27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 27:1–5

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس۔ یہ1 آیتیں ہیں قرآن اور روشن کتاب کی۔

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

مسلمانوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ لوگ جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں (تو یہ جنت والوں کی صفت ہے اور)

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے، ہم نے ان کے اعمال (بد) ان کی نظر میں بھلے کر دکھائے ہیں پس وہ بھٹک رہے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو بڑا عذاب ہے اور یہی وہ لوگ ہیں کہ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔

(ف 1) فرمایا کہ یہ آیتیں جو اس سورت میں ہیں قرآن اور کتاب روشن کی آیات ہیں کسی شاعر کا کلام نہیں کتاب مبین سے مراد یہی قرآن ہے مگر کتاب مبین کہنے سے یہ بات بتلانی مقصود ہے کہ قرآن مجید میں کوئی بات بعید ازعقل نہیں سب باتیں اس کی صاف اور ظاہر ہیں جن کو ہر ایک صاحب عقل سلیم تسلیم کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں کرسکتا مگر وہی کہ جس کے دل کی آنکھیں روش نہیں اور جو کو رباطن ہے یہ کتاب ہدایت اور بشارت ہے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لاکر اس پر عمل کرتے ہیں اس سے نفع یاب وہی ہوتے ہیں جن میں ہدایت کا مادہ ہے پھر آگے یہ بھی کھول دیا کہ زبان سے مومن کہنا کافی نہیں جب تک کہ اس میں یہ اوصاف نہ پائے جائیں جو مسلمان نماز قائم کرتے ہیں اس طرح سے کہ اس کی ساری شرطوں اور قاعدوں سے نماز کو ادا کرتے ہیں اور زکوۃ دیا کرتے ہیں زکوۃ شرع میں مال میں سے چالیسواں حصہ خدا کے نام پر دیاجاتا ہے اور آخرت پر یقین بھی رکھتے ہیں تو یہ جنت والوں کی صفت ہے پھر فرمایا کہ وہ لوگ جو آخرت کو نہیں مانتے ہم نے ان کے اعمال بد ان کی نظر میں بھلے کردکھائے پس وہ بھٹکتے رہتے ہیں آخرت اور مرنے کا تصور بھی برا جانتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے دنیا میں برا عذاب ہے اور وہ لوگ آخرت میں بھی بڑے ہی خسارے میں ہوں گے کیونکہ جب یہ اس کے منکر ہیں تو اس دن کے لیے کوئی توشہ کیوں جمع کرنے لگے۔
Ayahs 27:6–7

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور1 بیشک تم کو ایک بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے قرآن دیا جارہا ہے ۔

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

(یاد کرو) جبکہ موسیٰ نے اپنی بی بی سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں بھی (جاکر) وہاں سے (یا تو رستہ کی) کوئی خبر لاتا ہوں یا تمہارے پاس (وہاں سے) آگ کی چنگاری لاؤں گا تاکہ تم تاپو۔

حضرت موسیٰ کا واقعہ۔ (ف 1) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے محبوب تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایاجوحکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور علم والا ہے تمام امور میں، اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا، جب موسیٰ اپنی بی بی کو ساتھ لے کر مدین سے مصر کو آرہے تھے تواندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے اور جاڑے کے موسم کے سبب ان کو اور ان کی بی بی کو سردی بھی بہت لگ رہی تھی اس حالت میں طور پہاڑ کے پاس ان کو آگ کی سی روشنی نظر آئی اس روشنی کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میں آگ کی روشنی کی طرف جاتا ہوں آگ کے پاس کوئی شخص ملا تو اس سے راستہ کی خبر بھی مل جائے گی اور سردی میں تاپنے کے لیے تھوڑی سی آگ بھی لیتاآؤں گا جب موسیٰ وہاں گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سبزدرخت آگ کا روشن ہورہا ہے وہ تجلی حق کی روشنی تھی موسیٰ (علیہ السلام) اس کو دیکھ کر حیرت میں رہ گئے تب وہاں سے آواز آئی کہ حیرت نہ کرو۔
Ayahs 27:8–13

