحابہ کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ان اہل انجیل کے حق میں نازل ہوئی جو حبشہ سے آکرنبی ﷺ پر ایمان لائے یہ چالیس حضرات تھے جو حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ آئے جب انہوں نے مسلمانوں کی حاجت اور تنگی معاش دیکھی تو بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ہمارے پاس مال ہے نبی ﷺ اجازت دیں تو ہم واپس جاکر اپنے مال لے آئیں، اور ان مسلمانوں کی خدمت کریں۔ نبی ﷺ نے اجازت دی اور وہ جاکر اپنے مال لے آئے اور ان سے مسلمانوں کی خدمت کی ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ، ابن عباس نے فرمایا کہ یہ آیتیں انہیں اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئیں جن میں چالیس نجران کے اور بتیس حشبہ کے اور آٹھ شام کے تھے۔
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

بیشک1 (اے محبوب) تم (اپنی طرف سے) جس کو چاہو ہدایت نہیں کرسکتے، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے اور ہدایت پانے والوں کو وہ خوب جانتا ہے ۔

ابوطالب کے ایمان لانے کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ان سے ان کی موت کے وقت فرمایا، اے چچا کہہ دو ، لا الہ الا اللہ وہ کلمہ کہ اس کو خدا کے سامنے تمہاری بخشش کے لیے حجت پیش کرسکوں، کہا، اے میرے بھتیجے میں یہ جانتا ہوں ہوں کہ تم سچے ہو لیکن اس بات سے ڈرتا ہوں کہ لوگ کہیں گے کہ مرتے وقت اپنے قدیمی دین کو چھوڑ کر بھتیجے پر ایمان لے آیا، اس کے بعد انہوں نے یہ شعر پڑھے جس کا ترجمہ یہ ہے میں یقین سے جانتا ہوں کہ محمد ﷺ کا دین تمام جہانوں کے دینوں سے بہتر ہے اگر ملامت وبد گوئی کا اندیشہ نہ ہوتاتو میں نہایت صفائی کے ساتھ اس کو قبول کرتا، اس کے بعد ابوطالب کا انتقال ہوگیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے محبوب کو تسلی فرمائی۔ کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے جنتی اور دوزخی اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے قرار پاچکے ہیں اس لیے جو شخص دائرہ اسلام میں داخل نہ ہو تو اس کا کچھ رنج نہیں کرنا چاہیے۔
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کفار2 کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہوکر ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے (وطن کی سر) زمین سے اچک لیے (یعنی نکالے) جائیں، کیا ہم نے انکو امن والے حرم میں جگہ نہیں دی، جہاں ہر قسم کے پھل روزی کے لیے ہماری طرف سے پہنچائے جاتے ہیں و لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(ف 2) شان نزول : یہ آیت حارث بن عثمان بن نوفل بن عبدمناف کے حق میں نازل ہوئی۔ اس نے رسول کریم سے کہا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ سچے ہیں اور آپ کی تابعداری میں ہماری بھلائی ہے مگر ہمیں ڈر ہے کہ عرب لوگ شہر بدر کردیں گے اور ہمارے وطن میں نہ رہنے دیں گے اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا حرم کو جب سب عرب اس کی حرمت جانتے ہیں تو کیونکرنکال دیں گے اور کس طرح تم کو قتل کریں گے جو تم اس بات کا خوف کرتے ہو، اب تو تم کفر کی حالت میں ہو اور امن سے اور آرام سے ہو کہ تم ملکوں کے پھل اور طرح طرح کے میوے اور دنیا کی نعمتیں کھاتے ہو، کیا جب ایمان لے آؤ گے اس وقت خدا تم کو امن سے نہ رکھے گا لیکن وہ اس بات کو نہیں جانتے، اگر جانتے تو ایمان لانے میں کیوں دیر کرتے ان کو تو مناسب یہ تھا کہ ہم سے خوف کرتے اور لوگوں سے امن میں رہتے وہ بغیر ہمارے حکم کے کیا کرسکتے ہیں انہوں نے الٹا کیا کہ ہم سے تو کچھ بھی خوف نہیں کیا اور لوگوں سے ڈرتے ہیں اور ہماری قدرت کاملہ اور ہمارے غضب سے بھی تو ڈرے ہوتے کہ ہم نے کیسے کیسے شہر بسبب ان کی نافرمانی اور سرکشی کے نیست اور نابود کرڈالے۔
Ayahs 28:58–61

