30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 30:41–48

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی (یعنی زمین) اور تری (یعنی دریا) میں لوگوں کے اعمال کے سبب سے خرابیاں پھیل گئیں تاکہ خدا لوگوں کو ان کے بعض عمل بد کا مزہ چکھا دے، شاید کہ وہ لوگ باز آجائے۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

تم فرماؤ زمین میں چلو پھر پھر دیکھو کہ پہلوں کا کیسا انجام ہوا ان میں اکثر مشرک تھے ۔

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

پس تم اپنا رخ سیدھا دین (اسلام) کی طرف رکھو اس دن کے آنے سے پہلے کہ جسے اللہ کی طرف سے ٹلنا نہیں اس دن سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے ۔

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جو شخص کفر کرے تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے اور جو نیک عمل کریں تو وہ لوگ اپنے ہی لیے آرام گاہ درست کرتے ہیں۔

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ اللہ اپنے فضل سے صلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے، بیشک اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ خوشخبردی دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے اور اس لیے کہ تم کو اپنی رحمت کا مزہ چکھائے اور اس لیے کہ اس حکم سے (ان ہواؤں سے دریا میں) کشتیاں چلیں، اور اس لیے کہ تم اس کے فضل سے روزی تلاش کرو۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور اس لیے کہ تم شکر کرو اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے، (لیکن بعض نے ان کو جھٹلایا) پھر ہم نے بدلہ لیا ان لوگوں سے جنہوں نے نافرمانی کی ۔ اور ہم پر مسلمانوں کی مدد لازم تھی ۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ1 ہواؤں کو بھیجتا ہے پس وہ بادل اٹھاتی ہیں پھر خدا اس بادل کو آسمان میں جس طرح چاہتا ہے پھیلاتا ہے ، پھر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے پس تو (اے مخاطب) دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان میں سے مینہ نکل رہا ہے (بارش برس رہی ہے) پھر جب وہ اپنے بندوں میں جس کی طرف چاہے اسے پہنچا دیتا ہے جبھی وہ خوش ہوجاتے ہیں۔

علامات قیامت اور جنتی دوزخیوں کا ذکر۔ (ف 1) ان آیتوں میں ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر، اور بادلوں کے سبب سے جو مینہ برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اس طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کرکے ان جسموں میں پھر روح پھونکے گا۔ صحیح بخاری ومسلم کی حضرت ابوہریرہ سے حدیث ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بن کرتیارہوجائیں گے پھر دوسراصور پھونکا جائے گا جس سے ان پتلوں میں روح پھونک دی جائے گی حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح اب مینہ سے دریا میں موتی کا اور زمین میں طرح طرح کی پیداوار کا جسم پیدا ہونا ہے اسی طرح حشر کے دن ایک مینہ سے انسان کا جسم پیدا ہوگا، اسی مشابہت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ قرآن پاک میں زمین کی پیداوار سے حشر کی تشبیہ بیان کی ہے پھر فرمایا کہ اگر یہ مشرک لوگ اللہ کی قدرت کی نشانیوں پر دھیان نہ کریں گے تو اس طرح کی قدرت کے منکر پہلی امتوں کا جوانجام ہوچکا وہی ہوگا ان کا بھی۔ تاکہ دشمنوں کی ہلاکت سے ایمان داروں کو ایک طرح کی مدد مل جائے کیونکہ اس طرح کی مدد ہمیشہ اللہ نے پانے ذمہ لی ہے آخر فرمایا بارش کے برسنے اور پیداوار کے زورپکڑجانے کے بعد اگر اللہ کی قدرت سے کوئی ایسی مخالف ہواچل جائے تو اللہ کے برسائے کے احسان کو بھول کر ایسی ناشکری کرنے لگتے ہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کوئی احسان ہی نہیں کیا۔
Ayahs 30:49–52

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور اگرچہ اس مینہ (بارش) کے برسنے سے پہلے ناامیدی میں تھے۔