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ اس (آگ) کے پاس پہنچے تو ان کو (منجانب اللہ ) آوازئی آئی کہ جو آگ کی جلوہ گاہ میں ہے وہ برکت دیا گیا (یعنی موسی) اور جو اس کے آس پاس ہیں (یعنی فرشتے)1 اور پاکی خدا کے لیے ہے جو سارے جہان کا پروردگار ہے ۔

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ بات یہ ہے کہ میں ہی ہوں اللہ غالب حکمت والا۔

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنا عصا ڈال دے، پھر موسیٰ نے اسے دیکھا لہراتا ہوا ا گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چلے، اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، ( ہم نے کہا) اے موسیٰ ڈرو مت بیشک میرے حضور پیغمبر ڈرا نہیں کرتے۔

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

لیکن وہ شخص کہ جس نے ظلم کیا، پھر برائی کے بعد اس کو نیکی سے بدلے تو بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں۔

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ بلا کسی عیب کے سفید چمکتا ہو نکلے گا یہ دو معجزے ان نو معجزوں میں سے ہیں جس کے ساتھ تم کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے بیشک وہ فاسق لوگ ہیں۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہمارری نشانیاں آنکھیں کھولتی آئیں تو بولے : یہ تو صریح جادو ہے ۔

(ف 1) حضرت موسیٰ کو غیب سے آواز آئی کہ اے موسیٰ اللہ کی ذات سب عیبوں سے پاک ہے اور میں ہی اللہ عزت والاحکمت والا ہوں ، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قدرت اور حکمت الٰہی دکھانے کے لیے یہ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ تم اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دو وہ لکڑی زمین پر ڈالتے ہی ایک سانپ بن گیا پہلے پہل لکڑی کو سانپ بنتے دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے اور پیٹھے پھیر کر چلے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا فرمایا اے موسیٰ ڈرو مت اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنا رسول مقرر کیا ہے فرمایا میں ایسا ہوں کہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے پھر فرمایا کہ بدی کے بعد اس کے عوض میں نیکی کی یعنی گناہ کرکے توبہ کی تو البتہ ان کی توبہ قبول کرنے والا ہون اور ان کے حال پر مہربانی کرنے والا ہوں حضرت موسیٰ سے کہا کہ تم اپنا ہاتھ گریبان کے اندر ڈالو، اور پھر باہر نکالو تو بلا کسی عیب کے روشن ہوکرنکلے گا، یہ دو معجزے ان نومعجزوں میں سے ہیں یعنی زبان کی لکنت پن سے اچھا ہونے کو، دریا میں راستہ پیدا ہونا، طوفان کا آنا ٹڈیوں کا، چچریوں کا، مینڈکوں کا اور خون کا اور ان کو ملایا جائے تو یہ نومعجزے ہوئے جو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجے جاتے ہیں اور ان کے بھیجنے کا سبب یہ ہے کہ وہ بڑی بدکار اور سرکش قوم ہے پھر جب ان کے پاس ہمارے دیے ہوئے معجزے پہنچے جو نہایت واضح تھے کہنے لگے یہ تو ایسا ظاہر جادو کہ ہر ایک کہہ دے گا کہ یہ جادو ہے۔
Ayah 27:14

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور ظلم اورر تکبر سے ان سے1 انکار کردیا اور ان کے دلوں نے ان پر یقین کرلیا تھا پھر دیکھو کیسا (برا) انجام ہوا ان مفسدوں کا۔

(ف 1) ان لوگوں نے کھلم کھلا ان معجزوں کا انکار کیا، یہ معجزے تو اللہ تعالیٰ کے نہیں ہیں حالانکہ ان کے دل مان چکے تھے کہ یہ معجزے برحق ہیں جادو نہیں ہیں ان کے انکار کی وجہ سوائے ظلم اور سرکشی کے کوئی اور نہ تھی پھر فرمایا کہ ان مفسدوں کا ایسا برا انجام ہوا کہ دنیا میں ڈوبے ، آخرت میں جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے اس لیے قریش کو حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان فرمایا کہ سمجھادیا کہ اگر یہ لوگ رسول اللہ کی اطاعت قبول نہ کریں گے تو ان کا انجام فرعون اور اس کی قوم کی طرح ہوگا۔
Ayahs 27:15–18

