28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 28:79–84

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 28:79 in the Quran reader

تو (ایک روز)1 قارون اپنی قوم پر اپنی آرائش میں نکلا کہا انہوں نے جو دنیا کی زندگی چاہتے تھے : اے کاش ! کسی طرح ہم کو بھی ایسا ہی ملتا جیسا قارون کو ملا، بیشک وہ بڑے نصیب والا ہے ۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١ۚ وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ Open ayah 28:80 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ (ان حریصوں سے) کہنے لگے کہ تمہاری خرابی ہو اللہ کا ثواب (اس سے ) بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ (ثواب) ان ہی کو ملتا ہے جو (دنیا کی حرص و طمع پر) صبر کرنے والے ہیں۔

فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ Open ayah 28:81 in the Quran reader

پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو (اس کی شرارت بڑھ جانے سے) زمین میں دھنسا دیا پھر اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی ، اللہ (کے عذاب) سے بچانے میں اس کی مدد کرتی ۔

وَ اَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْكَاَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ١ۚ لَوْ لَاۤ اَنْ مَّنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا١ؕ وَیْكَاَنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 28:82 in the Quran reader

اور نہ وہ (موسی سے) بدلہ لے سکا اور کل جو لوگ اس کے مرتبہ کی آرزو کر رہے تھے وہ صبح (قارون کو زمین میں دھنستا دیکھ کر) کہنے لگے : بس جی ! معلوم ہوا کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے رزق کو کشادہ کرتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے ، گر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہم کو بھی دھنسا دیتا، بس معلوم ہوا کہ کافروں کو فلاح نہیں ہوتی۔

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 28:83 in the Quran reader

(دنیا تو سرائے ہے مگر) یہ آخرت کا گھر (یعنی جنت) ہم ان لوگوں کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اور عاقبت (کی خوبی) پرہیزگاروں کے لیے ہے ۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 28:84 in the Quran reader

جو شخص (قیامت کے دن) نیکی لے کر آوے تو اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ ہے اور جو کوئی بدی لائے تو بد کام کرنے والوں کو بدلہ نہ ملے گا مگر جتنا وہ کرتے تھے۔

قارون کا دھنسنا۔ (ف 1) ایک روز اپنی قوم کے روبروبڑی تیاری و سامان زیوروں سے آراستہ ریشمی لباس پہنے گھوڑوں پر سوار نکلاجب دنیا کے طلب گاروں نے یہ دیکھا تو تمنا کی کہ کس طرح ہم کو بھی ایسا ہی سامان ملتا۔ اور یہ بھی ان دنیا کے طلب گاروں نے کہا کہ قارون بڑانصیبے والا ہے۔ جب ان کی یہ بات قوم کے علم والوں نے سنی تو کہنے لگے کہ کیوں خرابی میں پڑتے ہو اللہ کا دیا ہواثواب دنیا کے مال ومتاع سے ہزار درجہ بہتر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے گھروالوں کو زمین کے اندر دھنسادیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ، حضرت موسیٰ پر جب خدا کی طرف سے زکوۃ کا حکم آیا کہ دسواں حصہ مال کا ادا کریں حکم الٰہی سے حضرت موسیٰ نے قارون سے اس بات پر فیصلہ کیا کہ ہزار دینار میں سے ایک دینار ، اور ہزار درہم میں سے ایک درہم اور ہزاربکریوں میں سے تو ایک بکری دیدیاکر، جب اس نے زکوۃ کا حساب جوڑا تو بہت مال ہوا اور اس کی حرص اور بخل اس پر غالب آگیا، اس قدر مال جی سے نہ چھٹا، اپنے لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ تم نے حضرت موسیٰ کی ہر بات میں تابعداری کی اب وہ چاہتا ہے کہ تمہارا مال بھی چھین لے ، وہ لوگ کہنے لگے کہ توہمارابڑا ہے اب تو جو کہے وہ کریں، قارون نے کہا کہ یہ میری صلاح ہے کہ اس کو بنی اسرائیل میں بدنام کرادوں تاکہ پھر لوگ اس کے کلام کو نہ سنیں، پس اس نے حکم دیا کہ فلاں بدکار عورت کو بلاؤ ہم اس کو کچھ انعام مقرر کردیں وہ حضرت موسیٰ کو اپنے سے زنا کی تہمت لگادے، جب وہ عورت ایسا کرے گی تو بنی اسرائیل موسیٰ کو چھوڑ دیں گے اور قارون نے اس عورت کے لیے ہزار دینا ایک زریں طشت انعام میں مقرر کیا کہ جب بنی اسرائیل کا عید کے دن جمع ہو ویں تو ایسا کیجئے جب کل ہوئی تو لوگ جمع ہوئے اور موسیٰ خطبہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے اور خطبہ میں کہنے لگے کہ اگر کوئی چوری کرے گا ان کا ہم ہاتھ قطع کریں گے جو بہتان لگائے گا اس کے اسی کوڑے لگائے جائیں اور جو زنا کرے گا اس کے اگر بی بی ہو تو اس کو سنگسار کیا جائے گا یہاں تک کہ مرجائے قارون کہنے لگا کہ یہ حکم سب کے لیے ہے خواہ آپ ہی ہوں۔ فرمایا خواہ میں ہی ہوں کہنے لگے کہ آپ نے فلاں بدکار عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے حضرت موسیٰ نے فرمایا اسے بلاؤ وہ آئی تو حضرت موسیٰ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے بنی اسرائیل کے لیے دریا یاپھاڑا ، اور اس میں راستے بنائے اور توریت نازل کی، سچ کہہ دے، وہ عورت ڈر گئی اور اللہ کے رسول پر بہتان لگانے اور انہیں ایذادینے کی جرات نہ ہوئی اور اس نے اپنے دل میں کہا کہ اس سے توبہ کرنا بہتر ہے۔ اور حضرت موسیٰ سے عرض کیا کہ جو قارون کہلانا چاہتا ہے اللہ کی قسم یہ بات جھوٹ ہے اور اس نے آپ پر تہمت لگانے کے عوض میں میرے لیے بہت مال کثیر مقرر کیا ہے ۔ موسیٰ اپنے رب کے حضور میں روتے ہوئے سجدہ میں گرے اور یہ عرض کرنے لگے ، یارب اگر میں تیرا رسول ہوں تو میری وجہ سے قارون پر غضب نازل فرما، اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کی کہ میں نے زمین کو آپ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا ہے آپ اس کو جو چاہیں حکم دیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے قارون کی طرف بھیجا ہے جیسا فرعون کی طرف بھیجا تھا جو قارون کے ساتھ رہنا چاہے وہ ان کے ساتھ رہے اور جو میرے ساتھ ہو وہ علیحدہ ہوجائے سب لوگ قارون سے جدا ہوگئے اور سوا دو شخصوں کے کوئی اس کے ساتھ نہ رہا، پھر حضرت موسیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ انہیں پکڑ لے تو وہ گھٹنوں تک دھنس گیا پھر آپ نے یہی فرمایا تو کمر تک دھنس گیا پھر آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ گردن دھنس گیا اور زمین برابر ہوگئی پس سوائے خدا کے کوئی گروہ اس کا مددگار بن کر نہ آیا، نہ وہ ہمارے عذاب سے بچ سکا فرمایا جو لوگ کل اس کے مرتبہ کی گمنا کرتے تھے صبح قارون کو زمین میں دھنسا دیکھ کر یہ کہنے لگے خدا پنے بندوں میں سے جس ک لیے چاہتا ہے زمین تنگ کردیتا ہے اگر خدا ہمارے اوپرمہربانی نہ کرتا تو ہم بھی زمین میں دھنسا دیتا اچھا ہوا، پس معلوم ہوا کہ کافروں کی فلاح نہیں ہوتی۔ دنیاتوسرائے ہے مگر یہ آخرت کا گھر ہم خاص ان کو ہی دیتے ہیں جو دنیا میں سرکش و ظالم نہیں ہوتے اور خوبی عافیت کی پرہیزگاروں کے لیے ہے جو شخص قیامت کے دن نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور جو کوئی بدی لائے گا تو بدی کرنے والوں کو اسی قدر سزادی جائے گی۔
Ayahs 28:85–88

اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 28:85 in the Quran reader

بیشک جس نے تم پر قرآن (کی تلاوت و تبلیغ1 اور اس کے احکام) کو فرض کیا ہے وہ تمہیں پھر لے جائے گا جہاں پھرنا چاہتے ہو (یعنی مکہ مکرمہ میں) تم فرماؤ : میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو ہدایت لایا اور جو صریح گمراہی میں ہے اور تم امید نہ رکھتے تھے ۔

وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘ Open ayah 28:86 in the Quran reader

کہ تم پر کتاب بھیجی جائے گی مگر تمہارے پروردگار نے رحمت فرمائی۔ پس تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ ہونا۔

وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 28:87 in the Quran reader

اور تمہیں یہ (کافر) اللہ کی آیتوں ( کی تبلیغ) سے نہ روکیں بعد اس کے کہ وہ تمہاری طرف اتاری گئی اور تم لوگوں کو (اپنے رب کی راہ کی) طرف بلاؤ اور ہرگز شرک والوں میں نہ ہونا۔

وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١۫ كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ١ؕ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 28:88 in the Quran reader

اور اللہ کے ساتھ دسرے کو معبود (سمجھ کر) نہ پکارنا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں بجز اس کی ذات کے اسی کا حکم ہے اور اسی کے پاس تم سب لوٹائے جاؤ گے (پس سب کو ان کے عمل کی جزا دے گا) ۔

توحیدکابیان۔ (ف 1) ان آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی نصیحت سن کر راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی پر جمنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے اے محبوب تم اپنا کام تبلیغ کا کیے جاؤ، قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان گمراہی پر جمے رہنے والوں سے سوال کرے گا تو یہ پچھتائیں گے پھر فرمایا اے محبوب تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میرا پروردگار خوب جانتا ہے اس کو جو ہدایت پر ہے اور جو کھلاگمراہ ہے اور تم امید بھی نہیں رکھتے کہ تم پر خدا کی کتاب بھیجی جائے گی مگر محض تمہارے پروردگار کی مہربانی سے نازل کی گئی ہے پھر تم کافروں کے مددگار نہ ہونا کہ یہ کافر تم کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی نصیحت سے نہ روک دیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا بول بالا کرنے والا ہے اس لیے تم لوگوں کو اس معبود کی عبادت کی رغبت دلاؤ جو وحدہ لاشریک ہے اس کے بعد اپنے محبوب کو مخاطب کرکے مشرکوں کو جتلایا کہ سو اللہ کے اور کسی کی عبادت صحیح نہیں ہے کیونکہ سو اس کی ذات پاک کے اور سب کو فنا ہے پھر فنا ہونے والی چیز عبادت کی لائق نہیں ہے اسی کے ہاتھ میں جزا اور سزا ہے بلکہ جزاوسزا کے لیے سب اسی ذات پاک کے روبرو ایک دن حاضر کیے جائیں گے۔