27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 27:76–81

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک1 یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان چیزوں کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک یہ قرآن مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے ۔

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار ان کے درمیان میں اپنے حکم سے فیصلہ (قیامت کے دن) کرے گا اور ہی ہے غالب علم والا۔

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

پس تم اللہ پر بھروسہ کرو بیشک تم صریح حق پر ہو۔

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

بیشک تم مردوں (یعنی کفار) کو (نصیحت) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو آواز پڑھنے کی سنا سکتے ہو، جس وقت کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے جاویں۔

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہدایت کرنے والے نہیں، تم تو صرف انہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں (یعنی قرآن) پر ایمان لاتے ہیں پس وہ مسلمان ہیں۔

قیامت سے پہلے ایک جانور کا نکلنا جو لوگوں سے کلام کرے گا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ قصے بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں جیسے عیسیٰ اور عزیر (علیہما السلام) کے باب میں یہود ونصاری مختلف القول ہیں لیکن قرآن سراسر ہدایت اور رحمت ہے اور ایمانداروں کے حق میں اس سراسر ہدایت کو چھوڑ کر اب جو لوگ اختلاف میں پڑے ہیں ان کے اس اختلاف کا پورافیصلہ قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور فیصلہ میں بڑازبردست ہے پھر فرمایا کہ اے محبوب تم اللہ ہی پر بھروسہ کروکیون کہ تم صریح حق پر ہوا ورلوگوں کو راہ حق پر بلانے میں لگے رہو پھر اس راہ حق پر جو نہ آئے تو وہ مثل مردہ کے ہے اور تم مردوں یعنی کفار کو نہیں سناسکتے اور نہ تم اندھوں کو راستہ دکھاسکتے ہو یعنی وہ لوگ دوزخ کے قابل ٹھہرچکے ہیں اور نہ بہروں کو کوئی بات سناسکتے ہو کیونکہ قدرت الٰہی کے نمونہ کے دیکھنے اور سننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تم تو ان لوگوں کو سناسکتے ہو جو ہماری آیتوں یعنی قرآن پر ایمان لاتے ہیں پس وہ لوگ مسلمان ہیں۔
Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور1 جب ان کافروں پر وعدہ صادق آجائے گا تو ہم ان کے لیے ایک (عجیب) جانور زمین سے نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گا، اس لیے کہ (کافر) لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہ لاتے تھے ۔

(ف 1) قیامت کے قریب جو دس نشانیاں ظاہر ہوں گی ان میں سے ایک اس جانوردابۃ الارض کا ظہور ہوگا جو کوہ صفا واقع قرب مکہ سے نکلے گا اس وقت سورج مغرب سے طلوع ہوا ہوگا اور یہ لوگوں سے کہے گا کہ افسوس تم نے خدا کی باتوں کا یقین نہ کیا یہاں تک کہ اب توبہ کا دروازہ بندہوگیا اس کے پاس حضرت موسیٰ کا عصا اور سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی ہوگی ایمان والوں کی پیشانی پر عصا سے ایک قسم کا چھاپا لگادے گا اس روز سے ایک دسترخوان پر بیٹھنے والوں میں صاف فرق دکھائی دے گا کہ یہ ایمان دار ہے اور یہ کافر ہے اس کی رفتار بہت تیز ہوگئی۔
Ayahs 27:83–86

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور2 (اس دن کو یاد دلاؤ) جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک جماعت اٹھائیں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتی تھی، ان کے اگلے روکے جائیں گے کہ پچھلے ان سے آملیں۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب سب حاضر ہولیں گے فرمائے گا : کیا تم نے میری آیتیں جھٹلائیں حالانکہ تمہارا علم ان تک نہ پہنچتا تھا۔ بھلا تم کیا کام کرتے تھے ۔

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور ان پر وعدہ (عذاب کا) ثابت ہوا ان کے ظلم کے سبب سے پس وہ اب کچھ نہیں بول سکیں گے ۔

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا کہ ہم نے ان کے لیے آرام کے لیے رات بنائی (جو مشابہ موت کے ہے) اور دیکھنے کے لیے دن پیدا کیا، بیشک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کربلائیں گے پھر اس کی مثل بنے گی ہر قسم کے گناہ والے ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ علیحدہ، چور علیھدہ، شرابی علیحدہ۔ پھر اللہ تعالیٰ جھڑکی کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کام کرتے رہے اس جھڑکی کے سوال کے بعد مشرک فورا عذاب کے قابل قرار پائیں گے اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے ہاتھ پاؤں سے گواہی لی جائے گی اب آگے اللہ تعالیٰ نے حشر کے منکروں کو اسو طرح اپنی قدرت پر متنبہ کیا کہ یہ لوگ کیا غوروفکر نہیں کرتے کہ ہم نے ان کے آرام کے لیے رات بنائی اور یہ آرام مشابہ موت کے ہے اور دیکھنے کے لیے دن بنادیا ہے جو مشابہ حیات بعد الموت کے ہے اس انقلاب میں ہزارہا خدا کی قدرت کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں کہ خدا کو ہر طرح کی قدرت ہے۔
Ayahs 27:87–88

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور1 جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں گھبرا جاویں گے مگر جس کو خدا چاہے، اور سب لوگ اللہ کے حضور میں عاجزی کرتے ہوئے آئیں گے۔

