27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 27:40–43

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

اس1 نے عرض کی جس کے پاس کتاب (الہی یعنی اسم اعظم) کا علم تھا کہ میں اس کو حضور میں آنکھ جھپکنے سے پہلے حاضر کردوں گا۔ پھر جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور (ظاہر ہے کہ) جو شخص شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا پروردگار بےپروا سب خوبیوں والا ہے۔

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے حکم دیا کہ عورت کا تخت اس کے سامنے وضع بدل کر بیگانہ کردو کہ ہم دیکھیں کہ وہ راہ پاتی ہے یا ان لوگو میں ہوتی ہے جو ناواقف رہے۔

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب بلقیس آئی تو اس سے کہا گیا : کیا تمہارا تخت یہی ایسا ہی ہے بلقیس نے کہا کہ گویا یہ وہی ہے اورر ہم کو اس واقعہ سے پہلے ہی علم ہوگیا تھا (کہ آپ برگزیدہ نبی ہیں) اور ہم فرمانبردار ہوئے۔

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور سلیمان نے اس عورت کو ان چیزوں کی عبادت سے روک دیا جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی، بیشک وہ کافروں کے گروہ میں سے تھی۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر، بلقیس سورج پرست کا مسلمان ہونا اور اسکے تخت کا ذکر۔ (ف 1) آپ کے وزیر آصف بن برخیا تھے ، جب حضرت سلیمان نے تخت کی بابت کہا تو انہوں نے کہا میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جانتا ہوں اس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آتا ہوں حضرت سلیمان نے فرمایا کہ تم ہی لے آؤ اس کے بعد وہ سجدہ میں جاکریہ کہنے لگا ، یاحی ، یاقیوم، اور بعض کہتے ہیں، یا ذوالجلال والاکرام، کہا تو فورا وہ تخت اپنی جگہ سے زمین میں غائب ہوگیا ایک پلک کے جھپکتے ہی زمین سے حضرت سلیمان کے تخت کے برابر زمین سے برآمد ہوگیا۔ پھر جب اس تخت کو حضرت سلیمان نے اپنے پاس دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ میرے پروردگار کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور ظاہر ہے کہ جو شخص شکر کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بھی بےپرواہ عزت والا ہے۔ بلقیس کا تخت بہت بیش قیمت تھا اور بڑے بڑے قیمتی جواہرات اور موتی اس میں جڑے ہوئے تھے سلیمان نے اپنے درباریوں سے کہا کہ اس تخت کی ایسی وضع بدل دو کہ اس کی پہلی صورت بدل جائے اور اس کے جواہرات کو سبز کی بجائے سرخ اور سفید کی بجائے زرد سے آراستہ کردو جب بلقیس آوے تو اس کی عقل کا امتحان کروں کہ دنیاوی چیزوں کے ان کی پہچان میں جب یہ حال ہے تو اللہ کی ذات وصفات کے پہچاننے میں تم نے کتنی بھاری غلطی نہ کی ہوگی۔ جب بلقیس حضرت سلیمان کے پاس آئی تو اس کا تخت حضرت سلیمان کے سامنے رکھا ہوا تھا پوچھا گیا کہ کیا آپ کا ایسا ہی تخت ہے اس کو پہچان نہ سکی دھوکے میں آگئی کہنے لگی گویا کہ یہ ویسا ہی ہے اس لیے کہ ممکن تھا کہ یہ تخت اس جیسا ہوتا اور یہ بڑی عقل مندی کی بات تھی مگر جب اس کو تھوڑی دیر بعد بتایا گیا کہ یہ وہی تخت ہے اس پر اس نے بطور معذرت کے کہا کہ حضور ہم کو کیا آزماتے ہو ہم کو تو پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ آپ برگزیدہ نبی ہیں۔ اور حضرت سلیمان نے بلقیس کو ان چیزوں سے روک دیا جسے وہ اللہ کے سواپوجتی تھیں بیشک وہ کافروں کے گروہ میں سے تھی کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے ایک ایسامحل بنایا تھا جس کے صحن میں پانی کا حوض تھا جس میں رنگ برنگ کی مچھلیاں تھیں مگر اس کو اوپر سے صاف سفید شیشے سے پاٹ دیا تھا اس کے اوپرآنے جانے کا راستہ تھا جب بلقیس محل میں گئیں توبلقیس شیشہ وبلور میں پانی لہرنا اور مچھلیوں کا پھرنادیکھ کر سمجھیں کہ یہ تو حوض ہے اس لیے اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا تاکہ پاؤں پانی میں رکھے۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

