29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 29:41–43

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

ان لوگوں کی مثال جنہوں نے1 بنا لیے ہیں اللہ کے سوا اور مالک ، مکڑی کی طرح ہے، اس نے جالے کا گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں زیادہ کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے کیا اچھا ہوتا اگر جانتے (کہ ان کا دین اس قدر نکما ہے تو ایسا نہ کرتے) ۔

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

بیشک اللہ جانتا ہے جس چیز کی اس کے سوا پوجا کرتے ہیں (کہ وہ کچھ حقیقت نہیں رکھتی اور وہی (اللہ) زبردست حکمت والا ہے ۔

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے (سمجھانے کے لیے) بیان کرتے ہیں اور ان مثالوں کو بس علم والے ہی سمجھتے ہیں۔

غیروں کو معبود بنانے کا رد۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مثال بیان فرمائی ہے جو اللہ کو چھوڑ کر اور روں کو معبود ٹھہراتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کا گھر جو نہایت بودا ہے اور گرمی جاڑے بارش کا اس میں کچھ بچاؤ نہیں، اسی طرح ان جھوٹے معبودوں سے ان کے پوجنے والوں کو کچھ فائدہ نہیں، ان کا دین مکڑی کے گھر کی طرح بودا ہے فرمایا اگر ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ آفت آجائے تو ان کے اپنے جھوٹے معبودوں سے اس طرح کچھ مدد نہ ملے گی جس طرح مکڑی کو اپنے گھر سے جاڑے گرمی میں کچھ بچاؤ کی مدد نہیں ملتی ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھوٹے معبودوں کے پوجنے والوں کو دھمکایا کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں جن کو تم ہمارے سواپوجتے ہو ہم تم سے سمجھ لیں گے ہم زبردست حکمت والے ہیں پھر فرمایا، ہم ان کہاوتوں اور مثالوں کو جو قرآن شریف میں لوگوں کے سمجھانے کے لیے بیان کرتے ہیں ان مثالوں کو بس علم والے ہی لوگ سمجھتے ہیں حضرت نوح کی قوم سے لے کر قارون تک کے قصے کی آیتیں جو اوپر گزرچکی ہیں کہ یہ نافرمان لوگ اپنے جھوٹے معبودوں کی مدد کے بھروسہ پر شرک میں گرفتار رہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کی پکڑہوئی تو جس طرح جاڑے کی گرمی میں مکڑی کا گھر اس کے کچھ کام نہیں آتا، اسی طرح ان مشرکوں کے جھوتے معبود بھی ان کے کچھ کام نہ آئے۔ (فائدہ) ۔ حضرت علی مرتضی ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا اپنے گھروں سے مکڑیوں کے جالے دور کرو کہ یہ ناداری کا باعث ہوتے ہیں۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ1 نے آسمان اور زمین کو درست تدبیر سے پیدا کیا، بیشک اس میں (اس کے استحقاق عبادت کی) بڑی نشانی ہے مسلمانوں کے لیے۔

(ف 1) ان آیتوں میں اپنی قدرت کا حال بیان فرماتا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس واسطے پیدا کیا کہ ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے، برے کا برا، اچھے کو اچھا، اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت ہے کہ اللہ اکیلا جہان کا پیدا کرنے والا ہے وہی اکیلا عبادت کے قابل ہے اور منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ خود تو دنیا میں جو کام کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ان کے مدنظر ہوتا ہے ، مثلا کھیتی میں پیداوار کا فائدہ، تجارت میں نقدی کا فائدہ، ان کا مقصود ہوتا ہے پھر یہ نادان اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انتظام کو بےفائدہ کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد اگر جزا وسزا نہ ہو تو دنیا کا پیدا کرنا بالکل بےٹھکانا ٹھہرتا ہے جو اللہ کی شان سے بہت بعید ہے۔
Ayahs 29:45–47

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے محبوب)1 جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی پڑھو اور نماز قائم رکھو، بیشک نماز بےحیائی اور بری بات سے روکتی ہے اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے ، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور (اے مسلمانو) اہل کتاب سے نہ جھگڑو مگر اسی طریقہ سے جو بہت بہتر ہو، مگر وہ لوگ جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا (ان سے پورا مقابلہ کرو) اور کہو کہ ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا اور تمہارا خدا ایک ہے اور ہم اسی کی اطاعت کرتے ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور (اے محبوب جس طرح ہم نے پہلے کتابیں اتاری تھیں ) اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری، پس وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب (یعنی توریت) عطا فرمائی وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ ان (اہل مکہ) میں سے ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔

نماز بری باتوں سے روکتی ہیے۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا : اے محبوب ﷺ چونکہ تم رسول ہو، جو تم پر وحی کی گئی ہے تم اس کی تبلیغ کرو، اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھا کرو کیونکہ اس میں نوح، ابراہیم، لوط ، موسیٰ کی اموں کا پورا بیان ہے کہ پہلے بھی کافر اور بت پرستوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ جو کچھ کیا جس پر برباد ہوئے اور نماز کی جو کہ اعظم عبادت ہے خوب کوشش وسرگرمی سے ادا کرو، کیونکہ نماز بری اور بےحیائی کی باتوں سے روکتی ہے اول تو ان میں ہر رکعت میں الحمد شریف پڑھی جاتی ہے جس کا ہر ہرجملہ انسان کی روحانی قوتوں کو ابھارنے والا ہے پھر اس کے آگے کھڑا ہونا ، حمدوثنا کرنا، اس شاہ دوجہاں رب العالمین کے آگے سررکھ کر اس کی تعریف کرنا بیشک روح کو تازہ کرتا ہے ۔ اور جب روح پر تازگی آتی ہے تو نفسانی باتیں جاتی رہتی ہیں ، نبی ﷺ سے صحابہ نے کہا فلاں شخص رات کو نماز پڑھتا ہے مگر دن کو لوگوں کا مال چراتا ہے آپ نے فرمایا کہ بہت جلد اس کی نماز اس کو برے کاموں سے باز رکھے گی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھی ہے کہ نماز پڑھنے والاشخص رفتہ رفتہ برے کاموں سے بچنے لگتا ہے ۔ غرض نماز کی اس تاثیر کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا، اور نماز کے ذکر کے ساتھ اللہ کی یاد کا ذکر جو اس آیت میں آیا ہے اس کی تفسیر عبداللہ بن عباس نے یوں فرمائی ہے کہ نماز میں کچھ کچھ نہ قرآن پڑھاجاتا ہے ، جب بندہ اللہ کو یاد کرے تو اللہ تعالیٰ بندہ کو یاد کرتا ہے اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ جو نماز میں اللہ کو یاد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو یاد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تم کو یاد کرنا اے بندوتمہارے لیے ایک بڑی چیز ہیے ، جتنی دیر نماز میں لگے ، اتنے ہی ہر گناہ سے بچے، اور آگے بھی بچتا آئے گا۔ مسئلہ۔ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اس کی نماز بےحیائی اور بری باتوں سے نہ روکے تو اس کی نماز ہی نہیں ہوتی فرمایا کہ خلوص سے عبادت کیا کرو وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے اسے کے بعد اہل کتاب کے مناظرے اور جھگڑے سے بھی روکد یا جو وہ بسا اوقات مسلمانوں سے الجھا کرتے تھے فرمایا، اے مسلمانوں نہ جھگڑو تم اہل کتاب سے مگر ساتھ اس عادت کے جو بہتر ہے ان کی سختی کے مقابلہ میں تم ان سے نرمی سے پیش آؤ مگر جو ان میں سے ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور جو ضدی اور متعصب زبان دراز ہوں تو ان سے پورا مقابلہ کرو اور کہو کہ الہام اور نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوگیا، جو ہمارے نبی پر نازل ہوا، ہم اس پر ایمان لائے اور جو تمہارے انبیاء سابقین کی طرف اترا ہے جس کو تم بھی مانتے ہو اس کو بھی ہم مانتے ہیں تورات ، انجیل، زبور، پر ہمارا ایمان ہے اور ہمارا تمہارا ایک ہی خدا ہے پھر جس نے پہلی کتابیں اور رسول بھیجے اس نے یہ نبی ﷺ اور یہ کتاب یعنی قرآن شریف بھی بھیجا ہے فرمایا اور جیسا کہ ہم نے انبیاء پر کتابیں نازل کیں ایسے ہی ہم نے تمہاری طرف قرآن کو نازل کیا کہ جو موافق پہلی کتابوں کے اصول میں ہے ، پھر جن کو ہم نے کتاب دی مثل عبداللہ بن سلام اور ان کے احباب، وہ تو اس قرآن شریف پر ایمان رکھتے ہیں اور ان گروہ عرب میں سے بعض ایسے منصف ہیں کہ قرآن شریف پر اور نبی ﷺ پر ایمان لاتے ہیں، اور جو ان کا منکر ہے تو وہی ازلی کافر ہے ، مثل کعب بن اشرف اور ابوجہل وغیرہ کے۔
Ayahs 29:48–49