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا تو انہیں جما ہوا سمجھے گا اور وہ (اس دن) بادل کی چال کی مانند چلتے ہوں گے، یہ اللہ کا کام ہے جس نے حکمت سے بنائی ہر چیز، بیشک وہ اس سے وقف ہے کہ جو کچھ تم کرتے ہو۔

قیامت کی علامت۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ قیامت کے اس ہول کی خبر دیتا ہے جو صور پھونکے جانے کے وقت پیدا ہوگا، ترمذی اور ابوداؤد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسرافیل پہلاصور پھونکیں گے جس سے تمام مخلوق پہلے گھبرا جائے گی اور پھر مرجائے گی بعد اس کے خدا کے روبرو کھڑے ہونے کے لیے دوسراصورپھونکاجائے گا جس سے تمام مردے قبر سے اٹھیں گے اور خدا کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے پھر فرمایا کہ یہ پہاڑ اللہ کی قدرت اور صنعت سے مضبوط اور جمے ہوئے ہیں کہ وہ مثل میخ کے گڑے ہوئے ہیں کہ ان میں آج کسی قسم کی حرکت نہیں اپنی جگہ قائم ہیں قیامت کے روز صور کے صدمہ سے مثل بادلوں کے اڑتے ہوئے معلوم ہوں گے اب یہاں سے اس قادر ذوالجلال کی قدرت معلوم ہوتی ہے کہ آج جو تم اس وقت غافل ہو اور دنیا کے مزوں میں ڈوب رہے ہو، اور نہیں یاد کرتے اس وقت کو کہ جب دنیاومافیھا کی سب چھوتی بڑی چیزیں ایک ہی صور میں نیست ونابود ہوجائیں گی فرمایا کہ اس کو تمہارے سب کام کاج معلوم ہیں جو آپس میں حشر کی باتیں کرتے ہیں اور اس کے وجود کے منکر ہیں اور ان سے خبردار ہے پس ڈرو اللہ سے جس کی قدرت میں تمہاری سب کی جانیں ہیں۔
Ayahs 27:89–90

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو کوئی1 نیکی لائے پس اس سے بہتر اجر ہے ، اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے بےخوف ہیں۔

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو کوئی بدی (یعنی شرک) لے کر آئے تو وہ اوندھے منہ آگ میں ڈالے جائیں گے (ان سے کہا جائے گا) تمہیں کیا بدلہ ملے گا مگر اسی کا جو تم (دنیا میں) کرتے تھے ۔

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے روز اس قانون پر عمل ہوگا جو کوئی نیکی لے کر آئے گا وہ اس کا بہتر اجرپائے گا اور وہ اس روز کی گھبراہٹ سے امن میں رہیں گے اس لیے کہ اس دن گھبراہٹ ان کو جب ہوتی کہ وہ کچھ کام نہ نیک کرتے پس یہ لوگ بےخوف اور نڈر ہوگئے بلکہ ادنی ادنی نیکی کا ثواب حاصل کریں گے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ جو رائی کے برابر بھی نیک کام کرے گا اس کا بھی ثواب ہوگا اور جو شخص بدی شرک وگناہ لے کر آئے گا تو وہ لوگ منہ کے بل آگ میں ڈال دیے جائیں گے یعنی ان کے شرک کی سزا ان کو یہ ملے گی کہ ان کے مونہوں کو سرنگوں کرکے ان کو جہنم میں ڈال دیاجائے گا پھر اس کی سزا وہ بھگتیں گے جو دنیا میں کرگئے ہیں تب فرشتے ان سے کہیں گے کہ تم کو تو ان ہی عملوں کی سزادی جاتی ہے جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے یعنی رسولوں نے تم کو خدا کی پرستی کاسیدھاراستہ دکھایا تم نے اس کو مسخراپن جانا اور تم نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجا ارتم اپنی سرکشی اور سرتابی میں غرق ہوگئے تھے۔
Ayahs 27:91–93

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

(اے محبوب2 تم فرماؤ) مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اس (شہر) کو حرمت والا کیا ہے اور سب کچھ اسی کا ہے اور مجھ کو حکم ہوا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔ پس جس نے (میری تبلیغ کے بعد) راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی اور جو کوئی گمراہ رہے تو تم فرما دو کہ میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں۔

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور فرماؤ کہ سب خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں (یعنی شق القمر وغیرہ معجزات اور بدر کے واقعات) دکھائے گا، تو تم ان کو پہچان لوگے اور تمہارا پروردگار ان کاموں سے بیخبر نہیں ہے اے لوگو ! جو کچھ تم کرتے ہو۔

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم فرماؤ کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کروں، جس نے اس شہر کو امن والا کیا کہ وہاں آدمی جانور قتل وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے واسطے ہر چیز ہے اور مجھ کو حکم ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہون اور اللہ کو ایک جانوں اور تمہارے سامنے قرآن کو پڑھوں تاکہ تم ایمان لاؤ تو جو راہ پر آئے گا تو اپنے بھلے کے آوے گا اور جو کوئی بہکار ہے تو تم فرمادو کہ میں تو ڈرانے والے پیغمبروں میں سے ہوں اور میرے ذمہ تو پہنچادینا ہے اور سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں تم کو عنقریب اپنی نشانیاں شق القمر وغیرہ معجزات اور بدر کے واقعات کہ قتل کا ہونا قید ہونا، فرشتوں کا ان کے چہروں اور پشتوں کو مارناوغیرہ دکھائے گا سو تم انکو پہچان لوگے اور تمہارا رب ان کے عملوں سے بیخبر نہیں ہے۔