بلقیس سے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو تو جب اس نے اس کا صحن دیکھا تو اس کو گہرا پانی سمجھی اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا، سلیمان1 نے فرمایا : یہ ایک چکنا صحن شیشوں کا جڑا ہے (پانی نہیں ہے) ۔ بلقیس نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! بیشک میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ کے آگے حکم بردار ہوئی جو پروردگار سارے جہان کا ہے۔

(ف 1) حضرت سلیمان نے فرمایا، یہ حوض پانی کاشیشوں سے پٹا ہوا ہے کپڑا اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں اس کی بےعقلی ثابت ہوجانے سے اس کو سخت ندامت ہوئی اور سمجھ گئی کہ مجھ کو خاک بھی عقل نہیں حضرت سلیمان کے روبروصاف کہہ دیا کہ اے میرے پروردگار بیشک میں نے اس نفس پر ظلم کیا تھا اور میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ ہوکررب العالمین پر ایمان لائی اور مسلمان ہوگئی۔
Ayahs 27:45–46

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

ہم1 نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو پس ناگہاں وہ دو فریق ہوگئے (جو دین کے بارے میں) باہم جھگڑنے لگے۔

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح نے فرمایا : اے میری قوم ! کیوں برائی کی جلدی کرتے ہو بھلائی سے پہلے، تم لوگ اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جاوے۔

(ف 1) ان آیتوں میں قریش کے لیے تنبیہ ہے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے کہ جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھرگئی اگر قریش نبی وقت کی مخالفت کریں گے تو ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا اور یہاں صالح (علیہ السلام) کے قصے اور ان آیتوں میں خاص کر قریش کو تنبیہ مقصود تھی اس لیے حضرت صالح کے قصے سے یہاں کلام کا سلسلہ شروع فرمایا ہے کہ ہم نے قوم ثمود کی طرف سے ان کے بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا، یہ حکم دے کر اللہ کی عبادت کرو پھر وہ دوفریق ہوگئے۔ ایک اہل توحید کا۔ دوسراوہی گمراہوں کا۔ اور دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اس پر حضرت صالح نے فرمایا کہ اگر تم نہ مانوگے تو عذاب الہی نازل ہوگا وہ کہنے لگے کہ پھر کیوں نہیں آتا، اس پر حضرت صالح نے اپنی قوم سے فرمایا، اللہ سے توبہ استغفار کرو عذاب کی خواہش کیوں کرتے ہو، کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر معافی اور بخشش مانگنے پر رحم کرے اور عذاب سے چھوڑ دے۔
Ayahs 27:47–53

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ لوگ بولے کہ ہم نے تم سے اور ان لوگوں سے جو تمہارے ہمراہ ہیں برا شگون لیا۔ صالح1 نے فرمایا : تمہاری (اس) بدشگونی (کا سبب) اللہ کے علم میں ہے بلکہ تم وہ لوگ ہو کہ (اس کفر کی بدولت) عذاب میں مبتلا ہو۔

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور (کفر کے سرغنہ ) اس شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے۔

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ سب آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ صالح اور اس کے گھر والوں پر ( رات کے وقت) ضرور چھاپا ماریں گے، پھر اس کے وارث سے کہیں گے کہ ہم اسکے گھر والوں کے قتل کے وقت موجود نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں۔

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور (یہ مشورہ کر کے) انہوں نے اپنا سا مکر کیا اور خفیہ تدبیر کی اور ہم نے اپنی کی اور وہ غافل رہے۔

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

پس دیکھو ان کے مکر کا کیسا انجام ہوا کہ ہم نے ان کو اور انکی ساری قوم کو (آسمانی عذاب سے) ہلاک کردیا۔