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور (اے محبوب)1 اس قرآن کے نزول ہونے سے پہلے تم نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے داہنے ہاتھ سے لکھی۔ (اگر پڑھے لکھتے ہوتے) تو اس وقت یہ جھوٹے لوگ (یعنی اہل کتاب) شک لاتے۔

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ آیتیں روشن قرآن کی ہیں (جو) ان (مسلمان) لوگوں کے سینوں میں کہ جن کو علم دیا گیا ہے محفوظ ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر ظالم لوگ۔

قرآن شریف کا حق ہونا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب ﷺ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے تم نہ تو کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ کوئی کتاب اپنے دائیں بائیں ہاتھ سے لکھتے تھے ۔ تو ان مشرکوں کے دل جانتے ہیں کہ امی شخص ایسی کتاب تو اپنے دل سے ہرگز نہیں بناسکتا جس کا بنانا پڑھے لکھے لوگوں کی قدرت سے بھی باہر ہے اور پہلی کتابوں میں تمہارے اوصاف ایسے تفصیل سے ہیں کہ اہل کتاب کے دل بھی خوب جانتے ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو، اور قرآن شریف کلام الٰہی ہے ۔ پس اس روشن دلیل سے ظاہرہوگیا کہ یہ کتاب اس کے برگزیدہ اور سچے بندے محمد ﷺ پر نازل ہوئی ، جو اس پر ایمان لایا اس نے کامیابی حاصل کرکے اس کے مہمان خانہ فردوس بریں میں قیام پذیر ہوا، اور جو اس پر ایمان لانے سے بوجہ اپنی شامت اعمال کے محروم ہواوہ دنیا میں خدا کی لعنت میں بسر کرے گا، اور عقبی میں سرنگوں کرکے جہنم میں ڈال دیاجائے گا، فرمایا کہ یہ قرآن شریف کھلی کھلی آیتیں ہیں جو ان مسلمان لوگوں کے سینوں میں کہ جن کو علم دیا گیا ہے محفوظ ہیں نہ کہ کاغذوں پر نبی ﷺ نے لکھ رکھی ہیں اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات صاف اور روشن ہیں یعنی ان کے مطالب الہامی ہیں اہل علم کے دلوں میں پیوست ہیں وہ اہل علم دل سے یقین کرتے ہیں یعنی کچھ اس کے معجزہ پر بس نہیں کہ ایک امی سے ایسی کتاب ظاہر ہو وے بلکہ نفس مضامین قرآن آفتاب کی مثل اہل علم کے نزدیک آپ دلیل ہیں پھر جو کوئی ایسی آیتوں کا انکار کرے تو بڑا بےانصاف ہے۔
Ayahs 29:50–51

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور 1 کہتے ہیں کہ ان پیغمبروں پر ان کے پروردگار کی طرف سے کچھ نشانیاں کیوں نہیں بھیجی گئی ؟ تم فرماؤ : نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں اور سوائے اس کے نہیں کہ میں تو (نافرمانی کرنے والوں کو عذاب کا) صاف ڈر سنانے والا ہوں۔

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب (یعنی قرآن ایسی نشانی) نازل فرمائی جو ان پر پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔

(ف 1) جب نبی ﷺ کی نبوت دلائل سے ثابت ہوئی اور یہ بتلادیا گیا کہ جس طرح پہلے انبیاء پر کتاب نازل کی گئی تھی اسی طرح نبی ﷺ پر اللہ نے نازل کی، اس پر کفار قریش نے کہا کہ محمد ﷺ کو وہ نشانیاں کیوں نہ دی گئی تھیں، فرمایا، کیا ان کو یہ کتاب معجزہ سے کم ہے جس کا عام اعلان ہے کہ ایسی ایک سورت بنادوسب عاجز ہوگئے اور قرآن پاک اگلے نبیوں کے سب معجزوں سے پورا اور کامل معجزہ ہے جس کے ہوتے ہوئے اور کسی نشانی ومعجزہ کی حاجت نہیں ۔ کیونکہ یہ نشانی معجزہ جب تک جہان میں رہے گا تب تک اس کو زوال نہیں، فرمایا کہ اس قرآن شریف میں ایمان والوں کے لیے قرآن کی نصیحت پر عمل کرنیکا نتیجہ اللہ کی رحمت ہے جنت ہے اور اس قرآن میں یہ بھی ہے جو اس کی نافرمانی کرے گا اس پر عذاب ہوگا۔
Ayahs 29:52–55