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور بیشک2 ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم دیا اور ان دونوں نے (خوش ہوکر) کہا کہ سب تعریف اس اللہ ہی کو ہے کہ جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا کی۔

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور داؤد کے بعد ان کے قائم مقام سلیمان ہوئے اور انہوں نے کہا : اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور ہر قسم کی نعمتیں (دنیا وآخرت) کی عطا فرمائی گئی، بیشک یہی (اللہ کا) ظاہر فضل ہے۔

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سلیمان کے لیے (جو) اس کے لشکر جمع کیے گئے (ان میں) جن بھی تھے اور انسان بھی اور پرندے بھی پس وہ (آگے بڑھنے سے) روکے جاتے تھے۔

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے ایک چیونٹی بولی : اے چیونٹیو ! اپنے اپنے گھروں میں چلی جاؤ ایسا نہ ہو کہ تم کو سلیمان اور اس کا لشکر بیخبر ی میں کچل ڈالے۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو علم دیا۔ ان کا علم و دانش مشہور اور ضرب المثل ہے، جس کے شکریہ میں وہ کہنے لگے کہ سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے ہمیں بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا کی۔ اور داؤد (علیہ السلام) کے وارث سلیمان (علیہ السلام) نے لوگوں سے اس بات کا خطاب کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے جن اور شیاطین اور جانوروں کی بولی سکھلائی ، یہ اس علم اور ورثہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے کہ ہم کو جانوروں کی بولی بتائی ، چناچہ منقول ہے کہ مور ایک روزیہ کہہ رہا تھا کہ جو کچھ یہاں کرتا ہے اس کا بدلہ آخرت میں ملے گا، ایک روز ہدہدیہ کہتا تھا کہ جو کوئی کسی پر رحم نہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہ کرے گا۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز نبی ﷺ سے لوگوں نے عرض کیا کہ حضور ﷺ مرغا صبح کو کیا کہا کرتا ہے آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ یہی کہتا ہے اے غافلو، اللہ کی یاد کرو، اور تیتر کی بولی یہ ہے ، خدائے بزرگ عرش کریم پر قائم ہے اللہ اللہ کوئی جانور اپنے معبود کی یاد سے غافل نہیں واہ رے حضرت انسان، کہ ان میں سے بہت سے ایسے کہ بھولے سے بھی اپنے خدا کو یاد نہیں کرتے، حاصل یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی کا معجزہ ہے جانوروں کی آواز کا پہچانا، اس لیے سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہر ایک نعمت عطا فرمائی۔ جن جن نعمتوں کی ضرورت تھی سب عنایت ہوئیں غرض یہ کہ ہم کو کسی چیز کی ضرورت نہ رہی بیشک یہ اللہ کا ظاہر فضل ہے کسی پر پوشیدہ نہیں منقول ہے کہ حضرت سلیمان کے پاس ایک ایسا تخت تھا کہ کسی بادشاہ ہفت اقلیم کے پاس بھی ہرگز نہیں نکل سکتا فرمایا سلیمان کے لیے جو ان کا لشکر جمع کیا تھا ان میں جن تھے اور انسان بھی، اور پرندے بھی صف بستہ ترتیب کھڑے کیے جاتے تھے۔
Ayahs 27:19–26

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

پس1 سلیمان چیونٹی کی بات سے مسکرا کر ہنس پڑے اور عرض کی کہ اے میرے پروردگار ! مجھے اس بات کی توفیق عطا کر کہ میں تیرے ان احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ اور یہ کہ میں وہ بھلا کام کروں جسے تو پسند کرے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے نیک بندوں میں داخل کرلے۔