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

پس یہ ان کے گھر ہیں جو ڈھے پڑے ہیں ان کے ظلم کے سبب سے، بیشک اس قصہ میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے تھے ہم نے ان کو نجات دی

حضرت صالح اور لوط (علیہما السلام) اور ان کی قوموں کا قصہ۔ (ف 1) حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم کو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں اس پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تمہارے اعمال کو نحوست کا سبب اللہ کے علم میں ہے بلکہ تم ایسی قوم ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو پے درپے مال وجاہ دیتا ہے اور سختی اور آسانی سے آزماتا ہے اس شہر میں نوشخص کفر کے سرغنہ تھے جو رات دن آمادہ فسادرہتے تھے اور حضرت صالح کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اب تک تو معمولی آزار دے چکے تھے یہ اپنے کفر اور گناہ کی وجہ سے اس زمین میں تباہی کرتے تھے اور اپنے کام میں اصلاح نہیں کرتے تھے جب ان ناعاقبت اندیشوں نے عذاب کی وعید سنی تو آپس میں کہنے لگے کہ سب آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ رات کو حضرت صالح اور اس کی بیوی کو اس کے گھر میں گھس کر شہید کرڈالو اور ہرگز کسی کو ان دونوں میں سے نہ چھوڑو، جب تک وہ زندہ ہیں تب تک ہی یہ دشواریاں ہم کو پیش آرہی ہیں جب ان کو شہید کرڈالیں گے چین سے اپنی اوقات پوری کریں گے پھر ان کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم تو اس کے گھروالوں کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہیں تھے اور ہم البتہ اس معاملہ میں بالکل سچے ہیں ہم سے کیا ان کی عداوت تھی کہ جو ہم ان کو شہید کرڈالتے، انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کیا انہوں نے تو حضرت صالح کے شہید کرنے کے لیے فریب کیا تھا لیکن ہم نے ان کو ہلاک ہی کرکے چھوڑ دیا اور ان کو اس بات کی خبر بھی نہ ہوئی پس ان کے مکر کا انجام یہ ہوا کہ وہ اور ان کی قوم کے لوگ جو ان کے مشورے میں تھے آسمانی عذاب سے ہلاک ہوگئے پس یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے کفر وظلم کے سبب سے ویران پڑے ہیں بیشک اس میں جاننے والوں کے لیے عجیب حیرت انگیز نشانی ہے اور جو لوگ جانتے ہی نہیں اور بالکل ناعاقبت اندیش ہیں ان کے لیے ان قصوں کا بیان کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہیں۔ وہ نصیحت نہیں پکڑتے پھر فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے تھے اور ہم سے ڈرتے تھے اور شرک وکفر سے بچتے تھے ان کو بچادیا اور یہ لوگ چار ہزار تھے جن کو حضرت صالح یمن کے ایک شہر میں اپنے ساتھ لے کر چلے گئے تھے۔
Ayahs 27:54–59

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور1 لوط کو (یاد کرو) جبکہ لوط نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم (ایسی) بےحیائی کا کام کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو۔

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت کے ارادے سے آتے ہو (تم اچھا نہیں کرتے) بلکہ تم جاہل لوگ ہو (جو ایسا کرتے ہو) ۔

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

پس لوط کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو بیشک یہ لوگ (بڑی) ستھرائی چاہتے ہیں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

پس ہم نے لوط اور اس کے گھر وا الوں کو بچا لیا مگر اس کی بیوی کو کہ ہم ٹھہرادیا تھا کہ وہ رہ جانے والوں میں ہے۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک (نئی طرح) کا مینہ برسایا پس کیا ہی برا برساؤ تھا ڈرائے ہوؤں کا۔

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

تم کہو : سب خوبیاں اللہ کو اور سلام اس کے چنے ہوئے بندوں پر، کیا اللہ بہتر ہے یا ان کے ساختہ شریک یعنی بت) ۔