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

تم فرماؤ1 کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کو اللہ کافی ہے ، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور اللہ کے منکر ہوئے وہی لوگ گھاٹے میں ہیں۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں اور اگر (علم الہی میں عذاب آنے کا) ایک وقت مقرر نہ ہوتا تو ضرور ان پر عذاب آجاتا ہے اور بیشک وہ عذاب ان پر اچانک آئے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ لوگ تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں اور بیشک دوزخ کافروں گھیرے ہوئے ہے۔

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن انہیں عذاب ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ڈھانک لے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جو کچھ تم کرتے تھے (اب اس کا) مزا چکھو

(ف 1) تم کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو سب کچھ جانتا ہے اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو وہ مجھ سے بدلہ لے گا لیکن وہ تو دن بدن اسلام کو ترقی دے رہا ہے جس سے اسلام کا حق ہونا صاف ظاہر ہے اب اللہ تعالیٰ مشرکوں کی دوسری جہالت بیان کرتا ہے کہ وہ خدا کا عذاب جلد طلب کرتے ہیں ان سے کہہ دیاجائے گا کہ اگر عذاب کے لیے وقت مقرر نہ ہوچکا ہوتا تو بہت جلد ان پر عذاب آچکا ہوتا، اور وہ عذاب ان پر یکایک بیخبر ی میں آجائے گا۔ اور دوزخ ان کی تاک میں ہے قیامت کے دن جب ان کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اب عذاب کی جلدی کرنے اور اپنی بداعمالی کا مزہ چکھو۔
Ayahs 29:56–59

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے1 ایماندار بندو ! بیشک میری زمین کشادہ ہے پس تم میری ہی عبادت کرو۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے ، پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کیے ، بیشک ہم ان کو جنت کے بالاخانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی اچھا بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔

ہجرت کا حکم۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ہجرت کا حکم فرماتا ہے کہ جس شہر میں آدمی دین پر پورانہ چل سکے وہاں سے ہجرت کرکے دوسرے شہر میں چلاجائے جہاں دین پر آزادی سے چل سکے ، نبی ﷺ نے فرمایا سب شہر اللہ کے ہیں، اور سب بندے اللہ کے ہیں جہاں نیکی کرسکے وہاں قیام کرو، پہلے پہل بےوطن ہونے میں تنگی معاش کے اندیشہ سے لوگوں کو مکہ کے چھوڑے جان میں پس پیش تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اللہ کی زمین کشادہ اور اللہ ہر جگہ رازق ہے اس خوف و خطرناک جگہ سے حبشہ کو ہجرت کی تاکہ وہاں بےخوف اپنے دین پرچلیں۔ وہاں کے بادشاہ نجاشی نے ان کو جگہ دی اور بڑی مدد کی۔ وطن چھوڑنا یوں ہی ایک آسان بات نہیں اس پر مسلمانوں کو نبی ﷺ کی جدائی اور اپنے دینی بھائیوں کافراق شاق گزرتا تھا ان دونوں باتوں سے تسکین اور اطمینان کامل دلاتا ہے اول بات کا اطمینان اس آیت میں دلاتا ہے کہ ہر ایک شخص کو ایک روز موت کا مزہ چکھنا ہے پھر تم ہمارے پاس آؤ گے اس واسطے کہ تم کو چاہیے کہ اللہ کی بندگی میں رہو، جو ایمان لائے اور اچھے عمل بھی کیے ان کی جگہ بہشت میں اونچے محل اور نیچے نہریں ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہا کریں گے ان میں یہ اچھا بدلہ ان نیک عمل کرنے والوں کا ہے جنہوں نے دین کے کاموں کی تکلیف اور مخالفوں کی ایذا پر صبر کیا، اور دین پر جمے رہے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا۔
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور1 بہت سے ایسے زمین پر چلنے والے ہیں کہ (دوسرے دن کے لیے) اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتے، اللہ انہیں اور تمہیں روزی دیتا ہے اور وہی سننے والا جاننے والا ہے ۔