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور ہم1 نے بہت سی بستیاں ہلاک کردیں جو اپنے عیش پر اترا گئی تھیں، پس یہ ان کے گھر (اجڑے ہوئے) پڑے ہیں کہ جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد ہوئے اور ہم ہی (ان کے) وارث بنے۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا۔ جب تک ان (بستیوں ) کے صدر مقام میں رسول نہ بھیجے جو ان کو ہماری آیتیں سنائے اور ہم بستیوں کے ہلاک کرنے والے نہیں مگر سی حال میں کہ وہاں رہنے والے ظالم ہوں۔

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو کچھ چیز تم کو دی گئی ہے پس وہ محض دنیا کی زندگی کا برتاوا اور اس کی آرائش ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بدرجہا بہتر اور باقی رہنے والا ہے ، پس کیا تمہیں (اتنی بھی) عقل نہیں۔

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

پس کیا وہ شخص جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا (یعنی جنت) پھر وہ اسے پانے والا ہے ، کیا وہ شخص اس جیسا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا، پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ اور بہت سی بستیاں ہم نے ہلاک کرڈالیں، کہ ان کے رہنے والوں نے اپنی زندگی میں سرکشی کی تھی، پس جس بستی نے ہمارا کفران نعمت کیا اور عیش و عشرت میں ہمارے احکام کو پس پشت ڈال دیا ہم نے ان کو ایسا برباد اور ہلاک کیا کہ آج صفحہ ہستی پر ان کانشان تک باقی نہیں ہے۔ لیکن ہلاک کرنے سے قبل یہ ہم نے ضرور کیا ہے کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجے ہیں کہ وہ ہمارے احکام انہیں پڑھ کرسنائیں، جب ان لوگوں نے پشت پھیری اور نافرمانی کی، تو ہم نے ان کو ہلاک وبرباد کردیا، آگے فرمایا جو کچھ چیز تم کو دنیا میں دی گئی ہے تو وہ محض چند روزہ دنیا میں دی گئی ہے تو وہ محض چند روزہ دنیا کی زندگی کا برتاوا اور اس کی زینت ہے اور جو کچھ ثواب اللہ کے ہاں ہے وہ اس سے بدرجہا بہتر اور باقی رہنے والا ہے تو کیا تم اتنی بھی عقل نہیں رکھتے کہ جس شخص سے جنت کا ہم نے وعدہ کیا ہے پھر وہ اسے پانے والا ہے کیا وہ شخص اس جیسا ہوسکتا جسے ہم نے دنیا کی چند روزہ زندگی کا فائدہ دیا پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔
Ayahs 28:62–64

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور جس دن اللہ ان کافروں کو آواز دے گا پس فرمائے گا : کہاں ہیں1 میرے وہ شریک جن کا تم گمان کرتے تھے۔

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

وہ کہیں گے جن پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا : اے ہمارے رب یہ ہی وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا ہم نے ان کو گمراہ کیا جیسے خود گمراہ ہوئے تھے ہم ان سے بیزار ہوکر تیری طرف رجوع لاتے ہیں وہ ہمیں نہیں پوجتے تھے ۔

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور (اس وقت ان مشرکین سے) کہا جاوے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو پس وہ ان کو پکاریں گے : وہ ان کی سنیں گے اور (جب) یہ لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو تمنا کریں گے : کیا اچھا ہوتا اگر وہ (دنیا میں) راہ پاتے۔