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور پھر (سلیمان نے) پرندوں کا جائز ہ لیا تو کہنے لگا کہ یہ کیا بات ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا کیا وہ واقعی غیر حاضر ہے۔

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں اس کو (غیر حاضری پر) سخت سزا دوں گا یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے پاس کوئی روشن دلیل پیش کرے۔

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

پھر تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ہدہد آموجود ہوا اور کہنے لگا کہ میں وہ بات دیکھ کر آیا ہوں جو حضور نے نہ دیکھی اور میں شہر سبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لے کر حاضر ہوا ہوں۔

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت دیکھی کہ وہ ان لوگوں پر بادشاہی کر رہی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے۔

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے اس کو اور اس کی قوم کو اللہ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہوئے پایا اور زینت دی ہے ان کے لیے شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہ میں، پس ان کو راہ (حق) سے روک رکھا ہے تو وہ راہ نہیں پاتے۔

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کیوں نہیں سجدہ کرتے اللہ کو جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو نکالتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ ہی ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔

سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر اور ہدہد کا خبرلانا۔ (ف 1) فرمایا ایک بار حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر ملک شام کے میدان پر سے گزرا کہ جہان چیونٹیوں کے بل تھے اور وہ زمین پر چل رہی تھیں جو چیونٹیوں کا سردار تھا جب اس نے دیکھا کہ حضرت سلیمان کا لشکر آرہا ہے تو اس نے کہا، اے چیونٹیوں سب اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ تاکہ تم پاؤں کی روند میں آجاؤ، یہ بات حضرت سلیمان کو معلوم ہوئی کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے علوم دیے تھے پھر حضرت سلیمان اس بات سے مسکرا کر ہنسنے لگے، ایک تو اس لیے کہ چیونٹی سلیمان (علیہ السلام) کو بیخبر ی کا الزام لگاتی ہے اس کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت سلیمان کو کیا کیا علم دیے گئے دوم اللہ تعالیٰ کی عنایت ورحمت خیال کرکے کہ اس نے مجھے ایسا بلند مرتبہ کیا، نقل ہے کہ حضرت سلیمان اس چیونٹی کو بلاکر اس سے کہنے لگے کہ کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ میرے لشکر سے یہ ممکن نہیں کہ کسی پر ظلم کرے، اس نے کہا، میں نے خوب جانتی ہوں لیکن اپنی قوم کی بڑی ہوں، اس لیے مجھ کو ان کو نصیحت سے چارہ نہیں، پھر انہوں نے فرمایا کہ لشکر تو ہوا میں تھا پھر تم کو کیونکر پائمال کرتا، اس نے عرض کیا کہ میری یہ مراد تھی کہ شاید تمہارے لشکر کے دبدبہ کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی یاد سے باز آئیں، یا یہ مراد تھی کہ تمہاری بادشاہت کی جھاڑ اور خوبی دیکھ کر کہیں ان کا دل نہ للچانے لگے، سو دنیا کی آرزو کرنے لگیں، چیونٹی نے حضرت سلیمان سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو جوچیزیں انعام کی ہیں ان میں سے ایک کا ہی ذکر کرو۔ انہوں نے فرمایا کہ ہوا ہمارے ایسی سواری مقرر کی کہ صبح وشام اس پر دو مہینے کے راستے کی سیر کر آتا ہوں اس نے کہا کہ حضرت سلیمان اس کے معنی بھی سمجھے کیا ہیں یعنی تم کو دنیا کی بادشاہت سے جو کچھ خدا نے عطا کیا ہے وہ مثل ہوا کے بےحقیقت اور بےاصل ہے حضرت سلیمان اس بات کے سنتے ہی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنے لگے اے میرے رب مجھے اس بات کی توفیق عطا فرمائی کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر کیا کروں جو تو نے مجھے اور میرے باپ پر انعام عطا کیا ہے اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھ کو پسند آویں اور اپنی رحمت اور کرم سے مجھ کو اپنے نیک بندوں میں داخل کرلے ، یعنی اس جاہ وچشم پر مغرور متکبر نہ ہوں بلکہ اس بلند اقبالی پر اچھے کام کیا کروں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا صحیح قول ہے کہ ہدہد کی نظر زمین کے اندر دور تک پہنچتی ہے اس لیے بغیر پانی کے جنگل میں جہاں کہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر اترتا تھا تو ہد ہد سے پانی کے نکلنے کا اندازہ پوچھ کر جنات سے پانی کا چشمہ کھدوایاجاتا تھا ایک روز ایسے ہی جنگل میں حضرت سلیمان کا لشکر اترا، اور حاضری کے وقت ہدہد غیرحاضر نکلا۔ اس واسطے ہدہد کی غیرحاضر پر سلیمان (علیہ السلام) کو غصہ آیا، سلیمان نے پرند جانوروں کی سزا یہ مقرر کی تھی کہ قصور وار جانوروں کے پر اکھیڑ کر ان جانوروں کو دھوپ میں ڈال دیا کرتے تھے اسی کو عذاب شدید فرمایا اور زیادہ غصہ کی حالت میں یہ بھی فرمایا کہ اس معمولی سزا سے بڑھ کر ہدہد کو یہ سزا دی جائے گی کہ اس کو ذبح کرڈالا جائے گا تاکہ آئندہ کو کوئی ایسی حرکت نہ کرے، یا کوئی معقول عذر پیش کرے اپنی غیرحاضری کا، پس ہدہد تھوڑی دیر میں آموجود ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے وہ چیز دیکھی ہے کہ آپ نے اس کو نہیں دیکھا ہوگا، اور شہر سبا سے آپ کے پاس ایک یقینی پکی خبر لے کر حاضر ہواہوں وہ یہ کہ میں نے ایک عورت دیکھی کہ وہ وہاں کی بادشاہ ہے اور اس کے پاس ہر طرح کا سازوسامان موجود ہے اور اس کے پاس ایک بڑاتخت بھی ہے کہ جس پر وہ حکمرانی کرتی ہے میں نے اس عورت اور اس کی قوم کو اللہ کے سواسورج کو سجدہ کرتے ہوئے پایا اس کا سبب یہ ہوا کہ شیطان نے ان کے کاموں کو ان کے لیے درست وآراستہ کردکھایا جس سے وہ سمجھ گئے کہ اس عبادت سے بہتر کوئی اور عبادت نہیں پھر اس شیطان نے اس قوم کو سیدھے راستے سے روک دیا کہ جس پرچلنے سے ان کو جنت ملتی اور وہ راہ حق پر نہیں چلتے کہ اللہ ہی کو کیون نہ سجدہ کریں کہ جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے۔ آسمانو کی چھپی ہوئی چیزیں ستارے چاند سورج چھپ جاتے ہیں ان کو پھر اللہ تعالیٰ ظاہر کرتا ہے پس یہ لوگ سورج کو کیوں سجدہ کرتے ہیں اور وہی خدا جانتا ہے جو باتیں تم اپنے دلون میں چھپائے رکھتے ہو، یا اپنی زبانوں سے ان کو ظاہر کرتے ہو، وہ اللہ جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور وہ ہی عرش بزرگ کا رب ہے ، وہ عرش عظیم کا مالک ہے ، یہاں تک ہدہد کی گفتگو تھی جو تمام ہوئی۔
Ayahs 27:27–31

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان نے کہا :1 اب ہم دیکھیں گے کہ تو سچ کہتا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

میرا یہ فرمان لے جاکر اس کے پاس ڈال دے پھر (ذرا وہاں سے) ہٹ جانا پھر دیکھنا کہ وہ اسکا کیا جواب دیتے ہیں۔

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

(چنانچہ ہدہد نے خط ڈال دیا) بلقیس نے (پڑھ کر) کہا : اے دربار والو ! بیشک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا ہے۔