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے حضرت لوط کو ان کی قوم کی طرف رسول بناکربھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے جاکر کہا کہ کیا تم دیدہ دانستہ بےحیاء کا کام کرتے ہو اگرچہ برے کام کو جو شخص کرے وہ براہی کام ہے لیکن بہ نسبت ناواقف کے واقف برے کام کے کرنے کا زیادہ ترافسوس ہے فرمایا کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو، بلکہ تم جاہل لوگ ہو کہ نہیں جانتے اس بات کو کہ اس فعل بد کا کیا انجام ہوگا پس اس کا حضرت لوط کی قوم سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔ بلکہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ ہر جگہ ہی چرچا رکھتے تھے کہ حضرت لوط کو اور ان کے گھروالوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ بڑافسادی ہے اس نے ہماری زندگی تلخ کررکھی ہے یہ ایسے لوگ ہیں کہ اپنے آپ کو پاک اور ہم کو ناپاک کہتے ہیں یعنی اپنے فعلوں کو اچھا اور ہماے فعلوں کو برا کہتے ہیں غرض یہ کہ جب حضرت لوط نصیحت کرتے تو یہ لوگ طرح طرح سے جواب دیا کرتے تھے آخر اس کا انجام یہ ہوا کہ اس قوم پر عذاب نازل ہوا کہ پتھروں کامینہ برسایا پس کیا ہی برامینہ برسایا، اگر اپنے رسول کی تابعداری کرتے تو آج ان مصیبتوں اور ہلاکتوں میں نہ پڑتے آگے فرمایا کہ ہم نے حضرت لوط اور ان کے گھروالوں کو بچالیا، مگر ان کی بیوی کو بوجہ ایمان نہ لانے کے ہم نے نہیں بچایا، پس صاف ظاہرہوگیا کہ اس سے جو کوئی حرکت کرے اور اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو اس کی بھی عاقبت ایسی ہی خراب ہوگی آگے فرمایا کہ تم کہہ دو سب خوبیاں اللہ تعالیٰ کی ہی جس نے اپنے ایمان دار بندوں کو سچا کیا اور سرکشوں کو ہلاک اور برباد کردیا ان تمام برگزیدوں پر سلام وصلوۃ کہ جنہوں نے خدا کی راہ میں مخالفوں کے کیسے جو روجفا اٹھائے آگے فرمایا کہ کیا اللہ بہتر ہے یا وہ چیزیں کہ جن کو وہ کفار شریک ٹھہراتے ہیں۔
Ayahs 27:60–63

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

(بلکہ ہم پوچھتے ہیں1) آیا کس نے آسمان اور زمین بنائے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا، پس اس (پانی) کے ذریعہ سے ہم نے تروتازہ باغ اگائے ، تمہاری طاقت نہ تھی کہ تم (ان باغوں) کے درخت اگاتے، (بتاؤ کہ ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ؟ بلکہ وہ لوگ راہ سے کتراتے ہیں۔

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

ہم پوچھتے ہیں ) آیا کس نے زمین کو (مخلوق کی) قرار گاہ بنایا اور اس کے بیچ میں نہریں نکالیں اور (اس زمین کے ٹھہرانے کے لیے) پہاڑ بنائے اور دو دریاؤں کے درمیان آڑ رکھی (بتاؤ کہ ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ، بلکہ ان میں اکثر لوگ (اس کی قدرت کو) نہیں جانتے ہیں۔

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

(ہم پوچھتے ہیں) آیا وہ کون ہے جو بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس کو پکارتا ہے اور (اس کی) مصیبت کو دور کرتا ہے اور تم کو اگلوں کا زمین میں قائم مقام کرتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ اور خدا ہے تم بہت ہی کم دھیان کرتے ہو۔

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

(ہم پوچھتے ہیں) آیا کون تم کو راہ دکھاتا ہے خشکی اور تری کی اندھیریوں میں، اور کون خوشخبری کی ہوا میں بھیجتا ہے اپنی رحمت (یعنی بارش) کے آگے (بتاؤ کہ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے۔ (ہرگز نہیں) اللہ برتر ہے اس چیز سے کہ شریک بناتے ہیں۔