توحید کابیان (ف 1) ان آیتوں میں ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ اللہ کے شریک جن کا تم کو دنیا میں بڑاگھمڈ تھا کیا وہ عذاب سے بچانے میں تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں پھر فرمایا کہ بہکانے والے کہیں گے اے رب ہمارے یہ لوگ ہیں جن کو بہکایا ہم نے جس طرح ہم بہکے پھر اپنے پوجا کرنے والوں سے بےزاری ظاہرکریں گے پھر مشرکوں سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو تو بلاؤ کہ وہ تم کو اس عذاب سے بچاویں ، یہ مشرک ان کو پکاریں گے لیکن کچھ مشرکوں سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو تو بلاؤ کہ وہ تم کو اس عذاب سے بچاویں، یہ مشرک ان کو پکاریں گے لیکن کچھ جواب نہ دیں گے اور جب دیکھیں گے کہ عذاب اس وقت یہ آرزو کریں گے کہ ہم بھی کاش دنیا میں ہدایت پانے والوں میں سے ہوتے تو یہ عذاب کیوں دیکھتے۔
Ayahs 28:65–74

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور1 جس دن خدا ان کافروں کو پکارے گا پس فرمائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا ؟

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

پس اس دن دن پر خبریں اندھی ہوجائیں گی (اور کوئی عذر ان کو نظر نہ آئے گا) پس وہ ایک دوسرے سے (بسبب دہشت کے) کچھ پوچھ گچھ نہ کریں گے ۔

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

پس وہ جس نے (کفر و شرک سے دنیا میں) توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل کیے اچھے تو امید ہے کہ وہ (آخرت میں) نجات پانے والوں میں سے ہوں۔

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جس چیز وک چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے پسند فرماتا ہے ان کا کچھ اختیار نہیں ہے، اللہ پاک ہے اور بلند تر ہے اس سے جنہیں یہ شریک بناتے ہیں۔

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی تعریف نیا اور آخرت میں ہے ۔

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

اور اسی کا حکم ہے اور سی کی طرف (تم سب لوگ مرنے کے بعد) لوٹائے جاؤ گے ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک رات ہی رہنے دے تو خدا کے سوا کون اللہ ہے جو تمہارے پاس روشنی کو لے آئے، پس کیا تم (امر حق ) نہیں سنتے ہو۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک دن ہی رہنے دے تو خدا کے سوا کون اللہ ہے جو تمہارے پاس رات کو لے آئے جس میں تم آرام کرو، پس کیا تمہیں سوجھتا نہیں۔

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ رات میں آرام کرو اور تاکہ دن میں اللہ کا فضل (یعنی روزی) تلاش کرو اور تاکہ (ان نعمتوں پر) تم (اللہ کا) شکر کرو۔

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور جس دن کہ اللہ ان کو پکارے گا پس فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ میرے شریک جن کا تم گمان کرتے تھے ۔