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

بیشک یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے کہ شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے بخشش کرنے والا مہربان ہے۔

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

(اس کے بعد) یہ کہ تم لوگ مجھ پر بلندی نہ چاہو اور میرے پاس مسلمان ہوکر آجاؤ۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس کے نام اور اس کا جواب۔ (ف 1) جب ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے بلقیس کی بادشاہت اور اس کے تخت کا حال آن کر کہا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا ہم یہی دیکھتے ہیں کہ تو سچ کہتا ہے یا تو جھوٹ بولتا ہے چونکہ ہدہد لشکر سے پیچھے جو رہ گیا تھا اس لیے اس نے یہ بات بنائی ہے اب معلوم ہوجائے گا اور یہ بات فرما کر بلقیس کے نام خط لکھ کر ہدہد کو دیا اور فرمایا کہ اس خط کو لے جاکر اس کے پاس ڈال دے پھر ذراوہاں سے ہٹ جانا پھر دیکھنا کہ آپس میں کیا بات چیت کرتے ہیں غرض جب ہدہد نے روشن دان میں سے جاکر اس خط کو بلقیس کے سینہ پر ڈال دیا اوہ اپنے خلوت خانہ میں تکیہ لگائے بیٹھی تھی بلقیس نے جلدی سے خط کو پڑھا اور اللہ کے نبی کے خط کی ایک ہیبت اس کے دل میں بیٹھ گئی اور تین سوآدمیوں کے قریب اس کے مصاحب تھے ان سے اور اپنے وزیروں سے اس خط کے باب میں ان سے صلاح لی جب وہ اس خط کے مضمون سے آگاہ ہوئے تو بڑی ہل چل پڑی۔ حضرت سلیمان کے خط کا مضمون یہ تھا کہ از جانب بندہ خدا سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) بسوئے بلقیس ملک شہر سبا، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اس پر سلام جو ہدایت قبول کرلے اس کے بعد مدعایہ کہ تم مجھ پر تکبر اور بلندی نہ چاہو، اور میرے پاس مسلمان ہوکرآجاؤ۔
Ayahs 27:32–39

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

بلقیس نے کہا کہ اے1 اہل دربار ! میرے اس معاملہ میں مجھے رائے دو میں کسی معاملہ میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ تم میرے پاس حاضر نہ ہو۔

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم بڑے طاقتور اور سخت لڑنے والے ہیں اور (آئندہ) تم کو اختیار ہے پس تم ہی (مصلحت) دیکھ لو کہ کیا حکم کرنا چاہیئے۔

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

بلقیس کہنے لگی : بیشک جب کسی بستی میں (مخالفانہ طور پر) بادشاہ داخل ہوا کرتے ہیں تو اس کو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں کے عزت دار لوگوں کو ذلیل کرد یا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ لوگ بھی کریں گے۔

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ ایلچی کیا جواب لے کر واپس آئے۔

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

پھر جب وہ سلیمان کے پاس پہنچا (اور تحفہ پیش کیا تو سلیمان نے کہا) کہ تم مجھے مال سے مدد دیتے ہو تو (سمجھ لو) اللہ نے جو کچھ مجھ کو عطا کیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تم کو دیا ہے بلکہ تم ہی اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو۔

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

واپس ان کی طرف جا پس ضرور ہم ان پر ایک ایسا لشکر لائیں گے کہ جس کے مقابلہ کی ان لوگوں کو طاقت نہ ہوگی اور ضرور ان کو ہم اس بستی سے ذلیل کر کے نکال دیں گے اور وہ رسوا ہوں گے۔

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

سلیمان نے کہا : اے اہل دربار ! تم میں کون ایسا ہے جو بلقیس کا تخت اس سے پہلے کہ وہ لوگ میرے پاس مسلمان ہوکر آئیں میرے سامنے حاضر کر دے۔

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

ایک قوی جن نے عرض کیا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور بیشک میں اس کے اٹھانے کی طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں۔