(ف 1) شان نزول : مومنین مکہ نے جب اوپر کی آیتوں کو سنافورا ہجرت کا قصد کیا لیکن ایک اور دغدغہ (اندیشہ) پیش آیا کہ وہاں رزق کا کیا سامان ہوگا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ گھر پر بھی تو بغیر مدد خدا کے کچھ کام نہیں چلتا، پھر سفر میں بھی وہی دے گا، اطمینان کے لیے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی کا آپ بندوبست نہیں کرتے یعنی روزی کے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے، حاصل یہ ہے کہ ایسے بہت جانور ہیں کہ جو اپنی روزی کا خیال بھی نہیں کرتے کہ کل ہم کہاں سے کھائیں گے ہوا کے پرندوں اور زمین کے سوراخوں میں رہنے والوں کو دیکھو اللہ ہی ان کو اور تم کو روزی دیتا ہے پس ظاہری روزی کے اسباب بہم نہ پہنچے سے ہجرت کرنے میں کیوں اندیشہ ہو، جب تم اپنی ماں کے رحم میں تھے تو کیونکرتم کو روزی پہنچی تھی جب پیدا ہوئے تو تمہاری ماں کے پستان سے دودھ کس نے اتارا، جس نے ایسے وقت نازک میں تم کو یاد کیا تو آج وہ تم کو بھول جائے گا نہیں ہرگز نہیں جب تمہاری روزی دینے کا ایسے قادرذوالجلال کو خیال ہے تو پھر تم کو کیا پرواہ ہے۔
Ayahs 29:61–64

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور1 اگر تم ان سے پوچھو گے کہ وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج کو اور چاند کو کام میں لگایاتو ضرور یہی کہیں گے کہ وہ اللہ ہے پھر وہ کہاں (توحید کے راستہ سے) بہکے چلے جاتے ہیں۔

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو گے کہ وہ کون ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے پھر اس سے زمین کو مردہ (یعنی خشک ) ہوجانے کے بعد زندہ (یعنی سرسبز) کردیتا ہے تو ضرور یہی کہیں گے کہ وہ اللہ ہے ، فرماؤ : سب خوبیاں اللہ ہی کے لیے ہیں بلکہ ان میں اکثر لوگ بےعقل ہیں۔

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل اور کود اور بیشک آخرت کا گھر وہی (اصل) زندگی ہے، کاش اگر وہ جانتے (دنیا وآخرت کی حقیقت) ۔

(ف 1) اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونابیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق عبادت نہیں اس واسطے مشرک لوگ اگرچہ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین، چاند وسورج ، رات دن کا پیدا کرنے والا اللہ ہی کو جانتے ہیں۔ اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کو روزی دینے والا اور مارنے والابھی وہی اللہ ہے پھر فرمایا کہ ان سے پوچھیے کہ کس نے اتارا آسمان سے پانی پھر چلایا اس سے زمین کو اس کے مرے پیچھے یعنی خشک کو تروتازہ کیا تو البتہ کہیں گے اللہ تعالیٰ نے ۔ مطلب یہ کہ نبی ﷺ کے زمانے کے کافر اقرار کرتے تھے کہ آسمان سے مینہ وہی برساتا ہے جب لوگ قحط سے مرنے لگتے ہیں، اور بندوں کا رازق اور ان کی موت اور روزی کا آگے پیچھے، کم وبیش کرنے والا ہی ہے کسی کو غنی دولت مند بنادے کسی کو فقیر محتاج۔ جیسے مناسب دیکھتا ہے جس کو جس کا مستحق جانتا ہے ویسا ہی کرتا ہے سب کا خالق اللہ ہے وہی اکیلا سب تدبیر کرتا ہے یہ سب کچھ کہ پھر بتوں کو اپنا معبود جانتے ہیں اس لیے فرمایا کہ اکثر ان مشرکوں میں کے عقل نہیں رکھتے یہ مشرک آخرت کے منکر تھے اور انہوں نے اپنے سب کاموں کا دارومدار دنیا کی زندگی پر رکھا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت کی تعریف بیان فرمائی ہے کہ دنیا کی زندگی ناپائدار ہے جس کو بقا نہیں اور آخرت کا جیناہمیشہ کا جینا ہے اگر یہ مشرک اس بات کو سمجھنے تو فانی کو باقی پر اختیار نہ کرتے، دنیا کی زندگی محض کھیل کود ہے مثلا لڑکے تھوڑی دیر تک مل کر کھیل کود لیتے ہیں پھر تھک کر الگ ہوجاتے ہیں اسی طرح عالم وجود میں لوگ آتے ہیں دنیا کی چیزوں پرفریفتہ ہوجاتے ہیں اور اپنے اصلی راستہ جو جہاں جانا ہے اور اپنے اصلی کام کو جو یہاں کرنا بھول جاتے ہیں اتنے جام عمر لبریز ہوا دنیا سے بڑی تلخ کلامی کے ساتھ سب کو چھوڑا چھاڑا ایسے گئے کہ پھر کبھی کسی نے اس طرح آکر بھی نہ جھانکا، غرض یہ کہ یہ جس طرح کھیل کود بےبنیاد ہے اسی طرح دنیا کی زندگی بھی نقش برآب ہے۔
Ayahs 29:65–69