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تو اللہ کی رحمت (یعنی بارش) کے اثر دیکھو کہ اللہ زمین کو کیونکر زندہ (سرسبز) کرتا ہے اس کے مرنے ( یعنی خشک ہونے) کے بعد بیشک وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور سب چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی ایسی ہوا بھیجیں جس سے یہ لوگ اپنی کھیتی کو زرد دیکھیں تو ضرور اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں۔

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

پس تم1 مردوں (یعنی کافروں) کو نہیں سناتے اور نہ بہروں کو پکارنا سناؤ جبکہ وہ پیٹح دے کر پھریں (یعنی حق کے سننے سے بہرے ہوں ) ۔

(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ مردے اور بہرے کی مانند ہیں اور بہرہ بھی وہ جس کی پیٹھ پھیری ہوئی ہو کیونکہ اگر بہرے آدمی کا منہ کسی بات کرنے والے شخص کی طرف ہو تو ہونٹوں کی حرکت یا اشارہ سے بھی کچھ سیکھے ان لوگوں میں وہ بات بھی نہیں یہ ایسے بہرے ہیں کہ ان کا منہ بھی بات کرنے والے شخص کی طرف نہیں بلکہ پیٹھ پھری ہوئی ہے جب کفار جنگ بدر میں مارے گئے تو نبی ﷺ نے ان مردوں کے نام لے کر پکارا اور فرمایا کہ ہم نے تو خدا کا وعدہ سچا پالیا، تم لوگوں کو بھی خدا کے فرمانے کا ظہور معلوم ہوگیا، اور اب تم کو معلوم ہوگیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے تو یہ دن آج نہ دیکھتے۔ حضرت عمر نے نبی ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ آپ بےجان ومردوں سے باتیں کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ یہ مردے میرے اس بات کو سنتے ہیں جو میں ان سے کہہ رہا ہوں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اہل قبور ہر حالت میں سنتے ہیں امام شافعی نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے آگے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے علم راہ ہدایت پر نظر آنے سے اندھے قرار پاچکے ہیں ان پر قرآن کی نصیحت کا اثر نہیں ہوسکتا، کیونکہ قرآن کی نصیحت کا اثر تو ان لوگوں پر ہی ہوگا جو علم الٰہی میں ایماندار اور فرمانبردار ٹھہرچکے ہیں۔
Ayahs 30:53–54

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ تم اندھوں (یعنی دل کے اندھوں) کو ان کی گمراہی سے ہدایت پر لاؤ تم تو اسی کو سناتے ہو جو ہماری آیتوں پر یقین رکھے پس یہ لوگ فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ وہ ہے1 کہ جس نے تم کو شروع ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا پھر ناتوانی کے بعد تم کو قوت عطا فرمائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھا پایا دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہی جاننے والا قدرت والا ہے ۔

(ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے حالات میں تغیر وتبدل اول سے برھاپے تک ہے وہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اول مٹی سے پھر پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے پھر جمے خون سے ، پھر بوٹی سے انسان کو پیدا کیا ہے اس کے بعد پھر ہڈیاں پھر ان پر گوشت چڑھایا پھر روح پھونکی، پھر ماں کے پیٹ سے بچہ کمزور پیدا ہوکر پھر رفتہ رفتہ کچھ زور پکڑتا گیا پھر بلوغ کے قریب ہوتا ہے پھر جوان ہوتا ہے یہ نہایت قوت کا زمانہ ہے ، اس کے بعد پھر نقصان کا زمانہ شروع ہوتا ہے ، طاقت کم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ بڈھا ہوجاتا ہے بال سفید ہوجاتے ہیں غرض اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اپنے بندوں میں اپنی قدرت کے موافق تصرف کرتا ہے اور وہ کمال علم اور قدرت والا ہے سب کچھ جانتا ہے اور کرسکتا ہے۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور2 جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ قسم کھائیں گے کہ ہم ایک گھڑی سے زیادہ (دنیا میں) نہیں رہے اسی طرح وہ لوگ دنیا میں راہ سے اوندھے جاتے تھے ۔