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنے سامنے کھڑا کرکے ان سے پوچھے گا کہ بتلاؤ تم لوگوں نے اللہ کے رسولوں کی فرمانبرداری کی تو ان کے ہوش اڑجائیں گے اور ان کو جواب تک نہ آئے گا یہ توحید اور اطاعت رسول کا سوال گویا آخری سوال ہے ۔ جو میدان قیامت میں خاص اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوگا اور یوں تو توحید اور اطاعت رسول کی پرسش آدمی کو قبر میں دفناتے ہی شروع ہوجاتی ہے چناچہ دفنانے والے لوگ ابھی قبرستان سے پلٹ کر بھی نہیں آتے کہ منکرنکیر یہ دوفرشتے مردہ کے پاس آن کر اس سے توحید اور اطاعت رسول کا سوال کرتے ہیں ۔ جو شخص توحید اور اطاعت رسول پر ثابت قدم دنیا سے اٹھا ہے وہ ان کے سوال کا جواب پورا پورا دیتا ہے اور طرح طرح کی راحت ایسے شخص کے لیے اس وقت سے پیدا ہوجاتی ہے اور جو توحید اور اطاعت رسول میں جھوٹا ہے وہ ان کے سوال کے جواب کے وقت ہائے ہائے کرکے رہ جاتا ہے اور اس وقت سے طرح طرح کے عذاب میں گرفتار ہوجاتا ہے غرض تھوڑے دنوں کی دنیا کی زیست ہے اور اس زیست میں کمائی کی چیز توحید اور اطاعت رسول سے بڑھ کر کوئی نہیں اللہ سب کو اس کمائی کا شوق دے، جب سب نبی اور امتیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہوں گے تو پہلے ہر ایک امت کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم کو تمہارے نبی نے اللہ کی وحدانیت اور شرک سے بچنے کی جو نصیحت کی تو تم لوگوں نے اس نصیحت پر کیا عمل کیا۔ اس کا جواب نہ ہر ایک مشرک کو خود سوجھے گانہ ایک دوسراعزیز قریب کچھ مدددے سکے گا غرض اس موقع پر جنہوں نے مرنے سے پہلے شرک چھوڑ کر نیک عمل دنیا میں کرلیے ان کو نجات کی امید ہوسکتی ہے ورنہ ایسے موقع پر مشرک کو اپنی نجات کی کچھ امید نہ رکھنی چاہیے ۔ روایت ہے کہ مشرکین عرب کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان محمد ﷺ کو کیوں نبی بنایا۔ مناسب تو یوں تھا کہ عرب کے کسی سردار کو نبی بنایاجاتا جیسے ولید بن مغیرہ کہ مکہ کے بڑے بزرگ ہیں یاعروہ بن مسعود ثقفی کہ طائف کے سردار ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے خام خیال کا جواب دیاتا ہے کہ خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جیسے اس کے پیدا کرنے میں کسی کو دخل نہیں ہے وہ خود مختار ہے کسی کو ان باتوں میں کچھ دخل نہیں اس پر کوئی حکومت کرنے والا نہیں، وہ سب کا حاکم ہے وہ دنیا کے بادشاہوں کی طرح بادشاہ نہیں کہ کسی کی رائے اور مشورہ کی اس کو ضرورت ہو، اس کے سب کام حکمت سے ہیں تم اس کی حکمتوں پر کب مطلع ہوسکتے ہو، جب سب مخلوقات اس کے روبرو کھڑی ہوگی تو ان مشرکوں کو اپنی اس بکواس کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اب آگے رات دن کو نعمت کا احسان جتلایا کہ اگر خدا رات دن کا موجود انتظام درہم برہم کردے وان کے بتوں میں یہ قدرت نہیں کہ اس ہرج کے رفع کرنے میں اللہ کے انتظام کے موافق پھر رات دن قائم کردیں، یہ تو ان کے بتوں اور شیاطینوں کی عاجزی کا حال ہے اس کی مہربانی ہے کہ تم پر اس نے تمہارے لیے رات دن بنائیے ، رات میں تو آرام اور چین کرتے ہو اور دن میں اپنے اللہ کے فضل سے روزی کی تلاش کرتے ہو، یہ احسانات اللہ تعالیٰ نے کیے تاکہ تم اس کا شکر کرو، رات دن میں مختلف عبادات کے ساتھ اور اس کی نعمتوں پر بھی تم اللہ کا شکر کرو۔
Ayah 28:75

وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 28:75 in the Quran reader

اور ہم1 ہر گروہ میں سے ایک گواہ نکالیں گے پھر ہم کہیں گے کہ اپنی دلیل لاؤ، پس وہ جان لیں گے کہ حق اللہ ہی کا ہے اور (دنیا میں) جو کچھ افترا کرتے تھے (آج) ان سے گم ہوجائے گا۔