خدا کی وحدانیت کی دلیلیں۔ (ف 1) شان نزول۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کون ہے وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا، فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اسی کا کام ہے جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں اس لیے کہ ان کا بنانا کچھ ایسا کام نہیں ہے کہ جو یہ حضرت انسان ایک ادنی چیز بناتے ہیں تو وہ محنت اور مشقت کرتے ہیں کہ اس کا ذکر محتاج بیان نہیں بس صاف اس سے معلوم ہوگیا کہ قابل عبادت کے وہی ذات ہے جس نے ایسے بڑے بڑے جسم بنا کے اپنی قدرت دکھائی اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا اور ہم نے اس سے کیسے کیسے عمدہ باغ سرسبز تروتازہ اگائے تاکہ تم اس سے نفع اٹھاؤ، کیا تم میں یہ طاقت اور مجال تھی جو ایسے آراستہ اور خوش رنگ باغوں کے درخت اگاتے بتاؤ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہے کہ اس کو ان فعلوں میں مدد دے، یعنی ہرگز نہیں کوئی خدا دوسرا جو اس وحدہ لاشریک کو ان عجیب و غریب صنعتوں اور کاریگروں میں مدد دے، وہ وحدہ لاشریک ہے بلکہ سچ تو یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے سیدھے رستہ سے ٹیڑے چل رہے ہیں یعنی خدا کی توحید کو چھوڑ کر اس کا شریک بنا رہے ہیں دنیا میں ذلیل اور خوار ہیں اور آخرت میں ان کاٹھکانہ جہنم ہے اس میں ہمیشہ رہیں گے اگر توبہ نصیب نہ ہوئی یہ دوسری دلیل ہے کہ خدا کے وحدہ لاشریک ہونے اور قادر مطلق ہونے کی یعنی جس کو اللہ کا شریک اور مثل بتاتے ہیں بھلاوہ بہتر ہے یا وہ جس نے زمین کو تمہارے اور سب کے لیے آرام گاہ بنایا اس لیے کہ اگر زمین کو سکون نہ ہوتا تو کس چیز پر سکون اور آرام پاتے بڑے سخت گمراہ ہیں باوجودیکہ ایسی ایسی زبردست دلیلیں اس کی قدرت کاملہ کی دیکھتے ہیں پھر بھی اس کو ایک نہیں مانتے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اتنی ہی قدرت نہیں دکھائی بلکہ اس میں نہریں جاری کیں جو تمہارے آرام کا سبب ہیں اور دیکھو اس کی قدرت کہ پہاڑوں کو پیدا کیا تاکہ اس سے زمین کی مضبوطی ہو اس لیے کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین کو حرکت رہتی، اور پہاڑوں کو پیدا کرنے میں اور بھی فائدے ہیں سونے چاندی گندھک وغیرہ کی کانیں انہیں میں سے نکلتی ہیں جن سے ہزاروں کام نکلتے ہیں اور ان میں سے طرح طرح کے چشمے نکلتے ہیں اور وہ اللہ ہے کہ جس نے اپنی قدرت سے دونوں دریاؤں یعنی شیریں اور کھاری میں اپنی قدرت سے آڑ رکھی تاکہ وہ آپس میں نہ مل سکیں جس نے یہ عجیب وغیرب چیز بنائی ہیں وہی عبادت کے لائق ہے بلکہ ان میں اکثر لوگ بےعلم ہیں نہیں جانتے اس بات کو کہ خدا ان چیزوں کو پیدا کرنے میں ایک ہے بلکہ کوئی اس کا مددگار اور شریک نہیں بھلا کون ہے جو بےقرار کی دعاقبول کرے جب وہ اس اللہ کو پکارتا ہے تو اس مصیبت کو دور کردیتا ہے اور تم کو زمین کا خلیفہ بناتا ہے ایک کے بعد دوسراوارث اور مالک ہوتاآتا ہے یعنی اس کا احسان تم پر پشت درپشت ہے پھر تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو اور خدا کی کم یاد کرتے ہو، اور تم کو جنگل اور دریا کی تاریکیوں میں راستہ وہی تو بتاتا ہے اسی طرح سمندر کے سفر میں جب راستہ بھول جاتا ہے وہاں بھی وہی راستہ بتاتا ہے غرض مشرکین منکرین کو ہر آیت میں اپنی عجائبات قدرت دکھاتا ہے اور ہر جگہ پوچھتا جاتا ہے کہ بتلاؤ اللہ کے سوا یہ اور کسی کے کام ہیں۔
Ayahs 27:64–75