(ف 2) اس آیت میں فرمایا ہے کہ وہ غافل دنیا کے فریفتہ لوگ جو دنیا کو اپنی غفلت سے اپنا ہمیشہ کا ٹھکانا جانتے ہیں پس مجرم لوگ قیامت کے دن لاکھوں کروڑوں برس کا عذاب دیکھیں گے توقسمیں کھاکھا کر کہیں گے کہ اس لاکھوں برس کے عذاب کے حساب سے تو گویا ہم دنی اور قبروں میں گھڑدوگھڑی رہے فرمایا یہ عذر ان لوگوں کے کچھ کام نہ آئے گا۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور کہیں گے وہ لوگ جن کو علم وار ایمان ملا : بیشک تم لوگ اللہ کے لکھے ہوئے میں اٹھنے کے دن (یعنی قیامت) تک رہے۔ تو یہ ہے1 وہ دن اٹھنے کا ( جس کے تم دنیا میں منکر تھے) لیکن تم نہیں جانتے تھے ۔

قیامت کے دن کسی کا عذر نہیں سناجائے گا۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ دنیا میں گھڑی دو گھڑی یہ غافل لوگ اس عذر کے طور پر بتلائیں گے کہ گویا دنیا میں زیادہ رہنے اور اللہ کے رسول کی نصیحت سننے کا موقع ان کو نہیں ملا، اس واسطے وہ لوگ جن کو علم اور ایمان ملا، قسم کھاکرغافلوں کے اس عذر کا جواب دیں گے کیوں جھوٹ بولتے ہو، جس قدر اللہ کے وعدہ کے موافق دنیا میں ہم رہے ہیں اسی قدرتم بھی رہے اور تم انکار کرتے تھے پھر مرکرزندہ ہونا اور خدا کے سامنے جاکرحساب وکتاب ہونا، ہماری کچھ سمجھ میں نہیں آیا، اب عذرکاوقت ہاتھ سے جاتارہا، بےوقت اب عذر سے کچھ فائدہ نہیں ۔ ترمذی میں ہے کہ دنیا میں عقل مند وہی شخص ہے جو دنیا میں رہ کر اپنی عقبی کو سنبھالنے کا کچھ کام کرے، ورنہ پھر عقبی میں بڑی خرابی پیش آئے گی اب آگے فرمایا قیامت کے دن ان ظالموں کا کوئی عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ قرآن میں طرح طرح کی مثالیں بیان کرکے ان کو آج کے دن کا انجام اچھی طرح سمجھادیا تھا مگر علم ازلی کے موافق ان کے دلوں پر کفر اور شرک کا رنگ ایسا چھا گیا تھا کہ تمام عمریہ لوگ اس انجام کو جھٹلاتے رہے اورس انجام سے اپنے آپ کو انجام بنالیا، اور آخرآج وہ انجام ان کے روبروآیا۔
Ayahs 30:57–60

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

پس اس دن ظالموں کا عذر کرنا کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان سے خدا کی خفتی کا تدارک چاہا جاوے گا۔

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر ایک قسم کی مثال بیان فرمائی، اور اگر تم ان کے پاس کوئی نشانی لاؤ تو ضرور کافر کہیں گے تم تو نہیں مگر باطل پر ہو۔

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح مہر کردیتا ہے اللہ جاہلوں کے دلوں پر (جن کو جانتا ہے کہ وہ گمراہی ہی اختیار کریں گے) ۔

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس صبر1 کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا) اور تمہیں بےبرداشت نہ کردیں وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے (یعنی ان کے لیے عذاب کی جلدی فرمائی) ۔

(ف 1) اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو مخاطب کرکے تسلی کے طور پر ارشافرماتا ہے کہ تم انکی مخالفت اور دشمنی پر صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اور تمہارے ساتھ والوں سے غلبہ کا اور مدد کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے اسوعدہ کو ضرور پورا کرے گا اس وعدہ میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہے آخربدر کی لڑائی کے وقت اور فتح مکہ کے وقت اس وعدہ کا ظہور ہوا کہ بدر کی لڑائی میں بڑے بڑے مخالف دین مارے گئے اللہ تعالیٰ سچا ہے ، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