قیامت میں رسولوں کی گواہی ۔ (ف 1) مشرکین قیامت کے دن اللہ سے یہ کہیں گے کہ یا اللہ ہم کو کسی نبی نے تیرا کوئی حکم نہیں پہنچایا اس پر اللہ تعالیٰ ہر ایک نبی سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے دنیا میں احکام پہنچائے تھے وہ کہیں گے کہ ہاں، ہم نے تو ان کو ہر طرح کا حکم پہنچادیا تھا، کفار کہیں گے ہرگز نہیں تمام رسولوں کی طرف سے رسول کریم اور آپ کی امت پیش ہوگی اور شہادت دیں گے کہ اے اللہ ہر ایک نبی نے اپنی امت کو اللہ کا حکم پہنچایا تھا اللہ تعالیٰ ان گواہی دینے والوں سے پوچھے گا کہ تم کو کیا خبر کہ ہر ایک نبی نے اپنی امت کو اللہ کا حکم پہنچادیا تھا وہ جواب دیں گے کہ دنیا میں ہمارے آقا سردار دوجہاں محمدرسول اللہ نے قرآن کے ذریعہ خبر دی تھی کہ دنیا میں ہر ایک نبی ظاہر ہوئے اور انہوں نے تبلیغ احکام کا پورا کام کیا اس پر بھی جب کافر نہ مانیں گے تو خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال بد کی شہادت دیں گے۔
Ayahs 28:76–78

اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ Open ayah 28:76 in the Quran reader

بیشک2 قارون موسیٰ کی قوم سے تھا، پس اس نے (کثرت مال کیو جہ سے ) ان پر زیادتی کی اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک قوت والی جماعت پر بھاری تھیں، جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ تو (اس مال و حشمت پر) اترا نہیں بیشک اللہ اترانے والوں (غرور کرنے) کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:77 in the Quran reader

اور جو مال تجھ کو اللہ نے دیا ہے اس سے اپنے لیے آخرت کی اصلاح تلاش کر اور دنیا میں اپنا حصہ (آخرت میں لے جانا) نہ بھول (یعنی اعمال صالحہ) اور جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی (بندوں کے ساتھ) احسان کر، اور زمین میں فساد کرنے کی خواہش نہ کر، بیشک اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ١ؕ اَوَ لَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّ اَكْثَرُ جَمْعًا١ؕ وَ لَا یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 28:78 in the Quran reader

(قارون یہ سن کر) کہنے لگا کہ یہ تو سب کچھ ایک علم سے ملا ہے جو میرے پاس ہے کیا اسے یہ نہیں معلوم کہ بیشک اللہ نے اس سے پہلے وہ امتیں ہلاک کر ڈالیں جو قوت (مال) میں اس سے زیادہ اور جمعیت میں بہت زیادہ تھیں، اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے (تحقیق کرنے کی غرض سے) پوچھ نہ ہوگی۔

قارون کا عبرتناک واقعہ۔ (ف 2) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا جیسے سامری منافق تھا، کثرت مال کے سبب سے اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا تھا اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدرخزانے دیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی جماعت پر بھاری تھیں وہ کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا اسقدر خزانے کی وجہ سے وہ اترا گیا اور جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ مت اترا اپنے مال و حشمت پر، کیونکہ اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے اور جو تجھ کو خدا نے دیا ہے اس سے اپنے لیے آخرت کی اصلاح تلاش کر، اور دنیا سے اپناحصہ آخرت میں لے جانا نہ بھول ، اس مال میں سے تیسرا حصہ اللہ کی اطاعت میں خرچ کر، مرنے کے بعد صرف ایک کفن ہے کیا سب اس مال کو قبر میں لے جائے گا، اور خدا کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کر، جیسے خدا نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے اور دنیا میں فساد نہ کر، اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا، اس کے بعد قارون نے اپنی قوم کے لوگوں کی نصیحت کا یہ جواب دیا کہ یہ مال مجھ کو میری عقل مندی کے سبب سے ملا ہے میں مال کماناجانتا ہوں اس لیے مجھ کو یہ مالداری کی فضیلت ملی ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیا اس کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہلاک کرچکا ہے پہلے لوگ جو قارون سے قوت اور مال میں زیادہ تھے مثلا فرعون کہ وہ قوت اور مال میں زیادہ تھا اگر مال اوقوت باعث فضیلت ہوتے تو اس کو اللہ تعالیٰ ہلاک نہ کرتا، پھر فرمایا کہ مجرموں سے ان کے گناہوں کا سوال نہ کیا جائے گا بلکہ ان کے ہاتھ پاؤں سے گواہی لے کر ان کا فیصلہ ہوجائے گا۔