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

(ہم پوچھتے ہیں ) آیا وہ کون ہے1 جو خلق کی ابتدا فرماتا ہے پھر اس کو دوبارہ پید اکرے گا اور کون آسمان اور زمین سے تم کو روزی دیتا ہے (یعنی آسمان سے بارش اور زمین سے نباتات ) کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا ہے (ہرگز نہیں) تم فرماؤ کہ اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں خود غیب نہیں جانتے مگر اللہ (جس کو چاہے بتا ) اور انہیں خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے ۔

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

کیا ان کے علم کا سلسلہ آخرت کے جانتے تک پہنچ گیا، کوئی نہیں بلکہ وہ لوگ اس سے شک میں ہیں، بلکہ وہ لوگ اخرت سے اندھے ہیں۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

وہ کافر کہتے ہیں کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے کیا ہم (اپنی قبروں سے زندہ) پھر نکالے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

بیشک اس کا ہم سے اور پہلے ہمارے باپ داداؤں سے وعدہ کیا گیا یہ تو نہیں مگر پہلوں کی کہانیاں۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

تم فرماؤ کہ تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ گنہگاروں کا انجام کیسا ہوا۔

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور تم ان (کے حال) پر غم نہ کھاؤ اور جو کچھ یہ مکر کر رہے ہیں اس سے دل تنگ نہ ہو۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور یہ کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ وعدہ (عذاب) کب ہوگا اگر تم سچے ہو۔

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

(تو بتاؤ) تم فرماؤ کہ شاید تمہارے نزدیک کچھ اس میں سے آلگا ہو جس (عذاب) کی تم جلدی کرتے ہو اور (اسی لیے عذاب میں تاخیر فرماتا ہے کہ ) ۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار لوگوں پر بڑا فضل والا ہے و لیکن اکثر لوگ ان میں سے (اس بات پر) شکر نہیں کرتے ۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور بیشک تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ جو کچھ ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے اور جس کو وہ (زبان سے) ظاہر کرتے ہیں۔

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور جتنے غیب ہیں آسمانوں اور زمین کے سب روشن کتاب (یعنی لوح محفوظ ) میں موجود ہیں۔

قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بلاکون خوش خبری کی ہوائیں، بارش سے پہلے چلاتا ہے کیا تم ان کاموں کے کرنے میں شریک جانتے ہو کیا کوئی معبود ہے جو خلق اور ان اشیاء میں خدائے برحق کا شریک ہو ہرگز نہیں پاک اور بزرگ ہے بلادلیل شرک کرنا کس قدر وبال کی بات ہے اور یہ کہ آسمان اور زمین میں سے جس قدرچیزیں پیدا ہوتی ہیں اگرچہ باربار پیدا ہونے کی وجہ سے لوگوں کے آگے یہ ایک معمولی بات ہوگئی ہے مگر درحقیقت ہر ایک بات عقل کے خلاف ہے خود انسان کی پیدائش منی کے ایک قطرہ سے ہے بھلاکون سی عقل کی بات ہے پھر اگر حشر کے روز جسم کا ایک ایک ذرہ جمع کرکے جسم تیار کرے پھر اس میں وہی روح ڈال دے جو جسم سے نکلتی ہے تو یہ کیا تعجب کی بات ہے وہی ابتدا میں پیدا کرتا ہے وہی مرنے کے بعدقبروں سے اٹھائے گا اور جب اپنے سامنے کھڑا کرکے پوچھے گا کہ تم دنیا میں اتنے عرصہ تک رہے خوب عیش کی یہ سب کچھ ہماری نعمتوں اور فضل کے طفیل تھا ہمارے لیے ایمان اور عبادات کا کیا تحفہ لائے ہو تو وہ کچھ جواب نہ دے سکیں گے اور سوائے حسرت پیشمانی کے اور کچھ نہ کریں گے تو اوندھا منہ کرکے جہنم میں ڈال دیے جائیں گے فرمایا کہ آیاوہ بہتر ہے جس کو تم اس کا شریک بتاتے ہو یا وہ کہ تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے آسمان سے بارش کے سبب سے تم کو روزی بخشتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے بتوں کے خدا کے شریک ہونے کی اور معبود ہونے کی کیا دلیل ہے مشرکوں سے کہہ دو کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں کہ ان اشیاء کے پیدا کرنے میں سوائے اللہ کے اوروں کو بھی قدرت ہے تو کوئی سند پیش کرو، تم کہہ دو کہ جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں کوئی بھی خود غیب کی بات نہیں جانتا سوائے اللہ کے پھر وہ اللہ کے شریک کس بات سے ہوگئے بلکہ ان کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ مرکرکب زندہ کیے جائیں گے بلکہ آخرت کے معاملہ میں بالکل بےسمجھ ہوگئے۔ حالانکہ مشرکوں کو معلوم ہے کہ آخرت برحق ہے تب بھی نہ سمجھے بلکہ وہ لوگ اس بات سے پوشیدہ ہیں مشرکین حشر کے برپا ہونے پر انکار کرتے اور نہایت تعجب سے اس میں دخل دیا کرتے اور کہا کرتے کہ ہم کو تو نہایت عجیب و غریب یہ امر معلوم ہوتا ہے کہ جب اس کا بدن مرنے کے بالکل خاف ہوگیا اور ریزریزہ ہوگیا کر بالکل فنا ہوگیا تو کیونکہ یہ بات ہوسکتی ہے کہ یہ پھر ویسا ہی مثل سابق ہوجائے اللہ تعالیٰ اپناکمال قدرت ثابت کرچکا کہ ہم نے آسمان اور زمین بنائے اور تمہارے رزق کے کیسے کیسے سامان کیے کیسی کیسی نہریں اور پہاڑ تمہارے نفع کے لیے پیدا کیے اس نے اپنی قدرت اور وحدانیت کو اس طرح سے ثابت کیا کہ گویا آنکھوں سے دکھادیا۔ اس کے بعد اس کی قدرت میں کلام کرنا سخت حماقت ہے پس انہوں نے گویا اس کی قدرت کا بھی انکار کیا اور علم کا بھی اور کہنے لگے ہم سے بلکہ ہمارے باپ دادا سے بھی پہلے جو رسول تھے سب یہی کہتے آئے لیکن کسی نے اس کا انجام نہ دیا تھا، یہ تو پہلوں کی کہانیاں ہیں حقیقت میں اس کی کچھ بھی اصل نہیں ورنہ کبھی کچھ نہ کچھ ان باتوں کا ظہورہوتا۔ فرمایا اے محبوب ان منکرین سے کہہ دو اے جھوتے منکرو، تم زمین میں چل پھر کے دیکھو اور عبرت کانشان پکڑو کہ منکرین کا انجام کیا ہوا طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کیے گئے مارے گئے گھران کے برباد ہوئے اور تم ان کی مخالفت پر غم نہ کرو اور جو کچھ یہ شرارتیں کررہے ہیں اس سے دل تنگ نہ ہو، اور کفار کہتے ہیں کیوں جی اگر سچے ہو وبتلاؤ کہ عذاب کہاں ہے اور کب آئے گا اے محبوب کہہ دو کہ جس عذاب کی تم جلدی کررہے ہو اور اب تک دیر ہورہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارا پروردگار لوگوں پر اپنا بڑا فضل رکھتا ہے اور اکثر ان میں سے اس بات پر شکر نہیں کرتے اور نہیں سمجھتے کہ عذاب وقت مقررہ پر آجائے گا تو ان کو جان کا بچانا دشوار ہوگا پھر فرمایا کہ وہ ایساعالم الغیب ہے کہ جن باتوں کو یہ لوک چھپا رہے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے پھر فرمایا کہ کوئی چیز آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ نہیں سب کچھ کتاب روشن یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے۔