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر1 جب وہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی پر عقیدہ لاکر کہ اس مصیبت سے نجات وہی دے گا، پس جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو فورا وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو کچھ نعمت ہم نے ان کو عطا کی ہے اس کی ناشکری کریں۔ اور تاکہ چند دن اور خوشی سے زندگی بسر کرلیں، پس حقیقت حال کو اب جان لیں گے ۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا ؟ کہ ہم نے حرمت والی زمین کو امن والا بنایا ہے اور ان کے آس پاس والے لوگ اچک لیے جاتے ہیں پس کیا باطل پر ایمان لاتے ہیں اور خدا کی دی ہوئی نعمت سے ناشکری کرتے ہیں۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جبکہ وہ (حق) اس کے پاس آئے تو کیا ایسے کافروں کا جہنم میں ٹھکانا نہیں ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ہم ان کو اپنے راستے دکھائیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے ۔

شاہ روم کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب یہ مشرکین جو حیات دنیا میں محو ہورہے ہیں کشتی پر سوار ہوکردریا کا سفر کرتے ہیں اور دریا کی موجیں جب کشتی کو تہ وبالا کرتی ہیں اور موت سامنے دکھائی دیتی ہے تب ان کی فطری حالت عود کر آتی ہے تو پھر خاص اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں جیسے کبھی شرک کی ہوا بھی نہ دکھائی تھی ، پھر جب وہ ان کو خشکی میں بچالاتا ہے اور وہ بےخوف ہوجاتے ہیں تو اس وقت بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے جو نعمت ان کو عطا کی ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں اور ان کا مقصد اس سے یہ ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں شاد مراد رہیں گے دنیا کو برتیں، اس ناشکری کی سزا دی ہے بات مرنے کے بعد بخوبی معلوم ہوجائے گی اب آگے اللہ تعالیٰ قریش پر اپنااحسان جتلاتا ہے کہ ان کو حرم میں اس طرح آباد کیا کہ جو اس میں آیا اس کو امن ملا، مکہ والے امن میں تھے اور سارے ملک میں فساد تھا ایک ایک کو لوٹتا قتل کرتا، اس نعمت کا شکریہ ان لوگوں نے یہ کیا کہ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک ٹھہرایا، اور بتوں کی بندگی کی، اللہ کے احسان کے بدلے میں ناشکری کی، ان کو چاہیے تھا کہ خاص اللہ کی بندگی کرتے اور کسی کو اس کا شریک نہ کرتے، اور اس کے محبوب ﷺ کی تعظیم کرتے، انہوں نے بجائے تعظیم کے اللہ کے رسول کو اپنے شہر سے نکال دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی نعمتیں ان سے لے لیں اور بدر میں ان کو قتل کیا، پھر غلبہ اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو ہوگیا، مکہ فتح ہوا، اور ان کو اللہ نے ذلیل و خوار کیا، پھر فرمایا ایسے شخص بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، اور دین حق کو جھٹلائے جبکہ وہ حق اس کے پاس آئے تو ایسے منکروں کا ٹھکانہ جہنم ہے جب اللہ تعالیٰ مشرکوں کا احوال بیان فرماچکا تو اب ان کے مقابل میں اپنے نیک بندوں کا احوال بیان کرتا ہے کہ جن لوگوں نے ہماری رضامندی حاصل کرنے کے لیے محنت کی، ان کو ہم اپنی راہیں سوجھاویں گے مطلب یہ ہے کہ ان کو نیک راستوں کی طرف زیادہ ہدایت کریں گے اور توفیق اچھی عطا کریں گے۔