(ف 1) جس وقت حضرت سلیمان کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جائے کیا اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین کو چھوڑ کر حضرت سلیمان کا دین اور اطاعت کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جائے صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ بڑے بڑے بیش قیمت تحفے بھیجتی ہوں تاکہ اس حال کو دیکھ کر نرم دل ہوجائے مگر حضرت سلیمان کا مقصود تو اس بت پرست بادشاہ زادی کو اسلام میں لانا اور کفر کی بڑائی سے بچانا تھا اس لیے ان تحفوں کو کچھ بھی خیال میں نہ لائے اور فرمانے لگے کہ کیا تم لوگ مال سے میری امداد کرنا چاہتے ہو جو ایک حقیر شے ہے جس کے ہونے سے انسان کے دم میں صدہاقسم کی شہوات نفسانیہ پیدا ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرتا ہے پس جو کچھ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے ملک اور نبوت اور علم عطا کیا ہے بہتر ہے اس سے کہ جو کچھ تم کو خدا نے دنیا کی ثروت دی ہے پس تمہارے تحفہ کی ہمارے نزدیک نہ کچھ وقعت ہے نہ حاجت۔ تفسیرکشاف میں لکھا ہے کہ بلقیس نے جو تحفے حضرت سلیمان کی خدمت میں بھیجے تھے پانچ سو غلام اور پانچ سولونڈیوں کو خوب آراستہ کیا اور ہزاسونے کی اینٹیں ایک سونے کا تاج جس میں یاقوت اور موتی بیش قیمت جڑے ہوئے تھے اور کچھ مشک اور عنبر اور ایک ڈبہ موتیوں کا اور کہہ دیا کہ جس وقت سلیمان کے دربار جاو تو لحاظ کرنا کہ اگر تم سے غصہ کی آنکھ سے ملیں تو معلوم کرلینا کہ وہ بادشاہ ہیں۔ اگر خندہ پیشانی سے ملیں تو جان لینا کہ بیشک وہ خدا کے رسول ہیں پس جب وہ قاصد ان کے حضور میں پہنچا تو سلیمان اس سے بہت خوشی اور خندہ پیشانی سے ملے اور نہایت عمدہ اچھی طرح سے اس کی مزاج پرسی کی اور تحفہ قبول کرنے سے انکار کیا، اس سے فرمایا کہ جاؤ جاکر کہہ دو کہ حاضر ہوجاؤ اور اگر نہ حاجر ہوگے تو بیشک ہم ان پر ایسا لشکر بھیجتے ہیں کہ جس کی قوت اور کثرت کی وجہ سے وہ طاقت مقابلے کی نہیں رکھتے اور قطعا ہم ان کو اس شہرسبا سے ذلیل اور خوار کرکے نکال دیں گے ۔ جب قاصد تحفہ واپس لے کرگئے اور تمام واقعات سنائے تو اس نے کہا، بیشک وہ نبی ہیں اورہ میں ان سے مقابلہ کی طاقت نہیں اورس نے اپنے تخت اپنے سات محلوں میں سب سے پیچھے محل میں محفوط کرکے تمام دروازے مقفل کردیے ہیں اور ان پر پہرہ دار مقرر کردیے اور حضرت سلیمان کی خدمت میں حاضر ہونے کا انتظام کیا تاکہ دیکھے کہ آپ اس کو کیا حکم فرماتے ہیں اور وہ ایک لشکر گراں لے کر اپ کی طرف روانہ ہوئی جس میں بارہ ہزار نواب، اور ہر نواب کے ساتھ ہزاروں لشکری ، جب اتنی قریب پہنچ گئی کہ حضرت سے صرف ایک فرلانک کا فاصلہ رہ گیا تو حضرت سلیمان نے فرمایا کہ اے اہل دربار تم میں کون ایسا ہے جو بلقیس کا تخت ان کے آنے سے پہلے حاضر کردے، اس سے آپ کا مدعا یہ تھا کہ اس کا تخت حاضر کرکے اس کو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اپنی نبوت پر دلالت کرنے والامعجزہ دکھادیں۔